BN

سعد الله شاہ


قائد اعظمؒ کی سوچ اور اُردو


خواب کمخواب کا احساس کہاں رکھیں گے اے گل صبح تری باس کہاں رکھیں گے سر تسلیم ہے خم کچھ نہ کہیں گے لیکن یہ قلم اور قرطاس کہاں رکھیں گے کبھی اس انداز سے سوچا ہی نہیں تھا کہ اردو زبان کے حوالے سے قائد اعظم کی سوچ کیا تھی۔بہاولپور سے میری بھانجی مریم نے فون کیا کہ اسے قائد اعظم اور اردو زبان پر مضمون لکھنا ہے۔ظاہر ہے فوراً میں کیا جواب دے سکتا تھا یہی کہ قائد اعظم پاکستان کی قومی زبان اردو کو بنانا چاہتے تھے۔میں نے جب اس موضوع پر سوچنا شروع کیا تو سوچتا ہی چلا گیا اور
جمعرات 09 دسمبر 2021ء مزید پڑھیے

منسوب چراغوں سے طرفدار ہوا کے!

بدھ 08 دسمبر 2021ء
سعد الله شاہ
نچلی منزل ڈوبنے کا جب نظارا دیکھنا اپنی منزل کے لیے پھر کیوں کنارا دیکھنا اب کے رونا بھی جو چاہیں رو نہیں پائیں گے ہم حال ہو گا اس سے آگے کیا ہمارا دیکھنا خدا جانے ہم کدھر جا رہے‘ کیا کر رہے ہیں۔ اپنا ہی کچھ پتہ ہے نا منزل کی کچھ خبر۔ ایک بے سمت ہجوم۔ پاکستان کے لوگ یقیناً افسردگی کے عالم میں ہیں کہ کچھ بھی محفوظ نہیں۔ میں تو دو تین دن سے دکھ اور تکلیف کی کیفیت میں ہوں کہ ہم دین کے کیسے خیر خواہ ہیں کہ دین کے لیے وجہ بدنامی بن رہے
مزید پڑھیے


کچھ دلچسپ خبریں

اتوار 05 دسمبر 2021ء
سعد الله شاہ
درد کسی نے دیکھا ہو تو وہ محسوس کرے پیار میں کوئی رہتا ہو تو وہ محسوس کرے اس کی یہ بے فکری میرے فکر کا باعث ہے اس نے مجھ کو سوچا ہو تو وہ محسوس کرے بے نیازی حد سے گزری کوئی کیا کرے۔ سخن کی زبان میں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ کبھی اس نے مجھ کو جلا دیا کبھی اس نے مجھ کو بجھا دیا میں چراغ تھا تو ہوا نے بھی مجھے اک تماشہ بنا دیا۔ ہوا ریزہ ریزہ جو دل ترا اسے جوڑ جوڑ کے مت دکھا وہ جو اپنے حسن میں مست ہے اسے آئینے
مزید پڑھیے


ہے علاج غم ہنسی‘لقمان سے نسخہ ملا

هفته 04 دسمبر 2021ء
سعد الله شاہ
یہ نہیں ہے تو پھر اس چیز میں لذت کیا ہے ہے محبت تو محبت میں ندامت کیا ہے خوب کہتا ہے نہیں کچھ بھی بگاڑا اس نے ہم کبھی بیٹھ کے سوچیں گے سلامت کیا اور پھر آج کی صورت حال بھی پیش نظر ہے خود فریبی میں بھلا کیسے یقین آ جائے، جھوٹ بولا ہے تو پھر اس میں صداقت کیا ہے تو جناب یہی کچھ تو ہو رہا ہے کہ اپنے جھوٹ میں صداقت دکھائی جا رہی ہے اور دوسرے کے سچ میں جھوٹ تلاش کیا جا رہا ہے ۔اپنی بات بدل لینا اور دوسرے کی بات بدل دینا یہی تو
مزید پڑھیے


آنکھ نرگس کی، دہن غنچے کا ،حیرت میری

جمعرات 02 دسمبر 2021ء
سعد الله شاہ
کیسے خیال خام کے رد و قبول سے نکلا ہوںمیں روایت وجدت کی دھول سے کشت خیال یار میں اک پیڑ کا گماں جس پر کسی یقین کے آئے ہیں پھول سے یہ جو سراب در سراب زندگی ہے، اس میں کیسے کیسے فریب ملتے ہیں۔ بعض لوگ تو سوچتے بھی معدے سے ہیں۔ان کا تو تذکرہ کرنا بھی حرمت حرف کے خلاف ہے۔میں تو ان کا تذکرہ کروں گا جوضمیرلے کر آئے تھے جن ے بارے میں ہم دعویٰ کرتے تھے کہ وہ اگر کرپشن کرنا بھی چاہیں گے تو نہیں کر سکیں گے۔ہم خود فریبی میں یہ بھی قبول کر لیں کہ
مزید پڑھیے



ہم ہلے تھے ذرا ٹھکانے سے

بدھ 01 دسمبر 2021ء
سعد الله شاہ
برابر بڑھ رہا ہے غم کسی کو دوش کیا دیں ہم ہیں اپنے آپ پر برہم کسی کو دوش کیا دیں ہم ہنسے کوئی تو ہنسنے دو‘ہمارا حال رہنے دو جب اپنی آنکھ ہے پرنم کسی کو دوش کیا دیں ہم حالات کے سامنے ہم نے تو ہتھیار پھینک دیے ہیں ایسے لگتا ہے کہ یہ خودکارسا عمل ہے کوئی اس کج روی کی مثال نہیں اسے روکنے کی کوشش کریں تو یہ لوگ اور مچلتے ہیں کہے اس نے جو کہنی ہے ہمیں تو بات سنی ہے۔کیا ہے ہم نے جب سرخم کسی کو دوش کیا دیں ہم اڑتا ہوا ایک مصرع میرے
مزید پڑھیے


غلامی کے طوق و سلاسل

پیر 29 نومبر 2021ء
سعد الله شاہ
مری خوشی میں بھی میرا ملال بولتا ہے جواب بن کے کبھی تو سوال بولتا ہے کوئی بتائے اسے کس کے روبرو لائیں یہ آئینہ بھی تو الٹی مثال بولتا ہے بات سمجھانے کے لئے ابھی دو اور شعروں کا سہارا مجھے لینا پڑے گا۔کون کہتا تھا کہ غم نوش رہیںہم۔اب جو خاموش ہیں خاموش رہیں ہم۔اس نئے وقت کا کیسا ہے تقاضا۔اپنی لذت ہی میں مدہوش رہیں ہم۔اصل میں ایک دو یوم قبل میں نے اقدار کے حوالے سے گزارشات پیش کی تھیں کہ اقدار کی حفاظت قانون کرتا ہے، سب سے پہلے اقدار کو سنوارنے اور نکھارنے کی ضرورت ہے۔اس حوالے
مزید پڑھیے


لب کشا تھے کیسے کیسے پھول میرے سامنے

اتوار 28 نومبر 2021ء
سعد الله شاہ
کچھ درد کی ٹیسیں ہیں کچھ درد و فغاں بھی ہے کچھ بات بھی مجھ میں ہے کچھ طبع رواں بھی ہے کچھ بات ہے سینے میں مشکل ہے جو جینے میں اک لمحہ عیاں بھی اک لمحہ نہاں بھی ہے ابھی ابھی ایک شعر ثاقب امروہی کا نظر سے گزرا تو اچھا لگا کہ کوئی ہمزباں و رازوداں نکلے ’’خدا نے کیوں دل درد آشنا دیا ہے مجھے، اس آگہی نے تو پاگل بنا دیا ہے مجھے‘‘۔ساغر یاد آ گیا کہ فقیہہ شہر نے تہمت لگائی ساغر پر۔یہ شخص درد کی دولت کو عام کرتا ہے۔ کریں تو کیا کریں جائیں تو کہاں
مزید پڑھیے


اقدار کی حفاظت قانون کرتا ہے

هفته 27 نومبر 2021ء
سعد الله شاہ
اوراق گرچہ ہم نے کئے ہیں بہت سیاہ لفظوں کی کائنات سے نکلے نہ مہرو ماہ شاید ہمارے ہاتھ میں ہوتی کوئی لکیر قسمت پہ بھی یقین ہمارا نہیں تھا آہ اور پھر اس جبر اور قدر کا آئے نہ کیوں یقیں۔انسان کو اپنے ساتھ بھی کرنا پڑا نباہ ،پھر یہ تو ہے کہ انساں کو اس کی اوقات میں رکھا گیا ہے۔ سراب در سراب سفر اور منزل عنقا ۔اختتام سفر کھلا ہم پر وسعت دشت تھی سراب کے ساتھ۔ اس بات کو موقوف کر کے ایک نہایت عمدہ بات کی جانب میں آپ کو لے چلتا ہوں کہ ہمیں ہماری ترجیحات نے
مزید پڑھیے


آدمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے

جمعه 26 نومبر 2021ء
سعد الله شاہ
دکھایا وقت نے شاہوں کو بھی صدا کرتے کسی بھی بات پہ حیراں نہیں ہوا کرتے لہو کے ساتھ رگ و پے میں دوڑنے والے تُہی بتا کہ تجھے کس طرح جدا کرتے ہائے ہائے ایک اور شعر بھی دیکھ لیجیے ہمارا خوف اندھیرا نہیں تھا۔رہبر تھا ہم اپنے ساتھ چراغوں کو لے کے کیا کرتے۔ کیا کیا جائے جناب بات تو قسمت کی ہے کسی کے واسطے اچھی کسی کے حق میں بری۔چلی ہوا تو مرے راستے میں گرد اڑی۔کام کرنے والوں کو ایک پیغام میں ضرور دیتا جائوں گا جنوں ہے شرط ہر اک کام میں اور اس کے بعد اسی خلوص
مزید پڑھیے








اہم خبریں