BN

سجاد میر


خدمت خلق کے ادارے


ایک فرض ہے جو میں ہر سال ادا کرتا ہوں۔ ان اداروں کا تذکرہ کرتا ہوں جو خدمت خلق کے کار خیر میں مصروف ہوتے ہیں۔ میں اپنے ایمان کے مطابق گواہی دیا کرتا ہوں کہ یہ وہ ادارے ہیں جو آپ کے عطیات کے منتظر ہیں۔ ان میں ہر سال اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ چند بنیادی ادارے ایسے ہیں جو مبالغے کے انداز میں بیان کروں تو یوں کہوں کہ ازل سے قائم ہیں اور ابد تک انسانیت کی خدمت کرتے رہیں گے۔ ہر سال کی طرح برادر عزیز عامر خاکوانی بھی اس موضوع پر ضرور لکھتے ہیں۔ ہماری
پیر 04 مئی 2020ء

اس یوم مئی پر چند سطریں

هفته 02 مئی 2020ء
سجاد میر
جب اچھے اچھے تصورات بھی نعرے بن کر رہ جائیں اور نیکی کے کام کمائی کا ذریعہ طے پائیں تب دنیا سے خیر کا عمل اٹھ جاتا ہے۔ یہ تمہیدی جملہ میں نے اس لئے عرض کیا ہے کہ کل یوم مئی تھا‘ مزدوروں کا عالمی دن۔ عجیب بات ہے کہ شکاگو کا یہ واقعہ اشتراکیوں کا نعرہ بن گیا۔ دنیا بھر کی ٹریڈ یونین اس دن کو بڑی آب و تاب سے مناتیں اور سرمایہ دار دانشور یہ سمجھتے کہ اس سے مزدور کا کتھارس ہو جاتا ہے اور وہ انقلاب کی راہ پر گامزن ہونے سے باز رہتا
مزید پڑھیے


نئی تبدیلی۔خوش آئند تبدیلی

جمعرات 30 اپریل 2020ء
سجاد میر
یہ پہلی تبدیلی ہے جو آنکھوں میں جچ رہی ہے۔ ابھی گزشتہ دنوں ایسی اتھل پتھل ہوئی تھی کہ لگتا تھا انقلاب آ گیا ہے۔جہاں بس چلتا ہے۔ بڑے چائو سے لایا ہوا آدمی بدل دیا جاتا ہے۔ پنجاب میں انتظامی سربراہ اور کوتوال اعلیٰ کئی بار تبدیلی کی زد میں آئے ۔ جو بچا تو ایک عثمان بزدار۔ اللہ ان کا اقتدار سلامت رکھے۔ مگر یہ تبدیلی بہتوں کو کھا گئی۔ اب جو تبدیلی آئی ہے وہ کئی لحاظ سے اہم ہے۔ پہلے دن ہی سے جو میڈیا ٹیم بنائی گئی تھی وہ دھینگا مشتی کے لئے تو اچھی
مزید پڑھیے


مولانا طارق جمیل کے نام

هفته 25 اپریل 2020ء
سجاد میر
اللہ کے بندوں کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ خود کو اقتدار کی غلام گردشوں سے دور رکھتے ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ ؒنے ایک جگہ لکھا ہے کہ خاندان چشتیہ کے ملفوظات میں ہے کہ ہر وہ شخص جس کا نام بادشاہ کے دفتر میں لکھا گیا‘ اس کا نام حق سبحانہ کے دفتر سے نکال دیتے تھے۔ اس سلسلے میں سب سے خوبصورت رویہ بابا فرید الدین گنج شکرؒ کا ہے۔ انہوں نے دلی اس لئے چھوڑنا ضروری سمجھا کہ وہاں اہل اللہ دربارداری کرنے لگے تھے۔ بابا صاحب انہیں روکتے تھے۔ ایک بار ایک بہت ہی
مزید پڑھیے


تیل دیکھو ‘تیل کی دھار دیکھو

جمعرات 23 اپریل 2020ء
سجاد میر
قیامت کی گھڑی ہے‘ کبھی سوچا تھا کہ تیل ٹکے سیر بکے گا۔ہو سکتا ہے تیل سے بات سمجھ نہ آئے‘ کہنا یہ ہے کہ پٹرولیم کی مصنوعات یوں بے وقعت ہوں گی کہ کوئی خریدار نہیں ملے گا۔ منتیں اور خوشامدیں کرنا پڑیں گے کہ لے لو‘ مفت ہی لے لو۔ کوئی مفت کا خریدار ہی نہیں ملے گا۔ اچھا تو ساتھ ڈالر بھی لے لو‘ مگر تیل یہاں سے اٹھا لو یہ طلسم ہوش ربا کا جادو نہیں‘ آج کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ تیل کوئی معمولی شے نہیں اس نے سونے کی حیثیت اختیار کر لی
مزید پڑھیے



نجیب ہارون کا استعفیٰ

پیر 20 اپریل 2020ء
سجاد میر
کورونا کو ایک منٹ کے لئے بھول جائیے حالانکہ یہ بھولنے کی چیز ہے نہیں۔ یہ اس زمانے کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ تاہم میں ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔ یہ چوبیس سال پرانی بات تھی کہ نجیب ہارون تشریف لائے اور یہ اطلاع دی کہ وہ اور ڈاکٹر عارف علوی تحریک انصاف میں شامل ہونے کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں وہ دوستوں سے مشاورت کر رہے ہیں۔ اسی خاطر وہ میرے پاس تشریف لائے تھے میری رائے جاننا چاہتے تھے۔ میں کہیں لکھ چکا ہوں کہ اگر میں بھی سیاست کے میدان میں اترنا چاہتا تو
مزید پڑھیے


سرمایہ داری کی جنگ

هفته 18 اپریل 2020ء
سجاد میر
اچھی خبر آئی ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں نے کورونا کے خطرے کا احساس کرتے ہوئے چند اقدامات کئے ہیں۔عالمی بنک ہو یا عالمی مالیاتی فنڈز ان کے بارے میں تاثر یہی ہے کہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کے پشتی بان ہے۔ یہ جو دنیا کو ریوڑیاں بانٹتے ہیں تو اس بات کا خیال رکھتے ہوئے ایسا کرتے ہیں کہ اس سے فائدہ اس نظام کو پہنچے ‘گرنہ یہ غریب ملکوں اور ان کے عوام کا خون چوسنے سے قطعاً گریز نہیں کرتے۔ ان کا جاگنا اس بات کا اعلان ہے کہ عالمی نظام زر خطرے میں ہے۔ میں بار
مزید پڑھیے


دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

جمعرات 16 اپریل 2020ء
سجاد میر
ابھی ابھی میں ایک اشتہار دیکھ رہا ہوں۔ ایک عالمی شہرت کا برطانوی جریدہ پاکستان کے ایک بڑے اشاعتی ادارے سے مل کر اردو میں ایک سالانہ شمارہ شائع کرتا ہے۔ اس شمارے میں نئے سال کے حوالے سے بعض ماہرین کے مضمون ہوتے ہیں جس میں بتایا جاتا ہے کہ یہ سال کیسا ہو گا۔ اپریل آ گیا اور نئے سال کا سارا نقشہ بدل گیا‘ مگر یہ اشتہار چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ 2020ء کیسا ہو گا۔ بھلا کوئی ہے جو بتا سکے کہ آنے والے دن کیسے ہوں گے۔ مغرب میں کئی اہل دانش اس
مزید پڑھیے


احفاظ الرحمن اور سعید اظہر

پیر 13 اپریل 2020ء
سجاد میر
اس نے طیش میں آ کر کرسی اٹھائی اور مارنے کے لیے آگے بڑھنا چاہا۔ وہ اس وقت ایک دبلا پتلا شخص تھا اور میں شاید اس وقت بھی تن و توش رکھتا تھا۔ اس کھلے تضاد پر بھی دوست ہنستے ہوں گے مگر مزے کی اصل بات یہ تھی کہ یہ 77کی تحریک کا زمانہ تھا اور کراچی پریس کلب میں سیاست کے سوا کچھ نہ ہوتا تھا، مگر اس گرما گرمی کی وجہ یہ تھی کہ غزل کے کسی پہلو پر اختلاف پیدا ہو گیا تھا۔ موضوع مجھے اس لئے یاد ہے کہ کسی نے ہنستے ہوئے کہا
مزید پڑھیے


انسان کو بچا لو

هفته 11 اپریل 2020ء
سجاد میر
پروفیسر کرار حسین عجیب شخصیت تھے۔ میں انہیں اپنے اساتذہ میں سے سمجھتا ہوں۔ انہوں نے کہیں اپنے بارے میں یہ بات لکھی ہے کہ میں اشتراکیت اور تصوف کا وہ نقطہ اتصال ہوں جو وجود نہیں رکھتا۔ اس وقت مجھے اس بات پر تبصرہ نہیں کرنا۔ بتانا صرف یہ ہے کہ جب دو خط ایک دوسرے کو کاٹتے ہیں تو نہ خط کا وجود ہوتا ہے نہ نقطے کا۔ کوئی ریاضی دان تو ایسا دماغ رکھتا ہے کہ اس بات کو سمجھ سکے‘ وگرنہ ہم جیسے ’’نکتہ سنج‘‘ اس حقیقت کو جاننے میں لاچار رہتے ہیں۔ بالکل اس طرح
مزید پڑھیے