Common frontend top

سعد الله شاہ


رم جھم میں بھیگتا ہوا مرغزار مشاعرہ


کیا سروکار ہمیں رونق بازار کے ساتھ ہم الگ بیٹھے ہیں دست ہنر آثار کے ساتھ اے میرے دوست ذرا دیکھ میں ہارا تو نہیں میرا سر بھی تو پڑا ہے میری دستار کے ساتھ یہ کسی جرات و عزیمت کی داستان تھی تو غزل بننے لگی۔ نہ کوئی خندہ بلب ہے نہ کوئی گریہ کناں تیرہ دیوانہ پڑا ہے تیری دیوار کے ساتھ رنجشیں کارزیاں دربدری تنہائی اور دنیا بھی خفا تیرے گنہگار کے ساتھ تمہید باندھنا پڑی کہ ادب کے پیرائے میں کچھ بیان کرنا ہے اور پھر ایک مشاعرے کا حال کہ جسے بارش نے آ لیا مگر بارش تو
بدھ 28 جون 2023ء مزید پڑھیے

مرغزار میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کانفرنس

اتوار 25 جون 2023ء
سعد الله شاہ
ایک جگنو ہی سہی ایک ستارا ہی سہی شب تیرہ میں اجالوں کا اشارہ ہی سہی ہیں ابھی شہر میں ناموس پر مرنے والے جینے والوں کے لئے اتنا سہارا ہی سہی اور پھر اک نہ اک روز اتر جائیں گے ہم موجوں میں اک سمندر نہ سہی اس کا کنارا ہی سہی۔آج مجھے دل کو خون کرنا ہے کہ تذکرہ عافیہ صدیقی کا ہے۔اٹھارہ جون کی شب اس قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے سلسلہ میں مرغزار گرائونڈ میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔ میرے لئے حیرت و انبساط کا باعث ہاں ہزاروں لوگوں کا مجمع تھا صد شکر کہ آج
مزید پڑھیے


پلاک کا استاد دامن میلہ

منگل 20 جون 2023ء
سعد الله شاہ
روشنی بن کے اندھیروں میں اتر جاتے ہیں ہم وہی لوگ ہیں جو جاں سے گزر جاتے ہیں کتنے کم فہم ہیں یہ ہم کو ڈرانے والے وہ کوئی اور ہیں جو موت سے ڈر جاتے ہیں یہ اشعار یقینا کربلا والوں پر ہی جچتے ہیں’’ کربلا والوں کا رستہ ہے ہمارا رستہ، یہ وہ رستہ ہے کہ جس رستے پر سر جاتے ہیں‘‘ میں نے تو اجمالاًاشعار لکھ دیے تھے اصل میں مجھے تذکرہ کرنا ہے ایک بے باک اور انقلابی پنجابی شاعر کا کہ پلاک والوں نے ان کے نام پر ایک رنگا رنگ میلہ ہی نہیںسجایا بلکہ اس مناسبت سے
مزید پڑھیے


حکومت‘ حالات اور طفل تسلیاں

هفته 17 جون 2023ء
سعد الله شاہ
خواب کمخواب کا احساس کہاں رکھیں گے اے گل صبح تری باس کہاں رکھیں گے سر تسلیم ہے خم کچھ نہ کہیں گے لیکن یہ قلم اور قرطاس کہاں رکھیں گے غالب نے بھی تو کہا تھا کہ’ لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوں چکاں، ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے‘ بہرحال خود ہی روئیں گے ہمیں پڑھ کے زمانے والے ہم بھلا رنج و الم پاس کہاں رکھیں گے۔صرف صرف حق و صداقت ہی باقی رہنے والا اور رہے گا۔ کب وہ مرتا ہے جو زندہ رہے کردار کے ساتھ اور باریابی اور پذیرائی بھی اسی شے کو ہے جو
مزید پڑھیے


ایک ادبی کالم اور عناصر اربعٰ

جمعرات 15 جون 2023ء
سعد الله شاہ
ہم کہ چہرے پہ نہ لائے کبھی ویرانی کو کیا یہ کافی نہیں ظالم تیری حیرانی کو کار فرہاد سے یہ کم تو نہیں جو ہم نے آنکھ سے دل کی طرف موڑ دیا پانی کو ایک شعر مزید کہ ’’ دامن چشم میں تارا ہے نہ جگنو کوئی۔دیکھ اے دوست مری بے سروسامانی کو‘‘ کچھ ایسی ہی بے سروسامانی آپ سیاست میں بھی دیکھ رہے ہیں۔ان کی آنکھ میں آنسو بھی ہیں تو ندامت کے نہیں بلکہ مگرمچھ کے یا گلیسرین والے۔میں تو خالصتاً ادبی کالم لکھنے کے موڈ میں ہوں مگر سامنے سیاسی منظر نامہ بھی آ گیا کہ فواد چوہدری
مزید پڑھیے



وہ مجھ کو چھوڑ گیا تو مجھے یقین آیا!!

جمعرات 08 جون 2023ء
سعد الله شاہ
دلوں کے ساتھ یہ اشکوں کی رائیگانی بھی کہ ساتھ آگ کے جلنے لگا ہے پانی بھی اسے یقین نہ آیا ہماری چاہت کا ہمیں عزیز رہی اس کی بدگمانی بھی ایک شعر ذرا اور دیکھ لیجیے کہ ہوا ہے عشق تو تھوڑا سا حوصلہ بھی میاں، کہ حسن رکھتا ہے تھوڑی سی سرگرانی بھی۔ایک خیال اچھوتا سا ذھن میں آیا کہ بچا رہے ہو ہوائوں سے تم چراغ مگر ہوا کے بعد کہاں اس کی زندگانی بھی۔ میرے پیش نظر حالیہ ویڈیو ہے کہ وہ فرما رہے ہیں کہ وہ اکیلے رہ گئے نہ کسی کو فون کر سکتے ہیں اور نہ
مزید پڑھیے


ایک خالص ادبی کالم

اتوار 04 جون 2023ء
سعد الله شاہ
دعا کرو میں تمہارے حصار سے نکلوں رہ جمال کے زریں غبار سے نکلوں یہ جسم و جاں تو کسی نشہ نمود میں ہیں خزاں کو قید کروں تو بہار سے نکلوں ایک شعر اور دیکھیے کہ میں کائنات سے کرتا ہوں زندگی کو کشید کہ اوس بن کے بُن خار خار سے نکلوں۔یہ تمہید مجھے اس لئے باندھنا پڑی کہ کسی نے اقبال ساجد کی ایک غزل گائی تو آنکھوں کے سامنے وہ زمانہ گھوم گیا جب اقبال ساجد ادبی حلقوں میں گھومتے پھرتے تھے۔ مشہور یہی تھا کہ وہ نونہالات کو غزل کہہ کر دیتے ہیں اور روزگار پیدا کرتے ہیں مگر
مزید پڑھیے


بدلتے حالات اور یوم تکبیر کی یاد

منگل 30 مئی 2023ء
سعد الله شاہ
ترے اثر سے نکلنے کے سو وسیلے کیے مگر وہ نین کہ تو نے تھے جو نشیلے کئے ابھی بہار کا نشہ لہو میں رقصاں تھا کفِ خزاں نے ہر اک شے کے ہاتھ پیلے کئے واقعتاً اللہ کی قدرت کیسے ظہور کرتی انسان کی سمجھ ہاتھ کھڑے کر دیتی ہے۔وہ مردہ زمین کو تو زندہ کرتا ہے کہ آسمان سے پانی اتارتا ہے مگر وہ بھی تو کلام معتبر میں ہے کہ گھمنڈ کرنے والے اور دوسروں کو ان کے حق سے دور رکھنے والے کا باغ ہی اجڑ جاتا ہے۔کہیں کوئی غلطی ضرور ہوتی ہے ۔میں نے ایسے ہی عالم میں سوچا
مزید پڑھیے


حالات اور بجٹ ریلیف

پیر 29 مئی 2023ء
سعد الله شاہ
سویا ہوا تھا شہر تو بیدار کون تھا سب دم بخود ہیں ایسا خطاکار کون تھا باقی ہم ہی بچے تھے سو نظروں میں آ گئے ہم جیسوں کا وگرنہ خریدار کون تھا اور پھر ایک اور خیال کلبلا رہا ہے اب تک کسی کو بھیک میں عزت نہیں ملی۔اے خوش گمان اس کا طلب گار کون تھا ۔ اور بات کہ ’کردار تھے کس کے کہانی کسی کی تھی، کوئی بتائے صاحب کردار کون تھا۔ بات دردناک ہے کہ ہمارے ہاں خاص طور ایسے موقع پر کہ جب کوئی بہانہ ہاتھ لگ جائے تو سب سے زیادہ قتل سچ کا ہوتا ہے۔ سچ
مزید پڑھیے


قوم و ملت کیلئے ثمر بار ہونیوالی سرگرمیاں!!

منگل 23 مئی 2023ء
سعد الله شاہ
در بہاراں گل نوخواستہ سبحان اللہ جلوہ آرا ہے وہ بالواسطہ سبحان اللہ ایسا ہنستا ہوا چہرا کہیں دیکھا ہی نہ تھا کہہ دیا میں نے بھی بے ساختہ سبحان اللہ اور پھر جس مقصد کے لئے یہ تمہد باندھی’ پھول کھلنے لگے یادوں کے پس غرفہ، چشم بزم یاراں ہوئی آراستہ سبحان اللہ اور پھر اس سبب یہ شعر بھی ذہن میں آ گیا کہ’ اے ذوق کسی ہمدم دیرینہ کا ملنا۔بہتر ہے ملاقات میںمسیحاو خضر سے‘ میرے لئے یہ ایک خوشگوار عمل تھا کہ ایک ایسی محفل میں جائوں کہ جہاں ملنے کا سبب ایک پاکیزہ اور بے لوث تعلق
مزید پڑھیے








اہم خبریں