BN

سعد الله شاہ

اطہر ندیم اور توصیف احمد خاں کی یاد میں


آج میرے ساتھ عجیب ہوا کہ جب میں تہجد کے وقت اٹھا تو یونہی موبائل اٹھایا کہ وقت دیکھوں۔ تہجد کے وقت اٹھنے کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ میں کوئی تہجد گزار ہوں۔ کبھی قصد کروں بھی تو خود کو دیکھ کر شرمندگی ہوتی ہے کہ ’’کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا‘‘ والا معاملہ ہوتا ہے۔ خیر میں نے موبائل آن کیا تو وہاں ایک پوسٹ پر نظر پڑی کہ فاروق خاں نیازی نے نہایت خوبصورت خطاطی میں میرے ایک سلام کا شعر پوسٹ کی صورت لگایا تھا: میں کہاں اور کہاں مدحِ حسینؓ یوں سمجھ لو کہ جسارت کی ہے مجھے
بدھ 19  ستمبر 2018ء

اپنے دکھ مجھے دے دو

منگل 18  ستمبر 2018ء
سعد الله شاہ
ایک دوست نے دوسرے دوست کو ایک تصویر دکھائی جس میں ایک شخص ایک شیر کی گردن پر پائوں رکھے ہوئے ہے اور ہاتھ میں اس کے بندوق ہے۔ شیر زندہ ہے مگر ایک طرف سر کو لٹھائے ہوئے بے بسی کا نمونہ نظر آ رہا ہے۔ دوست نے اپنے دوست سے کہا کہ دیکھو …شیر کی عاجزی اور بے بسی اور شکاری کی بہادری کہ شیر کو کیسے نڈھال کر دیا ہے۔ دوسرے دوست نے کہا’’کاش یہ تصویر شیر نے بنائی ہوتی‘‘ میرا خیال ہے کہ اس جواب سے سب کچھ سمجھ میں آ جاتا ہے۔ ایک سوال شاید
مزید پڑھیے


خان صاحب کا انوکھا کھیل

اتوار 16  ستمبر 2018ء
سعد الله شاہ
غالباً غالب نے ایسے ہی کہا تھا: در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسے پھر گیا جتنے عرصے میں مرا لپٹا ہوا بستر کھلا خان صاحب ! آپ کر کیا رہے ہیں! یہ بھی کوئی طریقہ ہے کہ آپ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں دوسرے لفظوں میں آپ داہنا دکھا کر بایاں دائو مار رہے ہیں۔ یہ سپورٹس مین سپرٹ کے خلاف ہے۔ یہ تو کوئی بات نہیں کہ پہلے ہم نے اخباروں میں پڑھا کہ آپ نے بجلی کے نرخ دو روپے فی یونٹ بڑھا دیے اور گیس47فیصد بڑھا دی۔ اب آپ نے فواد چودھری کو سامنے لاتے
مزید پڑھیے


خوبصورتی اپنی نمود ڈھونڈتی ہے

جمعه 14  ستمبر 2018ء
سعد الله شاہ
ہر زبان کے اپنے مسائل ہیں۔ غالب نے بھی تو کہا تھا: ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے منہ میں زبان رکھنا بھی کیا خوبصورت محاورہ ہے۔ دیکھا جائے تو ساری زبانیں ہی ادب کی ہیں اور غور کریں تو ادب کی کوئی زبان نہیں ہوتی۔ بات ایک ہی ہے۔ اصل مسئلہ تو بات کا ہے اور بیان کا۔ اس پر بھی بات کریں گے‘ پہلے میں ایک قضیہ نمٹا دوں۔ ہوا یوں کہ ایک حالیہ کالم میں میں نے اردو کانفرنس پر لکھا تو فی البدیہہ ایک شعر آغاز میں لکھ دیا: بے تکلف ہوا تو
مزید پڑھیے


ایک باوقار خاتون کی رخصتی

جمعرات 13  ستمبر 2018ء
سعد الله شاہ
شام ہوتے ہی اڑ گئے پنچھی وقت جتنا بھی تھا پرایا تھا خزاں آثار موسم میں اظہار شاہین کا شعر یاد آیا کہ: ایک پتہ گرا پیڑ سے ٹوٹنا کتنا آسان ہے اسی پت جھڑ میں نہایت باوقار خاتون بیگم کلثوم نواز رخصت ہو گئیں۔ موجودہ صورت حال نے اس صدمے کو اور بھی رقت آمیز بنا دیا کہ نہ میاں پاس اور نہ لاڈلی بیٹی مریم نواز۔کلثوم نواز ان کی راہ دیکھتے دیکھتے خود رہِ ملک عدم پر پائوں دھر گئیں اور غریب الدیار کسے کہتے ہیں مگر یہ راستہ تو جناب نواز شریف نے خود چنا۔ میں کوئی سیاسی بات نہیں کرنا
مزید پڑھیے


کچھ خوشبودار باتیں

بدھ 12  ستمبر 2018ء
سعد الله شاہ
ابرق جیسے دودھیا کاغذ کی اپنی حرمت یہی ہے اور جب متبرک و مقدس لفظ اس پر آتے ہیں تو گوہر و الماس کی طرح جگمگاتے ہیں۔ دنیا کی آلائشوں اور آلودگیوں میں ایک ایسا ہی خیال مجھے کنول کی طرح نظر آتا ہے۔ کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ ایسی بارش میں بھیگوں جو روح تک کو سرشار کر دے اور ساری لطافتیں اس جسم میں سمٹ جائیں۔ ویسے بھی لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی۔ یہ الفاظ بھی تو ایک میڈیم یا ذریعہ ہیں پاکیزہ اور معطر خیالات کو دوسرے کے ادراک تک رسائی دینے کے
مزید پڑھیے


نفاذ اردو کانفرنس اور اردو

منگل 11  ستمبر 2018ء
سعد الله شاہ
بے تکلف ہوا تو پہلی بار اس نے اردو میں بات کی مجھ سے میں نے ساری عمر انگریزی پڑھائی تو اس مناسبت سے مندرجہ بالا شعر کو دیکھا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب بھی تو انگریزی رکھ رکھائو اور تکلف تھا۔ پھر اس کے بے تکلف سوال کو ہم نے سخن آشنا کردیا: اس نے پوچھا جناب کیسے ہو اس خوشی کا حساب کیسے ہو میرے معزز قارئین! آج میں اردو زبان کے حوالے سے لکھنا چاہتا ہوں کہ ابھی ابھی اردو تحریک والوں نے اردو کو رائج کرنے کے لیے یا ترغیب دینے کے لیے اردو کانفرنس کی ہے۔ اس پر بعد میں بات
مزید پڑھیے


عمران خان کی بندوق اور آفریدی کی نسوار

پیر 10  ستمبر 2018ء
سعد الله شاہ
خوش کن بات یہ کہ اس مرتبہ یوم دفاع پاکستان کچھ زیادہ ہی پرجوش انداز میں منایا گیا‘ اس کی وجہ یقینا یہی ہے کہ پہلی مرتبہ عسکری قوت اور سول حکمران ایک ہی صفحہ پر ہیں۔ آرمی چیف نے بجا طور پر واضح کر دیا کہ ملکی دفاع کے لیے سب یکجان ہیں اور عمران خاں کا کہنا کہ پاکستان کبھی کسی کی جنگ نہیں لڑے گا کس قدر حوصلہ افزا ہے۔ یوم دفاع کے موقع پر اپنے شہیدوں کو یاد بھی کیا گیا جس میں رقت آمیز منظر بھی دیکھنے میں آئے’’دل ہی تو ہے نہ سنگ وحشت
مزید پڑھیے


ڈیم بن کے رہے گا

اتوار 09  ستمبر 2018ء
سعد الله شاہ
جلیل عالی نے ایک مرصع غزل بھیجی تو مطلع نے ہمیں پکڑ لیاشاید مطلع ابر آلود ہو گیا اسے محکمہ موسمیات کی آنکھ سے نہ دیکھا جائے کہ یہ مطلع چیزے دیگرست: ازل سے جانے یہ کیا سلسلہ چلا ہوا ہے ہرآگہی سے کوئی جہل بھی جڑا ہوا ہے یہی تو مغالطہ ہے کہ ہر کوئی اپنی بات کو حرف آخر سمجھتا ہے اور پھر بات آگے نہیں بڑھ پاتی کوئی اشرف قدسی جیسا بزلہ سنج بھی تو ہوتا ہے جو کہہ دیتا ہے: اعلان جہل کر تجھے آسودگی ملے دانشوری تو خیر سے ہر گھر میں آ گئی آپ پریشان ہرگز نہ ہوں کہ میں
مزید پڑھیے


عارف علوی اور صدارت

جمعه 07  ستمبر 2018ء
سعد الله شاہ
میں نے صدر اور صدارتی انتخاب پر ایک دلچسپ کالم باندھا تھا مگر بعد کی پیش رفت کے بعد مجھے کالم دوبارہ تحریر کرنا پڑا۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اس کی دلچسپی کم ہو گئی تاہم عارف علوی کے حوالے سے سجاد میر کے لکھے ہوئے کالم نے سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور ضرور کیا۔ انہوں نے جناب صدر کی شخصیت کو خوب اجاگر کیا ہے اور ساتھ یہ انہیں بھی لکھنا پڑا ہے کہ عام طور پر صدر کے عہدے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ مزے کی بات یہ کہ میر صاحب نے یہ بتا
مزید پڑھیے