BN

سعد الله شاہ



امید


واسطہ یوں رہا سرابوں سے آنکھ نکلی نہیںعذابوں سے میں اکیلا تھا اور تنہا تھا شہر لایا ہوں اک خرابوں سے میرے ذہن میں ایک عجیب خیال آیا کہ جو ہمسفر کا انتظار کرتے رہتے ہیں ان میں اعتماد کی کمی ہوتی ہے لیکن یہ بھی درست کہ کچھ راستے تنہا نہیں سمٹتے۔ مگر پہاڑوں کی چوٹیاں سر کرنے والے ایسا کب سوچتے ہیں۔ اصل میں مجھے آج وزیر اعظم عمران خاں کے بارے میں بہت ہی اہم بات کرنا ہے کہ کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ وہ ناکام ہو چکے ہیں۔ لیکن پہلے اپنی ایک یاد آپ کے ساتھ شیئر کرنی ہے
پیر 03 فروری 2020ء

اردو میں خط و کتابت‘ ایک اچھا فیصلہ

اتوار 02 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
خواب کمخواب کا احساس کہاں رکھیں گے اے گل صبح تری باس کہاں رکھیں گے پہلے پھولوں سے لدے رہتے ہیں جو راہوں میں ہم وہ چاہت کے املتاس کہاں رکھیں گے کراچی سے آئے ہوئے ایک شاعر نے کہا کہ اردو کا اصل ذائقہ تو پنجاب میں آ کر چکھا ہے کیا اعلیٰ زبان پنجاب میں لکھی جا رہی ہے۔ بات کرنے کا مقصد جو تھا وہ تو تھا مگر ایک متعلقہ خوشخبری نے ہمیں حکومت کو داد تحسین دینے اور ایک سب سے اہم قومی مسئلہ کی طرف متوجہ کر دیا۔ فاطمہ قمر نے بتایا کہ سحر انگیز خبر ہے کہ حکومت
مزید پڑھیے


حوروں والا ٹیکہ اور غریب

جمعه 31 جنوری 2020ء
سعد الله شاہ
حوروں کا تذکرہ ہو تو کس کے کان کھڑے نہیں ہوئے‘ عمران خان نے حوروں والے ٹیکے کا ذکر کر کے لوگوں کے لئے اچھا خاصہ مسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔ اصل واقعہ یوں ہوا کہ جب خان صاحب لفٹ سے گرے تھے تو ان کی ہڈیاں ٹوٹ گئی تھیں۔ بقول خان صاحب ڈاکٹر عاصم نے ان کو پتہ نہیں کون ساٹیکہ لگایا کہ انہیں نرسیں حوریں نظر آنے لگیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ٹیکے کے اثر سے باہر آنے کے بعد انہوں نے خواہش کی کہ وہی ٹیکہ انہیں پھر لگایا جائے مگر ڈاکٹر عاصم نے انکار کر
مزید پڑھیے


دو لخت کالم……

بدھ 29 جنوری 2020ء
سعد الله شاہ
دو کوئی دیکھے ذرا بارشوں کا اثر، اشک تھمتے نہیں جب مسلسل برستے ہیں گیلے شجر اشک تھمتے نہیں بارانِ رحمت مسلسل برس رہی ہے۔ سرما کی بارش نہ صرف منظروں کو گیلا کرتی ہے بلکہ ٹھنڈا ٹھار بھی کر دیتی ہے۔ پھر پیڑ کے سامنے بیٹھ کر گرما گرم چائے پینے کا اپنا ہی لطف ہے،چائے سے زیادہ مجھے اس میں اٹھنے والی بھاپ اچھی لگتی ہے کہ اس میں ایک عجب سحر ہے۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے پاس ’’بارش‘‘ پانچواں موسم ہے اور اصل میں تو یہ جولائی اگست میں آئے گا۔ نہ جانے اس موسم میں مجھے
مزید پڑھیے


گُلِ خیال کی مہک

منگل 28 جنوری 2020ء
سعد الله شاہ
مجھ ساکوئی جہاں میں نادان بھی نہ ہو کر کے جو عشق کہتا ہے نقصان بھی نہ ہو خوابوں سی دل نواز حقیقت نہیں کوئی یہ بھی نہ ہو تو درد کا درمان بھی نہ ہو انسان سو دو زیاں سے نکل جائے توسارے معاملات حل ہو جاتے ہیں مگر اس جہان رنگ و بو میں ایسا ممکن نہیں۔ ثابت قدم رہنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو صرف ایک آنچ کی کسر رہ جاتی ہے‘ کوئی کندن بنتے بنتے رہ جاتا ہے۔ ڈاکٹر خضر یاسین نے ایک شخصیت کی جانب میری توجہ مبذول کروائی تو میں نے کہا کہ یہ کیسی بدقسمتی
مزید پڑھیے




خوشبو دے وس وچ نہیں ہوندا

پیر 27 جنوری 2020ء
سعد الله شاہ
عدیم نے کہا تھا: غم کی دکان کھول کے بیٹھا ہوا تھا میں آنسو نکل پڑے ہیں خریدار دیکھ کر میں نے پچھلے کالم ’’جو کچھ ہو رہا ہے‘‘ میں حالات حاضرہ کو آئینہ کیا تو اس کا فیڈ بیک دیکھ کر حیران ہو گیا لوگ موجودہ صورت حال سے کس قدر تلخائے اور اکتائے بھی ہوئے ہیں۔ زخمائے ہوئے کا کافیہ بھی چل سکتا ہے۔ بے چارے ایک پریشانی سے سر اٹھاتے ہیں کہ دوسری سر آن پڑتی ہے۔ میسر ہوتا تو شہر آشوب لکھتا۔غالب ہوتا تو نوحہ کہتا اور فیض ہوتا تو وہ یقینا چپ ہی رہتا کہ کم گو تھا۔
مزید پڑھیے


وہ جو ہو رہا ہے

هفته 25 جنوری 2020ء
سعد الله شاہ
لوٹ مار اور چور بازاری اور کسے کہتے ہیں! گیس کا بل میرے سامنے ہے۔ توبہ توبہ 7000سات ہزار روپے کا بل اتنا تو سالانہ بل بھی نہیں ہوتا تھا۔ میں کافی دیر تک اسے گھورتا رہا۔900روپے اس میں سیل چارجز ہیں، بقایا جات میں 400روپے دیکھ کر حیرت کیوں نہ ہو کہ پچھلے ماہ تو پورا بل ادا کیا تو پھر یہ بقایا جات کہاں سے آ گئے۔ سوشل میڈیا پر پی ٹی وی فیس اچانک 34روپے سے بڑھا کر 100روپے کرنے کا رونا رویا جا رہا ہے: اک بات کا رونا ہو تو رو کر صبر آئے ہر بات پہ
مزید پڑھیے


ارتکاز

جمعه 24 جنوری 2020ء
سعد الله شاہ
یہ اپنی حد سے نکل کر حدود ڈھونڈتی ہے کہ خاک بار دگر بھی قیود ڈھونڈتی ہے یہ میرے شعر نہیں ہیں ترا سراپا ہے کہ خوبصورتی اپنی نمود ڈھونڈتی ہے ’’خاک کی چٹکی کو بھی آ گئی پرواز ہے کیا‘‘جو بھی ہے انسان حدود و قیود کے اندر جکڑا ہوا ہے۔ یا یوں کہہ لیں کہ اسے قدرت نے اس کی اوقات میں رکھا ہے۔ یہ ذوق اور مذاق کی بات ہے بندہ اس بے بسی سے بھی لطف اندوز ہو۔ بات بکھرنے سے پہلے ہی سمیٹ لی جائے کہ میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ انسان کو اپنی حد میں رہنا چاہیے
مزید پڑھیے


تری زلفوں کا سونا کیا کروں میں

منگل 21 جنوری 2020ء
سعد الله شاہ
کہتے ہیں ایک دانشور بادشاہ کے لئے تقریر لکھا کرتا تھا ایک روز بادشاہ کی تقریر میں ایک مختصر سا جملہ لکھا ہوا دیکھا گیا کہ ’’آٹا ندارد‘‘ یعنی آٹا نہیں ہے۔ بادشاہ بھی تب سمجھدار ہوا کرتے تھے۔ بادشاہ نے پتہ چلوایا تو حقیقت کھلی کہ اس دانشور نے بے خیالی میں گھر کی صورت حال دو لفظوں میں لکھ دی۔ بادشاہ نے اس کے گھر گندم بھجوائی اور انعام و اکرام ۔ ادھر تو ساری عوام ہی چیخ رہی ہے کہ آٹا ندارد کوئی بندوبست کرنے کی بجائے بادشاہ کے سارے رتن مسخریاں کر رہے ہیں۔ آٹے سے
مزید پڑھیے


صحت کی صورت حال اور ابّا

اتوار 19 جنوری 2020ء
سعد الله شاہ
سخت مشکل تھی مگر نام خدا سے پہلے رکھ دیے ایک طرف میں نے سہارے سارے آج میرا دل چاہا کہ میں آپ کے ساتھ نہایت ہی دلچسپ معلومات شیئر کروں تجربہ بتاتا ہے کہ ایک اچھا ڈاکٹر آپ کو کئی برے ڈاکٹروں سے بچا دیتا ہے مگر اس ڈاکٹر کو آپ اپنا دوست رکھتے ہوں ۔تو جب علی الصبح میں سیر کو نکلا تو معروف عالم دین اور دانشور ڈاکٹر خضر یاسین مل گئے وہ برہان احمد فاروقی کے شاگرد خاص تھے۔ مجھ سے والد گرامی کی علالت کے بارے میں پوچھنے لگے تو میں نے کہا کہ چھوٹا بھائی احسان
مزید پڑھیے