BN

سعود عثمانی



ایک ہائبرڈ ملک


’ ’ذرا یہ پیڑ دیکھیے ۔پیوندی پیڑ ہے۔اسی ایک درخت پر آڑو ،آلو بخارا اور خوبانی اکٹھے ایک ہی موسم میں لگتے ہیں۔اور نہایت میٹھے اور رسیلے ۔آپ کھا کر خوش ہوجائیں گے ۔ ‘ ‘ میں نے پیڑ کو دیکھا۔بوٹا سا قد۔پتے کم کم۔جس جگہ قلم لگی تھی وہاں ایک تنا سفید رنگ اور ایک تناگہرے سیاہ رنگ کا نمایاں تھا۔لاس اینجلس، امریکہ میں ہمارے میزبان اپنے خوب صورت گھر کے درختوں کا تعارف کرا رہے تھے۔اسی حصے میں امرود کے پیڑ پر اتنے بڑے امرود لگے ہوئے تھے کہ میں نے کبھی ایسا سائز نہیں دیکھا
اتوار 09 دسمبر 2018ء

سنا ہے رات پہاڑوں پہ برف باری ہوئی

اتوار 02 دسمبر 2018ء
سعود عثمانی
امریکیوں کا تکیہ کلام you know(آپ کو تو پتہ ہے )سنتے سنتے ایک زمانہ ہوگیا اور اب یہ تکیہ کلام امریکی بھی نہیں ،شاید اسے عالمی تکیہ کلام کہنا چاہیے۔اس لیے مجھے بھی یہی استعمال کرنا ہے۔سویو نو یہ حالیہ سفر امریکہ جاری ہے جس کی مختصر روداد میں اپنی بھاگ دوڑ والی مصروفیات میں کچھ نہ کچھ لکھتا رہا ہوں اور ان پڑھنے والوں اور ان شہروں میں رہنے والوں سے معذرت کے ساتھ پیش کرتا رہا ہوں جن کیلئے ان تحریروں میں کچھ نیا نہیں ہوگا۔یہ اطمینان مجھے پھر بھی ہے کہ بہت سے پڑھنے والوں کے لیے
مزید پڑھیے


جس اعتماد سے وہ شخص جھوٹ بولتا ہے

اتوار 25 نومبر 2018ء
سعود عثمانی
گرم سرد ہونا محاورے میں سنا تھا ،لیکن عملی طور پر امریکہ میں اسی سے واسطہ پڑ رہا ہے۔کبھی گرم ،کبھی سرد ،کبھی سرد تر اور کبھی برف باری۔یہ سب موسم ہم سے اور ہم ان سے گزرتے جاتے ہیں۔اسی طرح ٹائم مشین میں تو نہیں لیکن ٹائم زونز میں سفر کرنا ایک الگ روداد ہے۔جسم کے اندر کی قدرتی گھڑی دل کے ساتھ ٹک ٹک کرتی ساتھ ساتھ رواں ہے۔اسے اس سے کوئی غرض نہیں کہ باہر وقت کیا ہوا ہے اور اب ہم پچھلے پڑاؤ سے ایک گھنٹہ آگے ہیں یا پیچھے۔یہ دھک دھک اور ٹک ٹک کرتی
مزید پڑھیے


شیشہ سا بکھر گیا ہو جیسے

اتوار 18 نومبر 2018ء
سعود عثمانی
برف کے گالے دھیرے دھیرے گھومتے، بل کھاتے ،چکراتے نیچے اترتے۔پیڑوں سے، عمارتوں سے یا زمین سے اتنے شرمیلے پن سے گلے لگتے کہ آواز تک نہ ہوتی۔بارش ہو یا اولے۔زمین پر آتے ہیں تو آتے ہی آواز کے ساتھ اپنے ہونے کا احساس دلاتے ہیں، لیکن برف کے گالے ایک متبسم مگر خاموش ساتھی کی طرح زمینی محفل میں شامل ہوتے ہیں۔وہ جو اقبال نے اپنے لطیف اور پُر جمال پیرائے میں کہا ہے نا مانندِ سحر صحن گلستان میں قدم رکھ آئے تہِ پا گوہر شبنم، تو نہ ٹوٹے تو بس یہ رمز برف کے گالے جانتے ہیں کہ زمین پر
مزید پڑھیے


میں وہ مقیم ہوں جو مسلسل سفر میں ہے

اتوار 11 نومبر 2018ء
سعود عثمانی
بعض اوقات کئی سفر ایک ساتھ چل رہے ہوتے ہیں۔ایک ہی مسافر کئی راہوں اور کئی دائروں کا مسافر ہوتا ہے۔کچھ معلوم راہیں اور کچھ انجان راستے۔ایک عمر کے بعد اس پر یہ کھلتا ہے کہ وہ فلاں وقت میں فلاں راستے کا بھی مسافر تھا۔پوری دنیا بھی ایک مکان ایک گھر ہے اور مقیم بھی ایک مسافر ہے: کیسی عجیب راہ گزر میرے گھر میں ہے میں وہ مقیم ہوں جو مسلسل سفر میں ہے ایک سفر تو باہر ہے جو امریکہ کی مختلف ریاستوں اور چھوٹے بڑے شہروں میں پاؤں کے ساتھ چل رہا ہے اور ایک سفر میرے اندر
مزید پڑھیے




میں نے شاید باقی عمر اضافی کی

اتوار 04 نومبر 2018ء
سعود عثمانی
میں سمجھتا تھا کہ پاکستان میں رہ کر حالات آپ کے سامنے ہوں اور خبریں آپ تک پہنچتی رہیں تو مستقل بلند فشار خون کا سامنا کرنا آپ کا مقدر ہے ،لیکن مجھے نہیں اندازہ تھا کہ وطن سے دور رہ کر بری خبریں سننے سے دل زیادہ تیزی سے دھڑکنا شروع کردیتا ہے۔ ہم برمنگھم جو امریکی ریاست الاباما کا ایک خوب صورت شہر ہے ،پہنچے ہی تھے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ، عوامی رد عمل، وزیر اعظم کا خطاب۔ تاحال آخری اور بہت المناک اطلاع یہ کہ نامور عالم دین مولانا سمیع الحق صاحب پر قاتلانہ حملہ ہوا اور
مزید پڑھیے


ایری جھیل کے اِس پار

اتوار 28 اکتوبر 2018ء
سعود عثمانی
سکون ،اطمینان ،خامشی، شانتی۔ایری جھیل (Erie lake)، کلیو لینڈ ،اوہائیو ،امریکہ کو آپ کوئی بھی نام دے دیں اسے جچتا ہے۔ہوا کی سرسراہٹ اور لہروں کی سرگوشیاں نہ ہوں تو یہ سکون مکمل سکوت میں ڈھل جاتا ہے۔حد نظر تک پھیلی ہوئی ایری جھیل جو شمالی امریکہ کی مزید چار بڑی قدرتی جھیلوں سے جڑی ہوئی ہے اور جو امریکہ اور کینیڈا کی سرحد کا تعین کرتی ہے۔اِس پار کی نصف جھیل امریکہ کی اور اُس پار کی آدھی جھیل کینیڈا کی۔پانی پر یہ سرحدی لکیر کیسے کھنچی ہے معلوم نہیں۔اس جھیل کے بے پایاں حسن سے فرصت ملے تو
مزید پڑھیے


مغرب کے عین مشرق سے

اتوار 21 اکتوبر 2018ء
سعود عثمانی
18 اکتوبر کی سہ پہر جب ہمارا جہاز نیویارک کے جان ایف کینیڈی ائیر پورٹ پر اترا تو ٹھنڈی ہوا درختوں سے پتے گرا رہی تھی اور گرے ہوئے زرد پتوں کو بکھیر رہی تھی ۔شام دراز ہونے والی تھی اور درختوں اور دیواروں کی پناہ گاہوں میں چھپے سائے دبے پاؤں باہر نکل رہے تھے۔ احمد ندیم قاسمی کا شعر یاد آگیا: خورشید کو جب زوال آیا ہر چیز نے قد بڑھا لیا ہے سورج نکلتا تو ہمارے مشرق سے ہے لیکن فی زمانہ مغرب سے نکلا ہوا سورج نصف النہار پر ہے۔ غروب ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔کہتے ہیں کہ
مزید پڑھیے


بھیک نہیں، حق

منگل 16 اکتوبر 2018ء
سعود عثمانی
جناب وزیر اعظم !جناب صدر پاکستان !جناب چیف جسٹس صاحب !ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ کسے گواہ کیا جائے ؟کس سے منصفی طلب کی جائے؟ اس ملک میں ایک مظلوم ہے جسے انصاف کی طلب ہے لیکن تمام اخلاقی اور قانونی تقاضے اور فیصلے حق میں ہونے کے باوجود انصاف اسے کسی طرح مل کر نہیں دیتا۔71سال مقدمہ لڑتے ہوچکے ہیں۔لیکن کبھی کوئی فرد ،کوئی گروہ ،کوئی صوبہ اور کبھی خود وفاق اس کے حق میں حائل ہوجاتا ہے۔یہ ایک ایسی شائستہ مزاج، مہذب ملکہ کا مقدمہ ہے جس کا گھر کاغذات میں اس کے نام ہے لیکن ایک بدیسی
مزید پڑھیے


شیشہ اور اینٹ

پیر 03  ستمبر 2018ء
سعود عثمانی

گاڑی پارکنگ سے باہر نکالتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ میری چائے کی طلب ختم نہیں ہوئی ہے ۔ شاپنگ مال کی ٹی بیگ والی چائے اور اسے دودھیا سفید کرنے والے کیمیکل کی چائے سے میری ’’ چہاس ‘‘ نہیں بجھی تھی ۔ مجھے یاد آیا کہ شاپنگ مال کے پہلو میں چند کھوکھے ہیں اور ان میں چائے کا ایک کھوکھا بھی میںنے دیکھا تھا۔اکثر ایسے کھوکھوں کی دودھ پتّی کا جواب نہیںہوتا۔ میرا اندازہ ٹھیک تھا ۔ شاپنگ مال کے ساتھ ہی چند کھوکھے تھے اور بابا فضلو کا ہوٹل بھی انہیں میں ایک تھا۔ 

فضل دین کے
مزید پڑھیے