BN

سعد الله شاہ



وجدان کی ایک شام


عطاء الحق قاسمی نے کہا تھا کہ کوئی ان کی تعریف کرے تو انہیں برا لگتا ہے اور اگر کوئی ان کی تعریف نہ کرے تو انہیں یہ اس سے بھی برا لگتا ہے۔ بہرحال ہمیں بھی اچھا لگا کہ معروف ادبی تنظیم وجدان نے ہمارے ساتھ ایک شام منائی۔ اس سے پیشتر ڈاکٹر صغریٰ صدف نے پلاک میں اور ڈاکٹر رفاقت علی نے آئی آر ڈیپارٹمنٹ پنجاب یونیورسٹی میں شام کا اہتمام کیا تھا۔ اس تقریب کی خوشی مجھے اس لئے ہوئی کہ یہ سرکاری شعبہ کی طرف سے نہیں بلکہ ایک نامور ادبی تنظیم وجدان جس کے چیئرمین
اتوار 15 دسمبر 2019ء

پنجاب کارڈیالوجی پر وکلاء کی یلغار

هفته 14 دسمبر 2019ء
سعد الله شاہ
یہ شہر سنگ ہے یہاں ٹوٹیں گے آئینے اب سوچتے ہیں بیٹھ کے آئینہ ساز کیا کتنا وحشت ناک منظر تھا۔ عقل و خرد مائوف۔ اس طرح تو کوئی دشمن بھی حملہ آور نہیں ہوتا کہ بیماروں اور مریضوں کی زندگیاں چھین لے۔ لگتا تھا کہ ہندوئوں نے کوئی بلوہ کر دیا ہے۔ اب کسی کو امان نہیں اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آ رہا تھا کہ قانون جاننے والے اور لوگوں کو انصاف دلانے والے وکلا اس طرح پنجاب کارڈیالوجی پر ’’دن خون‘‘ ماریں گے۔ اسلام کے یہ ’’شاہین و مردان حق‘‘ نعرے لگاتے ہوئے کہ اب ڈاکٹروں کا بائی پاس
مزید پڑھیے


دسمبر اور کچھ یادیں

بدھ 11 دسمبر 2019ء
سعد الله شاہ
نہ جانے دسمبر میں کیا ہے کہ سب اسے محسوس کرتے ہیں۔ اب تو اس میں سردی بھی نہیں ہوتی۔ وگرنہ ایک زمانہ تھا کہ اس میں کورا پڑتا تھا، دانت بجتے تھے اور منہ سے دھوئیں نکلتے تھے۔ جب سے گلوبل وارمنگ ہوئی ہے موسم بدل گئے ہیں تو اس کا اثر دسمبر پر بھی پڑا ہے کہ وہ ٹھٹھرتی راتیں رخصت ہو گئی ہیں۔ مجھے بچپن یاد ہے کہ ہم دسمبر کے مہینے میں رات کو لحاف اوڑھ کر بیٹھتے اور گنے چوستے۔ بہن بھائیوں میں لمبا چھلکا اتارنے کا مقابلہ ہوتا۔ اب تو ہمارے بچوں کو گنڈیری
مزید پڑھیے


کرکٹ اور کوڑا کرکٹ

پیر 09 دسمبر 2019ء
سعد الله شاہ
خدا جانے کرکٹ میں اپنی ہار کا رونا کیوں رویا جا رہا ہے حالانکہ سب جانتے ہیں کہ جو کچھ ہوا ہے یہی کچھ ہونا تھا۔ آپ سوچیں گے کہ پھر اس پر میں کیوں خامہ فرسائی کر رہا ہوں۔ آپ بالکل درست سوچیں گے، اصل میں میری نظر ایک پوسٹ پر پڑی جس پر حسیب احمد حسیب نے کرکٹ کا مرثیہ بشکل مخمس لکھا ہے۔ مخمس پانچ مصروں والی ہیئت کو کہتے ہیں: شائق تھے پشیمان جو مغموم سے نکلے شکوہ نہیں بے جا دلِ مظلوم سے نکلے اپنے بھی کھلاڑی تھے جو معدوم سے نکلے اک نعرۂ
مزید پڑھیے


ایک تلخ و شیریں خود نوشت

هفته 07 دسمبر 2019ء
سعد الله شاہ
خوں جلایا ہے رات بھر میں نے لفظ بولے ہیں تب کتابوں سے سچ کہہ دینے میں کوئی حرج نہیں چاہے اس میں سبکی ہوتی ہو۔ پروین شاکر نے بھی تو کہا تھا’’بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی ’’کیا کریں اتنی کتابیں اور رسالے آتے ہیں کہ بعض کو کھولنے کی فرصت نہیں ہوتی۔ ایک دوتو کتابوں کے بنڈل آئے پڑے ہیں‘ روز سوچتا ہوں کم از کم بنڈل کھول کر کتب کے نام پر پڑھ لوں۔ کیا کریں’’عشق نے غالب نکما کر دیا‘ وگرنہ ہم بھی آدھی تھے کام کے‘‘۔ یہ بھی پرانی بات ہے اب تو یوں
مزید پڑھیے




آٹھ سے پانچ

جمعه 06 دسمبر 2019ء
سعد الله شاہ
جاگتی سی آنکھ سے کتنے خواب دیکھتے دشت پار کر گئے ہم سراب دیکھتے خوشبوئوں کے ساتھ ساتھ ہمسفر رہے تو پھر زخم زخم ہو گئے ہم گلاب دیکھتے یہ باغ و محراکا امتزاج بھی تو شاعرانہ ہے۔ کہیں زخمی ہاتھ اور کہیں آبلہ پائی، بس زندگی اسی کا نام ہے۔ وہ دور تھا جب ہم نے افق رنگ سنہرے دور میں قدم رکھا تھا، خواب ہماری آنکھوں پر دستک ہی نہیں دیتے تھے بلکہ آنکھوں کے راستے دل میں اتر آتے تھے۔ پھر وہ خواب سوچ بنے اور سوچ خیال بن کر شعروں میں ڈھلنے لگی۔ یہ وہ دور ہوتا ہے جب اشجار
مزید پڑھیے


خاں صاحب!کیا اس کی کسر باقی ہے

بدھ 04 دسمبر 2019ء
سعد الله شاہ
کہنے کو اک الف تھا مگر اب کھلا کہ وہ پہلا مکالمہ تھا مرا زندگی کے ساتھ اپنا تو اصل زر سے بھی نقصان بڑھ گیا سچ مچ کا عشق مر گیا اک دل لگی کے ساتھ کئی باتیں بہت دیرمیں جا کر کھلتی ہیں خاص طور پر جب انسان عنفوان شباب میں ہوتا ہے تو ہوا کا لمس بھی گدگداتا ہے۔ چندا ماموں ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ بادل اس کے لئے خوبصورت شکلوں میں ڈھلتے ہیں اور دھوپ چھائوں اس کی آنکھوں میں جھلملاتی ہے۔ رنگ استعارا بنتے ہیں اور خوشبو اشارا ۔ مگر پھر رفتہ رفتہ وہ بھی پھول کی نمی کی
مزید پڑھیے


کچھ دلچسپ اور صحت مند باتیں

منگل 03 دسمبر 2019ء
سعد الله شاہ
محفل تو بہت سنجیدہ تھی مگر بات زیادہ ہی دلچسپ ہو گئی۔ ہمارے پیارے دوست عبدالغفور نہایت سنجیدگی سے بتا رہے تھے کہ انہیں فلو ہو جائے تو جہاں گلا خراب ہو جاتا ہے وہیں ان کے ٹخنے اور پنڈلی میں درد شروع ہو جاتا ہے۔ اس بیان پر ہمیں لامحالہ ایک جھٹکا سا لگا کہ گلے کا ٹخنے سے کیا علاقہ یا سروکار۔ ان کی بات پر فوراً ہمارے دل میں امام دین گجراتی کا مصرع چٹکیاں لینے لگا کہ ’’میرے گوڈے میں دردِ جگر مام دینا‘‘ پھر مجھے ایک اور شخص یاد آیا جو ریگل چوک میں کتابیں
مزید پڑھیے


درویش منیر سیفی کی برسی

پیر 02 دسمبر 2019ء
سعد الله شاہ
یہ بات تو عام مشاہدے کی ہے کہ ثمر بار پیٹر اپنی ٹہنیوں کو جھکا دیتا ہے اور سایہ دار درخت اپنی بانہیں پھیلاتا ہے اور تناور درخت پرندوں کو بلاتے ہیں۔ ایک برگد کا درخت بھی ہوتا ہے جس کی بزرگی چھپائے نہیں چھپتی، وہ صدیوں کی کہانی کہتا ہے۔ پتہ نہیں مجھے تو اس پر صوفی اور درویش کا گمان ہوتا ہے۔ کچھ ایسا ہی خیال میرا منیر سیفی کے حوالے سے ہے۔ انہیں پہلی مرتبہ ایک مشاعرے میں دیکھا تو وہ ایک بابو تھے۔ کاٹ دار شعر سنا رہے تھے۔ پتہ چلا کہ وہ کراچی کے بینک
مزید پڑھیے


ایک اور ادبی سا کالم

اتوار 01 دسمبر 2019ء
سعد الله شاہ
صائب نے کیا خوب کہا تھا: صائب دو چیز می شکند قدرِ شعر را تحسینِ ناشناس و سکوتِ سخن شناس یعنی دو چیزیں شعر کی قدر کو کم کر دیتی ہیں کہ کوئی واقفِ فن نہ ہو اور شعر کی تحسین کر دے اور جو فن جانتا ہو وہ سن کر خاموش ہو جائے۔ یہ بڑی پتے کی بات ہے۔ ایک مرتبہ میر تقی میر افسردہ بیٹھے تھے، کسی نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے ’’آج مجھے ایک ایسے شخص نے داد دی ہے جو سب کو داد دیتا ہے‘‘۔ جرأت کے بارے میں ہے کہ انہیں مشاعروں میں بہت داد ملتی
مزید پڑھیے