BN

سجا د جہانیہ


دائرے میں گھومتی کامیابی


ایک دائرہ ہے‘ کولہو یا خراس میں جتے بیل کے چلنے والے راستے جیسا۔ اگر مہلت میسر ہو تو دائرہ تمام کرو اور وہیں پہنچ جائو جہاں سے چلے تھے۔ اگر جو چکر پورا کرنے کا موقع نہ ملے تو وہیں راستے میں کہیں ڈھے جائو اور وقت کے دھارے سے باہر جاپڑو۔ اسی کا نام زندگی ہے‘ دائرے میں کیا جانے والا پینڈا۔ پرکاربند ہوتودونوں بازو باہم جڑے ہوتے ہیں۔ پرکار کھولتے چلے جائیے‘ بازئوں میں دوری بڑھتی جائے گی مگر تین سو ساٹھ ڈگری کاز اویہ گھوم کر دونوں بازو پھر سے آن ملیں گے۔ سورۃ النحل کی
پیر 16 مارچ 2020ء

اے عورت تیرا شکریہ

اتوار 08 مارچ 2020ء
سجا د جہانیہ
بہت دنوں کا ذکر ہے جہانیاں شہر کے مغربی حاشئے پر بچھی ریلوے لائن سے پرے چک نمبر ایک سو تیرہ دس آر میں سرداراں بی بی رہا کرتی تھی. امرتسر کے نواحی گائوں میں پیدا ہونے والی جٹی اور میری دادی۔ بائیس برس ہوتے ہیں زمین اوڑھ چکیں۔ چھوٹا تھا تو ہم ہر ہفتے ابا جی کے ساتھ اپنے چک جایا کرتے تھے۔ دادی کو پتہ ہوتا کہ آج میرے شہر والے پوتے آرہے ہیں چناں چہ بستر کے نیچے، دیوار کے ساتھ ساتھ قدآدم سے اوپر بنی پرچھتیوں میں کسی برتن کی ڈھانپ تلے یا پھر اْس کچے
مزید پڑھیے


چنے کی پلیٹ اور دو روٹیاں

جمعرات 20 فروری 2020ء
سجا د جہانیہ
سویرے سویرے طبیعت مکدّر ہوگئی تھی اور بوجھل بھی‘ پچھتاوے اور موقع گنوا دینے کے احساس سے بوجھل۔ سچ ہے کہ کوئی بھی سعادت زورِ بازو کے بل پر نہیں پائی جاسکتی۔ سعد گھڑی تو مقدر کے ذیل میں آتی ہے۔ کوشش اور تردّد کے باوجود بھی بسا اوقات نہیں ملتی اور نصیب ہو تو جھولی میں آن پڑتی ہے۔ پسِ منظر اس تمہید کا یوں ہے کہ ہفتے‘ دو ہفتے بعد کبھی کبھی بازار کا ناشتہ کرنے کو دل چاہتا ہے۔ مسلم سکول والا جیرا تو اب نہیں رہا اور نہ ہی میرا ساتھی ندیم کہ جو ہر
مزید پڑھیے


رستے پہ ظلم و جور کے چلنے لگے ہیں ہم

جمعرات 13 فروری 2020ء
سجا د جہانیہ
یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو فروری کی بارہویں سویر ہے اور بدھ کا دن۔ میرے سامنے نو دس اخبار پڑے ہیں اور سبھی کے صفحہ اول پر ایک خبر تین تین، چار چار کالم کے چوکھٹوں میں نمایاں کی گئی ہے’’مظفرگڑھ: زیر تعمیر عمارت زمین بوس،8 افراد جاں بحق، 5 کی حالت تشویش ناک‘‘۔ اس سرخی کے ذیل میں تفصیل ایک ہی ہے۔ تفصیل ہی کیا‘ حروف اور جملوں کی نشست وبرخاست بھی ایک. مضافات سے جو خبریں آتی ہیں‘ ایسی ہی ہوا کرتی ہیں۔ ہر ضلعی ہیڈکوارٹر میں دو دو تین تین پریس کلب، ہر پریس کلب کے
مزید پڑھیے


بندہ‘ بندے دا دارو (2)

جمعرات 06 فروری 2020ء
سجا د جہانیہ
کالم کا سرنامہ پڑھ کر شائد آپ کو یاد آجائے کہ پچھلی سے پچھلی جمعرات میں نے اسی عنوان کا ایک کالم ادھورا چھورڑدیا تھا اور عرض کیا تھا کہ کالم کے دامن پر دست یاب جگہ تمام ہوئی سو باقی باتیں پھر۔ یہ کالم اُسی ’’پھر‘‘ کی تفسیر ہے‘ لکھا تھا کہ اس گئے گزرے زمانے میں بھی کہ جس میں روایت و احساس کی موت کا ہمہ وقت رونا رویا جاتا ہے‘ اب بھی انسان‘ انسان کے قریب رہنا چاہتا ہے۔ اپنے ہم جنسوں کا قرب اور اجتماع اسے خوشی اور آسودگی فراہم کرتا ہے۔ بھاجی پرویز بڑا
مزید پڑھیے



درد اور برداشت

جمعرات 30 جنوری 2020ء
سجا د جہانیہ
الحمداللہ!عمر کا غالب حصہ آسودگی کی حالت میں گزرا ہے‘ تاہم کون ہے کہ جس کی زندگی تکلیفوں سے بالکل ہی خالی ہو مگر آپ یقین کیجئے‘ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ درد میں اس قدر شدت بھی ہوسکتی ہے!! سیانوں نے کہا ہے کہ انسان، روح اور جسم کا مرکب ہے۔ ہوتا ہوگا جی مگر اُس وقت اذیت جس حد کو چھوگئی تھی‘ دل کرتا تھا کہ یہ دونوں الگ الگ ہوجائیں، کسی ایک کوتو سکون میسر ہو ۔ یہ نہیں کہ زندگی میں کبھی کسی تکلیف کا شکار نہیں ہوا۔ کئی مواقع روحانی، جسمانی تکلیف کے ایسے گزرے
مزید پڑھیے


بندہ ‘ بندے دا دارو

جمعرات 23 جنوری 2020ء
سجا د جہانیہ
دل کی نگری اداسی کے جھکڑوں کی زد میں ہے اور اکیلے پن کے احساس سے بوجھل گرد یہاں سے وہاں اُڑتی ہے۔ جیسے کسی بھرے پُرے تھیٹر میں تماشا ختم ہوجانے کے بعد بھائیں بھائیں کرتے اندھیرے ہال میں خالی کرسیوں کے درمیان آپ تنہا رہ گئے ہوں۔ سچی بات یہ ہے کہ اِس گئے گزرے زمانے میں بھی کہ جس میں روایت و احساس کی موت کا ہمہ وقت رو نا رویا جاتا ہے‘ انسان انسان کے قریب رہنا چاہتا ہے۔ اپنے ہم جنسوں کا قرب اور اجتماع اسے خوشی اور آسودگی فراہم کرتا ہے۔ پچھلے چار پانچ
مزید پڑھیے


ڈپریشن

جمعرات 16 جنوری 2020ء
سجا د جہانیہ
کچھ لوگ ڈپریشن کا گٹھڑ ہر وقت کمر پر لادے اس تلاش میں رہتے ہیں کہ کہاں کوئی ملے اور وہ اپنی گانٹھ اس کے سر رکھیں۔ میرے جاننے والوں میں بھی کچھ ایسے ہیں۔ انہی میں سے ایک کا فون میں دو تین دن سے اٹینڈ نہیں کر رہا تھا۔ آج سویرے تیار ہوکر دفتر کو نکلنے لگا تو ڈور بیل بجی۔ دروازہ جو کھولا تو آگے وہی صاحب کھڑے تھے۔چہرے پر پریشانی کی بھوت ناچتے تھے۔ نہ سلام نہ دعا، نہ حال نہ احوال۔ چھوٹتے ہی بولے ’’یار وہ الو کا پٹھا مزارع پیسے نہیں بھیج رہا۔ اب
مزید پڑھیے


آج پیمانے ہٹا دو یارو

جمعرات 09 جنوری 2020ء
سجا د جہانیہ
یہ انتہائیں مل کیوں جاتی ہیں؟ مجاز اور حقیقت کی تلواریں کبھی ایک ہی میان میں کیونکر سما جاتی ہیں؟ کیا سبھی راستے ایک ہے سمت کو جاتے ہیں؟ اور شَش جہت کسی افسانوی مجموعے کا نام ہے کیا؟ انسان کے پھسلانے کو، بہکانے کو گھمن گھیریاں ہیں سب؟ انالحق کا نعرہ مستانہ دہن سے نکلوا کر‘ دار تک لے جانے کے بہانے۔۔؟ وہ الجھا ہوا تھا، پریشان اور کنفیوز سا۔ کہنے لگا ’’یار یہ گناہ کے عمل کا آئینہ، نیت کی شعاعوں کو نیکی کی سمت کیسے موڑ دیتا ہے؟ ‘‘کچھ دیر میز کی سطح پر نظریں گاڑے وہ دائیں
مزید پڑھیے


ننکانہ کی شامِ مزاح

جمعرات 02 جنوری 2020ء
سجا د جہانیہ
نئے سال کا پہلا کالم ہے مگر ہم باتیں پچھلے برس کی ہی کریں گے۔نئے سال میں نیا کچھ ہے بھی تو نہیں کہ جس پر بات کی جائے۔ موسم کی وہی شدت اور وہی گیس کی تعطیل۔ انرجی سیور سے بھی کم واٹ کے ایل ای ڈی بلب اور بجلی کا بل پھر بھی آٹھ سے دس ہزار۔ اکتیس دسمبر کی شب جو کمینگی، خباثت اور دوسرے کی گردن پر پیر رکھ کر آگے اور آگے جانے کے جذبات دل میں لے کر سویا تھا، جنوری کی پہلی سویر اٹھا ہوں تو ہنوز میری فکر و سوچ انہی
مزید پڑھیے