BN

سعدیہ قریشی


چیئرمن الخدمت سے گفتگو


غیر منظم سماج کا چہرہ دیکھنا ہو تو اپنے معاشرے کو دیکھ لیں کاموں کو جس ہبڑ دھبڑ طریقوں سے سرانجام دیا جاتا ہے اس کے نتائج بھی سب کے سامنے ہیں۔ سرکاری فائلیں بھرنے کرنے کے لیے بغیر کسی طے شدہ پروگرام کے کام کا آغاز ہو جاتا ہے۔سرکار ہی پر موقوف نہیں ایک عام پاکستانی بھی کسی پلاننگ اور کسی ترتیب پر کم ہی یقین رکھتا ہے یہ رمز اس نے سیکھا ہی نہیں کہ کہ کام چھوٹا ہو یا بڑا نظم اور ترتیب کے سانچے میں ڈھل کر ہی نتیجہ خیز ہوتا ہے۔ اور کام اگر ہو کرڑوں
اتوار 25  ستمبر 2022ء مزید پڑھیے

کون عافیہ۔۔؟؟

جمعه 23  ستمبر 2022ء
سعدیہ قریشی
دوہزار بائیس کے اسی ستمبر کے تیسرے ہفتے کا کوئی دن تھا۔ مسز شارلین کیکورا صبح ساڑھے تین بجے فون کی گھنٹی بجنے سے گہری نیند سے بیدار ہوتی ہیں، فون ہر ہیلو کہتی ہیں تو دوسری طرف لائن پر۔ کوئی اور نہیں امریکی صدر جو بائیڈن ہیں جو مسز شارلین کو خوشخبری دیتے ہیں آپ کے بھائی کی رہائی کی کوششیں کامیاب ہوچکیں وہ جلد آپ سے آن ملے گا۔اگلے دو دن امریکی میڈیا میں مسز شارلین کے ایکسکلوزیو انٹرویوز اور سٹوریز چلنے لگتی ہیں۔کہانی کیا ہے اس کے پس منظر میں جھانکتے ہیں۔چند دن پہلے عالمی میڈیا میں
مزید پڑھیے


حکمران ہیں کہ پتھر کے بت۔۔؟

بدھ 21  ستمبر 2022ء
سعدیہ قریشی
پاکستان میں امور مملکت کی ابتر صورت دیکھ کر کرسٹینا لیمب کی کتاب ویٹنگ فار اللہ یاد آجاتی ہے ۔ برطانوی صحافی کرسٹینا لیمب اس وقت 21برس کی تھی جب پاکستان آئی اور ایک سال یہاں قیام کیا. محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان میں مارشل لاء کے طویل دور کے بعد اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم کا حلف اٹھا چکی تھی۔یہ 1989،کا سال تھا جب فنانشل ٹائمز سے وابستہ کرسٹینا پاکستان آئی ۔ اس نے پاکستان میں مقتدرہ کی مداخلت، سیاسی عدم استحکام کمزور ادارے، ناقص پالیسیوں، بیوروکریسی کے سرخ فیتے اور اداروں میں نا انصافی کے ماحول
مزید پڑھیے


میں کتاب کیسے منتخب کرتی ہوں ؟

اتوار 18  ستمبر 2022ء
سعدیہ قریشی
میں اس روز طویل رخصت سے پہلے دفتر میں اپنی چیزوں کو وائنڈاپ کر رہی تھی۔چیزیں کیا تھیں کچھ ادھوری اسائنمنٹس ، چند ایسے چنیدہ مضامین سے بھری ہوئی فائلیں تھیں جنہیں ایک بار نظر سے گزار کر فرصت میں دوبارہ پڑھنے کے لیے سنبھالا ہوا تھا۔ دفتری کرسی کے ایک طرف پڑے ریک میں کتابوں کے ڈھیر تھے۔ شعری مجموعے اور فکشن کی کتابیں تھیں جو آنے جانے والے شاعروں ادیبوں نے دی تھیں۔ کچھ پڑھے اور ان پڑھے خطوں کا انبار تھا۔خواہشں تھی کہ ناپڑھے خطوط کو بھی کھول کر جستہ جستہ پڑھ لیا جائے۔تاکہ لکھنے والے قارئین
مزید پڑھیے


بچے اور ہم نا سمجھ بڑے !

جمعه 16  ستمبر 2022ء
سعدیہ قریشی
ہم بڑے بچوں کو سنجیدہ نہیں لیتے بلکہ بچوں کو اپنا دل بہلانے کا کھلونا سمجھتے ہیں۔ اب یہ ہمارے دل کی مرضی کی وہ کیسے بہلنا چاہے ،کبھی آپ نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ کچھ لوگ بچوں کی پھولی ہوئی گالوں کو کھینچ کھینچ کر خوش ہوتے ہیں بچے ان کے اس عمل پر احتجاج کرتے ہوئے بھلے رونا شروع کر دیں مجال ہے کہ وہ باز آئیں۔ آس پاس کے کچھ نا سمجھ بڑے بھی یہی خیال کر رہے ہوتے ہیں کہ چچا ماموں خالہ پھوپھی کا یہ بچے سے لاڈ کا طریقہ ہے مگر ہم ایسے لاڈ
مزید پڑھیے



یہ سلسلہ کہاں رکے گا ؟

بدھ 14  ستمبر 2022ء
سعدیہ قریشی
حکومتیں وہ ہوتی ہیں جن کے پاس اپنے عوام کی خوشحالی کے لئے کوئی لائحہ عمل ،کوئی پروگرام ہو ۔ہماری حکومتوں کے پاس سوائے آئی ایم ایف کے کوئی پروگرام نہیں ہوتا اور آئی ایم ایف کا ایجنڈا تیسری دنیا کے ملکوں کو دیوالیہ کرنے کے علاوہ کیا ہے۔ اس وقت ملک میں کئی محاذ کھلے ہوئے ہیں۔ خیبرپختونخوا سے لے کر بلوچستان تک سیلاب کی تباہ کاریاں ہیں۔لاکھوں لوگ بھوکے پیاسے امداد اور کسی منظم امداد کے منتظر ہیں۔ ان لوگوں تک امداد بھی طریقے سے نہیں پہنچ رہی۔ سیلاب میں فصلیں تباہ ہونے سے پیاز ،ٹماٹر اور سبزیوں کی
مزید پڑھیے


سیلاب زدگان نہیں۔۔۔جمہوریت زدگان!

اتوار 11  ستمبر 2022ء
سعدیہ قریشی
سوا تین کروڑ پاکستانی اس عالم میں ہیں کہ پاؤں کے نیچے زمین نہیں اور سر پر تنا آسمان مہربان نہیں اور قیامت کیا ہوگی؟ سیلاب متاثرین اور سیلاب زدگان یہ اصطلاحیں اب کلی شے بن کہ رہ چکی ہیں ان کی ادائیگی ہمارے اندر احساس کی کوئی رمق بیدار نہیں کرتی۔کہ ہم ایک لمحے کے لیے اپنے احساس کو یکسو کرکے سوچیں کہ کھلے آسمان کے تلے بیٹھے یہ لوگ بھی کبھی گھر بار رکھتے تھے۔ ان کے باورچی خانوں سے دھواں اٹھتا تھا، ان کے کمروں میں بساط بھر سامان زیست سجا ہوا تھا۔ ان کے مال
مزید پڑھیے


تین خوبصورت کتابیں

جمعه 09  ستمبر 2022ء
سعدیہ قریشی
سجاد جہانیہ کی کتاب ٹاہلی والا لیٹر باکس ایک دور گم گزشتہ کی بازگشت ہے۔بنیادی طور پر یہ کتاب سجاد جہانیہ کے کالم ہیں مگر ان کی تخلیقی نثر میں گندھے ہوئے کالم اپنی عمر بڑھا کر ایسی کہانیاں بن گئے ہیں جنہیں بار دگر پڑھ کر لطف اٹھایا جاسکتا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ سجاد جہانیہ نے کوئی روگ پال رکھا ہے اور اس روگ کی جڑیں ناسٹیلجیا سے پھوٹتی ہیں۔ٹاہلی والا لیٹربکس اس ناسٹیلجیا کی ایک توانا علامت ہے۔خط لکھنے اور خط کا انتظار کرنے کا وہ سنہرا وقت
مزید پڑھیے


یہ ہیں ہمارے اصل ہیرو

بدھ 07  ستمبر 2022ء
سعدیہ قریشی
یہ انسانیت کے لازوال جذبے سے چھلکتی عزم وہمت کی ناقابل فراموش داستان ہے ۔ کوہ سلیمان میں تمن قیصرانی کی بستیوں میں سیلابی ریلوں نے گھروں کو مٹی گارا کر دیا ،مکین بھوکے پیاسے گھروں کے ملبے پر بیٹھے ریاست کی طرف سے امداد اور مسیحائی کے منتظر تھے۔سرکار تو کیا خبرگیری کرتی ،رضاکارانہ کام کرتی ہوئی کوئی امدادی ٹیم بھی ان تک نہ پہنچ پائی کہ مسلسل بارشوں اور رودکوہی کے سیلابی ریلوں نے اس طرف آنے جانے کے تمام راستے مسدود کر رکھے تھے۔فون کے نیٹ ورک تبا ہ ہوچکے تھے، سو تمن
مزید پڑھیے


مقبولیت کا سونامی

اتوار 04  ستمبر 2022ء
سعدیہ قریشی
ایک طرف دریا کی بپھری لہروں کا سیلاب تباہی کی ناقابل بیان کہانیاں رقم کر تا، غریبوں کی بے بسی کا مذاق اڑاتا , ہمارے گھر بار آنگنوں کو دریا برد کیے جاتا ہے ، دوسری طرف مقبولیت کا دریا بھی کناروں سے باہر سونامی کی صورت اختیار کررہا ہے ۔مجھے ڈر ہے کہ مقبولیت کا یہ سونامی ہمارے سماج کے بچے کھچے اخلاق ،اقدار ، توازن اور برداشت کو بھی بہا کر نہ لے جائے۔ یہ مقبولیت ہی کا خمار ہے کہ خان صاحب اس عظیم انسانی المیے کو نظر انداز کیے جلسوں پر جلسے کیے جا رہے ہیں۔ایک
مزید پڑھیے








اہم خبریں