BN

سعد الله شاہ



بڑے لوگ نہیں یہ بُرے لوگ ہیں


اپنا تو اصل زر سے بھی نقصان بڑھ گیا سچ مچ کا عشق مر گیا اک دل لگی کے ساتھ ہمارے دوست امجد عباس مرزا نے پوسٹ لگائی ’’جعلی سینی ٹائزر بنانے والے زندہ باد۔ یہ تو موت سے بھی نہیں ڈرتے‘‘ یقینا یہ ایک المیہ ہے کہ جب دل سیاہ ہو جائیں۔ یہ عاقبت نااندیش مرزا صاحب کی طنز کو بھی کیا سمجھیں گے۔ سچ مچ یہ لوگ موت سے نہیں ڈرتے کہ شاید ہنوز دلی دور است والا معاملہ ہے۔ یہ لوگ جو ملاوٹ کرتے ہیں اور زندگی بچانے والی جعلی ادویات تیار کرتے ہیں انہیں موت کب یاد ہے۔
جمعرات 09 اپریل 2020ء

کچھ نہ کچھ ہونا پھر بھی بہتر ہے

منگل 07 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
کشتی میں بیٹھ کر تو میں ڈرتا رہا مگر کشتی الٹ گئی تو سمندر نہیں رہا سب لوگ مطمئن ہیں فقط اتنی بات پر حاکم یہ مانتا ہے وہ حق پر نہیں رہا پیارے قارئین!میرا دل تو چاہتا تھا کہ آپ کو دلچسپ باتیں بتائوں اور ہنسائوں کہ ایسی خبریں اخبار میں مل جاتی ہیں۔ جیسے کہ پتہ چلا ہے کہ بھارت میں لاک ڈائون کے باعث ہاتھی سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ایک مرتبہ کشور ناہید نے اسلام آباد کے حوالے سے بھی لکھا تھا کہ رات بارہ بجے کے بعد سوؤر یعنی Pigsسڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ یقینا اسلام آباد کے
مزید پڑھیے


اداس ہونے کے دن نہیں ہیں

پیر 06 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
چند لمحے جو ملے ہم کو تیرے نام کے تھے سچ تو یہ ہے کہ یہی لمحے مرے کام کے تھے جس طرح ہم نے گزارے ہیں وہ ہم جانتے دن فراغت کے بظاہر بڑے آرام کے تھے ان دنوں فراغت ہی فراغت ہے‘ ظاہر ہے احتیاط نے ہمیں باندھ کر گھر پر بٹھا رکھا ہے۔آدمی کہاں تک اخبار بھی پڑھے اور فیس بک دیکھتا رہے، اب تو اپنی بھی ہے شاید درو دیوار کی صورت۔ اس فراغت کا خیال بھی مجھے یونہی نہیں آگیا ہمارے ڈاکٹر کاشف رفیق نے ایک پوسٹ لگائی تو میں حیران رہ گیا کہ اسے میرا بیس پچیس سال
مزید پڑھیے


کارِتعمیر

هفته 04 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
دن مشقت میں اگر تم نے گزارا ہوتا رات کا جین تمہیں ہم سے بھی پیارا ہوتا یہ تو خاکسار کا احساس ہے وگرنہ عمل کا نعم البدل کچھ نہیں ہوتا۔ اقبال نے اپنے انداز میں سوئے آسمان دیکھا ’’تو قادرو عادل ہے مگر تیرے جہاں میں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات‘‘ میرے پیش نظر وزیر اعظم کا حالیہ بیان ہے کہ تعمیراتی شعبہ مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔ ابھی رات ہی میرے مستری کا فون آیا کہ وہ مجھے ملنا چاہتا ہے میں سمجھ تو گیا مگر میں نے وجہ دریافت کر لی تو وہ جھجکتے ہوئے کہنے
مزید پڑھیے


خیرات میں خیر ہی خیر ہے

جمعه 03 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
جن کی آنکھوں میں ہوں آنسو انہیں زندہ سمجھو پانی مرتا ہے تو دریا بھی اتر جاتے ہیں کوئی ہوتا ہے کہیں کام بنانے والا کبھی بگڑتا ہے تو سو کام سنور جاتے ہیں بات بڑی آسان اور سیدھی ہے کہ آپ خیر کی طرف آ جائیں تو خیر ہی خیر ہے۔ ہمارا مسئلہ اصل میں یہی ہے کہ ہمارے پاس زادِ راہ نہیں۔’’میں تہی دست ہوں اور یہ سوچتا ہوں۔ اس طرح لوگ کہاں لوٹ کے گھر جاتے ہیں‘‘ یہ تجربہ تو سب کا ہے کہ کوئی پیار کے بول بولے تو لگتا ہے کسی نے دل پہ تسلی کا ہاتھ رکھا ہے۔
مزید پڑھیے




کچھ کرونا سے ہٹ کر

جمعرات 02 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
کیوںکہوں کہ پتہ نہیں میں نے کیوں کہا تھا کہ وجہ تو شعر کے اندر موجود ہے مگر اب کے یہ شعر اپنا اپنا سا لگتا ہے کہ جب حالات نے ایک دوسرے کو دور دور رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اب شعر دیکھیے: دور بیٹھا غبار میرؔ اس سے عشق بن یہ ادب نہیں آتا اس ادب عالیہ کے شعر کے ساتھ نہ جانے مجھے ایک ادبی مجلہ کا نمائندہ شعر کیوں یاد آ گیا’’کیوں دور دور ہندے او حضور میرے کولوں۔ کوئی دس دیو ہویا کیہہ قصور میرے کولوں‘‘ بہر حال عافیت تو دور دور رہنے میں ہی۔ دیکھیے کیا
مزید پڑھیے


زندگی محفوظ ہے

منگل 31 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
انسان کے بس میں کچھ بھی نہیں‘ بس جستجو واجب ہے مالی دا کم پانی لانا بھر بھر مشکاں پاوے۔ مالک دا کم پھل پھل لانا لاوے یا نہ لاوے۔ قدرت نے فطرت میں بہت کچھ رکھا ہے۔ یہ دوست بھی اور استاد بھی۔انسان کی افتاد طبع بھی مگر عجیب ہے ۔بے نیازی‘ لاپرواہی یا بغاوت اس کی زنبیل میں مگر ناکامیاں ہیں اور اس کے سامنے ابدی پیغام بھی ہے کہ وہ خسارے میں ہے وہ کرے بھی تو کیا کرے کہ صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے پابہ گل بھی ہے اور پھر غالب کے بقول مرنے اور
مزید پڑھیے


زیر آسماں

اتوار 29 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
خوابوں سی دلنواز حقیقت نہیں کوئی یہ بھی نہ ہو تو درد کا درمان بھی نہ ہو محرومیوں کا ہم نے گلہ تک نہیں کیا لیکن یہ کیا کہ دل میں یہ ارمان بھی نہ ہو خواب بھی عجیب ہوتے ہیں۔ فراز نے کہا تھا خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا۔ ویسے یہ کیسی بات ہے کہ بعض لوگ خوابوں کی باتیں کرتے ہیں مگر وہ خود تعبیر کی طرح ہوتے ہیں یقینا آپ کے ذہن میں اقبال آئیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دل و دماغ میں سودائے تعمیر ہوتا ہے۔ خواہ وہ جگنو کی طرح چھوٹا سا
مزید پڑھیے


ذرا نم ہو تو

هفته 28 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
سویا ہوا تھا شہر تو بیدار کون تھا سب دم بخود تھے ایسا خطار کون تھا باقی ہمیں بچے تھے سو نظروں میں آ گئے ہم جیسوں کا وگرنہ خریدار کون تھا بیداری سب کا مقدر نہیں ہوتی۔ اس کا تعلق نہ نیند کے ساتھ ہے اور نہ خواب کے ساتھ۔یہ فکر مندی ہے اور انداز زندگی کہ سونے والوں کو برے ہیں یہ جگانے وائے۔ میں کچھ اور تحریر کرنے بیٹھا تھا کہ ڈاکٹر کاشف رفیق کی ایک پوسٹ نے مجھے متوجہ کیا تو میں نے اپنا اولین فرض جانا کہ اس پر فوراً اپنا ردعمل دوں اور وزیر اعظم تک اگر بات پہنچ
مزید پڑھیے


لمس کی چپ

جمعرات 26 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
جنوں کی تیز بارش میں، اسے پانے کی خواہش میں میں دل کی سطح پر اکثر کھلی آنکھوں کو رکھتا تھا بڑھا دیتی ہیں عمروں کو نہ جانے یہ کتابیں کیوں میں چھوٹا تھا مگر سر پر کئی صدیوں کا سایہ تھا شاید کبھی کبھی یہ کتابیں بھی ناکافی ہوتی ہیں۔ جیسے شمس تبریزؒ نے مولانا رومؒ کی کتابیں اٹھا کر حوض میں ڈال دی تھیں اور پھر مولانا کے استعجاب پر ہاتھ بڑھا کر سوکھی کتابیں نکال لیں تھیں۔ پردہ غیب میں کوئی بات ضرور ہے وہی کہ نغمہ تو پردہ ہے ساز کا۔ کتاب مگر ہمارے لئے ضروری تھی اور مولانا روم
مزید پڑھیے