BN

سعدیہ قریشی


تارڑ صاحب کے ساتھ ایک بیٹھک


فروری کی پہلی تاریخ جب ہم ماڈل ٹائون پارک پہنچے تو مدھم سنہری دھوپ پارک کے سبزہ زاروں پر اترتی تھی۔ آس پاس کے لوگ ٹریک سوٹوں میں ملبوس یا پھر اپنے شب خوابی کے ملگجے لباس پر موٹی موٹی‘ جیکٹیں چڑھائے‘ جوگرز پہنے صبح کی سیر میں مصروف تھے۔ جگہ جگہ لوگ بنچوں اور کرسیوں پر بیٹھے دھوپ سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ مگر ماڈل ٹائون پارک کا وہ حصہ سارے پارک سے زیادہ پررونق اور آباد دکھائی دیتا تھا جہاں اس عہد کے عظیم فکشن رائٹر مستنصر حسین تارڑ صاحب فروری کی مدھم سنہری دھوپ میں اپنے مداحوں
اتوار 02 فروری 2020ء

کرونا وائرس۔خوف اور موت کا ہیولا

جمعه 31 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
تھوڑے بہت فرق کے ساتھ یہ تصوراتی کہانی آپ نے بھی ضرور اپنے بچپن میں پڑھ رکھی ہو گی کہ کسی شہر میں ایک مخبوط الحواس بوڑھا سائنس دان تھا جو اپنے گھر کے تہہ خانے کی تنہائی میں موجود لیبارٹری میں کوئی خفیہ تجربہ کرنے میں دن رات مصروف رہتا پھر ایک روز اس مخبوط الحواس سائنس دان سے مختلف کیمیائی عناصر کے ملاپ میں سنگین غلطی ہو جاتی ہے اور اس کی لیبارٹری میں ان کیمیائی عناصر کے ملاپ سے ایک عجیب غریب مخلوق پیدا ہوتی ہے اب وہ سائنس دان اس نئی عفریت کو پھیلنے سے روکنے
مزید پڑھیے


موسمِ سرما کا عاشق

بدھ 29 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
چند روز سے جنوری کی دوپہریں،گلابی دھوپ کی حدّت سے آسودہ ہونے لگی تھیں۔ سردیوں میں دھوپ نکل آئے تو اس کا سواگت خاص مہمان کی طرح کیا جاتا ہے اور کمروں کی یخ بستگی سے نکل کر باہر دھوپ میں بیٹھنا اور ساتھ اخبارات کا مطالعہ کرنا، کینو کھانا ایک مکمل تھراپی جیسا عمل ہے۔ دھوپ میں موجود ہیلنگ پاور، تھکے ہوئے جسم ہی کو نہیں بلکہ سوچوں کو بھی ایک نئی توانائی دیتی ہے۔ اب دو روز سے گلابی دھوپ پھر سے روٹھی ہوئی ہے، دوپہریں تو ہوتی ہی نہیں۔ بس ایک یخ بستہ دِن چڑھتا ہے اور شام ڈھلے
مزید پڑھیے


کیا انہیں موت کا الہام ہو گیا تھا

اتوار 26 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
یہ کالم میں 24جنوری 2020ء کو لکھ رہی ہوں‘ پورے دس برس بیت گئے دو ہزار دس کے 24جنوری کو‘ جب ارشاد احمد حقانی اس فانی دنیا سے اگلے جہانوں کو رخصت ہوئے۔ مجھے آج بھی یہ بات حیران کر دیتی ہے کہ آخر ان کو اپنی موت کا الہام کیسے ہو گیا تھا اور چار چھ مہینے پہلے سے انہوں نے باقاعدہ اپنی رخصتی کی تیاری شروع کر دی تھی۔ حالانکہ وہ بستر سے لگے ہوئے ایسے بیمار نہ تھے۔ صحت کے اتنے ہی مسائل ان کو بھی تھے جو اسی سال کے کسی بھی بزرگ کو عمومی طور
مزید پڑھیے


زندگی اور موت کے فاصلے پر پڑی دو تصویریں

جمعه 24 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
دو تصویریں ساتھ ساتھ تھیں اور ایک ہی نظر میں ’’نظر‘‘ سے گزرتیں تھیں۔ مگر دونوں میں زندگی اور موت کا فاصلہ تھا۔ پہلی تصویر میں اسے دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے بہار کا کوئی اولین نقش ہو۔حسین پھولوں کے سارے رنگ اس کے معصوم چہرے کے خدوخال میں دکھائی دیتے۔ وہ حقیقت میں آسمانوں سے اتری کوئی ننھی پری لگ رہی تھی۔ جس کے فرشتوں جیسے پاکیزہ وجود کی حفاظت اور رکھوالی کا ظرف زمین والوں کو نہ تھا پہلی تصویر میں اس کا روشنی جیسا چہرہ زندگی کے سارے امکانات سے بھرا ہوا تھا۔ آنکھوں میں خوابوں
مزید پڑھیے



غریب ترین یا قریب ترین!

بدھ 22 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
پہلے گھر کی بیگم صاحبہ اور گھریلو ملازمہ کے درمیان ایک مکالمہ پڑھ لیجیے۔ کام کا موضوع اسی مکالمے سے نکلے گا۔ رشیداں ماسی: باجی، کل میرے گھر چٹکی آٹا بھی نہیں تھا، نہ کوئی پیسا دھیلا نہ پوچھیں کہ کیسے کہیں سے ادھار پکڑا اور پانچ کلو آٹا خریدا۔ بیگم صاحبہ: رشیداں ابھی پندرہ دن پہلے تمہیں دس کلو آٹا کا توڑا لے کر دیا ہے ختم بھی ہو گیا؟ بیگم صاحبہ حیرت سے گویا ہوئیں۔ رشیداں ماسی: باجی ہم غریبوں نے تو صرف روٹی ہی کھانی ہوتی ہے اور تو کچھ ہوتا نہیں۔ آپ لوگ تو ڈبل روٹی، کیک، پھل فروٹ
مزید پڑھیے


احتساب دے چیف کمشنر صاحب بہادر۔!

اتوار 19 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
چند روز سے میرے ہاتھ میں منو بھائی کی کتاب ہے۔ جس کا نام ہے’’ جنگل اداس ہے‘‘ یہ ان کے کالموں کا انتخاب ہے، اس کتاب میں ہمیں اصلی منو بھائی دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کے عام آدمی کی محرومیوں پر نوحہ کناں‘ اور اس کی حسرتوں کی لاش پر ماتم کرتا ہوا۔ دھاڑیں مار کر روتا ہوا منو بھائی جس کے بارے میں جاوید شاہین نے کہا کہ۔ منو بھائی کی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی واردات یا تجزیے میں قاری کو اس حد تک شریک کر لیتا ہے کہ اسے سب کچھ اپنی ذات کا حصہ معلوم
مزید پڑھیے


روحانی خلاء کو بھرنے کی ضرورت ہے(گزشتہ سے پیوستہ)

جمعه 17 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
گزشتہ کالم میںنے ایک سوال پر چھوڑا تھا کہ بظاہر دنیاوی آسائشوں سے آراستہ زندگی گزارتے ہوئے‘ کیوں کسی کو اپنی زندگی اتنی بے مقصد اور بے معنی محسوس ہونے لگتی ہے کہ وہ اس کا بوجھ اتار کر موت کے پار اتر جاتا ہے۔بحیثیت ایک مسلمان ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خودکشی کرنے والا مذہب سے دور ایک کمزور ایمان رکھنے والا شخص ہوتا ہے کیونکہ اسلام میں خود کشی ایک سنگین گناہ ہے ۔ زندگی ایک عظیم نعمت ہے جو ہمیں خالق کائنات کی طرف سے ودیعت کی جاتی ہے۔ایمان کی مضبوطی یہی ہے کہ ایک شخص
مزید پڑھیے


خود کشی کی وجہ: کوئی ہے خلاء جو بھرتا نہیں

بدھ 15 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
گزشتہ کالم میں تذکرہ تھا، غریب شہر میر حسن کی خود کشی کا جس نے غربت اور فاقے سے ڈر کر خود کشی کر لی اور آج تذکرہ ہے، امیر شہر کی خود کشی کا…، آج اخبار کے صفحہ اوّل پر ایس ایس پی راولپنڈی میاں ابرار حسین نیکوکارہ کی تصویر کے ساتھ ان کی خود کشی کی خبر نے مجھے عارف شفیق کا یہ مقبول شعر یاد دلا دیا کہ… غریب شہر تو فاقوں سے مرگیا عارفؔ امیر شہر نے ہیرے سے خود کشی کر لی اور محض اتفاق ہے کہ اخبار کے بیک پیج پر بھی دو کالمی خبر کراچی کے
مزید پڑھیے


کورنگی کا میر حسن بنام وزیر اعظم۔!

اتوار 12 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
ادھر حکمران ہمیں معاشی اعشاریے بہتر ہونے اور غریبوں کے لئے 80ارب مختص کرنے‘ انصاف کارڈ اور صحت کارڈ کی سہولتوں کی نوید سنا رہے تھے کہ ادھر کراچی سے کورنگی ابراہیم حیدری کے میر حسن نے اپنی زندگی کا شاید پہلا اور آخری خط لکھ کر ‘ ملک کے وزیر اعظم کو اطلاع دی کہ وہ تو زندگی کا بوجھ اتار کر اگلے جہاں سدھا رہا ہے۔ لیکن وزیر اعظم صاحب میرے بچوں کو گھر کی چھت بھی لے دینا اور مدرسے میں بھی داخل کروا دینا! میر حسن کے ہاتھ کا لکھا ہوا خط ٹوٹی پھوٹی اردو میں چند
مزید پڑھیے