BN

سجاد میر


الاستاد عبدالغفار عزیز


سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کا مقام و مرتبہ کیسے بیان کروں۔منصورہ میں ایسا جنازہ بھی کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ ایک قلندر اور درویش جو خاموشی سے اس دنیا سے اٹھ گیا مگر وہ کچھ کر گیا جو بڑے بڑوں کی سوچ سے آگے ہے۔ عالم اسلام میں اس وقت جماعت اسلامی کی کوئی پہچان تھی تو وہ اس شخص کی وجہ سے تھی۔ سراج الحق نے بتایا کہ ہم تو بے تکلفی سے اسے بھائی کہتے تھے مگر اب دنیا میں بڑے بڑے علماء و مشائخ اسے الاستاد اور الشیخ کے نام سے یاد کرتے تھے۔ ایسے
هفته 10 اکتوبر 2020ء مزید پڑھیے

گلگت و بلتستان …نیا صوبہ؟

جمعرات 08 اکتوبر 2020ء
سجاد میر
آج میں ایک ایسے موضوع پر بات کرنا چاہتا ہوں جو مجھے کوئی ہفتہ پہلے چھیڑنا چاہیے تھا۔ ملک میں اتنا کچھ ہو رہا ہے کہ اس پر سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ایک دن اچانک پتا چلے گا کہ ’’قوم‘‘ نے اس کا فیصلہ کردیا ہے۔ یہ ہے گلگت و بلتستان کو پاکستان کا آئینی صوبہ بنانے کا معاملہ۔حفیظ اللہ نیازی کو جانے کیا سوجھی کہ انہوں نے اس موضوع پر ایک شاندار نشست کر ڈالی۔ بلایا تو کھانے پر تھا اور ۔کھاناان کا بڑا شاندار ہوتا ہے۔ چن چن کر ڈشیں ترتیب دیتے ہیں۔ کہیں کی مچھلی تو
مزید پڑھیے


حماقت کی گنجائش نہیں

پیر 05 اکتوبر 2020ء
سجاد میر
میں یہ تو نہیں کہتا کہ یہ پاکستان کا نازک ترین دور ہے۔ اس لئے کہ یہ ہم ہر زمانے میں کہتے رہے ہیں۔ تاہم جب میں غور کرتا ہوں اور تاریخ کو اپنی نگاہوں کے سامنے لا کر دیکھتا تو یقینی طور پر یہ پاکستان کی تاریخ کے دو ایک ایسے زمانوں میں سے ہے جب ریاست کے وجود پر ہی شک ہونے لگ جاتا ہے۔ وہ تو خدا کا کرم ہے کہ وہ ہمیں مشکلات سے نکالتا ہے۔ کبھی کبھی سزا بھی دیتا ہے۔ مجھے خیال آتا ہے کہ سانحہ مشرقی پاکستان سے پہلے بھی ایسی کیفیات
مزید پڑھیے


بلدیاتی نظام اور صوبے

پیر 28  ستمبر 2020ء
سجاد میر
کبھی کبھی تو مجھے گمان ہوتا ہے کہ جمہوریت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ صوبے ہیں۔ ہمارے ہاں جو بھی نظام ہے وہ اپنی روح کے مطابق اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک بلدیاتی اور شہری حکومتوں کے الیکشن نہ کرا دیے جائیں۔کہا جاتا ہے اس کی راہ میں رکاوٹ جمہوری حکومتیں ہیں‘ وگرنہ ہر آمریت نے بلدیاتی نظام کو اپنے اپنے انداز سے نافذ کرنے کی کوشش کی۔ یہاں غور کیا جائے تو جمہوری حکومتوں سے مراد صوبائی حکومتیں ہیں۔ اس وقت سندھ اور پنجاب میں خاص طور پر بلدیاتی انتخابات کو لٹکایا جا رہا
مزید پڑھیے


فاروق عبداللہ سے گلگت و بلتستان تک

هفته 26  ستمبر 2020ء
سجاد میر
میں وہمی شخص ہوتا تو جانے کتنے سوال اٹھا دیتا۔ ویسے بھی میں کشمیری نژاد ہونے کی وجہ سے اور ایک متشدد پاکستانی ہونے کے ناتے کبھی شیخ عبداللہ کے خانوادے سے مطمئن نہیں ہوا۔ ان کی تین نسلوں نے مقبوضہ کشمیر پر حکومت کی ہے۔ وہ سونے کے بن کر بھی آ جائیں تو بھی مجھے ان سے خیر کی کوئی توقع نہیں ہے۔ آدمی کو ویسے اتنا بھی سنگدل نہیں ہونا چاہیے۔کبھی کبھی وہاں سے خیر کی بارش ہو جاتی ہے جہاں سے اس کا گمان تک نہیں ہوتا۔ طائف میں بدترین ظلم کرنے والوں کی ہدایت کی
مزید پڑھیے



فیصلہ کن موڑ

جمعرات 24  ستمبر 2020ء
سجاد میر
کیا نوازشریف کی تقریر ٹکڑائو کی پالیسی کا اعلان ہے یا اس بات کا اظہار ہے کہ فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ شیخ رشید نے یہ بیان دے کر کس کی خدمت کی ہے کہ نوازشریف نے اپنا پاسپورٹ خود پھاڑ دیا ہے اور اب ان کی ملک کی سیاست میں کوئی گنجائش نہیں۔ ان کی یہ بات اس تجزیے پر مبنی ہے کہ نوازشریف نے چونکہ ریاست سے ماورا ریاست کا ذکر کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ ان کی لڑائی عمران سے نہیں‘ ان لوگوں سے ہے جو عمران کو لے کر آئے ہیں تو وہ
مزید پڑھیے


سٹالن یا دُرّۂ عمرؓ

جمعرات 17  ستمبر 2020ء
سجاد میر
ان کی تحریر پڑھ کر بنا پیئے ہی نشہ آ جائے، یہ کم ہوتا ہے یہ معجزہ مگر آج ہوا ہے۔ میں جن سوالوں پر غور کر رہا تھا ان میں بعض کی طرف اشارے ملے ہیں۔ کالم کا عنوان ہے کہ کیمونسٹ ماسکو میں ریپ ناممکن تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ماسکو کی شاموں کا نقشہ کھینچا ہے اور بتایا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی کا رعب اور دبدبہ اتنا تھا کہ کوئی راہ چلتی خواتین کی طرف میلی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ یہ درست ہے کہ وہاں وہ آزادیاں نہ تھیں جو جمہوری ملکوں میں ہوتی
مزید پڑھیے


رحم کرو‘ رحم!

پیر 14  ستمبر 2020ء
سجاد میر
ایسے میں کئی بار میرے اندر کا صحافی آنکھیں موند لیتا ہے اور وہ چھوٹا سا ادب کا طالب علم جاگ اٹھتا ہے جس نے دیوتائوں سے لے کر انسانوں تک کی کہانیاں درد دل کے ساتھ پڑھی ہوتی ہیں۔ میں بھول جاتا ہوں کہ اس موٹروے کو بنے اتنے ماہ ہو گئے اس پر سکیورٹی اور سہولت کے وہ بندوبست کیوں نہیں ہے جو ایسے منصوبوں کا ضروری جزو ہوتا ہے۔ لاہور سیالکوٹ چھوڑیئے‘ مجھے اس کا بھی خیال نہیں آتا کہ لاہور سے ملتان اور سکھر جانے والی موٹروے کھلے اس سے بھی زیادہ عرصہ ہو گیا ہے
مزید پڑھیے


منو بھائی کا سندس

هفته 12  ستمبر 2020ء
سجاد میر
منو بھائی سے مری آشنائی پانچ دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ وہ ایک نظریاتی ہنگامہ خیزی کا زمانہ تھا‘مگر پاک ٹی ہائوس ایک ایسی جگہ تھی جہاں سب ایک میز پر بیٹھ کر چائے پیتے تھے۔ میں کئی برس کراچی میں گزار کر واپس لاہور آیا تو منو بھائی کو ہمیشہ کی طرح فعال پایا۔ سندس کے نام سے ایک ادارہ نظر آیا جو مرے خیال میں ایک طرح کا بلڈ بنک ہو گا۔ فنکار اور اداکار جو این جی او بناتے ہیں اس پر اہل نظر طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں‘ تاہم مجھے یقین تھا
مزید پڑھیے


پنجاب پولیس کی لڑائی

جمعرات 10  ستمبر 2020ء
سجاد میر
دل تو چاہتا تھا کہ کراچی کی حالت زار پر کچھ لکھوں۔ اتنی بربادیوں کے باوجود روشنیوں کے اس شہر کی جو گت بنائی جا رہی ہے وہ اب ناقابل برداشت ہے۔ نام نہاد منصوبہ بندی کے باوجود بہتری کی کوئی امید اس لیے نظر نہیں آتی کہ سب کی نیتوں میں فتور ہے مگر پنجاب میں ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے جو بات پاکپتن کے گردونواح سے شروع ہوئی تھی اور ایک ڈی پی او کے تبادلے پر منتج ہوئی تھی۔ وہ یہاں تک آ پہنچی ہے کہ اس نے پنجاب جیسے صوبے کے پانچ پولیس سربراہوں
مزید پڑھیے








اہم خبریں