BN

سعدیہ قریشی

سوشل میڈیا‘ سیاست اور اخلاقیات کا جنازہ!

بدھ 18 جولائی 2018ء
سیاست کی لڑائی میں اخلاقیات کو مات ہو چکی ہے۔انسانی معاشرے میں اخلاقیات وہ بنیاد ہے جس کو منہدم کرنے کے بعد ہم کسی خیر کی توقع نہیں رکھ سکتے۔سیاست کی سطحی لڑائی میں ہم نے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا اور اس بار کے بعد ہم کس جیت کی توقع رکھ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے محاذ پر سیاسی جماعتوں کے مخالفین اور حمایتوں میں گھمسان کا رن پڑا ہے اور اس جنگ میں اخلاقی اقدار کو روند دیا گیا ہے۔ جی ہاں سیاسی جماعتوں سے مراد وہی ن لیگ اور پی ٹی آئی ہی ہیں جن کے حمایتی اور مخالفین
مزید پڑھیے


سنسنی‘ سانحہ اور بے سمتی

اتوار 15 جولائی 2018ء
13جولائی 2018ء کا دن ایک طرف سیاست کی سنسنی سے بھرا تھا تو دوسری طرف سانحہ مستونگ کے لہو رنگ منظر سے رنگا ہوا تھا۔ سنسنی اور سانحے کے درمیان الیکٹرانک میڈیا کی بے سمتی اور بے حسی بے حد تکلیف دینے والی تھی۔ ریٹنگ گلیمر اور سنسنی کے پیچھے بھاگنے والے میڈیا پر بیٹھے ہوئے تجزیہ نگاروں اور اینکر پرسنز کے تبصروں اور تجزیوں میں مستونگ کے پتھریلے پہاڑوں پر بہہ جانے والوں بے گناہ بلوچوں کے لہو پر تاسف اور دکھ کی حیرانی کم کم تھی۔ ہاں نان سٹاپ تجزیوں اور تبصروں میں اتحاد ایئر ویز کی پرواز سے آئے
مزید پڑھیے


ب سے بہادر۔ ب سے بلور

جمعه 13 جولائی 2018ء
بلور خاندان پر شدت غم کی گھڑی ہے۔ چند سالوں کے فرض سے خونی تاریخ نے خود کو دھرایا ہے۔ صرف موسموں کا فرق ہے ہارون بلور کے والد بشیر احمد بلور 22دسمبر 2012ء کی ایک یخ بستہ شام دہشت گردوں کے ظلم کا شکار ہوئے۔ اور چھ سال کے بعد ہارون بلور بھی 10جولائی کی ایک حبس بھری شام خودکش بمبار کے ظلم کا نشانہ بن گئے۔ ظلم کی کہانی وہی ہے ظالموں کے ہاتھ وہی ہیں فرق صرف یہ ہے پہلے باپ اور پھر بیٹا ایک ہی انداز میں موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ بلور خاندان پر دکھ کی مشکل
مزید پڑھیے


پولیٹکل برینڈنگ

بدھ 11 جولائی 2018ء
یہ دور مارکیٹنگ اور کمرشل ازم کا ہے سیاسی جماعتیں اور سیاستدان خود کو ایک پروڈکٹ کی طرح بیچتے ہیں ماڈرن ڈیمو کریسی کے نظریات میں Political Brandingکی اصطلاح مقبول ہو رہی ہے۔ پولیٹکل برینڈنگ کے بارے میں ایک سماجی سائنسدان کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں ہمیشہ سے ہی اپنی مارکیٹنگ اور برینڈنگ کرتی رہی ہیں یہ اور بات ہے کہ گئے وقتوں میں ابھی پولیٹکل برینڈنگ کی اصطلاح بھی متعارف نہیں ہوئی تھی۔ Brandہے کیا ؟ ہم میں سے ہر کوئی آج کل برینڈ کی بات کرتا ہے برانڈڈ لان‘ برانڈڈ شوز‘ برانڈڈ بیگز استعمال کرتا آج کے دور میں فیشن
مزید پڑھیے


عذاب مجھ پہ نہیں حرفِ مدعا کے سوا

اتوار 08 جولائی 2018ء
6جولائی کا حبس بھرا دن تھا جب پوری قوم ایک فیصلے کی منتظر ٹی وی سکرین پر نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ صبح 11بجے تک سہ پہر ساڑھے چار بجے تک کم و بیش دن کا پون حصہ معزز عدالت نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر ‘ پوری قوم کو وقت کے دائروں سے الجھائے رکھا یہ بھی کسی سزا سے کیا کم تھا کہ پون دن وقت کا ایک قیمتی حصہ صرف ایک خبر کو سننے کے لیے بھاڑ میں جھونکا جائے۔ ادھر ٹی وی سکرین پر بیٹھے بھانت بھانت کے تجزیہ نگار‘ تجزیوں اور تبصروں کی پٹاریاں کھولے انتظار کی
مزید پڑھیے


جمہوریت کی کون سی قسم؟

جمعه 06 جولائی 2018ء
اگلے روز پائنا اور سنٹر فار سائوتھ ایشین سٹڈیز پنجاب یونیورسٹی کے اشتراک سے ایک قومی سیمینار کا اہتمام کیا گیا موضوع تھا قابل اعتماد انتخابی عمل کے تقاضے‘‘ وقت دوپہر کے ڈھائی بجے یعنی کہ شکر دوپہرے‘ اور یہی سوچ کر کہ اتنی دوپہر میں کہاں کوئی پروگرام بروقت شروع ہو گا ہم نے پوری یاکستانیت کا مظاہرہ کیا اور تقریب میں تاخیر سے پہنچے اور ہم جو تقریبات سے ہمیشہ دور بھاگتے ہیں اس لیے اس سیمینار میں جا پہنچے کہ ایک تو محترم الطاف حسن قریشی جو پاکستان میں اردو صحافت کے سرخیل ہیں انہوں نے باقاعدہ فون
مزید پڑھیے


بلاول زرداری کے نام…!

بدھ 04 جولائی 2018ء
’’یہ میرا پہلا الیکشن ہے جبکہ کئی لوگوں کا یہ آخری الیکشن ہے‘‘ یہ کہنا ہے پیپلزپارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول زرداری کا۔ بات بالکل ٹھیک ہے کہ یہ بلاول کی پہلی اڑان ہے۔ لیکن افسوس ہوا یہ دیکھ کر کہ اسے اپنی زندگی کے پہلے الیکشن کی ابتدائی انتخابی مہم کے دوران لیاری میں ووٹروں کی مزاحمت، پتھرائو اور گھیرائو کا سامنا کرنا پڑا۔ لیاری جو کبھی پیپلزپارٹی کا گڑھ تھا۔ جس کے بارے میں بے نظیر بھٹو کہا کرتی تھیں لیاری والے ہمارے لاڈلے ہیں یہاں تک کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی شادی کی تقریب بھی لیاری والوں کے درمیان
مزید پڑھیے


سیاسی اداکار اور برہم ووٹر

اتوار 01 جولائی 2018ء
الیکشن کا موسم آتے ہی سیاستدان گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں ایک اقتدار سے دوسرے اقتدار کے حصول کے درمیان یہ مرحلہ رہ گزر سیاستدانوں پر کڑا آتا ہے اور بقول امید فاضلی ؎ اک ایسا مرحلہ رہ گزر بھی آتا ہے کوئی فصیل انا سے اتر بھی آتا ہے اور یہ کڑا مرحلہ رہ گزر الیکشن کی مہم ہے جس کے دوران برانڈڈ سوٹ پہننے والے امریکہ لندن کی علاج گاہوں سے اپنی بیماریوں کا علاج کروانے والے پاکستان کو اپنے مفاد کی چراہ گاہ سمجھنے والے اربوں کھربوں کے اثاثوں کے مالک یہ امیر زادے عرصہ اقتدار
مزید پڑھیے


لفظوں سے جدا ہوتے معنی

جمعه 29 جون 2018ء
لفظوں کا اعتبار تب تک قائم رہتا ہے جب ان سے وابستہ معنی اور مفہوم کو ایک امانت کی طرح معتبر سمجھا جائے اورانہیں احتیاط اور سوجھ بوجھ کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ یہ دور ہر شے کے بے دریغ استعمال کا دور ہے اور ہم نے لفظوں کو بھی اس سے مستثنیٰ نہیں رکھا۔ لفظوں کی شاندار اونچی اونچی مسندیں بنا کر ان لوگوں کو اس پر بٹھایا جو اس کے اہل نہ تھے۔ ویسے لفظوں کی کہانی بڑی دلچسپ ہوتی ہے۔ جس انداز میں اور جس طرح ہم ان لفظوں کو استعمال کرتے رہتے ہیں رفتہ رفتہ وہی لفظ اپنے لفظی
مزید پڑھیے


ادب کا مسلک اور تسطیر

جمعرات 28 جون 2018ء
فیس بک کھولیں تو آپ کو ایسے ایسے لوگ اپنی سیاسی پارٹیوں کے نام پر ایک دو کے خلاف چنگھاڑتے‘ بدزبانی کرتے اور زہر فشانی کرتے دکھائی دیں گے کہ گاہے انسان حیرت اور تاسف میں ڈوب جاتا ہے۔ سیاست نے ہمارے سماج میں بدصورت تقسیم پیدا کر دی ہے۔ انسانوں کو بتوں کا درجہ دینے والی اندھی سیاسی وابستگیوں نے دوست کو دوست کے خلاف صف آرا کر دیا ہے۔ مذہب‘ مسلک‘ تفرقے‘ رسم و رواج اور سیاست معاشرہ تقسیم در تقسیم کے بدترین عمل سے گزر رہا ہے۔ ٭٭٭٭٭ سطحی سیاست کے نام پر اچھے بھلے پڑھے لکھے لوگوں کو ایک دوجے
مزید پڑھیے