BN

سعد الله شاہ


پوچھتے ہیں کہ کیا ہوا دل کو


ہم سے کوئی بھی عہد نبھایا نہیں گیا سر سے جمال یار کا سایہ نہیں گیا کب ہے وصال یار کی محرومیوں کا غم یہ خواب تھا سو ہم کو دکھایا نہیں گیا سائے کے نیچے کونسا پودا پنپ سکتا ہے اور سایہ بھی جب بوڑھے برگد کا ہو تو وہ کس کو پھلنے پھولنے دے گا۔ اگر اس کے نیچے اگنے والی پنیری ہی رہتی ہے اور پھر یہ کھاد کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ زراعت والے میری بات ذرا اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔فی الحال تو مجھے عمران خاں کی تازہ بات کرنی ہے جسے وہ کئی بار تازہ کر چکے
هفته 07 نومبر 2020ء

پانچویں اہل قلم کانفرنس برائے اطفال2020ء

جمعرات 05 نومبر 2020ء
سعد الله شاہ
کس نے پھولوں کو مہکایا کس نے ان میں رس کو چھپایا کس نے مکھی کو بتلایا اس نے کیسے شہد بنایا بولو کون خیال میں آیا جس کا کوئی جسم نہ سایہ یہ ایک نظم کا بند ہے جو ایک ہی وقت میں پہیلی بھی ہے اور پیغام بھی۔ثمینہ راجا کہنے لگیں کہ واقعتاً اس طرح بچوں کی ذہن سازی کی جائیگی۔ بچوں کے لئے لکھنا سب سے مشکل ہے کہ آپ کو بچہ بننا پڑتا ہے اور ذہن رسا سے ناپختہ دماغ کی سمت نمائی کرنا پڑتی ہے۔ نونہالوں کی دلچسپی سرفہرست ہے اور ان کی حیرتوں کی تشفی بھی۔ علامہ اقبال کی پہاڑ
مزید پڑھیے


نئی تبدیلی اور نیا جھگڑا

بدھ 04 نومبر 2020ء
سعد الله شاہ
کیسے سنبھال پائے گا اپنے تو ماہ وسال کو میں نے اگر جھٹک دیا سر سے ترے خیال کو میں نے بھی تجھ کوپا لیا تو نے مجھ کو پا لیا تو نے مرے زوال کو میں نے ترے کمال کو لیجئے صحیح معنوں میں تبدیلی تو اب آئی ہے بلکہ یہ تبدیلی کے اندر تبدیلی ہے کہ فیاض الحسن چوہان آئوٹ اور فردوس عاشق اعوان ان۔ ویسے تو دونوں ہی ہم قافیہ ہیں مگر فردوس عاشق اعوان ذرا تازہ دم ہو کر آئی ہیں ۔ سوشل میڈیا پر بھی ان کے آنے پر شادیانے بجائے گئے ہیںکہ وہاں ویسے یہ ہلکا پھلکا مذاق
مزید پڑھیے


ایک پُرنور تقریب

منگل 03 نومبر 2020ء
سعد الله شاہ
یقین کچھ بھی نہیں گمان کچھ بھی نہیں جو تو نہیں ہے تو سارا جہان کچھ بھی نہیں ترے ہی نام سے پہچان ہے میرے آقاؐ وگرنہ اپنا تو نام و نشان کچھ بھی نہیں کون سی صفت سے انہیں متصف کیا جائے کہ ہر تعریف اپنے عروج پر بھی ان کے شایان شان نہیں ٹھہرتی۔ کیسے ٹھہرے کہ جس ہستی پر خود خدا اور فرشتے درود بھیجتے ہوں اور اس کی امت کا ہر کام ان پر درود بھیجنے سے تکمیل کو پہنچ جاتا ہو، جن کا حوالہ دعاگوپر لگا دے، جن کا نرم و گداز خیال دل کو فرحت و انبساط
مزید پڑھیے


خدارا آگ نہ بھڑکائیں

پیر 02 نومبر 2020ء
سعد الله شاہ
چند لمحے جو ملے مجھ کو ترے نام کے تھے سچ تو یہ ہے کہ یہی لمحے مرے کام کے تھے سعد پڑھنا پڑی ہم کو بھی کتاب ہستی باب آغاز کے تھے جس کے نہ انجام کے تھے دنیا کی ہما ہمی میں بندہ اس قدر مصروف ہو جاتا ہے تو اسے سب کچھ بھول جاتا ہے پھر بھلانے والا اسے اپنا آپ بھی بھلا دیتا ہے۔ جب اسے ہوش آتا ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اپنی مٹھی میں کوئی بھی لمحہ نہیں اور کہنے کو ہم کتنے برسوں جیئے۔ شام ہوتے ہی اڑ گئے
مزید پڑھیے



دیکھا جو تیر کھا کے

اتوار 01 نومبر 2020ء
سعد الله شاہ
درد کو اشک بنانے کی ضرورت کیا تھی تھا جو اس دل میں دکھانے کی ضرورت کیا تھی ہم نے جو کچھ بھی کیا اپنی محبت میں کیا گو سمجھتے ہیں زمانے کی ضرورت کیا تھی اس سے پہلے کہ ہم محبت اور ضرورت کی بات کریں کہ کچھ باتیں بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ ہو محبت تو ٹپک پڑی ہے خود آنکھوں سے۔ اے میرے دوست بتانے کی ضرورت کیا تھی۔ ویسے نفرت بھی بہت منہ زور ہوتی ہے۔ بغض و عداوت تو لہجے ہی سے عیاں ہو جاتی ہے۔ اس وقت پورا ملک سابق سپیکر ایاز صادق کی حالیہ گفتگو کے
مزید پڑھیے


سارے ہی شہر کے چہرے پہ لہو بولتا ہے

جمعرات 29 اکتوبر 2020ء
سعد الله شاہ
مجھ سا کوئی جہان میں نادان بھی نہ ہو کر کے جو عشق کہتا ہے نقصان بھی نہ ہو کچھ بھی نہیں ہوں میں مگر اتنا ضرور ہے بن میرے شاید آپ کی پہچان بھی نہ ہو میرے پیارے قارئین!بات آپ کے زاویۂ نگاہ سے بدل جاتی ہے اور پھر جب وہ نقطہ نظر بن جاتا ہے تو آپ اس کو اسی حوالے سے دیکھتے ہیں۔ بات ساری انداز فکر اور سوچ کی ہے جس کے پیچھے آپ کی نیت کارفرما ہوتی ہے۔ میرے پیش نظر مندرجہ بالا پہلا شعر ہے کہ جب کسی نے اس پر روشنی ڈالی اور کہا کہ واہ شاہ
مزید پڑھیے


ایک سرخی اور حالات

منگل 27 اکتوبر 2020ء
سعد الله شاہ
درد کو اشک بنانے کی ضرورت کیا تھی تھا جو اس دل میں دکھانے کی ضرورت کیا تھی ہم تو پہلے ہی ترے حق میں تہی دست ہوئے ایسے گھائل پہ نشانے کی ضرورت کیا تھی آج تک اخباروں میں شہ سرخی یہی جمی ہے کہ کٹھ پتلیوں کا کھیل ختم ہونے والا ہے۔ یہ بظاہر ایک سرخی ہے مگر بڑی پہلو دار ہے۔ میں تو پہلی نظر میں ہی ڈر گیا ۔مجھے اپنے ایک دوست یاد آئے جنہوں نے اخبارکے دفتر میں کسی کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ہم سرخی لگا دیتے ہوتے ہیں‘پاس سے میں نے کہا سرخی اتارتے بھی یہی
مزید پڑھیے


سید حسن کے لئے ایک کالم

پیر 26 اکتوبر 2020ء
سعد الله شاہ
در بہراں گل نو خواستہ سبحان اللہ جلوہ آرا ہے وہ بالواسطہ سبحان اللہ ایسا ہنستا ہوا چہرہ کہیں دیکھا ہی نہ تھا کہہ دیا میں نے بھی بے ساختہ سبحان اللہ آج تو میں کوئی مہکتا ہوا اور رنگ و روشنی سے مزین کالم لکھنا چاہتا ہوں۔ مسکراتے ہوئے چہروں کی بات کرنا چاہتا ہوں وہی کہ میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے‘آپ جانتے ہیں کہ زمستاں کی آمد آمد ہے۔ رات بھیگنے لگتی ہے اور صبح کی ہوا میں خنکی در آئی ہے۔ دوسری طرح محرم اور صفر کے بعد ربیع الاول کے آغاز ہی سے شادیوں کا سیزن
مزید پڑھیے


سیاستدانوں کی کمزوری

اتوار 25 اکتوبر 2020ء
سعد الله شاہ
جاگتی سی آنکھ سے کتنے خواب دیکھتے دشت پار کر گئے ہم سراب دیکھتے جلوۂ جمال نے راکھ کردیا ہیں کیا سوال سوچتے کیا جواب دیکھتے گویا وسعت دشت تھی سراب کے ساتھ‘ یہی تو کمال ہوتا ہے لیڈرکا کہ آس ٹوٹنے نہ دے‘ امید دلائے رکھے اور قافلے کو لے کر چلتا رہے مگر تابہ کے! کوئی تو حد ہوتی ہے جہاں آ کر کوئی پکار اٹھتا ہے۔ کوئی ایسا کر بہانہ میری آس ٹوٹ جائے۔ کہ اب تک تو بے چارے یہی سنتے رہے کہ جسے دیکھنی ہو جنت میرے ساتھ آئے۔ اب تو سپنے دیکھ دیکھ کر آنکھیں تھک چکی ہیں۔
مزید پڑھیے