BN

سعد الله شاہ


پسینہ پونچھئے اپنی جبیں سے


اک دل بنا رہا ہوں میں دل کے مکین میں مشکل سے بات بنتی ہے مشکل زمین میں انسان اپنے آپ کو پہچانتا نہیں اک سانپ بولتا ہے سپیرے کی بین میں بات شروع کرنے سے پہلے ایک شاندار واقعہ سن لیجیے کہ ہمارے عبدالقوی بیگ صاحب باہر نکلے تو سامنے سے آتے ہوئے دوست نے توجہ دلائی کہ ان کے ہونٹوں سے خون لگا ہے‘ خیر تو ہے بیگ صاحب کہنے لگے یار تمہیں تو پتہ ہے کہ تمہاری بھابھی روزانہ چیختی تھی کہ میں دیر گئے گھر آتا ہوں۔ رات میں مشاعرے سے واپس آیا تو اس نے پھر چنگھاڑنا شروع کر
اتوار 28 مارچ 2021ء مزید پڑھیے

کیا ہونے جا رہا ہے

هفته 27 مارچ 2021ء
سعد الله شاہ
کب کہا کہ مجھے فخر ہے اس جینے پر روز اک داغ چمکتا ہے مرے سینے پر مجھ سے اشکوں کی نہیں بات کرو دریا کی میں تو اک دشت ہوں آ جائوں اگر پینے پر کیا کریں بات تو کچھ ایسی ہی ہے دل بھی گویا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں۔ کیا کریں جلنا تو ہے جینا تو ہے اور سچ کا زہر پینا تو ہے بہت سنجیدہ لکھ کر نہ کڑھنا چاہتا ہوں اور نہ آپ کو پریشانی میں مبتلا کرنا چاہتا ہوں۔ پہلے ایک دو خبروں پہ بات ہو جائے وگرنہ
مزید پڑھیے


محبت کو بچا لے کوئی

جمعرات 25 مارچ 2021ء
سعد الله شاہ
وضعداری، نہ تکلف، نہ لطافت سمجھا دل کم فہم، مروت کو محبت سمجھا قند میں لپٹا ہوا زہر تھا سب رازو نیاز میں کہ محروم وفا اس کو عنایت سمجھا سب دھوکہ ہے اور فریب نظر۔بظاہر ہماری خوشی کا سامان کیا جا رہا ہے مگر اصل صورتحال کچھ اور ہے۔مودی کو بھی بیان دینا پڑ گیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ بتائیے فطرت کیسے بدل سکتی ہے۔ کشمیر کو ضم کرنے کے بعد غم کس بات کا ہے۔ اس پر عمران خاں کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کی اخلاقی ،سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے ۔چہ معنی وارد۔ جو
مزید پڑھیے


مردہ پی ڈی ایم اور تعلیم

اتوار 21 مارچ 2021ء
سعد الله شاہ
کسی کی نیند اڑی اور کسی کے خواب گئے سفینے سارے اچانک ہی زہر آب گئے ہمیں زمیں کی کشش نے کچھ اس طرح کھینچا ہمارے ہاتھ سے مہتاب و آفتاب گئے اگر آپ کی اب بھی نیند نہ اڑی ہو اور خواب نہ ٹوٹے ہوں تو ہم عرض کریں گے کہ’ اداسیاں ہی وہ ہر سو بکھیر کر آئے۔ جہاں جہاں بھی ترے خانماں خراب گئے‘۔ اب بتائیے کہ ہمارے پاس کہنے کو اور کیا رہ گیا ہے۔ وہی کچھ ہمیں بیان کرنا ہے جو دیکھنا ہے۔ ہمیں زمانے نے سب کچھ سکھا دیا ورنہ۔ ہمارے پاس تو ایسا کوئی کمال نہ تھا۔۔
مزید پڑھیے


سیاست‘ آگہی اور ویکسین

هفته 20 مارچ 2021ء
سعد الله شاہ
جی میں آتا ہے کہ دیکھوں اس زمیں کو کاٹ کر مجھ ہوائے خاک پر یہ کیسے نکلے بال و پر اے مری گلگشت تتلی لوٹ کر تو آ کبھی اس جہان رنگ و بو کی لا کوئی تازہ خبر بہار کا اثر تو ہر شے میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ایک گھمبیر احساس تو اس کے تن بدن پر اترتا ہے جس پر گل رنگ وارد ہوتا ہے۔ جی تو چاہتا ہے کہ ہلکی ہلکی تمازت میں سبزے کی خوشبو میں تتلی کے تعاقب میں بندہ پھولوں میں گم ہو جائے مگر زندگی کی برہنہ حقیقتیں کہاں چین لینے دیتی ہیں۔ پھر
مزید پڑھیے



اچھا خاصا جی تو رہا ہوں

جمعه 19 مارچ 2021ء
سعد الله شاہ
وہ نئی چال ہی نہ چل جائے یوں نہ ہو کھیل ہی بدل جائے کتنا نازک ہے وہ پری پیکر جس کا جگنو سے ہاتھ جل جائے مطلع تو آپ پر کھل چکا ہو گا کہ بادل چھٹے ہیں تو گم آسمان نظر آنے لگا ہے۔ ہر چیز عیاں ہونے لگی ہے اور آسمان پر رات کو ستارے بھی خوب چمکیں گے اور جن سے ہاتھ ہوا ہے وہ ستارے گنیں گے یہ منظر اہل بصیرت پر تو پہلے ہویدا تھا۔ یعنی اس کی کھلی نشانیاں تو جناب زرداری کی آئیں بائیں شائیں سے ظاہر ہو رہی تھیں۔ پی ڈی ایم کو بگلہ
مزید پڑھیے


اپنا اپنا اعلامیہ

جمعرات 18 مارچ 2021ء
سعد الله شاہ
ہم کے چہرے پہ نہ لائے کبھی ویرانی کو کیا یہ کافی نہیں ظالم کی پشیمانی کو کار فرہاد سے یہ کم تو نہیں جو ہم نے کیا آنکھ سے دل کی طرف موڑ دیا پانی کو آج میرا دل چاہا کہ سیاست سے ہٹ کر فن کی بات کی جائے۔ ویسے تو سیاست بھی فنکاری ہے۔ الیکشن لڑنا باقاعدہ ایک ہنر ہے ویسے تو اس میں اب پیسوں کا عمل دخل ہے پھر بھی یہ ایک فن اور آرٹ ضرور ہے۔ اس میں جوڑ توڑ بھی اپنی جگہ اور صلاحیت کا بھی مقام ہے۔ الیکشن میں یہ یقین رکھنا بھی ضروری ہے کہ
مزید پڑھیے


خاموشی نجات ہے

بدھ 17 مارچ 2021ء
سعد الله شاہ
ہمارے پاس حیرانی نہیں تھی ہمیں کوئی پریشانی نہیں تھی ہمیں ہونا تھا رسوا‘ ہم ہوئے ہیں کسی کی ہم نے بھی مانی نہیں تھی مجھے خالد احمد یاد آئے کہ کھلا مجھ پردر امکان رکھنا‘ مولا مجھے حیران رکھنا۔ افسوس کہ ہمارے پاس یہ جوہر نہیں ہے۔ وہی کہ متاع احساس زیاں ہم سے جاتی رہی۔ وہی کہ ’’پہلے آتی تھی حال دل پہ ہنسی‘ اب کسی بات پر نہیں آئی۔‘‘ ہماری بے بسی اور بے حسی نے ہمیں پژمردہ کر دیا ہے اور دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ وہ ملک جو ہم نے کتنے چائو سے بنایا تھا۔ تاریخ
مزید پڑھیے


سیاست کی کہکشاں

پیر 15 مارچ 2021ء
سعد الله شاہ
وہ بھی بگڑا ،ہوئی رسوائی بھی جان لیوا ہے شناسائی بھی کیوں اٹھاتے ہو ہمیں ہوتے ہیں ہر تماشے میں تماشائی بھی کچھ ایسی صورت حال پر مجھے لکھنا تھا کہ’ ہم دونوں آغاز پہ پہنچے۔کیسا یہ انجام ہوا ‘ساتھ ہی حافظ حسین احمد کی گفتگو نے کانوں میں رس گھولنا شروع کر دیا۔یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ حافظ بزلہ سنجی میں بڑوں بڑوں کے پر کترتے ہیں۔ کوزے میں دریا سمیٹ دیتے ہیں۔ فرمانے لگے کہ یہ جو سات ہیں یہ کسی کے ساتھ نہیں ہوتے۔ ویسے یہ جو لفظ ساتھ ہے اسے ہم شاعر لوگ ضرورت شعری کے باعث
مزید پڑھیے


حکومت اور الخدمت

اتوار 14 مارچ 2021ء
سعد الله شاہ
دھوپ اتری اشجار سے بھی دھوکہ کھایا یار سے بھی دل میں پھول کھلے تو پھر چھبنے لگے کچھ خار سے بھی غیر متوقع صورت حال کسی کیلئے عین متوقع ہوتی ہے۔ بس یہی طلسم کاری اور جادو توہی ہے جو سر چڑھ کر بولے۔ پہلے ایک چھوٹی سی نہایت دلچسپ بات۔ایک مرتبہ میرا چھوٹا بھائی احسان اللہ شاہ بتانے لگا کہ سفر کے دوران ایک شخص گاڑی میں سامنے کی سیٹ پر بیٹھا تھا۔ مجھے جیسے یقین ہو گیا کہ یہ شخص ہر صورت میں میری جیب کاٹے گا۔ وہ خاموش ہوا تو میں نے تجسس سے پوچھا ،پھر کیا ہوا؟ بھائی، پھر
مزید پڑھیے








اہم خبریں