BN

سعود عثمانی



اک شخص تھا لیکن کوئی اک شخص نہ تھا میں


’’ ـ ابا جی۔ہے سعود عثمانی ہین۔مفتی شفیع صاحب دے پوترے‘ ‘ سفید ریش بزرگ نے سر اٹھایا۔شفقت اور محبت بھرے چہرے پر مہربان خد و خال نمایاں ہوئے۔ پہلے صرف ہونٹوں پر تبسم آیا، پھر پورا چہرا مسکرانے لگا۔انہوں نے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھائے۔ ہاتھوں میں وہی گرمی ،نرمی اور گداز تھا جو استاذ الخطاطین سید نفیس الحسینی کے ہاتھوں سے پھوٹتا تھا۔ جس دن فتح جنگ کے میٹھے اور کھڑتل لہجے میں اظہار الحق صاحب نے پہلی بار میرا تعارف اپنے والد گرامی مولانا ظہور الحق سے کروایا اس کے بعد مزید کم از کم دو موقعوں
اتوار 20 جنوری 2019ء

پیرِ تسمہ پا سے رہائی

اتوار 13 جنوری 2019ء
سعود عثمانی
کھڑے کھڑے ٹانگیں دکھ گئیںلیکن قطار آگے سرکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔کاؤنٹر تک رسائی ہوجائے تو بورڈنگ پاس میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ نہ لگنی چاہیے لیکن جو صاحب پونے گھنٹے سے کاؤنٹر پر کھڑے تھے وہ بس کھڑے تھے۔انہیں بورڈنگ پاس مل ہی نہیں رہا تھا کہ دائیں بائیں ہوجاتے۔ان کے پیچھے پندرہ بیس مسافروں کے بعد اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے میں یہ اندازہ لگا رہا تھا کہ ان صاحب کو پون گھنٹہ لگ چکا ہے تو اس حساب سے مجھے کُل کتنا وقت لگے گا۔ 12 ستمبر کی سہ پہر میں جناح ائیر پورٹ
مزید پڑھیے


میرے رشک قمر

اتوار 06 جنوری 2019ء
سعود عثمانی
کسی بڑے ہی استاد کا شعر ہے صنم کہتے ہیں تیری بھی کمر ہے کہاں ہے کس طرف کو ہے کدھر ہے ریل گاڑی اور اس کے سفر سے کس کا رومانس وابستہ نہیں ہوگا۔میرا بھی ریل گاڑی سے یاد ِماضی سے پھوٹتا رومانس ہے۔ شاعروں کا ریل گاڑی سے ایسا ہی رومانس وابستہ ہے۔پہلے منیر نیازی یاد آئے اور پھرپروین شاکر اک تیز تیر تھا کہ لگا اور نکل گیا ماری جو چیخ ریل نے جنگل دہل گیا …… ریل کی سیٹی میں کیسے ہجر کی تمہید تھی اس کو رخصت کرکے گھر لوٹے تو اندازہ ہوا چنانچہ ایک مدت کے بعد
مزید پڑھیے


بھیک نہیں، حق

اتوار 30 دسمبر 2018ء
سعود عثمانی
جناب وزیر اعظم !جناب صدر پاکستان !جناب چیف جسٹس صاحب !ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ کسے گواہ کیا جائے ؟کس سے منصفی طلب کی جائے؟ اس ملک میں ایک مظلوم ہے جسے انصاف کی طلب ہے لیکن تمام اخلاقی اور قانونی تقاضے اور فیصلے حق میں ہونے کے باوجود انصاف اسے کسی طرح مل کر نہیں دیتا۔71سال مقدمہ لڑتے ہوچکے ہیں۔لیکن کبھی کوئی فرد ،کوئی گروہ ،کوئی صوبہ اور کبھی خود وفاق اس کے حق میں حائل ہوجاتا ہے۔یہ ایک ایسی شائستہ مزاج، مہذب ملکہ کا مقدمہ ہے جس کا گھر کاغذات میں اس کے نام ہے لیکن ایک بدیسی
مزید پڑھیے


کچھ علاج اس کا بھی اے شیشہ گراں ہے کہ نہیں

اتوار 23 دسمبر 2018ء
سعود عثمانی
فلوریڈا امریکہ کی وہ جنوبی ریاست ہے جو لاکھوں سیاح ہر سال اپنی طرف کھینچتی ہے۔ خوب صورت موسموں ،درختوں،پھلوں ، آسائشوں، دھوپ بھرے ساحلوں اور نیلے سمندروں کی یہ دنیا اپنا اسیر کرلینے کے لیے مشہور ہے ۔ڈزنی لینڈ والا آرلینڈو ،جیکسن ول،ٹیمپا اور میامی فلوریڈا کے چند مشہور شہر ہیں۔ہم فلوریڈا کی’ ’ ولانو‘ ‘ بیچ پر گھوم رہے تھے کہ ایک ادھیڑ عمر امریکی نے ہم چاروں دوستوںکی تصویر اکٹھے بنانے کی پیشکش کی۔وہ اپنی فیملی کے ساتھ ساحل پر آیا ہوا تھا اور دو ہفتے پہلے کلیو لینڈ کے ایک ہسپتال سے مصنوعی کولہا لگوانے کے
مزید پڑھیے




کرے کوئی ، بھرے کوئی

اتوار 16 دسمبر 2018ء
سعود عثمانی
ایک بے یقینی ایک اداسی کی کیفیت ہے جو شاید ہر دل کو گھیرے ہوئے ہے۔بہت سے دلوں میں ان کیفیات کے ساتھ مایوسی بھی گھیرا ڈال رہی ہے۔تبدیلی کے منتظر بس انتظار کر رہے ہیں۔اور یہ انتظار طویل تر ہوتا جارہا ہے ؎ کیا تیرے انتظار کا حاصل ہے انتظار کیا تیرے انتظار کی حد انتظار ہے کوئی پوچھتا ہے کہ تبدیلی کیا آئی ہے ؟ اور کس ادارے میں آئی ہے ؟ تو سرکاری اعلانات اور اخباری بیانات کے سو اکوئی جواب بن نہیں پڑتا۔عام آدمی کو کس محکمے سے کیا سہولت ملی ہے ؟ کون
مزید پڑھیے


ایک ہائبرڈ ملک

اتوار 09 دسمبر 2018ء
سعود عثمانی
’ ’ذرا یہ پیڑ دیکھیے ۔پیوندی پیڑ ہے۔اسی ایک درخت پر آڑو ،آلو بخارا اور خوبانی اکٹھے ایک ہی موسم میں لگتے ہیں۔اور نہایت میٹھے اور رسیلے ۔آپ کھا کر خوش ہوجائیں گے ۔ ‘ ‘ میں نے پیڑ کو دیکھا۔بوٹا سا قد۔پتے کم کم۔جس جگہ قلم لگی تھی وہاں ایک تنا سفید رنگ اور ایک تناگہرے سیاہ رنگ کا نمایاں تھا۔لاس اینجلس، امریکہ میں ہمارے میزبان اپنے خوب صورت گھر کے درختوں کا تعارف کرا رہے تھے۔اسی حصے میں امرود کے پیڑ پر اتنے بڑے امرود لگے ہوئے تھے کہ میں نے کبھی ایسا سائز نہیں دیکھا
مزید پڑھیے


سنا ہے رات پہاڑوں پہ برف باری ہوئی

اتوار 02 دسمبر 2018ء
سعود عثمانی
امریکیوں کا تکیہ کلام you know(آپ کو تو پتہ ہے )سنتے سنتے ایک زمانہ ہوگیا اور اب یہ تکیہ کلام امریکی بھی نہیں ،شاید اسے عالمی تکیہ کلام کہنا چاہیے۔اس لیے مجھے بھی یہی استعمال کرنا ہے۔سویو نو یہ حالیہ سفر امریکہ جاری ہے جس کی مختصر روداد میں اپنی بھاگ دوڑ والی مصروفیات میں کچھ نہ کچھ لکھتا رہا ہوں اور ان پڑھنے والوں اور ان شہروں میں رہنے والوں سے معذرت کے ساتھ پیش کرتا رہا ہوں جن کیلئے ان تحریروں میں کچھ نیا نہیں ہوگا۔یہ اطمینان مجھے پھر بھی ہے کہ بہت سے پڑھنے والوں کے لیے
مزید پڑھیے


جس اعتماد سے وہ شخص جھوٹ بولتا ہے

اتوار 25 نومبر 2018ء
سعود عثمانی
گرم سرد ہونا محاورے میں سنا تھا ،لیکن عملی طور پر امریکہ میں اسی سے واسطہ پڑ رہا ہے۔کبھی گرم ،کبھی سرد ،کبھی سرد تر اور کبھی برف باری۔یہ سب موسم ہم سے اور ہم ان سے گزرتے جاتے ہیں۔اسی طرح ٹائم مشین میں تو نہیں لیکن ٹائم زونز میں سفر کرنا ایک الگ روداد ہے۔جسم کے اندر کی قدرتی گھڑی دل کے ساتھ ٹک ٹک کرتی ساتھ ساتھ رواں ہے۔اسے اس سے کوئی غرض نہیں کہ باہر وقت کیا ہوا ہے اور اب ہم پچھلے پڑاؤ سے ایک گھنٹہ آگے ہیں یا پیچھے۔یہ دھک دھک اور ٹک ٹک کرتی
مزید پڑھیے


شیشہ سا بکھر گیا ہو جیسے

اتوار 18 نومبر 2018ء
سعود عثمانی
برف کے گالے دھیرے دھیرے گھومتے، بل کھاتے ،چکراتے نیچے اترتے۔پیڑوں سے، عمارتوں سے یا زمین سے اتنے شرمیلے پن سے گلے لگتے کہ آواز تک نہ ہوتی۔بارش ہو یا اولے۔زمین پر آتے ہیں تو آتے ہی آواز کے ساتھ اپنے ہونے کا احساس دلاتے ہیں، لیکن برف کے گالے ایک متبسم مگر خاموش ساتھی کی طرح زمینی محفل میں شامل ہوتے ہیں۔وہ جو اقبال نے اپنے لطیف اور پُر جمال پیرائے میں کہا ہے نا مانندِ سحر صحن گلستان میں قدم رکھ آئے تہِ پا گوہر شبنم، تو نہ ٹوٹے تو بس یہ رمز برف کے گالے جانتے ہیں کہ زمین پر
مزید پڑھیے