سجا د جہانیہ


عشق ہندا ہیریاں دے ورگا


مجھے آپ کو ایک قصہ سنانا ہے، سو بات کچھ لمبی ہوجائے گی، شاید دو تین اقساط میں چلی جائے۔ بہرحال یہ ایک تکون کی کہانی ہے، انسانی تکون جس کے تینوں اضلاع اب بکھر چکے۔ تاہم چوں کہ وہ سب حیات ہیں اور اپنے جوان بچوں کے ساتھ اپنی اپنی زندگی میں مصروف، سو میں کوئی نام نہ لکھوں گا اور مقامات کے نام بھی سب فرضی ہوں گے۔ ان کے نام ہم الف، بے اور جیم فرض کر لیتے ہیں۔ جیم چونکہ مؤنث ہوتی ہے، سو ہماری کہانی میں بھی یہ نسائی کردار ہے جبکہ باقی دونوں مذکر
جمعه 07  اگست 2020ء

آؤ اک سجدہ کریں…

جمعه 31 جولائی 2020ء
سجا د جہانیہ

پتہ نہیں آپ کا تقدیر پر یقین ہے کہ نہیں؟ کسی ایسی لوح سے واقف ہیں یا نہیں جس پر نصیب کے واقعات تحریر ہوچکے ہیں۔ اگر آپ مانتے ہیں تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اور اگر نہیں مانتے تب بھی میری صحت پہ کوئی مضر اثرات مرتب نہیں ہوتے۔ میں نہ تقدیر کے ماننے والوں کا وکیل ہوں، نہ ان کے مخالفوں کا۔ اس ضمن میں اپنی ایک رائے ضرور رکھتا ہوں مگر اس کو دوسروں پر نافذ کرنے کا ظاہر ہے مجھے کوئی حق نہیں۔ خیر! آپ یہ اقتباس پڑھئے۔ یہ کسی کتاب سے نہیں لیا گیا
مزید پڑھیے


’’سب رنگ کہانیاں اور ڈائجسٹ‘‘

جمعه 24 جولائی 2020ء
سجا د جہانیہ
کتنی ساری دوپہریں تھیں اور کتنی ہی بھیگتی راتیں جو ڈائجسٹوں کے ساتھ بسر ہوئیں. الیاس سیتا پوری، محی الدین نواب، عبدالقیوم شاد اور کیسے کیسے نام تھے جو پڑھنے والے کو اس کے محلِ وقوع سے اغوا کرکے اپنے قلم کے اعجاز سے پیدا کردہ دنیاؤں میں لے جاتے. یہ وہ زمانہ ہے جب رشید آباد والی اختر لائبریری اور شاہ شمس روڈ والے سہیل بک سنٹر سے کرائے پر ملنے والی ٹارزن، آنگلو بانگلو، چلوسک ملوسک، عمرو عیار وغیرہ کی تمام کتابیں پڑھ ڈالی تھیں. پھر عمران سیریز کی باری آئی، وہ بھی ختم ہوئیں تو مظہر کلیم
مزید پڑھیے


بے مکاں حروف

جمعه 17 جولائی 2020ء
سجا د جہانیہ
قاری اور لکھنے والے کا رشتہ بھی عجب ہے۔ اِک دوجے سے دْور ہونے کے باوصف بھی کوئی لمس ہے کہ محسوسات کی ترسیل کیا کرتا ہے۔ کسی مضمون کا خیال میں آنا، پھر اس کا لفظوں میں اور جملوں میں ڈھل کر قرطاس پر اْترنا۔ اس کا کاتب یا کی بورڈ پر اْنگلیوں کی پوروں کی لطیف ضربات لگاتے کمپوزر کے ہاتھوں بارِ دگر لکھا جانا اور پھر کاغذ پر چھپ کر اخبار، رسالے یا کتاب کی صورت قاری تک پہنچنا۔ روشنائی اور کاغذ کی خوش بْو میں بسے حرف کتاب یا اخبار کی صورت تھام کر جب قاری
مزید پڑھیے


آخری ملاقات

هفته 11 جولائی 2020ء
سجا د جہانیہ
سوموار کے دن کا دوسرا پہر تمام ہوتا تھا جب ہم بہاولپور کے سرکٹ ہاؤس سے ملحقہ اس گھر میں پہنچے جس کے ایک کمرے میں رانا صاحب اس پلنگ پر لیٹے تھے جس کے بالیں جانب آکسیجن کے تین بڑے بڑے سلنڈر دھرے تھے۔ الٹے ہاتھ کی انگشتِ شہادت اس چھوٹے سے میٹر کے جبڑے میں تھی جو جسم میں آکسیجن کی سطح بتایا کرتا ہے۔ ہمارے بیٹھنے کے تھوڑی دیر بعد ہی میٹر نے واویلا کیا کہ آکسیجن کی سطح چوراسی فی صد ہوگئی ہے، سو رانا صاحب کے اٹینڈنٹ نے ایک پتلی سی پائپ نتھنوں کے نیچے
مزید پڑھیے



رانا صاحب

هفته 04 جولائی 2020ء
سجا د جہانیہ
علم کیا ہوتا ہے اور دانش کش چڑیا کا نام ہے، ان معاملات سے اب بھی اس کالم نگار کا کچھ لینا دینا نہیں لیکن جن دنوں کا یہ ذکر ہے تب تو پھولوں اور رنگوں اور تتلیوں کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہ تھا۔ قوتِ شامہ ہواؤں میں وہ خوشبوئیں ڈھونڈ لیتی تھی جو بیک وقت اجنبی تھیں اور شناسا۔ تپتی دوپہروں پر رومان کے خواب سایہ کرتے تھے اور ٹھٹھرتی رْتیں خیال کی آنچ سے آسودہ رہتیں۔ مطالعہ بھی دیو، پری، ٹارزن، عمران سیریز سے ہوتا ڈائجسٹ کی "اعلیٰ" سطح تک پہنچ چکا تھا۔ تب ہی ایک دن
مزید پڑھیے


بے یقینی

هفته 27 جون 2020ء
سجا د جہانیہ
بہت دنوں کی بات ہے‘ اتنے بہت دنوں کی کہ اب شمار کرنا چاہوں تو نہ کرسکوں۔ تب بڑا ہی سکون تھا، اطمینان اور یکسوئی۔ تب مجھے یہ بھی پتہ نہ تھا کہ شمار کرنا کیا ہوتا ہے، گنتی کسے کہتے ہیں۔ دنوں کا تعلق وقت سے ہے نا‘ جب وقت کا ہی نہ ہو تو دنوں اور ان کے شمار کا کیا سوال۔۔؟ وہ وقت سے خالی جگہ تھی۔ نہ صبح تھی‘ نہ شام‘ رات اور دوپہر۔ نہ سورج‘ چاند‘ تارے‘ نہ ان کے طلوع وغروب کا جھنجٹ۔ یہ زمین بھی تو نہ تھی جس کی پیٹھ پر ہمیں
مزید پڑھیے


’’عثمان بزدار اور ملتانی صحافی‘‘

هفته 20 جون 2020ء
سجا د جہانیہ
شب کا تیسرا پہر شروع ہوتا تھا کہ پیغام موصول ہوا ’’صبح 11 بجے ایوان وزیراعلیٰ پہنچئے۔ ملتان کی صحافی کالونی کے جو بقایا جات ایک مدت سے معلق تھے، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار کے ہاتھوں وہ ملتان ترقیاتی ادارہ کے حوالے کئے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر آپ کو خصوصی طور مدعو کیا گیا ہے‘‘۔ سچی بات ہے میرے منہ سے بے اختیار نکلا کہ ’’ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کند‘‘ یہ کام سردار عثمان بزدار ہی کر سکتے تھے اور ملتانی صحافیوں کو سردار صاحب کے ہاتھوں ہی ریلیف
مزید پڑھیے


اصلی گل محمد بخشا، وچوں گئی اے مْک

جمعه 12 جون 2020ء
سجا د جہانیہ
اب کے بار گرمی کو تاخیر ہوئی. ملتان کا روائتی موسم جون کے دوسرے ہفتے یہاں پہنچا. چمکیلی دوپہریں، بھاپ کی سی ہوائیں، سلگتی سہ پہریں، بجھ چکی آگ کی بچی کھچی چنگاریوں پر چڑھی راکھ کی سی حدت چھوڑتی شامیں اور نرم گرم ٹکور کرتی فضا والی راتیں. یہی تو حسن ہے ہمارے خطے کا اور اس شہرِ قدیم کا. ان دوپہروں، سہ پہروں، شاموں اور راتوں سے شناسائی بہت پرانی ہے. تب سے ہی جب سے ہوش کی آنکھ کھولی. یہی شہرِ قدیم تھا، جس کی پہچان میں گرد، گدا اور گورستان کے ساتھ ساتھ امیر خسرو نے
مزید پڑھیے


ایویں مار نہ شاکر قسطاں وچ

جمعه 05 جون 2020ء
سجا د جہانیہ
عجیب زمانہ ملا ہے ہمیں جینے کو۔ اطلاعات ہیں کہ مینہ کی طرح برستی ہیں۔ اب کس کس خبر کی تحقیق کی جائے کہ سچ ہے یا جھوٹ۔ سچ یہ ہے کہ جھوٹ بھی جب کانوں سے ٹکراتا ہے تو سننے والے پر اثرات بہرحال مرتب کرتا ہے۔ بہرحال انفرمیشن کا یہ برستا پانی جب خوف اور اندیشوں کی آنچ پر کھولتا ہے تو عجیب عجیب خیالوں کی بھاپ اٹھ کر حواس کو گھیرنے لگتی ہے۔ کیا بنی آدم کا سفر اب ختم ہوجانے کو ہے؟ اختتام قریب آن لگا ہے کیا؟ کیسی ویراں زمیں ملی تھی ہمیں، صحرا،
مزید پڑھیے