BN

سعد الله شاہ



آئو پاکستان سے محبت کریں


میں نے تو اڑتے پرندوں سے یہی سیکھا ہے کام آئے تو فقط اپنے ہی بازو آئے اس شعر پر بات کرنے سے پہلے ذرا سی بات اپنے دوست اور 92نیوز کے کالم نگار اشرف شریف کے بارے میں ہو جائے کہ ان کے بارے میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ نظر سے گزری کہ ان کو ....Severe chest painہوئی ہے۔ سخت تشویش ہوئی ان کے گھر فون ملایا مگر جواب ندارد‘ فوراً 92نیوز کے ایڈیٹوریل میں فون کیا تو خبر کی تصدیق ہوئی اور پتہ چلا کہ وہ گھر پر ہیں اللہ کا لاکھ لاکھ شکر کہ بعد میں معلوم
جمعه 08 نومبر 2019ء

ایسا نہ ہو کہ

جمعرات 07 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
صوفی تبسم نے کہا تھا: ایسا نہ ہو کہ درد بنے درد لادوا ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو بات تو کچھ بھی نہیں ہوئی مگر جب بگڑ جائے تو پھر بنائے ہی نہیں بنتی ہے۔ بات کو اب بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔نہ جانے ہمارے رویے اس قدر کیوں بگڑ گئے ہیں۔ ان میں سنجیدگی نظر آتی ہے اور نہ ٹھہرائو‘ نہ برداشت ہے اور نہ وضعداری۔ سب اپنی اپنی بات پر ڈٹے ہوئے ہیں ایک کے نزدیک استعفیٰ کے سوا سب جائز مطالبات مانے جا سکتے ہیں اور دوسرے کے نزدیک ایک استعفیٰ ہی جائز
مزید پڑھیے


ایک کالم شوگر پر

اتوار 03 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
میرا یہ کالم وہ لوگ پڑھیں جنہیں شوگر ہے اور وہ جنہیں شوگر نہیں۔ اس کالم کو ہرگز نظرانداز نہ کریں اب دنیا میں دو طرح ہی کے لوگ ہو سکتے ہیں ایک جنہیں شوگر ہے دوسرے جنہیں شوگر نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ بیماری تھوڑا بہت ہمیں بھی لاحق ہو گئی ہے۔ لوگ ہمیں ٹھیک ہی ڈراتے تھے کہ چینی کم استعمال کریں مگر طبیعت اس پرہیز کی طرف اس لئے نہیں آتی تھی کہ ہم نے ابو علی سینا کا قول پڑھ رکھا تھا کہ جتناپرہیز ایک مریض کے لئے ضروری ہے اتنی ہی بدپرہیزی ایک تندرست کے
مزید پڑھیے


رحیم یار خاں کا ٹرین حادثہ

هفته 02 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
نغمے تھے جو ہوائوں میں درد کی لے میں ڈھل گئے ایک ہی پل میں کیا ہوا سارے ہی خواب جل گئے کس کرب اور اذیت میںاس وقت پاکستانی ہیں کہ رحیم یار خاں کی ٹرین میں لگنے والی آگ 72پیاروں کو کوئلہ کر گئی اور دیکھنے والوں کی آنکھوں سے گزرتی ہوئی دل تک اتر گئی۔ کوئی اس پر ماتم کرے یا نوحہ لکھے۔ دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک۔ یہ شعلے ہمارے دلوں میں جلتے رہیں گے۔ نظر سوئے آسمان اٹھتی ہے کہ اے پروردگار تیری تو ہی جانتا ہے ہم خاک زادے اور کیا کر سکتے
مزید پڑھیے


نجیب احمد اور گریزاں

جمعه 01 نومبر 2019ء
سعد الله شاہ
عجب اک معجزہ اس دور میں دیکھا کہ پہلو سے ید بیضا نکلنا تھا مگر کاسہ نکل آیا شعر سے محسوس ہوتا ہے کہ میں کوئی سیاسی کالم لکھنے لگا ہوں۔ نہیں جناب آج میرا دل چاہا کہ کچھ لوبھ ہو جائے۔ یہ شعر کافی مشہور ہوا کہ ید بیضا اور کاسہ میں کیا تلازم ہے۔ آپ اس کو ادبی زبان میں تلمیح کا شعر کہتے ہیں اس وضاحت کا یہ مطلب نہیں کہ میں شاعری پر لیکچر دوں۔ اصل میں ہوا یوں کہ نجیب احمد کا فون آیا کہ کشمیر مشاعرہ ہے تو ظاہر میں کشمیر پر غزل پڑھنے ادبی بیٹھک
مزید پڑھیے




حالات حاضرہ اور ایک تقریب

بدھ 30 اکتوبر 2019ء
سعد الله شاہ
اسلم کولسری نے کہا تھاؔ میں نے اپنے سارے آنسو بخش دیئے بچے نے تو ایک ہی پیسہ مانگا تھا اظہار شاہین کا شعر ہے: کھلونوں کی دکانو راستہ دو میرے بچے گزرنا چاہتے ہیں یہ تو شاعروں کا اظہار ہے کہ کتھارسز کرلیا۔ عام آدمی بے چارا تو اسی طرح اظہار کرتا ہے جو اس کی بساط ہے لیکن بعض غریبوں کے اظہار ایسے ہوتے ہیں کہ شعر کی تاثیر سے بڑھ جاتے ہیں۔ میں ایک رکشہ والے کی بات سن رہا تھا تو میری آنکھیں بھیک گئیں۔ کہنے لگا ’’بائو جی کیا کریں پچھلے دور میں میں روزانہ گیارہ بارہ سو روپے گھر
مزید پڑھیے


چند حیات افروز باتیں

منگل 29 اکتوبر 2019ء
سعد الله شاہ
ایک سہانی ملگجی شام ہمیشہ میرے شامل حال رہی‘ یعنی ایک تخیل اور ایک تصورو جس کو ایک آرزو نے جگمگا رکھا ہے کہ کاش میں دیکھ سکتا کہ اس شام میں کائنات کے تاجدار اور اللہ کے محبوبؐ اپنے اصحابؓ کے ساتھ اس صفحہ پر شمع محفل ہوئے اور اردگرد سب پروانے۔ یہ سوچ کر ہی کہ وہ کیسا منظر ہو گا آنکھ روشنی سے بھر جاتی ہے اور دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ یہ ناآسودہ خواہش بھی کس قدر آسودگی دیتی ہے کہ بات نسبت کی ہے یقینا وہ قابل رشک لمحات ہونگے جب آقائے نامدار
مزید پڑھیے


سانحہ ساہیوال کا فیصلہ

هفته 26 اکتوبر 2019ء
سعد الله شاہ
یہ شہر سنگ ہے یہاں ٹوٹیں گے آئینے اب سوچتے ہیں بیٹھ کے آئینہ ساز کیا کاش میں بھی ناصر کاظمی کی طرح کہہ سکتا کہ آج تو بے سبب اداس ہے جی‘ میرا دل جو اداس ہی نہیں بلکہ بجھ سا گیا ہے۔ اس کے پیچھے کئی اسباب ہیں ۔ ہائے ہائے کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں، جب محافظ قاتل بن جائیں اور حکمران مفاد اور خود غرضی کی چادر اوڑھ لیں تو مظلوم کہاں جائے۔ پھر تو ایک ہی در ہے کہ باریابی ہو جائے تو پتھر سے چشمہ پھوٹ پڑے اور مردہ زمین زندہ ہوجائے مگر اس
مزید پڑھیے


سنجیدہ صورت حال میں غیر سنجیدہ چال

جمعه 25 اکتوبر 2019ء
سعد الله شاہ
درد کو اشک بنانے کی ضرورت کیا تھی تھا جو اس دل میں دکھانے کی ضرورت کیا تھی ایسے لگتا ہے کہ کمزور بہت ہے تو بھی جیت کر جشن منانے کی ضرورت کیا تھی کچھ باتیں ہوتی ہیں جو آپ کے اندر کے چور کی چغلی کھاتی ہیں۔ نفسیاتی کیفیت حقیقت کی غماضی کرنے لگتی ہے داستان سے زیادہ زیب داستاں ہے۔ رائی کا پہاڑ بنا دیا گیا ہے۔ یا آپ بات کا بتنگڑ کہہ لیں۔ کہا جا رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے پیچھے بیرونی قوتیں ہیں۔ پھر وزیر اعظم کا دفاعی بیان پر زور کہ ’’کسی قیمت پر استعفیٰ نہیں
مزید پڑھیے


سنہرے لوگ،ڈاکٹر خواجہ صادق حسین

بدھ 23 اکتوبر 2019ء
سعد الله شاہ
ایک جگنو ہی سہی ایک ستارا ہی سہی شبِ تیرہ میں اجالوں کا اشارہ ہی سہی ہم کو جلنا ہے بہر طور سحر ہونے تک اک تماشہ ہی سہی ایک نظارہ ہی سہی کہتے ہیں کہ پہلے درجے کے لکھنے والے نظریات، دوسرے درجے کے تخلیق کار واقعات اور تیسرے درجے کے لکھاری شخصیات کے حوالے سے لکھتے ہیں۔ مگر وہاں بندہ کیا کرے جہاں کوئی شخص ایک نظریہ، ایک مقصد اور ایک جنوں بن جائے۔ ایک ایسی ہی بے پناہ شخصیت میرے سامنے ہے کہ ان کی لکھی ہوئی خود نوشت "Reflection"میرے سامنے ہے جو ان کے شاگرد اور ہمارے دوست ڈاکٹر انتظار
مزید پڑھیے