BN

سجاد میر



حفاظت کا حصار


کیا ہم سچ مچ اتنے پھوہڑ ہیں کہ دو اکھرنہیں لکھ سکتے۔ مرا ایک طویل عرصے سے یہ خیال ہے کہ ہم قانون سازی میں پھٹیچر ہیں۔ یہ میں کوئی اسلامی تاریخ نہیں بتا رہا۔ بہت سی تحریری قانون سازی کی ابتدا مسلمانوں کے ہاں ہوئی ہے حتیٰ کہ بقول ڈاکٹر حمیداللہ کے میثاق مدینہ دنیا کا پہلا تحریری دستور ہے۔ خلافت راشدہ ہی کے زمانے میں ہم نے اس میدان میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیے ہیں۔ ہماری فقہ کے سارے دبستاں یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ ہم اس فن میں کیسے ماہر رہے ہیں۔ یہ بیانیہ
پیر 06 جنوری 2020ء

اپنا اپنا دین الٰہی

هفته 04 جنوری 2020ء
سجاد میر
نصیر سلیمی کراچی سے آئے ہوئے ہیں۔ ویسے تو انسائیکلو پیڈیا ہیں‘ مگر اس وقت انہوں نے ایک مزے کی بات یاد دلائی ہے ۔ملا واحدی ہماری تاریخ کا بے مثال کردار ہیں۔ خواجہ حسن نظامی کے لاڈلے تھے۔ ایک جگہ لکھ رکھا ہے کہ خواجہ صاحب کہا کرتے تھے ؛اللہ ہر شخص کے حصے کے بیوقوف پیدا کرتا ہے۔ تو اے مرے رب‘ مرے حصے کے ایک لاکھ بیوقوف مجھے بھی عطا کر۔ جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے مریدوں کی تعداد پورے ایک لاکھ تھی۔ غالباً ان دنوں مریدوں کے رجسٹرڈ کرنے کا رواج ہو چکا
مزید پڑھیے


تائب ہیں احتساب سے…سارے بادہ کش

جمعرات 02 جنوری 2020ء
سجاد میر
کس برہمن نے کہا تھا یہ سال اچھا ہے۔ جتنی مشکلیں وطن عزیز پر اس برس پڑی ہیں۔ اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ بات کو پھیلایا جائے تو پوری دنیا کے حالات ہی چند برس سے دگرگوں دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی سکھ کی خبر نہیں سننے کو ملتی۔ سال کے آخری دنوں میں تین واقعات ایسے ہوئے ہیں جنہیں عدالتی اور قانونی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ہمارے ملک کی تاریخ میں یہ غیر معمولی واقعات ہیں۔ پہلا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ‘ دوسرا سابق صدر جنرل پرویز
مزید پڑھیے


چائنا کٹنگ

هفته 28 دسمبر 2019ء
سجاد میر
بھٹو صاحب کمال کی عملی ذہانت رکھتے تھے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ جام صادق بھی وزیر بلدیات تھے اور خاصے منظور نظر تھے۔ ان کی شہرت تھی کہ پلاٹوں کی بندربانٹ میں بڑے فیاض تھے۔ بلدیات ان کا محکمہ تھا۔ بھٹو صاحب نے ہنستے ہوئے بہت سوں کی موجودگی میں کہا‘ بھئی‘ جام صاحب ہر پلاٹ الاٹ کر دینا سوائے مزار قائد اعظم اور 70کلفٹن کے۔ ظاہر ہے 70کلفٹن بھٹو صاحب کا اپنا گھر تھا۔ آج میں نے جب ایک خبر دیکھی تو بھٹو صاحب بہت یاد آئے۔ ہمارے نیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے نوٹس
مزید پڑھیے


ہماری قیادت ‘ ہماری طاقت

جمعرات 26 دسمبر 2019ء
سجاد میر
بھلا ہو ریاست مدینہ والوں کا‘ کم از کم اتنا تو ہوا کہ آج کل سیکولرازم کا فیشن ذرا کم ہوا ہے۔ کم از کم ہر سال یوم قائد اعظم کے موقع پر بڑے بڑے جغادری میدان میںنکل آتے ۔ ان کا کام ایک ہی ہوتا کہ ثابت کیا جائے قائد اعظم ایک سیکولر شخص تھے اور وہ پاکستان کو بھی ماشاء اللہ سیکولر دیکھنا چاہتے تھے۔ قائد اعظم کی 11اگست کی تقریر ہر بار زیر بحث آتی اور بتایا جاتا کہ ہم نے قائد اعظم کے نظریات کے ساتھ غداری کی ہے۔ ایک تو یہ بتایا جاتا کہ ہم
مزید پڑھیے




آئو تالیاں بجائیں

پیر 23 دسمبر 2019ء
سجاد میر
ابھی دو چار روز پہلے ہی میں نے شیخ عیسیٰ نور الدین کا ایک قول پڑھا ہے۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ جدید انسان کی غلطی یہ ہے کہ وہ عزم راسخ یا طاقت کے بغیر دنیا کی اصلاح کرنا چاہتا ہے۔ یہ شیخ عیسیٰ نور الدین وہی ہیں جنہیں فٹزشواں کہا جاتا ہے۔ شیخ عیسیٰ نور الدین‘ رینے گنوں(استاد عبدالواحد یحییٰ) مارٹن لنگز(ابوبکر سراج الدین) جیسی ہستیاں ہی ہیں جن پر ہمارے ہاں کمال درجے کی بحث شروع ہوئی تھی۔ اس تحریک کا آغاز فرانس سے ہوا تھا۔ بحیرہ روم کے اس پار کا علاقہ المغرب کہلاتا ہے
مزید پڑھیے


مضبوط اور متحد

جمعرات 19 دسمبر 2019ء
سجاد میر
تم بھی سچے‘ ہم بھی سچے عشق میں سچ ہی کا رونا ہے بہت دنوں سے دھڑکا سا لگا رہتا تھا کہ کچھ نہ کچھ غیر معمولی ہونے والا ہے۔ سب سے زیادہ تشویش اس بات پر تھی کہ کہیں اداروں کے درمیان کوئی تصادم کی فضا پیدا نہ ہو جائے۔ جتنا اس بات پر اصرار ہو رہا تھا کہ ادارے ایک پیج پر ہیں‘ اتنی تشویش بڑھتی جا رہی تھی۔ اس کے مختلف مفہوم اخذ کئے جاتے تھے۔ اس دن میں ایک دوسری خبر کی طرف متوجہ تھا۔ پرویز مشرف کے مقدمے کی تاریخ تو لگی ہوئی تھی‘ مگر یہ اندازہ
مزید پڑھیے


پورا سچ کیا ہے

پیر 16 دسمبر 2019ء
سجاد میر
نصف صدی بیت گئی ۔میں سوچ میں پڑ گیا۔ الطاف حسن قریشی صاحب کا یہ کالم پڑھ کر مجھے ان دنوں کا سارا ماحول یاد آ گیا۔ میں بھی انہی کے ادارے میں کام کرتا تھا۔ ایسے لگ رہا ہے کہ کل کی بات ہے۔2اکتوبر1970ء کو ایم اے کا آخری پرچہ دے کر میں دو بجے دوپہر زندگی کے دفتر اپنی ڈیوٹی سنبھالنے جا پہنچا تھا۔ ایسی سخت ڈیوٹی تھی کہ آج تک ختم نہیں ہوئی۔ یہ میری پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز تھا۔ وگرنہ لکھتے‘ چھپتے پانچ چھ برس ہو چکے تھے۔ ہاں تو میں اس سخت ڈیوٹی کا
مزید پڑھیے


علاج نہ انصاف

هفته 14 دسمبر 2019ء
سجاد میر
جنگ کی باتیں یاد آنے لگیں ہیں ارادہ ہے کہ 16دسمبر کے ان لمحوں کو یاد کروں گا جسے ہم بھولتے جا رہے ہیں۔ چلو اس میں تو دو ایک دن کی تاخیر ہو سکتی ہے۔ تاہم ایک ایسا واقعہ ہو گیا ہے جو ہمیں جنگ کی یاد ایک اور طرح یاد دلا رہا ہے۔ اس کے اثرات اتنے ہی ہولناک ہیں جتنے کسی جنگ کے ہو سکتے ہیں۔ ایک وزیر نے بڑے درد سے پوچھا کہ اگر بھارت لاہور پر خاکم بدھن قابض ہونے پر قابض ہو جاتا تو کیا وہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر ایسا دھاوا
مزید پڑھیے


یہ ہے اکیسوی صدی کا مہذب انسان

جمعرات 12 دسمبر 2019ء
سجاد میر
جب بیسویں صدی کا اختتام ہو رہا تھا تو دو ایک برس تو یہی شور مچا رہا کہ یہ صدی 2000ء سے شروع ہو گی یا 2001ء سے۔ کچھ کمپیوٹر کے جھگڑے تھے کہ شاید کوئی دن بدلنا تھا وگرنہ نظام عالم تباہ ہو جائے گا۔ لگتا تھا کہ ہم کسی غیر معمولی تجربے سے گزرنے والے ہیں۔ تاہم یہ بات بڑے اہتمام سے بتائی جا رہی تھی کہ اب غیر معمولی وقت ہو گا چند آسان سی باتیں تھیں کہ نئی صدی امن کی صدی ہو گی۔ بڑے یقین کے ساتھ کہا جاتا تھا کہ اب دنیا میں اتحاد
مزید پڑھیے