سعدیہ قریشی



عید اور ناسٹیلجیا


کل ایک تصویر ڈھونڈنے کے لیے پرانی تصویروں والا ڈبہ کھولا تو گزری زندگی کے کئی لمحے تصویروں کی صورت میرے سامنے تھے۔ پرانی تصویریں کیا دیکھیں لگا کچھ وقت کے لیے میں کسی ٹائم مشین پر بیٹھ کر گزرے ہوئے زمانوں میں چلی گئی تھی۔ کچھ پرانی تصویریں ایسی تھیں جنہیں میں نے البم میں قید نہیں کیا بلکہ ایک ڈبے میں بے ترتیب رکھ دیا ہے۔ تصویروں کی اس بے ترتیبی میں ایک عجیب سا لطف ہے۔ تصویروں کا باکس کھولیں تو کبھی کوئی لمحہ تصویر کی صورت ہاتھ آ جاتا ہے اور کبھی کوئی۔ بالکل اڑتی ہوئی
بدھ 05 جون 2019ء

حسرتوں سے بھری خالی جیب اور عید کے رنگا رنگ پیکیج

اتوار 02 جون 2019ء
سعدیہ قریشی
مہنگائی اور مزید مہنگائی سے ادھ موئے ہوئے۔ کم و بیش ساٹھ‘ ستر فیصد پاکستانیوں کے لئے عید جیسا خوشی کا موقع بھی اپنے ساتھ حسرتیں مشکلات اور مسائل لے کر آتا ہے۔ عیدالفطر میں صرف دو دن باقی ہیں اور خوشحال گھرانوں میں عید کی تیاریاں عروج پر ہیں عید تو غریب شہر بھی مناتا ہے اس کے بچے بھی نئے کپڑے اور نئے جوتوں کی فرمائش کرتے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ غریب کے بچے تو پورے سال میں ایک بار عید کے موقع پر ہی نئے کپڑے پہننا چاہتے ہیں ورنہ سارا سال تو اترن پہن
مزید پڑھیے


اخلاقی کرپشن محض دِل لگی نہیں!

بدھ 29 مئی 2019ء
سعدیہ قریشی
ہمارے سماج کا ایک خاص مزاج بن چکا ہے۔ جب بھی کوئی سیاسی یا سماجی ایشو ابھرتا ہے، اس پر وہ دو طرح کا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ ایک ردعمل الزامات، گالی گلوچ، کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس میں لوگ اپنے غصے کا اظہار کرتے ہیں۔ دوسرا ردعمل لطیفہ بازی کی شکل میں ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں سنگین سے سنگین معاملات کو لوگ لطیفوں میں ڈھال کر ہنسی میں اڑا دیتے ہیں۔ ویسے کیسی ذہین قوم ہے کہ ایسے سنگین حالات و واقعات اور معاملات کو چلبلے لطیفوں میں ڈھال کر ایک دوسرے کو وٹس ایپ اور فارورڈ کرنے
مزید پڑھیے


املتاس کا زرد جادو

اتوار 26 مئی 2019ء
سعدیہ قریشی
خبروں کے محاذ پر بہت کچھ ہے‘ ہولناک سماجی ایشوز‘ پاکستانی مارکہ جمہوریت کے اتار چڑھائو۔ اور پھڑکتے ہوئے اخلاقی سکینڈل۔ لیکن آج کا کالم صرف املتاس کے نام ہے۔ مئی املتاس کا مہینہ ہے۔ مئی کی گرم ہوائیں املتاس کی شاخوں کو چھو کر ان زرد پھولوں کا ایسا جادو جگا دیتی ہیں کہ دیکھنے والا مسحور ہو کے رہ جاتا ہے۔ املتاس عجیب درخت ہے خزاں کے موسم میں جب درختوں کے ہاتھ پتوں سے خالی ہو جاتے ہیں۔ املتاس اپنی شاخوں پر سبز پتے لیے باغ میں کھڑا رہتا ہے اور جب بہار کے موسم میں خشک ٹہنیوں
مزید پڑھیے


وصال نبی ﷺ پر صحابہؓ اور صحابیاتؓ کے اشعار

جمعه 24 مئی 2019ء
سعدیہ قریشی
شعر‘ غم کی اتھاہ گہرائی‘ حزن و ملال کی گہری تاریکی اور اعلیٰ درجے کی دلی اور روحانی خوشی کی سرزمین سے پھوٹتے ہیں۔ عربوں کے ضمیر میں‘ زبان و بیان کی چاشنی‘ فصاحت و بلاغت ‘ حسن تمثیل اور شعر دانی گھلی ہوئی تھی۔ عہد نبویؐ میں شعر و ادب کی ایک ہلکی سی جھلک گزشتہ کالم میں بیان ہوئی۔ حضرت حسان بن ثابتؓ شاعر رسول کہلائے۔ عبداللہ بن رواحہؓ سید الشعراء کا خطاب پاتے ہیں تو کعب بن مالکؓ کو شاعر جہاد کا درجہ دیا گیا۔ یہ تووہ بڑے اور اہم نام ہیں جو باقاعدہ شاعر تھے اور اپنی شعر
مزید پڑھیے




عہد نبوی میں شعرو ادب (2)

بدھ 22 مئی 2019ء
سعدیہ قریشی
روایت ہے کہ کہ قدیم عربوں میں تین مواقع پر مبارکباد دینے کا رواج تھا۔ پہلا جب کسی کے ہاں لڑکا پیدا ہوتا۔ دوسرا جب کسی کی اصیل گھوڑی بچہ دیتی اور تیسرا جب کسی قبیلے میں کوئی قادرالکلام شاعر ابھرتا! گزشتہ کالم میں حضور پاکؐ کی پھپھیوں کے ادبی اور شعری ذوق کا تذکرہ ہوا۔ حضور اکرمؐ کے دادا حضرت عبدالمطلب بھی موقع محل کی مناسبت سے شعر کہتے اور عمدہ شعری ذوق رکھتے۔ تاریخی روایت ہے کہ جب سرکار دوعالمؐ کی پیدائش ہوئی آپؐ کے دادا اپنے جلیل القدر پوتے کو گود میں اٹھا کر کعبہ لے آئے وہاں
مزید پڑھیے


عہد نبوی ﷺ میں شعر و ادب

اتوار 19 مئی 2019ء
سعدیہ قریشی
کتاب چھپوانے کے بعد دوسرا مرحلہ اس کی ترویج کا ہوتا ہے۔ اپنی کتاب کی مشہوری کے لئے یہاں لکھاریوں کو بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ اخبارات میں کتاب سے متعلقہ خبریں لگوانے اور کالم لکھوانے کے علاوہ اپنے ہی خرچ پر اپنے اعزاز میں تقاریب برپا کرنا پڑتی ہیں۔ اور اب تو فیس بک کی سہولت موجود ہے کتاب آ جائے تو پھر یہی کوشش ہوتی ہے کہ دوستوں کی ہر دوسری پوسٹ اسی کتاب سے متعلق ہو۔ اپنے دوستوں کو کتابیں تحفتاً دی جاتی ہیں اس توقع کے ساتھ کہ کتاب ملتے ہی دوست اس کی ایک تصویر
مزید پڑھیے


اپنے حصے کا کوئی رنج اٹھائیں جائیں!

جمعه 17 مئی 2019ء
سعدیہ قریشی
زندگی کی ناہموار پگڈنڈی پر سفر کرتے ہوئے ہر مسافر کے کاندھے پر ایک گٹھڑی دھری ہے۔ اس گٹھڑی میں ایک کہانی رکھی ہے۔ ہر کہانی کے اپنے اپنے کلائمکس اور اینٹی کلائمکس ہیں۔ ہر کہانی کا عنوان جدا جدا ہے لیکن ہر کہانی کا خلاصہ ایک ہے۔ دکھ‘ رنج‘ نارسائی‘ رائیگانی اور مسلسل تنہائی! مسافر کاندھے پر گٹھڑی اٹھائے محو سفر‘ چلتا جاتا جہاں تک عدم کا کنارہ آئے۔ اور اس راستے پر اپنے خوابوں اور عذابوں کو بوجھ اسے خود ڈھونا پڑتاہے۔ بظاہر ہر شخص ایک خوشی کی تلاش میں ہے مگر خوشی ایک سراب بنتی جاتی ہے۔ خوشی ہاتھ
مزید پڑھیے


شہید بابا کو رخصت کرتی بٹیا رانی

بدھ 15 مئی 2019ء
سعدیہ قریشی
ایک تصویر ہے شہید باپ اور نومولود بیٹی کی آخری ملاقات کی، لیکن اس تصویر کو خشک آنکھ سے دیکھا نہیں جا سکتا۔ جب بھی اس پر نگاہ پڑتی ہے ایک ٹیس سی دل میں اٹھتی ہے اور دور تک آنسوئوں کی ایک دھند پھیل جاتی ہے اور پھر یہ منظر دھندلا جاتا ہے۔ دھندلائے ہوئے اس منظر کو بیان کرنا اور لکھنا اتنا آسان نہیں لیکن پھر میں اور کیا لکھوں۔ کل سے یہ تصویر آنکھ میں نمی بن کے اتری ہوئی ہے۔ ایک گہری اداسی نے شہر جاں میں بسیرا کر رکھا ہے۔ ایک مسلسل زرد اداسی اور آنسوئوں
مزید پڑھیے


بے حس حکمران، اور مفلس شہر کے سحرو افطار

اتوار 12 مئی 2019ء
سعدیہ قریشی
رمضان المبارک کی روحانی برکتیں تو شاید ہم جیسوں سے کنی کترا کر گزر جاتی ہوں گی کہ ہماری عبادتوں پہ ریاکاری کا سایہ ہے، ہمارے صدقہ و خیرات میں نمائش اور دکھاوا ہے اور سجدوں میں دل میں آباد صنم کدوں کا بوجھ۔ سو ہمارے لئے رمضان المبارک سحر و افطار کا مہینہ ہے۔ اور سحرو افطار کا مطلب ہے، دسترخوان پر طرح طرح کے کھانے، لذت کام و دہن کو نت نئے پکوان۔ لیکن وہ جنہیں دن بھر کی پوری مشقت کے بعد سوکھی روٹی اور چٹنی میسر آتی ہے ان کا رمضان کیسے گزرتا ہے۔ مہنگائی اور
مزید پڑھیے