BN

سعد الله شاہ


درد کشمیر اور علاج


روشنی بن کے اندھیروں میں اتر جاتے ہیں ہم وہی لوگ ہیں جو جاں سے گزر جاتے ہیں کتنے کم فہم ہیں یہ ہم کو ڈرانے والے وہ کوئی اور ہیں جو موت سے ڈر جاتے ہیں کم سنی ہی میں دادا حضور حبیب تلونڈری کی کتاب درد کشمیر دیکھی۔ تب سے مجھے ایسا ہی محسوس ہوتا ہے جیسے کشمیر کا درد میرے ساتھ ہی پیدا ہوا۔ میری سوچ اور فکر کا حصہ ہے۔ سچ مچ ایسے ہی لگتا ہے کہ لہو کے ساتھ رگ و پے میں دوڑنے والے۔ تہی بتا کہ تجھے کس طرح جدا کرتے ۔ہم نے بچپن سے ہی قائد
جمعرات 06  اگست 2020ء

فطرت اور تلخ حقیقت

منگل 04  اگست 2020ء
سعد الله شاہ
ہاں ہاں نہیں ہے کچھ بھی میرے اختیار میں ہاں ہاں وہ شخص مجھ سے بھلایا نہیں گیا اڑتا رہا میں دیر تک پنچھیوں کے ساتھ اے سعد مجھ سے جال بچھایا نہیں گیا ابراہیم اعوان نے ہماری توجہ کیٹس Keatsکی نیگیٹو کیپیبلٹی negative capibiltyکی طرف دلائی کہ ثانی شعر اس بے پناہ صلاحیت کی طرف نشاندہی کرتا ہے جو قدرت کسی فنکار کو عطا کرتی ہے۔ فنکار میں کیا ہر صاحب دل کو یہ سوچ ملتی ہے۔ بات تو سیدھی ہے کہ دوسرے کا خیال رکھنا حتیٰ کہ پرندوں کا۔ کیٹس بھی جب سبز میدان میں لیٹ کر ککو کی آواز
مزید پڑھیے


عہد موجود کا سچ

جمعرات 30 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
سچ کو سقراط کی مسند پہ بٹھا دیتا ہے وقت منصور کو سولی پہ چڑھا دیتا ہے ایک دریا میں بنا دیتا ہے رستے کوئی اور پھر ان رستوں کو آپس میں ملا دیتا ہے میرا خیال ہے دنیا کا مشکل ترین سوال یہ ہے کہ سچا کون ہے اور اس کا جواب بھی اتنا ہی دشوار ہے یعنی سچا وہ ہے جو جھوٹ نہ بولے۔جھوٹ اور یوٹرن میں زمیں آسمان کا فرق ہے کہ زمین اوپر چلی جاتی ہے اور آسمان نیچے آ جاتا ہے۔ آپ میری بات پر گھبرائیں نہیں۔ بس یوں سمجھ لیں کہ دماغ چل گیا ہے اور میں
مزید پڑھیے


قربانی اور بکرونا

بدھ 29 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
ہم تو پہلے ہی ترے حق میں تہی دست ہوئے ایسے گھائل پہ نشانے کی ضرورت کیا تھی اتنے حساس ہیں سانسوں سے پگھل جاتے ہیں بجلیاں ہم پہ گرانے کی ضرورت کیا تھی اذیت ناک احساس وہ ہے کہ جس میں کوئی سوچنے لگے کہ کسی کو اس کا احساس تک نہیں کہ وہ کس حال میں زندہ ہے۔ یہی احساس اجتماعی صورت حال اختیار کر لے تو وہ قوم کا کرب کہلاتا ہے کہ ساری عوام ہی جینے کے ہاتھوں مر چلے‘ والی حالت میں آ جائے تو دلی تکلیف بڑھ جاتی ہے مگر ایک اطمینان کی بات تو کم از کم
مزید پڑھیے


کیا دیکھنے والوں کو نظر آتا ہے!

پیر 27 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
مجھ کو میری ہی اداسی سے نکالے کوئی میں محبت ہوں محبت کو بچالے کوئی میں محبت ہوں مری تہہ میں صدف ہے شاید موج در موج مجھے آئے اچھالے کوئی یہ اداسی بڑی عجب شے ہے کبھی کبھی یہ بے سبب ہوتی ہے اور کبھی کئی مسئلوں کا سبب۔ بہرحال ناصر کاظمی کے ہاں تو یہ درو دیوار پر بال کھولے ہوتی ہے مگر کوئی اس کا حل ڈھونڈے تو وہ بھی اداسی کے سوا کچھ نہیں حل نکالا ہے یہ اداسی کا۔ اب مکمل اداس رہتا ہوں۔ کہاں آ کر ایک شعر نے بازگشت کی۔ یہ اداس ٹھنڈک جو بسی ہے اس
مزید پڑھیے



سرسوں رنگ کا ایک کالم

اتوار 26 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
اگرچہ غم بھی ضروری ہے زندگی کے لئے مگر یہ کیا کہ ترستے رہیں خوشی کے لئے وہ مجھ کو چھوڑ گیا تو مجھے یقیں آیا کوئی بھی شخص ضروری نہیں کسی کے لئے میرے معزز قارئین!بات کچھ یوں ہے کہ میرے پڑھنے والوں میں ادبی ذوق رکھنے والوں کا اصرار ہے کہ گاہے گاہے ادبی یادداشتیں ان کے ساتھ شیئر کیا کروں۔ مجھے اس کا اندازہ ہے کہ جس روز میں ادب کے حوالے سے کچھ تحریر کرتا ہوں تو فیڈ بیک کافی بڑھ جاتا ہے۔ شاید لوگ سیاسی کالم پڑھ پڑھ کر اکتا چکے ہیں پھر ایک ہی طرح کی باتیں خبروں
مزید پڑھیے


این آر او کی بازگشت اور سیاست

هفته 25 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
این آر او کا ذکر باردگر چلا تو نہ جانے پرویز مشرف کیوں یاد آئے: وہ جو کہتا ہے کہ انصاف ملے گا سب کو اس نے منصف کو بھی سولی پر چڑھا رکھا ہے اس نے چوروں سے سرعام شراکت کی ہے اس نے قاتل کو بھی مسند پہ بٹھا رکھا ہے بلاول بھٹو کی طرف سے خان صاحب پر تیر اندازی کیسے بروقت ہے کہ جو تیر خطا ہوتا ہے وہ بھی خان صاحب کو جا لگتا ہے ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ کیسے تیر انداز ہو سیدھا تو کر لو تیر کو۔ بظاہر تو ایسا ہی لگتا ہے مگر کچھ
مزید پڑھیے


نیب‘عیب اور تیز ہوا کا شور

بدھ 22 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
موج میں آ کر جب بہتے ہیں بادل چاند ہوا اور میں تنہا تنہائیوں کیوں رہتے ہیں بادل چاند ہوا اور میں سبز رتوں کو جھلمل میں جب شاخیں پھول اٹھاتی ہیں بہکے بہکے سے کیوں رہتے ہیں بادل چاند اور میں ایسے گھمبیر موسم میں بھی کہ جہاں گھٹائیں گھر گھر کر آ رہی ہیں اور موسلا دھار بارش سب کچھ جل تھل کر رہی ہے ایک تنہائی کا احساس کیوں جاں گزیں ہے کہ جیسے فطرت کے عناصر میں بھی سماجی فاصلے ہیں یا کم از کم محبت کرنے والوں میں دوریاں ہیں۔ رابطے کچھ ٹوٹے ٹوٹے سے ہیں۔ کبھی ہم اس
مزید پڑھیے


گرانی اور گراں جانی

منگل 21 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
دامن چشم میں تارا ہے نہ جگنو کوئی دیکھ اے دوست مری بے سروسامانی کو شیشہ شوق پہ تو سنگ ملامت نہ گرا عکس گل رنگ ہی کافی ہے گراں جانی کو بے چارے عوام پر گرانی کا بوجھ لادا جا رہا ہے کہ آخر کمر کب تک بوجھ برداشت کرے گی۔لوگ اب کراہنا شروع ہو گئے ہیں۔ میرے گھر میں بجلی کا بل اٹھارہ ہزار پانچ صد روپے آیا ہے اب گیس کا بل بھی ہزاروں میں آتا ہے۔ آخر ہماری گراں جانی کب تک۔ لیجیے ابھی تو ہم بل پر بلبلا رہے تھے کہ تازہ خبر سامنے پڑی ہے کہ بجلی مزید
مزید پڑھیے


دنیا کی تیزی اور لاک ڈائون

پیر 20 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
ایک جگنو ہی سہی ایک ستارا ہی سہی شبِ تیرہ میں اجالوں کا اشارہ ہی سہی ہم کو جلنا ہے بہرطور سحر ہونے تک اک تماشہ ہی سہی ایک نظارہ ہی سہی میں برسوں سے ایک شخص کو دوڑتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ میں دیکھ دیکھ کے تھک گیا ہوں وہ دوڑ دوڑ کر نہیں تھکا۔ اس کا یہ معمول ہے کہ وہ محلے سے دوڑ کر گزرتا ہے تو اس کے ہاتھ میں ایک لمبی چھڑی ہوتی ہے اور وہ پسینہ میں شرابور سیدھا سڑک پر نہیں بھاگتا بلکہ کوٹھیوں کے آگے لگے گھاس پر سے ہوتا ہوا جاتا ہے۔ کبھی کبھی سڑک
مزید پڑھیے