BN

سعد الله شاہ



اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہے


یدِ موسیٰ ؑ جلا کر راکھ کرتا ہے بُزِ اخفش جسے ساحر بناتے ہیں انہیں دست براہیمی گراتا ہے جو بت ہر دور میں آزر بناتے ہیں آپ ذرا ان مندربالا اشعار کے مزاحمتی اور انقلابی تیور دیکھیں شاعر کا نام بتانے سے پیشتر آپ کو دلچسپ بات بتائوں کہ ایک نعرہ ہم کالج کے زمانے سے سنتے آئے تھے۔ وہ تھا’’ہم نہیں مانتے ظلم کے ضابطے‘‘ زبان زد خاص و عام پہ مصرع اسی طرح مشہور ہوا جیسے محسن نقوی مرحوم کا لگایا ہوا نعرہ ’’یااللہ یا رسول‘ بے نظیر بے قصور‘‘ حالانکہ اس میں قافیہ بھی ناپید ہے، پھر بھی یار لوگ
اتوار 29  ستمبر 2019ء

5من مینڈکوں کی حقیقت

هفته 28  ستمبر 2019ء
سعد الله شاہ
رائی سے پہاڑ اور بات سے بتنگڑ بنانا کوئی ہم سے سیکھے ۔ بھنے ہوئے تیتر اڑانا ہمارا مشغلہ ٹھہرا۔ مینڈکوں کا مسئلہ اٹھا اور کسی منچلے نے ایسے ہی کسی چیتھڑا اخبار میں سرخی جما دی کہ لاہور میں 5من مینڈک پکڑے گئے اس کے بعداس کی ضمنی سرخیاں تو لگنا ہی تھیں کہ یہ مینڈک لاہور کے بڑے بڑے ہوٹلوں میں سپلائی ہونے جا رہے تھے۔ مزید یہ کہ غالباً یہ گوشت پیزہ‘ شوارما اور برگرز میں استعمال ہونا ہو گا، بغیر تحقیق کے ہم نے دیکھا کہ پورے سوشل میڈیا پر ٹر ٹر ہونے لگی۔ ایسے ہی
مزید پڑھیے


ختم تفسیر قرآن

بدھ 25  ستمبر 2019ء
سعد الله شاہ
ڈاکٹر ناصر قریشی نے بہت اچھی بات کی کہ ایک استاد نے شاگردوں سے پوچھا کہ یقین اور شک میں کیا فرق ہے۔ ایک شاگرد نے اٹھ کر کہا’’سر :جو آپ نے ہمیں پڑھایا ہے اس کا ہمیں یقین ہے کہ آپ نے درست پڑھایا اور جو ہم نے پڑھا اس میں ہمیں شک ہے کہ ٹھیک سمجھ سکے یا نہیں۔ یہ بات ایک مقدس اور مطہر محفل میں ہو رہی تھی جو ختم تفسیر قرآن کے سلسلہ میں مرغزار کالونی کے خدیجتہ الکبریٰ پارک میں منعقدہوئی جس میں ہمارے محترم و مکرم حمید حسین صاحب نے تفسیر قرآن کااختتام
مزید پڑھیے


لمحہ لمحہ کرچیاں

اتوار 22  ستمبر 2019ء
سعد الله شاہ
بڑھا دیتی ہیںعمروں کو نہ جانے یہ کتابیں کیوں میں چھوٹا تھا مگر سر پر کئی صدیوں کا سایہ تھا یہ ایک احساس ہے جو کبھی مجھے تھا کہ جب مجھ سے کتابیں باتیں کرتی تھیں اور پھر ایک اور طرح کا احساس کہ راز منکشف ہونے لگا’’خوں جلایا ہے رات بھر میں نے۔ لفظ بولے ہیں تب کتابوں سے‘‘ اب سچ یہ ہے کہ نہ وہ دن رہے نہ وہ فراغت کہ کتاب کا لمس اور کاغذ کی خوشبو مدہوش کر دے ۔مجھے یاد ہے کہ تب اتنی کتابیں گھر میں جمع ہوگیں کہ جب ہمیں مکان بدلنا پڑا تو ٹرک
مزید پڑھیے


کشمیر مشاعرہ اور کشمیریوںکا دُکھ

هفته 21  ستمبر 2019ء
سعد الله شاہ
کیوں نہیں دیکھتا قبروں کے نشاں سے آگے اک جہاں اور بھی ہے تیرے جہاں سے آگے تجھ کو معلوم نہیں فرض ہے تجھ پر بھی جہاد اور تو نکلا نہیں لفظ و بیاں سے آگے اصل میں یہ دو اشعار میرے اس نوحہ کے ہیں جو میں نے کشمیر کے ضمن میں ہونے والے مشاعرہ کے لئے کہے جو عارف چودھری نے نجیب احمد کی صدارت میں الحمرا ادبی بیٹھک میں منعقد کیا۔ میری سرخوشی یہ کہ ادیبوں اور شاعروں میں اپنے کشمیری بھائیوں کے لئے ایک احساس درد جاگا اور انہوں نے اپنے فکرو فن کے ذریعہ اس قلمی جہاد میں شرکت
مزید پڑھیے




نابغہ عصر مولانا طاہر القادری

جمعه 20  ستمبر 2019ء
سعد الله شاہ
میرے سخن آشنا دوست یقینا اس بات کو محسوس نہیں کریں گے اور نہ مجھے گردن زدنی قرار دیں گے کہ اگر میں مولانا طاہر القادری کے ضمن میں خدائے سخن میرؔ کا شعر درج کر دوں: مت سہل ہیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں تب خاک کے پردے سے انسان نکلتا ہے میں علامہ طاہر القادری کے بارے میں ان کی سیاست سے ریٹائرمنٹ پر کالم لکھنا چاہتا تھا مگر مجھے اندیشہ تھا کہ کالم چھپنے تک ان کے مداحین ان کو ریٹائرمنٹ واپس لینے پر مجبور نہ کر دیں۔ شاید یہی اندیشہ یا ڈر دوسرے لکھنے والوں کوبھی ہو کہ اس
مزید پڑھیے


حلقہ ارباب ذوق کی محفل سلام

منگل 17  ستمبر 2019ء
سعد الله شاہ
تذکرہ تو مجھے کرنا ہے سلام کی ایک محفل کا کہ جسے ادبی دنیا کے سب سے بڑے پلیٹ فارم حلقہ ارباب ذوق کے پلیٹ فارم سے پیش کیا گیا جس کے روح رواں علی نواز شاہ ہیں جو افسر بھی اور ادیب ہیں پھر ہر دو حوالے سے خوبصورت نظامت اس متبرک محفل کی اعجاز رضوی نے کی اور صدارت کا اعزاز مجھے بخشا گیا‘ شاید اس لئے کہ میں ابھی ابھی فریضہ حج ادا کر کے آیا ہوں۔ وگرنہ صدارت سے بہت ہی سینئر ہو جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ خیر ہم اپنی محفل کی بات تو کریں
مزید پڑھیے


مہنگائی سے رسوائی تک

پیر 16  ستمبر 2019ء
سعد الله شاہ
ان دنوں گھسے پٹے لطیفے بھی کیسے نئے اور تازہ لگنے لگے ہیں۔ ایک شخص نیکر پہن کر بیری سے بیر اتار رہا تھا۔ کسی نے پوچھا ’’جناب! کیا ہو رہا ہے‘‘ بولے زندگی میں دو ہی کام کیے ہیں ‘ اچھا پہننا اور اچھا کھانا‘‘ بیر کو چھوڑیے اب تو کھیرے کی اہمیت کس قدر بڑھ گئی ہے۔ حالانکہ ایک مرتبہ ایک شخص نے کھیرا پھانکوں میں کاٹ کر پاس بیٹھے ہوئے لوگوں میں بانٹ دیا اور خود آرام سے ایک طرف ہو کر بیٹھ گیا۔ ایک دوست نے کہا ’’یار تم خود کھیرا کیوں نہیں کھا رہے؟‘‘ اس
مزید پڑھیے


بلاول‘ کراچی اور قبضہ

هفته 14  ستمبر 2019ء
سعد الله شاہ
بھادوں کا مہینہ ختم ہونے کو آیا مگر حبس ابھی تک ہے مگر اتنا نہیں کہ مصرع پڑھنا پڑے کہ ’’وہ حبس تھا کہ لُو کی دعا مانگتے تھے لوگ’’ملکی حالات بھی کچھ ایسے ہی دگرگوں ہیں کہ کچھ پتہ نہیں چل رہا۔مہنگائی سب کو پسپا کر رہی ہے اس گھٹن اور بے چینی میں بھی سوشل میڈیا پر کوئی نہ کوئی پوسٹ ایسی ہوتی ہے کہ گدگدی کر کے ہمیں مسکرانے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ان مزاحیہ پوسٹوں کے ساتھ مجھے بلاول کا حالیہ بیان کیوں ملتا جلتا ہوا محسوس ہوا کہ جس میں انہوں نے اسلام آباد
مزید پڑھیے


کیا پولیس کی اصلاح ممکن ہے

اتوار 08  ستمبر 2019ء
سعد الله شاہ
مزاج کی دنیا کے نامور اداکار امان اللہ نے ایک مزیدار بات سنائی کہ اس کے گھر چور آ گئے تو اس نے کلاشنکوف اٹھا لی۔ یہ دیکھ کر چور فوراً فرار ہو گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد پولیس اس کے گھر گھس آئی اور ناجائز اسلحہ طلب کیا کہ اس نے گھر میں بغیر لائسنس کلاشنکوف رکھ چھوڑی ہے۔ امان اللہ نے دست بستہ عرض کیا کہ مہاراج وہ تو بچوں کا کھلونا ہے یہ تو اس نے ایک کھیل کھیلا اور اسے چوروں پر تان لیا۔ پولیس نے اس کھلونا کلاشنکوف کا جائزہ لیا اورچلتی بنی پھر کچھ
مزید پڑھیے