BN

سعد الله شاہ


سیاست۔۔۔اور اب یہ بھی!


ملیں ہم کبھی تو ایسے کہ حجاب بھول جائے میں سوال بھول جائوں تو جواب بھول جائے کبھی تو جو پڑھنے بیٹھے مجھے حرف حرف دیکھے تری آنکھیں بھیگ جائیں تو کتاب بھول جائے آج میں نے قصداً ایسے اشعار لکھے کہ کچھ معاملہ ہی ایسا ہے کہ مفتی قوی صاحب اور حریم شاہ ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں اور بقول فراز’’خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے‘‘ یہ ایک الگ بات ہے کہ سیاست بھی اس وقت زوروں پر ہے اور ساری قوم کی نظریں اپوزیشن کے احتجاج پر لگی ہیں کہ وہ الیکشن کمیشن کے سامنے فارن فنڈنگ
بدھ 20 جنوری 2021ء

ووٹ کی کون سی عزت

منگل 19 جنوری 2021ء
سعد الله شاہ
حسرت وصل علی لمحہء بے کار کے ساتھ بخت سویا ہی رہا دیدہ بیدار کے ساتھ کیا کرے جذبہ وارفتگی شوق نہاں دل کو گل رنگ کیا گوشہ پرخار کے ساتھ بعض اوقات خود اذیتی میں بھی بڑا لطف آتا ہے جی خوش ہوا ہے راہ کو پرخار دیکھ کر۔ اب شکوہ اور شکایت کیسی۔ خواب بھی تو ہم نے خود دیکھے تھے کہ بہت خوشنما تھے۔ اب خوابوں کی تعبیر کس کے بس میں ہے؟ لوگ آخر ہمیں کیوں شرمندہ کرتے ہیں کہ ہم نے خود ہی بلا گلے لگائی۔ ۔ ہم انسان ہیں کہاں تک دیکھو یا سمجھ سکتے ہیں۔ یہ
مزید پڑھیے


خیر نال آ تے خیر نال جا

اتوار 17 جنوری 2021ء
سعد الله شاہ
خواب ہو گا یا کوئی خواب کے جیسا ہوگا ہم نے دیکھا تھا جسے آنکھ کا دھوکہ ہو گا اتنا لکھوں گا ترے بعد ترے بارے میں آنے والوں نے تجھے پہلے ہی دیکھا ہوگا خواب‘ سراب‘ شباب‘ حباب اور سماب سب ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں۔ آنکھ کا دھوکہ یا فریب نظر۔ جسے آپ سب سے زیادہ ایماندار سمجھتے ہیں‘ بعض اوقات اس کی ایمانداری آپ کو لے بیٹھتی ہے۔ نالائقی اور نااہلی سب کچھ ہی بلڈوز کر دیتی ہے۔ میں کوئی مافوق الفطرت بات نہیں کر رہا۔ یہی زمینی حقائق ہیں۔ وہی زمین جس پر دوپائے اور چارپائے چلتے ہیں اور
مزید پڑھیے


اسامہ ستی کا قتل اور حالات

هفته 16 جنوری 2021ء
سعد الله شاہ
اک کرب ہے آنکھوں میں اک درد ہے سینے میں کیا رمز ہے مرنے میں‘کیا راز ہے جینے میں کیا لیں گے تمہیں پا کر‘ساحل کی طرف جا کر طوفان اٹھایا ہے ہم نے تو سفینے میں کاندھوں پہ سرکی گرانی ہے کہ اس میں سوچوں کا بوجھ ہے سوسو فکراں دے پرچھاویں۔ سو سو غم جدائی دے۔ آج تو دل بھی بوجھل ہے کہ سل بنا ہوا ہے کس کو دکھائیں اپنا کلیجہ کٹا ہوا یہ کوئی رسمی اظہار غم نہیں بلکہ وہی سچائی غالب والی کہ اس نابغہ نے تعزیتی خط میں لکھا کہ کیونکر کہوں گا صبر کرو جس کا کلیجہ
مزید پڑھیے


لوح اور نصیر ترابی

بدھ 13 جنوری 2021ء
سعد الله شاہ
یہ کہا کہ حال دل زار اسے سنانے کو میں اپنے ساتھ رلاتا ہوں اک زمانے کو جو اس کی یاد نہ آئے تو جی ٹھہر جائے ہوا تو چاہیے بجھتا دیا جلانے کو دیا ہوا سے ڈگمگاتا ہے اور بجھنے کے اندیشے میں مبتلا ہوتا ہے مگر اس کی زندگی بھی ہوا سے منسلک ہے۔ وہی کہ ’’دیکھ کے میری بے خودی چلنے لگی ہوا کہ یوں‘‘۔ یہ سانس کی آمدورفت بھی تو دہری نعمت ہے کہ بقول سعدی فرحت و راحت
مزید پڑھیے



حالات حاضرہ اور محمد یاسین وٹو

منگل 12 جنوری 2021ء
سعد الله شاہ
کنج دل تباہ میں کیا ہے بچا ہوا اک نقش پائے یار ہے حیرت بنا ہوا سچ مچ نفس زدہ ہے چراغ مزار دل کچھ کچھ جلا ہوا ہے تو کچھ کچھ بجھا ہوا چند ساعتوں کی گوشہ نشینی ہی آنکھیں کھول دیتی ہے۔ تنہائی میں وہ کچھ بھی روشن ہو جاتا ہے جو بھیڑ اور مصروفیت میں صرف نظر ہو جاتا ہے۔ وہی چند تصویر بتاں والا معاملہ ہے الماس شبی نے کالم ،کہ جس میں سرکاری ڈرامے کا تذکرہ تھا کہا کہ آپ ڈرامے کی طرف آ رہے ہیں۔ میں نے کہا ڈرامے دیکھ رہا ہوں ایک تو ڈرامے میں حقیقت ہوتی
مزید پڑھیے


سرکاری ڈرامہ بنایا جا سکتا ہے

اتوار 10 جنوری 2021ء
سعد الله شاہ
جو بھٹکتا ہے وہی راہ بنا جاتا ہے ورنہ بستی میں کہاں سیدھا چلا جاتا ہے بات سنتا ہے تو آنکھیں بھی بچھاتا ہے وہ بات کرتا ہے تو دامن بھی بچا جاتا ہے دنیا کا اپنا چلن ہے۔ یہاں سب چلتا ہے تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا۔ یہ مومن کا دکھ تھا اور اس نے یہ بھی کمال کی بات کی تھی کہ نارسائی سے دم رکے تو رکے۔ میں کسی سے خفا نہیں ہوتا جینا بھی ایک سلیقہ اور قرینہ ہے جو سیدھے لوگوں کو نہیں آتا۔ آج دل چاہا کہ تخلیق کی دنیا کی
مزید پڑھیے


بے حسی یا مصروفیت

هفته 09 جنوری 2021ء
سعد الله شاہ
رواں اس آنکھ سے اشکوں کا ایک دریا ہے کسی نے دل پہ تسلی کا ہاتھ رکھا ہے ہماری آگ سے کندن نہ بن سکا سونا ہماری آہ سے پتھر تو ایک پگھلا ہے مگر ہر خواب کو تعبیر کہاں ملتی ہے ہر آرزو ثمر بار کب ہوتی ہے اور خوش فہمی کب تجسیم پاتی ہے۔ خزاں رسیدہ سی شاخوں سے کتنے پات گرے۔ کسے خبر ہے کہ دل بھی کسی کا ٹوٹا ہے ضروری تو نہیں کہ کسی پر قیامت گزر جائے تو کوئی دوسرا بھی اس سے متاثر ہو اس کے لئے تو کوئی صاحب دل ہو تو سوچے سانحہ مچھ
مزید پڑھیے


یکساں نصاب تعلیم

جمعه 08 جنوری 2021ء
سعد الله شاہ
مرے اندر عجب اک واہمہ رکھا گیا ہے حقیقت سے مجھے شاید جدا رکھا گیا ہے میں اب تک رہنما کی چال میں الجھا ہوا ہوں کہ میرے سامنے اک راستہ رکھا گیا ہے نااہل اور نالائق لوگوں کا شاید مشن ہوتا ہے کہ لائق اور اہل لوگوں کا راستہ روکا جائے۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ جیسے تیسے طاقت اور اقتدار حاصل کیا جائے اور پھر شعور و آگہی کے راستے عوام پر بند کر دیے جائیں وگرنہ ان کے احکام کی بجا آوری کون کرے گا یہ تو حکمرانی کی پہلی شرط ہے کہ عام آدمی کو اس کی اوقات
مزید پڑھیے


دل کٹ چکا ہے

بدھ 06 جنوری 2021ء
سعد الله شاہ
اشک گردوں صدف میں پالتے ہیں تب سمندر گہر اچھالتے ہیں خود فراموشیاں نہ پوچھ اپنی زندگی کا عذاب ٹالتے ہیں آج ایک بے کلی سی ہے طبیعت مکدر اور بوجھل ہے۔ یوں تو قدرت کے مظاہر ہم پر اثر انداز ہوتے ہیں او ربعض اوقات اچانک کوئی خبر آپ کو سن کر دیتی ہے اور آپ کے اندر کا موسم متغیر ہو کر فشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ آپ کے پاس اظہار کے لیے الفاظ نہیں ہوتے کبھی کبھی اوپر نیچے ایسی باتیں ہو جاتی ہیں کہ آپ چکر اجاتے ہیں کہ جیسے ایک زخم مندمل نہ ہو تو دوسرا آن لگے
مزید پڑھیے