BN

سعدیہ قریشی


ڈاکٹر صفدر محمود اور طارق اسماعیل ساگر: دو عظیم سچے پاکستانی


ڈاکٹر صفدر محمود کی وفات ایک عظیم پاکستانی کی رخصتی ہے۔ میری ان سے پہلی ملاقات ارشاد احمد حقانی کے آفس میں ہوئی۔ اب وہ زمانہ خواب لگتا ہے حقانی صاحب بھی چلے گئے، ڈاکٹر صفدر محمود بھی رخصت ہوئے۔ ڈاکٹر صفدر محمود ایک ممتاز مورخ اور محقق تھے،درس و تدریس سے بھی وابستہ رہے ، سول سروس میں بھی اعلی عہدوں پر فائز رہے اور کالم بھی لکھتے رہے۔ انہیںیونیسکو کے عالمی ایجوکیشن کمیشن کے نائب صدر منتخب ہونے کا اعزاز ملا اور وہ برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں وزٹنگ پروفیسر کے طور پر لیکچر دیتے رہے ۔کم و بیش
جمعه 17  ستمبر 2021ء مزید پڑھیے

بارش کا آسمانی جادو

اتوار 12  ستمبر 2021ء
سعدیہ قریشی
دو دن سے چھاجوں مینہ برس رہا ہے ۔کل اور آج تو آنکھ بھی بارش کی جلترنگ سے کھلی۔مسلسل اور متواتر‘تابڑ توڑ بارش کی یلغار نے پوری فضا کو ایک بارشیلے شور سے بھر رکھا تھا۔بارش ہو تو مجھے قدرت کے رومانس میں ڈوبے ہوئے چائے‘سما وار اور درختوں کے عاشق‘نثر میں شاعری کرنے والے پسندیدہ مصنف اے حمید ضرور یاد آتے ہیں۔ ان کی وفات کے بعد ان کی اہلیہ نے اپنے لکھاری شوہر کے بارے ایک مضمون لکھا تھا۔انہوںنے لکھا کہ بارش ہوتی تو اے حمید دیوانے ہو جاتے‘رات کے کسی پہر بارش کی آواز انہیں نیند سے بیدار
مزید پڑھیے


افغان شاعرات:نظموں کے مصرعے ہیں کہ اداسی کے تیز نشتر!

جمعه 10  ستمبر 2021ء
سعدیہ قریشی
گزشتہ کالم میں‘golden needleسکول کا تذکرہ ہوا تھا جو افغانستان کے تیسرے بڑے شہر ہرات میں طالبان کے پہلے دور حکومت میں قائم ہوا تھا۔جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ بظاہر لڑکیوں کے سلائی کڑھائی سکھانے کا مرکز تھا مگر درحقیقت شعر و ادب کی شائق‘افغان لڑکیاں اپنے ادبی اور تخلیقی شعور کی تربیت کے لئے یہاں داخلہ لیتی تھیں۔ادب پڑھانے کے لئے یہاں باقاعد ایک استاد بھی تعینات کیے گئے تھے۔ کپڑوں پر پھول بوٹے کاڑھتی ہوئی لڑکیاں اپنی نظمیں ایک دوسرے کو سناتیں، انہیں میں افغانستان کی مشہور شاعرہ نادیہ انجمن بھی شامل تھی۔جس کی عمر اس وقت
مزید پڑھیے


جنگ زدہ افغان پہاڑوں سے پھوٹتا شعر وادب کا نغمہ!

اتوار 05  ستمبر 2021ء
سعدیہ قریشی
محترم ڈاکٹر معین نظامی نے فیس بک پر ایک افغانی شاعر کے درد انگیز اشعار پوسٹ کیے، ہر سطر میں گزشتہ 20 برسوں میں جنگ کی حالت میں گزر جانے والی ان کہی قیامتوں کی بے شمار داستانیں رقم تھیں۔یہ اشعار فارسی میں ہیں،ڈاکٹر صاحب نے کمال مہربانی سے اردو ترجمہ کے ساتھ انہیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا، جسے مجھ جیسے فارسی سے نا بلد افراد کا بھلا ہوا۔فارسی کے ان اشعار کو بمعہ ترجمہ کالم کا حصہ بناتے ہیں۔ان اشعار کو آپ اپنے آنسوؤں میں ڈوبے بغیر نہیں پڑھ سکتے۔ یہ اشعار نوجوان افغانی شاعر ضیا قاسمی کے
مزید پڑھیے


سید علی گیلانی: ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

جمعه 03  ستمبر 2021ء
سعدیہ قریشی
سید علی گیلانی ایک شخص کا نام نہیں، ظلم و استبداد کے مقابل مزاحمت کی ایک تحریک کا بامعنی استعارہ ہے، وہ ایک شخص نہیں بلکہ جدوجہد آزادی کے ایک پورے عہد کا نام ہے۔ سید علی گیلانی بہادری اور استقامت کا کا وہ روشن نام ہیں، جس کا ذکر داستانوں میں ملے گا مائیں اپنے بچوں کو جس کی بہادری کے قصے سنایا کریں گی، علم اور جبر کے سامنے جب بھی مسلسل اور مستقل مزاحمت کا ذکر ہوگا، تو آنے والی نسلوں کو سید علی گیلانی کی یاد آئے گی۔ 92سال کے سید علی گیلانی کارزارِ حیات
مزید پڑھیے



کیا17مزدوروں کی موت قابل توجہ سانحہ نہیں؟

بدھ 01  ستمبر 2021ء
سعدیہ قریشی
کراچی میں 17 مزدور فیکٹری میں لگنے والی آگ میں سوکھی لکڑیوں کی طرح جل کر راکھ ہوگئے۔یہ حادثہ ریگولر میڈیا سے لے کر سوشل میڈیا تک اور حکومتی ایوانوں سے لے کر کاروباری اداروں تک کسی فکر انگیز بحث کا موضوع نہیں بنا جس میں ورک پلیس پر مزدوروں کی زندگی کی حفاظت کو یقینی بنانے والے لیبر قوانین کو ہر صورت نافذ کرنے کا مطالبہ کیا جاتا۔یہ معاملہ سنگین تشویش کا ہے کہ وطن عزیز میں مزدور کی جان کی کوئی وقعت نہیں ہے۔مزدوروں کی زندگی اتنی ارزاں ہے کہ درجنوں کی تعداد میں رک پلیس پر
مزید پڑھیے


یہ ہے تین سالہ کارکردگی۔۔!

اتوار 29  اگست 2021ء
سعدیہ قریشی
گورا ٹھیک ہی کہتا ہے: governments are supposed to lie to their citizens. حقیقت بھی یہی ہے کہ حکمرانوں کو جھوٹ بولنے کا وائرس ہمیشہ سے ہی لاحق ہوتا ہے۔ہر حکومت عوام کے ٹیکسوں کے قیمتی پیسے سے اپنی اس کارکردگی کا ڈھول پیٹتی نظر آئی ہے،جو عوام کو کبھی دکھائی ہی نہیں دی۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جھوٹ کے وائرس کا جوvariant تحریک انصاف کی حکومت کو لاحق ہے وہ زیادہ خطرناک اور تشویش کا باعث ہے۔ جس طرح تین سال مکمل ہونے پر چشم طرب بپا کیا گیا،اس پر صرف حیرت ہی ہوسکتی ہے۔اس جشن طرب میںعوام کے
مزید پڑھیے


سوشل میڈیا کی نفسیات اور ڈیجیٹل ڈی ٹاکس

جمعه 27  اگست 2021ء
سعدیہ قریشی
آسٹریلیا کی ایک یونیورسٹی نے سوشل میڈیا کی ویب سائٹ پر ٹرول کرنے والے یعنی دوسروں کو اپنے سخت اور زہریلے الفاظ کے ساتھ اذیت دینے والے افراد کی نفسیات کا تجزیہ کیا۔جو حقائق سامنے آئے وہ حیران کن تھے۔ آن لائن دوسروں کو اپنے الفاظ سے اذیت دینے والے افراد نے کہا کہ وہ آف لائن یہ مز اج نہیں رکھتے لیکن آن لائن انہیں ایسا کر کے خوشی ملتی ہے کیونکہ جب سامنے کوئی جسمانی طور پر موجود نہیں ہوتا تو ایسا کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ایک ٹرولر نے کہا کہ مجھے اجنبی افراد کو ٹرول کر کے
مزید پڑھیے


سوشل میڈیا کی نفسیات

بدھ 25  اگست 2021ء
سعدیہ قریشی
ایک بڑے شاپنگ مال میں بچوں کے لیے بھی کیھلنے کا بندوبست تھا۔ میرا یبٹا ایک کھیل کو دیکھ کر اس کی طرف لپکا‘ کھیل کو کنڈیکٹ کرنے والے نے بچے کی آنکھوں میں خول نما عینک چڑھائی جس میں شیشوں کی جگہ سکرین لگی ہوئی تھی۔ جوتے اتروا کر اسے اپنے خاص پھسلنے والے جوتے پہنا دیئے۔ ہاتھوں میں دو بندوق نما چیزیں دے کر ایک ماڈرن اکھاڑے میں اتار دیا۔ اب اگلے دس منٹ تک دانیال جو حرکتیں کرتا رہا وہ بہت مضحکہ خیز تھیں‘ ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ کسی خیالی دشمن سے لڑ رہا ہے۔ گیم
مزید پڑھیے


اخلاقی زوال اور خوفناک انتظامی نا اہلی

اتوار 22  اگست 2021ء
سعدیہ قریشی
14 اگست کو بے سمت ہجوم کی بد تہذیبی اور ہلڑ بازی بد قسمتی سے اس شہر کی ثقافتی روایت رہی ہے۔شہر کے شریف گھرانوں کے مکینوں کو اگر کسی ضروری کام سے گھر کی خواتین کے ساتھ باہر نکلنا پڑ جائے،تو وہ خود کو ایسے بے امان سمجھتے ہیں گویا کسی دشمن کے علاقے میں موجود ہوں۔لیکن اس بار یوم آزادی کو جو کچھ ہوا وہ اس قدر شرمناک تھا کہ کسی سانحے سے کم نہیں۔ایک طرف تو اخلاقی اقدار کے زوال کی انتہا ہے تو دوسری طرف صوبائی دارالحکومت میں انتظامیہ کی ناقابل بیان کوتاہی اور بروقت کارروائی
مزید پڑھیے








اہم خبریں