BN

سعدیہ قریشی



شہید بابا کو رخصت کرتی بٹیا رانی


ایک تصویر ہے شہید باپ اور نومولود بیٹی کی آخری ملاقات کی، لیکن اس تصویر کو خشک آنکھ سے دیکھا نہیں جا سکتا۔ جب بھی اس پر نگاہ پڑتی ہے ایک ٹیس سی دل میں اٹھتی ہے اور دور تک آنسوئوں کی ایک دھند پھیل جاتی ہے اور پھر یہ منظر دھندلا جاتا ہے۔ دھندلائے ہوئے اس منظر کو بیان کرنا اور لکھنا اتنا آسان نہیں لیکن پھر میں اور کیا لکھوں۔ کل سے یہ تصویر آنکھ میں نمی بن کے اتری ہوئی ہے۔ ایک گہری اداسی نے شہر جاں میں بسیرا کر رکھا ہے۔ ایک مسلسل زرد اداسی اور آنسوئوں
بدھ 15 مئی 2019ء

بے حس حکمران، اور مفلس شہر کے سحرو افطار

اتوار 12 مئی 2019ء
سعدیہ قریشی
رمضان المبارک کی روحانی برکتیں تو شاید ہم جیسوں سے کنی کترا کر گزر جاتی ہوں گی کہ ہماری عبادتوں پہ ریاکاری کا سایہ ہے، ہمارے صدقہ و خیرات میں نمائش اور دکھاوا ہے اور سجدوں میں دل میں آباد صنم کدوں کا بوجھ۔ سو ہمارے لئے رمضان المبارک سحر و افطار کا مہینہ ہے۔ اور سحرو افطار کا مطلب ہے، دسترخوان پر طرح طرح کے کھانے، لذت کام و دہن کو نت نئے پکوان۔ لیکن وہ جنہیں دن بھر کی پوری مشقت کے بعد سوکھی روٹی اور چٹنی میسر آتی ہے ان کا رمضان کیسے گزرتا ہے۔ مہنگائی اور
مزید پڑھیے


سیاسی تھیٹر

جمعه 10 مئی 2019ء
سعدیہ قریشی
سیاسی تھیٹر خوب لگا ہوا ہے اور ہر منظر دوسرے منظر سے مختلف ہے۔ اس سیاسی تھیٹر میں مختلف ڈرامے عوام کی تفریح طبع کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔ کسی ڈرامے کو رش زیادہ مل رہا ہے تو کسی کا شو فلاپ جا رہا ہے۔ بہر حال آج بروز منگل جب کالم لکھا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ ن اپنے سیاسی تھیٹر پر جیل واپسی کا ڈرامہ پیش کرے گی۔ جیل واپسی کے اس ڈرامے کی پبلسٹی کرنے کے لیے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم استعمال کیے جا رہے ہیں۔ سب سے زیادہ موثر پیغام، ٹوئٹر سے موصول
مزید پڑھیے


کرسیاں برائے افسران۔ ماں جی ہم شرمندہ ہیں!

اتوار 05 مئی 2019ء
سعدیہ قریشی
کراچی میں پولیس کے شہید جوان کی والدہ محترمہ کے ساتھ جو ہتک آمیز سلوک ہوا وہ دراصل ہمارے معاشرے کے اخلاقی زوال کا ایک علامتی منظر ہے پورا سماج اسی ایک منظر کا تسلسل پیش کرتا ہے۔ استثنیات اپنی جگہ موجود ہیں لیکن یہاں مجموعی صورت حال کی ہوا ہی ہے۔ ہم قاعدے‘ اصول‘ اخلاقیات کو صرف سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں عملی زندگیاں اس کے اثر سے خالی رہتی ہیں۔ پورا معاشرہ دوسروں کے اخلاق درست کرنے کے درپے ہے۔ فیس بک کی پوسٹیں دیکھ لیں وٹس ایپ پر کئے گئے پیغامات کو پڑھ
مزید پڑھیے


بھٹوز کا ایڈزدہ لاڑکانہ پیرس بننے کا منتظر!

جمعه 03 مئی 2019ء
سعدیہ قریشی
دہائیوں کی بے حسی‘ نظام میں سرایت کرتی کرپشن کی دیمک،بددیانتی اور ناانصافی کے ناسور نے اس سارے نظام کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ دہائیوں سے یہ ملک طفیلیوں کی زد میں رہا ہے۔ پاکستانی عوام اب جن کے لئے بھیڑ بکریوں کی اصطلاح استعمال کرنا مناسب نہیں،کہ بھیڑ بکریاں بھی کچھ وجود رکھتی ہیں چارہ مانگتی ہیں۔یہ پاکستانی عوام تو جیسے کیڑے مکوڑے ہیں۔ پائوں تلے روندے جائیں‘ کچلے جائیں تو خبر تک نہیں ہوتی۔ وطن عزیز میں غریب شہر کا حال اب کچھ ایسا ہے کیڑے مکوڑوں جیسی زندگی۔ جعلی دوا سے موت‘ غلط انجکشن سے موت اور
مزید پڑھیے




چائلڈ لیبر اور سکول کے بھاری بستے!

بدھ 01 مئی 2019ء
سعدیہ قریشی
ہم لکیر کے فقیر معاشرے کے فرد ہیں۔ پرانے مسئلوں کے نئے حل،ہمارے گھسے پٹے اور باسی نظام میں اپنی جگہ نہیں بنا پائے۔ اسی لیے ہم مسئلوں کے ساتھ زندہ رہتے ہیں۔ سال خوردہ مسئلوں کو سینے سے لگاتے، اذیب میں زندگیاں بسر کرتے رہتے ہیں لیکن اس مسئلے کا کوئی نیا، انوکھا، تخلیقی، روایت سے ہٹا ہوا حل قبول کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔ حکومتی سطح پر ہم مسئلوں کو کمیٹی اور کمیشن کے حوالے کر کے، کبھی نہ حل ہونے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں، فرد کی سطح پر ہم چونکہ روایت کے قیدی ہیں اسی لیے نئے
مزید پڑھیے


’’یہ جو لوگ محو کلام تھے مجھے کھا گئے‘‘

اتوار 28 اپریل 2019ء
سعدیہ قریشی
لکھنے کے لئے ہر موضوع ‘ پرانا اور باسی لگ رہا تھا۔ جیسے کئی بار استعمال کا کپڑا دھل دھل کر اپنی چمک اورکشش کھو دیتا ہے۔ رنگ پھٹک کر بد رنگ سے ہو جاتے ہیں۔ یا پھر جیسے کوئی ایک ہی کھانا فرج سے نکال نکال کر ‘ گرم کر کے ‘ تڑکے لگا لگا کر کھاتارہے تو بالآخر اس کا دل اس کھانے سے بھر جاتا ہے۔ ایسے ہی آج صبح ہر موضوع سے قلم کا دل بھرا ہوا تھا۔ کوئی موضوع اپنی جانب کھینچتا نہ تھا۔ پھر میں نے ایک آزمائے ہوئے ٹوٹکے پر عمل کیا اور
مزید پڑھیے


مافیا‘ ایجنٹ اور بے چارے مریض

جمعه 26 اپریل 2019ء
سعدیہ قریشی
گزشتہ کالم ڈاکٹروں کی مجرمانہ غفلت کے ہاتھوں تباہ ہونے والی زندگیوں کے حوالے سے لکھا تو اس پر آنے والی فیڈ بیک سے اندازہ ہوا کہ بات صرف چند واقعات تک محدود نہیں ہے۔ ہر خاندان میں کوئی ایک نہ ایک کیس ایسا موجود ہے جو نام نہاد ڈاکٹروں کی کرم فرمائی کا شکار (victim) ہو۔ یا پھر شکار ہوتے ہوتے بچا ہو۔ یہاں کینال روڈ پر واقع لاہور کا ایک مہنگا پرائیویٹ ہسپتال ہے جو دو وجوہات کی بنا پر شہرت رکھتا ہے ‘ایک تو اس کی آسمان کو چھوتی ہوئی فیس اور دوسری اس کے ڈاکٹروں کی
مزید پڑھیے


یقینی موت سے پہلے وینٹی لیٹر…ڈسے ڈاکٹر نہیں ڈریکولا!

بدھ 24 اپریل 2019ء
سعدیہ قریشی
سماج میں صرف پیسہ ہی پردھان بن کر بولے تو پھر یہی ہوتا ہے۔ پیسہ لگائو اور ہر قسم کی ڈگری سے لے کر حکومتیں تک اپنی جیب میں ڈالو۔ حیرت، قانون، اصول، قاعدے، ضابطے سب ایسے سماج میں ٹکا ٹوکری ہو جاتے ہیں۔ پیسہ پھینک اور تماشا دیکھ والی بات ہے اور سیاسی رہنمائوں کے نام پر لٹیرے اس قوم کا مقدر ہیں۔ حالات کو بہتر بنانے کے دعوے، امیدیں اور کوششیں سب اپنی جگہ لیکن صورت حال اب ایسی ہے کہ لوگ بیماری میں اسپتال جاتے ہوئے گھبرائیں گے کہ کہیں غلط دوا، غلط انجکشن کی وجہ سے مسیحائوں
مزید پڑھیے


جرمنی کی کک کمپنی‘ ہوس کار حکمران اور نامعلوم افراد

اتوار 21 اپریل 2019ء
سعدیہ قریشی
کک KiKجرمنی کا ایک مقبول گارمنٹس برینڈ ہے یہ جرمن زبان میں سٹور کے نام کا مخفف ہے جس کا انگریزی ترجمہ کچھ یوں کر سکتے ہیں کسٹمر از کنگ ‘گاہک ہی بادشاہ ہے۔پورے یورپ میں کک تین ہزار سے زائد سٹور گاہکوں کو بہترین گارمنٹس ڈسکائونٹ ریٹ پر دے رہے ہیں۔ مردوں‘ عورتوں اور بچوں کے لئے گارمنٹس کا سامان کک‘ بنگلہ دیش چین اور پاکستان سے تیار کرواتا ہے۔ جرمنی کے اس مشہور گارمنٹس برینڈ کے شاندار گلیمرس سٹوروں پر بلدیہ ٹائون کی راکھ ہو جانے والی فیکٹری کا مال گورے بڑے ذوق شوق سے خریدتے رہے
مزید پڑھیے