BN

سعدیہ قریشی


اوپر سے حکم ہے


مارچ کے وسط میں ہمارے ہاں وبا کا موسم اپنے پنجے گاڑ چکا تھا۔ دلوں سے لے کر شہر کی شاہراہوں تک، ایک خوف اور ہراس کا عالم تھا۔ انہی دنوں ہماری ایک عزیز فیملی کا طالب علم بیٹا لندن سے واپس گھر آیا تو حفظ ما تقدم کے طور پر اس کا ٹیسٹ کروا لیا گیا۔ اس میں بغیر علامتوں کے کورونا ٹیسٹ پازیٹو آیا۔ پڑھے لکھے اور با شعور لوگ ہیں، شہر کے پوش علاقے میں رہتے ہیں، سو اس وبا کے پھیلائو کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے والدین نے اپنے لندن پلٹ صاحبزادے سے صرف دور
بدھ 06 مئی 2020ء

روحانی خلاء کو بھرنے والے

منگل 05 مئی 2020ء
سعدیہ قریشی
اسی کی دہائی میں جنید جمشید جیسا چاہے جانے والا اور کوئی گلو کار نہ تھا۔شعیب منصور کے لکھے ہوئے گیتوں کو جنید جمشید کی آواز لازوال بناتی رہی۔ وہ کون تھی تمام شہر جس کے حسن میں گم تھا۔ تمہارا اور میرا نام جنگل میں درختوں پر ابھی لکھا ہوا۔ میرا دل نہیں availableکوئی اور در کھٹکھٹائو۔ کتنے ہی گیت ہیں جو اس وقت حرزجاں بنے۔ اور آج پھر اس وقت کو یاد کر کے تحریر میں خودبخود امڈ رہے ہیں۔ یاد آتا ہے کہ اس وقت سکول کا زمانہ تھا اور دل دل پاکستان ہم نے بھی
مزید پڑھیے


’’سچ آکھاں تے بھانبھڑ مچ دا اے‘‘

اتوار 26 اپریل 2020ء
سعدیہ قریشی
کچھ کالم محض کالم نہیں، ایک فرض کی طرح ہوتے ہیں۔ جن کا ادا کرنا بہرحال ضروری ہوتا ہے اور یہ فرض ادا نہ کیا جائے تو لکھاری کو اپنے ضمیر پر بوجھ کا احساس ہوتا ہے۔ جانتی ہوں کہ یہ سماج سچ کوہضم نہیں کر سکتا۔ اس لئے کہ سماج کا تانا بانا طاقتور کی سہولت کے لئے بنا گیا ہے۔ اس سماج کے سارے ضابطے طاقتور کے خدمت گزار ہیں۔ یہاں جو اختیار‘ رسوخ‘ طاقت‘ سٹیٹس‘ سے عاری ہو وہ روندا جاتا ہے۔ سچ کڑوا ہوتا ہے۔ سچ بولنا مشکل ہے۔ سچ بولنے والے سولی پر چڑھتے ہیں۔ سچ
مزید پڑھیے


ماہ رمضان کی آمد

جمعه 24 اپریل 2020ء
سعدیہ قریشی
رمضان کی آمد اور اس بار کچھ سونی سونی سی ہے۔ عموماً رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ہی بہت سی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ گھروں میں خواتین گھر کی تفصیلی صفائیاں کرتی ہیں پردے دھلوائے جاتے ہیں‘ فرش چمکائے جاتے ہیں۔ جہاں صفائیاں معمول کا حصہ نہیں ہوتیں وہاں تو دیواروں کی گرد بھی رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی جھاڑی جاتی ہے اور کونوں کھدروں کے جالے بھی اسی ماہ مبارک کی آمد سے قبل اتارے جاتے ہیں۔ الحمد اللہ ہمارے ہاں تو صفائی معمول کی صفائیاں بھی غیر عمولی انداز میں ہوتی ہیں۔ سو رمضان
مزید پڑھیے


تین دن کا از خود لاک ڈائون

بدھ 22 اپریل 2020ء
سعدیہ قریشی
یہ شہر کے ایک مشہور سپر سٹور کا منظر ہے، جہاں دنوں میں ہی عید کی خریداری والا رش لگا رہتا ہے۔ ان دنوں لاک ڈائون کی کیفیت میں یہاں خریداروں کا رش ہے۔ آس پاس کے رہائشی علاقوں کے خوشحال لوگ بھی خریداری کے لیے یہاں آتے ہیں لیکن ایسا نظم و ضبط میں نے پہلے کبھی مشاہدہ نہیں کیا جیسا اس روز دیکھا۔ مردوں اور عورتوں کی علیحدہ علیحدہ قطاریں اور ان میں دو دو فٹ کے فاصلے صبر سے کھڑے ہوئے خریدار اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ کسی کو آگے بڑھ کر اندر جانے کی
مزید پڑھیے



فائیو جی ٹیکنالوجی ،کرونا وائرس اور انسان

اتوار 19 اپریل 2020ء
سعدیہ قریشی
کیا فائیو جی ٹیکنالوجی ہماری زندگیوں کو یرغمال بنا لے گی۔؟ گاہے یہ سوال ذہن میں اٹھتا اور سر پٹختا ہے۔؟ ٹیلی کمیونی کیشن کی سپر سانک سپیڈ کا اسیر ہو کر انسان‘ انسان سے دور ہو جائے گا ۔کیا زندگی لمس کو ترس جائے گی۔؟ زندگی ایک دوسرے کے وجود کی حرارت سے تہی ہو جائے گی۔؟ کیا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا خبط کاروبار حیات کے لئے انسان کو غیر ضروری کر دے گا۔ ہسپتالوں سے فیکٹریوں و دفتروں سے تعلیمی اداروں تک اگر روبوٹ انسان کی جگہ کام کرنے لگیں گے تو پھر یہ کاروبار حیات کس کے
مزید پڑھیے


گوگل کلاس روم اور بیچاری مائیں!

جمعه 17 اپریل 2020ء
سعدیہ قریشی
کورونا کے آنے سے زندگی کا ڈھب بدل کر رہ گیا ہے۔ یوں لگتا ہے پرانے فریم میں ایک نئی تصویر لگا دی گئی ۔ ہم تو وہی ہیں لیکن ہماری زندگی کے رنگ ڈھنگ طور اطوار بدل چکے ہیں اور میرے ایسے لوگ جن کے اندر ابھی قدیم روحوں کا بسیرا ہے ان کے لئے ہی فائیو جی ٹیکنالوجی پر منتقل ہوتی زندگی کے کچھ رنگ آسانی سے قابل قبول نہیں ہیں۔ آن لائن سماجی رابطے‘ تو کچھ عرصہ سے ہماری زندگی کا صفحہ بن چکے ہیں اور اس میں بہت سے پہلو ایسے ہیں کہ جن کا مجموعی طور
مزید پڑھیے


’’میں کورونا کی پٹائی کر دوں گی‘‘

بدھ 15 اپریل 2020ء
سعدیہ قریشی
سنتے آئے ہیں کہ جب کسی روز دنیا اچھی نہ لگے تو کسی بچے کو آئس کریم کھاتے ہوئے دیکھ لیں۔ مگر ایک ایسی دنیا میں ہم کیا کریں جہاں وبا کا موسم پھیل چکا ہو اور بچوں کو آئس کریم کھانے سے احتیاطی تدبیر کے طور پر روک دیا گیا ہو۔! وبا کے اس موسم میں جب بچوں کے سکول جانے پارکوں میں کھیلنے اور نانا‘ نانی ۔ دادا داری سے گلے مل کر پیار لینے پر بھی پابندی ہو‘ وہاں یہ معصوم پھولوں جیسے بچے کیا سوچتے ہیں۔ بچوں کے مسکرانے ‘ ہمکنے اور کھلکھلانے سے زندگی میں
مزید پڑھیے


خوف کو شکست دینا کیوں ضروری ہے

اتوار 12 اپریل 2020ء
سعدیہ قریشی
گزشتہ کالم میں قدرت کی طرف سے عطا کردہ حیران دفاعی میکانزم یعنی‘ امیونٹی سسٹم(immunity systam)پر بات ہوئی تھی۔ یہ نعمت ہر انسان کو قدرت کی طرف سے میسر ہے۔ ایک پوری حفاظتی بریگیڈ ‘ ہمہ وقت اسے ان گننت جراثیموں اور وائرسوں کے حملے سے بچاتی رہتی ہے۔ بیماریوں سے حفاظت کا یہ پیچیدہ نظام خودکار طریقے سے کام کرتا ہے یعنی ہماری اس میں کوئی شعوری کوشش نہیں ہوتی۔ لیکن جو بات یہاں سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنی شعوری کوشش سے اس حفاظتی بریگیڈ کو مضبوط توانا اور طاقت ور کر سکتا ہے تاکہ یہ
مزید پڑھیے


قدرت کا عظیم الشان دفاعی میکانزم

جمعه 10 اپریل 2020ء
سعدیہ قریشی
زندگی جب سے کرونائی ہوئی ہے‘ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہوا میں آکسیجن‘ نائٹروجن اور کاربن ڈائی اکسائیڈ کی جگہ‘ کسی انہونی کا ڈر‘ شک اور بیماری کا مستقل خوف موجود ہے۔ انسانی نفسیات کی پرپیج گلیوں میں خوف نے بسیرا ڈال دیا ہے۔شہر کی گلیوں‘ چوراہوں اور شاہراہوں پر ایک آسیب رینگتا رہتا ہے۔ گھر کی محفوظ پناہ گاہوں میں بھی یہ آسیب کسی طور پیچھا نہیں چھوڑتا۔ دن کے اٹھارہ گھنٹے‘ ہاتھ دھوئے‘ جراثیم کش سپرے کرے۔ سینی ٹائزر لگانے ار ایک نادیدہ دشمن سے مسلسل لڑتے ہوئے گزرتے ہیں۔فیس بک کی پوسٹوں سے وٹس ایپ میں آنے والے
مزید پڑھیے