BN

سعد الله شاہ


صحافیوں کی تربیت اور ایک درد ناک خبر


اپنے مطلب کے سوا لوگ کہاں ملتے ہیں اب کے بھی سانپ خزانے کے لئے آئے تھے وائے ان لوگوں نے جنگل بھی جلا ڈالا ہے جو یہاں شہر بسانے کے لئے آئے تھے کیا کیا جائے کہ انسان ہمیشہ اس المیے سے دوچار رہا۔اس پر بات کرنے سے پہلے ایک دلچسپ خبر پر بات ہو جائے کہ عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ انفارمیشن اکیڈمی صحافیوں کی تربیت کے لئے پروگرام ترتیب دے۔ مگر اس سے بھی پہلے میں آپ کے ساتھ اس سے بھی زیادہ دلگداز اور پیارا سا واقعہ شیئر کروں گا۔ ٹی وی کے دنوں میں جب گیت وغیرہ
هفته 02 مئی 2020ء

کچھ سیاست سے ہٹ کر

جمعرات 30 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
دل وحشی کی یہ حسرت بھی نکالی جائے روشنی جتنی بھی ممکن ہو چرا لی جائے یہ سمندر بھی تو پانی کے سوا کچھ بھی نہیں اس کے سینے سے اگر لہر اٹھا لی جائے آپ بھی جانتے ہیں کہ اصل میں تب و تاب ہی زندگی ہے مگر حسرتیں اس کے ساتھ آکاس بیل کی طرح لپٹی ہوئی ہیں۔ ابھی میں نے اتنا ہی لکھا تھا کہ ہمارے دوست مظفر مرزا کا فون آ گیا کہ میں انہیں اس شعر کا مطلب سمجھائوں جو میں نے اپنے گزشتہ کالم میں درج کیا ہے۔ ان کے تجسس پر مجھے خوشی ہوئی، شعر تو سادہ
مزید پڑھیے


نئی تبدیلی

بدھ 29 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
درد اشک بنانے کی ضرورت کیا تھی تھا جو اس دل میں دکھانے کی ضرورت کیا تھی ہم تو پہلے ہی ترے حق میں تہی دست ہوئے ایسے گھائل پہ نشانے کی ضرورت کیا تھی لو جی ’’ہم بھی فارغ ہوئے شتابی سے‘‘۔ نہ جانے یہ ستم ظریف اخبار والے ایسی سرخی کیوں جماتے ہیں کہ عاصم باجوہ معاون خصوصی اطلاعات، فردوس عاشق فارغ، فارغ لفظ کے اوپر باقاعدہ تخلص والا نشان بھی ڈال رکھا ہے جیسے کہ فارغ محترمہ کا تخلص ہو۔ ویسے محترمہ نے خان صاحب کے حق میں نثری قصیدے تو بہت کہے ہیں اور بعض دفعہ تو انہوں نے
مزید پڑھیے


کیسے کہہ دوں کہ تھک گیا ہوں میں

منگل 28 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
کس نے سیکھا ہے نقش پا رکھنا پیر اٹھایا تو آ گیا رکھنا وقت روکے تو میرے ہاتھوں پر اپنے بجھتے چراغ لا رکھنا یہ زمین انہی کی ہے جن کے حوصلے ہیں زیادہ۔ کامیابیاں اور کامرانیاں آخر انہی کے قدم چومتی ہیں جو بندشوں اور رکاوٹوں کی پروا کیے بغیر اپنا سفر روکتے نہیں بلکہ اس کو منزل بنا لیتے ہیں۔ راہ میں مشکلات اور دشواریاں تو آتی ہیں۔ ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہے سنگ گراں اور یا پھر جی خوش ہوا ہے راہ کو پرخار دیکھ کر’’والا معاملہ‘‘جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر
مزید پڑھیے


فن کی دنیا سے کچھ مزے کی باتیں

پیر 27 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
تو رکے یا نہ رکے فیصلہ تجھ پر چھوڑا دل نے در کھول دیئے ہیں تری آسانی کو جس میں مفہوم ہو کوئی نہ کوئی رنگِ غزل سعدؔ جی آگ لگے ایسی زباں دانی کو آج موضوع بدلتے ہیں کہ شاید فضا بدلے۔ بہر حال بات کرتے ہیں تھوڑی سی آرٹ کی اور ادب کی۔ ایک زبان ہوتی ہے اور ایک زبان دانی۔ مگر سب سے زیادہ اہم وہ معنی و مفہوم ہوتا ہے جو زبان کے پیکر میں رکھا جاتا ہے۔ کالرج کا یہ کہنا بلا شبہ اہمیت کا حامل ہے کہ ڈکشن یعنی زبان اورکانٹینٹ یعنی مواد آپس میں ہم آہنگ ہو
مزید پڑھیے



کچھ باتیں کچھ گزارشات

اتوار 26 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
توڑ ڈالے ہیں جو دریا نے کنارے سارے کون دیکھے گاتہہ آب نظارے سارے سخت مشکل تھی مگر نام خدا کے آگے رکھ دیے ایک طرف میں نے سہارے سارے اس میں کیا شک ہے کہ دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی مشکل وقت ہے اور ہمیں بھی اسی آفت کا سامنا ہے جس نے بڑی بڑی معیشتوں کو برباد کر کے رکھ دیا ہے اور ہر جگہ نفسا نفسی کی حشر سامانی ہے ایسی آفات میں انسان لاچار و بے بس ہے۔ بس ایک سہارا باقی بچتا ہے کہ جس نے ہمیشہ باقی رہنا ہے یقینا انسان کا اسباب و عوامل پر
مزید پڑھیے


حالیہ منظر نامے کے کچھ دلچسپ پہلو

هفته 25 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
تمہارے ساتھ رہنا ہے مگر ایسے نہیں رہنا تمہیں گر کچھ نہیں سننا ہمیں بھی کچھ نہیں کہنا بھولا بسرا شعر عمران خاں کے اس بیان پر یاد آیا کہ کورونا کے ساتھ ہی رہنا پڑے گا۔ مئی کا وسط مشکل وقت‘ سمارٹ لاک ڈائون کی طرف جانا ہو گا‘ کیا کیا جا سکتا ہے دنیا کی تاریخ بدل رہی ہے بلکہ یوں کہیں کہ کوئی تاریخ بدل رہا ہے۔ یہ تو خیر انہوں نے حوصلہ افزا بات کی کہ بحران سے نکلنے کے بعد پاکستانی تیزی سے اوپر جائے گا۔ شاید ایسے ہی جیسے سیلاب کے بعد زمینیں زیادہ ذرخیز ہو
مزید پڑھیے


پرندوں کی دنیا اور ہم

جمعه 24 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
ترے اثر سے نکلنے کے سو وسیلے کیے مگر وہ نین کہ تونے تھے جو نشیلے کئے ادھر تھا جھیل سی آنکھوں میں آسمان کا رنگ ادھر خیال نے پنچھی تمام نیلے کیے لاک ڈائون کے دنوں میں علی الصبح سیر کو نکلتا ہوں تو پہلا تعارف پرندوں سے ہوتا ہے صبح کاذب کے جب روشنی سپیرے کی صورت اترتی ہے تو پرندے کی صدا کانوں میں پڑتی ہے۔ شاید چڑیا پہلے بولتی ہے یا کوئی اور پرندا ‘ بہرحال پرندوں کی آوازیں شامل ہوتی جاتی ہیں حتیٰ کہ کوا بھی آن دھمکتا ہے جب صبح سانس لیتی ہے تو سبزہ و پیڑ پودے
مزید پڑھیے


اقبال کا مقام اور کلام اقبالؔ میں مقامات

جمعرات 23 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساتھی ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی عشق کی تیخ جگردار اڑا لی کس نے علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی شعر ثانی پہ قربان ہونے کو دل چاہتا ہے کہ دو مصرعوں میں حکیم الامت نے مسلمانوں کا المیہ بیان کر دیا۔ اس شعر میں وہی روح ہے جس کو ختم کرنے کے لئے انگریز نے کیا کیا جتن نہ کئے۔ اسی کے پس منظر میں وہ مصرع ہے جسے شیطان کی زبان سے اس کی شوریٰ میں کہلوایا ’’روح محمد اس کے بدن سے نکال دو‘‘اسی مقصد کے
مزید پڑھیے


دانش اور دلیل

منگل 21 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
اس پر ہمارا یقین ہی نہیں‘ ہمارا عقیدہ ہے کہ سب کچھ من جانب اللہ ہے۔ یقین کی اس پختگی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ میرا دین دانش اور دلیل کو نہیں مانتا اور کسی غیبی مدد کا منتظر رہتا ہے۔ میں یہ بات پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ توکل کے ساتھ تدبیر کا ہمیں حکم ہے اگر دعا ہے تو دوا بھی سنت ہے۔ دنیائے اسباب میں مدد بھی اسباب سے آتی ہے۔ صفائی اور ستھرائی آدھا ایمان ہے تو اس حکمت کے پس پردہ بچائو کی تدبیر بھی ہے آپ اسے احتیاط کہہ لیں۔ میرا خیال
مزید پڑھیے