BN

سہیل اقبال بھٹی


ننھے سچل کی فریاد؟


اقتدار سنبھالنے سے قبل شاید ہی کوئی ایسا دن گزرا ہو جب چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان عدالتوں کے احترام‘بے بس ولاچار افراد کے حقوق ‘قانون کی پاسدار ی اور انصاف کی فراہمی کاتذکرہ نہ کرتے ہوں۔ مسند اقتدار پر فائز ہونے کے بعد عمران خان نے اپنے خطاب کے دوران اُن اقوام کی تباہی کا ہمیشہ تذکرہ کیا جنہوں نے غریب اور امیر کے لئے الگ الگ قانون بنارکھے تھے۔ وزیراعظم عمران خان کا وعدہ تھا وہ مظلوم کی داد رسی کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ریاست مدینہ کا نعرہ لگنے کے بعد تو عوام بھی مطمئن تھے
جمعرات 09 دسمبر 2021ء مزید پڑھیے

ناتجربہ کاری سے اناڑی پن تک

جمعرات 02 دسمبر 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
وزیراعظم صاحب ہم اپنے حلقوں میں کیسے جائیں۔لوگ ترقیاتی سکیموں کا پوچھتے ہیں۔گرمیوں میں بجلی نہیں ملتی تو سردیوں میں گیس غائب ہوجاتی ہے۔ترقیاتی اورگیس سکیموں کے وعدے پورے نہیں ہوئے۔بجلی کے یونٹس کی قیمت کم اور ٹیکسز زیادہ ہوتے ہیں۔بتایا جائے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کیوں مہنگی ہوتی ہے؟اگر یہی حالات رہے تو حلقوں میں ہم سب کا جانا مشکل ہو جائے گا۔ہم عوام کوآخر کیا جواب دیں گے۔وفاقی کابینہ کے حالیہ اجلاس میں وزراء بجلی کی قیمتوں اور گیس کی عدم فراہمی پر پھٹ پڑے۔وزراء کے سوالات میںچھپے خوف اور بے یقینی نے
مزید پڑھیے


آئی ایم ایف کی بیساکھی

جمعرات 18 نومبر 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
حکومت کے تمام تر اقدامات اور دعووں کے باوجود ڈالر کی اُڑان بے قابو دکھائی دے رہی ہے۔ دوست ممالک کا تعاون ‘زرمبادلہ کے ذخائر اور ایکسپورٹ میں ریکارڈ اضافے کے بلند وبانگ دعوے بھی مارکیٹ کے اضطراب کو دور کرنے میں کامیاب نہیں ہوپارہے۔حکومت نے ادارہ شماریات پر ہفتہ وار مہنگائی کے اعداودشمار جاری کرنے پر پابندی بھی عائد کی مگر مہنگائی کے تباہ کن اثرات شدت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط تسلیم کرنے کے باوجود معاہدہ نہ ہونا ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافے کی بڑی وجہ قرار دیا جارہا ہے
مزید پڑھیے


کنفیوژن ہی کنفیوژن

جمعرات 11 نومبر 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
پاکستان تحریک انصاف نے اگست 2018ء میں اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی تو کچھ ہی ہفتوں میں بد انتظامی اور مہنگائی بڑھنے کے آثار نظر آنے لگے۔ دو ماہ بعد وزیراعظم عمران خان نے میڈیا پرسنز کے ساتھ نشست رکھنے کا سلسلہ شروع کیا تاکہ گزشتہ حکومتوں کے کارنامے عوام تک پہنچائے جائیں ۔یہ نشستیں سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشتر کی جاتی تھیں۔ تمام نیوز چینلز بھی اس کارروائی کو براہ راست نشترکرتے تھے۔ ہرنشست میں وزیراعظم کی بریفنگ کے بعد صحافی حضرات حکومتی کارکردگی پر سوالات کی بوچھاڑ کردیتے۔وزیراعظم عمران خان کو یہ سوالات سخت ناگوار گزرتے۔وزیراعظم
مزید پڑھیے


نوٹس کا ڈراپ سین؟

جمعرات 04 نومبر 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
وزیراعظم عمران خان قومی املاک کے بہترین استعمال اور پُرکشش قیمت پر فروخت کے سخت حامی تصور کئے جاتے ہیں۔ وزیراعظم کی ہدایت پرہی اڑھائی برس قبل ملک بھر میں سرکاری املاک اور اراضی کی نشاندہی کرکے ریکارڈ مرتب کیا گیا۔قبضہ مافیا سے ہزاروں کینال اراضی واگزا ر کروائی گئی۔وزیراعظم کے عزائم کو بھانپتے ہوئے بعض حکومتی شخصیات نے اندرون وبیرون ملک قومی املاک کی فروخت پر نظریں جمالیں۔نجکاری کمیشن بھی قومی املاک کی نجکاری کیلئے سرگرم ہوگیا۔پہلے مرحلے میں15کینال پر مشتمل اپرمال لاہور کی انتہائی قیمتی لوکیشن پر واقع سروسز انٹرنیشنل ہوٹل کو فروخت کرنے کا عمل شروع کیا
مزید پڑھیے



اقتدار کا بھنور

جمعرات 21 اکتوبر 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
میرٹ اور شفافیت پاکستان تحریک انصاف کا اولین منشور اور سب سے بڑا دعوی رہا ہے۔اس دعوے کے اتنے نعرے لگے کہ عوام کوایسا گمان ہونے لگا کہ پاکستان تحریک انصاف ہی ملک کو درپیش مسائل اور چیلنجز سے چھٹکار ا دلا سکتی ہے۔نئے پاکستان سے فلاحی ریاست کے قیام کاسفر‘ مہنگائی اور بدعنوانی کے عفریت کا خاتمہ صرف عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔حکمرانوں کی کرپشن کے باعث روپے کی بے قدری‘پیٹرولیم مصنوعات‘چینی‘آٹا‘دالیں‘گھی اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ ہوجاتا تھا تاہم پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں
مزید پڑھیے


المیہ یہ ہے

جمعرات 14 اکتوبر 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
شہر اقتدار میں گذشتہ چار روز سے اہم سرکاری امُور ٹھپ ہوچکے ہیں۔سرکاری و نجی دفاتر ہوں یاریسٹورنٹس ‘ڈرائنگ رومز میں سجی محفلیں ہوں یا نجی ٹرانسپورٹ سروس‘ہرجگہ پر ایک ہی سرگوشی ہے کہ ایک اعلی عہدے پر تقرری کے معاملے پر تین رکنی وزرا ء کمیٹی کے تمام ترجتن کے باوجود معاملہ حل نہیں ہوسکا۔وزیر دفاع اوروزیر داخلہ کا کمیٹی میں شامل ہونے سے معذوری کا اظہار کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔افواہوں اور سرگوشیوں کیساتھ سوالات کی بھرمار ہوچکی ہے کہ آخر اب ہوگاکیا۔کچھ وزراء اور مشیران بھرپور تسلیاں دے رہے ہیں کہ سب اچھا ہوگا ۔ میں نے
مزید پڑھیے


صاف چلی شفاف چلی؟

جمعرات 30  ستمبر 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
وفاقی حکومت نے دوسال قبل سرکاری املاک اور اثاثوں کی نجکاری کا فیصلہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان اور اُنکی کابینہ کو قائل کیا گیاکہ کاروبار کرنا سرکارکا کام نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری تحویل میںچلنے والے کمرشل اداروں کی کارکردگی نجی اداروں کے مقابلے میں ہرگزرتے دن کیساتھ گرتی جارہی ہے۔ بیشترسرکاری کمپنیاں خسارے میں چل رہی ہیں ۔ ان کمپنیوں کے باعث قومی خزانے کو سالانہ 400 ارب روپے سے زائد بوجھ برداشت کرنا پڑر ہا ہے۔ اس گرداب سے نکلنے کیلئے لازم ہے کہ خسارے میں چلنے والی کمپنیوں کیساتھ منافع بخش اداروں کو بھی فروخت کردیا
مزید پڑھیے


وزیراعظم کا نوٹس رنگ لے آیا؟

جمعرات 23  ستمبر 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
مہنگائی میں مسلسل اضافہ ‘اپوزیشن کی تنقید ‘تاجروں کی شکایات اور عوام کو درپیش مشکلات کے باوجود وزیراعظم عمران اور انکی اقتصادی ٹیم مطمئن تھی کہ ستمبرمیں قومی خزانے میں 1ارب ڈالر جمع ہونے سے صورتحال دوماہ کیلئے خوشگوار ہوجائے گی۔ وزراء اپوزیشن کو آئینہ دکھاتے ہوئے خوب آڑے ہاتھوں لیں گے۔ تاجروں کی شکایات بھی ختم ہو جائیں گی۔ آئے روز اشیائے خورونوش کی قیمتوں اضافے کا سلسلہ بھی تھم جائے گا۔معاشی بحالی کی دعویدار حکومت جو ن سے ستمبر کے دوسرے ہفتے تک مہنگائی کنٹرول کرنے اور روپے کی بے قدری روکنے کیلئے اپنی ہی پالیسی کے برخلاف
مزید پڑھیے


پاکستان کا نام روشن کیسے ہوگا؟

جمعرات 16  ستمبر 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
وزیراعظم عمران خان نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ دیانتدار قیادت کے ذریعے سرکاری کمپنیوں کا اربوں روپے کا خسارہ منافع میں بدل دیا جائے گا۔ اگرچہ بیشتر سرکاری کمپنیوں میں تین سال گذرنے کے باوجود ایڈہاک ازم ختم نہیں ہوسکا تاہم 31اگست کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں "Federal Footprint: Annual SOEs Report"کے عنوان سے ایک رپورٹ پیش کی گئی ہے۔یہ رپورٹ وزارت خزانہ کے ماتحت عملدرآمد و معاشی اصلاحات یونٹ نے تیارکی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 85سرکاری کمپنیوں کو143ارب روپے سالانہ خسارہ کے سامنا ہے۔ وزیراعظم نے رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد
مزید پڑھیے








اہم خبریں