Common frontend top

سعد الله شاہ


آئی پی پیز اور ہاتھ بیچنے والے


محفل سے اٹھ نہ جائیں کہیں بے بسی کے ساتھ ہم سے نہ کوئی بات کرے بے رخی کے ساتھ اپنا تو اصل زر سے بھی نقصان بڑھ گیا سچ مچ کا عشق مر گیا اک دل لگی کے ساتھ ہائے ہائے اخبار کی سرخی آنکھوں کو لال کر گئی کہ آئی ایم ایف معاہدوں میں مزیدسبسڈی کی گنجائش نہیں۔ ہائے ہائے اس کا سیدھا سادا مطلب یہ ہے کہ ہم بے بس ہیں اپنے بازو رہن رکھ چکے ہیں یا اپنے ہاتھ پائوں کاٹ چکے ہیں۔ کبھی اس نے مجھ کو جلا دیا کبھی اس نے مجھ کو بجھا دیا۔ میں چراغ تھا تو
جمعه 01  ستمبر 2023ء مزید پڑھیے

طلباء کے نئے سیشن کے لیے کچھ مفید باتیں!

بدھ 30  اگست 2023ء
سعد الله شاہ
سکوں نہیں ہے میسر مجھے وطن میں کہیں دہک رہی ہے کوئی آگ سی بدن میں کہیں وہ کیف جو کہ مہک میں نہیں ہے پھولوں کی رکھا گیا ہے فقط خار کی چبھن میں کہیں ایک اور شعر ’’مجھے خبر تھی کہ منزل کوئی نہیں میری۔ کمی نہ آئی ذرا سی مگر لگن میں کہیں‘‘ دوستو! آج اگرچہ دہکتا ہوا موضوع بجلی کے بلوں پر عوام کا پرزور احتجاج ہے اور حکومت وہی گونگلوں سے مٹی جھاڑنے کی روش پر ہے۔ اچھا ہے کہ اس احتجاج کو انگیخت لگانے کے لیے جماعت اسلامی بھی نکل آئی ہے اور 2ستمبر کو ملک گیر ہڑتال
مزید پڑھیے


لوگ سڑکوں پر نکل آئے

اتوار 27  اگست 2023ء
سعد الله شاہ
سویا ہوا تھا شہر تو بیدار کون تھا سب دم بخود ہیں ایسا خطا کار کون تھا اب تک کسی کو بھیک میں عزت نہیں ملی اے خوش گمان اس کا طلبگار کون تھا اور پھر یہ بھی ہے کہ ’ کردار تھے کسی کے کہانی کسی کی تھی، کوئی بتائے صاحب کردار کون تھا‘حد ہو گئی پوری قوم کو سولی پر چڑھا کر یہ جا اور وہ جا۔ حکمران بڑے رسان سے کہہ کر گزر جاتے ہیں کہ یہ سب آئی ایم ایف کا کیا دھرا ہے۔ عدیم ہاشمی نے کہا تھا غم کی دکان کھول کے بیٹھا ہوا تھا میں، آنسو
مزید پڑھیے


احمد فراز کی پندرہویں برسی۔کچھ یادیں

هفته 26  اگست 2023ء
سعد الله شاہ
دل سے کوئی بھی عہد نبھایا نہیں گیا سر سے جمال یار کا سایہ نہیں گیا کب ہے وصال یار کی محرومیوں کا غم یہ خواب تھا سو ہم کو دکھایا نہیں گیا لگتے ہاتھ دو اشعار اور’ ہاں ہاں نہیں ہے کچھ بھی مرے اختیار میں، ہاں ہاں وہ شخص مجھ سے بھلایا نہیں گیا۔ میں جانتا تھا آگ لگے گی ہر ایک سمت، مجھ سے مگر چراغ بجھایا نہیں گیا۔آج احمد فراز کی پندھرویں برسی ہے جی میں آیا کہ کچھ یادیں تازہ کروں مندرجہ بالا اشعار بھی اس لئے لکھے گئے کہ جب میں محبوب ظفر کے ہاں اسلام آباد گیا
مزید پڑھیے


دلچسپ خبریں اور صورتحال

جمعرات 24  اگست 2023ء
سعد الله شاہ
سچ کو سقراط کی مسند پہ بٹھا دیتا ہے وقت منصور کو سولی پر چڑھا دیتا ہے یہ تو اچھا ہوا ہم نے نہیں مانگا ورنہ یہ زمانہ تو محبت کا صلہ دیتا ہے کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ ’ ایک دریا میں بنا دیتا ہے رستے کوئی اور پھر ان رستوں کو آپس میں ملا دیتا ہے‘۔من و سلوا کی طرح سعد اتارتا ہے سخن۔ اور ملتا ہے اسے جس کو خدا دیتا ہے۔بات یہ ہے کہ اختیار تو سارا خدا ہی کے پاس ہے اور اسی کی مرضی ہے کہ کسی کو مہلت دے یا کسی کا امتحان لے۔ مصیبت یہ
مزید پڑھیے



وہ دن ہماری ترقی کا ہوگا!

بدھ 23  اگست 2023ء
سعد الله شاہ
میری رات دن میں چھپی ہوئی میرا دن چھپا کسی رات میں میری زندگی کوئی راز ہے کوئی راز ہے میری بات میں کوئی مطمئن بھی نہیں ہوا کوئی ہو بھی جائے تو اس میں کیا میں بھی اپنے ساتھ الجھ پڑا رہ کار زار حیات میں مگر ایک خیال تسلی کا کہ میں جہاں کہیں بھی بھٹک گیا‘ وہیں گرتے گرتے سنبھل گیا۔ میں بھی اپنے ساتھ الجھ پڑا رہ کار زار حیات میں۔ کبھی کبھی انسان یکسانیت سے تھک جاتا ہے۔ ایک مرتبہ کسی بزلہ سنج نے کہا تھا کہ انیس ناگی لکھتے چلے جا رہے ہیں اور پتہ نہیں کیا لکھے
مزید پڑھیے


بساط سیاست ہی الٹ گئی!

اتوار 20  اگست 2023ء
سعد الله شاہ
ہماری آنکھ میں برسات چھوڑ جاتا ہے یہ ہجر اپنی علامات چھوڑ جاتا ہے یہ دن کا ساتھ بھی بالکل تمہارے جیسا ہے کہ روز جاتے ہوئے رات چھوڑ جاتا ہے بڑی ہی دلچسپ بات ہے۔اگرچہ پامال محاورہ ہے مگر ہے سچا کہ جو کسی کے لئے گڑھا کھودتا ہے خود ہی اس میں گرتا ہے۔یہ جو اتنا کچھ ہوا کہ پی ڈی ایم کے بیل نے سب کچھ سینگوں پر اٹھا رکھا تھا گرد بیٹھی ہے تو منظر کچھ اور ہی نکلا ہے۔لگتا ہے سیاست کا سانڈھ اپنے زور سے جا گرا ہے۔چلیے گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں ہر طرف شور
مزید پڑھیے


زندگی آزادی کا نام ہے

منگل 15  اگست 2023ء
سعد الله شاہ
عشق سے آشنا تو ہو اور ہم آشنا کہ یوں چاروں طرف ہو روشنی خود کو ذرا جلا کہ یوں میں نے کہا کہ کس طرح جیتے ہیں لوگ عشق میں اس نے چراغ تھام کے لو کو بڑھا دیا کہ یوں معزز و مکرم قارئین! ہم نے غالب کی زمین میں پھول کھلانے کی جو جسارت کی ہے تو ایک پیغام بھی دیا ہے سنگلاخ زمین کو کاٹ کر راستہ آسانی سے نہیں بنتا۔صرف ایک شعر اور دیکھ لیں پھر ہم وطن کی بات کریں گے۔ سوچا تھا سنگ دل کو ہم موم کریں تو کس طرح آنکھ نے وقعتاً وہاں اشک گرا دیا
مزید پڑھیے


ایک مرگِ ناگہانی اور ہے

اتوار 13  اگست 2023ء
سعد الله شاہ
شام فراق یار نے ہم کو اداس کر دیا بخت نے اپنے عشق کو حسرت و یاس کر دیا خوئے جفائے ناز پر اپنا سخن ہے منحصر ہم نے تو حرف حرف کو حرفِ سپاس کر دیا اور اب یوں ہے اے کہ ہوائے تند خو اور بڑھا دیے کی لو غم نے تو آہ سرد کو اپنی اساس کر دیا۔ لیجیے قومی اسمبلی وفاقی کابینہ تحلیل ہو چکی نگران وزیر اعظم کا فیصلہ نہ ہو سکا اور تب تک شہباز شریف ہی سے کام چلایا جائے گا۔آپ خاطر جمع رکھیں کہ نگران سیٹ ویسے ہی اسی کا تسلسل ہو گا۔’مکی رات عذاباں
مزید پڑھیے


الوداعی دورہ اور پیغام

جمعرات 10  اگست 2023ء
سعد الله شاہ
درد کو اشک بنانے کی ضرورت کیا تھی تھا جو اس دل میں دکھانے کی ضرورت کیا تھی ہم تو پہلے ہی ترے حق میں تہی دست ہوئے ایسے گھائل پہ نشانے کی ضرورت کیا تھی ایک اور انداز بھی ہے ’’ہو جو چاہت تو ٹپک پڑتی ہے خود آنکھوں سے، اے مرے دوست بتانے کی ضرورت کیا تھی راولپنڈی میںوزیر اعظم شہباز شریف ۔نے جی ایچ کیو میں خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ لائن آف ایکشن کا باعث یہ ہے کہ آرمی چیف نے ملک کو آگے بڑھانے کا پروگرام دیا آپ اسے ٹاسک کہہ لیں کہ شہباز شریف انتظامی امور
مزید پڑھیے








اہم خبریں