BN

سعد الله شاہ



ایک تلخ و شیریں خود نوشت


خوں جلایا ہے رات بھر میں نے لفظ بولے ہیں تب کتابوں سے سچ کہہ دینے میں کوئی حرج نہیں چاہے اس میں سبکی ہوتی ہو۔ پروین شاکر نے بھی تو کہا تھا’’بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی ’’کیا کریں اتنی کتابیں اور رسالے آتے ہیں کہ بعض کو کھولنے کی فرصت نہیں ہوتی۔ ایک دوتو کتابوں کے بنڈل آئے پڑے ہیں‘ روز سوچتا ہوں کم از کم بنڈل کھول کر کتب کے نام پر پڑھ لوں۔ کیا کریں’’عشق نے غالب نکما کر دیا‘ وگرنہ ہم بھی آدھی تھے کام کے‘‘۔ یہ بھی پرانی بات ہے اب تو یوں
هفته 07 دسمبر 2019ء

آٹھ سے پانچ

جمعه 06 دسمبر 2019ء
سعد الله شاہ
جاگتی سی آنکھ سے کتنے خواب دیکھتے دشت پار کر گئے ہم سراب دیکھتے خوشبوئوں کے ساتھ ساتھ ہمسفر رہے تو پھر زخم زخم ہو گئے ہم گلاب دیکھتے یہ باغ و محراکا امتزاج بھی تو شاعرانہ ہے۔ کہیں زخمی ہاتھ اور کہیں آبلہ پائی، بس زندگی اسی کا نام ہے۔ وہ دور تھا جب ہم نے افق رنگ سنہرے دور میں قدم رکھا تھا، خواب ہماری آنکھوں پر دستک ہی نہیں دیتے تھے بلکہ آنکھوں کے راستے دل میں اتر آتے تھے۔ پھر وہ خواب سوچ بنے اور سوچ خیال بن کر شعروں میں ڈھلنے لگی۔ یہ وہ دور ہوتا ہے جب اشجار
مزید پڑھیے


خاں صاحب!کیا اس کی کسر باقی ہے

بدھ 04 دسمبر 2019ء
سعد الله شاہ
کہنے کو اک الف تھا مگر اب کھلا کہ وہ پہلا مکالمہ تھا مرا زندگی کے ساتھ اپنا تو اصل زر سے بھی نقصان بڑھ گیا سچ مچ کا عشق مر گیا اک دل لگی کے ساتھ کئی باتیں بہت دیرمیں جا کر کھلتی ہیں خاص طور پر جب انسان عنفوان شباب میں ہوتا ہے تو ہوا کا لمس بھی گدگداتا ہے۔ چندا ماموں ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ بادل اس کے لئے خوبصورت شکلوں میں ڈھلتے ہیں اور دھوپ چھائوں اس کی آنکھوں میں جھلملاتی ہے۔ رنگ استعارا بنتے ہیں اور خوشبو اشارا ۔ مگر پھر رفتہ رفتہ وہ بھی پھول کی نمی کی
مزید پڑھیے


کچھ دلچسپ اور صحت مند باتیں

منگل 03 دسمبر 2019ء
سعد الله شاہ
محفل تو بہت سنجیدہ تھی مگر بات زیادہ ہی دلچسپ ہو گئی۔ ہمارے پیارے دوست عبدالغفور نہایت سنجیدگی سے بتا رہے تھے کہ انہیں فلو ہو جائے تو جہاں گلا خراب ہو جاتا ہے وہیں ان کے ٹخنے اور پنڈلی میں درد شروع ہو جاتا ہے۔ اس بیان پر ہمیں لامحالہ ایک جھٹکا سا لگا کہ گلے کا ٹخنے سے کیا علاقہ یا سروکار۔ ان کی بات پر فوراً ہمارے دل میں امام دین گجراتی کا مصرع چٹکیاں لینے لگا کہ ’’میرے گوڈے میں دردِ جگر مام دینا‘‘ پھر مجھے ایک اور شخص یاد آیا جو ریگل چوک میں کتابیں
مزید پڑھیے


درویش منیر سیفی کی برسی

پیر 02 دسمبر 2019ء
سعد الله شاہ
یہ بات تو عام مشاہدے کی ہے کہ ثمر بار پیٹر اپنی ٹہنیوں کو جھکا دیتا ہے اور سایہ دار درخت اپنی بانہیں پھیلاتا ہے اور تناور درخت پرندوں کو بلاتے ہیں۔ ایک برگد کا درخت بھی ہوتا ہے جس کی بزرگی چھپائے نہیں چھپتی، وہ صدیوں کی کہانی کہتا ہے۔ پتہ نہیں مجھے تو اس پر صوفی اور درویش کا گمان ہوتا ہے۔ کچھ ایسا ہی خیال میرا منیر سیفی کے حوالے سے ہے۔ انہیں پہلی مرتبہ ایک مشاعرے میں دیکھا تو وہ ایک بابو تھے۔ کاٹ دار شعر سنا رہے تھے۔ پتہ چلا کہ وہ کراچی کے بینک
مزید پڑھیے




ایک اور ادبی سا کالم

اتوار 01 دسمبر 2019ء
سعد الله شاہ
صائب نے کیا خوب کہا تھا: صائب دو چیز می شکند قدرِ شعر را تحسینِ ناشناس و سکوتِ سخن شناس یعنی دو چیزیں شعر کی قدر کو کم کر دیتی ہیں کہ کوئی واقفِ فن نہ ہو اور شعر کی تحسین کر دے اور جو فن جانتا ہو وہ سن کر خاموش ہو جائے۔ یہ بڑی پتے کی بات ہے۔ ایک مرتبہ میر تقی میر افسردہ بیٹھے تھے، کسی نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے ’’آج مجھے ایک ایسے شخص نے داد دی ہے جو سب کو داد دیتا ہے‘‘۔ جرأت کے بارے میں ہے کہ انہیں مشاعروں میں بہت داد ملتی
مزید پڑھیے


سانحہ ایسا بھی ہو گا!

جمعه 29 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
ترے اثر سے نکلنے کے سو وسیلے کیے مگر وہ نین کہ تونے تھے جو نشیلے کئے ادھر تھا جھیل سی آنکھوں میں آسمان کا رنگ ادھر خیال نے پنچھی تمام نیلے کئے ہمارے دوست غلام محمد قاصر نے کہا تھا آٹھواں آسمان بھی نیلا ہے۔ اصل میں یہ نیلا پن آسمان کا ہو، سمندر کا ہو یا آنکھوں کا ،گہرائی ظاہر کرتا ہے اور وسعت بھی۔ آسمان کی وسعت پر چاند اور سورج تو جلوہ آرا ہوتے ہیں مگر ہمارے ستارے بہت اچھے لگتے ہیں کہ کبھی کبھی یہ ہماری آنکھوں سے بھی ٹوٹتے ہیں۔ قدرت نے تو انہیں آسمان کے چراغ
مزید پڑھیے


دشت پار کر گئے ہم سراب دیکھتے

جمعرات 28 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
وہ مجھ کو چھوڑ گیا تو مجھے یقین آیا کوئی بھی شخص ضروری نہیں کسی کے لئے اسے کہو کہ ہم اس کے بغیر جی لیں گے یہ غم اگرچہ زیادہ ہے آدمی کے لئے میرے پیارے اور معزز قارئین: آپ ان شعروں کو صرف رومانس میں رکھ کرنہ دیکھیں بلکہ عام تناظر میں بھی آپ کو ان کے معنی ملیں گے۔ اگرچہ معنی معنیٔ دیریاب ہوتے ہیں یعنی وہ ہم پر دیر سے کھلتے ہیں۔ بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کوئی شخص بھی ناگزیر نہیں ہوتا شیکسپئر نے کہا تھا کہ ناگزیر لوگوں سے قبرستان بھرے پڑے ہیں۔ صورت حال کو
مزید پڑھیے


ایک پتہ گرا پیڑ سے

منگل 26 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
بڑھا دیتی ہیں عمروں کو نہ جانے یہ کتابیں کیوں میں چھوٹا تھا مگر سر پر کئی صدیوں کا سایہ تھا اگرچہ سعد رستے میں بڑے دلکش جزیرے تھے مجھے ہر حال میں لیکن سمندر پار جانا تھا یہ ان دنوں کی باتیں ہیں جب ہم ہوائوں میں اڑتے پھرتے تھے تتلیوں کی طرح، مہکتے تھے پھولوں کی طرح اور آوارہ تھے ہوائوں کی طرح۔ ہمارے لمس سے موسم بدلتے تھے۔ ہوتا ہے یہ زمانہ ،کہ جس کے بارے میں ورڈز ورتھ کہتا ہے کہ وہ ہلکی کشتیوں کی طرح پانی کی سطح سے اوپر لہروں پر تیرے تھے۔ آسمانی بجلی کی طرح کبھی
مزید پڑھیے


قرآن، عمر الیاس اور قاری رجا ایوب

پیر 25 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی عزت پر خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا دشمنان دین کا مسئلہ ہی قرآن اور صاحب قرآن ہے کہ یہ قرآن ان کی فطرت بد اور تیرہ باطن کا پردہ چاک کرتا ہے۔ ان کے پاس قاطع برہان نہیں تو وہ اس برہان کو نذر آتش کرنے پر اتر آتے ہیں۔ وہ اس کتاب مقدس کے براہین و فرامین کو نفرت انگیز اور شر انگیز قرار دیتے ہیں کہ اس میں ان کے دلوں کے حال اورا ذہان کی کیفیت کو طشت ازبام کردیا گیا ہے۔ وہ غصے اور انتقام
مزید پڑھیے