BN

سعد الله شاہ



اتنے خوبصورت لب جھوٹ کیسے بولیں گے


وہ ایک یار طرحدار بھی ضروری تھا اور اس کی سمت سے انکار بھی ضروری تھا چٹان چوٹ پہ چنگاریاں دکھانے لگی مگر تراشنا شہکار بھی ضروری تھا یہ باتیں کوئی معرفت کی باتیں نہیں ہیں‘ بالکل سامنے کی ہیں۔ اس کھیل کو سمجھنے کے لئے کوئی قانون یا آئین پڑھنا ضروری نہیں یہ تو شوق و ذوق کی شہنشاہی ہے کہ پرواز اسی مٹی کے حصے میں آئی ہے۔ کہیں اس کو نواز دیا تو کبھی اس کو اور تو اور یہ سخنوروں کی بھی ضرورت رہے ہیں کہ ’’بنتی نہیں ہے بات بلاول کہے بغیر‘‘ یہ ہماری ثقافت ہی نہیں نفسیات کا
جمعرات 28 مارچ 2019ء

’’برداشت ‘‘ کی دعائیہ محفل

بدھ 27 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
مجھ کو میری ہی اداسی سے نکالے کوئی میں محبت ہوں محبت کو بچا لے کوئی جگر نے بھی دل کی بات کہی تھی کہ ’’میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے‘‘ تب اس نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ‘‘ بنیادی بات اصل میں یہی ہے کہ بندہ شیریں سخن نہ سہی کم از کم نرم خو تو ہو۔ کونپل کتنی نزاکت سے زمین کا سینہ چاک کرتی ہے۔ جرس گل بھی بہار کی نقیب ہے۔ اقبال نے بھی ہمیں مرد خلیق کی بات بتائی تھی اور ہجوم مے خانہ کا باعث اس
مزید پڑھیے


جوان جذبے، سنہرے خواب، خوش رنگ گلاب

پیر 25 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
اگرچہ غم بھی ضروری ہے زندگی کے لئے مگر یہ کیا کہ ترستے رہیں خوشی کے لئے وہ مجھ کو چھوڑ گیا تو مجھے یقیں آیا کوئی بھی شخص ضروری نہیں کسی کے لئے یہ شب و روز کا ہجر و وصال ہی تو زندگی ہے۔ یہ سردی گرمی اور بہار و خزاں اور پھر بارش سب موسم ہی تو ہیں۔ پھول کھلیں یا زخم سلیں یا پھر بچھڑے ہوئے ملیں‘ سب کیفیتوں کے نام ہیں۔ میں سمز کے تخیل مشاعرہ میں تھا اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ ’’رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے‘‘ یہ عہد شباب جوان جذبے‘ سنہرے
مزید پڑھیے


اردو سائنس بورڈ‘ اردو لغت اور پنجابی لغت

اتوار 24 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
ویسے تو کھیلوںمیں ہمارے ہاں یہ روایت رہی ہے کہ جو ذرا اچھا کھیلنا شروع ہو جاتا ہے اسے ٹیم ہی سے نکال دیا جاتا تاکہ اس کا دماغ ہی نہ خراب ہو جائے۔ یہ میں مذاق سے نہیں لکھ رہا۔ واقعتاً جب ایک مرتبہ ہاکی ٹیم سے میرا فیورٹ حسن سردار نکالا گیا تو تب میں نے حسن کے بارے میں انگریزی میں نظم لکھی کہ ایم اے انگریزی کا دور تھا۔ منیر نیازی نے بھی شاید اسے ہی عالم میں کہا ہو گا: مجھ میں ہی کچھ کمی تھی کہ بہتر میں ان سے تھا میں شہر میں کسی کے
مزید پڑھیے


خالد احمد کی چھٹی برسی پر کچھ یادیں

جمعرات 21 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
ہمارے پاس حیرانی نہیں تھی ہمیں کوئی پریشانی نہیں تھی ہمیں ہونا تھا رسوا ہم ہوئے ہیں کسی کی ہم نے بھی مانی نہیں تھی میرے پیارے قارئین:حیرت ہی وہ عمل ہے جس سے شہرِ طلسمات کے دروا ہوتے ہیں۔ یہ سیب کے کھانے سے لے کر سیب کے زمین پر گرنے تک کا ردعمل ہے۔ تو تدبر اور فکر ضروری ہے۔ ویسے تو ہبوط آدم کے ساتھ ہی شیطان بھی ساتھ ہی زمین پر اتر آیا تھا اور پھر اس نے ہمارے نفس کو بھی بیعت کر لیا۔ خیر میں بات تو کچھ اور کرنا چاہتا تھا مگر راہوارقلم کسی اور طرف
مزید پڑھیے




ملال رُت اور ہماری ترقی

بدھ 20 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
اک دل بنا رہاہوں میں دل کے مکین میں مشکل سے بات بنتی ہے مشکل زمین میں فرصت ہمیں ملی تو کبھی لیں گے سر سے کام اک در بنانا چاہیے دیوار چین میں آپ ان اشعار کو بے محل نہ جانیے کہ ہم یہ اشعار عمران خان اور عثمان بزدار کی ایک تصویر کو دیکھ کر لکھ رہے ہیں جس میں وہ ون ٹو ون ملاقات کر رہے ہیں اور اس نہایت قیمتی اور ہائی پروفائل میٹنگ میں خان صاحب اپنے وسیم اکرم پلس کو پنجاب کی گورننس بہتر بنانے کی تلقین کر رہے ہیں۔ یقین مانیے کہ یہ میری کم فہمی یا
مزید پڑھیے


ایک منفرد سالگرہ اور مشاعرہ

منگل 19 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
میری حیرت کا تصور رہے وہی ذات کہ جو جہاں ہوتے نہیں اسباب بنا دیتی ہے میری آنکھوں کو وہ خالی نہیں رہنے دیتی کہیں تارہ کہیں مہتاب بنا دیتی ہے اللہ اپنی صفات سے پہچانا جاتا ہے۔ میرے ایک دوست ہیں ملک صاحب، ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو وہ ٹانگوں سے محروم تھا یعنی ان میں حرکت تک نہیں تھی۔ ملک صاحب اٹھتے بیٹھتے اسی بچے کی فکر میں رہتے کہ اس کا بنے گا کیا۔ وہ تو دھڑ ہی دھڑ تھا اور اس دھڑ پر جو سر تھا وہ ذہن رسا تھا۔ یہ معذور بچہ ایف ایس سی تک پہنچا
مزید پڑھیے


نیوزی لینڈ کے شہید اور ہمارے آنسو

اتوار 17 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
اے خاصۂ خاصانِ رسل ؐوقت دعا ہے امت پہ تیری آکے عجب وقت پڑا ہے رنگ و خوشبو ہی نہیں فطرت کے تمام تر مناظر کا تعلق ہمارے حواس کے ساتھ ہے۔ وہی کہ ’’دل تو میرا اداس ہے ناصر۔ شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے‘‘ بلکہ ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر اداسی بال کھولے سو رہی ہے۔ نیوزی لینڈ کی قیامت خیز دہشت گردی جس میں ایک شیطان صفت درندے نے پچاس مسلمانوں کو جمعہ پڑھتے ہوئے گولیوں سے بھون دیا کئی بری طرح زخمی ہوئے یہ ایک آسٹریلوی عیسائی دہشت گرد کا حملہ تھا جس نے اپنی کیپ میں
مزید پڑھیے


عثمان خواجہ اور ہم

هفته 16 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
درد کو اشک بنانے کی ضرورت کیا تھی تھا جو اس دل میں دکھانے کی ضرورت کیا تھی ہو محبت تو چھلک پڑتی ہے خود آنکھوں سے اے مرے دوست بتانے کی ضرورت کیا تھی یہ جو بات شعرثانی میں ہے بہت بے ساختہ ہے کہ انسان کی خوشی بعض اوقات چھپائے نہیں چھپتی اور محبت سے بڑھ کر اور خوشی کی بات کون سی ہوسکتی ہے۔ یہ تو آنکھوں سے بھی عیاں ہو جاتی ہے۔ محبت ضروری نہیں کہ محبوب ہی سے ہو اور یہ بھی ضروری نہیں کہ محبوب کوئی صنف ہی ہو۔ محبوب اپنا وطن بھی تو ہوتا ہے۔ تو ہمارے
مزید پڑھیے


بلاول بھٹو اور سخن کی خوشبو

جمعرات 14 مارچ 2019ء
سعد الله شاہ
ترے اثر سے نکلنے کے سو وسیلے کیے مگر وہ نین کہ تونے تھے جونشیلے کیے ادھر تھا جھیل سی آنکھوں میں آسمان کا رنگ ادھر خیال نے پنچھی تمام نیلے کیے ہم نے یہ دو شعر بلاول کے نام کر دیے کہ ان کی آنکھوں پر پھر سے وہ پرانے موسم اتر رہے ہیں۔ وہ دور انہیں یاد آ رہا ہے جن کا سرور اور نشہ اب تک ان کو سرمست کئے ہوئے ہیں۔ میثاق جمہوریت جس نے ان کی باریاں طے کر دی تھیں۔ کھائو اور کھانے دو کا سیدھا سا معاہدہ۔ انتشار سے بچنے کا عام سا نسخہ کبھی نورا کشتی
مزید پڑھیے