BN

سعد الله شاہ



کچھ یادیں


ہر طرف اک شور برپا اور لوگوں کا ہجوم ہم نے گویا شہر سارا اپنی جانب کر لیا یہ شعر میں نے تازہ تازہ سابق ہونے والے چیف جسٹس ثاقب نثار کی مہم جوئیوں کے تناظر میں درج کیا ہے کہ ان کے عمل سے مترشع تھا کہ ’’سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے‘‘ ہر پرایا کام بھی انہوں نے اپنے ذمہ لے لیا تھا۔ ان پر نہایت جامع کالم تو محترم عارف نظامی تحریر فرما چکے اور کوئی گنجائش باقی نہیں چھوڑی۔ مگر انہوں نے کالم کے آخر میں جو طرح دی ہے کہ ثاقب نثار کی جگہ آنے
اتوار 20 جنوری 2019ء

پھولوں سے محبت کرنے والا

هفته 19 جنوری 2019ء
سعد الله شاہ
مجھے یاد ہے جب نظم کے طرحدار شاعر اختر حسین جعفری دنیا سے رخصت ہوئے تو کچھ اسی طرح کا یخ بستہ موسم تھا اور ہمارے کالم نگاروں نے ان کے لیے انہی کا کینٹو کوٹ کیا ہے۔ انہوں نے ایذرا پائونڈ کی وفات پر لکھا تھا: تجھ کو کس پھول کا کفن ہم دیں تو جدا ایسے موسموں میں ہوا جب درختوں کے ہاتھ خالی ہیں پھولوں کے کفن سے میرا دھیان میرے بزرگ دوست ملک محمد حنیف کی طرف گیا کہ وہ میرے پڑوس میں رہتے ہیں جن کا جنازہ رات عشاء کے بعد امیر جماعت اسلامی سراج الحق صاحب نے خدیجۃ
مزید پڑھیے


تشکیک اور حقیقت

جمعه 18 جنوری 2019ء
سعد الله شاہ
پہلے ایک شعر: تھوڑی سی وضعداری تو اس دل کے واسطے تونے تو اس میں وہم بھی پلنے نہیں دیا اپوزیشن کے اتحاد سے مجھے اردو ادب کی کانفرنس کا وہ سیشن یاد آیا جس میں ثمینہ راجا‘ فاطمہ حسن اور میں خاص طور پر ضیا محی الدین کو سننے کے لئے گئے۔ ادیبوں اور شاعروں سے بھرے ہوئے اس ہال میں ساری نظریں اس بے مثل پرزنٹر پر تھیں اور سب ہمہ تن گوش تھے۔ ضیا محی الدین نے ابن انشا کی تحریر پڑھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ایک عمر رسیدہ باپ نے اپنے تین بچوں کو بلایا جو
مزید پڑھیے


سیدھے راستے پر کون؟

جمعرات 17 جنوری 2019ء
سعد الله شاہ
اپنے تئیں آپ جو مرضی بنتے رہیں چاہے آپ ارسطو بن جائیں مگر رہنمائی ضروری ہے۔ آپ اپنے زاویہ نگاہ کو نقطہ نگاہ نہ بنائیں وگرنہ آپ ناقابل اصلاح ہو جائیں گے۔ ویسے بھی ہر شعبے میں ہر کوئی مہارت نہیں رکھتا۔ آپ کو کہیں نہ کہیں زانوے تلمذ طے کرنا پڑتا ہے یا کم از کم اس صحبت میں کچھ وقت گزاریں کہ آپ کا رخ سیدھا ہو جائے۔ حکمت تو حکیم سے ملے گی اور دین دین داروں سے۔ رہے پیش رو ترا نقش پا مرے مصطفی مرے مجتبیٰؐ تو ہے روشنی مری آنکھ کی ترا راستہ مرا راستہ آمدم برسر مطلب
مزید پڑھیے


عمران خان اور ایکسر سائز

بدھ 16 جنوری 2019ء
سعد الله شاہ
کالج جانا ہوا تو پروفیسر دوستوں میں گھر گئے۔ پروفیسر طارق صاحب فرمانے لگے یار، اپنے عمران خان سے کہیں کہ وہ صبح دو گھنٹے ورزش ضرور کرے مگر اتنا ہی وقت کتب بینی کو بھی دے۔ یعنی کتاب کا پڑھنا بھی اپنے معمول میں لائیں۔ اب بتائیے ہم کون ہوتے ہیں عمران خان کو مشورہ دینے والے ویسے بھی سنتے سب کی ہیں اور کرتے اپنی ہیں۔ دوسری بات بقول غالب: ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی کچھ ہماری خبر نہیں آتی اسد اعوان صاحب نے بھی کچھ اس طرح کی طنزیہ بات کی تو ہم نے انہیں بتایا کہ
مزید پڑھیے




جمال ہمنیش درمن اثر کرد

منگل 15 جنوری 2019ء
سعد الله شاہ
کالم کیا لکھوں، موڈ ٹھیک نہیں ہے، اچھا خاصا میں گاڑی لے کر آ رہا تھا، ایک جگہ سڑک پار کر رہا تھا۔ دونوں اطراف ٹریفک رکی ہوئی تھی مگر ایک موٹرسائیکل والا میزائل کی طرح ایک طرف سے نکلا اور سیدھا میری گاڑی کے بمپر پر۔ ایک لمحے میں سارا منظر بدل گیا۔ وہ ایسے زاویے سے ٹکرایا گاڑی سامنے سے بالکل بے رونق ہو گئی۔ میں نے اس سے ابھی پوچھا ہی تھا کہ کیا کیا۔ اس نے اپنے پیٹ کو پکڑ کر ہائے یوں کی کہ مجھے اس کی پڑ گئی۔ میں وہاں سے نکلنے لگا تو
مزید پڑھیے


ایک ماں کی بچے کے لئے خودکشی

پیر 14 جنوری 2019ء
سعد الله شاہ
اخبار دیکھا تو کئی موضوعات نے کالم لکھنے کے لئے خبروں کے اس میلے میں مرضی کی خبر اٹھا کر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ یہ بھی نہ ہو تو انشا پردازی بھی تو ہے کہ جس کے پیچھے کوئی واقعہ ضروری نہیں۔ مگر بعض خبریں ایسا سلگتا ہوا واقعہ اپنے دام میں رکھتی ہیں کہ اس کے مقابلہ میں انشا پردازی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ انسان کے پاس سب سے بڑی نعمت اس کی زندگی ہی تو ہے اور جب اچانک یہ موت کے سانحہ سے ہمکنار ہوتی ہے یہ سب سے بڑا المیہ بن جاتی ہے۔ ایک
مزید پڑھیے


تین موضوعات ‘ ایک کالم

اتوار 13 جنوری 2019ء
سعد الله شاہ
جانے کس اذیت میں میں نے یہ شعر کہا تھا: اب تماشہ نہیں دیکھا جاتا نوٹ پھینکو کہ مداری جائے اب تو کوئی مداری بھی نہیں اور زرداری بھی نہیں پھر یہ عزادری کیا ہے اور ساتھ ہی یہ دلداری کیا ہے۔ کیا ہمارا محبوب ان کا بھی لاڈلا نکلا کہ چاند مل گیا تو چاند کا ہو گیا۔ کچھ بھی تو ممکن نہیں۔ زندگی میں رنگ بھرنے کا وعدہ کرنے والے موجود خاکے کو بھی مٹانے لگے۔ جینا تو کیا یہ تو مرنے بھی نہیں دیتے کہ کوئی سکون سے یا آرام سے مر جائے: چاہتا ہوں میں منیر اس عمر کے انجام
مزید پڑھیے


ایک تتلی ابھی اڑان میں ہے

هفته 12 جنوری 2019ء
سعد الله شاہ
کبھی کبھی زمستان کے انداز بھی دیکھنے والے ہوتے ہیں۔ کہاں سموگ کا مسئلہ تھا کہ اینٹوں کے بھٹے تک بند کردیئے گئے اور پھر دھند نے آن راج کیا۔ دھند میں بھی ایک طرح کی خوبصورتی اور دلکشی ہے کہ سب کچھ پراسرار سا بن جاتا ہے کہ آپ کے اردگرد سب کچھ ہے اور نہیں کے درمیان ہوتا ہے۔ آپ کے منہ سے نکلنے والی بھاپ منظر کو اور بھی دھندلا دیتی ہے جیسے آئینے پر نمی آ جائے۔ میں تو اس صبح کی بات کرنے جارہا ہوں کہ آپ گھر سے باہر نکلتے ہیں کہ نماز ادا
مزید پڑھیے


وہ جو خوشبو سے شناسا ہی نہیں

جمعه 11 جنوری 2019ء
سعد الله شاہ
خون جلایا ہے رات بھر میں نے لفظ بولے ہیں تب کتابوں سے مگر اب تو نہ وہ رات ہے اور نہ وہ دن۔ کتابوں کی حالت بھی دگرگوں ہے کس کے پاس اتنا وقت ہے کہ کتاب کے لمس سے خط اٹھائے اس سے باتیں کر سکے اور اس سے دوستی نبھا سکے۔ جہاں ہر میدان میں بے برکتی آئی ہے‘ کتاب نے بھی لوگوں سے اپنا آپ چھپا لیا ہے۔ منیر نیازی تو کہا کرتے تھے کہ کتاب برے آدمی سے اپنے معنی چھپا لیتی ہے۔ پہلے تو کتابی چہرے تک داد پاتے تھے۔ کتاب ہم سے دور ہو گئی
مزید پڑھیے