BN

سعد الله شاہ


طاغوت


پھول خوشبو کے نشے ہی میں بکھر جاتے ہیں لوگ پہچان بنائے ہوئے مر جاتے ہیں میں تہی دست ہوں اور بارہا یہ سوچتا ہوں اس طرح لوگ کہاں لوٹ کے گھر جاتے ہیں بات دراصل یہ ہے کہ ہمارے پاس سوچ بچار کا وقت ہی نہیں۔ایک چل چلائو ہے اور بہائو ہے زندگی کا’’ہے تندو تیز کس قدر اپنی یہ زندگی۔ کتنے ہی حادثات سرشام ہو گئے‘‘ کبھی امجد صاحب کا شعر یاد آتا ہے۔’’دل کے دریا کو کسی روز اتر جانا ہے۔ اتنا بے سمت نہ چل لوٹ کے گھر جانا ہے‘‘ اب تو نوبت آں جاں رسید کہ فرصت کہاں
منگل 15 جون 2021ء

خواب اور حقیقت

جمعه 11 جون 2021ء
سعد الله شاہ
مجھ سا کوئی جہان میں نادان بھی نہ ہو کر کے جو عشق کہتا ہے نقصان بھی ہو خوابوں سی دل نواز حقیقت نہیں کوئی یہ بھی نہ ہو تودرد کا درمان بھی نہ ہو ادھر تو یہ ہے کہ خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا‘ اور پھر اس کو کوئی کیا کرے کہ روز اک خواب دکھاتا ہے چلا جاتا ہے۔بہرحال جب تک آنکھیں ہیں تب تک خواب بھی ہیں۔ تاہم خواب اور حقیقت میں فرق تو ہے۔ خواب بن جائے یا حقیقت خواب لگنے لگے۔ محرومیوں کا ہم نے گلہ تک نہیں کیا۔ لیکن یہ کیا کہ دل میں
مزید پڑھیے


اشکوں میں لے کر وفا کے دیے

منگل 08 جون 2021ء
سعد الله شاہ
روئے سخن نہیں تو سخن کا جواز کیا بن تیرے زندگی کے نشیب و فراز کیا یہ شہر سنگ ہے یہاں ٹوٹیں گے آئینے اب سوچتے ہیں بیٹھ کے آئینہ ساز کیا ہم روز اپنی آرزو کو دعا بناتے ہیں کہ اللہ پاک ہمارے پیارے وطن کو پھر سے پٹڑی پر چڑھا دے۔کوئی بھی اپنے ملک کو پرفتن نہیں دیکھنا چاہتا ہے مگر کیا کریں کہ اقبال ساجد کا شعر ہمیں متزلزل کرنے آ جاتا ہے۔ جہاں بھونچال بنیاد فصیل و در میں رہتے ہیں۔ہمارا حوصلہ دیکھو ہم ایسے گھر میں رہتے ہیں۔ کوئی نہ کوئی ایشو اور کوئی نہ کوئی حادثہ ہمارے تعاقب
مزید پڑھیے


مہکتا ہوا سخن زار

اتوار 06 جون 2021ء
سعد الله شاہ
خواب کمخواب کا احساس کہاں رکھیں گے اے گل صبح تری باس کہاں رکھیں گے سرتسلیم ہے خم کچھ نہ کہیں گے لیکن یہ قلم اور یہ قرطاس کہاں رکھیں گے آج دل چاہا کہ اپنے قارئین سے کچھ ادب کی باتیں کر کے ماحول کو مہکایا جائے۔ یعنی ہم سوچتے ہیں کہ پہلے پھولوں سے لدے رہتے ہیں جو راہوں میں ہم وہ چاہت کے املتاس کہاں رکھیں گے واقعتاً میں ایک جگہ سے اترا تو میری نظر انہی لٹکتے ہوئے پیلے گہنوں پر پڑی کہ قدرت کس کس رنگ میں جلوہ آرا ہے مگر مجھے آج عرو سہء غزل پر بات کرنا
مزید پڑھیے


ڈاکو اور ڈاکے

هفته 05 جون 2021ء
سعد الله شاہ
اپنی اپنی انا کو بھلایا جا سکتا تھا شاید سارا شہر بچایا جا سکتا تھا دکھ تو یہ ہے اس نے ہی لوٹا ہے ہم کو جس کے لئے گھر بار لٹایا جا سکتا تھا ایسے ہی ایک بھولا بسرا شعر دل پہ دستک دینے لگا کہ ’’نہ لٹتا دن کو تو کیوں رات کو یوں بے خبر سوتا۔ رہا کھٹکا نہ لٹنے کا دعا دیتا ہوں رہزن کو۔ اگرچہ ڈاکو اور ڈاکو راج کی کہانی نئی نہیں اور کچھ روز سے ہمارے کچھ پیارے کالم نگاروں نے اس دھندے کو موضوع گفتگو بنایا ہے۔ کسی نے سندھ کے کچے کے ڈاکوئوں کا تذکرہ
مزید پڑھیے



نظریات ‘سیاست اور مفادات

جمعرات 03 جون 2021ء
سعد الله شاہ
چاند جب بام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ دل بھی ہر کام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ گونجتے رہتے ہیں الفاظ مرے کانوں میں تو تو آرام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ ایسے ہی خیال آیا کہ پی ڈی ایم‘ پیپلز پارٹی اور اے این پی کو کب کی خدا حافظ کہہ چکا ہے یا یوں کہیں کہ عملی اعتبار سے پہلے پیپلز پارٹی اور اے این پی نے طرحداری دکھائی ویسے کچھ عجیب بھی لگتا تھا کہ ن لیگ کی روح و رواں مریم نواز اور پیپلز پارٹی کے بانکے بلاول کچھ زیادہ ہی شیرو شکر ہو گئے تھے۔ حیرت
مزید پڑھیے


جل گئے سایۂ دیوار تک آتے آتے

پیر 31 مئی 2021ء
سعد الله شاہ
دلِ وحشی کی یہ حسرت بھی نکالی جائے چاندنی جتنی بھی ممکن ہو چرا لی جائے یہ سمندر بھی تو پانی کے سوا کچھ بھی نہیں اس کے سینے سے اگر لہر اٹھا لی جائے مرشد اقبال نے بھی تو کہا تھا ’’موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں‘‘ وہی موج تو ہے جو اضطراب اور طوفان کا پتہ دیتی ہے۔ وہی کہ ’’تیری موجوں میں اضطراب نہیں۔ تنہائی ملتی ہے تو میں اپنے ہونے کا جواز ڈھونڈتا ہوں۔ کبھی ثمینہ راجہ کی نظم یاد آتی ہے کہ ’’مجھے کیوں بنایا‘‘ یہ سوال اس نے کائناتوں کے درمیان زمین کو اور پھر
مزید پڑھیے


میرے جینے کی ایک صورت ہے

هفته 29 مئی 2021ء
سعد الله شاہ
یہ جمال کیا یہ جلال کیا‘ یہ عروج کیا یہ زوال کیا وہ جو پیڑ جڑ سے اکھڑ گیا اسے موسموں کا ملال کیا ہوا ریزہ ریزہ جو دل ترا اسے جوڑ جوڑ کے مت دکھا وہ جو اپنے حسن میں مست ہے اسے آئینے کا خیال کیا میرؔ نے کیا غضب کی بات کہی تھی کہ لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام۔ آفاق کی اس کارگہہ شیشہ گری کا۔ تو صاحبو!یہاں سب کو اپنی اپنی پڑی ہوئی۔سیاست پر تو بعد میں بات کریں گے پہلے ایک دلچسپ خبر سامنے آ گئی سکھر سے ایک جعلی ڈی جی نیب کو گرفتار
مزید پڑھیے


منسوب چراغوں سے طرفدار ہوا کے

جمعرات 27 مئی 2021ء
سعد الله شاہ
بجھتا ہوا چراغ بچانے نہیں دیا تھوڑا سا آسرا بھی ہوا نے نہیں دیا ہم کو انا کے دوش پہ لا کر بیٹھا دیا یاروں نے ہم کو یار منانے نہیں دیا کیا کیا جائے اور کیا کہا جائے۔ بس اتنا کہ اپنے بس میں کچھ نہیں اور یہیں سے بے بسی اور بے کلی جنم لیتی ہے۔ میر بھی کہتے چلے گئے کہ جو چاہو سو آپ کرو ہو ہم کو عبث بدنام کیا۔ یعنی ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی۔ لوگ بڑے ظالم ہیں خان صاحب سے سوال کر رہے ہیں کہ یہ ’’این آر او‘‘ کیا ہوتا ہے
مزید پڑھیے


کچھ چٹ پٹی باتیں

اتوار 23 مئی 2021ء
سعد الله شاہ
لاکھ ملتے ہیں ہم بہانے سے پیار چھپتا نہیں چھپانے سے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا پھر تم نکالو ہمیں فسانے سے کیسی دلچسپ صورت حال پیدا ہو گئی ہے کہ وہ جنہیں ایک ایس ایچ او کی مار کہا جا رہا تھا کہنے والا یقینا خفت محسوس کر رہا ہو گا۔بہرحال ہمیں تو اس صلح سے بہت لطف آیا کہ اس کے ساتھ کئی شعر بھولے بسرے یاد آنے لگے: گلے سے لگتے ہی جتنے گلے تھے بھول گئے وگرنہ یاد تھیں ہم کو شکائتیں کیا کیا کوئی مانے نہ مانے ہمیں تو اس کا اندازہ تھا کہ معاملہ بغاوت کا ہے ہی نہیں
مزید پڑھیے








اہم خبریں