BN

سعد الله شاہ


ترقی یونہی ہوتی رہے گی


بے ربط کر کے رکھ دئیے اس نے حواس بھی جتنا وہ دور لگتا ہے اتنا ہے پاس بھی کانٹوں بھری یہ زندگی بے کیف تو نہیں وابستہ اس کے ساتھ ہے پھولوں کی باس بھی قدم قدم پے سراب تو ہے مگر یہ بھی ان کے لئے جو پیاسے ہوں ۔ زندگی تو مزاحمت کرنے یا مزاحمت کو سر کرنے کا نام ہے۔ نمو کا زور ہی بیج سے پھوٹنے والے ننھے منے کومل پودے کو زمین سے سر نکالنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ان آبلوں سے پائوں کے گھبرا گیا تھا میں جو خوش ہوا راہ کو پرخار دیکھ کر ۔ لیکن
اتوار 20 جون 2021ء مزید پڑھیے

تمھی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے

جمعه 18 جون 2021ء
سعد الله شاہ
پھر چشم نیم وا سے ترا خواب دیکھتا اور اس کے بعد خود کو تہہ آب دیکھتا ٹوٹا ہے دل کا آئینہ اپنی نگاہ سے اب کیا شکست ذات کے اسباب دیکھنا ہمیں یہ دن بھی دیکھنا تھے اب تو کچھ بتانے کے لئے بھی نہیں رہا۔ اکثر اخبارات کی شہ سرخی یہی ہے قومی اسمبلی میدان جنگ گالی گلوچ تفصیل میں جانے کی چنداں ضرورت نہں سوشل میڈیا پر لائیو مناظر موجود ہیں اس کے علاوہ کچھ کہنے کو جی نہیں چاہتا کہ خدا کی قسم اپنے آپ سے ہی شرم آنے لگتی ہے کہ یہ ہمارے نمائندے ہیں۔ بڑے خواب
مزید پڑھیے


آپ کو ریلیف محسوس کرنا ہوگا

بدھ 16 جون 2021ء
سعد الله شاہ
تم نے کیسا یہ رابطہ رکھا نہ ملے ہو نہ فاصلہ رکھا نہیں چاہا کسی کو تیرے سوا تو نے ہم کو بھی پارسا رکھا آپ یقینا سوال کریں گے کہ پہلے شعر میں ’’تم‘‘ اور دوسرے میں ’’تو‘‘ یہ تم سے تو کیوں؟ یہ سب بے تکلفی ہے کہ آپ سے تم اور پھر تم سے تو ہوئے۔ فی الحال ہم آتے ہیں بجٹ کے سلسلہ میں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کی تقریر کی طرف ، جو شور شرابے کی نذر ہو گئی۔ حکومتی ارکان لگا تار آوازیں کستے رہے۔ خیر یہ تو ہوتا ہے کہ جیسے مشاعروں میں ہو‘ سنگ مشاعرہ سننے
مزید پڑھیے


طاغوت

منگل 15 جون 2021ء
سعد الله شاہ
پھول خوشبو کے نشے ہی میں بکھر جاتے ہیں لوگ پہچان بنائے ہوئے مر جاتے ہیں میں تہی دست ہوں اور بارہا یہ سوچتا ہوں اس طرح لوگ کہاں لوٹ کے گھر جاتے ہیں بات دراصل یہ ہے کہ ہمارے پاس سوچ بچار کا وقت ہی نہیں۔ایک چل چلائو ہے اور بہائو ہے زندگی کا’’ہے تندو تیز کس قدر اپنی یہ زندگی۔ کتنے ہی حادثات سرشام ہو گئے‘‘ کبھی امجد صاحب کا شعر یاد آتا ہے۔’’دل کے دریا کو کسی روز اتر جانا ہے۔ اتنا بے سمت نہ چل لوٹ کے گھر جانا ہے‘‘ اب تو نوبت آں جاں رسید کہ فرصت کہاں
مزید پڑھیے


خواب اور حقیقت

جمعه 11 جون 2021ء
سعد الله شاہ
مجھ سا کوئی جہان میں نادان بھی نہ ہو کر کے جو عشق کہتا ہے نقصان بھی ہو خوابوں سی دل نواز حقیقت نہیں کوئی یہ بھی نہ ہو تودرد کا درمان بھی نہ ہو ادھر تو یہ ہے کہ خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا‘ اور پھر اس کو کوئی کیا کرے کہ روز اک خواب دکھاتا ہے چلا جاتا ہے۔بہرحال جب تک آنکھیں ہیں تب تک خواب بھی ہیں۔ تاہم خواب اور حقیقت میں فرق تو ہے۔ خواب بن جائے یا حقیقت خواب لگنے لگے۔ محرومیوں کا ہم نے گلہ تک نہیں کیا۔ لیکن یہ کیا کہ دل میں
مزید پڑھیے



اشکوں میں لے کر وفا کے دیے

منگل 08 جون 2021ء
سعد الله شاہ
روئے سخن نہیں تو سخن کا جواز کیا بن تیرے زندگی کے نشیب و فراز کیا یہ شہر سنگ ہے یہاں ٹوٹیں گے آئینے اب سوچتے ہیں بیٹھ کے آئینہ ساز کیا ہم روز اپنی آرزو کو دعا بناتے ہیں کہ اللہ پاک ہمارے پیارے وطن کو پھر سے پٹڑی پر چڑھا دے۔کوئی بھی اپنے ملک کو پرفتن نہیں دیکھنا چاہتا ہے مگر کیا کریں کہ اقبال ساجد کا شعر ہمیں متزلزل کرنے آ جاتا ہے۔ جہاں بھونچال بنیاد فصیل و در میں رہتے ہیں۔ہمارا حوصلہ دیکھو ہم ایسے گھر میں رہتے ہیں۔ کوئی نہ کوئی ایشو اور کوئی نہ کوئی حادثہ ہمارے تعاقب
مزید پڑھیے


مہکتا ہوا سخن زار

اتوار 06 جون 2021ء
سعد الله شاہ
خواب کمخواب کا احساس کہاں رکھیں گے اے گل صبح تری باس کہاں رکھیں گے سرتسلیم ہے خم کچھ نہ کہیں گے لیکن یہ قلم اور یہ قرطاس کہاں رکھیں گے آج دل چاہا کہ اپنے قارئین سے کچھ ادب کی باتیں کر کے ماحول کو مہکایا جائے۔ یعنی ہم سوچتے ہیں کہ پہلے پھولوں سے لدے رہتے ہیں جو راہوں میں ہم وہ چاہت کے املتاس کہاں رکھیں گے واقعتاً میں ایک جگہ سے اترا تو میری نظر انہی لٹکتے ہوئے پیلے گہنوں پر پڑی کہ قدرت کس کس رنگ میں جلوہ آرا ہے مگر مجھے آج عرو سہء غزل پر بات کرنا
مزید پڑھیے


ڈاکو اور ڈاکے

هفته 05 جون 2021ء
سعد الله شاہ
اپنی اپنی انا کو بھلایا جا سکتا تھا شاید سارا شہر بچایا جا سکتا تھا دکھ تو یہ ہے اس نے ہی لوٹا ہے ہم کو جس کے لئے گھر بار لٹایا جا سکتا تھا ایسے ہی ایک بھولا بسرا شعر دل پہ دستک دینے لگا کہ ’’نہ لٹتا دن کو تو کیوں رات کو یوں بے خبر سوتا۔ رہا کھٹکا نہ لٹنے کا دعا دیتا ہوں رہزن کو۔ اگرچہ ڈاکو اور ڈاکو راج کی کہانی نئی نہیں اور کچھ روز سے ہمارے کچھ پیارے کالم نگاروں نے اس دھندے کو موضوع گفتگو بنایا ہے۔ کسی نے سندھ کے کچے کے ڈاکوئوں کا تذکرہ
مزید پڑھیے


نظریات ‘سیاست اور مفادات

جمعرات 03 جون 2021ء
سعد الله شاہ
چاند جب بام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ دل بھی ہر کام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ گونجتے رہتے ہیں الفاظ مرے کانوں میں تو تو آرام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ ایسے ہی خیال آیا کہ پی ڈی ایم‘ پیپلز پارٹی اور اے این پی کو کب کی خدا حافظ کہہ چکا ہے یا یوں کہیں کہ عملی اعتبار سے پہلے پیپلز پارٹی اور اے این پی نے طرحداری دکھائی ویسے کچھ عجیب بھی لگتا تھا کہ ن لیگ کی روح و رواں مریم نواز اور پیپلز پارٹی کے بانکے بلاول کچھ زیادہ ہی شیرو شکر ہو گئے تھے۔ حیرت
مزید پڑھیے


جل گئے سایۂ دیوار تک آتے آتے

پیر 31 مئی 2021ء
سعد الله شاہ
دلِ وحشی کی یہ حسرت بھی نکالی جائے چاندنی جتنی بھی ممکن ہو چرا لی جائے یہ سمندر بھی تو پانی کے سوا کچھ بھی نہیں اس کے سینے سے اگر لہر اٹھا لی جائے مرشد اقبال نے بھی تو کہا تھا ’’موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں‘‘ وہی موج تو ہے جو اضطراب اور طوفان کا پتہ دیتی ہے۔ وہی کہ ’’تیری موجوں میں اضطراب نہیں۔ تنہائی ملتی ہے تو میں اپنے ہونے کا جواز ڈھونڈتا ہوں۔ کبھی ثمینہ راجہ کی نظم یاد آتی ہے کہ ’’مجھے کیوں بنایا‘‘ یہ سوال اس نے کائناتوں کے درمیان زمین کو اور پھر
مزید پڑھیے








اہم خبریں