BN

سعد الله شاہ



عرفان صدیقی کی کائناتِ شعر اور آزادی


ایک زمانے میں جناب توصیف تبسم نے بھارت کے نامور شاعر عرفان صدیقی کے کلیات ’’دریا‘‘کے نام سے شائع کیے۔ میں نے اس دریا سے موج نکال لی۔ یعنی ان کا ایک انتخاب کلام ’’موج‘‘ کے نام سے کر دیا جسے بہت پذیرائی ملی۔ ایک شعر تب بہت اچھا لگا: ؎ کاٹ دی اس نے تو زنجیر ہی دلداری کی اور تشہیر کرو اپنی گرفتاری کی عرفان صدیقی کا تذکرہ اہم اس لئے ہے کہ انہوں نے پاکستان کی ایک نسل کو بہت متاثر کیا۔ انہی کے آہنگ اور رنگ میں نوجوانوں نے غزلیں کہیں کہ اس میں ایک تازگی
جمعرات 15 نومبر 2018ء

مہنگائی، حکومتی ترجیحات اور ریاست مدینہ

بدھ 14 نومبر 2018ء
سعد الله شاہ
ٹی وی سکرین پر فواد چوہدری کو دیکھ دیکھ آنکھیں بوجھل ہو گئی ہیں۔ فرما رہے ہیں کہ احتساب کے عمل میں مزید تیزی آئے گی، نواز اور زرداری کا لوٹا ہوا پیسہ قرض اتارنے میں مددگار ہوگا۔ ایک معصوم سا آدمی حیرت سے مجھ سے پوچھنے لگا کہ کیا فواد چوہدری سچ فرما رہے ہیں؟ اس سادگی پر کون نہ مر جائے اے خدا۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ کرپشن پر نرمی دکھائی تو یہ ووٹرز سے غداری ہوگی مگر ساتھ ہی اس وضاحت کی کیا ضرورت ہے کہ وزیراعظم سچے عاشق رسولؐ ہیں: بے یقینی کی بات کیا
مزید پڑھیے


یاں وہی ہے جو اعتبار کیا

منگل 13 نومبر 2018ء
سعد الله شاہ
کیا بتائوں تجھے کیسا ہے بچھڑنے والا ایک جھونکا ہے جو خوشبو سی اڑا جاتا ہے بعض لوگ واقعتاً خوشبو کی طرح ہوتے ہیں اور تو اور ان کی یاد میں کچھ اس سے کم نہیں ہوتی۔ آپ ایک آسودگی سی محسوس کرتے ہیں۔ کچھ لوگ روشنی کی طرح بھی تو ہوتے ہیں جس میں آپ راستہ پا لیتے ہیں اور اس سے منزل کی نشاندہی ہو جاتی ہے۔ اصل میں یہ لوگ اس لیے ہوتے ہیں کہ لوگ انہیں کاپی کریں، یعنی ویسا بننے کی کوشش کریں۔ مشعل راہ انہی لوگوں کا استعارا ہے۔ آپ ذرا غور کریں تو روشنی
مزید پڑھیے


شہرت

پیر 12 نومبر 2018ء
سعد الله شاہ
زرداری صاحب کا یہ کہنا کہ وہ اور بھی مشہور ہو جائیں گے۔ آپ اس پر لاکھ تبصرے کرتے رہیں مگر یہ بات ہے بہت دلچسپ۔ ہمیں اپنا ایک بھولا بسرا شعر یاد آ گیا: اور بھی مشہور ہوتا جا رہا ہوں میں زندگی سے دور ہوتا جا رہا ہوں میں ایک بات ہمیں میڈم نورجہاں کی یاد آئی۔ جب ریڈیو کا سنٹر پروڈکشن یونٹ CPUبنا تو ہم بھی گانے لکھنے والوں میں تھے جبکہ اعظم خاں صاحب انچارج تھے۔ کسی نے میڈم نورجہاں سے کہہ دیا۔ میڈم اب تو گانے انیس سٹیشنوں سے چلیں گے۔ میڈم نورجہاں نے برجستہ کہا’’پھر تو میں
مزید پڑھیے


شہر اقبال کا قومی مشاعرہ

اتوار 11 نومبر 2018ء
سعد الله شاہ
شام سرمئی ہو رہی تھی‘نجیب احمد اور میں سوئے سیالکوٹ رواں تھے کہ وہاں کی ضلعی انتظامیہ نے حکیم الامت حضرت علامہ محمد اقبال کی یاد میں ایک قومی مشاعرہ برپا کر رکھا تھا اقبال کے حوالے سے جتنا بھی لکھا جائے کم ہے۔ پچھلے دو دنوں میں ہمارے کالم نگاروں نے ان پر کیا کیا کالم باندھے ہیں! بس ایک بنیادی بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ شاعر مشرق کی شاعری کی بنیادی اکائی تحریک ہے کیونکہ وہ جمود کو موت سمجھتے تھے۔ ان کے ہاں زندگی عمل ہی سے عبارت ہے۔ ان کی شاعری میں جو زندگی دھڑکتی
مزید پڑھیے




میں اس کے آنگن کی چڑیا

جمعرات 08 نومبر 2018ء
سعد الله شاہ
ایک ہی موضوع پر دوسرا کالم لکھنا اتنا سہل نہیں مگر کیا کریں 92 نیوز پڑھنے والوں نے فرمائش کی ہے کہ ’’چڑیا کی کہانی‘‘ بہت دلچسپ تھی مگر یہ تھی مختصر۔ خواتین نے بہت زیادہ سراہا کہ واقعتاً آپ نے چڑیوں کو بیٹیوں کا استعارا بنایا اور پھر اس ننھے منے پرندے کا ذکر بھی خوب کیا۔ ہماری معروف شاعرہ نے تو اپنا خوبصورت شعر بھی بھجوا دیا۔ جسے لکھنا اس لیے ہی ضروری ہوگیا کہ اس میں پیارے پاکستان کی نسبت ہمیں بہت اچھی لگی: میرا پہلا پیار ہے میرا پیارا پاکستان میں اسکے آنگن کی چڑیا یہ میرا دالان ظاہر
مزید پڑھیے


ہاتھ ملانے والے

بدھ 07 نومبر 2018ء
سعد الله شاہ
اک دل بنا رہا ہوں میں دل کے مکین میں مشکل سے بات بنتی ہے مشکل زمین میں اب کیا کیا جائے اگر کوئی ایسا شخص دل میں آن سمائے کہ جس کے سینے میں دل ہی نہ ہویا وہ سنگ دل ہو تو اس کو موم کرنے کے لیے اور راہ پر لانے کے لیے کچھ نہ کچھ ہوم ورک تو کرنا ہی پڑے گا۔ موضوع تو میرے پاس بہت تھے علی الصبح استاد مکرم ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کا فون آ گیا اور ہمیشہ کی طرح میری حوصلہ افزائی کرنے لگے۔ انہوں نے ’’چین، چینی اور ہم‘‘ والے کالم کو
مزید پڑھیے


چین، چینی اور ہم

منگل 06 نومبر 2018ء
سعد الله شاہ
فراز نے کہا تھا، ’’دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا‘‘ اور ہاتھ دکھانے والا تو صریحاًدشمن ہوتا ہے، ہمیں تو ایسا دشمن نصیب ہوا جسے ہم دشمن کہنے کی جرأت نہیں کر سکے اور یہ دشمن ہمارے ساتھ پیار کا دعویٰ بھی کرتا رہا اور پھر بقول منیر نیازی میں جس سے پیار کرتا ہوں اسی کو مار دیتا ہوں۔ ایوب کو کہنا پڑا تھا Friends not masters۔ ہمارے لیے Frienemy دوست کم دشمن کی اصطلاح بھی ایجاد کی گئی۔ اب کے Enemy کہہ دیا گیا۔ ٹرمپ نے سب کچھ ڈمپ کردیا: رفتہ رفتہ عشق میں بے آبرو ہوئے پہلے تھے آپ،
مزید پڑھیے


مولانا سمیع الحق… توانا آواز خاموش ہو گئی

پیر 05 نومبر 2018ء
سعد الله شاہ
ہمارے دوست عدیم ہاشمی نے کہا تھا: غم کی دکان کھول کے بیٹھا ہوا تھا میں آنسو نکل پڑے ہیں خریدار دیکھ کر کچھ ایسی صورت حال میرے پیارے وطن کی ہے جتنا سوچتے ہیں‘ سوچ کے دھاگے الجھتے جاتے ہیں کبھی سوچا کرتے تھے کہ کہانی میں یہ کیسا بے وقوف شخص ہے جو اسی شاخ کو کاٹ رہا ہے جس پر وہ خود بیٹھا ہے کوئی اپنے ہی لیے گڑھا کیسے کھود سکتا ہے اور کوئی اپنے سامنے اپنے ہی جیسے شخص کو مرتے ہوئے کون دیکھ سکتا ہے۔ جبکہ وجہ بھی نظارہ کرنے والا ہو۔ ہم نے سب کچھ اپنی
مزید پڑھیے


چڑیا کہانی

اتوار 04 نومبر 2018ء
سعد الله شاہ
گل خیال کو تو کھلنے کے لیے کوئی بہانہ چاہیے‘ اس کی مہک آپ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ یہ فطرت سے جڑے رہنے کا انعام بھی ہے۔ فطرت کی بو قلمونی اور رنگارنگی آنکھ کو ہٹنے نہیں دیتی۔ میر نے ایسے ہی نہیں کہہ دیا تھا کہ: آنکھ ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر منہ نظر آتے ہیں دیواروں کے بیج یقینا ہم میر تو نہیں‘ اس کارواں میں ضرور ہے اور قدرت کی پھیلائی ہوئی خوبصورتیاں ہمیں بھی کھینچتی ہیں۔ اچھا کلام ہمیں بھی متاثر کرتا ہے۔ پھول ہمارے اندر بھی کھلتے ہیں‘ سوچیں ہماری بھی محو پرواز رہتی ہیں اور شبنم
مزید پڑھیے