BN

سعید خاور


عمران خان نے سندھ کی ٹرین مس کر دی


شکر ہے خدا کا کہ انکار اقرار میں بدل گیا اور وزیر اعظم پاکستان کی مسند اور کنگری ہائوس کی حرمت کی لاج بھی رہ گئی۔ اب تو یقینا عمران خان کی روح کو بھی قرار آ گیا ہو گا کہ کراچی آمد پر وزیر اعظم عمران خان کو ملنے سے دو بار انکار کرنے والے فنکشنل مسلم لیگ اور گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کے سربراہ حروں کے روحانی پیشوا پیر صاحب پگارا، پیر صبغت اللہ شاہ راشدی بالآخر اسلام آباد میں جا کر ان سے مل لئے۔ اس سے قبل گزشتہ ماہ وزیر اعظم عمران خان کو بھی بادل
هفته 07 مارچ 2020ء

حجرہ سیاست کا باغی بابانعمت اللہ خان

منگل 03 مارچ 2020ء
سعید خاور
کراچی جماعت اسلامی سے کب کا روٹھ چکاہے، نعمت اللہ خان کی وفات کے بعد تو مجھے یوں لگتا ہے کہ جماعت اسلامی کے سر سے ایک شفیق بزرگ کا سایہ بھی اٹھ گیا ہے جو اپنے کاموں کی وجہ سے صحیح معنوں میں بابائے کراچی ہی نہیں بابائے جماعت اسلامی کراچی کہلانے کا حق دار تھا۔ایک زمانہ تھا کہ جماعت اسلامی کراچی کی مقبول سیاسی جماعت تھی لیکن جب نو ستاروں(پاکستان قومی اتحاد) نے جنوری 1977ء نظام مصطفی کے نام پر تحریک چلا کر عوام کو منتخب حکومت اور اس کی قیادت سے متنفر کیا۔ اس تحریک
مزید پڑھیے


کراچی بندر گاہ کا مستقبل خطرے میں ؟

هفته 22 فروری 2020ء
سعید خا ور
کراچی بندرگاہ جو ایک زمانے میںدنیا بھر کے تاجروں اور صنعت کاروں کی آنکھ کا تارا تھی ، آج کل ایسی خوف ناک خبریں اگل رہی ہے کہ عالمی جہازرانوں نے اپنے جہازوں کے رخ دوسری بندر گاہوں کی طرف کرلئے ہیں۔ جس طرح کرونا وائرس پھیلنے کے بعد چین کی چمچماتی بندرگاہیں درآمدات وبرآمدات کے لئے شجر ممنوعہ ٹھہر گئی ہیں اور دنیا کو ایک موقع مل گیا ہے کہ وہ اقتصادی طور پر ابھرتی ہوئی اس عالمی قوت کو معاشی طورپر تباہ کر نے کا یہ موقع ہاتھ سے نہ جانے دے۔ اسی طرح کراچی
مزید پڑھیے


سرکلر ریلوے کے لئے جائیکا کا فنڈ کس کے پیٹ میں گیا؟

اتوار 16 فروری 2020ء
سعید خا ور
فیلڈ مارشل ایوب خان کو 1965ء میں جہاں کراچی میں پہلی بار نہتے مظاہرین پر گولی چلانے کی تہمت سہنی پڑی وہاں انہیں اس بات کا کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ انہوں نے اس سے دو سال پہلے 1963ء میں کراچی کو سرکلر ریلوے دی جو شہر قائد کے لئے تحفے سے کم نہیں تھی۔ کراچی کو یہ تحفہ انگریزوں کے کراچی سے مکمل انخلا ء کے 16برس بعد نصیب ہواورنہ کراچی میں جتنے بھی شاندار منصوبے تعمیر ہوئے ان کا کریڈٹ انگریز سرکار اور اس کے زیر سایہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کو جاتا ہے ۔سرکلر
مزید پڑھیے


’’ میرا کراچی کمیشن 2020 ء ‘‘

جمعه 14 فروری 2020ء
سعید خا ور
کیا ستم ظریفی ہے کہ کے ڈی اے اور اب سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے افسران نے شہر قائد میں جن خلاف ضابطہ سر بہ فلک عمارتوں اور شادی گھروں کی کسی کے سیاسی دبائو میں آ کر یا مبینہ طور پر بھاری بھاری رقمیں اینٹھ کر تعمیر کی اجازت دی تھی آج سپریم کورٹ کے حکم پر انہیں گرانے کے لئے بادل نخواستہ میدان میں اترے ہوئے ہیں۔ ’’منی پاکستان‘‘کراچی میں ان بے ضابطہ عمارتوں کی تعداد تین عشرے پہلے انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی ، اب ان عمارتوں کا شمار ہزاروں میں ہے،
مزید پڑھیے



شکریہ جناب چیف جسٹس ......

پیر 10 فروری 2020ء
سعید خا ور
جب سے جسٹس جناب گلزار احمد چیف جسٹس کے عظیم منصب پر متمکن ہوئے ہیں انہوں نے میری مایوس زندگی میں امیدوں کے جگنو جگمگا دئیے ہیں۔میں اس لئے خوش ہوں کہ پاکستان کے، کراچی کے کسی بیٹے نے تو میری طرح یا اس شہر کے پہلے منتخب میئر جمشید نسروانجی مہتا کی طرح کراچی کو دل سے اپنایا ہے اور اسے 1960ء کا کراچی بنانے کی کوششوں کا آغاز کردیاہے۔ گو کہ یہ مشکل ترین کام ہے لیکن نیتیں صاف ہوں اور ارادے پختہ ہوں تو انسان کے آگے پہاڑ بھی موم بن کر پگھل جاتے ہیں۔ چیف جسٹس
مزید پڑھیے


گورنر راج صرف سندھ میں ہی کیوں؟

جمعرات 06 فروری 2020ء
سعید خا ور
نیا پاکستان شومئی قسمت بے چارے پاکستانیوں کو راس نہیں آ سکا۔جب سے یہ حکومت چند سودے باز اور بعض مجبور سیاسی جماعتوں کی بیساکھیوں کے سہارے بر سر اقتدار لائی گئی ہے، ملک میں عام آدمی ہی نہیں، تاجروں صنعت کاروں،مزدوروں، محنت کشوں، ملازمت پیشہ افراد سمیت ہر شعبہ زندگی کے لئے نئی مشکلات کھڑی کر دی گئی ہیں۔سترہ مہینوں میں روزگار کے نئے وسائل تو کیا پیدا کئے جاتے جو موجود تھے وہ بھی نئے حکمرانوں کی نا تجربہ کاری اور عاقبت نا اندیشی کی وجہ سے نصف سے بھی کم ہو گئے۔ مختلف صنعتوں کا بھٹہ بیٹھ
مزید پڑھیے


’’اسکینڈل پوائنٹ‘‘ سے ادبی میلے تک

اتوار 02 فروری 2020ء
سعید خا ور
کراچی آرٹس کونسل 2008ء سے پہلے ایک ویران سرائے یا کسی بھوت بنگلے سے کسی طرح کم نہیںتھی ، یہ مبالغہ آرائی نہیں حقیقت ہے کہ ان دنوں آرٹس کونسل کی اجاڑ عمارت کے قریب سے گزرتے ہوئے بھی خوف آتا تھا ۔ اس کی چاردیواری کے اندر پھیلی وحشتیںکراچی کے ادب اور ثقافت کے نام پر دھبہ تھیں۔یہاں رات کے اندھیرے میں ہی نہیں دن کے اجالے میں بھی منشیات فروشوں اور منشیات استعمال کرنے والوں کی سرگرمیاں عروج پر رہتی تھیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں ادب اور ثقافت کے نام پر
مزید پڑھیے


میر حسن! یار تم نے جلدی کردی

جمعرات 30 جنوری 2020ء
سعید خا ور
کورنگی کے قبرستان میں اپنے کمسن بچوں کی نادان سی اورچھوٹی چھوٹی خواہشیں اور جائز ضرورتیں پوری نہ کر پانے والے بے روزگار میر حسن نے خود کو آگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا اور اسی قبرستان میں منوں مٹی اوڑھ کر ابدی نیند سو گیا۔میر حسن تم نے بہت جلدی کر دی، اپنے ٹوٹے پھوٹے لفظوں سے لکھی چٹھی وزیر اعظم عمران خان تک کسی نہ کسی طرح پہنچنے اور وہاں سے کوئی نہ کوئی جواب آنے کا انتظار کر لیتے، اگر وہاں سے کوئی جواب نہ بھی ملتا تو 27 جنوری کا ہی انتظار
مزید پڑھیے


متحدہ قومی موومنٹ کی سیاسی الجھنیں…( 2)

اتوار 26 جنوری 2020ء
سعید خا ور
ڈاکٹر مقبول صدیقی کے ڈرامائی استعفے کی طرف لوٹنے سے پہلے اب ذرا پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کے لئے ہمیشہ قربانی کا بکرا بننے والے رائے دہندگان کی حرماں نصیبی کا بھی ذکر ہو جائے۔ پاکستان ہی نہیں جنوبی ایشیا کے تمام ترقی پذیر نما غریب اور حریص ملکوں میں غریبوں کا، وہ چاہے شہری ہوں یا دیہی ہر چنائومیں شوق دیدنی ہوتا ہے۔ہر برہنہ تن، برہنہ پا، بھوکا پیاسا انسان ہر چنائو میں یوں پر جوش ہوتا ہے کہ جیسے وہ ان انتخابات میں خود ہی امیدوار ہو۔بے چارے غریب اور سیاسی چالبازیوں سے ناآشنا پاکستانی کا یہ کردار
مزید پڑھیے