BN

سعد الله شاہ


آتش قبا سیاسی محبوبہ


ترے اثر سے نکلنے کے سو وسیلے کئے مگر وہ نین کہ تونے تھے جو نشیلے کئے محبتوں کو تم اتنا نہ سرسری لینا محبتوں نے صف آرا کئی قبیلے کئے اس وقت اے پی سی کا ردعمل جاری ہے۔میری کیا بساط کہ میں کسی پر کوئی رائے دوں کہ دانشوروں کی نمائندگی کرتے ہوئے محمد عباس مرزا نے کہا کہ انہوں نے تو سیاسی پوسٹیں لگانا ہی بند کردی ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ اس اعلامیہ کے بھی نتائج اچھے نہیں ہوں گے جس میں ملکی بقا کو پس پشت ڈال دیا گیا مگر کیا یہ بات بھی برخلاف
بدھ 23  ستمبر 2020ء

قسمت کے کھیل

منگل 22  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
قتل کرتا ہے ہمیں اور وہ قاتل بھی نہیں بے حسی وہ ہے کہ ہم رحم کے قابل بھی نہیں کسی کردار کو چلنے نہیں دیتا آگے ایک کردار کہانی میں جو شامل بھی نہیں یقینا آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ اولین شعر بین الاقوامی ماحول پر ہے اور ثانی شعر کو مقامی سمجھ لیں۔ مگر ضروری نہیں کہ بات ہم اسی حوالے سے کریں مگر کچھ کچھ ایسا احساس ہمیں گھیرے رکھتا ہے کہ جیسا مریخ کی ایک کہانی میں تھا۔ انگریزی کی اس کہانی میں ایک انگریز فیملی اس وقت مریخ پر جا اترتی ہے جب امریکہ بھی ایٹمی جنگ کی
مزید پڑھیے


دھوپ میں جلنے والو!

پیر 21  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
کوئی پلکوں پہ لے کر وفا کے دیئے دیکھ بیٹھا ہے رستے میں تیرے لیے کتنی تیزی سے سب کام بڑھنے لگے وقت گھٹتا گیا ہر کسی کے لیے اے پی سی کا شور ہے حکومت اور اپوزیشن ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے ہیں۔ شہزاد اکبر کہتے ہیں کہ مفرور مجرم کا خطاب نشر نہیں ہو سکتا۔ مریم نواز کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر دکھائیں گے۔ روک سکو تو روک لو۔ مگر ہمیں اس معاملے سے کیا لینا دینا کہ ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا اور گھبرانا تو کپتان کی ڈکشنری میں ہے ہی نہیں۔ ردعمل تو بتا رہا ہے
مزید پڑھیے


عہد موجود کا منظر نامہ

اتوار 20  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
بولے تو لفظ باعث الزام ہو گئے ہم چپ رہے تو اور بھی بدنام ہو گئے تفی تند و تیز کس قدر اپنی یہ زندگی کتنے ہی حادثات سرشام ہو گئے ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔ انسان کو کسی پل سکون نہیں‘ اگلے لمحے کا خدشہ ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ ایک چل چلائو ہے، سو ہم چلے جا رہے ہیں امید پر دنیا قائم ہے مگر ناامیدی بھی ہماری دیکھنے والی ہے ۔ لیکن میں آپ کو بالکل بھی بور نہیں کروں گا کہ ہمارے پاس ہنسنے ہنسانے کے لیے بہت کچھ ہے کہیں تو آپ کو ایوان بالا میں لیے چلتے
مزید پڑھیے


ہم بگولوں کے ساتھ چلتے ہیں

جمعرات 17  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
کچھ کم نہیں ہے حاصل سے ہجر یار بھی آنکھوں نے آج دھو دیا دل کا غبار بھی اپنے نقوش پا کے سوا کچھ نہیں ملا اپنے سوا کوئی نہیں صحرا کے پار بھی مسئلہ تو سراسر سوچ کا ہے اور اگر ہم سوچ لیں تو ہم پر کھلتا ہے کہ دائروں میں سفر کر رہے ہیں۔ دائرہ بھی کیا شے ہے کہ نقاط سے مل کر بنا ہے اور یہ غیر محسوس طریقے سے زاویے بناتا اپنا چکر پورا کرتا ہے میں نہیں چاہتا کہ آپ اس پر غور کرتے چکرا جائیں۔ وہی کہ ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا۔ مگر
مزید پڑھیے



بیانات اور مضمرات

بدھ 16  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
اک دل بنا رہا ہوں میں، دل کے مکین میں مشکل سے بات بنتی ہے مشکل زمین میں انسان اپنے آپ کو پہچانتا نہیں اک سانپ بولتا ہے سپیرے کی بین میں یہ انسان ہی کا کام ہے کہ اس نے سانپ کو بھی اس کی بل سے نکال کر اپنی پٹاری میں بند کر لیا۔ سانپ کیا شے ہے، اس نے تو شیر کو قابو کر لیا اور سرکس میں لے آیا۔ کونسا تماشہ ہے جو انسان نے برپا نہیں کیا۔ اس نے طوطے سے بھی توپ چلوا دی اور کبوتر کو پیغامبر بنا دیا۔ ہاتھی پر سواری کی۔ اس سے تو بچھو
مزید پڑھیے


متشدد رویے

منگل 15  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
کتنے اندیشوں میں وہموں میں گھرا بیٹھا ہوں میں تہی دست ہوں سوچوں میں گھرا بیٹھا ہوں میری کھڑکی سے نظر آتے ہیں اڑتے پنچھی اور میں ہوں کہ کتابوں میں گھرا بیٹھا ہوں کتابوں کے درمیان اخبار بھی تو ہیں جو باہر کی دنیا کی خبر دیتے ہیں اور اسی دنیا کے حولے سے مجھے لکھنا بھی ہوتا ہے۔ آج میری توجہ کا مرکز ان نابغہ ہائے سیاست کا بیان بنا ہے کہ جو تشدد کے خلاف ہیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ برداشت کی بات کرتے ہیں۔ آپ کو سمجھانے کے لیے میں ایک دلچسپ مگر مضحکہ خیز مثال دوں گا۔ ایک اسلامی
مزید پڑھیے


انصاف اور اجتماعی موت

پیر 14  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
لا کے پھینکا ہے کہاں تونے زمانے ہم کو کون آئے گا لٹیروں سے بچانے ہم کو بے لباسی نے عجب حال کیا ہے اپنا اور صرصر چلی آئی ہے جلانے ہم کو شاید آپ یقین نہ کریں میں دل گرفتہ بیٹھا تھا کہ دفتر سے فون آیا کہ کالم نہیں آیا‘ میں چونکا، واللہ میں تو ایک ایسی کیفیت میں تھا کہ کالم لکھنے کی سکت ہی نہیں تھی۔ وجہ یہ بنی کہ بشریٰ حزیں نے ایک وڈیو بھیجی تو وہ میرے حواس تک زخمی کر گئی۔ ہم کچھ بھول بھی جائیں تو حالات کچھ بولنے نہیں دیتے اور حساس لوگ ہمیں یاد
مزید پڑھیے


ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

اتوار 13  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
معزز قارئین!آج میں بہت رنجیدہ اور آبدیدہ ہوں سوشل میڈیا پر لوگوں کی اس ستم رسیدہ ماں کے حوالے آرا سن رہا ہوں جسے درندوں نے موٹر وے پر اس کے بچوں کے سامنے پامال کر دیا۔ رہ رہ کر میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے سزا کے طور پر یہاں سے انسانیت اٹھا لی گئی ہے۔ابھی تو ساہیوال کے سانحہ کا لہو سوکھا نہیں ۔ہائے ہائے ہر حساس آدمی ایک دوسرے سے منہ چھپا رہا ہے کہ ہمارا معاشرہ کس
مزید پڑھیے


قومی حکومت کے آثار ‘یا…

هفته 12  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
خود اپنی حد سے نکل کر حدود ڈھونڈتی ہے کہ خاک باردگر بھی قیود ڈھونڈتی ہے ہوائے تند بڑھاتی ہے خود چراغ کی لو کہ روشنی میں یہ اپنا وجود ڈھونڈتی ہے واقعتاً یہ انسان تو ہی ہے ،مٹھی بھر مٹی جو اڑتی ہے تو خاک بنتی ہے مگر جتنا بھی اڑ لے آخر واپس پلٹتی ہے اور سر پر بھی پڑ سکتی ہے ۔انجام کار تو مگر مٹی کی ڈھیری ہے۔میں آغاز ہی میں آپ کو فلسفہ جھاڑ کر پریشان نہیں کرنا چاہتا بلکہ آپ کے دل کی بات کروں گا جو آپ کے من کو بھائے۔ ایسی باتیں آج کل بڑی آسانی
مزید پڑھیے