BN

سعدیہ قریشی



فروری کی بارش۔ ورڈز ورتھ کے آبی نرگس کے پھول


فروری کا یہ دن بارش میں بھیگا ہوا ہے۔ رات سے بوندوں کی رم جھم لگی ہے۔ کبھی ہلکی تو کبھی تیز بارش، ہر شے بارش میں بھیگی ہوئی ہے۔ قدرت اپنا حسین ترین اظہار بارش کی صورت میں کرتی ہے۔ بارش میں کوئی طلسم ہے کہ سارے ماحول پر چھا جاتا ہے۔ یہ منظر سے پس منظر تک سب کچھ بدل دیتی ہے۔ رم جھم، کن مِن برستی بارش دل کے دروازوں پر دستک دیتی ہے۔ یاد کے پرانے سامان کھولتی ہے۔ کبھی نئے خواب جگاتی ہے۔ گرد آلود زمانوں کی گرد جھاڑتی ان چہروں کو ڈھونڈتی اور آواز
جمعه 15 فروری 2019ء

لکھاری اور قاری کا رشتہ

بدھ 13 فروری 2019ء
سعدیہ قریشی
لکھاری اور قاری کے درمیان ایک اٹوٹ انگ موجود ہے۔ ایک نہ ختم ہونے والا رشتہ۔ دونوں ایک دوسرے کے بنا مکمل نہیں۔! یہ رشتہ ایسا ہی ہے جیسے بارش کا تعلق خشک زمین سے۔ میگھ ملیار برستی ہے تو پانی کے قطروں کو جذب کرنے کے لئے زمین اپنی بانہیں وا کر دیتی ہے۔ لکھاری اور قاری کے درمیان بھی ایک ایسا ہی تعلق ہے۔ امریکی ناول نگار جان چیوّر نے بھی کیا خوب بات کہی کہ I can`t write without a reader it is precisely like a kiss. you cannot do it alone اگر میرے قارئین نہ ہوں تو میں لکھ
مزید پڑھیے


سعی لاحاصل !

جمعه 08 فروری 2019ء
سعدیہ قریشی
کبھی کبھی کالم لکھنے کا موڈ نہیں ہوتا۔ آج بھی کچھ ایسا ہی دن ہے۔ سردیوں کی بارش میں بھیگا ہوا۔ موضوع بھی بے شمار ہیں۔ ماتم کرنے کو سانحوں اور حادثوں کی بھی کمی نہیں اور حادثے تو ایسے ایسے ہیں کہ بندہ پتھر ہو جاتا ہے۔ سوالات کے گرداب میں پھنس کر۔ جواب نہیں ملتے۔ سمندر کی ریت پر پلاسٹک کی گڑیا کی طرح اوندھے منہ پڑی ہوئی وہ بچی جس کی سگی ماں نے اس کو اس بے دردی سے مار دیا۔ بہت سے سوال پوچھتی ہے ریاست پاکستان سے بھی اور اس سماج سے بھی۔ اس
مزید پڑھیے


کتابوں کا میلہ

بدھ 06 فروری 2019ء
سعدیہ قریشی
ہفتے کی سہ پہر کتابوں کی نمائش میں پہنچے تو پارکنگ میں گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھ کر ہی اندازہ ہو گیا کہ کتاب سے محبت کرنے والے جوق در جوق نمائش میں آ رہے ہیں۔ ایکسپو سنٹر کی پرشکوہ تکونی عمارت کے آس پاس کی بیرونی دیوار پبلشرز اور کتابوں کے رنگین بینروں سے سجی ہوئی تھی۔ اندر پہنچے تو ایک میلے کا سماں تھا۔ واقعتاً بہت رش تھا، لوگ اپنے خاندانوں کو لے کر کتابوں کی نمائش میں پہنچے ہوئے تھے۔ اس سے یقینا ایک خوشگوار تاثر بھرا کہ ہم ہر وقت کتاب نہ پڑھنے کا رونا روتے رہتے ہیں
مزید پڑھیے


رباّ سچیا توں تے آکھیا سی ۔!!

اتوار 03 فروری 2019ء
سعدیہ قریشی
ایک کالم نگار کے ذمے بھی کیا کام لگا ہے کہ ہر وقت ظلم ناانصافی پر ماتم کرتا رہے معاشرے میں موجود عدم مساوات‘ بھوک ننگ‘ غربت اور جہالت پر واویلا مچاتا رہے۔ حکومتوں کے غلط‘ ویژن سے عاری‘ عوامی دشمن پالیسیوں کو بے نقاب کرے‘ اپنے قلم سے حق اور سچ کا ساتھ دینے کی مقدور بھر کوشش کرتا رہے۔ لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ وقتی طور پر دل کی بھڑاس نکل گئی۔ اپنے غصے کا کتھارسس ہو گیا۔ کیا معاشرے پر‘ حکومتوں پر اہل اقتدار اور اہل اختیار پر اس کا کہیں کوئی اثر ہوتا ہے؟ خبریں
مزید پڑھیے




ہوا بہشت کے باغوں کی زلف زلف پھرے

جمعه 01 فروری 2019ء
سعدیہ قریشی
وہ میری ان دنوں کی سہیلی تھی جب زندگی نیلے اور سفید یونیفارم میں ملبوس ‘ بے فکری کی دہلیز پر روز ایک نیا خواب بنا کرتی۔ ماں باپ کی چھتنار چھائوں تلے اٹھکیلیاں کرتی۔ کبھی نہ رکنے والے بے وجہ قہقہوں سے سجی رہتی۔اس سے ملنے کا پہلا دن مجھے آج بھی یاد ہے۔ خان پور میں انگلش طرز تعمیر پر بنی ہوئی ریلوے کالونی کے ایک پرسکون اور سرسبز گوشے میں وہ سکول تھا جسے ہم روانی میں گورنمنٹ گرلز ہائی سکول ریلوے کالونی خان پور کہا کرتے تھے۔ جہاں میرا داخلہ چوتھی کلاس میں ہوا تھا۔ والد صاحب
مزید پڑھیے


کیا اخبار معدوم ہو جائیں گے؟

بدھ 30 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
اخبار کا میڈیا ان دنوں زوال کی زد میں ہے۔ یہ منظر حقیقی ہے یا پھر اس کو مصنوعی طریقے سے پیدا کیا گیا ہے لیکن سامنے نظر آنے والی حقیقت یہی ہے کہ اس وقت اخباری صنعت سے وابستہ ہزاروں کارکنان بیروزگار ہو چکے ہیں، ان میں تجربہ کار صحافی بھی شامل ہیں اور تکنیکی امور کا ماہر سٹاف بھی۔ اخبارات کے صفحات بھی سکڑ چکے ہیں لیکن بدقسمتی سے نوکری سے فارغ ہونے والے ان کم نصیبوں کے گھروں میں تو لالے پڑے ہوئے ہیں کہ خالی جیب زندگی کی گاڑی کو آگے کیسے گھسیٹا جائے۔ ان میں
مزید پڑھیے


روحی بانو کی کلینکل موت

اتوار 27 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
زندگی کا بوجھ ڈھوتے ڈھوتے روحی بانو روز مرتی تھی۔ شاید اسی لیے 25 جنوری 2019ء کو روحی کی کلینکل موت کی خبرمیں کچھ نیا پن نہیں تھا۔ روز مرنے کا ایک تسلسل ہو جیسے۔ ہاں مگر وہ روزمرنے کی اذیت سے نکل کر آسودہ ہوگئی۔ روحی بانو کی موت پر وہ روایتی جملے نہیں لکھے جاتے جو عموماً مشہور اور معروف مرنے والوں کی موت پر کہے جاتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ فلاں کی وفات پر بہت دکھ ہوا۔ ان کے جانے سے خلا پیدا ہوگیا وغیرہ وغیرہ۔ روحی بانو کی افسوس بھری زندگی جن کے سامنے تھی‘ انہیں اس
مزید پڑھیے


غم زدہ لوگوں کو پروڈکٹ سمجھنے والا میڈیا

جمعه 25 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے ۔ جس میں ایک صحافی موصوف ایک ننھی بچی سے سوالات کرتے ہوئے‘ بے حسی پر مبنی صحافت کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہیں۔ ننھی بچی جس نے ابھی اپنی آنکھوں سے اپنے ماں اور باپ کے ہولناک قتل کا سانحہ دیکھا ہو۔ اس سے سوال کر رہے ہیں‘ بلکہ کرید کرید کر پوچھ رہے ہیں۔ ’’آپ کے ابو کہاں ہیں؟ آج صبح آپ کی ان سے ملاقات ہوئی؟۔ بچی حیران پریشان جواب دیتی ہے’’ نہیں‘‘پھر وہ موصوف ایک اور سوال داغتے ہیں۔ کیوں ملاقات نہیں ہوئی۔ آپ کے ابو کہاں گئے ہیں۔ بچی معصومانہ انداز میں کہتی ہے’’وہ
مزید پڑھیے


یہ ہوتی ہے تبدیلی…

بدھ 23 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
عمر‘ منیبہ اور ہادیہ۔ تین کم نصیب بچے‘ عمریں بالترتیب 11 سال‘ سات اور چار سال۔ ان کے ساتھ جو ہولناک قیامت بیتی اس کی مذمت کے لیے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔ 19 جنوری کی صبح گھر سے چاچو کی شادی پر جانے کے لیے نکلے‘ ماں نے بہترین کپڑے بچوں کو پہنائے اور خود بھی اچھی تیاری کی۔ نئے چمکتے دمکتے کپڑے اٹیچی کیسوں میں رکھے‘ شادی پر جانے کی سو تیاریاں ہوتی ہیں‘ کئی ہفتوں سے ماں انہی تیاریوں میں لگی ہوئی تھی اور پھر خاندان میں شادی ہو تو ناک رکھنے کو بہت سے اضافی خرچے
مزید پڑھیے