سعد الله شاہ


روبوٹ اور حکمران


دعا کرو میں تمہارے حصار سے نکلوں رہ جمال کے زریں غبار سے نکلوں میں گرم جوش ہوں نفرت میں اور محبت میں میں کیسے جذبہ جاں کے بخار سے نکلوں یہ حصار بڑی ظالم شے ہے پہلے ایک نہایت دلچسپ اور مضحکہ خیز ویڈیو کا سن لیں کہ ایک مسلمان ملک کے سربراہ ایک حفاظتی روبوٹ کے زیر نگرانی دبئی کی کسی کانفرنس میں شرکت کے لئے جا رہے ہیں۔ بندہ سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے کہ کوئی مسلمان سربراہ اپنا دماغ استعمال نہیں کرتا۔ جیسے ان کو بریف کر دیا جاتا ہے وہ اس کو مان لیتے ہیں نپولین بونا پاٹ
هفته 15  اگست 2020ء

آہ! راحت اندوری

جمعرات 13  اگست 2020ء
سعد الله شاہ
خواب کمخواب کا احساس کہاں رکھیں گے اے گل صبح تری باس کہاں رکھیں گے خود ہی روئیں گے ہمیں پڑھ کے زمانے والے ہم بھلا رنج و الم پاس کہاں رکھیں گے میں راحت اندوری سے کبھی نہیں ملا مگر وہ شعری منظر پر اس طرح سے چھائے ہوئے تھے کہ سماعتوں سے اتر کر دل میں سما گئے۔ انہوں نے اپنی طرحدار شاعری سے اک زمانے کو متاثر کیا۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ مجھے شاعر پرفارم کرتے ہوئے اچھے نہیں لگتے کی شاعری اداکاری نہیں ہوتی یہ ایک نہایت سنجیدہ عمل ہے مگر کیا کریں کہ انور مسعود کی طرح
مزید پڑھیے


ایک ہلکا پھلکا اور چٹ پٹا کالم

بدھ 12  اگست 2020ء
سعد الله شاہ
کچھ کم نہیں ہے وصل سے یہ ہجر یار بھی آنکھوں نے آج دھو دیا دل کا غبار بھی اپنے نقوش پا کے سوا کچھ نہیں ملا اپنے سوا کوئی نہیں صحرا کے پار بھی آج دل میں ٹھانی تھی کہ کوئی ہلکا پھلکا کالم لکھا جائے کہ روٹین کوتوڑنا بھی اچھا لگتا ہے۔ غالب نے بھی تو کہا تھا کہ کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جائے دل۔ انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں۔ ایک پوسٹ محمد عباس مرزا کی نظر سے گزری جس پر انہوں نے ایک معصومانہ سا سوال کیا کہ کوئی انصاف پسند یہ تو بتائے کہ آخر
مزید پڑھیے


کچھ تو ڈلیور کریں…

منگل 11  اگست 2020ء
سعد الله شاہ
جب تلک اک تشنگی باقی رہے گی تیرے اندر دلکشی باقی رہے گی ہو کوئی برباد اس سے تجھ کو کیا ہے تیرے رخ پر سادگی باقی رہے گی تشنگی تو ختم ہو چکی۔ یعنی لوگ نکو نک ہو چکے۔ ہمارا علاج بھی یہی تھا۔ خیر فی الحال تو طوفانی بارشوں کا زور ہے ۔کراچی جسے ہم حسن بے شمار لکھتے تھے ،بھی جل تھل ہو گیا۔ بلوچستان میں بھی پانی دندناتا پھرتا ہے۔ جانی نقصان کا دکھ ہے۔ شہزاد احمد یاد آ گئے: میں کہ خوش ہوتا تھا دریا کی روانی دیکھ کر کانپ اٹھا ہوں گلی کوچوں میں پانی دیکھ کر ہم اس حوالے
مزید پڑھیے


عمران‘ مہاتیر اور ہماری داخلی صورتحال

پیر 10  اگست 2020ء
سعد الله شاہ
اک سمندر ہو کوئی اور وہ لب جو آئے کیوں نہ اظہار کو ان آنکھوں میں آنسو آئے خوش گمانی نے عجب معجزہ سامانی کی اب ہمیں کاغذی پھولوں سے بھی خوشبو آئے بات یہ ہے کہ میں رجائیت پسند ہوں۔ کوشش کرتا ہوں کہ معاملات کے روش پہلوئوں کو دیکھا جائے مگر کبوتر کی طرح آنکھیں تو بند نہیں کی جا سکتیں جو چیز ہویدا ہو اسے صرف فلسفے کے زور پرردکیا جاسکتا ہے۔ غالب کی طرح کہا جاسکتا ہے کہ نہ ہم سمجھے نہ تم آئے کہیں سے۔ پسینہ پونچھئے اپنی جبیں سے۔ اور خوش گمانی یا امید میں ہم بند نیازی
مزید پڑھیے



رونقیں پلٹ آئی ہیں

اتوار 09  اگست 2020ء
سعد الله شاہ
پھول کھلنے لگے یادوں کے پس غرفہ چشم بزم یاراں ہوئی آراستہ سبحان اللہ کامیابی کو علاقہ ہی نہیں عشق کے ساتھ ہوئے ناکام سند یافتہ سبحان اللہ لو جی سمارٹ لاک ڈائون بھی ختم ہوا سب کچھ بحال ہو گیا۔ خاص طور پر پارکوں کے کھلنے کی ہمیں زیادہ خوشی ہے کہ سبزہ پیڑ پودے اور پھول ہمارا مسئلہ ہیں تعلیمی ادارے فی الحال بند رہیں گے کہ تعلیم ہمارا اتنا مسئلہ بھی نہیں مگر یہ پارک بھی تو بچوں کے ساتھ ہی اچھے لگتے ہیں۔ ہائے ہائے پھول کی مہکار اور رنگ کو دیکھ کر بچوں کی شرارتی آنکھوں کی چمک اور
مزید پڑھیے


غیر سیاسی سوشل میڈیا

هفته 08  اگست 2020ء
سعد الله شاہ
لاکھ دشمن سہی وہ دوست نما‘ آ جائے گل تو بے بس ہے اگر باد صبا آ جائے دیکھ اے دل وہ چلے آتے ہیں اپنی جانب اب ترا ضبط نہ ٹوٹے تو مزہ آ جائے برسات میں بھادروں کی پکھ لگ گئی ہے یعنی وہ گھٹن اور چپ چپ آغاز ہو چکی ہے ہوا رکتی ہے اور بندہ پسینے میں شرابور ہو جاتا ہے۔ ہر موسم میں اللہ کی حکمتیں پنہاں ہیں اسی موسم میں تو پھلوں میں رس پڑتا ہے۔ عید کے دن گزر چکے مگر ابھی گوشت خوری جاری ہے اگرچہ لاک ڈائون تقریباً ختم ہو چکا کاروبار کھل گئے اور
مزید پڑھیے


درد کشمیر اور علاج

جمعرات 06  اگست 2020ء
سعد الله شاہ
روشنی بن کے اندھیروں میں اتر جاتے ہیں ہم وہی لوگ ہیں جو جاں سے گزر جاتے ہیں کتنے کم فہم ہیں یہ ہم کو ڈرانے والے وہ کوئی اور ہیں جو موت سے ڈر جاتے ہیں کم سنی ہی میں دادا حضور حبیب تلونڈری کی کتاب درد کشمیر دیکھی۔ تب سے مجھے ایسا ہی محسوس ہوتا ہے جیسے کشمیر کا درد میرے ساتھ ہی پیدا ہوا۔ میری سوچ اور فکر کا حصہ ہے۔ سچ مچ ایسے ہی لگتا ہے کہ لہو کے ساتھ رگ و پے میں دوڑنے والے۔ تہی بتا کہ تجھے کس طرح جدا کرتے ۔ہم نے بچپن سے ہی قائد
مزید پڑھیے


فطرت اور تلخ حقیقت

منگل 04  اگست 2020ء
سعد الله شاہ
ہاں ہاں نہیں ہے کچھ بھی میرے اختیار میں ہاں ہاں وہ شخص مجھ سے بھلایا نہیں گیا اڑتا رہا میں دیر تک پنچھیوں کے ساتھ اے سعد مجھ سے جال بچھایا نہیں گیا ابراہیم اعوان نے ہماری توجہ کیٹس Keatsکی نیگیٹو کیپیبلٹی negative capibiltyکی طرف دلائی کہ ثانی شعر اس بے پناہ صلاحیت کی طرف نشاندہی کرتا ہے جو قدرت کسی فنکار کو عطا کرتی ہے۔ فنکار میں کیا ہر صاحب دل کو یہ سوچ ملتی ہے۔ بات تو سیدھی ہے کہ دوسرے کا خیال رکھنا حتیٰ کہ پرندوں کا۔ کیٹس بھی جب سبز میدان میں لیٹ کر ککو کی آواز
مزید پڑھیے


عہد موجود کا سچ

جمعرات 30 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
سچ کو سقراط کی مسند پہ بٹھا دیتا ہے وقت منصور کو سولی پہ چڑھا دیتا ہے ایک دریا میں بنا دیتا ہے رستے کوئی اور پھر ان رستوں کو آپس میں ملا دیتا ہے میرا خیال ہے دنیا کا مشکل ترین سوال یہ ہے کہ سچا کون ہے اور اس کا جواب بھی اتنا ہی دشوار ہے یعنی سچا وہ ہے جو جھوٹ نہ بولے۔جھوٹ اور یوٹرن میں زمیں آسمان کا فرق ہے کہ زمین اوپر چلی جاتی ہے اور آسمان نیچے آ جاتا ہے۔ آپ میری بات پر گھبرائیں نہیں۔ بس یوں سمجھ لیں کہ دماغ چل گیا ہے اور میں
مزید پڑھیے