BN

سعدیہ قریشی


امیداور امکانات کی روشنی


آپ اس کالم کو پڑھیں گے تو میری طرح ضرور سوچنے لگیں گے کہ آپ کو ثاقب اظہر کے بارے میں پہلے کیوں خبر نہ ہوئی۔ میں اس کی کامیابیوں کی وسعت اور خوابوں کی اڑان سے شدید متاثر‘ اس وقت یہی سوچ رہی ہوں۔ وہ خواب سے تعبیر کے سفر کا ایک روشن جگمگاتا ہوا نام ہے لیکن کبھی وہ بھی ایک ایسا دیا تھا جو اپنی لو کو برقرار رکھنے کی تگ و دو میں مصروف رہتا مگر آج وہ امکانات اور امید کی روشنی بانٹ رہا ہے۔ اس کے کارناموں کی فہرست طویل ہے۔ کالم کی تنگ دامانی کے
اتوار 17 جنوری 2021ء

امریکیو!دیکھ لو ہمارے حوصلے

جمعه 15 جنوری 2021ء
سعدیہ قریشی
6جنوری 2021ء کی سہ پہر‘ امریکہ کے پرامن دارالحکومت ‘ واشنگٹن ڈی سی میں ٹرمپ کے بپھرے ہوئے حامیوں نے کیپیٹل ہل پر دھاوا بول کر جو ہنگامہ برپا کیا‘ اس سے امریکی ابھی تک شاک کی کیفیت میں ہیں۔ کیونکہ انہیں سیاسی احتجاج کے ایسے پرتشدد منظر دیکھنے کی قطعی عادت نہیں تھی۔ دوسری بات یہ کہ امریکیوں کے لاشعور میں یہ بات پختہ تھی کہ جو ہنگامہ آرائیاں‘ تشدد اور بدامنی کے منظر وہ آس پاس کے ملکوں میں دیکھتے ہیں وہ امریکہ میں کبھی نہیں ہو سکتے۔ ٹرمپ اور ٹرمپ کے حامیوں کے علاوہ سرکاری انتظامی اہلکاروں سے لے
مزید پڑھیے


 وٹو صاحب 

بدھ 13 جنوری 2021ء
سعدیہ قریشی
صحافت۔میں آغاز کا زمانہ تھا میں اس وقت ایک بڑے میڈیا گروپ سے وابستہ تھی اور وہاں بچوں کے صفحے کے انچارج تھی،انہی دنوں میں میں نے پہلی بار یاسین وٹو صاحب کو دیکھا ،وہ جہاں بیٹھتے لوگ ان کے پاس آ جاتے  پتہ چلا کہ وہ زائچہ بناتے ہیں اور علم الاعداد کے بھی ماہر ہیں ،کچھ روحانیت سے بھی دلچسپی ہے،سچی بات یہ ہے کہ میں ایسے لوگوں سے تھوڑا فاصلے پر رہتی ہوں اور اس میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی تھی کوئی مجھے مستقبل کا حال بتائے۔ایک روز وہ ہمارے کمرے میں بھی اسی طرح گھومتے گھماتے
مزید پڑھیے


’’تری فرقت کے صدمے کم نہ ہوں گے‘‘

اتوار 10 جنوری 2021ء
سعدیہ قریشی
سات راتیں‘ اذیت ناک‘ کرب اور انتظار کی سولی پر گزار کربالآخر شہداء ہزارہ کی میتیں سپرد خاک کردی گئیں۔ایک اطمینان سا دل میں اتر گیا اور آنکھیں چھلک گئیں۔گزشتہ سال دنوں میں کئی بار آنکھیں نم ہوئیں‘ معمولات زندگی نبھاتے ہوئے عجیب بے چینی کا سامنا رہا‘ کبھی نصف شب کے بعد اچانک سے آنکھ کھل جاتی اور ایک ٹیس سی دل میں اٹھتی۔تازہ ترین صورت حال کے لیے ٹی وی آن کر کے دیکھتی تو کربناک احتجاج کا وہی نظر سامنے ہوتا۔ منجمد کردینے و الی سردی‘ میتوں کی قطاریں اور سوگواران‘ رنج‘ تکلیف‘ بے بسی مل کر
مزید پڑھیے


کچی آنکھوں سے جنازے دیکھنا اچھا نہیں!!

جمعه 08 جنوری 2021ء
سعدیہ قریشی
بلوچستان کی سنگلاخ دھرتی پر‘ روح کو تڑپا دینے والا منظر کئی دنوں سے ضبط کے آنسوئوں کی طرح کنار چشم رکا ہوا ہے۔ میرے احساس میں نظم کی یہ سطریں بار بار ابھرتی ہیں اب نہیں ہوتیں دعائیں مستجاب اب کسی ابجد سے زندان ستم کھلتے نہیں سبز سجادوں پر بیٹھی بیبیوں نے جس قدر حرف عبادت یاد تھے۔ پو پھٹے تک انگلیوں پر گن لئے اور دیکھا رحل کے نیچے لہو ہے شیشۂ محفوظ کی مٹی ہے سرخ۔!! نہ جانے اختر حسین جعفری نے ظلم‘ موت اور ماتم کے کون سے ایسے منظر دیکھے تھے کہ نظم کے ان مصرعوں میں ضبط کے
مزید پڑھیے



سانحے دہرائے جا رہے ہیں

بدھ 06 جنوری 2021ء
سعدیہ قریشی
جنوری کا آغاز سانحوں سے بھرا ہوا ہے۔ کچھ سانحات کے درمیان ایک پراسرار سی مماثلت ہے۔ ایسی کہ جسے آپ قطعًا نظر انداز کر کے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ سنا تھا کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے مگر یہاں تو سانحے اور بدترین حادثات بھی اپنے آپ کو دہراتے ہیں۔ نہ کوئی حالات کی رفو گری کرتا ہے نہ کہیں سے بہتری کی آثار دکھائی دیتے ہیں۔ یہ جنوری 2021ء ہے۔ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے کوئلے کی کان میں کام کرنے والے مزدوروں کے لاشے لیے ان کے لواحقین اس یخ بستہ سردی میں دھرنا دیئے بیٹھے
مزید پڑھیے


بات نہیں کہی گئی‘بات نہیں سنی گئی

اتوار 03 جنوری 2021ء
سعدیہ قریشی
کالم لکھنے کے لیے بیٹھی ہوں مگر ذہن میں کوئی خاص موضوع نہیں۔ ایک گہری نامعلوم سی اداسی کی دھند میرے اندر باہر چھائی ہوئی ہے۔ کوئی اداسی کو کیسے صفحے پر اتار سکتا ہے‘ اداسی تو بس محسوس ہوتی ہے‘ اندر تک‘ دور تک۔ کالم لکھنے کے لیے مگر کوئی موضوع درکار ہوتا ہے اور میرے پاس آج کوئی موضوع نہیں۔ سیاست کی چالبازیاں یا سماج میں بکھری ہوئی بدصورتیاں‘ آج لکھنے کو جی نہیں چاہ رہا۔ اسی لیے مجھے لگتا ہے کہ میرے پاس آج لکھنے کو کوئی موضوع نہیں۔ کوئی بات نہیں جو میں اپنے قارئین سے کرنا
مزید پڑھیے


کیونکہ اُمید ’’قرنطینہ‘‘ نہیں ہو سکتی…!!

جمعه 01 جنوری 2021ء
سعدیہ قریشی
2020ء دکھوں سے بوجھل اور خوف سے چھلکتا ہوا سال تھا۔ جو اب سال گزشتہ میں ڈھل گیا۔ اس برس کی دلخراش یادیں‘ ہمارے ذہنوں سے محو نہیں ہو سکیں گی۔ زندگی تاحال وبا کے شکنجوں میں ہے۔ خوف اور بے یقینی کی فضا میں ابھی کمی نہیں آئی۔ مگر نئے سال کی یہ نئی صبح ہے۔ جنوری 2021ء کا آج پہلا دن ہے تو کیوں نہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائیں اور دلوں میں اُمید کی فصل بوئیں۔ وبا اور بے یقینی کے اس تسلسل کے باوجود‘ مجھے نئے برس کی یہ صبح تروتازہ اور نئی نکور لگ رہی ہے۔ بے
مزید پڑھیے


ہم کتنا ایک سال کے اندر بدل گئے…!

بدھ 30 دسمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
صرف ایک دن کی دوری پر، ’سن دو ہزار بیس‘ سال گزشتہ میں ڈھل جائے گا۔ مگر یہ سال محض ایک ’’اور برس‘‘ نہیں تھا، کہ آیا اور گزر گیا۔ اس برس کورونا وائرس کی صورت میں وبا کی جو آندھی چلی اس نے بہت کچھ تلپٹ کر کے رکھ دیا ہے۔ بہت کچھ بدل گیا ہے۔ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کے ایک سیٹ پیٹرن کو اپنی آنکھوں سے بدلتا ہوا دیکھا ہے۔ ہم خود برسوں سے جس زندگی گزارنے کے جن طور طریقوں کو اپنائے ہوئے تھے، وہ بدل کر رہ گئے ہیں۔ انسان انسان کا
مزید پڑھیے


شہر اقتدار میں بے اماں فوڈ رائیڈز

جمعه 25 دسمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
یہ برقی پیغام‘ شہر اقتدار اسلام آباد میں کام کرنے والے ایک ڈیلیوری بوائے کا ہے۔ گزشتہ کالم ’’پیزا کی خوشبو‘ ڈیلیوری بوائے کو بھی آتی ہے‘‘ کی فیڈ بیک کی صورت یہ پیغام ملا تو اسے ہائی لائٹ کرنے کی درخواست بھی کی گئی تھی۔ پہلے پیغام پڑھ لیں۔ ’’اسلام آباد میں ڈاکو‘ غریب فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز کو لوٹنے لگے ہیں۔ اسلام آباد کے ایریاز f-10‘ f-12‘ g-7‘g-8‘ g-10کے سیکٹر میں رات کو گھر گھر کھانا پہنچانے والے فوڈ رائیڈرز ڈاکوئوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ ڈاکو ان کو موٹر سائیکلوں‘ موبائل فون اور نقدی سے محروم کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیے