BN

سعد الله شاہ


عمران خان اور سرکاری ملازمین


ہم نے جو کچھ بھی کیا اپنی محبت میں کیا گو سمجھتے ہیں زمانے کی ضرورت کیا تھی ہو جو چاہت تو ٹپک پڑتی ہے آنکھوں سے اے مرے دوست بتانے کی ضرورت کیا تھی آج ہم خان صاحب کے حق میں ایک کالم لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں مگر اس سے پہلے دو پیاری سی خبریں سامنے آ گئیں اور ہم بے کل ہو گئے۔ نظرانداز کریں گے تو دل میں حسرت اظہار رہ جائے گی۔ اخبار کے صفحۂ اول پر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مرتبہ ماسک کے ساتھ تصویر نظر نواز ہوئی ہے۔ لکھا ہے کہ ٹرمپ نے پہلی مرتبہ ماسک پہن
منگل 14 جولائی 2020ء

حکومت کی ترجیحات اور کارکردگی

اتوار 12 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
چند لمحے جو ملے مجھ کو تیرے نام کے تھے سچ تو یہ ہے کہ یہی لمحے مرے کام کے تھے پڑھنا پڑی ہم کو بھی کتاب ہستی باب آغاز کے تھے جس کے نہ انجام کے تھے زندگی سمجھ میں آ جائے تو زندگی کرنا بھی آ جاتا ہے مگر یہ ہے اک بجھارت سی‘ وہی کہ کس لئے آئے تھے اور کیا کر چلے والا معاملہ ہے۔ ذوق کی اس غزل کا مطلع بھی تو لاجواب ہے۔لائی حیات آئے ‘ قضا لے چلی چلے۔ اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے۔ ویسے بھی خوشی کو غم کے طویل فقرے میں رموز
مزید پڑھیے


حکومت کی بے بسی اور درپردہ ایجنڈا

هفته 11 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
جو بھٹکتا ہے مری راہ بنا جاتا ہے ورنہ بستی میں کہاں سیدھا چلا جاتا ہے یہ کیا ہے کہ سیدھا چلنے کا زمانہ ہی نہیں اور راست دیکھنے کا‘وہی کہ ’’الٹا لٹکو گے تو سیدھا نظر آئے گا‘‘ حالات نے ہر شے کی ہیت قذائی بدل کر رکھ دی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے موجودہ ابتری میں بندہ منیر نیازی کی طرح ہی سوچتا ہے۔ عادت ہی بنا لی ہے تونے تو منیر اپنی ۔ جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا۔ ایک ہی طرح کے دگرگوں حالات دیکھ کر بندہ اکتا تو جاتا ہے بلکہ بعض معاملات میں
مزید پڑھیے


آٹے کی پرانی قیمت بحال ہو گی؟

جمعرات 09 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
کوئی پلکوں پہ لے کر وفا کے دیے دیکھ بیٹھا ہے رستے میں تیرے لئے اپنی مٹھی میں کوئی بھی لمحہ نہیں اور کہنے کو ہم کتنے برسوں جیے ابھی ہی کی بات لگتی ہے کہ ہم رنگ و بو کے موسم میں یونیورسٹی آئے اور اس بات کو لگ بھگ چالیس سال گزر چکے۔ پلکوں پر جگنو اور ستارے چمکتے تھے اور آنکھوں میں کہکشائیں ۔ دیکھتے ہی دیکھتے عملی زندگی میں آ گئے اور اب نوبت باایں جا رسید کہ لمحات تلخی سے بھر گئے۔ اور شام ہوتے ہی اڑ گئے پنچھی۔ وقت جتنا بھی تھا پرایا تھا۔ رومانس کا دورانیہ
مزید پڑھیے


اپنی روش نرالی ہے

هفته 04 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
کتنا نازک ہے وہ پری پیکر جس کا جگنو سے ہاتھ جل جائے مجھے بہت ہی انوکھا تجربہ ہوا۔ مجھے بھوک نے ستایا تو میں شاہ عالمی میں ایک ہوٹل میں آن بیٹھا اور بیرے سے مینیو پوچھا۔ بیرے سے پہلے قریب ہی بیٹھا مالک بولا ’’بائو جی!آپ ہمارے کوفتے ٹرائی کریں۔ ظاہر ہے کوفتے قیمے سے بنتے ہیں۔ اس لئے کوفتے کھانے میں سراسر رسک ہے۔ میں نے انکار میں سر ہلایا تو ہوٹل کا مالک کہنے لگا۔بائو جی ہم جدی پشتی کوفتے بناتے ہیں۔ آپ ایک دفعہ کھا لیں۔ ہمارے کوفتے کی خوبی یہ ہے کہ آپ اس چوک سے
مزید پڑھیے



مائنس خان مطلب مائنس پی ٹی آئی

جمعه 03 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
برلبِ ناز گل حرف دعا میرے لئے اے فلک دیکھ مجھے چشم گہر بار کے ساتھ کھا گیا مجھ کو مگر حرفِ تسلی اس کا کاش وہ گھائو لگاتا مجھے تلوار کے ساتھ ہائے ہائے خان صاحب نے کیا کہہ دیا کہ اپوزیشن این آر او کے لئے مجھے مائنس کرنا چاہتی ہے۔ اپوزیشن آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔ تم نے روکے محبت کے خود راستے‘اس طرح ہم میں ہوتی گئی دوریاں۔ جناب اپوزیشن کی کیا مجال کہ وہ آپ کو مائنس کر سکے۔ وہ تو خود دونوں بلکہ سارے بیک جنبش قلم مائنس ہو گئے۔ سیاست میں آپ کا راج آ گیا
مزید پڑھیے


اِدھر اُدھر کی باتیں

بدھ 01 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
لفظ ٹوٹے لبِ اظہار تک آتے آتے مر گئے ہم ترے معیار تک آتے آتے ایک لمحے کی مسافت ہی بہت ہوتی ہے ہم کو تو عمر لگی یار تک آتے آتے وہی جو کسی نے کہا تھا کہ ’’جان جائے گی تو اعتبار آئے گا‘‘ویسے محبوب امتحان تو لیتا ہے۔ ناز نخرے تو دکھاتا ہے۔ عشق میں یہی تو ہوتا ہے کہ جو گھبرا گیا مارا گیا۔اچھا اس بات پر بات کرتے ہیں۔ پہلے ایک نہایت دلچسپ خبر کا لطف اٹھاتے ہیں۔ خبر منفرد ہو تو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ خیز یہ تھی کہ ایک لگڑ بگڑ جو کہ زخمی تھا شہر میں
مزید پڑھیے


ہمارے سوا کوئی چوائس نہیں

منگل 30 جون 2020ء
سعد الله شاہ
چشم نمناک لئے سینہ صد چاک سیے دور تک ہم بھی گئے اپنے خریدار کے ساتھ رنجش کار زیاں دربدری تنہائی اور دنیا بھی خفا تیرے گنہگار کے ساتھ کیا کیا جائے بات کچھ کرو‘ لوگ سمجھتے کچھ ہیں‘ شکر ہے کہ ہمارے دوست ندیم خان ہی سمجھے اور کہنے لگے کہ آپ نے خان صاحب پر بڑے لطیف پیرائے میں طنز کی ہے۔ یہاں بے جا نہ ہو گا کہ آپ کو ماضی کا نہایت دلچسپ قصہ سنا دوں ایک مرتبہ میں نے سابق آئی جی پنجاب سردار محمد چودھری کی کتاب پر ایک جملہ لکھ دیا۔ اصل میں میں شہباز شریف کی
مزید پڑھیے


خان صاحب کے دفاع میں

پیر 29 جون 2020ء
سعد الله شاہ
ہم کہ چہرے پہ نہ لائے کبھی ویرانی کو کیا یہ کافی نہیں ظالم کی پشیمانی کو کار فرہاد سے یہ کم تو نہیں جو ہم نے آنکھ سے دل کی طرف موڑ دیا پانی کو صبر سے بڑی دولت دنیا میں کوئی نہیں۔ یہ ویسے بھی سو مصیبتوں کا علاج ہے۔ قناعت کا وصف اسی کی ذیل میں آتا ہے۔ ریاضت بھی اسی کی تفصیل ہے۔ ملا نصیرالدین نے اپنے گدھے پر اسی قسم کا ایک تجربہ کیا تھا کہ اسے بارہ دن بھوکا رکھا اور تیرہویں دن وہ بے زبان چل بسا۔ دوستوں نے ملا سے کہا کہ اس نے اپنے
مزید پڑھیے


سیاسی صورتحال اور ایک پرسہ

اتوار 28 جون 2020ء
سعد الله شاہ
ملیں ہم کبھی تو ایسے کہ حجاب بھول جائے میں سوال بھول جائوں تو جواب بھول جائے تو کسی خیال میں ہو اور اسی خیال ہی میں کبھی میرے راستے میں گلاب بھول جائے یہ بھول بھی کیا شے ہے کہ کبھی اس میں کرشمہ سازی بھی ہو سکتی ہے۔ روز کہتا ہوں بھول جائوں اسے۔ روز یہ بات بھول جاتا ہوں۔ مجھے یہ سب کچھ خان صاحب کی وجہ سے یاد آ رہا ہے کہ انہوں نے دو سال گزرنے کے بعد رقیب رو سیاہ پر سوال داغ دیا ہے کہ ملک اس حال میں چھوڑنے والوں سے جواب طلب کیا جائے؟سب کچھ
مزید پڑھیے