BN

سعدیہ قریشی


کیا انہیں موت کا الہام ہو گیا تھا


یہ کالم میں 24جنوری 2020ء کو لکھ رہی ہوں‘ پورے دس برس بیت گئے دو ہزار دس کے 24جنوری کو‘ جب ارشاد احمد حقانی اس فانی دنیا سے اگلے جہانوں کو رخصت ہوئے۔ مجھے آج بھی یہ بات حیران کر دیتی ہے کہ آخر ان کو اپنی موت کا الہام کیسے ہو گیا تھا اور چار چھ مہینے پہلے سے انہوں نے باقاعدہ اپنی رخصتی کی تیاری شروع کر دی تھی۔ حالانکہ وہ بستر سے لگے ہوئے ایسے بیمار نہ تھے۔ صحت کے اتنے ہی مسائل ان کو بھی تھے جو اسی سال کے کسی بھی بزرگ کو عمومی طور
اتوار 26 جنوری 2020ء

زندگی اور موت کے فاصلے پر پڑی دو تصویریں

جمعه 24 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
دو تصویریں ساتھ ساتھ تھیں اور ایک ہی نظر میں ’’نظر‘‘ سے گزرتیں تھیں۔ مگر دونوں میں زندگی اور موت کا فاصلہ تھا۔ پہلی تصویر میں اسے دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے بہار کا کوئی اولین نقش ہو۔حسین پھولوں کے سارے رنگ اس کے معصوم چہرے کے خدوخال میں دکھائی دیتے۔ وہ حقیقت میں آسمانوں سے اتری کوئی ننھی پری لگ رہی تھی۔ جس کے فرشتوں جیسے پاکیزہ وجود کی حفاظت اور رکھوالی کا ظرف زمین والوں کو نہ تھا پہلی تصویر میں اس کا روشنی جیسا چہرہ زندگی کے سارے امکانات سے بھرا ہوا تھا۔ آنکھوں میں خوابوں
مزید پڑھیے


غریب ترین یا قریب ترین!

بدھ 22 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
پہلے گھر کی بیگم صاحبہ اور گھریلو ملازمہ کے درمیان ایک مکالمہ پڑھ لیجیے۔ کام کا موضوع اسی مکالمے سے نکلے گا۔ رشیداں ماسی: باجی، کل میرے گھر چٹکی آٹا بھی نہیں تھا، نہ کوئی پیسا دھیلا نہ پوچھیں کہ کیسے کہیں سے ادھار پکڑا اور پانچ کلو آٹا خریدا۔ بیگم صاحبہ: رشیداں ابھی پندرہ دن پہلے تمہیں دس کلو آٹا کا توڑا لے کر دیا ہے ختم بھی ہو گیا؟ بیگم صاحبہ حیرت سے گویا ہوئیں۔ رشیداں ماسی: باجی ہم غریبوں نے تو صرف روٹی ہی کھانی ہوتی ہے اور تو کچھ ہوتا نہیں۔ آپ لوگ تو ڈبل روٹی، کیک، پھل فروٹ
مزید پڑھیے


احتساب دے چیف کمشنر صاحب بہادر۔!

اتوار 19 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
چند روز سے میرے ہاتھ میں منو بھائی کی کتاب ہے۔ جس کا نام ہے’’ جنگل اداس ہے‘‘ یہ ان کے کالموں کا انتخاب ہے، اس کتاب میں ہمیں اصلی منو بھائی دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کے عام آدمی کی محرومیوں پر نوحہ کناں‘ اور اس کی حسرتوں کی لاش پر ماتم کرتا ہوا۔ دھاڑیں مار کر روتا ہوا منو بھائی جس کے بارے میں جاوید شاہین نے کہا کہ۔ منو بھائی کی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی واردات یا تجزیے میں قاری کو اس حد تک شریک کر لیتا ہے کہ اسے سب کچھ اپنی ذات کا حصہ معلوم
مزید پڑھیے


روحانی خلاء کو بھرنے کی ضرورت ہے(گزشتہ سے پیوستہ)

جمعه 17 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
گزشتہ کالم میںنے ایک سوال پر چھوڑا تھا کہ بظاہر دنیاوی آسائشوں سے آراستہ زندگی گزارتے ہوئے‘ کیوں کسی کو اپنی زندگی اتنی بے مقصد اور بے معنی محسوس ہونے لگتی ہے کہ وہ اس کا بوجھ اتار کر موت کے پار اتر جاتا ہے۔بحیثیت ایک مسلمان ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خودکشی کرنے والا مذہب سے دور ایک کمزور ایمان رکھنے والا شخص ہوتا ہے کیونکہ اسلام میں خود کشی ایک سنگین گناہ ہے ۔ زندگی ایک عظیم نعمت ہے جو ہمیں خالق کائنات کی طرف سے ودیعت کی جاتی ہے۔ایمان کی مضبوطی یہی ہے کہ ایک شخص
مزید پڑھیے



خود کشی کی وجہ: کوئی ہے خلاء جو بھرتا نہیں

بدھ 15 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
گزشتہ کالم میں تذکرہ تھا، غریب شہر میر حسن کی خود کشی کا جس نے غربت اور فاقے سے ڈر کر خود کشی کر لی اور آج تذکرہ ہے، امیر شہر کی خود کشی کا…، آج اخبار کے صفحہ اوّل پر ایس ایس پی راولپنڈی میاں ابرار حسین نیکوکارہ کی تصویر کے ساتھ ان کی خود کشی کی خبر نے مجھے عارف شفیق کا یہ مقبول شعر یاد دلا دیا کہ… غریب شہر تو فاقوں سے مرگیا عارفؔ امیر شہر نے ہیرے سے خود کشی کر لی اور محض اتفاق ہے کہ اخبار کے بیک پیج پر بھی دو کالمی خبر کراچی کے
مزید پڑھیے


کورنگی کا میر حسن بنام وزیر اعظم۔!

اتوار 12 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
ادھر حکمران ہمیں معاشی اعشاریے بہتر ہونے اور غریبوں کے لئے 80ارب مختص کرنے‘ انصاف کارڈ اور صحت کارڈ کی سہولتوں کی نوید سنا رہے تھے کہ ادھر کراچی سے کورنگی ابراہیم حیدری کے میر حسن نے اپنی زندگی کا شاید پہلا اور آخری خط لکھ کر ‘ ملک کے وزیر اعظم کو اطلاع دی کہ وہ تو زندگی کا بوجھ اتار کر اگلے جہاں سدھا رہا ہے۔ لیکن وزیر اعظم صاحب میرے بچوں کو گھر کی چھت بھی لے دینا اور مدرسے میں بھی داخل کروا دینا! میر حسن کے ہاتھ کا لکھا ہوا خط ٹوٹی پھوٹی اردو میں چند
مزید پڑھیے


جنرل سلیمانی کون تھے؟(آخری حصہ)

جمعه 10 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
1980ء سے 1988ء تک ‘عراق ایران جنگ میں آٹھ برس تک’ نوجوان قاسم سلیمانی نے‘ جوش جذبے سے بھر پور حب الوطنی سے سرشار‘ پاسداران انقلاب کے نوجوان جنگجو کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ 1989ء سے 1997ء اگلے برس ایران پر ہاشمی رفسنجانی کی حکومت رہی اور اس دوران قاسم سلیمانی‘ پراسرار انداز میں منظر نامے سے ہٹ گئے۔ یہ ایک طرح کا ہائبرنیشن پیریڈ تھا۔ جس کی وجہ یہی معلوم ہو سکی کہ انہیں رفسنجانی کی کچھ پالیسیوں سے اختلاف تھا۔ قاسم سلیمانی اس کے بعد بھی پاسداران انقلاب کا حصہ رہے لیکن زیادہ حصہ انہوں نے گمنامی
مزید پڑھیے


جنرل قاسم سلیمانی کون تھے؟

بدھ 08 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
ایرانی مارچ کے مہینے میں نئے سال کا آغاز نو روز کی تقریبات منایا کر کرتے ہیں۔ یہ 2013ء کی بات ہے جب ایران میں نئے سال کا آغاز تھا۔ ایران کا انتہائی اہم فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی‘ عراق ایران جنگ میں حصہ لینے والے اپنے پرانے جنگی ساتھیوں کے ساتھ‘ ایران عراق سرحدی علاقے میں واقع ایک پہاڑی سلسلے پر موجود تھے۔ یہ سب لوگ ایک پہاڑ کی چوٹی پر موجود تھے اور مارچ کے ابر آلود موسم میں شروع ہوتے ہوئے سال کے خوش کن لمحات سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ ان سب کے درمیان قاسم سلیمانی کی موجودگی
مزید پڑھیے


امیدوں کا اینٹی کلائمکس

اتوار 05 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
آج 5جنوری 2020ء ہے۔ نئے سال کی پہلی اتوار۔ قومی منظر نامے سے عالمی منظر نامے تک وسوسوں اور خدشات کے بادل چھائے ہیں۔ خوف اور مایوسی کی پرچھائیاں دکھائی دیتی ہیں۔ دانستہ سال کے پہلے دو کالموں میں حالات حاضرہ پر تبصرے سے گریز کیا۔ کیونکہ جان کیٹس کے الفاظ میں صورت حال ابھی ایسی ہے کہ to be think is to be full of sorrow قومی منظرنامے پر سال کا آغاز ہی خوابوں امیدوں کے اینٹی کلائمکس سے ہوا۔ یہ عمران خان کی 22برس کی سیاسی جدوجہد کے خوابوں کا اینٹی کلائمکس تھا۔ نیب آرڈی ننس ان تمام امیدوں
مزید پڑھیے