سعدیہ قریشی



احتساب دے چیف کمشنر صاحب بہادر۔!


چند روز سے میرے ہاتھ میں منو بھائی کی کتاب ہے۔ جس کا نام ہے’’ جنگل اداس ہے‘‘ یہ ان کے کالموں کا انتخاب ہے، اس کتاب میں ہمیں اصلی منو بھائی دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کے عام آدمی کی محرومیوں پر نوحہ کناں‘ اور اس کی حسرتوں کی لاش پر ماتم کرتا ہوا۔ دھاڑیں مار کر روتا ہوا منو بھائی جس کے بارے میں جاوید شاہین نے کہا کہ۔ منو بھائی کی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی واردات یا تجزیے میں قاری کو اس حد تک شریک کر لیتا ہے کہ اسے سب کچھ اپنی ذات کا حصہ معلوم
اتوار 19 جنوری 2020ء

روحانی خلاء کو بھرنے کی ضرورت ہے(گزشتہ سے پیوستہ)

جمعه 17 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
گزشتہ کالم میںنے ایک سوال پر چھوڑا تھا کہ بظاہر دنیاوی آسائشوں سے آراستہ زندگی گزارتے ہوئے‘ کیوں کسی کو اپنی زندگی اتنی بے مقصد اور بے معنی محسوس ہونے لگتی ہے کہ وہ اس کا بوجھ اتار کر موت کے پار اتر جاتا ہے۔بحیثیت ایک مسلمان ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خودکشی کرنے والا مذہب سے دور ایک کمزور ایمان رکھنے والا شخص ہوتا ہے کیونکہ اسلام میں خود کشی ایک سنگین گناہ ہے ۔ زندگی ایک عظیم نعمت ہے جو ہمیں خالق کائنات کی طرف سے ودیعت کی جاتی ہے۔ایمان کی مضبوطی یہی ہے کہ ایک شخص
مزید پڑھیے


خود کشی کی وجہ: کوئی ہے خلاء جو بھرتا نہیں

بدھ 15 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
گزشتہ کالم میں تذکرہ تھا، غریب شہر میر حسن کی خود کشی کا جس نے غربت اور فاقے سے ڈر کر خود کشی کر لی اور آج تذکرہ ہے، امیر شہر کی خود کشی کا…، آج اخبار کے صفحہ اوّل پر ایس ایس پی راولپنڈی میاں ابرار حسین نیکوکارہ کی تصویر کے ساتھ ان کی خود کشی کی خبر نے مجھے عارف شفیق کا یہ مقبول شعر یاد دلا دیا کہ… غریب شہر تو فاقوں سے مرگیا عارفؔ امیر شہر نے ہیرے سے خود کشی کر لی اور محض اتفاق ہے کہ اخبار کے بیک پیج پر بھی دو کالمی خبر کراچی کے
مزید پڑھیے


کورنگی کا میر حسن بنام وزیر اعظم۔!

اتوار 12 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
ادھر حکمران ہمیں معاشی اعشاریے بہتر ہونے اور غریبوں کے لئے 80ارب مختص کرنے‘ انصاف کارڈ اور صحت کارڈ کی سہولتوں کی نوید سنا رہے تھے کہ ادھر کراچی سے کورنگی ابراہیم حیدری کے میر حسن نے اپنی زندگی کا شاید پہلا اور آخری خط لکھ کر ‘ ملک کے وزیر اعظم کو اطلاع دی کہ وہ تو زندگی کا بوجھ اتار کر اگلے جہاں سدھا رہا ہے۔ لیکن وزیر اعظم صاحب میرے بچوں کو گھر کی چھت بھی لے دینا اور مدرسے میں بھی داخل کروا دینا! میر حسن کے ہاتھ کا لکھا ہوا خط ٹوٹی پھوٹی اردو میں چند
مزید پڑھیے


جنرل سلیمانی کون تھے؟(آخری حصہ)

جمعه 10 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
1980ء سے 1988ء تک ‘عراق ایران جنگ میں آٹھ برس تک’ نوجوان قاسم سلیمانی نے‘ جوش جذبے سے بھر پور حب الوطنی سے سرشار‘ پاسداران انقلاب کے نوجوان جنگجو کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ 1989ء سے 1997ء اگلے برس ایران پر ہاشمی رفسنجانی کی حکومت رہی اور اس دوران قاسم سلیمانی‘ پراسرار انداز میں منظر نامے سے ہٹ گئے۔ یہ ایک طرح کا ہائبرنیشن پیریڈ تھا۔ جس کی وجہ یہی معلوم ہو سکی کہ انہیں رفسنجانی کی کچھ پالیسیوں سے اختلاف تھا۔ قاسم سلیمانی اس کے بعد بھی پاسداران انقلاب کا حصہ رہے لیکن زیادہ حصہ انہوں نے گمنامی
مزید پڑھیے




جنرل قاسم سلیمانی کون تھے؟

بدھ 08 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
ایرانی مارچ کے مہینے میں نئے سال کا آغاز نو روز کی تقریبات منایا کر کرتے ہیں۔ یہ 2013ء کی بات ہے جب ایران میں نئے سال کا آغاز تھا۔ ایران کا انتہائی اہم فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی‘ عراق ایران جنگ میں حصہ لینے والے اپنے پرانے جنگی ساتھیوں کے ساتھ‘ ایران عراق سرحدی علاقے میں واقع ایک پہاڑی سلسلے پر موجود تھے۔ یہ سب لوگ ایک پہاڑ کی چوٹی پر موجود تھے اور مارچ کے ابر آلود موسم میں شروع ہوتے ہوئے سال کے خوش کن لمحات سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ ان سب کے درمیان قاسم سلیمانی کی موجودگی
مزید پڑھیے


امیدوں کا اینٹی کلائمکس

اتوار 05 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
آج 5جنوری 2020ء ہے۔ نئے سال کی پہلی اتوار۔ قومی منظر نامے سے عالمی منظر نامے تک وسوسوں اور خدشات کے بادل چھائے ہیں۔ خوف اور مایوسی کی پرچھائیاں دکھائی دیتی ہیں۔ دانستہ سال کے پہلے دو کالموں میں حالات حاضرہ پر تبصرے سے گریز کیا۔ کیونکہ جان کیٹس کے الفاظ میں صورت حال ابھی ایسی ہے کہ to be think is to be full of sorrow قومی منظرنامے پر سال کا آغاز ہی خوابوں امیدوں کے اینٹی کلائمکس سے ہوا۔ یہ عمران خان کی 22برس کی سیاسی جدوجہد کے خوابوں کا اینٹی کلائمکس تھا۔ نیب آرڈی ننس ان تمام امیدوں
مزید پڑھیے


نیا سال کیسے بہتر گزاریں!

جمعه 03 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
2019 ء کے اختتام پر مجھے یہ خوشگوار احساس میرے اندر موجود ہے کہ میں اس گزرے سال کچھ بہتر عادات کو اپنایا مثلاً وزن کم کرنے کا نیو ایئر ریزولیوسیشن تو ہم میں سے بیشتر کی ڈائریوں میں سرفہرست ہوتا ہے مگر ہر سال اس پر پوری طرح عمل درآمد نہیں ہو پاتا تھا۔ ایسا ہی میرے ساتھ بھی تھا۔ لیکن 2019ء کے وسط میں ایک ایسا احساس ہوا کہ بس اب ہر روزکم از کم 30‘35منٹ کی واک یوگا یا ورزش لازمی زندگی کا حصہ بناتی ہے۔ یہ کم ازکم ہے ورنہ 45سے 50منٹ ہو جائے تو بہت
مزید پڑھیے


نئے سال کو کیسے بہتر گزاریں؟

بدھ 01 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
جس روز یہ کالم آپ تک پہنچے گا، ایک نیا نکور، اُجلا، تازگی سے بھرا سال 2020ء کا پہلا دن یکم جنوری طلوع ہو چکا ہو گا۔ سال 2019ء اب ایک سال گزشتہ ہے۔ ہم نے اس سال میں کیا حاصل کیا اور کیا حاصل کرنے میں ناکام رہے یہ سب اب ماضی کی داستان ہے۔ گزشتہ ناکامیوں پر پچھتانے اور آہیں بھرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ ایک ایسی جمع پونجی ہے جو خرچ ہو چکی اور جس کی واپسی اب ممکن نہیں ہے۔ سو اب نا امید کی دُھند اور پچھتاووں کی گرد سے باہر نکل کر نئے سال
مزید پڑھیے


کرسمس‘ روبن اور کوڑے کے ڈھیر

جمعه 27 دسمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
اس وقت جب کہ باغوں کا شہر لاہور تبدیلی حکومت کے زیر اثر کوڑے کے ڈھیروں میں بدل رہا تھا‘ روبن اپنی کرسمس کے روز ہی ایک بس سٹاپ کی صفائیاں کرنے میں مصروف تھا۔وہ ایک بس سٹاپ پر جہاں سے راولپنڈی اور دیگر شہروں کی لگژری کوچز چلتی ہیں۔ صفائی پر مامور تھا اور اس کے بے حس مالکان نے اسے اس کے تہوار کے روز ہی چھٹی نہیں دی تھی۔ دانیال کی ایک عادت ہے کہ وہ اکثر پبلک سروس پر مامور اپنے فرائض سرانجام دیتے اہلکاروں کو متوجہ کر کے ان کو ویو کرتا ہے ان کا
مزید پڑھیے