Common frontend top

سجا د جہانیہ


اپنا اپنا دن


ایک ایرانی لوک کہانی ہے۔کسی بادشاہ نے ایک عالم سے کہا کہ میرے لئے دنیا کی تاریخ لکھو، آغاز سے اب تک۔ شاہی حکم تھا، عالم نے دس سال تک دن رات ایک کر دئیے اور دنیا کی تاریخ پر دفتر کے دفتر رقم کر دئیے۔ دس اونٹوں پر یہ کتابیں بار ہوئیں اور عالم انہیں لے کر دربار میں حاضر ہوا۔ بادشاہ نے عالم کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی یہ عذر بھی پیش کیا کہ میرے پاس امورِ شاہی سے فراغت کے بعد اتنا وقت نہیں بچتا کہ یہ ڈھیر ساری کتابیں پڑھ سکوں، ممکن ہو تو
پیر 15 جولائی 2024ء مزید پڑھیے

زندگی اے زندگی…!!

اتوار 30 جون 2024ء
سجا د جہانیہ
زندگی کیا ہے اور کیوں ہے؟ یہ سوال اسی دن سے انسان کو پریشان کئے ہوئے ہے جب سے اس نے سوچنا شروع کیا ۔سوچ کا مرحلہ انسانی تاریخ میں بہت دیر سے شروع ہوا۔ جب آگ دریافت ہوگئی اورآگ پر پکی نرم غذائیں ملنے پر انسان کی مشقت میں کمی آئی تو اس نے سوچنا شروع کیا۔ جب فطرت کے جبر اور اپنے سر کے بیچ انسان نے چھت بنالی تو موسموں کی شدت سے محفوظ ہو کر اس نے سوچنا شروع کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کچے گوشت سے آگ پر بھنے ہوئے گوشت، درخت سے اتر
مزید پڑھیے


محکمہ ڈاک: خوگرِ حمد کا گِلہ

هفته 29 اپریل 2023ء
سجا د جہانیہ
خط میں بسی خوشبو‘ پیغامات کے امین لیٹر باکسوں اور ڈاک بابو کے سائیکل کی گھنٹی کے ساتھ بچپن‘ لڑکپن اور جوانی کا ایک رومانس وابستہ ہے جس کی بنا پر میں خط‘ ڈاک خانوں‘ ڈاک بابوئوں اور لیٹر باکسوں کی گم ہوتی لالی کی شان میںرطب اللسان رہا کرتا ہوں لیکن شائد محکمہ ڈاک والے اپنے بنیادی کام یعنی ڈاک کی ترسیل سے توبہ تائب ہوچکے ہیں۔ مستقبل قریب میں بنک اور انشورنس کمپنی کے طور پر تو ڈاک خانوں کا وجود شاید قائم رہے‘ ڈاک کی منزلِ مقصود تک ترسیل کے حوالے سے ان کا اعتبار تیزی سے
مزید پڑھیے


لوگ کہتے تھے عید کارڈ اسے…!!

جمعرات 20 اپریل 2023ء
سجا د جہانیہ
شرقاً غرباً لیٹی ہوئی ایک سڑک ہے جو شہر کے قدیمی بوہڑ دروازے کی قدموں سے پھوٹتی ہے اور چھائونی کی طرف نکل جاتی ہے۔ اسی سڑک پر ایک بچے کھچے مگر تیزی سے اجڑتے سینما گھر کے سامنے وہ وسیع عمارت ہے، ایک مستطیل جو اپنے طول میں سڑک کے ساتھ ساتھ چلی گئی ہے۔ جنوبی ضلع پر تعمیرات میں جبکہ شمالی جانب بڑا سبزہ زار ہے۔ عمارت میں بہت سے کمرے ہیں اور کچھ چھوٹے بڑے ہال۔ عمارت کے ماتھے پر بیچوں بیچ ایک مرکزی ہال ہے جس میں بہت سے کائونٹر ہیں ۔ بائیسواں روزہ ہے، میرا تخیل
مزید پڑھیے


خوشی

بدھ 12 اپریل 2023ء
سجا د جہانیہ
خوشی کس شئے کا نام ہے؟ یہ کہیں انسانی جسم کے اندر قیام رکھتی ہے یا اس کا تعلق خارج سے ہے؟ خوشی کا کوئی مستقل وجود ہے یا بس ایک وقتی احساس ہے اور واہمہ ؟ پیہم پچاس برس کی جستجو کے بعد آخری وعظ میں گو تم نے اپنی تلاش کا جو خلاصہ بتایا، اسے ڈاکٹر اسلم انصاری نے یوں نظم کیا ’’میرے عزیزو/میں دْکھ اٹھا کر/حیات کی رمزِ آخریں کو سمجھ گیا ہوں/تمام دْکھ ہے/وجود دْکھ ہے/وجودکی یہ نمود دکھ ہے/حیات دْکھ ہے/ممات دْکھ ہے/یہ ساری موہوم و بے نشاں کائنات دْکھ ہے/شعور کیا ہے؟/اک التزامِ وجود
مزید پڑھیے



عبادت

بدھ 05 اکتوبر 2022ء
سجا د جہانیہ
میں جس کمرے میں بیٹھا یہ سطریں لکھتا ہوں وہاں جنوبی دیوار کے ساتھ کتابوں کی شیلف تلے ایک براؤن رنگ کا صوفہ پڑا ہے۔ اس کی پشت پر براؤن رنگ کی ایک جانماز تہ کی رکھی ہے اور اس کے اوپر ایک ہرے اور گلابی پرنٹ والا دوپٹہ۔ جانماز اور دوپٹہ کل رات سے یہیں پڑے ہیں۔ شبِ گذشتہ، دس بجے سے کچھ وقت اوپر تھا جب زہرا نے عشا پڑھ کے یہ جانماز اور دوپٹہ یہاں ڈال دئیے تھے۔ ہمارے گھر میں زہرا جیسا پکا نمازی اور کوئی نہیں۔ بہت سال پہلے شاید آٹھویں کے امتحان تھے جب اس
مزید پڑھیے


جامعہ عباسیہ سے جامعہ اسلامیہ تک

بدھ 28  ستمبر 2022ء
سجا د جہانیہ
کبھی وہاں نواب رہتے تھے۔ محلات اور دربار آباد تھے جہاں علوم و فنون کی سرپرستی ہواکرتی تھی۔ یہ ذکر ہے بہاول پور کا۔ ستلج کے فروخت ہوکر روٹھ چکے پانیوں کے پڑوس میں اور خواجہ فرید کی روہی کے کنارے بستا شہر بہاول پور۔جب یہ شہر ریاست کا پایۂ تخت تھا تو ابوالاثر حفیظ جالندھری جیسے نابغہ اس کے دربار سے وابستہ تھے۔ نواب صاحبان علم کے متلاشیوں کی سرپرستی کرتے تھے۔ ماحول پر اسلامی جھلک غالب تھی۔ ڈاکٹر مہر عبدالحق نے اپنی سوانح عمری ’’ جو ہم پہ گزری‘‘ میں لکھا ہے کہ جب انیس سو تیس
مزید پڑھیے


تنہائی

منگل 20  ستمبر 2022ء
سجا د جہانیہ
سہہ پہر ڈھل گئی اور دن نے چوتھے پہر میں قدم دھر دیا تو میری آنکھوں، ماتھے اور سر میں تھکن کی ٹیسیں بہت بڑھ گئیں۔چنانچہ میں نے فون کو بیڈ پر اچھال دیا، نظر کی عینک اتار کر ہاتھوں سے آنکھوں کو سہلایا اور باہر لان میں آگیا۔ چارپائی پر چِت لیٹ کر آنکھیں موندلیں۔ سوچا کہ اب کچھ دیر یا تو آنکھیں بند رکھوں گا اور اگر کھولیں تو بس فطرت کو دیکھوں گا۔ نیچر کو نیچر کے حوالے کردوں گا، وہ جو ازل کے ساتھی ہیں۔دوپیروں پر چلنے والا ہومو سیپئن جب بھی پہلی دفعہ زمین کے
مزید پڑھیے


اساں وَل آونڑا کوئی نئیں

بدھ 24  اگست 2022ء
سجا د جہانیہ
کل سے مجھے نظیر اکبر آبادی کا یہ شعر بے طرح یاد آرہا ہے۔ یوں جانئے کہ اس کے مفاہیم ہی کچھ کل سے آشکار ہوئے ہیں۔ جتنے سخن ہیں‘ سب میں یہی ہے سخن درست اللہ آبرو سے رکھے اور تندرست غالب گوکہ یگانہ روزگار شاعر تھا مگر کسی شدید نوعیت کی بیماری سے اُس کا واسطہ تازیست نہ پڑا۔ وہ تو بس عمر بھر عسرت و تنگدستی سے پنجہ آزمارہا۔تنگدستی بھی بری شے ہے مگر صاحب! صحت بڑی نعمت ہے۔ پیر کی انگشتِ نر سے لے کر، سر کے بالوں تک اگر آپ کے جسم کا کوئی عضو تکلیف میں مبتلا
مزید پڑھیے


دْم، پاؤں اور لوک دانش

هفته 13  اگست 2022ء
سجا د جہانیہ
بارہویں شب کا چاند آسمان پر تیرتی سفید رنگ کی چھوٹی چھوٹی آوارہ بدلیوں سے کھیل رہا تھا۔ اگست کا حبس فضا کا دَم گھونٹے ہوا تھا اور ہوا بھی دم بخود تھی۔ میرے بدن کا پور پور پسینہ اگلتا تھا اور کانوں میں مہدی حسن، فراز کی غزل کا یہ شعر الاپ رہے تھے "پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو.. رسم و راہِ دنیا ہی نبھانے کے لئے آ" میرا خیال اور توجہ مہدی حسن کے سَروں کے پیچ و خم میں الجھے ہوئے تھے کہ یک بہ یک جیسے بھونچال آگیا. کوئی
مزید پڑھیے








اہم خبریں