BN

سعد الله شاہ


گزرگیا کوئی درویش حمد گاتا ہوا


کیا دشمنی ہے آپ سے جب آپ ہیں امام ہے آپ ہی کے ہاتھ میں جب قوم کی لگام اب تک تو چل رہا ہے فقط آپ کا نظام کہتی ہے ایک دنیا ہمیں آپ کا غلام میرا خیال ہے کہ آپ اتنے سخن فہم ہیں کہ مجھے مندرجہ بالا اشعار کو کھولنے کی ضرورت نہیں۔ آپ اسے نوحہ یا کچھ بھی کہہ لیں مگر یہ ہے حقیقت قومی سطح پر بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی۔ پھر جواب شکوہ بھی ہے کہ غدار سب کے سب ہیں’’ میرے علم ہیں جناب دیوار سے لگایا تو لے دوں گا سب کا نام۔وحشت زدہ
اتوار 04  ستمبر 2022ء مزید پڑھیے

ایسپائریشنز

هفته 03  ستمبر 2022ء
سعد الله شاہ
ہماری آنکھ میں برسات چھوڑ جاتا ہے یہ ہجر اپنی علامات چھوڑ جاتا ہے یہ دن کا ساتھ بھی بالکل تمہارے جیسا ہے کہ روز جاتے ہوئے رات چھوڑ جاتا ہے بس یونہی زندگی کے روز وشب گزر رہے ہیں۔وقت کو تو جیسے پنکھ لگ گئے ہوں، پھر خوابوں سی دل نواز حقیقت نہیں کوئی۔یہ بھی نہ ہو تو درد کا درمان بھی نہ ہو، انسان کی عمر بڑھتی ہے تو وہ اپنے خوابوں میں زندہ رہنا چاہتا ہے اور یہ بھی اللہ کا شکر ہے کہ سہانے لمحے ہی حرزجاں بنتے ہیں مگر اداس بھی کر جاتے ہیں ۔آج ہی ہمارے شائستہ اطوار
مزید پڑھیے


عربی سیکھئے از محمد کاظم

منگل 30  اگست 2022ء
سعد الله شاہ
کوئی طالب ہو تو مطلوب نظر آتا ہے ورنہ کسی شخص کو محجوب نظر آتا ہے مجھ کو مارا ہے اسی ایک غلط فہمی نے میں سمجھتا تھا مجھے خوب نظر آتا ہے ایک اور بات کروں گا کہ بات کی تفہیم ہو سکے اس موبائل نے تو جیسے میری آنکھیں لے لیں اب نہ چٹھی ہے نہ مکتوب نظر آتا ہے میرا خیال ہے تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کہ خط و کتابت تو ایک طرف اب تو کتاب کا رواج بھی ختم ہوتا جا رہا ہے لیکن کتاب کے بغیر بھی بھلا کوئی زندگی ہے ۔اس سے اچھا دوست کوئی نہیں
مزید پڑھیے


جن کی آنکھوں میں آنسو ہوں

اتوار 28  اگست 2022ء
سعد الله شاہ
کیا علاقہ ہے انہیں گہر و الماس کے ساتھ ذہن و دل میں جو اتر جاتے ہیں احساس کے ساتھ ظاہر ہے اس وقت سب سے اہم معاملہ سیلاب زدگان کا ہے کہ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اس آفت کی یلغار کو کیسے روکا جائے۔ جب بھی ہمیں کوئی ایسا سانحہ جگاتا ہے تو ہم آئندہ کے خواب بن کر پھر سو جاتے ہیں یعنی اتنے سالوں میں کبھی نہیں سوچا کہ پیش بندی کیسے کی جائے اور اس بے رنگ پانی کو کہیں سٹور کرنے کا سوچا جائے۔ اب جو صاحب فرما رہے ہیں کہ اگر ڈیم بنتے
مزید پڑھیے


خوبصورت وہ دن محبت کے

جمعرات 25  اگست 2022ء
سعد الله شاہ
بجھتا ہوا چراغ بچانے نہیں دیا تھوڑا سا آسرا بھی ہوا نے نہیں دیا آنسو پلٹ کے آ گئے چھو کر ہمارا دل پتھر نے پانیوں کو سمانے نہیں دیا کیا کیا جائے مشکل یا برا وقت اکیلا نہیں آتا، اب خانما خراب پھرتے ہیں اور پھر کچھ مینوں مرن دا شوق وی سی‘ یہ بھی اچھا ہوا کہ لائیو سپیچ پر پابندی لگی اور ریکارڈ تقریر چلائی جائے گی۔ ایک اچھی پیش بندی ہو گئی کہ مقرر کے لئے بھی اس میں خیر ہے کہ ایڈیٹنگ میں طوفانی لہروں کو دبا دیا جائے گا اور اتنی تقریر یہ نشر کی جائے گی جتنی
مزید پڑھیے



سیاست میں تہذیبی رویے اور نیرہ نور

پیر 22  اگست 2022ء
سعد الله شاہ

جینے کا حوصلہ مجھے اچھا دیا گیا مجھ کو خیال خام میں الجھا دیا گیا منزل تلاشنا تھی مجھے راہبر کے ساتھ لیکن مجھے بھی راہ سے بھٹکا دیا گیا چلیے ایک اور خیال آ گیا کہ سچائی ایک خوشبو ہے احساس کی طرح۔ جس کو مرے خیال سے رستہ دیا گیا۔ مزید آگے کی بات تو نازک خیالی ہے وہی کہ ڈال دو سایہ اپنے آنچ کا۔ ناتواں ہوں کفن بھی ہو ہلکا۔ ویسے یہ شاعر کس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ موت کو بھی نہیں بخشتے کہ موت ہے اس لیے پسند مجھے۔ کہ یہ آتا نہیں یہ
مزید پڑھیے


بھارت سے آیا ہوا غبارہ پھٹ گیا

اتوار 21  اگست 2022ء
سعد الله شاہ
دینا کسی کو دل کی خبر رائیگاں گیا ہم نے عمل کیا تھا مگر رائیگاں گیا پہنچیں تو ہیں وہیں کہ چلے تھے جہاں سے ہم کہتا ہے کون اپنا سفر رائیگاں گیا کیا کریں ہر طرف رائیگانی ہی بکھری نظر آئی ،ا ے سعد کام کرنے میں اک خوف سا رہا جو کچھ کیا ہے ہم نے اگر رائیگاں گیا۔کیا بتائیں رائیگانی سی رائیگانی ہے کون کاٹے پہاڑ راتوں کے کس کی آنکھوں میں اتنا پانی ہے۔ منیر نیازی نے بھی تو کہا تھا ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے۔پھر انہوں نے یہ بھی تو کہا تھا ایک اور
مزید پڑھیے


ہاتھی کی لاعلمی

هفته 20  اگست 2022ء
سعد الله شاہ
اس سے پہلے تو کسی سے نہیں پوچھا تیرا اب ترے نام پر کیوں برپا ہے ہنگامہ سا آزمانا ہے جو خود کو تو اتر جا مجھ میں اس سمندر کا نہ اندازہ کناروں سے لگا ہاں مگر اپنی طرف خود بھی دیکھ لیں تو حقیقت منکشف ہو جاتی ہے سعدؔ لوگوں سے یہ نفرت نہیں اچھی تیری۔ تو کبھی غور تو کر ہے کوئی تجھ سے بھی برا۔کیا برا اور کیا بھلا! میں جانتا ہوں کہ دنیا برا ہی کہتی ہے مگر جب اس نے کہا ہے تو میں برا ہوں ناں! شعر فہمی آسان نہیں کہ کچھ باتیں ان کہی چھوڑ دی
مزید پڑھیے


دھند لپٹی جو آکے شعلے سے

جمعه 19  اگست 2022ء
سعد الله شاہ
برابر گھورتے رہنا خلائوں میں ہمارا کام ہے اڑنا ہوائوں میں کہیں سے ٹوٹ آئے گا ستارا بھی کہ ہم نے آنکھ رکھی ہے دعائوں میں ہائے ہائے کیا لکھیں’’بہت ہی زور سے ٹوٹے ہیں سعدؔ اب کے۔کہ ہم محفوظ رہتے تھے انائوں میں‘‘یہاں کوئی کسی کا پرسان حال نہیں۔مجھے پنجابی محاورہ استعمال کرنے میں تامل ہو رہا ہے مگر جو بلاغت اس میں کسی اور نہیں کہ ’’لچا سب تو اچا‘‘ وہی کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس اور لاٹھی بھی تو اسی کی ہے جو طاقتور ہے۔ ویسے طاقت کی اپنی زبان ہوتی ہے جو کمزوروں پر چلتی ہے۔ جیسے بڑے
مزید پڑھیے


رنگ کو نور کو باندھے رکھنا

جمعرات 18  اگست 2022ء
سعد الله شاہ
یہ جو اک صبح کا ستارا ہے دن نکلنے کا استعارا ہے لوگ دل سے نہ کیوں لگائیں ہمیں ہم نے غم شعر میں اتارا ہے پھر ساتھ یہ بھی خیال آتا ہے کہ، اس کو بھولا ہوا ہوں مدت سے۔جو مرا آخری سہارا ہے۔ خیر بات تو مجھے آج کرنی ہے شاعری کی کہ اس کی نموکہاں سے ہوتی ہے کہ میر نے کہا تھا ہم کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب میں نے، دردو غم کتنے کئے جمع تو دیوان کیا۔ذہن کی ڈائری کا ایک ورق اس وقت کھلا جب میرے ہاتھ میں ایک شعری مجموعہ’’ کہاں گمان میں تھا‘‘
مزید پڑھیے








اہم خبریں