BN

سعد الله شاہ



تری زلفوں کا سونا کیا کروں میں


کہتے ہیں ایک دانشور بادشاہ کے لئے تقریر لکھا کرتا تھا ایک روز بادشاہ کی تقریر میں ایک مختصر سا جملہ لکھا ہوا دیکھا گیا کہ ’’آٹا ندارد‘‘ یعنی آٹا نہیں ہے۔ بادشاہ بھی تب سمجھدار ہوا کرتے تھے۔ بادشاہ نے پتہ چلوایا تو حقیقت کھلی کہ اس دانشور نے بے خیالی میں گھر کی صورت حال دو لفظوں میں لکھ دی۔ بادشاہ نے اس کے گھر گندم بھجوائی اور انعام و اکرام ۔ ادھر تو ساری عوام ہی چیخ رہی ہے کہ آٹا ندارد کوئی بندوبست کرنے کی بجائے بادشاہ کے سارے رتن مسخریاں کر رہے ہیں۔ آٹے سے
منگل 21 جنوری 2020ء

صحت کی صورت حال اور ابّا

اتوار 19 جنوری 2020ء
سعد الله شاہ
سخت مشکل تھی مگر نام خدا سے پہلے رکھ دیے ایک طرف میں نے سہارے سارے آج میرا دل چاہا کہ میں آپ کے ساتھ نہایت ہی دلچسپ معلومات شیئر کروں تجربہ بتاتا ہے کہ ایک اچھا ڈاکٹر آپ کو کئی برے ڈاکٹروں سے بچا دیتا ہے مگر اس ڈاکٹر کو آپ اپنا دوست رکھتے ہوں ۔تو جب علی الصبح میں سیر کو نکلا تو معروف عالم دین اور دانشور ڈاکٹر خضر یاسین مل گئے وہ برہان احمد فاروقی کے شاگرد خاص تھے۔ مجھ سے والد گرامی کی علالت کے بارے میں پوچھنے لگے تو میں نے کہا کہ چھوٹا بھائی احسان
مزید پڑھیے


جو کسی نے پانی ہلا دیا

هفته 18 جنوری 2020ء
سعد الله شاہ
کبھی اس نے مجھ کو جلا دیا کبھی اس نے مجھ کو بجھا دیا میں چراغ تھا تو ہوا نے بھی مجھے اک تماشہ بنا دیا میری آنکھ میں جو سما گیا سر آب نقش بنا گیا کہاں چاند باقی بچے گا پھر جو کسی نے پانی ہلا دیا سب ٹھنڈے ہو کر بیٹھ گئے یہ ہونا ہی تھا جو زیادہ گرم ہیں انہیں دوسروں کا انجام دیکھ لینا چاہیے۔ نہ جانے یہ لوگ عبرت کیوں نہیں پکڑتے’’چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں‘‘ کبھی کبھی اپنے دوست انور ملک یاد آتے ہیں۔ مزے کے آدمی تھے‘ نہایت لحیم و شحیم‘ بعض
مزید پڑھیے


اصلی سکون

بدھ 15 جنوری 2020ء
سعد الله شاہ
اپنا مسکن مری آنکھوں میں بنانے والے خواب ہو جاتے ہیں اس شہر میں آنے والے شکریہ تیرا کہ تو نے ہمیں زندہ رکھا ہم کو محرومی کا احساس دلانے والے عمران خاں کے اس فقرے پر بہت لے دے ہو رہی ہے کہ ’’سکون تو صرف قبر میں ہی ہے‘‘ اصل میں اس بات کو سیاق و سباق سے کاٹ کر مضحکہ خیز بنا دیا گیا۔ وگرنہ خان صاحب کا مقصد یہ نہیں تھا بلکہ وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ زندگی تو کوشش اور جدوجہد کا نام ہے۔ یا پھر آپ اسے ساغر کی زبان میں جبر مسلسل کہہ لیں یا پھر
مزید پڑھیے


نغمات کہسار

منگل 14 جنوری 2020ء
سعد الله شاہ
کہساروں کا فیض ہے ورنہ کون دیتا ہے دوسری آواز مندرجہ بالا شعر کا خیال مجھے نغمات کہسار دیکھ آیا یہ ارمغان شعر و ترجمہ ہمیں پروفیسر محمد طیب اللہ نے نارووال سے بھجوایا انفرادیت اس کتاب میں یہ کہ انہوں نے منتخب پشتو نظموں کا اردو نثر میں ترجمہ کیا ہے۔ آپ یوں سمجھ لیں کہ ترجمانی ہے۔ یہ بھی تو آپ جانتے ہیں کہ جہاںندیاں اور چشمے بہتے ہوں وہاں ایک سرور اور ایک نغمگی ابھرتی ہے جو بظاہر تو ان پہاڑی پانیوں کی موسیقی ہوتی ہے مگر ان ندیوں کی تہہ میں پڑے ہوئے پتھر وغیرہ اس موسیقی کا
مزید پڑھیے




جس کا جگنو سے ہاتھ جل جائے

هفته 11 جنوری 2020ء
سعد الله شاہ
سعدی نے درست ہی کہا تھا کہ ہنسنے کھیلنے کی باتیں دوستوں کے لئے چھوڑ دو۔اس میں کیا شک ہے فکر سنجیدگی اور تفکر کی اپنی شان ہے۔ ادب میں جو مقام ٹریجڈی یعنی المیہ کو حاصل ہے وہ کامیڈی یعنی طربیہ کو حاصل نہیں۔ میں اس پر لیکچر نہیں دے رہا بلکہ یونہی بات آگے چلانے کا قصد کیا ہے کہ کبھی کبھی ہنسنے کھیلنے کو دل تو چاہتاہے‘ خاص طور پر جہاں صرف یہی کچھ ہو رہا ہو‘ یعنی زمانے کا چلن ہی بن جائے کہ ہر سکرین پر طنزو مزاح سے بات آگے نکل چکی ہو اور
مزید پڑھیے


انمول اردو پنجابی کانفرنس

جمعرات 09 جنوری 2020ء
سعد الله شاہ
خواب کم خواب کا احساس کہاں رکھیں گے اے گل صبح تری باس کہاں رکھیں گے سرتسلیم ہے خم کچھ نہ کہیں گے لیکن یہ قلم اور یہ قرطاس کہاں رکھیں گے فیض صاحب نے کہا تھا’’پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے۔ قلم اور قرطاس کی بات بھی اس لئے ذہن میں آئی کہ مجھے بزم انمول کے زیر اہتمام ایک اردو پنجابی کانفرنس میں جانا پڑا۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک مشاعرہ بھی رکھا ہوا تھا۔ مقصد اس کا یقینا زیادہ لوگوں کو اکٹھا کرنا تھا۔ اس اجتماع کا مقصد اردو اور پنجابی کی ترویج ہی ہو گا مگر اس میں اہم
مزید پڑھیے


بہاولپور کارڈیک سنٹر میں چند ساعتیں

منگل 07 جنوری 2020ء
سعد الله شاہ
ابر اترا ہے چار سُو دیکھو اب وہ نکھرے گا خوب رو دیکھو ایسے موسم میں بھیگتے رہنا ایک شاعر کی آرزو دیکھو بہاولپور سے اتوار کو رات گئے واپس لوٹا تو سارے رستے باران رحمت برستی رہی اور اس وقت جب کہ میں کالم تحریر کر رہا ہوں باہر سے کن من کی آواز آ رہی ہے۔ شکر ہے محکمہ موسمیات کی کوئی تو پیشین گوئی درست ثابت ہوئی کہ سوموار سے بارشیں ہونگی۔ بہرحال دو تین راتیں آنکھوں میں کٹیں اور اب نیند کا ہلکا سا خمار ان آنکھوں میںہے‘‘والد محترم نصراللہ شاہ کی طبیعت کچھ زیادہ ہی ناساز تھی اور وہ
مزید پڑھیے


مسلم امہ ایک ہو جائے تو……

پیر 06 جنوری 2020ء
سعد الله شاہ
اپنی اپنی انا کو بھلایا جا سکتا تھا شاید سارا شہر بچایا جا سکتا تھا دھوپ میں جلنے والو آئو بیٹھ کے سوچیں اس رستے میں پیڑ لگایا جا سکتا تھا قارئین کرام!میرا دکھ شدت اختیار کرتے ہوئے میرے حواس پر چھا گیا ہے۔ ہائے ہائے میرا دشمن یعنی مسلم امہ کا عدو کیسے ہمیں ایک ایک کر کے مار رہا ہے۔ ہم کس دھوکے میں اس کے کلہاڑے میں لکڑی کے دستے کا رول ادا کر رہے ہیں۔ اسے خود راتب مہیا کر رہے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ پہلی مرتبہ اداسی اور غم نے مجھ پر یلغار کی ہے۔ قاسم سلیمانی کوئی
مزید پڑھیے


جنوری کی دھوپ میں لکھا گیا کالم

هفته 04 جنوری 2020ء
سعد الله شاہ
محکمہ موسمیات کی پیشین گوئیاں دھری کی دھری رہ گئیں نئے سال کے تیسرے روز آسمان پر سورج چمکنے لگا۔ دھوپ نے شہر کے درو دیوار کو روشن کر دیا میدان سنہری دھوپ سے بھر گئے پیڑ پودوں کے سبز برگ دمکنے لگے۔ سست رو اور سہل پسند آنکھیں جھپکتے ہوئے باہر نکلے۔ مجھے ان کا خیال آیا جو کہرے اور دھند میں لپٹے ہوئے موسم سے کچھ امیدیں باندھے کھڑے تھے۔ اس حوالے سے میں آپ کے ساتھ ایک دو دلچسپ واقعات ضرور شیئر کروں گا کہ یہی زندگی ہے کہ کچھ ناہمواریاں اور مختلف باتیں آپ کو سرشار
مزید پڑھیے