BN

سعد الله شاہ


وبا کے دن تو دعا کے دن ہیں


کیا سروکار ہمیں رونق بازار کے ساتھ ہم الگ بیٹھے ہیں دست ہنر آثار کے ساتھ کوئی نقطے سے لگاتا چلا جاتا ہے فقط دائرے کھینچتا جاتا ہوں میں پرکار کے ساتھ وہ بھی ایسا ہی یکتائے روزگار ہے جس کا دل لاکھوں لوگوں کے لئے دھڑکتا ہے اور لاکھوں دل اس کے لئے دھڑکتے ہیں تو دعا کرتے ہیں۔ وہ چند لوگوں میں سے ہے اس کے بندوں کا بندہ جو اپنے بندے سے ستر مائوں سے بڑھ کر پیار کرتا ہے اس کی آنکھیں دل اور دل اشکوں سے بھرا رہتا ہے۔ یہ نمی نمو ہی تو ہوتی ہے جو کسی کو
بدھ 10 جون 2020ء

سنتھیا رچی کی حقیقت

منگل 09 جون 2020ء
سعد الله شاہ
درد کو اشک بنانے کی ضرورت کیا تھی تھا جو اس دل میں، دکھانے کی ضرورت کیا تھی اتنے حساس ہیں سانسوں سے پگھل جاتے ہیں بجلیاں ہم پہ گرانے کی ضرورت کیا تھی سنتھیا رچی نے تو سب کچھ ستیاناس کر دیا ہے۔ ایک ہنگامے پہ موقوف گھر کی رونق، روز کوئی نہ کوئی نیا ایشو اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ لوگوں کی توجہ مہنگائی وغیرہ سے ہٹی رہے اور لوگ وبا کو کچھ وقت کے لئے بھول جائیں۔ مگر اب کے تو بھولی بسری باتیں یاد دلائی جانے لگی ہیں خاص طور پر پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کو لینے کے دینے پڑ
مزید پڑھیے


عمران خاں کی غلطی

پیر 08 جون 2020ء
سعد الله شاہ
فکر انجام کر انجام سے پہلے پہلے دن تو تیرا ہے مگر شام سے پہلے پہلے ہم بھی سوتے تھے کوئی یاد سرہانے رکھ کر ہاںمگر گردش ایام سے پہلے پہلے بس طبیعت پر گرانی تھی کہ حالات ہی کچھ ایسے بنتے جا رہے ہیں وگرنہ واسوخت لکھنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ میں اچھی امید رکھنے والوں میں ہوں مگر اشارے تو چھٹی حس سمجھتی ہے چلیے بات آغاز کرنے سے پہلے ایک دلچسپ بلکہ پرلطف بات کرتے چلیں کہ عمران خاں نے ایک شعر غلطی سے اقبال کے نام منسوب کر دیا۔ وہ شعر میں تصحیح کے ساتھ لکھے دیتا ہوں: نہ عروج دے
مزید پڑھیے


فیصلہ آپ کریں کہ چور کون

اتوار 07 جون 2020ء
سعد الله شاہ
پھول خوشبو کے نشے ہی میں بکھر جاتے ہیں لوگ پہچان بناتے ہوئے مر جاتے ہیں اس مطلع کے بعد ایک اور مطلع کہ مطلع ابر آلود ہو جائے تو پھر رم جھم کی بات کریں گے مگر ان دونوں اشعار کو ذرا ذھن میں رکھیے گا: دشت کی پیاس بڑھانے کے لئے آئے تھے ابر بھی آگ لگانے کے لئے آئے تھے ان دونوں شعروں کو ملا کر ہمارے ایک کرم فرما نے ایک شعر نکالا۔ تب بات بہت بڑھی اور موصوف کو ثبوت فراہم کر دیے گئے مگر ہٹ دھرمی دیکھیے کہ وہ صاحب ہماری موجودگی میں ہی مشاعروں میں اخذ کیا گیا
مزید پڑھیے


ٹڈی دل کورونا اور فری ہینڈ

هفته 06 جون 2020ء
سعد الله شاہ
کسی نے لکھا ہے کہ شبلی فراز نے ٹڈی دَل کو ٹڈی دِل کہا تو احمد فراز کی روح کانپ گئی ہو گی۔میرا خیال ہے کہ نہیں کانپی ہو گی کہ انہوں نے زندگی ہی میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ وہ پراپرٹی ڈیلنگ کو پسند کرتے ہیں اور ان کے بچے اسی طرف گامزن ہیں۔ پھر فراز صاحب کے گھر کا سامان اٹھا کر باہر رکھ دیا گیا تھا۔ پہلے ٹڈی دل پر بات ہو جائے کہ یہ جو دال ہے اس کے اوپر زبر ہے زیر نہیں۔ دل کا مطلب ہوتا ہے لشکر یا اکٹھ
مزید پڑھیے



ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے

جمعرات 04 جون 2020ء
سعد الله شاہ
ابھی بہار کا نشہ لہو میں رقصاں تھا کف خزاں نے ہر اک شے کے ہاتھ پیلے کیے زندگی موج میں خرام کرتی ہے۔ آہوئے فتن کی طرح چوکڑیاں بھرتی ہے اور آسمان تخیل پر پرواز کرتی ہے۔ سانس کی آمدو رفت ایک خوشگوار احساس کی طرح حرز جاں ہوتی ہے مگر تابہ کے وقت تو معین ہے مگر نیند کیوں رات بھر نہیں آتی مظاہرمگر آنکھوں کی پتلیوں کو ساکت کر کے گزر جاتے ہیں۔ اظہار شاہیں ابھی کل کی بات ہے’’ ایک پتہ گرا پیڑ سے۔ ٹوٹنا کتنا آسان ہے‘‘۔ دل کہتا ہے ایک ہچکی میں دوسری دنیا۔سعد اتنی سی
مزید پڑھیے


ایک دلچسپ ادبی کالم

بدھ 03 جون 2020ء
سعد الله شاہ
تم نے کیا یہ رابطہ رکھا نہ ملے ہو نہ فاصلہ رکھا تُو نہ رسوا ہو اس لیے ہم نے اپنی چاہت پہ دائرہ رکھا ہمارے ادب شناس دوست مرزا مشرف کا فون آیا کہ وہ غزل بھیجیں جس میں ’’دائرہ رکھنا‘‘ محاورہ آپ نے استعمال کیا ہے۔ تو پیارے قارئین! وہ دور یاد آیا کہ جب ہم پر شاعری کا بھوت سوار تھا۔نئی زمینیں نامانوس بحریں اور اچھوتی ردیف برتنے کا شوق تھا۔ تب میں نے ’’دائرہ رکھنا‘‘ استعمال کیا تو خوشگوار رد عمل آیا۔ معروف شاعر ارشد نعیم نے کہا ’’شاہ جی! آپ کی اجازت سے میں بھی اسے اپنے شعر میں
مزید پڑھیے


شناختی کارڈ ہی تو مانگا ہے

منگل 02 جون 2020ء
سعد الله شاہ
شام فراق یار نے ہم کو اداس کر دیا ہجر نے اپنے عشق کو حسرت و یاس کر دیا ناصر کاظمی نے گھر کی دیواروں پر اداسی کو بال کھول کر سوئے ہوئے دیکھا تھا مگر ہم نے تو پورے شہر کو اداسی اوڑھے ہوئے دیکھا ہے۔وبا کے دنوں کی اداسی میں ایک کرب بھی ہے اور اس سے بھی زیادہ تشویش ناک اور دکھ کی بات یہ ہے کہ ہم اپنے ذمہ دار حکمرانوں کے فیصلوں کے باعث دوراہے پر آن کھڑے ہوئے۔ مگر اس سے بھی پہلے مجھے بات کرنا ہے ایک سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو کے
مزید پڑھیے


وفاقی محتسب کو آزمائیں ضرور

اتوار 31 مئی 2020ء
سعد الله شاہ
دن مشقت میں اگر تم نے گزارا ہوتا رات کا چین تمہیں ہم سے بھی پیارا ہوتا آج دل چاہا کہ وفاقی محتسب کی کارکردگی پر قلم اٹھایا جائے مگر کارکردگی میں کام کا عمل دخل ہے وگرنہ تو کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ۔ بات یوں ہے کہ ہمارے ہاں عرف عام و خاص میں کام کرنے والے کو کمی کہتے ہیں اور گدھا سمجھتے ہیں اور جو حرام خور ان کمیوں یا کامیوں سے اپنا پیٹ اور اپنی تجوریاں بھرتا ہے وہ صاحب اور باس کہلاتا ہے یعنی کمائے گی دنیا اور کھائیں گے ہم۔ سچی بات
مزید پڑھیے


کچھ علم و عمل کی باتیں

هفته 30 مئی 2020ء
سعد الله شاہ
باب حریم حرف کو کھولا نہیں گیا لکھنا جو چاہتے تھے وہ لکھا نہیں گیا اک حرف محرمانہ لہو میں اتر گیا پھر اس کے بعد ہم سے بھی سوچا نہیں گیا اہل علم کو پڑھیں یا سنیں تو علم کے دروا ہوتے ہیں اور اس میں بھی آپ کی توجہ کا عمل دخل ہے وگرنہ سنا سنایا اور پڑھا پڑھایا ایک برابر ہوتا ہے۔ ویسے تو یگانہ نے کہا تھا کہ علم کیا علم کی حقیقت کیا۔ جیسی جس کے گمان میں آئی ہارون الرشید صاحب کا کالم نظر نواز ہوا تو انہوں نے اپنے ساحرانہ انداز میں علم عقل اور شعور کی
مزید پڑھیے