BN

سعدیہ قریشی


مجموعہ مکاتیب اکبر


لسان العصر اکبر الہ آبادی کا انتقال 9 ستمبر 1921 کو الہ آباد میں ہوا 9 ستمبر 2021 تک پوری ایک صدی بنتی ہے۔محبان اردو اور محبان اکبر الہ آبادی نے اسے اکبر صدی کا نام دیا اور سال رواں 2021 کو اکبر الہ آبادی کے سال کے طور پر منایا۔اس حوالے سے بہت اہم کتاب اس سال منظر عام پر آئی ہے۔ یہ کتاب ان کے خطوط کا مجموعہ ہے جسے مجموعہ مکاتیب اکبر کا نام دیا گیا۔سوشل میڈیا کے اس دور میں جب کہ ہم یکسو ہونے کی نعمت سے تقریبا محروم ہو چکے
بدھ 08 دسمبر 2021ء مزید پڑھیے

آتش فشاں کے دہانے پر معاشرہ!

اتوار 05 دسمبر 2021ء
سعدیہ قریشی
سانحہ سیالکوٹ میں جو کچھ ہوا بطور مسلمان پاکستانی میں بے حد رنجیدہ ہوں اور اس سانحے پر محسوس ہونے والی اذیت اور شرمندگی کو الفاظ پیرائے میں ڈھالنے سے قاصر ہوں۔پرنتھا کماراسری لنکا سے آیا ہوا پاکستان میں ہمارا مہمان تھا۔گزشتہ دس سال سے وہ پاکستان میں گارمنٹس فیکٹری میں کام کر رہا تھا۔فیکٹری کے کچھ ملازمین نے مبینہ طور پر سری لنکن جنرل منیجر کے خلاف توہین مذہب کا الزام لگا کر لوگوں کو اکٹھا کیا۔اس دوران مقامی پولیس کو اطلاع دی گئی لیکن وہاں پر صرف تین اہلکار پہنچے جو کہ سب سے پہلے انتظامیہ کی ناکامی
مزید پڑھیے


روشن ستارے۔!!

جمعه 03 دسمبر 2021ء
سعدیہ قریشی
تین دسمبر دنیا بھر میں خاص افراد کا دن منایا جاتا ہے۔اس روز گل افشاں کی کتاب روشن ستارے پڑھنے سے بہتر اور کیا ہے جس میں سو خاص افراد کے انٹرویو شامل ہیں۔پہلے ایک اقتباس پڑھیے۔ اپنے پہلے بیٹے کی معذوری نے مجھے اور میری بیوی کو اندر سے ہلا کر رکھ دیا تھا۔عمر بھر کے لئے یہ روگ کافی تھاجی کو جلانے کے لئے، لیکن دکھوں کا سلسلہ تھما نہیں دوسرا‘تیسرا اور چوتھا بچہ بھی اسی معذوری کا شکار ہوتا چلا گیا۔یہ دل دہلا دینے والا اقتباس ‘باہمت لکھاری گل افشاں رانا کی کتاب روشن ستارے میں ان
مزید پڑھیے


لہو میں گھلی ہوئی یاد!

بدھ 01 دسمبر 2021ء
سعدیہ قریشی
کتنے برس ہوتے ہیں مگر میں ان برسوں کو کبھی نہیں گنتی۔گن کر بھی کیا کروں گی! ہجر کا وہ طویل دن نہ جانے کتنے پہروں کا تھا ،ہر پہر ایک طویل صدی جیسا تھا۔ ان پہروں میں بہت سے سفر بندھے ہوئے تھے۔ پہلا سفر یکم دسمبر کی صبح شروع ہوا اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا وہ ہوسٹل ابھی صبح نے ہوسٹل کے در و دیوار پر دستک دی تھی کیمپس جانے کی تیاری کے مراحل تھے ، راہداریوں میں ناشتے کے لیے آتی جاتی لڑکیاں اور اتنی صبح بھائی جان کا ہوسٹل پہنچنا کہ امی جان کی طبیعت کچھ ٹھیک
مزید پڑھیے


جب بچوں کیلئے دودھ کے پیسے بھی نہ رہیں تو۔۔!

اتوار 28 نومبر 2021ء
سعدیہ قریشی
آپ کیا سمجھتے ہیں، ایک نوکری پیشہ کے لئے تنخواہ کے چند ہزار کیا ہیں ؟یہ اس کے لئے آکسیجن کا وہ سیلنڈر ہے جس کے ساتھ اس کی اور اس پر انحصار کرنے والے خاندان کی زندگیاں وابستہ ہیں ۔ تنخواہ کے چند ہزار اس کے بچوں کی مسکراہٹ ہیں۔تنخواہ کے چند ہزار اس کے گھر کا سکون ہیں۔تنخواہ کے چند ہزار اس کی وہ لائف لائن ہے ،جو اگر نہ ملے تو اس کو زندگی کے لالے پڑ جاتے ہیں۔زندگی کی بپھرے ہوئے سمندر میں تنخواہ کے چند ہزار وہ ساحل ہیں، جن پر تیس دن کی
مزید پڑھیے



’’پولے کھاندیاں وار نہ آوندی اے‘‘

جمعه 26 نومبر 2021ء
سعدیہ قریشی
بدھ کی رات فیملی ڈنر میں مصروف رہے ،ٹی وی کی خبروں اور سوشل میڈیا کے سیلابی ریلوں سے ذرا دور وقت گزرا ،خبر نہیں ہوئی کہ اتنی سی دیر میں شہر کا شہر ہی بے یقینی کے سراب میں الجھا ایک عذاب سے دو چار نظر آیا۔راستے میں پٹرول پمپوں پر گاڑیوں موٹرسائیکلوں اور رکشوں کی طویل قطاریں نظر آئیں۔ کہیں تو جزوی طور پر رستے بلاک ہو چکے تھے۔پریشان حال لوگ پٹرول لینے کے لیے انتظار کے عذاب سے دوچار تھے۔پاکستان پٹرولیم ایسوسی ایشن کی ہڑتال کے اعلان کے بعد یہ صورت حال تھی کہ لوگ اپنی اپنی
مزید پڑھیے


چھ کروڑ نادار پاکستانیوں کی تضحیک

بدھ 24 نومبر 2021ء
سعدیہ قریشی
انہیں یہ فکر ہے کہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں اداروں کی تضحیک ہوئی ،کسی بھی ادارے کا مقدس پن کسی ایک انسان کی زندگی کی تقدیس سے بڑھ کر نہیں لیکن یہاں روز کروڑوں غریب پاکستانیوں کی تضحیک ہو رہی ہے۔غریب پاکستانیوں کی تضحیک ہی تو ہے جب انہیں ان کی بھوک کے مطابق کھانے کو میسر نہیں ہوتا بیماری میں دوا نہیں ملتی۔ایسے نادار والدین کی تکلیف کا اندازہ لگائیں کہ جنہیں اپنی جان سے پیاری اولاد کو اپنے سامنے بھوک برداشت کرتے ،ضرورتوں کو دباتے اور خواہشوں کو کچلتے دیکھنا پڑتا ہے۔ ممتاز شاعر اسلم کولسری نے یہی
مزید پڑھیے


سیاست کی تماشا گری

اتوار 21 نومبر 2021ء
سعدیہ قریشی
سیاست پر لکھنا اور مسلسل ایک ہی طرح کے حالات حاضرہ کا ماتم کرتے جانا کس قدر یکسانیت سے بھرپور ہے۔میری کوشش ہوتی ہے کہ میں مختلف نئے موضوعات کو بھی کھوجتی رہوں۔سچ پوچھیں تو جی چاہتا ہے کہ سیاست کے علاوہ ہر موضوع پر لکھا جائے ۔کبھی سوچتی ہوں کہ کیا تیسری دنیا میں سیاست سماج اور معیشت کی صورت ایسی ہی بگڑی ہوئی رہے گی؟ سیاست سماج معیشت اور اب میڈیا بھی سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عناصر ہیں اور ایک دوسرے پر اثر انداز بھی ہوتے ہیں۔پھر ان چاروں عناصر سے جڑی ہوئیں ہماری معاشرت اور
مزید پڑھیے


آپ کے طرز حکمرانی کے کیا کہنے!!

بدھ 17 نومبر 2021ء
سعدیہ قریشی
وہ کہتے تھے ہم دو نہیں ایک پاکستان بنائیں گے۔ انہوں نے یہ کر دکھایا۔ کم و بیش پندرہ برس سے بڑے قومی اخبارات میں کالم لکھ رہی ہوں۔ یوں سمجھیں گزشتہ پندرہ برس سے غریب شہر کی حالت زار اور اہل اختیار و اہل اقتدار کی بے حسی پر ماتم جاری ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں صحت کی ناکافی سہولتوں کے بارے میں کئی بار لکھا۔ کئی بار یہ جملہ قلم سے نکلا کہ یہاں غریب‘ مفت کی پیناڈول کی گولی کے لیے بھی سرکاری ہسپتالوں میں دھکے کھاتا ہے۔ مگر صاحب‘ یہ گئے زمانے کی بات تھی۔ اب تو حالت یہ
مزید پڑھیے


"کھیل زندگی نہیں۔۔زندگی بھی کھیل نہیں"

اتوار 14 نومبر 2021ء
سعدیہ قریشی
یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے، ایک قوم جو گوناگوں صلاحیتوں سے مالامال ہے، جذبات رکھتی ہے اور جذبات کا اظہار کرنا جانتی ہے کچھ کر جانے کی توانائی سے لبریز ہے ، بے سمت ہے۔ایک کھیل ہے بلے اور گیند کا جس کا نام کرکٹ ہے بس یہ اسی کھیل پر متحد ہوتی ہے ورنہ یہ آپس میں مسلکی، مذہبی نظریاتی، ثقافتی اختلافات پر دست و گریباں رہتی ہے جب میرے ہم وطن اپنے جذبات کے قیمتی خزانے کرکٹ جیسے کھیل کی نذر کر دیتے ہیں تو مجھے رائیگانی کااحساس ہوتا ہے۔ سوچتی ہوں کہ کرکٹ کی
مزید پڑھیے








اہم خبریں