سعید خاور



متحدہ قومی موومنٹ کی سیاسی الجھنیں…( 2)


ڈاکٹر مقبول صدیقی کے ڈرامائی استعفے کی طرف لوٹنے سے پہلے اب ذرا پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کے لئے ہمیشہ قربانی کا بکرا بننے والے رائے دہندگان کی حرماں نصیبی کا بھی ذکر ہو جائے۔ پاکستان ہی نہیں جنوبی ایشیا کے تمام ترقی پذیر نما غریب اور حریص ملکوں میں غریبوں کا، وہ چاہے شہری ہوں یا دیہی ہر چنائومیں شوق دیدنی ہوتا ہے۔ہر برہنہ تن، برہنہ پا، بھوکا پیاسا انسان ہر چنائو میں یوں پر جوش ہوتا ہے کہ جیسے وہ ان انتخابات میں خود ہی امیدوار ہو۔بے چارے غریب اور سیاسی چالبازیوں سے ناآشنا پاکستانی کا یہ کردار
اتوار 26 جنوری 2020ء

متحدہ قومی موومنٹ کی سیاسی الجھنیں

هفته 25 جنوری 2020ء
سعید خاور
دنیا بدل گئی، نہیں بدلا تو متحدہ قومی موومنٹ کا طرز سیاست نہیں بدلا۔جب سے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اپنی وزارت سے منہ موڑا ہے شہر قائد میں سیاست کے نئے بازار کھل گئے ہیں جس میں بھائو تائو کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ایم کیوایم کی حکومتی اتحاد سے علیحدگی کی تاریخ بہت طویل ہے لیکن اس بار ایم کیوایم کا تحریک انصاف کی حکومت سے الگ ہونا نہ جانے کچھ پراسرار سا تاثر چھوڑ گیا ہے۔اس علیحدگی اور اس کے وقت کی موزونیت کے پیچھے کیا حکمت عملی کار فرما ہے اس پر لاتعداد سوال اٹھ گئے
مزید پڑھیے


سندھ پولیس کی بغاوت خطرے کی گھنٹی

پیر 20 جنوری 2020ء
سعید خا ور
یہ ورلڈ ریسلنگ اینٹرٹینمنٹ کی کسی نورا کشتی کامنظر نہیں بلکہ یہ پاکستان کے حق میں پہلی قرارداد منظور کرنے والے صوبہ سندھ کی حکومت اورسندھ پولیس کی باہمی لڑائی اور اٹھا پٹخ کے حقیقی مناظر ہیں جو ان دنوں آپ کو ٹی وی کی اسکرینوں اور اخبارات کی شہ سرخیوں میں دکھائی دے رہے ہیں۔ آئی جی سندھ اور سندھ حکومت کی اس کھلم کھلا لڑائی میں شکار پور کے ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان احمد نے اپنی خفیہ رپورٹوں میں سندھ کابینہ کے دو اہم وزیروں امتیازاحمد شیخ اور سعید غنی کی نیک نامی پرسوالیہ نشان اٹھا
مزید پڑھیے


’’کراچی میرا ہے!‘‘

جمعه 17 جنوری 2020ء
سعید خاور
کراچی کی دولت اور سیاست ایسی پر فریب چیزیں ہیں کہ کوئی بھی ان کے چسکے سے دستبردار ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ پاکستان پیپلز پارٹی ہو ، ایم کیو ایم یا شہر قائد میں نووارد تحریک انصاف اور دوسری چھوٹی بڑی، نئی پرانی سب کی سب سیاسی جماعتیں اس سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کا ہر انڈہ خود کھانا چاہتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ کھینچاتانی میں اس شہر کا حلیہ بگڑ گیا ہے۔بے چارا شہر خراباں اور اس کے خراب حال باشندے ہیں کہ سیاسی بالادستی اور لوٹ کھسوٹ کی اس آپا دھاپی میں کہیں طاق
مزید پڑھیے


عمران خان کے نام میر حسن کی چٹھی

هفته 11 جنوری 2020ء
سعید خا ور
کراچی کے اوسط درجے کے علاقے براہیم حیدری کورنگی کامیر حسن ریڑھی بان تھا لیکن کچھ عرصے سے کام نہ ملنے کی وجہ سے بہت افسردہ اور غمگین تھا، وہ جب بھی گھر آتا اس کے معصوم بچے دوڑ کراسے اس وجہ سے لپٹ جاتے کہ شایدآج بابا کچھ کھانے کو لائے ہوں ، میر حسن کی آنکھوں میں آنسو لیکن ہاتھ خالی ہوتے۔میر حسن کانام تو امیروں جیسا تھا مگر وہ اپنے نام جیسی تقدیر پانے میں ناکام رہاتھا۔غربت اور بے چارگی نے اس کے گھرانے کو اپنے چنگل میں لے رکھا تھا۔وہ واجبی سا پڑھا لکھاتھا،
مزید پڑھیے




تبدیلی سرکار کہاں گم ہے؟

بدھ 08 جنوری 2020ء
سعید خاور
جب کسی معاشرے کی دہلیز پر زوال دستک دیتا ہے تووہاں سے اتفاق و برکت اٹھ جاتی ہے اور وہ معاشرہ جنون میں مبتلا ہوکرساری خوشیوںاور سکون کی دولت سے محروم کردیا جاتا ہے، یہی قانون قدرت ہے جس سے فرار ممکن نہیں۔جب معاشروں میں انصاف کی جگہ ظلم واستبداد اپنے پنجے گاڑ دے توایسے معاشرے کھوکھلے ہو جاتے ہیں ۔ان دنوں امریکا ،بھارت اور اسرائیل بھی اپنے احمقانہ تجربوں سے اسی بے کسی کی تصویر بنتے چلے جارہے ہیں۔طاقت کے نشے میں چور یہ ریاستیں اقوام عالم کی آوازدبا کر اپنے من مانے دستور نافذ کرنے
مزید پڑھیے


پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑامعاشی این آر او

جمعرات 02 جنوری 2020ء
سعید خا ور
یہ5اکتوبر2007ء کا واقعہ ہے ، ملک میں جنرل پرویزمشرف کا طوطی بول رہا تھا،امریکا ان پر ایسے مہربان تھا کہ جیسے وہ پاکستان میں امریکی وائسرائے ہوں اور انہیں کوئی آئینی مینڈیٹ نہ ہونے کے باوجود سارے مینڈیٹ حاصل تھے جن کا وہ بے دریغ استعمال کررہے تھے ، یہ دیکھے بغیر کے یہ ملک اور عوام کے حق میں بھی ہیں کہ نہیں؟ اس دور میں ان کے اشارہ ابرو پہ منظر در منظر بدل جایا کرتے تھے،گویا جنرل پرویز مشرف ملک میں سیاہ سفید کے مالک تھے ۔ ملک کی مقبول سیاسی قیادت ایک طرح سے جلاوطنی
مزید پڑھیے


آئی جی سندھ پولیس اگلے قدموں پر

اتوار 29 دسمبر 2019ء
سعید خا ور
مدت ہوئی سندھ حکومت کوپولیس کا کوئی آئی جی راس ہی نہیں آرہا۔ اے ڈی خواجہ جب تک رہے ان کی سندھ حکومت سے ٹھنی رہی اور اپنی پوری مدت ملازمت میں حکم امتناعی پر سندھ پولیس کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ ان کی رخصتی کے بعد اب جب سے ڈاکٹر سید کلیم امام نے سندھ پولیس کی سربراہی سنبھالی ہے تو اے ڈی خواجہ کادور سندھ میں لوٹ آیا ہے۔ سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کے دور میں بھی تقسیم تھی جس کا بالواسطہ فائدہ جرائم پیشہ عناصر نے اٹھایااور شہرقائد میں وارداتیں بڑھتی چلی
مزید پڑھیے


بات شاید پھر بگڑ گئی !

جمعرات 26 دسمبر 2019ء
سعید خاور
عمران خان اور سید مراد علی شاہ کے مابین طویل مدت کے بعدشکووں بھری ملاقات سے سندھ اور وفاق کے درمیان خدا خدا کر کے ذرا سی برف پگھلنے کو تھی کہ شاید معاملہ پھر سے بگڑ گیا۔ جب سید مراد علی شاہ وزیراعظم عمران خان کے حضور سندھ کے تحفظات پیش کررہے تھے کہ عین اسی لمحے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو نیب سے پیشی کا بلاوا آگیا۔لگتا ہے سندھ اور وفاق کے درمیان فاصلے قائم رکھنے والی قوتیں ایک بار پھر سے کامیاب ہو گئیں اور جلتی آگ پر پانی چھڑکنے والی
مزید پڑھیے


پیرصاحب پگاڑواور سردارمینگل وزیراعظم سے نالاں ؟

هفته 21 دسمبر 2019ء
سعید خا ور
سیاست میں وعدوں اور معاہدوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، موجودہ پاکستانی سیاست میں جب کوئی پارٹی واضح اکثریت سے محروم رہتی ہے تو اسے حکومت سازی کے لئے بھانت بھانت کی سیاسی پارٹیوں کی جائزناجائز خوشامدیں کرنا پڑتی ہیں اور ان کی بیساکھیوں کا سہاراحاصل کرنا پڑتا ہے ۔ حکومت سازی کے لئے ان چھوٹے چھوٹے سیاسی دھڑوں سے بڑے بڑے وعدے کرلئے جاتے ہیں اور حکومت بننے کے بعد ان وعدوں کو یکسر فراموش کردیا جاتا ہے جس سے اتحادیوں کی بغاوتوں کے خدشات ہر وقت سر پر منڈلاتے رہتے ہیں اور حکومتیں عدم
مزید پڑھیے