سعدیہ قریشی

’’فصیلِ شہر میں پیدا کیا ہے در میں‘‘

اتوار 19  اگست 2018ء
18اگست 2018 اک خواب قریۂ تعبیر میں کِھلا تھا۔! 22برس کی ریاضت اور مسلسل جدوجہد کے بعد بیاض وقت پر عمران خان نیازی۔ وزیر اعظم پاکستان کا نام لکھا جا رہا تھا۔ یہ 22برس کی ریاضت کا انعام تھا یا آزمائش ! اس لیے کہ حکمرانی کسی بھی طور پھولوں کی سیج نہیں ہوتی۔ اللہ کا ایک ایسا انعام جو آزمائش کی صورت انسان کا امتحان لیتا ہے اور اب یہ تاج حکمرانی ہی عمران خان کے لیے ایک آزمائش کا سفر ہے! سیاہ شیروانی میں ملبوس عمران خان جو کل کا کرکٹر تھا اور کرکٹ کے میدان میں جس کے بائولنگ سٹائل کی
مزید پڑھیے


سوشل میڈیا اور بدلتے ہوئے سماجی رویے

جمعه 17  اگست 2018ء
ہمارے اردگرد ہمہ وقت تبدیلی کا غلغلہ ہے۔ اور 2018ء کے الیکشن کے بعد تو پوری قوم تبدیلی کے انتظار میں ہے۔ ہم یہ بھی اکثر سنتے رہتے ہیں تبدیلی آنی چاہیے۔ تبدیلی آ کے رہے گی۔ وغیرہ وغیرہ اور اس لمحے شاید ہم بھول جاتے ہیں کہ ہماری زندگیاں مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہیں۔ ہمیں خبر بھی نہیں ہو رہی اور ہم کتنے بدلتے جا رہے ہیں۔ ہمارے طور طریقے رہن سہن کے انداز سوچ‘ رویے سب کچھ بدل چکے ہیں اور ہماری زندگیوں میں تبدیلی لانے والا کوئی اور نہیں سوشل میڈیا ہے۔ جی ہاں!سوشل میڈیا نے جس
مزید پڑھیے


’’خزاں کے زرد ہاتھ میں ہو پیرہن بہار کا‘‘

بدھ 15  اگست 2018ء
جس وقت میں یہ سطریں قلم بند کر رہی ہوں۔ پاکستانی قوم اپنا 71واں یوم آزادی منا رہی ہے۔ یعنی 14اگست 2018ء بروز منگل آزادی کی مبارک بادوں کا شور ہے ملی نغموں کی دھنیں عزم اور امید سے بھرے نغموں کے بول فضا میں لہراتے سبز ہلالی پرچم اور اب تو کچھ عرصہ سے اہتمام کر کے بچے اور بڑے بھی جھنڈے کی مناسبت سے سبز اور سفید کپڑے زیب تن کرتے ہیں۔ یوں یوم آزادی پر ہر جانب سبز اور سفید رنگ کی بہار دکھائی دیتی ہے اور مجھے کبھی کا پڑھا ہوا ایک دعائیہ شعر یاد آتا
مزید پڑھیے


کتاب پڑھنے والی قدیم روحیں

جمعه 10  اگست 2018ء
ہم سارا سال ہی کوئی نہ کوئی عالمی دن مناتے رہتے ہیں کبھی کبھی تو ایک دن میں دو دو دن منانے پڑتے ہیں۔ عالمی دنوں کا ایک جمعہ بازار لگا ہوا ہے۔ نو اگست بروز جمعرات ہی دو عالمی دن منائے گئے۔ ایک تھا کتاب سے محبت کا عالمی دن اور دوسرا موضوع تھا قدیم باشندوں کا عالمی دن۔ دونوں موضوع دلچسپ تھے ذرا سا غور کیا تو لگا یہ دو موضوع نہیں بلکہ شاید ایک ہی موضوع ہے۔ یعنی کتاب اور قدیم باشندے سمارٹ فون ‘ ڈیجیٹل دور اور سوشل میڈیائی مصروفیات میں سے آج کے جدید انسان
مزید پڑھیے


آئیے ایک بار پھر زینب کے لیے آواز اٹھائیں

بدھ 08  اگست 2018ء
اسی سال کی4جنوری تھی جب قصور کی بدقسمت زینب انصاری کی خبر ٹی وی چینلز پر چلی اور اخبارات کا موضوع بنی۔ پھر گلابی کپڑے پہنے ہوئے پریوں جیسی وہ پیاری بچی ہم سب کے حواسوں پر چھا گئی۔ درد کی طرح دل میں اتر گئی۔ آنکھ سے آنسو بن کر بہہ نکلی اس کے ساتھ قتل اور زیادتی کے بہیمانہ واقعے نے پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور پھر ہر جگہ ہمیں زینب دکھائی دینے لگی۔ خبروں، ٹاک شوز‘ تجزیوں، کالموں سے لے کر روز مرہ کی گفتگو‘ آپس کی بات چیت‘ ٹوئٹر کی ٹویٹس
مزید پڑھیے


زوال کی داستان کا پہلا باب

اتوار 05  اگست 2018ء
دیکھنے والی آنکھ کے لیے بہت کچھ ہے جس سے وہ عبرت پکڑے جس سے اس پر عیاں ہو کہ اس بے ثبات دنیا میں کچھ بھی مستقل نہیں۔ ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں۔سورج چڑھتا ہی غروب ہونے کیلئے ہے۔ چاند جس رات اپنی چاندنی کے جوبن پر ہوتا ہے اسی رات سے اس کے گھٹنے کے دن شروع ہو جاتے ہیں۔ جو رات ہے عروج کی وہی ہے زوال ہے۔عروج و زوال‘ دن و رات خوشی اور غم‘ حسرت اور شادمانی دوستی اور دشمنی صحت اور بیماری ناکامی اور کامیابی‘ نامرادی اور بامرادی۔ زندگی اور موت باہم
مزید پڑھیے


ہارے بھی تو بازی مات نہیں…!!

جمعه 03  اگست 2018ء
بنیادی طور پر وہ پوٹھو ہار کی سرزمین سے تعلق رکھنے والی جی دار خاتون ہیں جی ہاں۔ کوئی اور نہیں ڈاکٹر یاسمین راشد کا تذکرہ ہے جنہوں نے این اے 125کا معرکہ اس جانبازی اور جانفشانی سے لڑا کہ ہار کر بھی جیت گئی ہیں۔ شاید اسی کو کہتے ہیں‘ ہارے بھی تو بازی مات نہیں۔ الیکشن 2018ء میں ایک عجیب ہار ہوئی ہے جس کا تذکرہ سوشل میڈیا پر جیت والوں سے زیادہ ہے۔ شاید اس لیے کہ انہوں نے اس الیکشن کو عشق کی بازی سمجھ کر کھیلا اور ہار کر بھی جیت والوں سے زیادہ سرخرو ہوئیں
مزید پڑھیے


کپتان اور امیدوں کے آبگینے

اتوار 29 جولائی 2018ء
الیکشن پاکستان میں پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔ اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی حکومت بناتی۔ روایتی انداز میں وزراء کا انتخاب کیا جاتا۔ حکومت کے قدم مضبوط کرنے کے لیے اسمبلی میں پہنچنے والی زیادہ سے زیادہ سیاسی جماعتوں کو اپنا ہم خیال بنانے کے لیے سیاسی جوڑ توڑ بھی کیا جاتا رہا۔ ہر نئی حکومت سے عوامی توقعات لوڈشیڈنگ‘ مہنگائی‘ اور بے روز گاری‘ غربت کے خاتمے تک محدود ہوتیں۔ الیکشن 2018ء کے بعد صورت حال مگر مختلف ہے نیا پاکستان اور تبدیلی کا نعرہ دینے والے کپتان سے پاکستانیوں نے وہ امیدیں وابستہ کر رکھی ہے جو شاید پاکستان کی
مزید پڑھیے


تبدیلی کی ہوا!

جمعه 27 جولائی 2018ء
الیکشن 2018ء کا مرحلہ بالآخر کامیابی سے طے ہو گیا۔ آج الیکشن کے بعد دوسرا دن ہے۔ ملک کے طول و عرض میں پاکستان تحریک انصاف کے سپورٹرز اور ووٹرز میں جشن کا سماں ہے اور کیوں نہ ہو کہ الیکشن 2018ء کا معرکہ تحریک انصاف نے اپنے نام کر لیا ہے اور اب ملک میں نئے پاکستان اور تبدیلی کے نعروں کی گونج ہے۔ ہر الیکشن میں کچھ نتائج توقع کے خلاف یا توقع سے بڑھ کر آتے ہیں اور ایسے ہی غیر متوقع نتائج انتخابی عمل کی سنسنی خیزی میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس الیکشن میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
مزید پڑھیے


الیکشن ڈے۔ عوام کی طاقت کا اظہار

بدھ 25 جولائی 2018ء
جس وقت میں نے یہ کالم قلمبند کیا ہے انتخابی مہم کے ختم ہونے میں صرف 6گھنٹے باقی ہیں۔ اور اس وقت تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم میں ایک عجیب سی تیزی آ گئی ہے۔ ایسے ہی جیسے چراغ بجھنے سے پہلے زور سے پھڑ پھڑاتا ہے۔ یہاں مگر منگلا کینٹ کی اس شہر سے قدرے دور خاموش اور پرسکون برال کالونی میں اس ہنگام کی کوئی خبر نہیں ملتی۔ میں گزشتہ دو دن سے یہاں ہوں ہاں لاہور میں جہاں میری رہائش ہے اقبال ٹائون وہاں ‘ الیکشن مہم کے آخری دنوں میں پی ٹی آئی اور
مزید پڑھیے