BN

سعد الله شاہ



مطافِ حرف


طبیعت ناساز تھی زاہد محمود کا اصرار کہ تقریب میں بطور مہمان مجھے شرکت کرنا ہے۔ میں نے بہت معذرت کی مگر ہائے یہ محبت کرنے والے کیسے ہوتے ہیں! کہنے لگا’’اگر آپ نہ آئے تو میں رو دوں گا‘‘ نہ جانے کا ہر جواز اس نے اڑا کر رکھ دیا۔ پیارے دوست فرخ محمود کو ساتھ لیا اور تقریب میں پہنچا۔ ندیم رائو بھی ہمراہ تھے۔ یہ تو وہاں جا کر کھلا کہ یہ تو مقصود علی شاہ کے نعتیہ مجموعہ’’مطافِ حرف‘‘ کی تقریب پذیرائی ہے سٹیج پر روشن ستارے جلوہ گر تھے۔ ایک دم احساس جاگا کہ یہاں
بدھ 10 جولائی 2019ء

کچھ مزے کی باتیں اور بابر اعظم

اتوار 07 جولائی 2019ء
سعد الله شاہ
وہ کچھ سنتا تو میں کہتا مجھے کچھ اور کہنا تھا وہ پل بھر کو جو رک جاتا مجھے کچھ اور کہنا تھا غلط فہمی نے باتوں کو بڑھا ڈالا یونہی ورنہ کہا کچھ تھا ،وہ کچھ سمجھا مجھے کچھ اور کہنا تھا وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا کہ بعض اوقات طنز اور تشنیع اتنی بلیغ ہوتی ہے کہ سمجھ میں نہیں آتی۔ پھر کیا ہوتا ہے لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ خود پر غصہ آتا ہے کہ ابلاغ نہیں کر سکے۔ اب اس کا کیا شکوہ کہ دوسری طرف سے بات قبول ہی نہیں کی گئی۔ کئی دوستوں نے میرے
مزید پڑھیے


بام روشن ہیں ماہتاب کے ساتھ

هفته 06 جولائی 2019ء
سعد الله شاہ
نہ کوئی شک ہے باقی نہ ستارا کوئی اے مرے یار مرے دل کو سہارا کوئی تم سے وابستہ کیا ہم نے امیدوں کا جہاں جز تمنا نہ رہا اور ہمارا کوئی پر جائیں تو جائیں کہاں کہ تمنا کا دوسرا قدم بھی تو نہیں ہوتا۔ اس وقت تو ورلڈ کپ کا ہنگام ہے مگر کیا کریں کہ ہماری امیدیں اور تمنائیں ماند ہی نہیں پڑیں۔ بلکہ ان پر مردنی سی چھا گئی ہے۔ کس کس کے لئے ہم نے جیتنے کی دعائیں نہیں کیں اور یہ کوئی ترک عشق کی بھی دعا نہیں تھی کہ حالی کی طرح کوئی کہتا کہ ’’دل چاہتا
مزید پڑھیے


گفتنی باتیں

جمعرات 04 جولائی 2019ء
سعد الله شاہ
نہ جانے مجھے آج کیوں یادآیا کہ نصرت علی خاں نے مجھے پاس بٹھا کر میری ایک غزل کمپوز کی تھی جس کا ٹریک حاجی اقبال نقیبی کے پاس ہو گا: اگرچہ غم بھی ضروری ہے زندگی کے لئے مگر یہ کیا کہ ترستے رہیں خوشی کے لئے وہ مجھ کو چھوڑ گیا تو مجھے یقین آیا کوئی بھی شخص ضروری نہیں کسی کے لئے اب بتائیے اس غزل کا تعلق مہنگائی سے کیسے جڑ سکتا ہے۔ بس ایسے ہی ذہن میں غیر متعلقہ شعر گھس آتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ پہلے شعر یعنی مطلع کا تعلق گرانی سے بنتا ہو۔ واقعتاً کہ موجودہ
مزید پڑھیے


خالد جامی سے مکالمہ

منگل 02 جولائی 2019ء
سعد الله شاہ
کارِ فرہاد سے یہ کم تو نہیں جو ہم نے آنکھ سے دل کی طرف موڑ دیا پانی کو تو رُکے یا نہ رُکے فیصلہ تجھ پر چھوڑا دل نے در کھول دیئے ہیں تری آسانی کو اس سے پہلے کہ دل کے در کھولے جائیں ایک چھوٹی سی بات مجھے کہنی ہے کہ اس طرح ایک اینکر اپنے پروگرام میں بھی کرتے آئے ہیں۔ نادرا کے دفتر کے باہر ایک فوٹو کاپی کرنے والا کھڑا۔ اس سے میں نے شناختی کارڈ کی چار کاپیاں کروائیں تو اسے بیس روپے ادا کرنا تھے۔ اس کے پاس پانچ سو روپے کھلے نہیں تھے۔ مجبوراً اس
مزید پڑھیے




ورلڈ کپ کا سب سے سنسنی خیز مقابلہ

پیر 01 جولائی 2019ء
سعد الله شاہ
بات کرتے ہوئے بے ربط ہوا وہ اکثر اس کی نفرت میں محبت کے بھی پہلو آئے میں نے تو اڑتے پرندوں سے سبق سیکھا ہے کام آئے تو فقط اپنے ہی بازو آئے یہ محبت اور سعی کی داستان کھولنے سے پہلے پاک افغان کرکٹ میچ کی بات کرنا ہو گی۔ یہ میچ کیا تھا اچھی خاصی ٹینشن تھی۔ آپ یقین مانیے کہ اس میچ نے آخر تک ہمیں سولی پر لٹکائے رکھا۔ بعض جگہ تو سانس رُک رک گئی کہ اگر ہارے تو داغ نہیں زخم لگے گا۔ ایک دھڑکا یہ بھی تھا کہ ہم ورلڈ کپ کے وارم اپ میچ میں
مزید پڑھیے


کرکٹ میں کامرانی و سرفرازی

جمعه 28 جون 2019ء
سعد الله شاہ
اس نے پوچھا جناب کیسے ہو اس خوشی کا حساب کیسے ہو بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ قدرت فرحت و انبساط ارزاں کر دیتی ہے اور انسان نہال اور خوشی سے مالا مال ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ انفرادی سطح پر ہوتا ہے اور بعض مرتبہ اجتماعی سطح پر یہ عمل چشمہ پھوٹنے ‘ جھرنا گرنے یا صباکے جلنے کی طرح ہوتا ہے‘ بہت بے ساختہ کسی کی پہلی مسکراہٹ کی طرح کہ چہرے پر حیا کی سرخی پھیل جائے۔ شاید میں نے اپنی بات کو کچھ زیادہ ہی رومانٹک کر دیا ہے۔ اصل میں ‘میں خوش ہی اتنا ہوں
مزید پڑھیے


بلاول کی تقریر اور سیاسی منظر نامہ

منگل 25 جون 2019ء
سعد الله شاہ
سحر کے ساتھ ہی سورج کا ہمرکاب ہوا جو اپنے آپ سے نکلا وہ کامیاب ہوا میں جاگتا رہا اک خواب دیکھ کر برسوں پھر اس کے بعد مرا جاگنا بھی خواب ہوا بے نظیر کی 66ویں سالگرہ پر بلاول نے کیا خوب تقریر کی کہ میں نے بڑے اشتیاق سے پوری کی پوری سنی۔ یہ تقریر ہرگز دلچسپی سے خالی نہیں تھی۔ اب وہ تقریر کرنا سیکھ گیا ہے اور انداز اس کا اپنا ہے ایک مرتبہ تو اس نے مہنگائی کے حوالے سے ایک جملہ یوں ادا کیا کہ مفہوم نکل رہا تھا کہ آسمان مہنگائی سے بات کر رہا ہے ۔ویسے
مزید پڑھیے


مولانا روم اور کیمیائے سعادت

اتوار 23 جون 2019ء
سعد الله شاہ
مولانا روم پر انہیں تخصیص حاصل ہے۔ اس دن بھی وہ مولانا روم کے حوالے سے بات کرتے رہے کہ ان کی تعلیمات کا نچوڑ یکجہتی اتحاد اور یگانگت ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے نہایت دلچسپ بات بتائی کہ جب مولانا قونیہ میں قیام پذیر ہوئے تو شہرت چاروں وانگ پہنچی۔ وہاں کوئی مولانا سراج الدین تھے۔ انہوں نے اپنے ایک شاگرد کو مولانا روم کے حوالے سے معلومات لینے کے لئے ان کے پاس بھیجا کہ پتہ تو کر کے آئو کہ مولانا روم 72فرقوں سے متفق ہیں۔ وہ شاگرد مولانا کے پاس پہنچا اور مکالمہ کیا کہ
مزید پڑھیے


اسلامی کہکشاں کا ستارا

جمعه 21 جون 2019ء
سعد الله شاہ
کوئی جگنو ہے کہیں پر نہ ستارا کوئی شب تیرہ کے گزرنے کا اشارہ کوئی اک محبت ہے کہ شرمندہ آداب نہیں اس کے پیچھے کوئی مکتب نہ ادارہ کوئی اس وقت صورت حال کو بیان کرنے کی بھی ضرورت نہیں کہ سب کچھ خود ہی آئینہ ہوتا دکھائی دیتا ہے اور پھر بقول خدائے سخن کے’آنکھ ہو تو آئینہ خانہ ہے دہرمنہ نظر آتے ہیں دیواروں کے بیچ‘ کچھ کھل نہیں رہا۔ عقدہ کشائی کرنے والے کچھ اور گانٹھیں ڈال بیٹھے ہیں یا پھر’’مٹ گیا کھلنے میں اس عقدہ کا وا ہو جانا۔ یہ قتل و غارت بھی نہ جانے کہاں رکے گی
مزید پڑھیے