BN

سعود عثمانی



کیا دہشت گرد کاواقعی کوئی مذہب نہیں ؟


کالم بھیجنے کی تیاری کر رہا تھا کہ کرائسٹ چرچ ،نیوزی لینڈ کے سانحے کی اطلاع آگئی ۔ پہلے مجمل خبریں اور پھر مفصل ۔پھر ویڈیوز وصول ہونے لگیں ۔ایسی ویڈیوزجنہیں دیکھنے کے لیے بھی بڑا دل گردہ چاہیے ۔اس سفاک کا دل گردہ دیکھیں جس نے نہ صرف نہتے ، پر امن نمازیوں کو جن سے اس کا کوئی ذاتی جھگڑا نہیں تھا، نہ صرف فائرنگ سے شہید کرڈالا بلکہ اپنے ہیلمٹ میں نصب کیمرے سے اس فلم کو براہ راست نشر کرتا رہا ۔پہلے ایک مسجد پر حملے کی خبر آئی پھر علم ہوا کہ نہیں مسجدیں بھی
اتوار 17 مارچ 2019ء

تحریر، تصویر ، تاثیر

اتوار 10 مارچ 2019ء
سعود عثمانی
’’ ناسٹیلجیا ‘‘ ۔ ایک تصویر،جزئیات سمیٹے ہوئے ایک بڑی تصویر ۔ اس تصویر کے ایک گوشے میں، مَیں کھڑا ہوں اور ایک شفیق باپ کو اپنے پیارے بیٹے کو پیار کرتے دیکھتا ہوں۔یہ وہ محلہ وہ گلی ہے جس میں سلمان باسط کے والد اپنے کنبے کے ساتھ رہتے ہیں۔ مگر ٹھہرئیے۔یہ تو وہ گلی بھی ہے جس میں میرے والد اپنے گھرانے کے ساتھ رہتے ہیں۔ایونگ روڈ،نیلا گنبد لاہور کی مسجد والی گلی ۔یہ محلہ جہاں ہم سلمان کو چلتے پھرتے اور اپنے گھر میں گھومتے دیکھتے ہیں، یہاں تو ہم سب بھی چلتے پھرتے اور اپنے
مزید پڑھیے


صحرا ست کہ دریا ست تہ بال و پر ماست… (2)

منگل 05 مارچ 2019ء
سعود عثمانی
اسی سوال سے منسلک کچھ اور سوال بھی ہیں ۔ پائلٹ ابھی نندن کی کسی انڈین ائیر بیس آفیسرز میس کی وہ ویڈیو یو ٹیوب پر موجود ہے جس میں وہ سخوئی جہاز کا پائلٹ بتایا جارہا ہے اور دوسرے پائلٹ کے ساتھ موجود ہے (واضح رہے کہ سخوئی میں دو پائلٹ بیٹھتے ہیں )۔کسی بھی اعلیٰ جہاز کے پائلٹ کی یہ تذلیل سمجھی جاتی ہے کہ اسے کم درجے کے جہاز کا پائلٹ بنا دیا جائے ۔ توچھٹا سوال یہ ہے کہ سخوئی کا یہ پائلٹ مگ 21 میں کیا کر رہا تھا ؟جبکہ انڈین ائیر فورس نے
مزید پڑھیے


صحراست کہ دریاست تہ بال و پر ماست

اتوار 03 مارچ 2019ء
سعود عثمانی
26-27 فروری کی درمیانی رات سخت بے چینی والی تھی۔لائن آف کنٹرول پر زیادہ مگر پورے ملک میں سخت تناؤ کی کیفیت تھی۔تمام رات وہ ویڈیو کلپ وصول ہوتے رہے جن سے سیالکوٹ ،پونچھ، راجوری، چکوٹھی سیکٹرز میں زبردست فائرنگ کا اندازہ کیا جاسکتا تھا۔ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں کی غیر معمولی نقل و حرکت تو کئی دن سے چل رہی تھی۔ہندوستانی میڈیا خاص طور پر گزشتہ کل کی مفروضہ سرجیکل سٹرائیک اور مبینہ حملے کی پڑیاںمسلسل بیچ رہا تھا۔سوشل میڈیا پر بھی گھمسان کا رن پڑا ہوا تھا اور ہر شخص آج رات ہی اپنی اپنی فوجی مہارت ثابت کرنے
مزید پڑھیے


ایک زمرّدی جزیرے کی یاد

اتوار 24 فروری 2019ء
سعود عثمانی
پتایا ،سیام یعنی تھائی لینڈ (Thailand)کے ساحل پر مغرب کی طرف رخ کرکے کھڑے ہوں تو دور سمندر میں کچھ زمردی جزیرے دکھائی دیتے ہیں۔ صاف موسم میں بہت صاف۔دھند بھری فضا میں محض ہیولے۔مقامی زبان میں کوہ لارن(Koh Larn) اور سیاحوں کی زبان میں کورل آئی لینڈز(Coral islands)کہلانے والے یہ سرسبز جزیرے خوب صورت ریتلے ساحلوں اور ڈوبتے چڑھتے سورج میں سمندر کے رنگوں کے لیے مشہور ہیں ۔سفید بلکہ کچھ کچھ نقرئی ریت یہاں سے وہاں تک بچھی ہوئی اور جہاں یہ ریت ختم ہو وہاں سے ہریالی شروع۔ ’’پتایا‘‘ سیام کے دارالحکومت بنکاک (Bangkok) کے ٹریفک جام
مزید پڑھیے




عجیب دھوپ ہے دیوار سے اترتی نہیں

اتوار 10 فروری 2019ء
سعود عثمانی
خطیب منزل کراچی بھی ختم ہوئی۔بہت مدت سے اس گھر میں نہیں جاسکا تھا لیکن اس کے باوجود اس کے فروخت ہوجانے اور ملکیت کسی اجنبی ہاتھ میں چلے جانے کا سن کر کوئی تیز دھار سی شے دل پر خراش ڈالتی نکل گئی۔ شاید کچھ دن مزید یہ گھراسی طرح رہے ،لیکن ایک دن نئی بود و باش، نئی ضروریات اور نئے مسائل مل کر اسے ڈھا دیں گے۔یہاں ایک پلاٹ رہ جائے گا اور اس پر نئے خد وخال کی ایک نئی عمارت کھڑی ہوجائے گی۔ایسا ہی ہوگا اور ایسا ہی ہوتا چلا آیا ہے۔ آبائی مکانوں اور جذباتی
مزید پڑھیے


ایک رنگ کا رنگ برنگا موسم

اتوار 03 فروری 2019ء
سعود عثمانی
کیسے لکھتے ہیں بھئی یہ لوگ۔خیر لکھتے تو کسی بھی طرح ہوں لیکن کیا مزے سے لکھتے ہیں۔ایک ہی موسم‘ ایک ہی رنگ چھایا رہتا ہے تحریر کے ارد گرد۔ایک ہی اسلوب، ایک ہی مزاج۔آخر بیمار بھی ہوتے ہوں گے۔ رنجیدگی بھی سایہ ڈالتی ہوگی۔غصے میں بھی آتے ہوں گے۔ دل گرفتگی تو زندگی کے وجود کا سایہ ہے جو ساتھ ساتھ رہتا ہے۔نا امید بھی ہوتے ہوں گے۔ بیزاری بھی تو کبھی حملہ کرتی ہوگی کبھی لکھنے کی طرف طبیعت نہیں بھی آتی ہو گی لیکن دیکھ لیجیے۔کسی کے لکھنے کی عمر پچاس سال۔کسی کی ساٹھ۔کسی کی ستر۔کم
مزید پڑھیے


کیا دکھ ہے اگر معرض ِ اظہار میں آوے

اتوار 27 جنوری 2019ء
سعود عثمانی
شیکسپئیر نے کہا تھا۔ مسکراہٹ اور آنسو ساتھ ساتھ چلتے ہیں ۔(Tear and smile go together) زندگی کا بے لگام گھوڑا تو سرپٹ بھاگتا رہتا ہے۔اسے غرض نہیں کہ اس کے سوار پر کیا گزر تی ہے۔ اس کا ہاتھ باگ پر اور پاؤں رکاب میں ہے یا نہیں۔یہ تو بس ایک دن کسی گہرے گڑھے کے پاس رکے گا اور سوار کو اس میں دے پٹخے گا۔ایک ابدی کیفیت میں چھوڑ جانے کے لیے۔ کچھ بھی کہہ لیں قرار نہیں آتا۔کسی بھی کام میں لگ جائیں ،چین نہیں پڑتا ۔ سانحہ ساہیوال کے معصوم بچوں کی تصویریں دل سے دماغ تک
مزید پڑھیے


اک شخص تھا لیکن کوئی اک شخص نہ تھا میں

اتوار 20 جنوری 2019ء
سعود عثمانی
’’ ـ ابا جی۔ہے سعود عثمانی ہین۔مفتی شفیع صاحب دے پوترے‘ ‘ سفید ریش بزرگ نے سر اٹھایا۔شفقت اور محبت بھرے چہرے پر مہربان خد و خال نمایاں ہوئے۔ پہلے صرف ہونٹوں پر تبسم آیا، پھر پورا چہرا مسکرانے لگا۔انہوں نے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھائے۔ ہاتھوں میں وہی گرمی ،نرمی اور گداز تھا جو استاذ الخطاطین سید نفیس الحسینی کے ہاتھوں سے پھوٹتا تھا۔ جس دن فتح جنگ کے میٹھے اور کھڑتل لہجے میں اظہار الحق صاحب نے پہلی بار میرا تعارف اپنے والد گرامی مولانا ظہور الحق سے کروایا اس کے بعد مزید کم از کم دو موقعوں
مزید پڑھیے


پیرِ تسمہ پا سے رہائی

اتوار 13 جنوری 2019ء
سعود عثمانی
کھڑے کھڑے ٹانگیں دکھ گئیںلیکن قطار آگے سرکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔کاؤنٹر تک رسائی ہوجائے تو بورڈنگ پاس میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ نہ لگنی چاہیے لیکن جو صاحب پونے گھنٹے سے کاؤنٹر پر کھڑے تھے وہ بس کھڑے تھے۔انہیں بورڈنگ پاس مل ہی نہیں رہا تھا کہ دائیں بائیں ہوجاتے۔ان کے پیچھے پندرہ بیس مسافروں کے بعد اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے میں یہ اندازہ لگا رہا تھا کہ ان صاحب کو پون گھنٹہ لگ چکا ہے تو اس حساب سے مجھے کُل کتنا وقت لگے گا۔ 12 ستمبر کی سہ پہر میں جناح ائیر پورٹ
مزید پڑھیے