BN

سعد الله شاہ


خواجہ محمدزکریا کی 80 ویں سالگرہ


کیا سروکار ہمیں رونق بازار کے ساتھ ہم الگ بیٹھے ہیں دست ہنر آثار کے ساتھ ایک احساس وفا کی طرح بے قیمت ہیں ہم کو پرکھے نہ کوئی درھم و دینار کے ساتھ میرے پسندیدہ فکشن رائٹر جمیل احمد عدیل نے ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کے حوالے سے پوسٹ لگائی کہ 80برس کے ہو چکے مجھے مندرجہ بالا اشعار لکھنا پڑے کہ ’پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ افسوس تجھ کو میر سے صحبت نہیں رہی۔ مگر ہمیں تو ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا سے محبت رہی اور خوب رہی۔ آج بھی ان کے چہرے پر وہی معصومیت اور خوبصورتی ہے جو چالیس
منگل 24 مارچ 2020ء

باتوں سے خوشبو آئے

اتوار 22 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
کس کس ادا پہ اس کی میں واروں نہ اپنا دل اس پر ہے ختم خامشی اس پر سخن تمام شبنم نے کام کر دیا جلتی پہ تیل کا دہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام رئیس المتغزلین حسرت موہانی کے طرح مصرع پر میں نے گرہ لگائی تو میرے پیارے دوست اسلم کولسری بے اختیار گویا ہوئے’’کون لگائے گا اس سے بہتر گرہ‘‘ شاید یہی تو حسرت کے مصرع تر کا کمال تھا۔ بات میں نے شبنم اور پھول کی کرنا تھی کہ اس کی پنکھڑیوں پر اوس کے قطرے موتیوں کی طرح جگمگاتے ہیں۔ کولرج نے تو اور بھی خوب بات
مزید پڑھیے


عمران خان کا بے بدل بیانیہ

جمعه 20 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
اچھا لگتا ہے مجھے گل تو بجا لگتا ہے وہ بھی میری ہی طرح محو دعا لگتا ہے خان صاحب نے قوم سے خطاب کر لیا اور معرکتہ الآرا جملہ کہہ دیا‘ کرونا وائرس جلد پھیلتا ہے، گھبرانا نہیں‘ مل کر لڑیں گے۔ یہ بھی انہوں نے پتے کی بات کی کہ عوام کو احتیاط کرنی ہے۔ آ پ نے ہاتھ نہیں ملانا‘ چھینک نہیں مارنی اور وغیرہ وغیرہ یعنی انہوں نے قومی پالیسیاں بیان کر دیں۔ دنیا سے قرض معافی کی اپیل کر دی کہ اس نازک موقع پر آئی ایم ایف کا قرضہ ادا کرنے کے قابل نہیں ہونگے۔
مزید پڑھیے


احتیاط واجب ہے

بدھ 18 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
اپنی اپنی انا کو بھلایا جا سکتا تھا شاید سارا شہر بچایا جا سکتا تھا دھوپ میں جلنے والو آئو بیٹھ کے سوچیں اس رستے میں پیڑ لگایا جا سکتا تھا وہی جو کسی نے کہا تھا ’’آئو اک دوسرے کے دُکھ بانٹ لیں‘‘ بلکہ راجندر سنگھ بیدی نے افسانہ لکھا تھا ’’اپنے دُکھ مجھے دے دو‘‘ شاید اسی کا نام زندگی ہے۔ احساس ہو تو دُکھ بانٹنے میں جو خوشی اور مسرت ہے اس سے ہر شخص آشنا نہیں۔ فیض صاحب نے بھی کیا خوب کہا تھا ’’اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا‘‘ مگر اب اگر تصرف کر کے کہا
مزید پڑھیے


ہم اور موسمِ گریہ

منگل 17 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
میری حیرت کا تصور ہے وہی ذات کہ جو جہاں ہوتے نہیں اسباب‘ بنا دیتی ہے میری آنکھوں کو وہ خالی نہیں رہنے دیتی کہیں تارا کہیں مہتاب بنا دیتی ہے قربان جائوں میں اس ذات کو جو سائے میں ٹھنڈک رکھتی ہے اور دھوپ میں تمازت کہ ہر صورت زندگی محسوس ہونے لگتی جب فطرت پر نظر کریں تو اس کی آیات کہاں کہاں جلوہ گر نہیں ہیں۔ اب کے جو بہار اتری ہے تو اپنے سارے رنگ لے کر اتری ہے آنکھ ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر۔ منہ نظر آتے ہیں دیواروں کے بیچ‘ اللہ اللہ جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو
مزید پڑھیے



کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا

جمعه 13 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
شہرت کے ساتھ ساتھ بڑھا ہے یہ اضطراب گم نام سا وہ شخص ہمیں مانتا نہیں یہ شہرت بھی عجیب شے ہے‘ مل جائے تو سکون تباہ کر دیتی ہے اور نہ ملے تو بندہ اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ہے۔ یہ مثبت بھی ہوتی ہے کہ کوئی نیک نام ہو جائے اور منفی کہ کوئی بدنام ہو جائے۔ لگتا ہے ہر شخص حسد سے۔ سعدؔ ایسا بدنام ہوا ہے‘ اور پھر انجام بھی تو ویسا ہی ہوتا ہے کہ ہم دونوں آغاز پہ پہنچے۔سعدؔایسا انجام ہوا ہے۔ وہ بھی تو کسی استاد نے کہا تھا بدنام جو ہوں گے تو کیا
مزید پڑھیے


ایک شاندار مشاعرہ

جمعرات 12 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
مشکل کو سروں سے ٹالنے والا تو ہے مجھ کو مرے گھر میں پالنے والا تو ہے ہوں سیپ سمندروں میں اور ہوں خالی ہاتھ موتی مری سمت اچھالنے والا تو ہے آج مجھے سمز Simsکے شاندار مشاعرہ کا تذکرہ کرنا ہے مگر آغاز ایک خوبصورت حمدیہ شعر سے کرتے ہیں جو وہاں معروف کالم نگار اور طرحدار شاعرہ سعدیہ قریشی نے پڑھا: وہ پہلے خواب رکھتا ہے تہی آنکھوں کے کاسوں میں پھر اک دست کرم سے خواب کو تعبیر کرتا ہے اور ایک امیدواور آرزو سے بھرا ہوا اس کی غزل کا شعر: گیلی مٹی سے کسی خواب کا چہرہ گوندھے اک ہنر کار کوئی ڈھونڈ کے
مزید پڑھیے


دشمنی اور پاکستان

بدھ 11 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
مجھ پہ کیچڑ نہ اچھالے مرے دشمن سے کہو اپنی دستار سنبھالے مرے دشمن سے کہو وہ عدو میرا ہے اس کو یہ ذرا دھیان رہے اپنا قد کاٹھ نکالے مرے دشمن سے کہو دوستی اور دشمنی غالباً جڑواں نہیں ہیں۔ آپ یقین کریں کہ میں نے بھی سعادت حسن منٹو کی طرح یونہی کالم شروع کر دیا کہ ایک دشمنی کی بات کرنا تھی۔ اپنے ازلی دشمن کی۔ ویسے تو اذلی دشمن شیطان ہے مگر بھارت بھی اس سے کم نہیں ہے کہ اس کی فتنہ سامانیاں کسی کو جینے نہیں دیتیں۔ کشمیر میں اس نے کب سے کرفیو لگا رکھا ہے اور
مزید پڑھیے


اپنی مرضی کا کالم

پیر 09 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
بولے تو لفظ باعثِ الزام ہو گئے ہم چپ رہے تو اور بھی بدنام ہو گئے چاہت کے چار حرف محبت میں گم ہوئے ہم دل کو پاس رکھنے میں ناکام ہو گئے کیا کریں لوگ کسی بھی حالت میں جینے نہیں دیتے۔ کسی غلط بات پر جواب آں غزل کہہ دیں تو گستاخ گردانے جاتے ہیں اور کسی کی گستاخی پر چپ رہیں تو کہتے ہیں اب بھیگی بلی کیوں بن گئے! یہ رنگ بھی سارے آنکھوں کے ہوتے ہیں ورنہ رنگوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو لوگ کلر بلائنڈ نہ ہوں۔ یگانہ نے بھی تو کہہ دیا تھا
مزید پڑھیے


کاشانہ کی کائنات اور انصاف

اتوار 08 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
مصلحت کو شوائد خواب لٹے جاتے ہیں زندہ رہنے کے بھی اسباب لٹے جاتے ہیں کیا ضروری ہے کہ تم پر بھی قیامت ٹوٹے کیا یہ کافی نہیں احباب لٹے جاتے ہیں غالب نے تو کہہ دیا تھا کہ دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک‘اور یہ بھی فرمایا تھا مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں‘ دل دہلا دینے والے کاشانہ سکینڈل پر حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی اور معاشرتی بے حسی پر سعدیہ قریشی نے اپنے قلم کو نشتر بنا کر کالم تحریر کیا۔ ایک کے بعد دوسرا نوحہ لکھا اور گریہ زاری کی مگر اشک تو جیسے پیاسے
مزید پڑھیے