BN

سعد الله شاہ


کچھ مزے کی باتیں


کچھ کم نہیں ہے وصل سے یہ ہجر یار بھی آنکھوں نے آج دھو دیا دل کا غبار بھی اپنے نقوش پا کے سوا کچھ نہیں ملا اپنے سوا کوئی نہیں صحرا کے پار بھی کیا کریں خود شناسی کی منزل اذیت ناک ہے۔ کیا کیا جائے جو کہنا چاہتے ہیں کہہ نہیں سکتے اور کچھ کرنا چاہیں تو یہ بھی آپ کے بس میں نہیں۔ کبھی کبھی ایسے ہی گمان گزرتا ہے ہم سفر میں ہیں۔ جاگتی سی آنکھ سے کتنے خواب دیکھتے۔ دشت پار کر گئے ہم سراب دیکھتے۔ ا ا المیہ لکھنے کا فائدہ کیا۔ شہر آشوب خالد علیم
هفته 08 مئی 2021ء مزید پڑھیے

یہ تخلیق ہے کیا!

جمعه 07 مئی 2021ء
سعد الله شاہ
لوگ کہتے ہیں مرا زہرہ جمال اچھا ہے صرف اچھا ہی نہیں ہے وہ کمال اچھا ہے کتنا دشوار ہے لوگوں سے فسانہ کہنا کس قدر سہل ہے کہہ دینا کہ حال اچھا ہے آج ذرا تخلیق کی بات کرتے ہیں کہ غالب نے تو بات ہی ختم کر دی کہ آتے ہیں عیب سے یہ مضامیں خیال میں غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے۔ ہم تو اس بات پر سر دھنتے ہیں کہ چچا نے قلم کے گھسیٹنے کی آواز سنی اور اسے فرشتے کی آواز سے جا ملایا۔ یہ انہی کا حصہ تھا کہ دامان خیال یار چھوٹا جائے ہے مجھ سے‘
مزید پڑھیے


انقلاب معکوس

بدھ 05 مئی 2021ء
سعد الله شاہ
دشت کی پیاس بڑھانے کے لیے آئے تھے ابر بھی آگ لگانے کے لیے آئے تھے ایسے لگتا ہے کہ ہم ہی سے کوئی بھول ہوئی تم کسی اور زمانے کے لیے آئے تھے ایسا ہوتا ہے کہ آپ کی توقعات یا اندازے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اچانک صورت حال بدل جاتی ہے۔ وہی جو فراز نے کہا تھا ’’یونہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے، کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انسان جاناں‘‘ بلکہ مجھے طاہرہ انجم کا شعر یاد آ گیا، کس قدر حسب حال ہے ’’انجم ذرا تو دیکھ تو ناصح کی شوخیاں، پہلو بدل کے مجھ
مزید پڑھیے


ایک خوشگوار احساس کا کالم

منگل 04 مئی 2021ء
سعد الله شاہ
فکر انجام کر انجام سے پہلے پہلے دن تو تیرا ہے مگر شام سے پہلے پہلے ہم بھی سوتے تھے کوئی یاد سرہانے رکھ کر ہاں مگر گردش انجام سے پہلے پہلے رضی شوق ساتھ ہی یاد آ گئے کہ انہوں نے بھی اسی گردش کو محسوس کیا تو کہا:اور کہا مجھ سے تیری کوزہ گری چاہتی ہے میں یہاں تک تو چلا آیا ہوں گردش کرتے‘کائنات کا بننا سنورنا اور پھر بگڑنا سب کچھ خالق کے ہاتھ میں ہے پھر میاں محمد سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں‘لوئے لوئے بھر لے پانی جے تودھ بھانڈا بھرنا۔ شام پئی بن شام محمد گھر جاندی نوں
مزید پڑھیے


’’اخوت‘‘ایک انعام

پیر 03 مئی 2021ء
سعد الله شاہ
سحر کے ساتھ ہی سورج کا ہمرکاب ہوا جو اپنے آپ سے نکلا وہ کامیاب ہوا میں جاگتا رہا اک خواب دیکھ کر برسوں پھر اس کے بعد مرا جاگنا بھی خواب ہوا میں جانتا ہوں دونوں لوگوں کو ایک نے دوسروں کے لئے خود کو وقف کر دیا اور دوسرا وہ کہ اخوت کا مطلب عملی طور پر سمجھایا۔یہی دوسرا آدمی اول نمبر ہے جس نے ایسا خواب دیکھا کہ زندگی کو اس خواب کی تعبیر بنا دیا۔دونوں سے ایک تعلق خاطر ہے سلسلہ ٹوٹا نہیں ہے درد کی زنجیر کا۔ میں کوئی بجھارت نہیں ڈال رہا کہ یہ لکھنا مجھ پر قرض
مزید پڑھیے



خدا کے لئے سوچیں ضرور

اتوار 02 مئی 2021ء
سعد الله شاہ
سحربن کے آنکھیں کھلیں تو حقیقت کا سارا سبق داستاں ہو گیا یہ کیا ہے محبت میں اک شخص کی اپنا سارا سفر رائیگاں ہو گیا کہاں ہم نے کھوئیں بشارت کی راتیں جوانی کی باتیں میرے ہم نوا نہ خوابوں کی خوشبو نہ پریوں کی آمد سبھی کچھ تھا وہم و گماں ہو گیا دوستو!بس ایسے ہی ہے اک خواب سے نکلے ہیں اک خواب میں ہیں یا ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب سے۔ منظر نامہ تو بدلتا جاتا ہے کسی کے لئے خوب سے خوب تر اور کسی کے لئے بد سے بدتر۔ اچھے دن تھے جب موسم اثر
مزید پڑھیے


وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں

جمعرات 29 اپریل 2021ء
سعد الله شاہ
حسرت وصل ملی لمحہ بے کار کے ساتھ بخت سویا ہے مرا دیدہ بیدار کے ساتھ کیا کرے جذبہ وارفتگی شوق نہاں دل کو گل رنگ کیا گوشہ پرخار کے ساتھ آج میں ایک ایسی ہستی کا ذکر جمیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں کہ اپنی طرح آپ کو بھی حیرت میں ڈال دوں گا کیسی کیسی چنگاریاں بلکہ الائو تھے جو ہماری خاکستر سے پیدا ہوئے تھے۔ توبہ توبہ ایسا علمی متحرکہ کہ بندہ سوچتا ہی رہے۔ مجھے یہ حیرت کبھی اقبال کے حوالے سے پڑھ کر ہوئی تھی کہ اہل زبان نے ان پر اعتراض لگایا تھا کہ انہوں نے لفظ
مزید پڑھیے


سیاست ‘کرکٹ اور شاہد آفریدی

منگل 27 اپریل 2021ء
سعد الله شاہ
کیسے سنبھال پائے گا اپنے تو ماہ وسال کو میں نے اگر جھٹک دیا سر سے ترے خیال کو سب کچھ بدل کے رکھ دیا لوگوں نے اہتمام سے کچھ نہ ترے جواب کو کچھ نے مرے سوال کو صاحبو!یہ تو ہوتا ہی ہے کہ جب آمنے سامنے بیٹھا نہ جائے تو مرچ مصالحہ لگانے والے ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔پھر رنجشیں اور دوریاں بڑھتی جاتی ہیں۔ایک سیاست ہی کیا کرکٹ کے کھیل میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے یعنی اس میں سیاست در آئی ہے‘ ایسے ہی جیسے سیاست کو کھیل بنا دیا گیا ہے۔ یہ صنعت معکوس باقاعدہ ایک چیز
مزید پڑھیے


ہائے کس درجہ خوش گمانی ہے

پیر 26 اپریل 2021ء
سعد الله شاہ
ظلم ہے اور بے زبانی ہے یہ مرے عہد کی کہانی ہے عدل و انصاف میں بھی استثنیٰ جبر اور ظلم کی نشانی ہے میرے معزز و محترم قارئین! آپ پریشان نہ ہوں میں آج ہلکا پھلکا اور مزیدار سا کالم لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں کہ جوتے کا سلسلہ کچھ دراز ہوا جاتا ہے کہ اب ایک سردار کی اپنے ملازم کو جوتا مارتے ہوئے ویڈیو وائرل ہوئی ہے۔ پتہ چلا کہ سردار صاحب کسی بات پر غصہ کیا اور ملازم کے سر پر جوتا جڑ دیا۔ ہماری ثقافت میں دولہہ کا جوتا چرایا جاتا اور یہ ایسی چوری ہے کہ جس پر
مزید پڑھیے


ہر بات پہ رونے کو کہاں سے جگر آئے

اتوار 25 اپریل 2021ء
سعد الله شاہ
سکوں نہیں ہے میسر مجھے وطن میں کہیں دہک رہی ہے کوئی آگ سی بدن میں کہیں مجھے ہے حکم اذاں اور اس پہ ہے قدغن خدا کا ذکر نہ آئے مرے سخن میں کہیں یہ صرف میرا مسئلہ نہیں ہے۔ اکبر نے بھی تو کہا تھا کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں‘ سید ارشاد احمد عارف کا کالم دیکھ رہا تھا تو خیال آیا کہ آخر ہمارے ساتھ یہ ہو کیا رہا ہے۔ ہماری تعلیم کے ساتھ جو ہونے جا رہا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اکبر کے اس شعر کو بھی آپ کلیثے سمجھ کر نہیں
مزید پڑھیے








اہم خبریں