BN

سعد الله شاہ


ہمارے سوا کوئی چوائس نہیں


چشم نمناک لئے سینہ صد چاک سیے دور تک ہم بھی گئے اپنے خریدار کے ساتھ رنجش کار زیاں دربدری تنہائی اور دنیا بھی خفا تیرے گنہگار کے ساتھ کیا کیا جائے بات کچھ کرو‘ لوگ سمجھتے کچھ ہیں‘ شکر ہے کہ ہمارے دوست ندیم خان ہی سمجھے اور کہنے لگے کہ آپ نے خان صاحب پر بڑے لطیف پیرائے میں طنز کی ہے۔ یہاں بے جا نہ ہو گا کہ آپ کو ماضی کا نہایت دلچسپ قصہ سنا دوں ایک مرتبہ میں نے سابق آئی جی پنجاب سردار محمد چودھری کی کتاب پر ایک جملہ لکھ دیا۔ اصل میں میں شہباز شریف کی
منگل 30 جون 2020ء

خان صاحب کے دفاع میں

پیر 29 جون 2020ء
سعد الله شاہ
ہم کہ چہرے پہ نہ لائے کبھی ویرانی کو کیا یہ کافی نہیں ظالم کی پشیمانی کو کار فرہاد سے یہ کم تو نہیں جو ہم نے آنکھ سے دل کی طرف موڑ دیا پانی کو صبر سے بڑی دولت دنیا میں کوئی نہیں۔ یہ ویسے بھی سو مصیبتوں کا علاج ہے۔ قناعت کا وصف اسی کی ذیل میں آتا ہے۔ ریاضت بھی اسی کی تفصیل ہے۔ ملا نصیرالدین نے اپنے گدھے پر اسی قسم کا ایک تجربہ کیا تھا کہ اسے بارہ دن بھوکا رکھا اور تیرہویں دن وہ بے زبان چل بسا۔ دوستوں نے ملا سے کہا کہ اس نے اپنے
مزید پڑھیے


سیاسی صورتحال اور ایک پرسہ

اتوار 28 جون 2020ء
سعد الله شاہ
ملیں ہم کبھی تو ایسے کہ حجاب بھول جائے میں سوال بھول جائوں تو جواب بھول جائے تو کسی خیال میں ہو اور اسی خیال ہی میں کبھی میرے راستے میں گلاب بھول جائے یہ بھول بھی کیا شے ہے کہ کبھی اس میں کرشمہ سازی بھی ہو سکتی ہے۔ روز کہتا ہوں بھول جائوں اسے۔ روز یہ بات بھول جاتا ہوں۔ مجھے یہ سب کچھ خان صاحب کی وجہ سے یاد آ رہا ہے کہ انہوں نے دو سال گزرنے کے بعد رقیب رو سیاہ پر سوال داغ دیا ہے کہ ملک اس حال میں چھوڑنے والوں سے جواب طلب کیا جائے؟سب کچھ
مزید پڑھیے


ٹڈیوں پر نئی تحقیق

جمعه 26 جون 2020ء
سعد الله شاہ
دربہاراں گل نوخواستہ سبحان اللہ جلوہ آرا ہے وہ بالواسطہ سبحان اللہ ایسا ہنستا ہوا چہرہ کبھی دیکھا ہی نہ تھا کہہ دیا میں نے بھی بے ساختہ سبحان اللہ اللہ کی پاکی بیان کرنے کے لیے پوری کائنات ہے۔ پتہ پتہ بوٹا بوٹا اسی حال میں ہے کہ خالق کی صفات کا آئینہ دار ہے۔ گل بوئے کلام کرتے ہیں اور اس میں کیا کلام کہ ہر ذی روح اس کی تسبیح بیان کرتا ہے۔ پتھر میں کیڑا اور کیڑے کے منہ میں سبز پتی جیسا منظر محرالعقول ہی تو ہے۔ یہ سب بلند و بالا خیال در ادراک پر دستک دیتے ہیں
مزید پڑھیے


بات ہے رسوائی کی

جمعرات 25 جون 2020ء
سعد الله شاہ
مجھ پہ کیچڑ نہ اچھالے مرے دشمن سے کہو اپنی دستار سنبھالے مرے دشمن سے کہو جیت اس کی ہے اگر ہار بھی جاتا ہے وہ مجھ کو معیار بنا لے مرے دشمن سے کہو آج میرا دل چاہا کہ دشمنی پر لکھوں۔ ایک نہایت دلچسپ پوسٹ ابھی نظر نواز ہوئی کہ فواد چودھری اب اس شادی کے دعوت نامے کی تلاش میں ہیں یا انتظار میں کہ جہاں فیاض چوہان بھی مدعو ہو۔ اس پوسٹ کا پس منظر اور پیش منظر بتانے کی بھی چنداں ضرورت نہیں کہ فواد چودھری ہاتھ چھٹ واقع ہوئے ہیں اور ان کا نشانہ سمیع اور مبشر لقمان
مزید پڑھیے



وہ جذبہ تھا کہ جنوں‘یادوں کا ورق

بدھ 24 جون 2020ء
سعد الله شاہ
مجھ سا کوئی جہان میں نادان بھی نہ ہو کر کے جو عشق کہتا ہے نقصان بھی نہ ہو کچھ بھی نہیں ہوں میں مگر اتنا ضرور ہے بن میرے شاید آپ کی پہچان بھی نہ ہو وہی جو حافظ نے کہا تھا کہ عشق اول اول تو آسان لگتا ہے مگر یہ ہے تو جان لیوا ہے کہ یہ آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے‘کہ جگر کا وی جگر نے ایسے ہی نہیں کی۔ اقبال نے تو قلم ہی توڑ دیا کہ ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں۔ مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں۔ میں اتنا اونچا نہیں اڑوں گا
مزید پڑھیے


طارق عزیز۔یادوں کا ایک ورق

منگل 23 جون 2020ء
سعد الله شاہ
اے مرے دوست ذرا دیکھ میں ہارا تو نہیں میرا سر بھی تو پڑا ہے مری دستار کے ساتھ وقت خود ہی یہ بتائے گا کہ میں زندہ ہوں کب وہ مرتا ہے جو زندہ رہے کردار کے ساتھ دستار اور کردار کا آپس میں گہرا تعلق ہے مگر یہاں میں نے یہ اشعار ایک واقعہ کے باعث لکھے ہیں کہ جس کا تذکرہ میں بعد میں کروں گا۔ پہلے مجھے اس واقعہ کے ایک اساطیری کردار طارق عزیز کا تذکرہ کرنا ہے۔ ان کے ساتھ کئی برسوں پر محیط ایک تعلق خاطر تھا کہ ایک زمانے میں جیسے ہم ایک دوسرے کے عادی
مزید پڑھیے


والد مکرم کی رخصتی

اتوار 21 جون 2020ء
سعد الله شاہ
جسم و جاں پر ایک عجب گرانی ہے ایک بے کلی سی اور ایک بے قراری سی۔ لکھنے کی طرف طبیعت ہرگز مائل نہیں والد صاحب کی طبیعت بگڑی تو سنبھل نہیںپائی۔وہ لمحہ لمحہ مٹھی سے پھسلتی ہوئی ریت کی طرح چلے گئے کہ جانے والوں کو کون روک سکا ہے کوئی‘دیکھتے ہی دیکھتے آخری آسمان بھی سر سے سرک گیا۔ ایک بے اماں موسم نے آن لیا۔پہلی دفعہ میں اپنے آپ کو سن رسیدہ لگنے لگا۔ ان کے ہوتے ہوئے میرے اندر ایک کھلنڈرا سا احساس ہر دم جاگتا تھا اور ان کی طرف دیکھ کر باتیں کرنا چاند
مزید پڑھیے


احساس زیاں بڑھتا جا رہا ہے

جمعرات 18 جون 2020ء
سعد الله شاہ
دشت کی پیاس بڑھانے کے لیے آئے تھے ابر بھی آگ لگانے کے لیے آئے تھے اپنے مطلب کے سوا لوگ کہاں ملتے ہیں اب کے بس لوگ خزانے کے لیے آئے تھے کیا کریں وبا بھی ظالموں کی مدد کے لیے آئی ہے کہ وبا کا جال پھیلا کر اپنے اہداف شکار کیے جا رہے ہیں۔ لوگ سہمے ہوئے ہیں، کچھ ڈرتے جا رہے ہیں اور کچھ مرتے جا رہے ہیں مگر کام کرنے والے اپنا کام کرتے جا رہے ہیں، یعنی کام دکھاتے جا رہے ہیں۔ اف میرے خدایا! عوام کو نیک لاک Neck Lockلگا دیا گیا ہے۔تیرے وعدوں پر اعتبار
مزید پڑھیے


کس کی زباں کھلے گی پھر

بدھ 17 جون 2020ء
سعد الله شاہ
دلوں کے ساتھ یہ اشکوں کی رائیگانی بھی کہ ساتھ آگ کے جلنے لگا ہے پانی بھی بجا رہے ہو ہوائوں سے تم چراغ مگر ہوا کے بعد کہاں ان کی زندگانی بھی ہوا چراغ گل کرتی ہے تو اسے شعلہ بار بھی کرتی ہے۔ زندگانی کا یہی فلسفہ ہے کہ یہ ہوا کی آمدوشد ہے اور یوں حیات کا قافلہ رواں دواں ہے۔ یہ تو کوئی بھی نہیں جانتا کہ نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے‘ کس کو معلوم کہ اس کی کتنی صبحیں طلوع ہوں گی۔ دیکھیے وبائیں آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں آپ اس میں احتیاط
مزید پڑھیے