BN

سعد الله شاہ


میٹھی عید کی تلخ باتیں


مصلحت کو شو اٹھو خواب لئے جاتے ہیں زندہ رہنے کے بھی اسباب لئے جاتے ہیں کیا ضروری ہے کہ تم پر بھی قیامت ٹوٹے کیا یہ کافی نہیں احباب لئے جاتے ہیں دل تو یہی چاہتا تھا کہ آپ کو گزشتہ عید مبارک کہوں اور آپ سے میٹھی میٹھی اور خوشبودار باتیں کروں، مگر کیا کروں، کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جائے دل۔ انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں، پے درپے واقعات و حادثات نے چکر دیا ہے تندو تیز کس قدر اپنی یہ زندگی کتنے ہی حادثات سرشام ہو گئے ابھی تو کراحی حادثہ کا ملال بھی پوری طرح
جمعرات 28 مئی 2020ء

قیامت صغریٰ اور ہم

اتوار 24 مئی 2020ء
سعد الله شاہ
کسی کی نیند اڑی اور کسی کے خواب گئے سفینے سارے اچانک ہی زیر آب گئے ہمیں زمیں کی کشش نے کچھ اس طرح کھینچا ہمارے ہاتھ سے مہتاب و آفتاب گئے کوئی کیا کر سکتا ہے کوئی کب جانتا ہے کہ منظر کب بدل جائے مشیت ایزدی کے سامنے سب بے بس و لاچار ہیں۔ اس کی حکمتیں وہی جانتا ہے یہ مٹی کا پتلا جو اس کے امر سے بھاگتا پھرتا ہے اور ہوائوں میں اڑتے نظر آتا ہے بس مقدر اور لکھے ہوئے کا پابند ہے یہ حقیقت اور امر اپنے جگہ سچ ہے مگر دل ہی تو ہے نہ سنگ
مزید پڑھیے


کورونا کا بالکل سچا واقعہ

جمعرات 21 مئی 2020ء
سعد الله شاہ
اگرچہ غم بھی ضروری ہے زندگی کے لئے مگر یہ کیا کہ ترستے رہیں خوشی کے لئے عید کا دبائو تھا اور حکومت پریشان کہ کیا کیا جائے۔ تاجر تو جیسے بغاوت پر اترنے والے تھے کہ ان کا سیزن جا رہا تھا۔ ایسے میں سپریم کورٹ نے حکومت کی مشکل آسان کر دی کہ پورا ہفتہ مارکیٹیں اور شاپنگ مالز کھلے رہیں گے۔ بلھے شاہ نے یونہی نہیں کہا تھا’’پنج رکن اسلام دے تے چھیواں ہے گاٹک۔ جے نہ ہووے چھیواں تے پنجو جاندے مک‘‘ واقعتاً غریب دیہاڑی دار اور چھوٹے کاروبار والے فاقوں پر آ گئے تھے۔کچھ لوگ خوددار تو
مزید پڑھیے


منظر نامہ اور ترجیحات

منگل 19 مئی 2020ء
سعد الله شاہ
چند لمحے جو ملے مجھ کو ترے نام کے تھے سچ تو یہ ہے کہ یہی لمحے مرے کام کے تھے سعدؔ پڑھنا پڑی ہم کو یہ کتاب ہستی باب آغاز کے تھے جس کے نہ انجام کے تھے دل چاہتا ہے کہ کسی اور مسئلے کو مس کرنے سے پہلے ایک دلچسپ خبر پر بات ہو جائے کہ اداسی کے اس موسم میں بھی اپنے قارئین کو ذرا سا لطف اندوز کر دیا جائے۔ ویسے تو ’’ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق‘‘ اور لوگ بھی دیکھتے ہیں کہ ’’ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا‘‘ مگر یہی سب سے بڑی
مزید پڑھیے


کورونا اور عقیدت

پیر 18 مئی 2020ء
سعد الله شاہ
موجودہ صورتحال گھمبیر ہوتی جا رہی ہے، بالکل گنجلک، ریشمی دھاگے کی طرح، جس کا سرا نہیں مل رہا اور مزید کوششوں سے دھاگہ اور الجھ رہا ہے۔ کبھی کبھی غالب کی غزل کے مصرعے ذہن میں آنے لگتے ہیں ’’درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا‘‘ کیا کیا جائے اور بوکھلائی ہوئی حکومت اچھا کام بھی برے انداز میں کرتی ہے، دوسری بات یہ کہ اس کے خلوص اور نیت کے آڑے سیاست آ جاتی ہے۔ کوئی نثری نظم قسم کی شے بنتی جا رہی ہے۔ فیض صاحب کی خوبصورت وضاحت یاد آ گئی کہ نظم کا
مزید پڑھیے



املتاس کے پیلے پھول

اتوار 17 مئی 2020ء
سعد الله شاہ
خواب کمخواب کا احساس کہاں رکھیں گے اے گل صبح تری باس کہاں رکھیں گے پیلے پھولوں سے لدے رہتے ہیں جو راہوں میں ہم وہ چاہت کے املتاس کہاں رکھیں گے صاحبو!بات کچھ یوں ہے کہ مئی کے مہینے میں جوبن دکھانے والے املتاس کے پھول جو اپنے درختوں سے گہنوں کی طرح لٹکتے ہیں ہماری بھی کمزوری ہیں۔ ویسے تو ہر پھول ہی ہمیں بھاتا ہے خواہ وہ گوبھی ہی کا کیوں نہ ہو۔ مگر میں پودوں پر کھلنے والے پھولوں کی بات کر رہا ہوں ۔سخن گسترانہ بات اس میں یہ آپڑی کہ ہمارے خیال میں ہم اس منظر کو اچھی
مزید پڑھیے


شاہد خاقان کی باتیں اور حقیقت حال

جمعه 15 مئی 2020ء
سعد الله شاہ
اتفاق سے میں نے شاہد خاقان عباسی کی اسمبلی میں کی گئی تقریر سماعت کی۔ وہ ممبران کو روکتے ہی رہ گئے کہ کوئی سننے والا تو ہو مگر جن کو سننے کی تاب نہ ہو وہ کہاں رکتے ہیں۔ تاہم کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے روکا بھی نہیں اور ٹھہرا بھی نہیں۔ کچھ اپنے بیٹھے رہے مگر سپیکر تو بہرطور گوش برآواز رہے بلکہ کچھ کو چپ کرواتے رہے جو نعرہ زن ہونے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کی تقریر کو اگر عنوان دیا جائے تو وہ ہو گا’’یہ ہو کیا رہا ہے‘‘ اب بتائیے وہ
مزید پڑھیے


ہمارا امتحان

بدھ 13 مئی 2020ء
سعد الله شاہ
ہمیں زمانے نے سب کچھ سکھا دیا ورنہ ہمارے پاس تو ایسا کوئی کمال نہ تھا لاک ڈائون کے حوالے سے کیے گئے موجودہ فیصلے سے تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے عثمان بزدار کے پیچھے کوئی تھنک ٹینک ہے اور وہ سوچتا بھی ہے یا یوں سمجھ لیں کہ اچھی حکمت عملی سے کام کیا گیا ہے۔ میرال خیال ہے کہ یہ پنجاب والا فیصلہ عثمان بزدار کی اپنی سوچ اور فکر کا نتیجہ ہی ہو سکتا ہے کہ کچھ عرصے سے وہ وزیر اعلیٰ لگنے لگے ہیں۔ پنجاب میں تین روز لاک ڈائون رہے گا اور چار روز کے
مزید پڑھیے


انتظار کی گھڑیاں ختم

اتوار 10 مئی 2020ء
سعد الله شاہ
صاحبو! اب بات کچھ یوں ہے کہ وبا میں بقا کا مسئلہ درپیش ہے۔ لاک ڈائون نے تو سب کچھ ناک ڈائون کر رکھا ہے۔ لوگ گھبرائے ہوئے بھی ہیں اور اکتائے ہوئے بھی۔ حکومت نے عمران خاں کی ایما پر درست فیصلہ کیا ہے کہ چاروں صوبوں کی مشاورت سے سوموار سے لاک ڈائون میں نرمی لائی جائے گی مگر کاروباری لوگ اس قدر تنگ آئے ہوئے کہ تنگ آمد بجنگ آمد والا معاملہ دکھائی دیتا ہے۔ انہیں تھوڑا سا صبر کر لینا چاہیے مگر وہ بضد ہیں کہ وہ 9مئی ہی کو دکانیں کھولیں گے ۔ حالات پہلے جیسے
مزید پڑھیے


حکومت کی اساسی ذمہ داری ‘ مگر!

هفته 09 مئی 2020ء
سعد الله شاہ
ہم کہ چہرے پہ نہ لائے کبھی ویرانی کو کیا یہ کافی نہیں ظالم کی پشیمانی کو دامن چشم میں تارا ہے نہ جگنو کوئی دیکھ اے دوست مری بے سروسامانی کو کیا کہیں ایسے بھی ہوتا ہے جیسا کہ یہاں ہو رہا ہے۔ اک بات کا رونا ہو تو رو کر صبر آئے۔ ہر بات یہ رونے کو کہاں سے جگر آئے‘‘ کوئی کل سیدھی نہیں‘ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے اور پورا نظام ہی تلپٹ ہے۔ دوست نے بڑی اچھی بات کی کہ کوئی بھی حکومت ہو اس کی بنیادی دو ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ پہلی لا اینڈ آرڈر یعنی
مزید پڑھیے