BN

سعد الله شاہ


کچھ ادب کچھ سیاست


پھر چشم نیم وا سے ترا خواب دیکھنا پھر اس کے بعد خود کوتہہ اب دیکھنا ٹوٹا ہے دل کا آئینہ اپنی نگاہ سے اب کیا شکست ذات کے اسباب دیکھنا آپ بھی جانتے ہیں کہ انسان کے اپنے اندر ہی اس کی خرابی کی صورت پنہاں ہوتی ہے۔ یہ میرا نہیں بلکہ غالب کاخیال ہے بس یہی صورت ہمیں خراب کرتی ہے بلکہ دوسروں کو بھی۔آپ دیکھتے نہیں کہ لوگ ایک دوسرے سے کس طرح برسر پیکار ہیں اور وہ غور بھی نہیں کرتے کہ آخر وہ کر کیا رہے ہیں۔ ان لوگوں کے لئے لڑ رہے ہیں جو اصل میں سارے
هفته 30 جولائی 2022ء مزید پڑھیے

آسمان سے تجھے اتارا ہے

جمعرات 28 جولائی 2022ء
سعد الله شاہ
جینے کا حوصلہ مجھے اچھا دیا گیا مجھ کو خیال خام میں الجھا دیا گیا بس اس سبب سے مجھ کو نہیں مل سکے گا کچھ میں سوچتا جو ہوں کہ مجھے کیا دیا گیا لیکن شکوہ اور شکایت سے کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا،کچھ دل کی باتیں کرتے ہیں‘اے سعدؔ اس کتاب کو کہتے ہیں لوگ دل جس کو گل خیال سے مہکا دیا گیا۔سیاست کی بات بھی کریں گے اور دین کی بھی کہ صرف چنگیزی درست نہیں۔ دونوں صورتوں میں ادب تو ملحوظ خاطر رہنا چاہیے۔بات کچھ یوں ہے کہ آج درس میں مولانا حبیب اللہ چیزوں کی حلت و حرمت
مزید پڑھیے


سوال در سوال مسئلہ

بدھ 27 جولائی 2022ء
سعد الله شاہ
نچلی منزل ڈوبنے کا جب نظارہ دیکھنا اپنی منزل کے لیے پھر کبھی کنارا دیکھنا اب کے رونا بھی جو چاہیں رو نہیں سکتے ہم حال ہو گا اس سے آگے کیا ہمارا دیکھنا کیا کروں جو وقت کا نوحہ نہ کہوں ویسے بھی یہ سوختہ دل کی پکار ہے۔ ایک ہی مٹی کی خوشبو ایک ہی دھرتی کے رنگ۔ کس لیے پھر یہ نہیں ہم کو گوارا دیکھنا۔ ظلم کے سیلاب کو روکو‘ اگر یہ بڑھ گیا۔ اس میں کوئی مل نہ پائے کا سہارا دیکھنا۔ جو بھی ہے اب آخری صورت خدا کے پاس ہے۔ اب دعا میں ڈوب کر اپنا
مزید پڑھیے


وہ محبت کا کوئی لفظ نہ لب تک لایا

منگل 26 جولائی 2022ء
سعد الله شاہ
تجھ کو دنیا کچھ نہیں کہتی لیکن مجھ کو پاگل تیری جیت ادھوری ہے اور میری ہار مکمل اس کے ملنے کی کیفیت اب تک یاد ہے مجھ کو جیسے صحرا سے گزرا ہو گہرا کالا بادل کیا کیا جائے ایک عجیب کیفیت سے گزر رہے ہیں یہ مبالغہ نہیں کہ ایک عجیب گھٹن ہے اندر اور کمال چھبن ہے۔اک پل ایک صدی ہے مجھ کو اور میں سوچوں پل پل۔ کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ سب مست ہو کر اپنا اپنا کھیل کھیل رہے ہیں اور عوام تماشہ دیکھنے کی بھی سکت نہیں رکھتی۔اسے اقتدار کے گندے اور لتھڑے ہوئے معاملات سے
مزید پڑھیے


زرداری اور پنجاب کا معرکہ

اتوار 24 جولائی 2022ء
سعد الله شاہ
اڑان میں بھی کھلے اپنے پر نہیں رکھتا ہر ایک شخص تو ایسا ہنر نہیں رکھتا کبھی خیال میں آئی نہیں شہنشاہی مری بلا سے ہما جو گزر نہیں رکھتا آخر وہی ہو گیا جس کا خدشہ تھا کہ قسمت کی خوبی دیکھیے ٹوٹی کہاں کمند‘ دو چار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا ۔پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ بنتے بنتے رہ گئے اور حمزہ شریف کہ جس کے بارے میں سوشل میڈیا پر کلام چلایا جا رہا تھا کہ لے یار حوالے رب دے میلے چار دناں دے۔وہ اپنی سیٹ پر براجمان رہے۔ سیاست بھی کرکٹ کی طرح ہی بائی چانس ہو گئی ہے
مزید پڑھیے



جیت کے بعد مضمرات اور خدشات

جمعرات 21 جولائی 2022ء
سعد الله شاہ
محفل سے اٹھ نہ جائیں کہیں خامشی کے ساتھ ہم سے نہ کوئی بات کرے بے رخی کے ساتھ اپنا تو اصل زر سے بھی نقصان بڑھ گیا سچ مچ کا عشق مر گیا اک دل لگی کے ساتھ اتحادیوں کو لینے کے دینے پڑ گئے ہیں۔ اتحادی مشکل وقت میں ایسے اکٹھے ہوئے جیسے کہ منیر نیازی نے کہا تھا اپنے اپنے خوف وچ اک دوجے نال ،جڑے ہوئے نیں شہر دے مکان۔پہلی دفعہ مجھے محسوس ہوا کہ انہوں نے بھی عمران خاں سے سیکھ لیا ہے کہ آخری وقت تک لڑنا ہے۔انہوں نے اعلان کر دیا ہے کہ وفاقی حکومت مدت پوری
مزید پڑھیے


ن لیگ کی شکست کے عوامل

منگل 19 جولائی 2022ء
سعد الله شاہ
کسی کی نیند اڑی اور کسی کے خواب گئے سفینے سارے اچانک ہی زیر آب گئے ہمیں گماں نہ ہوا اک ذرا سی غفلت سے ہمارے ہاتھ سے مہتاب و آفتاب گئے جی بالکل درست ضمنی الیکشن ہیں بڑے بڑے برج الٹ گئے۔بلا شیر پر برسا۔پی ٹی آئی کی پندرہ نشستیں اور ن لیگ کی چار۔ پی ٹی آئی ایک زندہ حقیقت کا نام ہے اور اب عمران کے علاوہ بھی بہت کچھ وجود پا چکا ہے۔بہرحال مجھے فخر ہے کہ اس تجزیہ پر معروف شاعر اعجاز کنور راجہ نے کہ خوشی ہوئی کہ غیر جانبدار صحافت اب بھی ہو رہی ہے مقصد بات
مزید پڑھیے


پی ٹی آئی ایک زندہ حقیقت !

هفته 16 جولائی 2022ء
سعد الله شاہ
دونوں کا ہے درد پرانا لیکن نئی کہانی بجلی آنکھ مچولی کھیلے آنکھ سے برسے پانی ہر تصویر ہے آنکھ کا دھوکہ اور دھوکہ بھی ایسا جو صورت بھی جان سکے ہم وہی لگی پرانی اور پھر اس میں ایک رومانس بھی تو ہے ہم نے اس کو ساری باتیں ایک ہی سانس میں کہہ دیں۔اپنے پیارے کے جذبے میں تھی چھپی ہوئی نادانی۔ یہاں تک تو بات سیاست کی نہیں تھی۔یہاں تو بجلی آنکھ مچولی نہیں کھیلتی بلکہ کئی کئی گھنٹے غائب رہتی ہے۔ایک پیاری سی پوسٹ نظرنواز ہوئی کہ شہباز شریف کے آنے پر پتہ چلا کہ پچھلی حکومت کی نااہلی کے
مزید پڑھیے


خوش خبری اور ضمنی انتخاب

جمعرات 14 جولائی 2022ء
سعد الله شاہ
یہ جو ایک صبح کا ستارا ہے دن نکلنے کا استعارا ہے اس کو بھولا ہوا ہوں مدت سے جو مرا آخری سہارا ہے مظاہر فظرت اللہ کی کھلی نشانیاں ہیں۔ اچھے موسموں کی آس میں کون نہیں ہوتا یہ ایک الگ بات کہ ہم حبس کے موسم سے گزر رہے ہیں ایسا حبس کہ جوش یاد آتے ہیں وہ حبس تھا کہ لو کی دعا مانگتے تھے لوگ ،لیکن جہاں لوگ اچھی خبر کو ترس گئے تھے کہ پے درپے پٹرول مہنگا ہوا اور پھر بجلی کے جھٹکے لوگ مہنگائی کے بوجھ تلے کرا رہے ہیں ایسے میں یہ خوشخبری کہ حکومت
مزید پڑھیے


بلوچستان کی آواز

بدھ 13 جولائی 2022ء
سعد الله شاہ
کسی نے یاد رکھا کب سبھی کچھ ہی چلو ہم بھول جائیں اب سبھی کچھ ہی اسے کھونے کی قیمت ہے میں جو کچھ ہوں اسے کھویا تو پایا تب سبھی کچھ ہی مگر حقیقت کی طرف آیا تو معلوم ہوا سب زندگی کے واہمے تھے وگرنہ بات تو کچھ اور ہے۔ ’’نہ جانے سعد پھرتا ہوں میں در در۔اسے پانے کا مطلب جب سبھی کچھ ہی۔ اقبال نے بھی تو کہا تھا وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات۔مجھے یہ سب کچھ اس لئے بیان کرنا پڑا کہ بلوچستان سے آئی ہوئی ایک خاتون
مزید پڑھیے








اہم خبریں