BN

سعد الله شاہ



سیاست کا المیہ اور نوازشریف


واسطہ یوں رہا سرابوں سے آنکھ کھلی نہیں عذابوں سے میں نے انسان سے رابطہ رکھا میں نے سیکھا نہیں نصابوں سے دنیا ہماری مرضی سے نہیں چلتی۔ اس کے اپنے ہی اصول ہیں کہ اس میں جو بھٹکتا ہے وہی راہ بنا جاتا ہے۔ ورنہ بستی میں کہاں سیدھا چلا جاتا ہے۔ غالب نے بھی کہہ دیا تھا’’ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا‘‘ بہرحال ایسے بھی نہیں روش بدلنے والے بھی موجود رہتے ہیں۔ ان کی کوشش اور سعی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مگر جب عام اور خاص کی تفریق ہو جائے تو پھر معاشرہ اسی طرح ترتیب پاتا
منگل 19 نومبر 2019ء

آہ محمد حامد سراج اور شرافت نقوی

اتوار 17 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
پھول خوشبو کے نشے ہی میں بکھر جاتے ہیں لوگ پہچان بناتے ہوئے مر جاتے ہیں میں تہی دست ہوں اور بارہا یہ سوچتا ہوں اس طرح لوگ کہاں لوٹ کے گھر جاتے ہیں لیکن بعض لوگ ان پھولوں کی طرح ہوتے ہیں جو یکسر خوشبو میں ڈھل جاتے ہیں اور وہ خوشبو لوگوں کے مسام جاں کو مہکاتی رہتی ہے۔ بعض لوگ اپنی پہچان نہیں بناتے بلکہ زندگی کی پہچان کرواتے ہیں وہ مرتے کہاں ہیں‘ وہ تو بقول کیٹس اپنی دوسری زندگی، بعد میں اپنے کام کی صورت میں گزارتے ہیں۔ یہی باکمال لوگ ہوتے ہیں جو بانٹتے بانٹتے اپنا دامن خیر
مزید پڑھیے


آپ کی جگہ کوئی بھی لے سکتا ہے

جمعه 15 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
درد کو اشک بنانے کی ضرورت کیا تھی تھا جو اس دل میں دکھانے کی ضرورت کیا تھی ویسے دردکا اشک بن جانا تو خوبصورت بات ہے کہ آنسو بھی ایک طرح کا اظہار ہے۔ اس پر بھی فوراً ایک شعر ذہن میں آ گیا: ہماری آنکھ میں آئے تھے دفعتاً آنسو ہوا تھاعشق تو اظہار بھی ضروری تھا بات کسی اور طرف نہ نکل جائے کہ میں تو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ درد کو گالی نہیں بننا چاہیے‘ زیادہ تر شکوہ شکایت رہے تو درست ہے۔ ویسے یہ دردمحبت یا عشق میں ہے تو لذت آمیز ہے، مگر یہ درد اگر محرومی اور
مزید پڑھیے


بات سے بات

جمعرات 14 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
سوشل میڈیا کا ایک فائدہ تو ہے کہ گھٹن کے اس ماحول میں کچھ ثانیے میسر آ جاتے ہیں کہ انسان کچھ باتوں پر محظوظ ہو جاتا ہے وگرنہ تو وہی بقول منیر نیازی’’سو سو فکراں دے پرچھاویں‘ سو سو غم جدائی دے‘‘ حافظ صدیق نے پوسٹ لگائی ہے کہ مفتی کفایت اللہ ثابت کرنے جا رہے ہیں کہ قائد اعظم سکندر اعظم کے کزن تھے۔ یقینا اس کے پیچھے وکی لیکس والے وکی والی بات ہے جسے جمائما کا کزن ثابت کیا گیا تھا۔ پتہ نہیں اس میں کتنی حقیقت ہے اور کتنی داستان‘تاہم لطف اٹھانے کے لئے کچھ
مزید پڑھیے


محفل میلاد اور آپؐ کا معجزہ

بدھ 13 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
گھر گھر قریہ قریہ اور بستی بستی محبوبِ خدا سید الانبیاء اورمرکز خلائق حضرت محمدﷺ کا میلاد منایا گیا۔سب کا اپنا اپنا انداز جس میں آقاؐ سے محبت مؤدت اور عشق موجزن تھا۔ ظاہر ہے یہ وہی اندر کا جگمگاتا احساس ہے کہ جس کے بارے میں منیر نیازی نے کہا تھا: میں جو اک برباد ہوں آباد رکھتا ہے مجھے دیر تک اسم محمدؐ شاد رکھتا ہے مجھے یوم ولادت سعید کی رات ہی سے مساجد اور بعض گھروں میں جشن برپا رہا۔ ایک ماحول تھا جو ہر سمت چھایا ہوا تھا۔ عشاء اورفجر کی نماز کے بعد ہی سیرینی نمازیوں کے
مزید پڑھیے




حالات و احوال اور اقبال

اتوار 10 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
نواز شریف کے حوالے سے 92نیوز نے سرخی جمائی کہ پرندہ پرواز کے لئے تیار تو مجھے معاً یعقوب پرواز کا شعر یاد آیا: پرندا آنکھ والا تھا یقینا شکاری ہاتھ ملتا جا رہا ہے ساتھ ہی مجھے مشرف کا زمانہ یاد آیا جب میں نے نواز شریف کے اڑان بھرنے پر ایک کالم لکھا تھا ’’نواز شریف‘‘ اربوں سے عربوں تک‘‘ اور غالب کے مصرع پر گرہ لگائی تھی: یک بیک قید سے یہ تیرا رہا ہو جانا باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا اس کا مطلب یہ نہیں کہ مجھے نواز شریف کی بگڑتی ہوئی صحت کا ملال نہیں۔ اللہ انہیں صحت
مزید پڑھیے


آئو پاکستان سے محبت کریں

جمعه 08 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
میں نے تو اڑتے پرندوں سے یہی سیکھا ہے کام آئے تو فقط اپنے ہی بازو آئے اس شعر پر بات کرنے سے پہلے ذرا سی بات اپنے دوست اور 92نیوز کے کالم نگار اشرف شریف کے بارے میں ہو جائے کہ ان کے بارے میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ نظر سے گزری کہ ان کو ....Severe chest painہوئی ہے۔ سخت تشویش ہوئی ان کے گھر فون ملایا مگر جواب ندارد‘ فوراً 92نیوز کے ایڈیٹوریل میں فون کیا تو خبر کی تصدیق ہوئی اور پتہ چلا کہ وہ گھر پر ہیں اللہ کا لاکھ لاکھ شکر کہ بعد میں معلوم
مزید پڑھیے


ایسا نہ ہو کہ

جمعرات 07 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
صوفی تبسم نے کہا تھا: ایسا نہ ہو کہ درد بنے درد لادوا ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو بات تو کچھ بھی نہیں ہوئی مگر جب بگڑ جائے تو پھر بنائے ہی نہیں بنتی ہے۔ بات کو اب بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔نہ جانے ہمارے رویے اس قدر کیوں بگڑ گئے ہیں۔ ان میں سنجیدگی نظر آتی ہے اور نہ ٹھہرائو‘ نہ برداشت ہے اور نہ وضعداری۔ سب اپنی اپنی بات پر ڈٹے ہوئے ہیں ایک کے نزدیک استعفیٰ کے سوا سب جائز مطالبات مانے جا سکتے ہیں اور دوسرے کے نزدیک ایک استعفیٰ ہی جائز
مزید پڑھیے


ایک کالم شوگر پر

اتوار 03 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
میرا یہ کالم وہ لوگ پڑھیں جنہیں شوگر ہے اور وہ جنہیں شوگر نہیں۔ اس کالم کو ہرگز نظرانداز نہ کریں اب دنیا میں دو طرح ہی کے لوگ ہو سکتے ہیں ایک جنہیں شوگر ہے دوسرے جنہیں شوگر نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ بیماری تھوڑا بہت ہمیں بھی لاحق ہو گئی ہے۔ لوگ ہمیں ٹھیک ہی ڈراتے تھے کہ چینی کم استعمال کریں مگر طبیعت اس پرہیز کی طرف اس لئے نہیں آتی تھی کہ ہم نے ابو علی سینا کا قول پڑھ رکھا تھا کہ جتناپرہیز ایک مریض کے لئے ضروری ہے اتنی ہی بدپرہیزی ایک تندرست کے
مزید پڑھیے


رحیم یار خاں کا ٹرین حادثہ

هفته 02 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
نغمے تھے جو ہوائوں میں درد کی لے میں ڈھل گئے ایک ہی پل میں کیا ہوا سارے ہی خواب جل گئے کس کرب اور اذیت میںاس وقت پاکستانی ہیں کہ رحیم یار خاں کی ٹرین میں لگنے والی آگ 72پیاروں کو کوئلہ کر گئی اور دیکھنے والوں کی آنکھوں سے گزرتی ہوئی دل تک اتر گئی۔ کوئی اس پر ماتم کرے یا نوحہ لکھے۔ دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک۔ یہ شعلے ہمارے دلوں میں جلتے رہیں گے۔ نظر سوئے آسمان اٹھتی ہے کہ اے پروردگار تیری تو ہی جانتا ہے ہم خاک زادے اور کیا کر سکتے
مزید پڑھیے