سعود عثمانی



ہم چو ما دیگرے نیست


ایک بار پھر وزیر اعظم نے مذہبی معاملات اور تاریخ پر بات کرتے ہوئے غیر محتاط الفاظ اور غیر مناسب پیرایہ اختیار کیا۔حالانکہ اس خطاب میں ان تاریخی اور مذہبی واقعات کو چھیڑنا ضروری نہیں تھا۔لیکن ہم چو ما دیگرے نیست(مجھ جیسا اور کوئی نہیں) کا زعم یہ سب کچھ کروا کر ہی دم لیتا ہے۔اس سے پہلے بھی ان کی گفتگومیں ان غلط اور غیر مناسب باتوں کی نشان دہی کی جاتی رہی ہے جن سے نہ صرف ملک کی سبکی ہوتی ہے بلکہ وزیر اعظم کے مبلغ ِعلم اور دانش پر بھی سوالیہ نشان لگ جاتے ہیں۔ جاپان
اتوار 16 جون 2019ء

اُس دن عید مبارک ہوسی ۔۔

اتوار 09 جون 2019ء
سعود عثمانی
جو عید آئی اور اب گزر چکی، اس کی آپ سب کو مبارک ۔ عید آتی ہے اور گزر جاتی ہے ۔ خوشیوں، اداسیوں اور جدائیوں کی ملی جلی کیفیات کے ساتھ۔کسی گھر میں مسکراہٹیں اور قہقہے لے کر آتی ہے اور کہیں آنسو ۔یہی بار بار ہوتا ہے ،بس ہر بار گھرانوں کی ترتیب بدلتی جاتی ہے۔ہر سال روزوں کا باطمینان اختتام ۔عید کی تیاری۔عورتوں بچوں کی خوشیاں۔عزیزوں کی دوری۔ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والوں کا غم۔یہ سب غم اور سب خوشیاں ہر بار اس دن آتی ہیں اورعید پر ان خوشیوں غموں کی شدت ہر دوسرے دن سے
مزید پڑھیے


خواجہ غریب نواز کی درگاہ میں

اتوار 02 جون 2019ء
سعود عثمانی
ہے کوئی شخص سمندر جیسا سخی ۔ سورج جیسا مشفق اور زمین جیسا متواضع ؟ عقلی طور پر تو سمجھ نہ آنے والی بات ہے اور اجمیر پہنچ کر تو رہے سہے قیاسات بھی گم ہوجاتے ہیں کہ سیستان، ایران کے ایک خوبرو ،خوش قامت نجیب الطرفین سید زادے، سید معین الدین نے جوانی میں ہی اجمیر کو اپنا مستقر کیوں بنا لیا تھا۔تمام دنیا میں تحصیل علم اور رموز تصوف سیکھنے کے لیے سال ہا سال پھرنے والے صاحبِ دل کو یہ ریگستانی ویرانہ اور بے آباد جنگل کیا ایسا بھایا کہ وہ یہیں کا ہورہا۔اجمیر بھی آج کا
مزید پڑھیے


نیم ریتیلی زمین پر

اتوار 26 مئی 2019ء
سعود عثمانی
اودے پور کے اس سبزی خور ہوٹل کی بہت سی مزے دار یادیں ہیں لیکن صرف دو واقعات سن لیجیے۔ ہم غالبا چار دن وہاں رہے تھے۔مقیم شعراء میں جناب شہریار اور احمد فراز سب سے سینئر تھے اور مصیبت یہ تھی کہ اس بات کا ان دونوں کو احساس بھی تھا۔عمر کے اس حصے میں طبیعت پر بعض اوقات چڑچڑاپن حاوی ہونے لگتا ہے اور سینیارٹی کی رعایت میں وہ باتیں بھی انسان کہنے لگتا ہے جو محفل کی خوشگوار فضا کو تناؤ میں بدل دیں۔چنانچہ ان دونوں سینئرز کی طرف سے کوئی نہ کوئی بات
مزید پڑھیے


اودے پور کے مہمان

اتوار 19 مئی 2019ء
سعود عثمانی
میںاودے پور راجستھان میں اپنے کمرے کی عقبی بالکنی سے’ ’ اراوالی‘‘ پہاڑیوں کے عقب میں غروب کے منظر بھول نہیں سکتا۔ دائیں بائیں اور سامنے سنگ مرمر کی فیکٹریوں میں بڑی بڑی سلوں سے دھوپ اور شفق کے رنگ منعکس ہوتے تو لگتا کہ پتھروں کے اندر سنہری گلابی پھول کھلے ہوئے ہیں۔بادلوں کے جھروکوں سے طلائی کرنیںچوڑی اور موٹی دھاروں کی صورت میںمٹیالی زمین کو رنگوں میں نہلاتی تھیں۔زمین نے یہ منظر اربوں بار دیکھا ہوگا لیکن ہر بار یہ نیا نکور لگتا ہے ۔کیسا تنوع ہے فطرت کے خزانے میں ۔یہ منظر کیسی حیرت، کیسی اداسی اور
مزید پڑھیے




جو اُترا سو ڈوب گیا ، جو ڈوبا سو پار

اتوار 12 مئی 2019ء
سعود عثمانی
درگاہ حضرت نظام الدین سے کافی پہلے ایک تنگ سے بازار سے گزرنا پڑتا ہے۔دونوں طرف بریانیوں، کبابچیوں، نان بائیوں اور چائے فروشوں کے خوانچے اور ریڑھیاں۔عام طور پر ہندوستان میں صفائی کے حالات بہت خراب ہیں۔گندگی ،کوڑا کرکٹ ،آوارہ کتے، بلیاں اور نئی دہلی سمیت بہت سے شہروں میں جارحانہ عزائم والے بندر۔سڑکوں پر آوارہ پھرتی گائیں اس پر مستزاد۔مزید بدقسمتی یہ کہ مسلمانوں کے مرکزی علاقوں میں صفائی کا حال زیادہ خراب ہے۔چنانچہ ہنومان جی کی کمی کے علاوہ باقی سب کچھ یہاں بھی اسی طرح تھا ۔ذرا سا آگے قدرے کشادہ جگہ پر بائیں ہاتھ غالب اکیڈمی
مزید پڑھیے


خسرو نجام کے بل بل جاؤں

اتوار 05 مئی 2019ء
سعود عثمانی
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے ۔ لیکن مسافر نواز صرف لوگ تھوڑی ہوتے ہیں ۔ہر جگہ کا اپنا حسن اور اپنی خوبصورتی ہوا کرتی ہے ۔ تا حد نظرصحرا کا اپنا جمال ہے اورپہاڑی راستوں کا اپنا حسن ۔ بدلتے منظر ،رچی بسی تاریخ ،مٹی سے جڑی تہذیب۔ بولیوں اور آب و ہوا میں گھلا ہوا تمدن ۔یہ سب وہ پڑاؤ، وہ سرائیں بلکہ خواب سرا ئیں ہیں جہاں مسافر تا دیر قیام کرتے ہیں۔ خدا کی بنائی ہوئی مخلوق، ان کے رسم و رواج ، انکے رہن سہن ، ان کے در و دیوار، ان کے کھانے
مزید پڑھیے


جھیلوں اور سنگ مرمر کا شہر

اتوار 28 اپریل 2019ء
سعود عثمانی
نا جانے آج کہاں سے اودے پور راجستھان انڈیا کا ایک منظر نہاں خانے سے اٹھ کر آنکھوں میں آ کھڑا ہوا۔ نظریں جما کر دیکھا تو یہ ایک منظر ہی نہیں لاتعداد مناظر پر مبنی ایک فلم تھی۔یہ منظر اس طرح تازہ ہونے لگے جیسے بہت دیر سے دھند اور بادلوں کی دیوار تنی ہو اور یکایک ان میں شگاف اور رخنے پڑنے لگیں۔شگافوں کی ان کھڑکیوں اور جھروکوں کے دوسری طرف چمکیلی دھوپ نکلی ہوئی ہو، سرسبز کھیت اس تصویر کو ہرا رنگ دے رہے ہوں اور کھپریل کی سرخ چھتوں والے گھروں میں چلتے پھرتے مکین
مزید پڑھیے


’ ’ دولما باشے سرائے ‘‘

اتوار 14 اپریل 2019ء
سعود عثمانی
بہت بڑا ،بہت ہی بڑا دربار۔ دیواروں پر بیش قیمت روغنی تصویریں۔چھت سونے کے بیل بوٹوں سے لشکارے مارتی ہوئی ۔ جگمگ فرش اور اس پر ہاتھ کا بنا ہوا خالص ریشم کا قالین۔چھت سے آتا اور ایک مناسب اونچائی پر ٹھہرا ہوا بہت بڑا بلّوری روشن فانوس ۔زرّیں پردے،بلّور (crystal )کی نہایت قیمتی آرائشی اشیاء ۔ہاتھی دانت ، سنگ ِ یشب اور یاقوت و زمّرد جڑی تلواریں اور خنجر۔یہ شاہی محل کا محض ایک دربار ایوانِ تقاریب (ceremonial hall) ہے۔ میں نے جتنے شاہی محل آج تک دیکھے یہ ان میں منفرد اور جدید ترین ہے۔لاہور کا شاہی قلعہ
مزید پڑھیے


خوش قسمت بد نصیب

اتوار 07 اپریل 2019ء
سعود عثمانی
مچھیرا ٹھٹھک گیا۔وہ کافی دیر سے اگری کاپے (Egrikapi)، استنبول کے سنسان ساحل پر گھوم رہا تھا.یہ 1699سن عیسوی کی ایک دوپہر کا ذکر ہے۔ کسی چمک دار پتھر کی جھلک نے مچھیرے کے قدم روک دئیے تھے۔اس نے پتھروں اورکوڑے کے ڈھیر کو دوبارہ غور سے دیکھا اور اسے بھدے ،بے رنگ پتھروں کے درمیان وہ چمک دار پتھر پھر نظر آیا۔یہ بڑا سا پتھر تھا یا شاید شیشے کا بیضوی ٹکڑا۔اس نے جھک کر پتھر اٹھایا اور جیب میں ڈال لیا۔شاید اس غربت میں وہ اس کے کسی کام آسکے۔گھر واپسی پر وہ ایک جوہری کی دکان
مزید پڑھیے