BN

سعد الله شاہ


بن میرے شاید آپ کی پہچان بھی نہ ہو


سوچا ہے اب کے بار تجھے چھوڑ دیں گے ہم گویا کہ اپنے آپ سے بدلہ بھی لیں گے ہم مشکل سہی یہ تجربہ لیکن کریں گے ہم تنہائیوں کو اوڑھ کے زندہ رہیں گے ہم سوچا کہ آج خوشگوار آغاز کیا جائے کہ ملکی معاملات تو بڑے گھمبیر ہیں۔اس لئے ایک رومانوی سی فضا میں ہم چلے گئے۔ یادوں میں تیری شام کو نکلیں گے باغ میں راتوں کو تیری یاد میں گھوما کریں گے ہم ۔ ہم بھی اناپرست ہیں بس ٹوٹ جائیں گے لیکن زبان سے نہ کبھی اف کریں گے ہم کچھ بھی نہیں ہے بات تو پھر ختم کیجیے۔کچھ
هفته 24  ستمبر 2022ء مزید پڑھیے

ملکہ معظمہ اور ہمارے بادشاہ

جمعرات 22  ستمبر 2022ء
سعد الله شاہ
چند لمحوں کے لئے ہی سہی اچھی گزری یہ محبت بھی ہے دھوکہ تو چلوں یوں ہی سہی کس قدر تونے اذیت میں رکھا ہے مجھ کو میں نے تنہائی میں بھی خود سے کوئی بات نہ کی ہاں ایک خیال اور عجیب سا ہے کہ کتنی بے رعب نظر آئی بلندی پر بھی آس کی شاخ کہ جو پیڑ سے ٹوٹی نہ جڑی اور ہاتھ ملتے ہی ترا ہم پہ قیامت ٹوٹی۔اور تیرے لئے جیسے یہ کوئی بات نہ تھی یقین کریں دنیا بس ایسے ہی ہے اور تو اور ملکہ برطانیہ بھی چلی گئیں اور ان کے ارتحال پر ملال کو جس
مزید پڑھیے


تعلیمی صورت حال اور ہماری ذمہ داری

منگل 20  ستمبر 2022ء
سعد الله شاہ
اس سے یوں دوستی نبھائی کیا یار اتنی بھی سخت جانی کیا ہم مکمل زوال دیکھیں گے آنکھ منظر سے اب ہٹانی کیا چلیے آپ کو اسی بہائو میں لئے چلتے ہیں جب بچھڑنا کسی کے بس میں نہیں صبر کیا اور نوحہ خوانی کیا ’ددرد‘غم‘ ہجر ‘یاس‘ تنہائی اور بھیجے وہ اب نشانی کیا۔کبھی طالب علمی کی زمانے میں ناصر کاظمی کو پڑھتے تھے تو حیرت ہوتی تھی غزلوں کی غزلیں دل و ذہن پر نقش ہوتی جاتیں۔ میرا خیال ہے کہ اس طلسم سخن سے نکل کر بیٹھتے ہیں۔اصل میں آج میرے سب سے چھوٹے بیٹے حافظ عزیر بن سعد کا نویں
مزید پڑھیے


تو جو ہر شب نیا پیمان وفا باندھتا ہے

پیر 19  ستمبر 2022ء
سعد الله شاہ
یار دنیا وہی سمجھتا ہے جو اسے عارضی سمجھتا ہے خامشی خامشی میری توبہ کون یہ ساحری سمجھتا ہے سخن کا ابلاغ آسان نہیں ایک لمحے کو رک کے پوچھ تو لے۔وہ تیری بات بھی سمجھتا ہے۔لکھ لکھ کے تھک گئے مگر کسی پہ کوئی اثر نہیں کہ یہ لوگ کھا کھا کر نہیں تھکتے۔ایسے ہی دل چاہا کہ ان کھد اور سری پائے کھانے والوں کو انہی کی زبان میں بات سمجھائی جائے مگر چربی چڑھے ذہن سے بات کیا راستہ بنائے گی۔ہمارے دوست زاہد حیات کا ایک پیٹو قسم کا دوست آتا تو دو درجن سے کم روٹیاں نہ کھاتا اس کے
مزید پڑھیے


اک سانپ بولتا ہے سپیرے کی بین میں

اتوار 18  ستمبر 2022ء
سعد الله شاہ
اوراق گرچہ ہم نے کئے ہیں بہت سیاہ لفظوں کی کائنات سے نکلے نہ مہرو ماہ شاید ہمارے ہاتھ میں ہوتی کوئی لکیر قسمت پہ بھی یقین ہمارا نہیں تھا آہ یہ تو ہے اور پھر موجودگی میں موت کی کیسی خوشی ملے۔اس غم سے زندگی کو مگر عمر بھر کی راہ، جی وہی کہ موت کا ایک دن معین ہے۔نیند کیوں رات بھر نہیں آتی اور پہلے آتی تھی حال دل پہ ہنسی۔اب کسی بات پر نہیں آتی۔آپ یقین جانیے بس ایسی ہی صورت حال ہے کوئی پرسان حال نہیں وہ دست قاتل کہ جس کا تذکرہ فیض صاحب نے کیا تھا کہ
مزید پڑھیے



سمر قندمیں شہباز شریف کی ثمر بار ملاقاتیں

هفته 17  ستمبر 2022ء
سعد الله شاہ
پیدا ہوا ہے کوئی تو ہنگام شہر میں یعنی کہ اپنا جب سے ہوا نام شہر میں اے سعد اس کو جھوپ پہ تھا اس قدر عبور طرز سخن اسی کا ہوا عام شہر میں اس کے بعد تو غالب کا مصرع لکھنا پڑے گا۔روئے سخن کسی کی طرف ہو تو روسیاہ کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے۔ آپ بس شعروں کا لطف لیجیے۔کیسا یہ امتزاج مری زندگی میں ہے۔آئی ہے صبح گائوں میں تو شام شہر میں۔یوسف تو ہم نہیں تھے کہ کوئی خریدتا۔پر ہم تو دستیاب تھے بے دام شہر میں۔چلیے اس تمہید کے بعد شہباز شریف کی پیوٹن
مزید پڑھیے


شہباز شریف کے سفید ہاتھی اور سیلاب

جمعه 16  ستمبر 2022ء
سعد الله شاہ
اے عشق تری بک بک نہ گئی گو دل بھی گیا دھک دھک نہ گئی ہم چھوڑ کے اس کو آ بھی چکے کانوں سے مگر بھک بھک نہ گئی معلوم نہیں آپ اس کیفیت سے گزرے ہیں کہ نہیں مگر اس واردات سے تو ضرور نبرد آزما ہوئے ہونگے گونجتے رہتے ہیں الفاظ مرے کانوں میں تو تو آرام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ ۔جی ایسے ہی ہوتا ہے قوم کے رہنما قوم سے وعدہ کر کے بھول جاتے ہیں اور لوگ ٹرک کی بتی کے پیچھے ہانپتے رہتے ہیں ۔فی الحال تو میں اپنی بپتا سنائوں گا کہ اس کا تعلق
مزید پڑھیے


اپنا ٹیکہ مجھے لگا دیں

جمعرات 15  ستمبر 2022ء
سعد الله شاہ
اپنے ہونے ہی کا یقین آئے وہ جو ملنے کو خود کہیں آئے رونے دھونے کا اہتمام کرو شام آئی ہے وہ نہیں آئے جی ایک شعر اور یوں تو نکلے تھے ساتھ اپنے سبھی۔ہاں مگر لوٹ کر ہمیں آئے اب اس میں کوئی تعلی نہیں ہے۔وہ جو واپس نہیں آئے۔ ان کی منزلیں یقینا ابھی باقی ہیں۔ سب سے پہلے میں آپ کے ساتھ ایک نہایت خوبصورت بات شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ محبت کے باب میں ایسی بات ایک اضافہ نہیں تو انمول ضرور ہے۔ ہمارے دوست ڈاکٹر ناصر قریشی صاحب جو ایک مشہور سرجن ہیں اپنی نواسی کے حوالے سے بتانے
مزید پڑھیے


تکمیل دین اور اتمام نعمت

بدھ 14  ستمبر 2022ء
سعد الله شاہ
ان کو بھیجا گیا اک عجب روپ میں جیسے بادل کی چھائوں کڑی دھوپ میں اس کے آنے سے پیدا ہوئے بحر و بر یہ زمیں پہ مکاں یہ سبھی بام و در یقیناً ہر مطہر لمحہ آپ بھی اترتا ہے کہ آپ کائنات کے مرکزو محور ہستی کے بارے میں سوچتے ہیں۔ وہ جو آیا تو ہر بات بننے لگی۔ روشنی رات سے خود ہی چھیننے لگی۔ ان کو معراج پر بھی بلایا گیا۔ آسماں کو زمین سے سجایا گیا۔ ان کو دیکھا تو خود مسکرایا خدا۔ کس بلندی پہ تھا عشق جلوہ نما۔ اور پھر ہر طرف بھی صدا مصطفیؐ مصطفیؐ۔
مزید پڑھیے


تم محبت کو تجارت کی طرح لیتے تھے

منگل 13  ستمبر 2022ء
سعد الله شاہ
اس کے حصار سے تو اگرچہ نکل گیا گرمی سے اپنے جذبے کی لیکن میں جل گیا حیران کھڑا تھا میں تو زمانے کو دیکھتا پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ بھی بدل گیا اور پھر یوں بھی ہے کہ ’’اب کے خیال یار سے ممکن نہیں گریز۔ شاہد وہ میری سوچ کے سانچے میں ڈھل گیا‘‘ اس خیال کو یوں بھی دیکھا جا سکتا ہے‘ لہو کے ساتھ رگ و پے میں دوڑنے والے۔ تہی بتا کہ تجھے کس طرح جدا کرتے۔ یہ اصل میں انتہاء محبت ہے۔ آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میں کیا کہنے جارہا ہوں لیکن آپ کی دل
مزید پڑھیے








اہم خبریں