سعد الله شاہ



ذکرماہنامہ الحمرا کے سالنامے کا


ماہنامہ الحمرا کا سالانہ شمارہ 2020ء میرے سامنے ہے۔ اس کی علمی حیثیت تو اپنی جگہ بلند و اعلیٰ ہے مگر اس کا معیاری ہونا اور اجرا کا تسلسل بھی حیران کن ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ اپنی تزئین میں یہ اپنے ایڈیٹر شاہد علی خاں کی طرح خوبصورت ہے تو غلط نہ ہو گا۔ اصل میں اس پرچے کی اپنی درخشندہ و تابندہ تاریخ ہے کہ اس کے بانی نامور شاعر مولانا حامد علی خاں ہیں جن کا شعر بھی اس ماہنامہ کے صفحہ تین پر چھپا ہوتا ہے۔ صبح ازل سے ہوں تن گیتی میں مثل روح۔ مجھ
پیر 17 فروری 2020ء

اقبال شناس اردوان، زندہ باد

اتوار 16 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
ایک جگنو ہی سہی ایک ستارا ہی سہی شب تیرہ میں اجالوں کا اشارہ ہی سہی ہیں ابھی شہر میں ناموس پہ مرنے والے جینے والوں کے لئے اتنا سہارا ہی سہی اردوان نے پاکستانیوں کے دل جیت لئے۔ لیڈر ایسا ہی ہوتا ہے۔ وہ اپنے لفظوں میں دل رکھ دیتا ہے۔ اس کے عمل میں توانائی ہوتی ہے اور اس کے پیغام میں صبح جیسی نوید ہوتی ہے۔ گفتگو سے نیت ظاہر ہوتی ہے اور شفاف باطن منعکس ہوتا ہے۔ کبھی بیدی کا افسانہ نہ پڑھا تھا اپنے دکھ مجھے دے دو‘اردوان نے حقیقت میں ہم پاکستانیوں کو یہی باور کروایا ہے کہ
مزید پڑھیے


عمر بھر کون حسین کون جواں رہتا ہے

هفته 15 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
اک محبت ہے کہ شرمندۂ آداب نہیں اس کے پیچھے کوئی مکتب نہ ادارہ کوئی یہ محبت بھی عجیب شے ہے کہ منیر نیازی نے منفرد بات کی کہ میں جس سے پیار کرتا ہوں اسی کو مار دیتا ہوں‘بظاہر یہ بات بڑی عجیب لگتی ہے مگر محبت کا جنون ایسا ہی ہوتا ہے کہ بندہ مر جاتا ہے یا کسی کو مار سکتا ہے۔غالب نے بھی تو کہا تھا کہ اس نے بھی ایک ڈومنی کو مار رکھا ہے۔ مصیبت یہی ہے کہ اکثر سچی اور کھری محبت غیر مشروط ہی ہوتی ہے بلکہ اندھی ہوتی ہے۔ اسی لئے اکثر سوچنے
مزید پڑھیے


کاسۂ چشم بھرنے آیاہوں

بدھ 12 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
کمال نغمہ گری میں ہے فن بھی اپنی جگہ مگر یہ لوگ کسی درد نے سریلے کیے یہ تو خیر اس عطا کا کام ہے جس کا کوئی نام نہیں۔ نام میں رکھا بھی کیا ہے۔ کام دیکھا چاہیے۔ حسن ہے تو حسن کو بے نام دیکھا چاہیے‘ خیر یہ باتیں تو ذہن نارسا کی ہیں اور محسوس کرنے والے دل کی ہیں۔ آپ کی دلچسپی کیلئے میں نہایت دلچسپ بات آپ سے شیئر ضرور کروں گا کہ ایک شخص بونگ اور سری پائے بیچنے والے کے پاس آیا اور شکایت کرتے ہوئے کہنے لگا کہ یار تم نے بچے کو ایسے
مزید پڑھیے


ایک کالم کام کرنے والوں کیلئے

منگل 11 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
سبز رُتوں کی جھلمل میں جب شاخیں پھول اٹھاتی ہیں بہکے بہکے سے رہتے ہیں بادل چاند ہوا اور میں میں کوئی بجھارتیں نہیں ڈال رہا۔ ایک حقیقت حال کا ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ جس طرح انصاف ہوتا ہوا دکھائی دینا چاہیے اس طرح کام ہوتا ہوا کیوں نظر نہ آئے۔ یہ کام کسی بھی سطح کا ہو اصل بات یہ ہے کہ کام کرنے والے میں اخلاص کتنا ہے۔ آج کل بھی ہم حکومتی سطح پر کیسے کیسے بلند بانگ دعوے سنتے ہیں مگر یہ پہلو میں شور کی طرح ہی ہوتا ہے‘ دل چیریں تو بوند بھی برآمد نہیں
مزید پڑھیے




روش پارٹی اور خوشبوئے سخن

اتوار 09 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
تہذیب اور شائستگی کے پیمانوں پر غزل استوار کرنے والی حمید شاہیں غزل سرا تھی تو رہ رہ کر میرا دھیان مقبوضہ کشمیر کے دلیر حریت پسندوں کی طرف جا رہا تھا جو اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں مگر نہتے ہیں۔ عزم و استقلال بھی تو جی داروں کے ساتھ ہے۔ غزل کے اشعار تھے: میرے جوتے مرے اپنے ہی لہو سے تر ہیں چار سو گنگ دریچے ہیں مقفل در ہیں شیر کی چال شکاری کو بتا دیتی ہے غار کی گود میں پلتے ہوئے بچے نر ہیں جن کے ہاتھوں میں لکیریںنہیں رکھی جاتیں ہم سے ڈر شہر ستم ہم وہی
مزید پڑھیے


سارے رنگ مر گئے بولنے کی آس میں

هفته 08 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
سحر ہوتی ہے تو سحر انگیز منظر ہوتا ہے۔ پرندوں کی چہکار سے صبح جاگتی ہے شبنم کے موتی ادھر ادھرکے پودوں پر اور گھاس پر جگمگانے لگتے ہیں۔ زندگی سے بھر پور تازہ ہوا‘ پھولوں کو چھوتی ہوئی مشام جاں کو آن مہکاتی ہے۔ پھر تتلیوں کا گلگشت اور بھنوروں کا پھولوں پر منڈلانا‘شہد کی مکھیوں کا گلوں کے رس اٹھانا اور سب سے بڑھ کر تمازت بڑھاتی کرنیں‘ جسم کو ٹکور کرنے والی سرما کی دھوپ۔ مگر یہ سب کچھ بشر کے وجود کے ساتھ ہی شہادت پاتے ہیں بلکہ ہر موسم ہی اس کے آنے جانے ہی
مزید پڑھیے


مفسرِ قرآن ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی کی پہلی برسی

جمعرات 06 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
اقبال نے کتنی سادگی سے گہرائی کی آخری حد پر جا کر کہا تھا: ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں انہوں نے خدا سے دعا کی’’مرا نور بصیرت عام کر دے۔ میں سوچتا ہوں کہ اختصار و اعجاز پر محمول یہ فقرہ یا مصرع اگر پھیلایا جائے تو کائنات پر محیط ہو جائے۔ یہ نور بصیرت ہے کیا! وہی قرآن و سنت سے پھوٹنے والے روشنی جس نے اقبال کو بے چین و مضطرب کر رکھا تھا اور جس نے ان کے کلام میں بجلیاں بھر دیں تھیں اور اسے شعلہ نوا کر دیا تھا۔ کبھی میں
مزید پڑھیے


امید

پیر 03 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
واسطہ یوں رہا سرابوں سے آنکھ نکلی نہیںعذابوں سے میں اکیلا تھا اور تنہا تھا شہر لایا ہوں اک خرابوں سے میرے ذہن میں ایک عجیب خیال آیا کہ جو ہمسفر کا انتظار کرتے رہتے ہیں ان میں اعتماد کی کمی ہوتی ہے لیکن یہ بھی درست کہ کچھ راستے تنہا نہیں سمٹتے۔ مگر پہاڑوں کی چوٹیاں سر کرنے والے ایسا کب سوچتے ہیں۔ اصل میں مجھے آج وزیر اعظم عمران خاں کے بارے میں بہت ہی اہم بات کرنا ہے کہ کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ وہ ناکام ہو چکے ہیں۔ لیکن پہلے اپنی ایک یاد آپ کے ساتھ شیئر کرنی ہے
مزید پڑھیے


اردو میں خط و کتابت‘ ایک اچھا فیصلہ

اتوار 02 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
خواب کمخواب کا احساس کہاں رکھیں گے اے گل صبح تری باس کہاں رکھیں گے پہلے پھولوں سے لدے رہتے ہیں جو راہوں میں ہم وہ چاہت کے املتاس کہاں رکھیں گے کراچی سے آئے ہوئے ایک شاعر نے کہا کہ اردو کا اصل ذائقہ تو پنجاب میں آ کر چکھا ہے کیا اعلیٰ زبان پنجاب میں لکھی جا رہی ہے۔ بات کرنے کا مقصد جو تھا وہ تو تھا مگر ایک متعلقہ خوشخبری نے ہمیں حکومت کو داد تحسین دینے اور ایک سب سے اہم قومی مسئلہ کی طرف متوجہ کر دیا۔ فاطمہ قمر نے بتایا کہ سحر انگیز خبر ہے کہ حکومت
مزید پڑھیے