BN

سعد الله شاہ


دھوپ میں جلنے والو


اپنی اپنی انا کو بھلایا جا سکتا تھا شاید سارا شہر بچایا جا سکتا تھا سارے سفر میں ہم نے رہبر ہی کی مانی ورنہ سیدھی راہ پہ آیا جا سکتا تھا کچھ نہیںکھلتاکہ رہبر کے دل میں کیا ہے۔ ہم تو بس اس کی چال میں الجھے ہوئے ہیں۔کوئی بھی عوام کو بھیڑ بکریوں کے منصب سے اوپر نہیں اٹھاتا۔ بندہ پرور جو ہم پہ گزری ہے تم پہ گزرے تو کیا تماشہ ہو۔ خان صاحب بھی کمال کرتے ہیں آپ وعظ‘ بھاشن سنتے سنتے ہمارے کان پک گئے آپ نے ڈاکو اور چور اپنے ٹارگٹ پر رکھے ہیں ان کے مددگار
جمعه 12 مارچ 2021ء مزید پڑھیے

بہار‘جلو پارک اور سیاست

جمعرات 11 مارچ 2021ء
سعد الله شاہ
یہ کیا کہ حال دل زار اسے سنانے کو میں اپنے ساتھ رلاتا ہوں اک زمانے کو جو اس کی یاد نہ آئے تو جی ٹھہر جائے ہوا تو چاہیے بجھتا دیا جلانے کو خیر یہ تو آپ کو معلوم ہی ہو گا کہ اگر ہوا دیا بجھاتی ہے تو اس کے جلنے میں بھی وہی مددگار ہوتی ہے ،ہوا مگر اتنی ہی درست ہے جس میں دیا جلتا رہے وگرنہ لو کو سنبھالنا ممکن نہ رہے گا۔ فراز نے بھی تو کہا تھا اگرچہ زور ہوائوں نے ڈال رکھا ہے مگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہے ایک چراغ کی مثال
مزید پڑھیے


بے نیازی نہیں چلے گی

بدھ 10 مارچ 2021ء
سعد الله شاہ
ہم تیرے زیر اثر ٹوٹ گئے مرغ تخیل کے پر ٹوٹ گئے آئینہ خانہ تھی تمثیل انا کرتے کیا اہل ہنر ٹوٹ گئے جب بے ہنری ہنر ٹھہرے تو کوئی کیا کرے‘ کدھر جائے۔ اتنی مکدر فضا ہے کہ دم گھٹتا ہے مگر ہمیں جینا تو یہیں ہے۔ تبھی تو چچا غالب نے کہا تھا صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا۔ ہائے ہائے سوچتا ہوں تو دم گھٹتا ہے کہ وزیراعظم نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے لیا اور 178 ووٹ لیے۔ پہلے سے بھی دو زیادہ۔ اذیت کی بات تو یہ ہے کہ آپ پر لازم ہے کہ
مزید پڑھیے


سیاسی منظر نامہ اور قاتل بسنت

اتوار 07 مارچ 2021ء
سعد الله شاہ
اس سے ٹوٹا جو تعلق تو کہاں ہوش رہا گھنٹیاں بجتی رہیں اور میں خاموش رہا وہ محبت کا کوئی لفظ نہ لب تک لایا اور میں تھا کہ برابر ہمہ تن گوش رہا جناب غیر متوقع صورتحال کے لئے ہر کوئی تیار نہیں ہوتا کہ کوئی کہہ دے کہ’’ یہ بھی رکھا تھا دھیان میں ہم نے ،وہ اچانک اگر بدل جائے ‘‘،جو بھی ہے دنیا تو انحصار اور اعتماد پر چلتی ہے اختیار تو اقتدار پر بھی نہیں ہوتا۔ خان صاحب اعتماد کا ووٹ لینے لے چکے ہیںیقینا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھااور اگر ہو بھی تو زیادہ سبکی کا تھا۔
مزید پڑھیے


یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں

هفته 06 مارچ 2021ء
سعد الله شاہ
آج بھی میرا نہیں اور میراکل بھی نہیں سچ تو یہ ہے کہ مرے ہاتھ میں اک پل بھی نہیں وہ کہ تسلیم تو کرتا ہے محبت میری میں ادھورا بھی نہیں اور مکمل بھی نہیں ہائے ہائے کیا کہہ دیاوزیر اعظم نے کہ الیکشن کمشن نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا۔ ڈھونڈنے کی بات تو یہ ہے کہ کس نے فائدہ پہنچایا یا کس نے نقصان نہیں پہنچایا۔ بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے، اب تو گننے سے بھی گئے اور پھر تولتے ہیں تو پیسوں کے ساتھ یعنی اب تو حسب نسب بھی دولت ۔ حصول اقتدار کے لئے کسی بھی
مزید پڑھیے



سانحہ ایسا بھی ہو گا یہ کبھی سوچا نہ تھا

جمعه 05 مارچ 2021ء
سعد الله شاہ
بولے تو لفظ باعث الزام ہو گئے ہم چپ رہے تو اور بھی بدنام ہو گئے تھی تندوتیز کس قدر اپنی یہ زندگی کتنے ہی حادثات سرشام ہو گئے زندگی حادثات سے تو عبارت ہے۔ ویسے حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔ کہ وقت کرتا ہے پرورش برسوں۔ سب یوسف رضا گیلانی کی جیت کو ایک بڑا اپ سیٹ کہہ رہے ہیں آپ ذرا سا غور کریں تو یہ ہرگز اپ سیٹ نہیں کہ پرورش لوح و قلم کسی نے کی ہے۔ سینٹ کے الیکشن برپا ہونے سے پہلے جو اپ سیٹ تھا یعنی جس طرح سے خان صاحب اپ سیٹ نظر آ رہے تھے
مزید پڑھیے


ضابطے اور رابطے

جمعرات 04 مارچ 2021ء
سعد الله شاہ
وہ مجھ کو چھوڑ گیا ہے تو میں برا ہوں ناں زمانہ مجھ پہ ہنسا ہے تو میں برا ہوں ناں میں جانتا ہوں کہ دنیا برا ہی کہتی ہے مگر جب اس نے کہا ہے تو میں برا ہوں ناں کچھ کا خیال ہے کہ اچھا برا کچھ نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ انسان کی سوچ ہے جو کسی کو اچھا برا بناتی ہے۔ایسا کہاں سے لائیں سب اچھا کہیں جیسے ویسے ہمیشہ برا غریب ہوتا ہے ۔تمہید سے پہلے میرے پیش نظر موجودہ صورتحال تھی جس میں مرکزی نکتہ سینٹ کے الیکشن کا ہے۔ اگر کہا جائے کہ حکومت ہمیشہ بازو کو
مزید پڑھیے


ساتویں طرف

بدھ 03 مارچ 2021ء
سعد الله شاہ
اشک گردوں صدف میں پالتے ہیں تب سمندر گہر اچھالتے ہیں خود فراموشیاں نہ پوچھ اپنی زندگی کا عذاب ٹالتے ہیں ہائے ہائے خاک اڑنے لگے جب آنکھوں میں سارے دنیا پہ خاک ڈالتے ہیں۔ جب تک توانائی ہے کسی کو اپنی بھی ہوش کہاں!بس جہاں بھی نفس اڑائے پھرے۔جب تک خون موجزن ہے اور زندگی سیٹیاں بجاتی ہے تب تک کسے آرام۔ یعنی آرام ہی آرام کہ بیداری تو نری اذیت ہے اور آگہی قیامت ۔حالات بہت کڑے اور کرخت ہیں ۔سب اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں حکومت ہو‘ اپوزیشن ہو یا عوام سب کو اپنی اپنی پڑی ہوئی: رند
مزید پڑھیے


ہجر کو چولہے پہ چڑھائے رکھا

اتوار 28 فروری 2021ء
سعد الله شاہ
ہماری آنکھ میں برسات چھوڑ جاتا ہے یہ ہجر اپنی علامات چھوڑ جاتا ہے یہ دن کا ساتھ بھی بالکل تمہارے جیسا ہے کہ روز جاتے ہوئے رات چھوڑ جااتا ہے احساس بڑی ظالم شے ہے۔ آپ اسے آگہی کہہ یا کچھ اور، اپنے بس میں کیا ہے کچھ بھی نہیں۔کوئی ضروری نہیں کہ جو آپ سوچیں وہ لکھ پائیں یا پھر جو آپ لکھ پائیں وہ چھپ بھی سکے۔ کچھ حدود و قیود میں آپ کو رہنا پڑتا ہے کچھ اندیشے اور کچھ امکان تو ہر کسی کے ذہن و دل میں انگڑائی لیتے ہیں پھر بندش نیا در کھولتی ہے کہ اک
مزید پڑھیے


ڈسکہ کا یادگار الیکشن اور دلچسپ جھلکیاں

هفته 27 فروری 2021ء
سعد الله شاہ
وضعداری نہ تکلف نہ لطافت سمجھا دل کم فہم مروت کو محبت سمجھا قند میں لپٹا ہوا زہر تھا سب راز و نیاز میں کہ محروم وفا اس کو عنایت سمجھا وہ تو فراز نے بھی کہا تھادوست ہو تا نہیں ہاتھ ملانے والا ،پھر یہ تو اور بھی اذیت ناک ہے کہ جب ہاتھ دکھانے والے ملیں ۔بات کرتا ہے تو دامن بھی بچا جاتا ہے۔ کیا کریں ایسے ہی لوگوں کے درمیان میں جینا پڑتا ہے یا وہ جو ہمارے درمیان لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ہماری حماقتوں پر قہقہہ بار ہوتے ہیں۔ سیاست میں تو محبت کی نہیں مفاد کی
مزید پڑھیے








اہم خبریں