Common frontend top

سجاد میر


قومی فلاح کی راہ


جلسہ کیسا ہو گا‘ ہو گا بھی کہ نہیں ہو گا‘ کتنے لوگ آئیں گے‘ کیا لائحہ عمل طے ہو گا۔ یوں سمجھ لیجیے کہ میں قطعاً نہیں جانتا‘ مگر اتنا جانتا ہوں کہ اس احساس ہی نے کہ کچھ ہو رہا ہے‘ دلوں کو ایک طرح سے گرفت میں لے رکھا ہے۔طبیعتوں میں ایک طرح کا کھچائو سا ہے۔ ایک عجیب نشہ ہے جس کا سرور تو شاید معلوم نہیں کہ ہے‘ البتہ پائوںضرورلڑکھڑا رہے ہیں۔ ہماری زندگیوںمیں یہ دن بار بار آتا رہا ہے‘ مگر اس وقت عجیب انداز میں آیا ہے کہ نہیں معلوم اس کے اثرات
جمعرات 10 دسمبر 2020ء مزید پڑھیے

شیر باز مزاری

پیر 07 دسمبر 2020ء
سجاد میر
ایک اور مہربان رخصت ہو گیا۔ وہ سیاستدانوں کی اس نسل کا آخری نمائندہ تھا جنہوں نے پاکستان میں اصولوں کی خاطر جمہوریت کی شمع کو روشن رکھا۔شیر باز مزاری ایک بے مثال شخص تھے اور مرے بہت ہی مہربان۔ ان کی دیانت اور شرافت کے بارے میں میری یہ رائے رہی ہے کہ وہ پاکستانی سیاست کی اس عہد کی دو ڈھائی ایماندار شخصیتوں میں سے تھے۔ میری ان سے شناسائی اس وقت ہوئی جب وہ ٹوٹے ہوئے پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی کے رکن کے طور پر اسلام آباد آئے۔ مجھے بھی پہلی بار اسمبلی کے اجلاس کو
مزید پڑھیے


پاکستان سٹیل ملز

هفته 05 دسمبر 2020ء
سجاد میر
دوادارے جو ہمارا مان تھے۔ہم سے رخصت ہو رہے ہیں۔ پی آئی اے اور سٹیل ملز۔ آج کل خاص کر سٹیل ملز کا بہت چرچا ہے جس کے ملازمین نے نیشنل ہائی وے پر اور ملک کے اہم ترین ریلوے ٹریک پر دھرنا دے کر زندگی مفلوج کر دی۔میرا یہ پختہ یقین ہے کہ ان اداروں کی تباہی میں کراچی کی سیاست کا بنیادی کردار ہے اور اب ہم جو کشکول لے کر نکلے ہوئے ہیں تو ہمیں آج کی عالمی ایسٹ انڈیا کمپنی المعروف آئی ایم ایف نے بتا رکھا ہے کہ ہمیں ان اداروں سے دستبردار ہونا پڑے
مزید پڑھیے


عبدالقادر حسن

جمعرات 03 دسمبر 2020ء
سجاد میر
بہت دل گرفتگی کے ساتھ میں یہ چند سطریں لکھ رہا ہوں۔ آج ایک قلم اور خاموش ہو گیا۔ عبدالقادر حسن بھی رخصت ہو گئے۔ وہ بلاشبہ جدید اردو کالم نویسی کے بانی تصور کئے جاتے ہیں۔ ان سے پہلے ایک خاص طرح سے چٹکیاں لیتے ہوئے مزاح کے ساتھ کالم لکھے جاتے تھے اور یہ کام ہمارے بڑے بڑے ادیبوں نے انجام دیا مگر کالم نویسی کو حالات حاضرہ کے تناظر میں نیا روپ دینے کا کام عبدالقادر حسن سے شروع ہوا۔ وہ بلاشبہ اس قبیلے کے سردار تھے۔ یہی نہیں وہ صحافیوں کی اس کھیپ سے تھے
مزید پڑھیے


کیا ہم چھوٹے لوگ ہیں

هفته 28 نومبر 2020ء
سجاد میر
شاید ہم چھوٹے لوگ ہیں‘ وہ کام کر جاتے ہیں جو ہمارے بس میں نہیں ہوتے۔ بعد میں ہم سے سنبھالے نہیں جاتے۔ اچھی بات صرف اتنی ہے کہ ہم جب قدم اٹھا لیتے ہیں تو کسی یوٹرن کی خاطر الٹے نہیں مڑتے۔ یہ بات مجھے ایک حالیہ صورت حال سے ذہن میں آئی ہے۔ ایک نہیں تین تین حوالے یک لخت یاد آئے۔ پہلے وہ بات جس نے فکر کو اس ڈگر پر ڈالنے میں مہمیزکا کام کیا۔ یہ جو اسرائیل کا مسئلہ ہے‘ جو آج کل ہمارے ہاں پھر تازہ ہو گیا ہے۔ ہم نے کہیں بہت پہلے
مزید پڑھیے



عاشق رسولؐ کا جنازہ

پیر 23 نومبر 2020ء
سجاد میر
میرے منہ سے بے ساختہ نکلا یہ ایک عاشق رسولؐ کا جنازہ تھا۔ اسے محض مسلمانوں کا اجتماع نہ سمجھو‘یہ عاشقان رسولؐ کا اجتماع تھا۔ اس بنیادی سے نکتے پر ذرا گہرائی سے غور کرو تو اس راز کو پا سکو گے کہ اسلام کس چیز کا نام ہے۔ کہتے ہیں یہ لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ صرف جنازہ ہی نہیں‘ایسا اجتماع بھی چشم فلک نے کبھی نہیں دیکھا۔مجھے احمد بن حنبل کا ایک قول یاد دلایا گیا کہ کسی عالم کی دربار حق میں قبولیت کا اندازہ لگانا ہو تو اس کی نماز جنازہ سے
مزید پڑھیے


کوئی ہے جو لگام دے

جمعرات 19 نومبر 2020ء
سجاد میر
سب سے ضروری خبر وہ ہے جسے ایک انگریزی اخبار نے شہ سرخی بنایا ہے اور اردو پریس نے عمومی طور پر اسے اہمیت نہیں دی ہے۔ وہ خبر یہ ہے کہ چند ہفتوں میں آئی ایم ایف کا وفد پاکستان میں حالات کا جائزہ لینے آ رہا ہے۔ باقی ہم سب کے لئے اہم بات یہ ہے کہ(1) گلگت و بلتستان کی اصل کہانی کیا ہے۔ کیا بلاول بھٹو سے سچ مچ کچھ وعدے کئے گئے تھے یا پیپلز پارٹی کو یقین دلایا گیا تھا کہ اس سے ان انتخابات میں دست تعاون بڑھایا جائے گا۔ وہاں کی مسلم
مزید پڑھیے


تحمل سے کام لیں

پیر 16 نومبر 2020ء
سجاد میر
بات اس پریس کانفرنس پر ہو رہی تھی،جو ہماری مسلح افواج کے ترجمان اور وزیر خارجہ نے مشترکہ طور پر کی ہے۔ چھوٹی بات نہیں ہے۔ صاف دکھائی دیتا تھا کہ دشمن ہمیں ہر طرح سے زک پہچانا چاہتا ہے۔پوچھا گیا،اس کا حل کیا ہے؟ بے ساختہ میرے منہ سے نکلا ہائوس ان آڈر کرو۔ کیا مطلب؟ ہم یہ کام پہلے بھی کر چکے ہیں۔ افغانستان کے بارے میں ہم نے بالآخر یہی کیا تھا۔ کیا ہندوستان کے ساتھ بھی یہ معاملہ ہے۔ ہرگز نہیں،اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہے،مگر اس وقت ہم ایک منشتر قوم ہیں۔ اختلاف انتہائی سطح پر نظر آتا
مزید پڑھیے


کراچی سے ایک خبر

جمعرات 12 نومبر 2020ء
سجاد میر
آئی جی کراچی کے قضیے کا عسکری فیصلہ آ گیا جس سے بہت سے سوال پیدا ہوئے۔ بلاول نے گلگت و بلتستان ہی سے اسے قبول کیا جب کہ نواز شریف نے لندن سے اس کو مسترد کیا۔ نواز شریف نے اپنی ٹویٹ میں جو الفاظ استعمال کئے اس کا آخری لفظ بہت اہم اور تاریخی پس منظر رکھتا ہے۔ انہوں نے لکھا Rejectedیہی وہ الفاظ تھے جو ڈان لیکس پر حکومتی کارروائی کے جواب میں فوج کے ترجمان نے استعمال کئے تھے جس پر بہت لے دے ہوئی تھی۔ بالآخر یہ الفاظ واپس لئے گئے مگر آرمی چیف نے
مزید پڑھیے


اور وہ ہار گیا

پیر 09 نومبر 2020ء
سجاد میر
سراج الحق نے کیا مزے کی بات کی ہے کہ عمران خان تمہارا دوست ٹرمپ تو چلا گیا‘ اب تمہاری باری ہے۔اس الیکشن میں پاکستانیوں کو اتنا مزہ آیا ہے کہ گویا سراج الحق جیسے ثقہ آدمی نے بھی پھبتی کس کر لطف اٹھایا ہے۔ اس الیکشن میں ٹرمپ کے ہارنے پر ایسے خوشیاں پھوٹ رہی ہیں جیسے عمران کی شکست پر ن لیگ کو ہونے کی توقع ہے۔ میں دونوں کا مقابلہ نہیں کر رہا۔ ٹرمپ کے ہارنے پر میں بھی خوش ہوں۔ اس لئے کہ لگتا تھا دنیا سے جمہوریت کی اعلیٰ اقدار ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رخصت
مزید پڑھیے








اہم خبریں