BN

سعود عثمانی



ابھی کچھ دن لگیں گے


ابھی کچھ دن لگیں گے ۔ افتخار عارف کی یہ نظم ہے تو کسی اور تناظر میں لیکن اس کا یہ مصرعہ یاد آرہا ہے جوحالات پر پوری طرح منطبق بھی ہے ۔ آغاز ٹھیک ہے۔حکومت سنبھالے حلف اٹھائے ہوئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں۔لیکن ان چند دنوں میں بھی وزیر اعظم، وزراء اعلیٰ اور وزراء کی صف میں جیت کے جشن کا منظر کہیں نظر نہیں آیا حالانکہ بائیس سالہ جد و جہد کے بعد مخالفوں کو زیر کرلینے اور اقتدار کی کرسیوں تک پہنچ جانے کا جشن کسی حد تک فطری تقاضا ہوتا۔لیکن تحریک انصاف کی مرکزی قیادت یہ
جمعه 31  اگست 2018ء

ہے کوئی صاحب ِ اولاد ؟

اتوار 26  اگست 2018ء
سعود عثمانی
سچ یہ کہ انسان کس کا قصور گردانے۔کس کو ذمے دار ٹھہرائے اور کس پر فردِ جرم عائد کرے۔ہر ایک اپنی جگہ سچا ہے ۔ یہ کافی سال پہلے کی بات ہے ۔میں بہت دن سے اپنے جلد ساز سہیل کی طرف جانے کا ارادہ کر رہا تھا۔کتابیں تیاری کے مرحلے میں تھیں اور ان کی بروقت تیاری میری ضرورت تھی۔کبھی کبھار ان اڈوں پر چکر لگانا فائدہ مند ہوتا ہے اور چھوٹی موٹی چیزوں اور غلطیوں کی بھی نشان دہی ہوتی رہتی ہے۔لیکن اس دن میں سہیل کے جِلد سازی کے کارخانے پر پہنچ کر شدید تکلیف میں
مزید پڑھیے


جھمک رہی ہے کسی قریۂ جمال کی لو

اتوار 19  اگست 2018ء
سعود عثمانی
تبدیلی اور بہتری جو دور افق پر ایک جھمکتی روشنی کی صورت میں ہے۔اس روشنی کی طرف ہاتھ بڑھائے میں بھی چل رہا ہوں ،آپ بھی اور اس کی طرف عمران خان کے ہاتھ سب سے زیادہ بلند ہیں۔ شاعرہ نے کہا تھا ملنا دوبارہ ملنے کا وعدہ جدائیاں اتنے بہت سے کام اچانک نمٹ گئے اچانک تو خیر نہیں لیکن بہرحال حکومت سازی کے اتنے بہت سے کام بھی بتدریج نمٹ گئے۔قومی اسمبلی کی سپیکر کی کرسی پر اسد قیصر بیٹھے نظر آنے لگے۔ مزاری صاحب ڈپٹی سپیکر بھی منتخب ہوگئے۔چاروں اسمبلیوں نے بھی اپنے اپنے سپیکر چن لیے اورسوائے پنجاب
مزید پڑھیے


میرے آباء نے جب اس خاک پہ سر رکھا تھا

اتوار 12  اگست 2018ء
سعود عثمانی

وہ رات کبھی نہیں بھولے گی ۔

وہ را ت کیسے بھولی جاسکتی ہے جب ایک طوفانی موسم اپنی یخ بستہ ہواؤں کے ساتھ دل پر اترااور اس کی بلاخیزی میںہجرت کا وہ سفر میں نے بھی ایک بار کیا جو میرے دادا، دادی ، میرے والدین اور پورے گھرانے نے کیا تھا۔ اس سفر کے بہت سال بعدیہ سفر ایک بار میںنے بھی کیا۔میںنے ایک غزل لکھی ۔وہ غزلِ مسلسل جس سے میں ایک مسلسل سفر کی طرح گزرا ۔ایسا سفر جس میںخیال کے تیز جھکڑ مجھے رکنے نہیں دیتے تھے اورآنسو لگا تار بارش کی طرح عدسے دھندلائے رکھتے
مزید پڑھیے


نوجوان کی دسویں سالگرہ

اتوار 05  اگست 2018ء
سعود عثمانی
عجیب سی سالگرہ ہے۔سالگرہ بھی دسویں۔ایسے جوان دوست کی دسویں سالگرہ جس سے بہت گلے شکوے ہیں لیکن اس کے بغیر اب گزارا بھی نہیں۔اب سمجھ نہیں آرہا اسے گرم جوشی سے مبارک دوں، رسم نبھاؤں یا بالکل نظر انداز کردوں۔کوئی بھی صورت ٹھیک نہیں لگ رہی۔ 2008 ء کی بات ہے جب میں پہلی بار فیس بک پر آیا تھا۔اس بات کو دس سال ہوگئے۔فیس بک کا نیا نیا شہرہ تھا اور کم ہی لوگ اس وقت یہ استعمال کرتے تھے۔لیپ ٹاپ کی دنیا تھی اور سمارٹ فون کی دنیا ابھی کچھ فاصلے پر تھی۔میں نے فیس بک پر اکاؤنٹ
مزید پڑھیے




معذرت خواہوں سے معذرت خواہی

جمعه 03  اگست 2018ء
سعود عثمانی
میں نے کافی لے کر آنے والی ویٹریس سے کہا ’’مجھے ڈائننگ ہال کا وائی فائی پاس ورڈ چاہیے ‘‘ ۔اس نے خوش اخلاقی سے کہا ’’ ضرور ‘‘ اور چلی گئی ۔ میں کچھ دیر انتظار کرتا رہا۔اس دوران وہ دیگر مہمانوں کو چائے اور کافی پیش کرتی رہی۔پندرہ بیس منٹ کے بعد میں نے پھر یاد دہانی کروائی اور وہ پھر اثبات میں سر ہلا کر چلی گئی۔اس بار جب وہ دس منٹ بعد آئی تو اس کے ہاتھ میں چھوٹی چھوٹی تین پرچیاں تھیں۔ یہ تیس مئی 2016ء کی بات ہے۔ہم تیس چالیس مقامی اور مہمان
مزید پڑھیے


اب خودسے مقابلہ پڑا ہے

اتوار 29 جولائی 2018ء
سعود عثمانی
جیسے جیسے نتائج آتے گئے ایک تصویر ابھرتی گئی۔جیسے ایک جگ سا پزل کے ٹکڑے جڑنے شروع ہوجائیں تو ایک منظر، ایک نقشہ، ایک چہرہ بننا شروع ہوجاتا ہے۔رات گئے تک حتمی نتائج نہ ہونے کے باوجود رجحان واضح ہوچکا تھا اور ہارنے والوں کی طرف سے تاریخ کی بد ترین دھاندلی کے الزامات بھی لگنے شروع ہوگئے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف کو مبارک ہو کہ اس نے میدان مار لیا ہے۔بیک وقت کئی حریفوں کو پچھاڑنا آسان کام نہیں تھا لیکن اس بار یہ کام ہوگیاجب یہ پہلے سے کہیں مشکل نظر آرہا تھا۔میرے خیال میں تحریک انصاف کی سب
مزید پڑھیے


انگوٹھے پر لکھی ہے ایک لکیر محبت کی

جمعرات 26 جولائی 2018ء
سعود عثمانی
صبح بیدار ہوا تو پہلا خیال یہی آیا کہ آج کا دن تو وہ ہے جس کے لیے بقول شاعر دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے اس وقت جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہیں،بیشتر نتائج سامنے آچکے ہیں۔لیکن اس وقت جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں نتائج تجزیوں ، قیاسات اور تخمینوں سے باہر نہیں نکلے، خواہ ان پر اپنے دل اور دماغ کو اعتبار ہو، یقین ہو یا نہیں۔اس لیے نتائج پر تو میں بات نہیں کرسکتا ہاں بات اس دن پر کی جاسکتی ہے اور اس وقت تک کی خبروں پر۔ انتخابات کا دن کام سے
مزید پڑھیے


صدمات سے محفوظ رہنے کا نسخہ

اتوار 22 جولائی 2018ء
سعود عثمانی
اس شام سورج غروب ہوا تو میں سمن آباد ، اچھرہ اور رحمن پورہ کی سڑکوں اور گلیوں میں گھوم رہا تھا۔ گنجان آبادیوں کے اپنے مسائل ہیں اور اپنے لطف۔ اس شام مجھے پہلی بارکچھ کچھ لگا کہ انتخاب قریب آگئے ہیں بلکہ عنقریب۔ ورنہ اب تک صرف چیختی چنگھاڑتی خبروں اور گلا پھاڑتے سیاسی مباحثوں کے علاوہ سڑکوں اور گلیوں میں یہ موسم اترتا دکھائی نہیں دیا تھا۔ پتہ نہیںیہ مرے اندر کا موسم ہے یا واقعی باہر بھی ایسا ہی ہے کہ اس بار انتخابات میں وہ گہما گہمی اور جوش خروش محسوس نہیں ہورہا۔آج اتوار
مزید پڑھیے


دیکھیں گے اسے چراغ اور میں

اتوار 15 جولائی 2018ء
سعود عثمانی
کیسا عجیب آدمی ہے ۔غیر مرئی کو مرئی بنا دیتا ہے۔ مرئی کو غیر مرئی۔درختوں پتوں اور پھولوں سے کلام کرتا ہے۔دن ،رات صبح اور شام اس کے گھرانے کے افراد میں شامل ہیں۔ہوائیں، بارشیں، سردیاں اور گرمیاں اس کے مخاطبین میں ہیں۔وہ جمادات اورنباتات سے گفتگو کرتا ہے۔ان کی خوشی میں خوش ہوتا ہے اور ان کے دکھوں پر غمگین۔دن اس کی انگلی پکڑ کر نکلتا اور جوان ہوتا جاتا ہے۔رات اس کے پہلو میں آکر لیٹ جاتی اور اس سے ہم آ غوش ہوجاتی ہے۔وہ اشیاء کی ارواح سے مکالمہ کرتا ہے۔اصل گفتگو تو اس کی انہی سے
مزید پڑھیے