BN

سعدیہ قریشی



درونِ خانہ ہنگامے ہیں کیا کیا۔!


کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں کہ حرف تصویریں بناتے ہیں اور آنکھوں کے سامنے گزرے وقتوں کے سارے منظر زندہ ہو جاتے ہیں۔ میں نومبر 2018ء میں ایک کتاب ہاتھ میں اٹھاتی ہوں۔ اس کے صفحات الٹ پلٹ کر پڑھنے لگتی ہوں۔ جوں جوں تحریر پڑھتی جاتی ہوں ایسا لگتا ہے کہ عالی مرتبت فلسفی‘ عظیم مفکر‘ شاعر مشرق حکیم الامت علامہ اقبال کو اپنی آنکھوں سے گھر کی چار دیواری کے اندر بالکل گھریلو ماحول میں اپنے خاندان کے افراد سے بات چیت کرتے معاملات کرتے دیکھ رہی ہوں۔ اور ان منظروں میں اقبال کی بے ساختگی اور فطری سادگی کے
جمعه 09 نومبر 2018ء

مثبت سوچ اور یقین کی طاقت

بدھ 07 نومبر 2018ء
سعدیہ قریشی
وہ ہر بات پر آہیں بھرتی اور زندگی کے کسی نہ کسی تاریک اور تکلیف دہ پہلو کا تذکرہ کرنے لگتی۔ آئینے میں خود کو بغور دیکھتی رہی اور بولی ’’ہائے ہم کتنے خوب صورت ہیں۔ ہمارے دل خواہشوں سے لبریز ہیں لیکن ایک دن کوئی جان لیوا بیماری کا انکشاف ہو گا اور پھر کسی روز چپ چاپ مر جائیں گے، وہ بھی تو ایسے ہی مر گئی تھی ایک دن۔ ابھی تک یقین نہیں آتا۔ سامنے تکتے تکتے بولی۔ سامنے دیوار نہیں، ایک جہازی سائز آئینہ نصب تھا، وہ اس آئینے میں دیکھتے ہوئے بظاہر خود کلامی کر رہی تھی
مزید پڑھیے


بدامنی کی آکاس بیل

اتوار 04 نومبر 2018ء
سعدیہ قریشی
ہم میسر و موجود چیزوں کی قدرو قیمت کا اندازہ کم ہی کرتے ہیں۔ مگر جب وی شے دسترس میں نہ رہے‘ میسر نہ رہے تو پھر ہم پر اس کی قیمت کھلتی ہے۔ جیسے صحت کی قدر بیماری کے دنوں میں ہوتی ہے۔ دھند آلود یخ بستہ دنوں میں جب دھوپ میسر نہ ہو تو پھر اس کی سکون آور گرمائش کا اندازہ ہوتا ہے۔ بالکل ایسے ہی امن کی اہمیت اور قدرو قیمت کا اندازہ ہمیں بدامنی کے دنوں میں ہوتا ہے۔ جب ریاست کی رٹ معطل ہو۔ جب سڑکوں چوراہوں اور چوکوں پر بلوائیوں کا قبضہ ہو۔ گھر سے
مزید پڑھیے


وہ زر کے بل پہ اڑاتے ہیں مفلسوں کا مذاق

بدھ 31 اکتوبر 2018ء
سعدیہ قریشی
یہ تصویر محمد رشید کے گھر کی ہے جو ایک معاصر انگریزی روزنامے میں اگلے روز شائع ہوئی۔ درودیوار پر اداسی کی جگہ غربت بال کھوے سو رہی ہے۔ غربت کے نشان صرف گھر کی دیواروں پر ہی نہیں، گھر کے کونے کونے میں غربت کا راج ہے۔ چولہے پر چڑھی ہانڈی میں بھی غربت ہے۔ محمد رشید کے میلے کرتے کی جیب میں بھی غربت پڑی ہے۔ تصویر میں گھر کا ایک کمرہ بھی تھوڑا سا دکھائی دیتا ہے۔ دروازہ نہیں ہے تو اندر جھاتی پڑتی ہے، وہاں بھی کرسی، میز اور پلنگ کی جگہ غربت سلیقے سے رکھی ہوئی
مزید پڑھیے


توازن کا دائرہ اور سوشل میڈیا

اتوار 28 اکتوبر 2018ء
سعدیہ قریشی
توازن کے دائرے سے باہر نکلتے ہی زندگی بے ترتیب ہونے لگتی۔ شب و روز کے دائرے سے قرینہ‘ ترتیب‘ اور ترجیحات نکل جائیں تو یہی زندگی ایک مکمل الجھائو ‘ بکھرائو(Total Mess)ایک Chaos کی صورت نظر آتی ہے۔ توازن اور میانہ روی ہر صورت میں زندگی کو سنبھالا دیتی ہے زندگی کو ایک ترتیب کے دائرے میں رکھتی ہے۔ اسی لیے ہمارا دین بھی ہمیں میانہ روی کا درس دیتا ہے۔ کسی بھی چیز کی Obsessionیا اس کا خبط زندگی میں صحت مند رویہ نہیں ہے آج ہی ایک خبر پڑھی کہ چین میں ایک خاتون کو موبائل فون پر
مزید پڑھیے




مسافرانِ رہ عشق کے بیٹھ گئے

جمعه 26 اکتوبر 2018ء
سعدیہ قریشی
کچھ برس پیچھے چلے جائیں جب پی ٹی وی کا دور تھا۔ ہماری خوبصورت صبحوں پر ابھی مارننگ شوز‘ کا سایہ نہ پڑا تھا بلکہ صبح کی نشریات ۔ چاچا جی مستنصر حسین تارڑ کے سنگ صبحوں کو روشن کرتی تھیں۔ وڈی دا وڈ پیکر اور پنک پنتھر کے کارٹون دیکھ کر سکول جایا کرتے۔ انہی دنوں میں اکثر صبح کی نشریات میں بھی ایک سرائیکی خوش رو گلوکارہ کی ایک غزل کا بہت چرچا ہوا۔ گل بہار بانو اس خوش گلو‘ صفینہ کا نام تھا۔ اور اس کا ایک خاص انداز تھا۔ گائیکی کے دوران ایک منی موہنی‘ بے
مزید پڑھیے


محبت‘ انقلاب اور جمال خاشقجی

بدھ 24 اکتوبر 2018ء
سعدیہ قریشی
محبت اور انقلاب دونوں کا کہیں نہ کہیں گہرا رشتہ موجود ہے۔ محبت دل کی سرزمین پر اترے تو مٹی سے امید‘ خواب اور گلاب کی پنیری پھوٹتی ہے۔ اندر اور باہر کی فضا تبدیل ہو جاتی ہے۔ اسی طرح انقلاب کی جدوجہد۔ بھی تبدیلی کی خواہش سے جنم لیتی ہے۔ انقلاب کا خمیر ہی بغاوت سے اٹھتا ہے۔ ایک باغی سب سے بڑا رومانٹک ہوتا ہے۔ لفظ Romanticکو گوگل کر کے دیکھیے۔ اس کے وہی روایتی معنی ہیں جو یہ لفظ سنتے ہی سب کے ذہنوں میں اترتے ہیں۔ Being romantic means you value a Certmn ideal to a high degree. Romantic
مزید پڑھیے


امانت لوٹانا ضروری تھا!

جمعه 19 اکتوبر 2018ء
سعدیہ قریشی
لکھاری کے مشاہدے میں آنے والی کہانیاں اور واقعات اس کے پاس ایک امانت کی طرح ہوتے ہیں۔ جسے کسی نہ کسی مناسب وقت پر اپنے پڑھنے والوں کو لوٹانا پڑتا ہے۔ زیر نظر واقعہ بھی ایک ایسی ہی امانت ہے جو میں آج لوٹا رہی ہوں۔ تہجد کی اذان کے ساتھ یہ نسرین درزن اٹھ گئی تھی۔ اس کے دن کا آغاز روزانہ اسی وقت پر ہوتا تھا۔ اس نے اٹھ کر وضو کیا اور مصلیٰ بچھا کر نفل ادا کرنے لگی۔ یہی وقت ہوتا کہ وہ اپنے رب کے حضور اپنا دل کھول کر بیٹھتی۔ دعائوں میں اتنی رقت
مزید پڑھیے


وٹا من ’’G‘‘

بدھ 17 اکتوبر 2018ء
سعدیہ قریشی
گزشتہ دو کالم امید اور مائنڈ پاور کے حوالے سے لکھے توقارئین کا خوشگوار رسپانس آیا۔ خصوصاً نوجوانوں کی طرف سے کچھ ایسی ای میل موصول ہوئیں جس میں اس خواہش کا اظہار تھا کہ وہ ایسے موضوعات پر کالم پڑھنا چاہتے ہیں۔ سندھ سے ایک نوجوان نے لکھا کہ میں اس وقت زندگی کے مشکل مرحلے سے گزر رہا ہوں۔ آپ کا کالم پڑھ کر ایک نیا حوصلہ ملا ہے۔ اب مایوسی سے باہر آ چکا ہوں اور پھر سے کوشش کرنے کے لیے پرعزم ہوں۔ یقین جانیں اس طرح کی فیڈ بیک سے لکھاری کو ایک نئی توانائی
مزید پڑھیے


مائنڈ پاور: آئیں اپنا خزانہ دریافت کریں

اتوار 14 اکتوبر 2018ء
سعدیہ قریشی
مائنڈ پاور ایک سائنس ہے۔ ہم جوں جوں اسے مزید جانتے جاتے ہیں‘ ہم پر حیرت کے دروازے وا ہوتے چلے جاتے ہیں۔ انسانی دماغ قدرت کا ایک عظیم معجزہ ہے۔ ایک اچنبھا ہے! مائنڈ پاور کی سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ انسان پر اس کے دل کی نہیں دماغ کی حکمرانی ہوتی ہے۔ آج تلک تو ہم یہی سنتے آئے ہیں کہ میرا دل اداس ہے۔ میرا دل خوش ہے۔ میرا دل پُرملال ہے۔ یعنی جو دل کا موسم ہے وہی انسانی موڈ ہوتا ہے جبکہ مائنڈ پاور کے ماہر یہ کہتے ہیں کہ انسانی موڈ‘ انسانی طبیعت‘ اس کی
مزید پڑھیے