BN

سعد الله شاہ


حالیہ منظر نامے کے کچھ دلچسپ پہلو


تمہارے ساتھ رہنا ہے مگر ایسے نہیں رہنا تمہیں گر کچھ نہیں سننا ہمیں بھی کچھ نہیں کہنا بھولا بسرا شعر عمران خاں کے اس بیان پر یاد آیا کہ کورونا کے ساتھ ہی رہنا پڑے گا۔ مئی کا وسط مشکل وقت‘ سمارٹ لاک ڈائون کی طرف جانا ہو گا‘ کیا کیا جا سکتا ہے دنیا کی تاریخ بدل رہی ہے بلکہ یوں کہیں کہ کوئی تاریخ بدل رہا ہے۔ یہ تو خیر انہوں نے حوصلہ افزا بات کی کہ بحران سے نکلنے کے بعد پاکستانی تیزی سے اوپر جائے گا۔ شاید ایسے ہی جیسے سیلاب کے بعد زمینیں زیادہ ذرخیز ہو
هفته 25 اپریل 2020ء

پرندوں کی دنیا اور ہم

جمعه 24 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
ترے اثر سے نکلنے کے سو وسیلے کیے مگر وہ نین کہ تونے تھے جو نشیلے کئے ادھر تھا جھیل سی آنکھوں میں آسمان کا رنگ ادھر خیال نے پنچھی تمام نیلے کیے لاک ڈائون کے دنوں میں علی الصبح سیر کو نکلتا ہوں تو پہلا تعارف پرندوں سے ہوتا ہے صبح کاذب کے جب روشنی سپیرے کی صورت اترتی ہے تو پرندے کی صدا کانوں میں پڑتی ہے۔ شاید چڑیا پہلے بولتی ہے یا کوئی اور پرندا ‘ بہرحال پرندوں کی آوازیں شامل ہوتی جاتی ہیں حتیٰ کہ کوا بھی آن دھمکتا ہے جب صبح سانس لیتی ہے تو سبزہ و پیڑ پودے
مزید پڑھیے


اقبال کا مقام اور کلام اقبالؔ میں مقامات

جمعرات 23 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساتھی ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی عشق کی تیخ جگردار اڑا لی کس نے علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی شعر ثانی پہ قربان ہونے کو دل چاہتا ہے کہ دو مصرعوں میں حکیم الامت نے مسلمانوں کا المیہ بیان کر دیا۔ اس شعر میں وہی روح ہے جس کو ختم کرنے کے لئے انگریز نے کیا کیا جتن نہ کئے۔ اسی کے پس منظر میں وہ مصرع ہے جسے شیطان کی زبان سے اس کی شوریٰ میں کہلوایا ’’روح محمد اس کے بدن سے نکال دو‘‘اسی مقصد کے
مزید پڑھیے


دانش اور دلیل

منگل 21 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
اس پر ہمارا یقین ہی نہیں‘ ہمارا عقیدہ ہے کہ سب کچھ من جانب اللہ ہے۔ یقین کی اس پختگی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ میرا دین دانش اور دلیل کو نہیں مانتا اور کسی غیبی مدد کا منتظر رہتا ہے۔ میں یہ بات پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ توکل کے ساتھ تدبیر کا ہمیں حکم ہے اگر دعا ہے تو دوا بھی سنت ہے۔ دنیائے اسباب میں مدد بھی اسباب سے آتی ہے۔ صفائی اور ستھرائی آدھا ایمان ہے تو اس حکمت کے پس پردہ بچائو کی تدبیر بھی ہے آپ اسے احتیاط کہہ لیں۔ میرا خیال
مزید پڑھیے


چراغوں کو جلانے والے

اتوار 19 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
میں نے بچپن دیا بڑھاپے کو کتنا مہنگا پڑا جواں ہونا آنکھ کشتی ہے وقت پانی ہے دل پہ لکھا ہے بادباں ہونا ثانی شعر سے میری خوشگوار یاد وابستہ ہے کہ ایک تقریب کے آغاز سے پیشتر غیر رسمی گفتگو میں بانو قدسیہ مجھ سے مخاطب ہوئیں اور کہنے لگیں کہ مندرجہ بالا شعر بہت اچھا ہے۔ بچپن و بڑھاپے والا شعر میں نے ایک زندہ اور مجسم کردار کے حوالے سے لکھا ہے کہ جو اس خیال کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ وہ اس وقت 88برس کو پہنچ گئے ہیں چہرے پر نورانیت بشاشت اور تازگی اسی طرح قائم ہے۔جب پاکستان بنا
مزید پڑھیے



ایسا نہ ہو کہ درد بنے درد لادوا

هفته 18 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
مجھ پہ کیچڑ نہ اچھالے مرے دشمن سے کہو اپنی دستار سنبھالے مرے دشمن سے کہو وہ عدو مرا ہے اس کو یہ ذرا دھیاں رہے اپنا قد کاٹھ نکالے مرے دشمن سے کہو اس سے پہلے کہ میں اشعار کی اپنے موضوع کے ساتھ مناسبت کی بات کروں، میں کرشن چندر کے ایک افسانے کی بات کروں گا کہ جس میں دو ڈرائیور بسوں کی دوڑ لگاتے ہیں یہ تجربہ آپ سب اپنی زندگیوں میں یقینا کر چکے ہونگے کہ ڈرائیور ایک ہی سائیکی رکھتے ہیں کہ دوسرا آگے نہ نکل جائے۔ اس افسانے میں بھی دو ڈرائیور اپنی اپنی بس کو سپیڈاپ
مزید پڑھیے


کرو مہربانی تم اہل زمیں پر

جمعرات 16 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
رنجش کار زیاں دربدری تنہائی اور دشمن بھی خفا تیرے گنہگار کے ساتھ برلب ناز گل حرف دعا میرے لئے اے فلک دیکھ مجھے چشم گہر بار کے ساتھ تنہائی کا کیا تذکرہ، کہ ہر شخص ہی آج کل تنہا تنہا ہے۔ بات کامیں آغاز کروں گا نہایت دلچسپ واقعہ ہے کہ آپ کو پسند بھی آئے گا اور ہو سکتا ہے آپ اس کو مشورہ سمجھ کر اس پر عمل پیرا بھی ہو جائیں۔ دنیا ہم پر جب مہربان ہوتی ہے تو ایسے ہی نہیں، کچھ نہ کچھ پس پردہ ان کے عزائم ہوتے ہیں کوئی ایجنڈا ہوتا ہے ہمیں پتہ تب چلتا
مزید پڑھیے


کچھ گپ شپ اور کچھ صحت کی باتیں

بدھ 15 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
ساری دنیا سے مرا زرہ جمال اچھا ہے صرف اچھا ہی نہیں ہے و کمال اچھا ہے کتنا دشوار ہے لوگو سے فسانہ کہنا کس قدر سہل ہے کہہ دینا کہ حال اچھا ہے غالب کی زمین میں فضل اگانا کوئی آسان نہیں۔ مگر مزہ بھی تو کاردشوار میں آتا ہے۔ ان دنوں اور کام بھی تو نہیں ۔ اخباریں پڑھنا‘ فیس بک پر آنکھیں تھکانا اور چائے پینا تو روٹین کے کام ہو گئے۔ ہلکی پھلکی شوگر کی شکایت کے باعث صبح کی سیر کو بھی معمول بنا لیا ہے یوں کہیں کہ ایک اور بلا گلے ڈال لی ہے۔ شوگر ویسے نفسیاتی
مزید پڑھیے


احساس کفالت۔ حق بحقدار رسید

اتوار 12 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
واسطہ یوں رہا سرابوں سے آنکھ نکلی نہیں عذابوں سے میں نے انساں سے رابطہ رکھا میں نے سیکھا نہیں نصابوں سے لوگ بھی بڑے بزلہ سنج اور ستم ظریف ہیں‘ عجیب طرح کی پوسٹیں لگاتے ہیں۔ایک لکھتا ہے کہ آپ حکومت کی کورونا کے حوالے سے دل کھول کر مدد کریں۔ دیے گئے اکائونٹ نمبر میںپیسے بھیجیں۔ آپ سے ہرگز نہیں پوچھا جائے گا کہ پیسے کدھر سے آئے اور کیسے آئے۔ مزید یہ کہ یہ بھی نہیں بتایا جائے گا کہ پیسے کدھر گئے‘‘ ایک اور صاحب لکھتے ہیں کہ آپ کو مدد ملے یا نہ ملے مگر ہر SMSپر آپ کے
مزید پڑھیے


بڑے لوگ نہیں یہ بُرے لوگ ہیں

جمعرات 09 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
اپنا تو اصل زر سے بھی نقصان بڑھ گیا سچ مچ کا عشق مر گیا اک دل لگی کے ساتھ ہمارے دوست امجد عباس مرزا نے پوسٹ لگائی ’’جعلی سینی ٹائزر بنانے والے زندہ باد۔ یہ تو موت سے بھی نہیں ڈرتے‘‘ یقینا یہ ایک المیہ ہے کہ جب دل سیاہ ہو جائیں۔ یہ عاقبت نااندیش مرزا صاحب کی طنز کو بھی کیا سمجھیں گے۔ سچ مچ یہ لوگ موت سے نہیں ڈرتے کہ شاید ہنوز دلی دور است والا معاملہ ہے۔ یہ لوگ جو ملاوٹ کرتے ہیں اور زندگی بچانے والی جعلی ادویات تیار کرتے ہیں انہیں موت کب یاد ہے۔
مزید پڑھیے