BN

سعد الله شاہ

خان! ہم روند نہیں مارنے دیں گے

بدھ 18 جولائی 2018ء
پہلے تازہ ترین شعر: کنول کے پھول نے مجھ پر یہ آشکار کیا یہ چار سمت کی آلودگی ضروری تھی سیاست کے گند کی کچھ ایسی ہی صورت حال ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ گند اور آلودگی ناگزیر ہے۔ یہ گند جب دوسری پارٹی میں جاتا ہے تو دھل جاتا ہے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ یہی گند جس پارٹی میں جاتا ہے اس کی متوقع جیت پر مہر ثبت کردیتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس آلودگی کو دوسری سمت جانے کے لیے اشارہ یا بہانہ ہی چاہیے ہوتا ہے۔ نادیدہ ہاتھ اپنی جگہ کچھ کچھ عوامی ہوا بھی بن
مزید پڑھیے


ہمارے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے

منگل 17 جولائی 2018ء
لڑکپن میں جب کبھی آوارہ گردی کر کے گھر واپس لوٹتے تو دادی جان کہتیں ’’ماشاء اللہ آ گئے، ساتھ یہ کہتیں‘‘ ’’انھے کتے ہرناں مگر‘‘تب تو ہم اسے ایک طعن سن کر خاموش رہتے۔ بہت بعد میں اس محاورے پر غور کیا کہ دادی جان یہ کیا کہتی تھیں’’انھے کتے ہرناں مگر‘‘ یعنی اندھے کتے ہرنوں کے پیچھے۔ مطلب سمجھ میں آیا کہہ ہرنوں کا شکار اندھے کتے کیا کر سکتے ہیں‘ دوسرے لفظوں میں ہماری آوارہ گردی ایک بے مقصد کام تھا یا ہماری سرگرمیاں ایسی ہی تھیں جیسے کہ اندھے کتے ہرنوں کے شکار میں بے
مزید پڑھیے


دلچسپ اور عجیب

هفته 14 جولائی 2018ء
آج کچھ دلچسپ باتوں کا بیاں ہو جائے۔ اولین بات یہ کہ معروف شاعر ڈاکٹر تیمور حسن تیمور کا فون آیا کہ کچھ کریں۔ میں نے پوچھا کہ کیا ہوا۔ کہنے لگا کہ اس کی الیکشن ڈیوٹی لگ گئی ہے میں نے نہایت تعجب سے پوچھا کہ وہ کیسے؟ کیونکہ تیمور بینائی سے محروم ہے۔ کہنے لگا کہ شاید انہیںنظر نہیں آتا۔ میری ہنسی نکل گئی۔ پوچھنے لگا کہ کیا کروں؟ میں نے مشورہ دیا کہ ان سے کہو کہ میں ڈیوٹی دے دوں گا مگر آپ یہ نہ کہیے گا کہ پولنگ سٹیشن پر انّی پڑ گئی ہے۔ اس
مزید پڑھیے


چپ رہنا غداری ہے یا بولنا

جمعه 13 جولائی 2018ء
جو لوگ پامسٹری سے دلچسپی رکھتے ہیں جانتے ہیں کہ بعض اوقات ذہانت اور پاگل پن کی لکیریں آپس میں تقریباً جڑی ہوتی ہیں یا پھر ان کے درمیان نہایت معمولی فاصلہ ہوتا ہے۔ ویسے تو سیانے کوے کے حوالے سے بھی آپ نے سن رکھا ہے‘ میں کوئی بجھارتیں نہیںبجھا رہا بلکہ نواز شریف کی کہی گئی بات سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ انہوں نے کہا ہے کہ اب چپ ہونا غداری ہے‘ پردے اٹھانے کا وقت آ گیا۔ شہیدوں اور غازیوں کا احترام مگر ڈور ہلانے والوں کے چہرے بے نقاب ہونگے۔ پہلی بات تو یہ
مزید پڑھیے


برسات‘ حبس اور سخن گسترانہ بات

جمعرات 12 جولائی 2018ء
آغاز باراں ہے ایک بارش نے لاہور ڈبو دیا تھا اور اب پسینے نے ہمیں شرابور کیا ہوا ہے موسم ایک حبس کی سی کیفیت ہے‘ ایسی کہ ’’وہ حبس تھا کہ لُو کی دعا مانگتے تھے لوگ‘‘ اوپر سے سیاست کی صورت حال بھی کچھ اسی طرح کی ہے۔ ادھر بھی مطلع کھل نہیں رہا۔ جب زیادہ حبس بڑھ جائے تو یہ بادوباراں کا پیش خیمہ بھی ہوتا ہے۔ ہم بھی منتظر ہیں آپ یقین مانیں یا نہ مانیں کہ ابھی میں سطور لکھ رہا تھا کہ دروازوں کے پٹ بجنے لگے میری کھڑکی کے سامنے کھڑے پودے زور
مزید پڑھیے


سچ کی سب سے بڑی دلیل

هفته 07 جولائی 2018ء
کبھی کبھی سنجیدہ بات سمجھانے کے لیے کوئی خوشگوار واقعہ بھی سامنے آ جاتا ہے آج صبح یوں ہوا کہ حمید احمد خاں کی جگہ رشید احمد انگوی نے سورۃ التکاثر پر لیکچر دیا درمیان میں انہوں نے قبرستان کے ذکر پر اپنے ایک دوست کا واقعہ سنایا کہ اس نے ایک عالی شان مکان بنوایا اور دوستوں کو دعوت دی۔ چھت پر انتظام تھا اس مکان کے پیچھے قبرستان تھا۔ دوستوں نے کہا کہ اتنے زبردست مکان کے عقب میں قبرستان۔ ان کے دوست نے ہنستے ہوئے کہا جناب یہ بھی سہولت ہے۔ جانا تو ادھر ہی ہے۔ آخر
مزید پڑھیے


آواز دے کے دیکھ لو

جمعه 06 جولائی 2018ء
کہنے کو تو یہی کہا جاتا ہے کہ جو گڑ کھانے سے مر جائے اسے زہر دینے کی کیا ضرورت ۔اب کوئی اس محاورے کو سن کر سچ مچ کسی شخص کو گڑ دے کر مارنے کی کوشش کرے تو یہ اس کی حماقت ہی ہو گی۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ کسی شوگر کے مریض کو زبردستی گڑ کھلایا جائے۔ ایک اور محاورہ ’’کان کھانا‘‘ ہے آپ کہتے ہیں میرے کان مت کھائو‘ اگر کوئی یہ سمجھ لے کہ آپ کے کان بہت لذیذ ہیں اور کوئی ان پر دانت گاڑے ہوئے ہے کچھ اسی طرح 3جولائی کی
مزید پڑھیے


تہذیب اس کی دیکھنا آداب دیکھنا

جمعرات 05 جولائی 2018ء
یہ جو ہم سنتے آئے ہیں کہ ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں۔ اور یہ کہ باادب با نصیب اور بے ادب بے نصیب کچھ غلط نہیں ہے۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ خوشامد سے مطلب براری زیادہ ہوتی ہے۔ مگر اس میں شخصیت برباد ہو جاتی ہے جبکہ ادب بے غرض ہے اور قدرت کی طرف سے ثمر بار ہوتا ہے۔ میں اس ادب کی بات نہیں کرنے جا رہا کہ جہاں ادب کے نام پر ہر بے ادبی روا ہے۔ میں اس ادب کی بات کرنا چاہتا ہوں جس میں دوسروں کی تکریم کی جاتی
مزید پڑھیے


لاہور ڈوب گیا

بدھ 04 جولائی 2018ء
ابھی دعا علی کا سندھ حیدر آباد سے فون آیا کہ سر! کیا لاہور میں موسلا دھار بارش ہورہی ہے۔ میں نے کہا ’’دعا، آپ دعا کریں کہ یہ رحمت زحمت نہ بنے۔‘‘ میں اسے کیا بتاتا کہ برسات کی پہلی ہی بارش نے لاہور ڈبو دیا ہے۔ مجھے یہ منظر اپنی آنکھوں سے نہ صرف دیکھنا پڑا بلکہ میں اس کا باقاعدہ حصہ بنارہا۔ ہوا یوں کہ پرنسپل صاحب عبدالطیف عثمانی کا فون آیا کہ آپ الیکشن ٹریننگ کے سلسلہ میں دس بجے گلشن راوی گرلز کالج ضرور چلے جائیں۔ اب بتائیے حکم حاکم مرگ مفاجات، پرنسپل صاحب خود
مزید پڑھیے


لوح

پیر 02 جولائی 2018ء
یہ بات تب کی ہے جب آتش جوان تھا۔ ہم بڑی ہوائوں میں تھے‘ ہوائیں بھی جوانی کی اور پھر جوانی بھی ایک شاعر کی۔ میں اورینٹل کالج میں اپنے ایک مداح کے ساتھ تھا سامنے سے مظفر علی سید صاحب آ رہے تھے میں بڑے ادب کے ساتھ انہیں ملا۔ تو وہ چھوٹتے ہی کہنے لگے’’جی شاہ صاحب میرے ساتھ چائے پئیں گے؟ میرے اندر تو خوشی کی لہر دوڑ گئی ان کے مرتبے سے ہر ادیب شاعر واقف تھا میںنے کہا ’’سر! میرے لیے اعزاز و افتخار‘‘ چنانچہ ہم تینوں کنٹین پر آن بیٹھے۔ یہ ایک اساطیری قسم
مزید پڑھیے