BN

سجاد میر


…اور کلائیاں ٹوٹ جاتی ہیں


یہ وہ دور ہے ‘ یہ وہ واقعہ ہے جس کا تجزیہ ضرور ہونا چاہیے۔ ایسا کیا ہوا تھا کہ ہم اپنی ساری جمہوریت پسندی بھول بیٹھے تھے۔ آج ہی برادرم سلیم منصور خالد نے ایک خبرنامہ ارسال کیا ہے جو اس زمانے میں ریڈیو پاکستان پر نشر ہوا تھا۔ ریڈیو پاکستان کے بعض بلیٹن تاریخی ہیں۔ ان میں ایک وہ بلیٹن تھا جو سقوط ڈھاکہ کا اعلان تھا۔دوسرا یہ بلیٹن تو بہت دلچسپ ہے۔ سارے بلیٹن میں ایک ہی خبر ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے تفصیل سے بتایا ہے کہ ان کے اور حزب اختلاف کے درمیان معاہدہ ہو
پیر 06 جولائی 2020ء

اے کل کے مددگار‘مدد کرنے کو آئو

هفته 04 جولائی 2020ء
سجاد میر
میں ان کا ہمیشہ سے قدردان رہا ہوں ۔روزنامہ حریت کی ایڈیٹری اور نیوز ایڈیٹری کے دوران کا چرچا سنا۔ وہ مگر لندن بی بی سی میں جا چکے تھے۔ لکھنؤ کی زبان کا اپنا رنگ ہے۔ نقن میاں جب پاکستان ہمارے عہدِشعور میں آئے تو میں نے ان کے دونوں عشرے سننے۔عقیدے کے فرق کے باوجود اس سے بہت کچھ پایا۔زبان کا چسکا صرف زبان کا معاملہ نہیں ہوا کرتا‘ اس کے پیچھے پوری ایک تہذیب ہوتی ہے۔ رضا علی عابدی کی تحریروں میں مجھے اس کی تلاش رہی ہے۔ وہ ہندوستان گئے اور آتے ہوئے اپنے لئے کئی
مزید پڑھیے


اس انتخاب کی خیر ہو!

پیر 29 جون 2020ء
سجاد میر
ایک تو دل بہت اداس ہے‘ کچھ اچھا نہیں لگتا‘ کسی نہ کسی پیارے کے بچھڑ جانے کی خبر ملتی ہے۔ دوسری طرف ملک کا جو حال ہورہا ہے اس نے پریشان کن صورت حال اختیار کر رکھی ہے۔ لوگ کہتے ہیں وہ تو اچھا ہے‘ ایماندار ہے‘ کچھ کرنے کا جذبہ رکھتا ہے مگر اسے ٹیم بہت خراب ملی ہے۔ قطع نظر اس بات کے کہ یہ ٹیم اس کی اپنی چنی ہوئی ہے۔ اچھا‘ ایسا نہیں ہے اس پر مسلط کی گئی ہے۔ چلئے یہی مان لیجئے۔ اس سے مگر حیرانی ان پر ہوتی ہے جس نے اسے
مزید پڑھیے


سید منور حسن

هفته 27 جون 2020ء
سجاد میر
میں یہ کالم نہیں لکھ پائوں گا‘ مگر مجھے لکھنا ہے‘ ہر صورت لکھنا ہے۔ زندگی میں یہ دن بھی آنا تھا کہ اپنے منور صاحب کی رحلت پر کالم لکھنا پڑ رہا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ مرا ان کا ذاتی تعلق تھا اور بہت گہرا تھا۔ تحریک اسلامی کی تاریخ میں انہیں ایک غیر معمولی حیثیت حاصل رہے گی۔ انہوں نے اپنی امارت کے دوران ایسے سوال اٹھا دیے جن کے جواب اسلامیان پاکستان ہی نہیں پورے عالم اسلام کے سر ہے۔ اپنے بھی ناراض ہوئے۔ سیاست مصلحت کیش ہوتی ہے۔ کہنے والے یہ بھی کہتے تھے کہ
مزید پڑھیے


ڈاکٹر مغیث الدین شیخ

جمعرات 25 جون 2020ء
سجاد میر
ڈاکٹر مغیث الدین شیخ بھی ہمیں چھوڑ کر چل دیئے۔ان دنوں اتنے لوگوں کے جانے کا دکھ سہا ہے کہ ہمارے دوست ڈاکٹر عبدالقادر نے دل گرفتہ ہو کر یہ شعر ارسال کیا ہے: کسے نماند کہ دیگر بہ تیغ ناز کشی مگر کہ زندہ کنی خلق راو بازکشی لگتا ہے سبھی رخت سفر باندھے بیٹھے ہیں۔ایک دن دوست محمد فیضی دوسرے روز طارق عزیز پر لکھا کہ مفتی نعیم اور طالب جوہری کی رحلت کی خبر آ گئی میں ہر دو پر لکھنا چاہتا تھا مگر ایسا اداس تھا کہ چپ کر کے رہ گیا۔ اب ڈاکٹر مغیث کی خبر آئی تو
مزید پڑھیے



حسن عسکری‘سلیم احمد اور فتح محمد ملک

پیر 22 جون 2020ء
سجاد میر
فتح محمد ملک کا میں بہت احترام کرتا ہوں جس کی کچھ وجوہ بھی ہیں۔ میں انہیں ان لوگوں میں شمار کرتا ہوں جنہیں پیٹریاٹک لیفٹ کا نام دیتا رہا ہوںجیسے مثال کے طور پر احمد ندیم قاسمی۔ یہ بھی خیر پرانی بحث ہے‘ لیفٹ نے ہم پاکستانیوں کو بہت تنگ کیا۔بالآخر انہیں بھٹو ازم میں پناہ مل گئی۔ فتح محمد ملک کا مجھے علم نہیں کہ ان کی پیپلز پارٹی میں کیا حیثیت تھی۔ اتنا جانتا ہوں وہ حنیف رامے کی وزارت اعلیٰ میں ان کے مشیر یا معاون خصوصی تھے اور وہی کام کرتے رہے ہیں جو ان
مزید پڑھیے


بعض روایات کا مفہوم

هفته 20 جون 2020ء
سجاد میر
گرامی قدر مفتی منیب الرحمن نے ان دنوں ایک بہت عمدہ تحریر لکھی ہے۔ وہ اس سے پہلے بھی ان امور پر اظہار رائے کرنے کی جرأت کر چکے ہیں۔ اس تحریر میں انہوں نے حوالہ تو اگرچہ موجودہ صورت حال کا دیا ہے‘ تاہم ایک بنیادی نکتے کی وضاحت کی ہے۔ ایک طرح سے انہوں نے منع کیا ہے کہ علم دین کو سمجھے بغیر ایسی باتیں نہ کریں جس پر بعد میں خفت اٹھانا پڑے۔ آغاز انہوں نے اس بات سے کیا ہے کہ بعض لوگ یہ کہتے تھے کہ 12مئی کو ستارہ ثریا طلوع ہونے والا ہے‘
مزید پڑھیے


ایک اور پاکستانی

جمعرات 18 جون 2020ء
سجاد میر
ایک اور پاکستانی چل بسا۔ وہ پیدائش سے پہلے بھی پاکستانی تھا۔ اس کا گھر ساہیوال میں کربلا روڈ پر تھا جو میرے گھر سے گویا بالکل متصل تھی۔ وہاں ایک بورڈ لگا ہوا تھا۔ عزیز پاکستانی، ان عزیز پاکستانی کی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے پاکستان بننے سے بہت پہلے اپنے ساتھ پاکستانی لکھنا شروع کر دیا تھا۔ طارق عزیز اسی پاکستانی کا بیٹا تھا۔ جی ہاں، یہی طارق عزیز جو پاکستان ٹی وی کا پہلا اینکر تھا اور جس کے پروگرام نیلام گھر نے برسوں کامیابی کے جھنڈے گاڑے رکھے۔ وہ مجھ سے بہت سینئر تھا۔ کالج
مزید پڑھیے


ہمارے دوست محمد فیضی

بدھ 17 جون 2020ء
سجاد میر
جب میں لاہور سے کراچی منتقل ہوا۔ یہ جولائی 1973ء کی بات ہے تو مرے کیسے میں صرف تین سکّے تھے جن کے بارے میں مجھے معلوم تھا کہ یہ کراچی کی مارکیٹ میں چل سکتے ہیں۔ تین افراد کے حوالے مرے ساتھ تھے کہ کراچی جا کر ان سے رابطہ کروں گا اور آئندہ کی حکمت عملی طے کروں گا۔ ایک منور حسن‘ دوسرے ڈاکٹر عارف علوی اور تیسرے دوست محمد فیضی۔ منور صاحب کو فون کیا تو کہنے لگے ابھی رکشا پکڑوں اور اسے بتائو فیڈرل بی ایریا جانا ہے۔ پل پار کر کے فلاں سمت مڑو‘ پھر
مزید پڑھیے


خدا کے سہارے

هفته 13 جون 2020ء
سجاد میر
کوئی کل بھی سیدھی نہیں ہے۔ نحوست کے سائے ہیں کہ پھیلتے ہی جا رہے ہیں۔ ایک طرف تو جو آفتیں نازل ہوئی ہیں ان کا غم ہے ‘ دوسری طرف روز کوئی نہ کوئی درفنطنی دل چھلنی کر جاتی ہے۔ دل کرتا ہے کہ چیخ چیخ کر کہا جائے کہ بھلے ہمارے دکھوں کا مداوا نہ کر سکو‘کم از کم اپنی زبان پر ہی قابو رکھو۔ ہم اخلاق کی آخری حدیں بھی پھلانگتے جا رہے ہیں۔اللہ رحم فرمائے اور بے بس عوام کو اس صبر کا اجر دے۔ اگر یہ کہوں کہ ملک کے سب ادارے ناکام ہو چکے ہیں
مزید پڑھیے