BN

سعدیہ قریشی



ریگ رواں پہ نقشِ قدم اور کتنی دیر


وہ کل تک حکمران تھے، رعونت میں لتھڑے ہوئے رویے حلقہ بگوشوں اور عرض گزاروں کے درمیان ۔ تمکنت زعم کرم اور جاہ جلال ایسا تھا کہ پائوں زمین پر نہ ٹکتے تھے اور آنکھیں زمین پر بسنے والی مخلوق کو دیکھنے سے قاصر تھیں کہ نگاہوں کے سامنے نوشتہ دیوار ہیں۔ بس اپنے ہی اقتدار اور جاہ جلال کی شبیہ ٹھہری رہتی۔ عرصہ اقتدار کو لازوال سمجھنے والے اپنے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو کچلنا جانتے تھے۔ ایسے میں ماڈل ٹائون کے سانحے میں 14پاکستانی شہریوں کو ریاستی دہشت گردی میں مار دیا جانا ان کے نزدیک ایک
اتوار 07 جولائی 2019ء

دل دل پاکستان‘پریشان دل پاکستان

جمعه 05 جولائی 2019ء
سعدیہ قریشی
درویش منش شاعر تو قدرے گمنام رہا مگر اس کے قلم سے نکلے ہوئے دل پذیر مصرعے کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں کی دھڑکن بن گئے۔ دل پذیر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں جہاں بھی پاکستانی موجود ہیں۔ دل دل پاکستان کا قومی گیت ان کے لبوں اور لہو میں ضرور گونجتا رہا ہے۔ کون ایسا ہو گا جس نے یہ دل پذیر سادہ اور سلیس انداز میں کہا گیا قومی گیت گنگنایا نہ ہو۔ دل دل پاکستان جان جان پاکستان صرف ایک قومی نغمہ ہی نہیں بلکہ اپنی بے مثال مقبولیت اور پذیرائی کی بدولت میرے نزدیک تو
مزید پڑھیے


کرکٹ سینڈ روم میں مبتلا قوم

بدھ 03 جولائی 2019ء
سعدیہ قریشی
میرا کرکٹ سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ اگر ہے تو صرف اتنا کہ پاکستان جیت جائے تو خوشی ہوتی ہے۔ ہار جائے تو کوئی دُکھ نہیں ہوتا اس لیے کہ ہم تو کئی محاذوں پر پہلے ہی ہار رہے ہیں۔ وہ ثقافتی محاذ ہوں یا معاشی محاذ۔ اپنے ازلی حریف بھارت سے ہارتے ہوئے ہمیں اس وقت محسوس بھی نہیں ہوتا کہ وہ ہمیں کہاں کہاں شکست دے چکا ہے۔ گھر گھر انڈین فلمیں، ڈرامے، انڈین ڈراموں سے شروع ہونے والے لباس اور انداز و اطوار ایک فیشن بن کر ہمارے سماج کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہیں۔ اسی
مزید پڑھیے


گر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں

اتوار 30 جون 2019ء
سعدیہ قریشی
سچی بات ہے کہ عوام کے ہر طبقے میں ایک بددلی اور مایوسی کی کیفیت ہے اس نظام زر اور روز افزوں بڑھتی مہنگائی کے ہاتھوں‘ انسان کی بے توقیری ہمیشہ ہوتی رہی ہے۔ لیکن حکومتوں میں ایسی بے حسی کا مظاہرہ بھی کم کم ہی دیکھا ہے۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ جب پریس کانفرنس میں یہ کہتے ہیں کہ لوگ مشکل حالات کے لئے تیار رہیں تو وہ کن لوگوں سے اپنے تئیں مخاطب تھے۔ یقینا کاروباری طبقہ۔ جسے ہم خوشحال طبقے میں شمار کر سکتے ہیں۔ ان کے حالات کی خرابی کا مطلب یقینا یہ نہیں کہ ان
مزید پڑھیے


حسن جعفری کا قرض

جمعرات 27 جون 2019ء
سعدیہ قریشی
حسن جعفری کی کہانی آپ کو پرملال کر دے گی۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا دل اداسی کی گرد سے بچا رہے اور آپ کی آنکھوں میں افسوس کی نمی نہ اترے تو بہتر ہے آپ یہ تحریر نہ پڑھیں۔ حسن جعفری کا تعلق میڈیا انڈسٹری سے ہی تھا لیکن وہ کوئی بڑا صحافی‘ کوئی مشہور کالم نگار‘ کوئی سلیبرٹی اینکر پرسن نہ تھا ۔بس ایک معمولی سا، عام سا فوٹو گرافر تھا۔ سارا دن اپنی پھٹیچر موٹر سائیکل پر سڑک گردی کرتا۔ خبروں سے جڑی تصاویر کی تلاش میں رہتا۔ تاوقتیکہ کہ خود ایک المیہ خبر بن گیا۔ ایک
مزید پڑھیے




نصف صدی سے زیادہ کا قصہ

اتوار 23 جون 2019ء
سعدیہ قریشی
یہ جو ایک شخصیت الطاف حسن قریشی ہمارے درمیان موجود ہیں یہ صرف ایک شخص ‘ ایک آدمی‘ ایک صحافی نہیں بلکہ پورا ایک عہد اپنی ذات میں سموئے ہوئے ہیں۔ بغیر کسی مبالغہ آرائی کے ایک ہزارداستان کا نام الطاف حسن قریشی ہے۔ داستان تو آپ سمجھتے ہیں نا جس میں کہانی در کہانی، آئینہ در آئینہ، عکس درعکس، سفر در سفر ایک مسلسل مسافت ہوتی ہے۔ یہ مسافت جو کبھی دریائوں اور سمندروں میں پڑائو ڈالتی ہے تو کبھی گھاٹیوں اور صحرائوں سے گزرتی ہے۔ داستان کا ایک مرکزی کردار ہوتا ہے جس سے کئی دوسرے کردار اور
مزید پڑھیے


عظیم الشان کفایت شعاری مہم اور عوام

جمعه 21 جون 2019ء
سعدیہ قریشی
حکومت مسلسل کفایت شعاری کے راستے پر گامزن ہے اور بدحال معاشی صورت حال کے گرداب سے نکلنے کے لئے کفایت شعاری کا ہر حربہ‘ ہر ٹوٹکہ استعمال کر رہی ہے۔ کفایت شعاری کی مہم کے تحت حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پارلیمانی سیکرٹریز کی تنخواہوں میں 19فیصد اضافہ کر دیا جائے اور ساتھ ہی ان کے دیگر الائونسز اور مراعات بھی بڑھا دی جائیں۔ اس حوالے سے یہ نہایت صائب فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگرچہ پارلیمانی سیکرٹریز کی تعداد 23ہیلیکن فنڈز 42پارلیمانی سیکرٹریز کے لئے پاس کروا لئے جائیں۔ ہو سکتا ہے کہ کل کلاں کو حکومت
مزید پڑھیے


عمدہ نسل کا آوارہ گرد

بدھ 19 جون 2019ء
سعدیہ قریشی
مستنصر حسین تارڑ نے ماجد فرید ساقی کو ایک عمدہ نسل کا آوارہ گرد قرار دیا ہے۔ ایک لکھاری کے لیے اس سے بہتر اور پرفخر تعارف اور کیا ہو سکتا ہے، جو سفر کی تھکاوٹوں اور حلاوتوں کو لفظوں کا پیراھن پہناتا ہو۔ اس کی خوب صورت تحریر کے لیے مستنصر حسین تارڑ اور محمود شام کے الفاظ کی گواہی کافی ہے۔ شام صاحب کی اس بات سے میں متفق ہوں کہ جو پاکستان ماجد فرید اپنے پڑھنے والوں کو دکھاتے ہیں وہ کہیں زیادہ حسین ہے۔ اس کی جزئیات اور زیادہ رنگین ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے صحافی اور شوق
مزید پڑھیے


فی البدیہہ تقریریں‘ لطیفے اور مضحکہ خیزیاں

اتوار 16 جون 2019ء
سعدیہ قریشی
ہر روز ایک نیا لطیفہ ایک تازہ ترین مضحکہ خیزی ‘ حکومت کی طرف سے عوام کی خدمت میں پیش کی جاتی ہے تاکہ مہنگائی سے دلبرداشتہ امیدوں کے سراب میں بھٹکتے ہوئے پاکستانیوں کے لئے تفنن طبع کا سلسلہ بنا رہے۔ پاکستانی ماشاء اللہ سے سخت جان قوم ہیں اور مزاح کا عمدہ ذوق رکھتے ہیں۔ مسائل کے گرداب سے لطیفے بنانا اور اپنی تکلیفوں میں مزاح کے پہلو تلاش کرنا تو شاید ان پر ختم ہے۔ ڈالر اڑان پر اڑان بھرے جاتا ہے اور روپیہ بے چارہ اپنی بے قدری پر ہر روز مزید شرمندہ ہوتا گھٹتا چلا جاتا
مزید پڑھیے


مزدوربچے‘ ایڈز زدہ بچے اور تھر کے بچے

جمعه 14 جون 2019ء
سعدیہ قریشی
بچوں سے کائنات کی سب سے خوب صورت تخلیق ذہن میں آتی ہے۔ معصومیت ‘ شرارت‘ تازگی‘ نیا پن اور زندگی جن کے معصوم چہروں میں دکھائی دیتی ہے۔ یہ بچے مسکرائیں کھلکھلائیں تو زندگی اپنا بوجھ اتارنے لگتی ہے۔ کائنات کا یہ حسن تو ان بچوں کے دم سے ہے جو صاف ستھرے رنگ برنگے کپڑے پہنے اٹھیکھیلیاں کرتے۔ محبتوں سے بھرے محفوظ ماحول میں پرورش پاتے ہیں۔ لیکن المیہ تو یہ ہے کہ اس دنیا کے سبھی بچے ایسے خوش قسمت کہاں ہوتے ہیں۔ سو ہمارے آس پاس ایسے بدصورت مناظر بھی بہت ہیں کہ میلے گندے کپڑوں میں
مزید پڑھیے