BN

سعدیہ قریشی



امریکہ سے پہلا کالم


امریکہ سے یہ میرا پہلا کالم ہے۔ اگرچہ خیال یہی تھا کہ جب یکم دسمبر کو ہم واشنگٹن ڈی سی پہنچیں گے تو اگلے روز سے میں اپنا کالم لکھ کر بھیج دوں گی۔ یوں پُرانی روٹین کے مطابق کالم چھپتے رہیں گے۔ خیال یہی تھا کہ امریکہ کے اس سفر میں ہر روز نئے تجربات اور مشاہدات سے گزرتے ہوئے کالم کے لئے موضوع تلاش کرنے کا مرحلہ بھی درپیش نہ ہو گا بلکہ اسی سفر کے تاثرات اور مشاہدات پر کچھ نہ کچھ لکھتی رہوں گی۔ لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس۔ شاید اس لئے کہ جب بہت کچھ
اتوار 09 دسمبر 2018ء

شکستہ آئینوں میں عکس

جمعه 30 نومبر 2018ء
سعدیہ قریشی
روشان فرخ ‘لاہور کی ایک مہنگی اور ماڈرن یونیورسٹی کی طالبہ تھی۔ لباس سے لے کر رہن سہن تک جسے ہم لائف سٹائل کا نام دیتے ہیں۔ اور گھر سے لے کر یونیورسٹی سب کچھ جدید خوشحالی سے لبریز اور روشن خیالی میں لپٹا ہوا اس سارے منظر نامے میں کہیں بھوک‘ بے چارگی‘ اداسی‘ اور افسردگی کی گنجائش تو نہیں نکلتی۔ تو پھر آخر اسے ایسا کیا ہوا کہ منگل کی صبح وہ اپنے گھر سے یونیورسٹی کے لئے تیار ہو کر نکلی ہے اور وہاں جا کر یونیورسٹی کے چوتھے فلور سے نیچے کود جاتی ہے اس کا
مزید پڑھیے


Little Rats

بدھ 28 نومبر 2018ء
سعدیہ قریشی
وہ ابھی شیر خوار ہے۔ ماں کی گود سے باہر اس نے ابھی دنیا کو دیکھا ہی کہاں ہے۔ ہاں مگر اس کم سنی شیر خوارگی میں اس نے اس دنیا کا جبر اور ظلم ضرور سہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے علاقے شوپیاں کے ایک گائوں کی حباّ نثار۔ جس کی عمر ابھی صرف 20ماہ ہے وہ اس وقت کشمیر پر بھارتی ظلم و جبر کا نیا استعارہ ہے۔ کل جب اس کی تصویر میں سٹریم میڈیا اخبارات ٹی وی چینل اور سوشل میڈیا کی لہروں پر چلتی ہوئی گھر گھر پہنچی تو ہر اہل درد نے اپنے دل میں ایک
مزید پڑھیے


شہیدوں کا سفید پوش گھرانہ

اتوار 25 نومبر 2018ء
سعدیہ قریشی
کراچی کے ایک گنجان آباد علاقے میں جہاں گلیاں تنگ و تاریک اور گھر چھوٹے اور خستہ حال ہوتے ہیں۔ وہاں ایک گھر ایسا ہے جو شہیدوں کا گھرانہ کہلاتا ہے اور ہم شاید اس گھر کی عظیم قربانیوں سے بے خبر بھی رہتے کہ کل اس گھر کے ایک بیٹے نے اس وطن پر اپنی جان قربان کی۔ کانسٹیبل محمد عامر خان جو جمعہ کے روز چین کے قونصل خانے پر ہونے والے حملے میں اپنے فرائض کی ادائیگی میں شہید ہوا۔ وہ اس گھر کا بہادر بیٹا تھا۔ اس سے پہلے اس کے بھائی اور بھتیجا بھی مادر
مزید پڑھیے


پروین عاطف اور فہمیدہ ریاض

جمعه 23 نومبر 2018ء
سعدیہ قریشی
پروین عاطف اور فہمیدہ ریاض دونوں ایک دوسرے کے آگے پیچھے ہی عدم کے سفر کو چل دیں۔ چند دن پہلے پروین عاطف کے جانے کی خبر آئی۔ میں ابھی سوچ رہی تھی کہ ان کے حوالے سے اپنے تاثرات لکھوں کہ چند دوسرے موضوعات اس طرف در آئے کہ کالم حالات حاضرہ کی نذر ہو گیا۔فہمیدہ ریاض کے جانے کی خبر تو آج ہی آئی ہے۔ دونوں خواتین پروگریسو‘ لیفٹیسٹ نظریات کی حامل تھیں۔ معاشرے کے مروجہ رسم و رواج اور طور طریقوں سے بغاوت کا عنصر دونوں کی طبیعت میں موجود تھا۔ لیکن اظہار رائے کے لیے پروین عاطف نے
مزید پڑھیے




مدینے سے پلٹے ہوئے ہم لوگ!

بدھ 21 نومبر 2018ء
سعدیہ قریشی
نبی آخرالزمانؐ دنیا کی ظلمتوں کو دور کرنے کے لیے اس عالم رنگ و بود میں بارہ ربیع الاول کو تشریف لائے۔ آج کے دن مبارک محترم، بہار آفرین دن، گھر، آنگن ، گلی محلے، شہر، روشنیوں سے جگمگارہے ہیں۔ عمارتوں، مسجدوں، گھروں پر چراغاں کیا گیا ہے لیکن دلوں کا عالم تو ایک اندھیرے میں ڈوبا ہے۔ دل اور روح کی فضا میں ظلمتوں کا ڈیرہ ہے۔ دل کا عالم یہ ہے کہ وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کے دلوں سے خوف خدا گیا۔ وہ پڑی ہیں روز قیامتیں۔ کہ خیال روز جزا گیا۔ دل میں ہوس کا
مزید پڑھیے


کامیابی کیا ہے؟

اتوار 18 نومبر 2018ء
سعدیہ قریشی
ہم سب زندگی کی ایک دوڑ میں شامل ہیں۔ اور ہم میں سے ہر شخص اس میراتھن کو جیتنا چاہتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم میں سے ہر شخص زندگی میں کامیابی چاہتا ہے۔ وہ طالب علم ہو۔ ڈاکٹر ہو۔ صحافی ہو‘ مزدور ہو‘ ریڑھی بان ہو‘ سیاستدان ہو‘ کوئی دیہاڑی دار ہو‘ آئی ٹی ایکسپرٹ یا پھر گھر کی چار دیواری میں بچوں اور شوہر کی خدمت پر مامور صبح سے شام تک گھر کے دھندوں میں مصروف ایک گھریلو خاتون ہو۔ کامیابی ہم سب کا مطمع نظر ہے۔ ہماری کامیابی اور ناکامی کا معیار مختلف ہو سکتا ہے۔ مثلاً
مزید پڑھیے


امل حسین کا سات سالہ جیون

جمعه 16 نومبر 2018ء
سعدیہ قریشی
جنگ کی بربادی سے تار تار یمن کی سات سالہ امل حسین یکم نومبر 2018ء کو بالآخر مر گئی۔ سانس کی ڈوری کا ٹوٹنا امل کے لیے محض ایک تکلف ہی تو تھا۔ اس لیے کہ وہ روز ‘ ہر ہر لمحہ موت سے گزرتی تھی۔ اس نے اپنی مختصر سی حیات کے ساتویں برس میں اس بھری بھرائی ‘ ہائی فائی نعمتوں اور آسائشوں سے لبریز دنیا میں صرف بھوک دیکھی تھی۔ پھربھوک بھی کوئی عام بھوک نہیں کہ ادھر بچہ بھوک سے بلبلائے تو ادھر ماں اسے پیٹ کا دوزخ بجھانے کو کچھ نہ کچھ دے دے۔ نہیں سات
مزید پڑھیے


جدید مائتھالوجی کا خالق۔سٹین لی!

بدھ 14 نومبر 2018ء
سعدیہ قریشی
بیسوں سپر ہیرو کرداروں کا خالق سٹین لی‘ پچانوے برس کی عمر میں چل بسا۔ مگر اپنے پیچھے سپر ہیرو کلچر کی ایک پوری داستان چھوڑ گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہمارے بچے اور نوجوان سٹین لی کو نہ جانتے ہوں مگر وہ اس کے تخلیق کردہ کرداروں کو خوب جانتے ہیں۔ جاننا تو شاید ایک چھوٹا لفظ ہے سٹین لی کے تخلیق کردہ کردار بچوں کی نفسیات پر حاوی ہو جاتے ہیں وہ خود انہی کرداروں میں ڈھلا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔کیسے کیسے خیالی مگر طاقتور اور پر اثر دیو مالائی کردار سٹین لی کے ذرخیز اور تصوراتی ذہن
مزید پڑھیے


عافیہ صدیقی کی اُمید

اتوار 11 نومبر 2018ء
سعدیہ قریشی
وزیر اعظم عمران خان سے امید اور توقعات کی انتہا یہ ہے کہ ٹیکساس کی امریکی جیل میں چھیاسی برس کی بھیانک سزا کاٹتی نحیف و نزار کچی‘ بکھری ریزہ ریزہ عافیہ صدیقی نے بھی عمران خان کو ان کا وعدہ یاد دلایا ہے کہ ان کی رہائی کے لیے کچھ کریں۔ یہ وہ وعدہ ہے جو وزیر اعظم عمران خان جب ایک دبنگ اپوزیشن لیڈر تھے تو اکثر تواتر کے ساتھ دھرایا کرتے اور اس وقت کے حکمرانوں کو غیرت یاد دلاتے کہ جنہیں امریکہ کی طرف سے اٹھنے والی ڈومور کی صدا نے مسمرائزاثر کر دیا تھا وہ اس
مزید پڑھیے