BN

سعدیہ قریشی


’’یہ ناآباد وقتوں میں دل ناشاد میں ہو گی‘‘


کافی دیر سے خالی کاغذ سامنے رکھے سوچ رہی ہوں‘ اس انوکھی گفتگو کی خوشبو کیسے کالم میں سمیٹوں۔ ہم نے عموماً شاعروں ادیبوں کی بیگمات کو اپنے شوہر کی شہرت اور ناموری سے ذرا بیزار ہی دیکھا ہے۔ مگر یہ بیگم ناہید منیر نیازی بھی کمال کی عورت ہیں۔ رانجھا‘رانجھا کر دی‘ آپے رانجھا ہو چکی ہیں۔ منیر نیازی کی یادوں کو باتوں میں ڈھالتی ہیں تو سننے والا اس بہائو میں حیرت سے بہتا چلا جاتا ہے۔ یہ کالم کا نہیں افسانے کا موضوع ہے۔ مگر کیا کروں کہ مجھے تو سردست کالم ہی لکھناہے۔ وہ گزشتہ 36 برسوں سے‘
جمعه 09 اپریل 2021ء

روحانی مدافعتی نظام کیا ہے؟

بدھ 07 اپریل 2021ء
سعدیہ قریشی
بیماریوں کے خلاف قدرت نے ہمارے جسم میں قوت مدافعت کی صورت ایک حفاظتی میکا نزم بنا رکھا ہے جو بیماریوں کے خلاف ایک حفاظتی حصار قائم کرتا ہے ۔گزشتہ برس کورونا کی وبا نے پوری دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ انسانوں کو اپنا مدافعتی نظام مضبوط کرنا پڑے گا۔ صرف اسی صورت میں بیماری کا مقابلہ کرناممکن ہے۔جن افراد کا مدافعتی نظام مضبوط تھا انہوں نے بیماری کے وار بہتر انداز میں سہہ لیے مگر جن افراد کا مدافعتی نظام کمزور تھا وہ بیماری کے سامنے ہار مان گئے یا بیماری کا حملہ ان پر بہت شدید
مزید پڑھیے


April is the cruellest month

اتوار 04 اپریل 2021ء
سعدیہ قریشی
چائے کا گھونٹ گھونٹ اپنے اندر اتارتے ہوئے میں ٹی ایس ایلیٹ کی شہرہ آفاق نظم ۔دی ویسٹ لینڈ The weste land سن رہی تھی۔جی ہاں سن رہی تھی اور وہ بھی ٹی ایس ایلیٹ کی اپنی آواز میں۔ ٹیکنالوجی کمال ہے کہ وقت مجھے بیسیویں صدی کی دوسری دہائی میں لے گیا ہے۔ جنگ عظیم اول کے بعد کا زمانہ۔ انسانی جانوں کا بے تحاشا ضیاع۔ موت کی دہشت۔ ناقابل تلافی نقصان۔ ڈس ایلوژن منٹ کا گہرا احساس‘ قدروں کا کھو جانا۔ مادیت پرستی کا سیلاب‘ اور روحانی خلاء سے پیدا ہونے والے احساس کو ٹی ایس ایلیٹ نے ایک
مزید پڑھیے


ڈاکٹر این میری شمل

جمعه 02 اپریل 2021ء
سعدیہ قریشی
اپریل کا آغاز اگرچہ وبا کے موسم میں بڑھتی ہوئی زرد اداسی کے زیر اثر ہوا ہے مگر ہم اپنے دل کو اداسی کے اس حصار سے نکال کر ایک عظیم شخصیت کی شاندار یادوں سے روشن کرتے ہیں۔ اپریل ڈاکٹر این میری شمل کو یاد کرنے کا جواز فراہم کرتا ہے کیونہ اسلامی تہذیب و تعلیمات کی یہ عظیم عالمہ اور بے مثال مستشرق 1922ء میں اپریل کی سات تاریخ کو جرمن والدین کے گھر جرمنی کے ایک چھوٹے سے شہر ارفورٹ میں پیدا ہوئیں۔ ڈاکٹر این میری شمل کی زندگی اور ان کا نام اس بات کی گواہی دیتا ہے
مزید پڑھیے


ابہام‘کنفیوژن اور بے یقینی

جمعرات 01 اپریل 2021ء
سعدیہ قریشی
تبدیلی لانے کی دعوے دار حکومت کو اس آنے والے اگست میں پورے تین سال ہو جائیں گے۔ سو پانچ سال اگر پورے کریں تو آدھے سے زیادہ وقت ان کا گزر چکا ہے اور صورت حال یہ ہے کہ فیصلوں میں دور اندیشی ‘بردباری‘سوچ بچار اور حکمت کی روشنی کی بجائے بے یقینی‘ابہام اور کنفیوژن کی تاریکی دکھائی دیتی ہے۔عوام کی قسمت بدلنے کے دعویدار‘ابہام کی اسی تاریکی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے نظر آتے ہیں۔آئے روز کابینہ میں ردوبدل اپنے ہی فیصلوں کا مذاق اور اپنی ہی عقل کا ماتم کرنے کے مترادف نہیں تو اور کیا ہے؟افسوس کہ
مزید پڑھیے



کشادہ دلوں کا شہر پشاور!!

پیر 29 مارچ 2021ء
سعدیہ قریشی
پشاور کی پہلی جھلک میں نے اس وقت دیکھی جب رات کی تاریکی کے بطن سے پو پھٹ رہی تھی۔ ابھی پو پھٹنا شروع ہوئی تھی۔ آس پاس اندھیرا پھیلا تھا اور قدیم شہر پشاور ابھی نیند میں گم تھا۔ خیر روڈ کے آس پاس شہر کی اہم عمارتیں‘سرمئی دھند کی لپیٹ میں واضح دکھائی نہیں دیتیں تھیں۔ بس کچھ شاندار پرشکوہ سے عمارتی ہیولے تھے جو مجھے نظر آئے۔بظاہر پشاور میرے لئے اجنبی شہر تھا۔ مگر اجنبیت کے اس دائرے سے باہر ایک اور دائرہ اپنائیت کا کھینچا ہوا تھا کہ پشاور پہلی بار آنے کے باوجود اس شہر
مزید پڑھیے


حسینہ معین اورڈرامے کاحسین دور

اتوار 28 مارچ 2021ء
سعدیہ قریشی
حسینہ معین اورکنول نصیر پی ٹی وی کے سنہری دور کی دو سنہری خواتین آگے پیچھے اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ جانا تو ہر ایک کا ٹھہر گیا ہے، مگر وبا کے دنوں میں موت کی خبریں اس تواتر سے سنتے ہیں کہ اداسی بڑھنے لگتی ہے۔کنول نصیر پاکستان ٹیلی ویژن کا پہلا چہرہ اور اناؤنسر کی پہلی آواز تھیں۔ رہی بات حسینہ معین کی تو وہ ہماری جنریشن کے لئے یادوں کے پورے دبستان کا نام ہے، انہیں یاد کرنا آسان نہیں ،کہ ان کو یاد کرنے سے یادوں کے وہ دروازے بھی کھلنے لگتے ہیں، جو ہمیں
مزید پڑھیے


خوابوں سے بھرے بستے

جمعه 26 مارچ 2021ء
سعدیہ قریشی
میں جب بھی کسی غریب بچے کو پرانے بوٹ پائوں میں ڈالے‘کاندھے پر بستہ رکھے ہوئے سکول جاتا دیکھتی ہوں تو مجھے خان پور واپڈا کالونی کی ننھی مارتھا یاد آ تی ہے۔ مارتھا شریف مسیح خاکروب کی پوتی تھی۔ مارتھا کی دادی اور دادا شریف ہمارے گھر صفائی کیا کرتے تھے۔ بس یہی تعلق مارتھا کو ہمارے گھر لے آتا۔ وہ کسی نہ کسی کام سے ہمارے گھر آیا کرتی۔ اپنے ساتھ ایک دو چھوٹے بہن بھائیوں کو بھی لے آتی۔ٹوٹی ہوئی چپل اور اونچا سا فراک پہنے ہوئے‘مارتھا جب اپنے خوابوں کے بارے میں بات کرتی تو دنیا
مزید پڑھیے


باغ گل سرخ

اتوار 21 مارچ 2021ء
سعدیہ قریشی
افتخار عارف کی تازہ کتاب ’’باغ گل سرخ ‘‘جب مجھے ملی تو شہر لاہور گل نشتر کے سرخ پھولوں میں گندھا ہوا تھا۔ حسن اور تمکنت میں ڈوبے ہوئے گل نشتر جا بجا سڑکوں کے کنارے لگے ہوئے درختوں پر جھولتے تھے۔ یوں بھی موسم بہار ہے تو جاوداں گلاب کے پھول باغوں کی روش روش پر کھلے ہیں۔یہ جو 132صفحات کی مختصر شاعری کی کتاب باغ گل سرخ ہے۔اس میں ورق ورق شاعر کی زندگی کا حاصل تحریر ہے۔ ایک لو دیتا ہوا خیال ہے جو ہر مصرع میں مثل چراغ جلتا ہے۔ یا پھر سرخ گلابوں کا ایک
مزید پڑھیے


مارچ: تتلی کے پروں پر لکھا ہوا مہینہ…!

جمعه 19 مارچ 2021ء
سعدیہ قریشی
سال کے بارہ مہینے میرے لیے بارہ مختلف مزاج کے دوستوں کی طرح ہیں،جیسے آپ اپنے ہر دوست سے مختلف طرح سے ملتے ہیں کیونکہ ہر ایک کی شخصیت کے گرد مختلف طرح کی وائبز کا دائرہ ہوتا ہے۔ ہر دوست سے ملنے کی فریکوئنسی اور اس سے کنیکٹ کرنے والی لہریں مختلف ہوتی ہیں۔یہ جو سال کے بارہ مہینے ہیں ،یہ بھی میرے لئے ایسی ہی 12 سہیلیاں ہیں جو الگ مزاجوں کی مالک ہیں۔ ہر ایک سے مجھے اس کے مزاج اور ناز نخروں کے مطابق بات کرنی پڑتی ہے جیسے کوئی بہت عزیز مگر نخریوالی سہیلی ہو
مزید پڑھیے