BN

سعد الله شاہ



ملال رُت اور ہماری ترقی


اک دل بنا رہاہوں میں دل کے مکین میں مشکل سے بات بنتی ہے مشکل زمین میں فرصت ہمیں ملی تو کبھی لیں گے سر سے کام اک در بنانا چاہیے دیوار چین میں آپ ان اشعار کو بے محل نہ جانیے کہ ہم یہ اشعار عمران خان اور عثمان بزدار کی ایک تصویر کو دیکھ کر لکھ رہے ہیں جس میں وہ ون ٹو ون ملاقات کر رہے ہیں اور اس نہایت قیمتی اور ہائی پروفائل میٹنگ میں خان صاحب اپنے وسیم اکرم پلس کو پنجاب کی گورننس بہتر بنانے کی تلقین کر رہے ہیں۔ یقین مانیے کہ یہ میری کم فہمی یا
بدھ 20 مارچ 2019ء

ایک منفرد سالگرہ اور مشاعرہ

منگل 19 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
میری حیرت کا تصور رہے وہی ذات کہ جو جہاں ہوتے نہیں اسباب بنا دیتی ہے میری آنکھوں کو وہ خالی نہیں رہنے دیتی کہیں تارہ کہیں مہتاب بنا دیتی ہے اللہ اپنی صفات سے پہچانا جاتا ہے۔ میرے ایک دوست ہیں ملک صاحب، ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو وہ ٹانگوں سے محروم تھا یعنی ان میں حرکت تک نہیں تھی۔ ملک صاحب اٹھتے بیٹھتے اسی بچے کی فکر میں رہتے کہ اس کا بنے گا کیا۔ وہ تو دھڑ ہی دھڑ تھا اور اس دھڑ پر جو سر تھا وہ ذہن رسا تھا۔ یہ معذور بچہ ایف ایس سی تک پہنچا
مزید پڑھیے


نیوزی لینڈ کے شہید اور ہمارے آنسو

اتوار 17 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
اے خاصۂ خاصانِ رسل ؐوقت دعا ہے امت پہ تیری آکے عجب وقت پڑا ہے رنگ و خوشبو ہی نہیں فطرت کے تمام تر مناظر کا تعلق ہمارے حواس کے ساتھ ہے۔ وہی کہ ’’دل تو میرا اداس ہے ناصر۔ شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے‘‘ بلکہ ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر اداسی بال کھولے سو رہی ہے۔ نیوزی لینڈ کی قیامت خیز دہشت گردی جس میں ایک شیطان صفت درندے نے پچاس مسلمانوں کو جمعہ پڑھتے ہوئے گولیوں سے بھون دیا کئی بری طرح زخمی ہوئے یہ ایک آسٹریلوی عیسائی دہشت گرد کا حملہ تھا جس نے اپنی کیپ میں
مزید پڑھیے


عثمان خواجہ اور ہم

هفته 16 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
درد کو اشک بنانے کی ضرورت کیا تھی تھا جو اس دل میں دکھانے کی ضرورت کیا تھی ہو محبت تو چھلک پڑتی ہے خود آنکھوں سے اے مرے دوست بتانے کی ضرورت کیا تھی یہ جو بات شعرثانی میں ہے بہت بے ساختہ ہے کہ انسان کی خوشی بعض اوقات چھپائے نہیں چھپتی اور محبت سے بڑھ کر اور خوشی کی بات کون سی ہوسکتی ہے۔ یہ تو آنکھوں سے بھی عیاں ہو جاتی ہے۔ محبت ضروری نہیں کہ محبوب ہی سے ہو اور یہ بھی ضروری نہیں کہ محبوب کوئی صنف ہی ہو۔ محبوب اپنا وطن بھی تو ہوتا ہے۔ تو ہمارے
مزید پڑھیے


بلاول بھٹو اور سخن کی خوشبو

جمعرات 14 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
ترے اثر سے نکلنے کے سو وسیلے کیے مگر وہ نین کہ تونے تھے جونشیلے کیے ادھر تھا جھیل سی آنکھوں میں آسمان کا رنگ ادھر خیال نے پنچھی تمام نیلے کیے ہم نے یہ دو شعر بلاول کے نام کر دیے کہ ان کی آنکھوں پر پھر سے وہ پرانے موسم اتر رہے ہیں۔ وہ دور انہیں یاد آ رہا ہے جن کا سرور اور نشہ اب تک ان کو سرمست کئے ہوئے ہیں۔ میثاق جمہوریت جس نے ان کی باریاں طے کر دی تھیں۔ کھائو اور کھانے دو کا سیدھا سا معاہدہ۔ انتشار سے بچنے کا عام سا نسخہ کبھی نورا کشتی
مزید پڑھیے




جشن بہاراں مشاعرہ

بدھ 13 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
ہائے ہائے بارش میں بھیگتی ہوئی بہار‘ نئی کونپلوں سے نہال ہوتا ہوا انار‘ ایسے میں میر کیوں نہ یاد آئے: چلتے ہو تو چمن کو چلیے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے پھول کھلے ہیں پات ہرے ہیں کم کم بادو باراں ہے درخت نیا پہناوا پہن رہے ہیں سبز ہوتی ہوئی زمیں زندگی کا استعارا ہے۔ پھولوں ‘ رنگوں اور خوشبوئوں نے جسے دو آتشہ کر دیا۔ رنگینیوں میں ڈوبے ہوئے فطرت کے مظاہر ۔ قدرت کا اظہار کتنا بے ساختہ ہے: یہ میرے شعر نہیں ہیں ترا سراپا ہے کہ خوبصورتی اپنی نمو ڈھونڈتی ہے صرف شاعری ہی نمو پذیر نہیں پھولوں کی آرائش
مزید پڑھیے


پیاری خواتین مرد بننے کی کوشش نہ کریں

پیر 11 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
مارے جائیں نہ بدگمانی میں دو ہی کردار ہیں کہانی میں میں نے خواتین کے عالمی دن پر کچھ نہیں لکھا تو دعا علی نے پچھلے برس کا لکھا ہوا میرا کالم پوسٹ پر لگا دیا۔ یہ دن صرف خواتین کا ہی نہیں ہمارا بھی ہے۔ دوسری بات یہ کہ خواتین کا ہر دن ان کا ہے بلکہ رات دن انہی کے اشارے سے بدلتے ہیں۔ آپ اسے حسن تعلیل کہہ لیں مگر ہے تو یہی کہ ’’وجود زن ہے تصویر کائنات میں رنگ‘‘ یہ بات بتائی تو ایک مرد اقبال نے۔ یہ کوئی بہار جیسا خیال ہے جس میں حسرت موہانی
مزید پڑھیے


تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد

اتوار 10 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
سفر کے دوران اکثر میں نے ٹرکوں کے پیچھے ایوب خان کی تصویر کے نیچے لکھا دیکھا’’تری یاد آئی ترے جانے کے بعد۔ یہ اتنا تواتر سے دیکھا کہ یہ مصرح اسی یاد سے منطبق ہو کر رہ گیا۔ بہت عرصے کے بعد مجھے یہ مصرع فیاض الحسن چوہان کے ساتھ موزوں ہوتا ہوا نظر آیا۔ اس حوالے سے پہلے تو ہم عمران خان کے لئے ایک شعر عرض کریں گے: کچھ بھی نہیں ہوں میں مگر اتنا ضرور ہے بن میرے شاید آپ کی پہچان بھی نہ ہو اس کے بعد ہم اپنی دلی کیفیت بیان کرنے کے لئے مجبور ہیں کہ
مزید پڑھیے


بیدل حیدری اور یادیں

هفته 09 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
بیدل حیدری کے ایک ہونہار شاگرد نے ان کا ایک شعر پوسٹ پر لگایا ہے: بیدل لباس زیست بڑا دیدہ زیب تھا اور ہم نے اس لباس کو الٹا پہن لیا اسی غزل کا ایک اور شعر بھی مجھے ہانٹ کرتا ہے: گرمی لگی تو خود سے الگ ہو کے سو گئے سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا بیدل حیدری کے تذکرے سے یادوں کا ہجوم امڈ آیا۔ جب یونیورسٹی سے نکلے تو کوشش ہوتی کہ ہر مشاعرے میں شرکت کریں۔ چنانچہ ایک کالج کے مشاعرے میں پہنچے جہاں بیدل حیدری صدارت فرما رہے تھے ان کے شاگرد خاص اطہر ناسک مرحوم بھی موجود
مزید پڑھیے


مشاعرہ‘ مہندر سنگھ اور پاکستانیت

جمعرات 07 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
کس جہاں کی فصل بیچی کس جہاں کا زر لیا ہم نے دنیا کی دکاں سے کاسہ سر بھر لیا اے جمال یار تونے راستے میں دھر لیا بزم انمول انٹرنیشنل کی جانب سے منعقدہ مشاعرہ تو صوبائی و پارلیمانی سیکرٹری اور ایم پی اے مہندر پال سنگھ کے باعث ایک جلسہ کا رنگ اختیار کر گیا تھا۔ مہندر پال سنگھ نے کھلی ڈلی باتیں کیں انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کی برادری سرتاپا پاکستان کی محبت میں ڈھلے ہوئے ہیں۔ ان کے گرو نانک کی یہ جنم بھومی ہے۔ ان کے لئے زمین پاکستان ایسے ہی ہے جیسے مسلمانوں
مزید پڑھیے