BN

سعدیہ قریشی


جس روز ہمارا کوچ ہو گا


البم میں سجی ہوئی تصویریں، گزرے ہوئے وقت کا نقش ہوتی ہیں۔ ہم ان تصویروں کو دیکھ کر ذرا سی دیر کے لیے پھر سے وہ لمحے جی لیتے ہیں۔ وقت گزرتا رہتا ہے۔ لوگ بوڑھے ہونے لگتے ہیں، خدوخال کے گلاب مرجھانے لگتے ہیں، عمر رواں اپنی گرد ڈال کر آگے نکل جاتی ہے تو تصویریں ہی بوڑھی ہو کر مرنے لگتی ہیں۔ ان تصویروں میں مسکراتے، زندگی کی گہما گہمی کو اپنے خوب صورت چہروں کے خدوخال سے منعکس کرتے ہوئے چہروں پر جب موت اپنا عکس ڈالتی ہے تو پھر ان تصویروں میں زندگی کی رمق باقی
بدھ 03 جون 2020ء

دعا سے وبا کا موسم پلٹ جائے

اتوار 31 مئی 2020ء
سعدیہ قریشی
28مئی کو دانیال نو برس کا ہو گیا۔سالگرہ کیسے منانی ہے کیا کیا سرپرائز گفٹ ہوں گے دوستوں کو کون سے گفٹ دیے جائیں گے یہ ساری پلاننگ صاحبزادے پورا سال کرتے ہیں مگر 28مئی اس بار وبا کے موسم میں آیا۔ لاک ڈائون میں اگرچہ نرمی ہے مگر سکول تو بند ہیں اور جنم دن کی سب سے اہم تقریب تو سکول کے دوستوں کے ساتھ منائی جاتی تھی جس میں برتھ ڈے بوائے ہم جماعتوں کے جھرمٹ میں کیک بھی کاٹتے اور پھر اپنی طرف سے سارے ہم جماعتوں کو گفٹ بھی دیتے۔ سب بچے اس سرپرائز پر
مزید پڑھیے


ہم کب بڑے ہوں گے؟

بدھ 27 مئی 2020ء
سعدیہ قریشی
وبا کے دنوں کی عید تھی جیسے تیسے کر کے گزر گئی stay at homeاور stay safeکی پوسٹیں فیس بک پر تواتر سے لگانے والے بھی عید کے روز اپنوں سے ملنے ملانے گئے۔ حالانکہ ارادہ یہی تھا کہ محدود رہنا ہے اور محفوظ رہنا ہے لیکن کیا کریں کہ عید اس کے علاوہ اور ہے ہی کیا کہ انسان زندگی کی ہر مصروفیت سے دامن چھڑا کر چند لمحوں کے لیے اپنوں کے ساتھ مل بیٹھے، اور بس۔ اسی لیے تو عیدوں پر پردیسی اپنے اپنے گھروں کا رُخ کرتے ہیں۔ کوئی لاری اڈے کی تھرڈ کلاس بسوں میں
مزید پڑھیے


’’شہر وصال سے آنے والی ہوائیں ہجر انگیز بہت ہیں‘‘

اتوار 24 مئی 2020ء
سعدیہ قریشی
پاکستانی قوم کورونا کے سائے میں عید منانے کے خیال سے پہلے کچھ اداس اور پژمردہ سی تھی کہ عید کے مسافروں کی اڑان بھرنے والا جہاز کراچی میں تباہ ہو گیا۔ اس حادثے نے پوری قوم کو ایک بڑے دکھ سے ہمکنار کر دیا۔ مصائب اور تھے پر جی کا جانا، عجیب اک سانحہ سا ہو گیا ہے!لگتا ہے دل کے آس پاس کوئی چیز ٹوٹ کر بکھر گئی ہے۔ روح کی سنسان گلیوں میں اداسی پھیرے لگاتی ہے اور اس پر عید کی آمد کا احساس جو ہمارے ہاں روایت کے مطابق اپنوں کی دید سے جڑا ہوا
مزید پڑھیے


زندگی گزارنے کے روشن ایس او پیز

بدھ 20 مئی 2020ء
سعدیہ قریشی
پچاس‘ پچپن صفحات پر مشتمل یہ ایک مختصر سی کتاب ہے۔ یہ کتاب میں نے انارکلی کی پرانی کتابوں کے سٹال سے خریدی تھی۔ پرانی کتابیں فٹ پاتھ پر بک رہی ہوں یا سٹالوں پر‘ اپنی جانب ضرور کھینچتی ہیں۔ پرانی سال خوردہ کتابوں کو الٹ پلٹ کر کے دیکھنا اور اپنی پسند کی کوئی کتاب تلاش کرنا ایک پرلطف عمل ہے اور اس خوشی کو وہی جان سکتا ہے جسے کتاب پڑھنے اور پرانی کتابوں کے ذخیرے سے خزانے تلاش کرنے کا چسکا ہو۔ یہ گزشتہ موسم سرما کی دھیمی دھیمی سردیوں کی ایک دوپہر تھی‘ دن اتوار کا تھا
مزید پڑھیے



کپڑوں سے اٹی خالی الماریاں

اتوار 17 مئی 2020ء
سعدیہ قریشی
ہفتے میں چار دن کاروباری سرگرمیاں شروع ہونے اور لاک ڈائون کھلنے سے بازار بھیڑ سے بھر چکے ہیں۔ سماجی دوری اور باہمی فاصلے کا اصول ہوا ہو چکا ہے کئی ہفتوں کے لاک ڈائون میں شاپنگ کو ترسی ہوئی بیبیاں رسے تڑوا کر گھروں سے خریداری کی مہم پر نکل کھڑی ہوئیں ہیں۔سماجی دوری‘ باہمی فاصلہ ،ایس او پیز کس چڑیا کے نام ہیں۔ وہ شاپنگ کے ہیجان میں مبتلا ان بیبیوں کو خبر نہیں اور تو اور اپنے ساتھ اپنے چھوٹے بچوں کو بھی بازاروں میں لیے گھومتی پھرتی ہیں۔ اپنے تئیں یہ یقین کر چکی ہیں کہ
مزید پڑھیے


مئی‘املتاس اور مجید امجد

جمعه 15 مئی 2020ء
سعدیہ قریشی
مئی کا وسط آ چکا ہے اور ابھی تک نہ تو املتاس پہ توجہ دے پائی ہوں اور نہ ہی مجید امجد کو یاد کیا کہ مئی کی گیارہ تاریخ ہی تھی جب یہ شعر کہنے والا اس جہان سے رخصت ہوا تھا کہ : میں روز ادھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا اپریل کے ٹھنڈے میٹھے مہینے کے بعد مئی میں موسم گرما کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے۔ ہوا میں حدت بڑھ جاتی ہے اور ہوا کی یہی حدت املتاس کی شاخوں پر زور جادو جگاتی ہے یوں بہار گزرنے کے
مزید پڑھیے


سکرپٹ…؟؟

بدھ 13 مئی 2020ء
سعدیہ قریشی
یہ 2015ء کا سال ہے، یعنی آج سے پانچ برس پیشتر، بل گیٹس Tedtalkمیں عالمی وباء یعنی Pandemicپر ایک لیکچر دیتا ہے۔ ہال سامعین سے کھچا کھچ بھرا ہے۔ روشنیاں مدھم ہیں، ٹیڈ ٹاک کی مخصوص تالیوں کی گونج ابھرتی ہے اور سٹیج پر روشنی کے ایک دائرے کے حصار میں بل گیٹس، اپنی گفتگو کا آغاز کرتا ہے، میں اس کی گفتگو کو ترجمہ کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ بل گیٹس کہتا ہے کہ اگلے چند سالوں میں لوگ جنگوں سے نہیں وبائی امراض سے مریں گے۔ پھر وہ وضاحت کرتا ہے کہ میزائل سے نہیں بلکہ ان کے مرنے کی
مزید پڑھیے


بے یقین موسم میں لکھا گیا ایک کالم

اتوار 10 مئی 2020ء
سعدیہ قریشی
کبھی ایسا لگتا ہے کہ زندگی خوف اور بے یقینی کی اسیر ہو چکی ہے۔ صرف پاکستان ہی نہیں پورا عالمی گائوں اس بے یقینی کا شکار ہے۔ کبھی یوں لگتا ہے جیسے بے یقینی کا یہ زرد موسم کسی طاقت نے جان بوجھ کر انسانوں کی بستی پر اتارا ہو اور اب اسے (A time of great uncertanity)کہا جا رہا ہو یعنی دور بے یقینی۔ جیسے کبھی ۔(A time of great depression) لوگوں کا مقدر تھا۔ معیشت جس میں جھاگ کی طرح بیٹھ گئی تھی ،امریکہ سے شروع ہوا اور کئی ملکوں تک پھیل گیا۔ نوکریاں چلی گئیں روزگار
مزید پڑھیے


کیا’’دست اجل کو سہولت دے دی گئی ہے‘‘؟

جمعه 08 مئی 2020ء
سعدیہ قریشی
وبا اگر صرف ایک بیماری ہو تو لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس سے محفوظ رہنے کا جتن کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر اس عالمی وبا کے درپردہ ‘ نہ سمجھنے آنے والے پراسرار عوامل کارفرما ہوں تو پھر یہ صورت حال ایک گورکھ دھندہ بن جاتی ہے اور اب تو اس وبا کے موسم میں ایسے ایسے المیے جنم لے رہے ہیں مسائل کی جو صورت پہلے تھی وہی کچھ کم نہ تھی لیکن اب جو کچھ خلق خدا کے ساتھ ہو رہا ہے وہ بہت بھیانک ہے۔ کراچی میں ڈاکٹر فرقان الحق کی المناک موت نے اخبارات سے
مزید پڑھیے