BN

سہیل اقبال بھٹی


Regime Change Conspiracy?


قومی وعوامی مفاد کے تحفظ کا پُر زوردعویٰ سابق وزیراعظم عمران خاں کے مقابلے میں شاید کسی اورلیڈ ر نے کیا ہو۔ بیانات کا جائزہ لیں تو ہمیشہ گمان ہوتا تھا کہ اب عوامی مفاد کے منافی کوئی بھی قدم اُٹھانے کی جرات نہیں کرسکے گا۔ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے والے جلد جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔مصنوعی بحران پیدا کرنے اور من پسند پالیسی سازی میں ملوث ایلیٹ کیپچر‘‘Elite capture ’’کا ہر منصوبہ اب ناکام بنا دیا جائے گا۔ ویسے دیگر کریڈٹس کیساتھ Elite capture کی ٹرم متعارف کروانے کا کریڈٹ بھی وزیراعظم عمران خاں
جمعرات 23 جون 2022ء مزید پڑھیے

قومی اہداف کا حصول اور رکاوٹیں

جمعرات 16 جون 2022ء
سہیل اقبال بھٹی
وفاقی حکومت سمیت غیرملکی ماہرین بھی پریشان تھے کہ اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجودایک سٹریٹجک نوعیت کا منصوبہ مکمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ منصوبے کی لاگت میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے تو دوسری جانب دشمن اس تاخیر کا فائدہ اُٹھانے کے درپے ہوچکا ہے۔اس منصوبے کی تکمیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پہاڑ وںمیں 68کلومیٹرطویل ٹنل کی کھدائی تھی۔ یہ منصوبہ2007ء میں شروع ہوا،جس کی ابتدائی لاگت 80ارب روپے تھی۔تاخیر‘ڈیزائن کی تبدیلی اور جدید مشینری کی خریداری کے باعث لاگت 400ارب روپے سے تجاوز کرچکی تھی ۔وفاقی حکومت نے 2016ء میں لیفٹینٹ جنرل (ر)مزمل حسین
مزید پڑھیے


میثاقِ پاکستان

جمعرات 09 جون 2022ء
سہیل اقبال بھٹی
مخلوط وفاقی حکومت کے خلاف پی ٹی آئی کی تحریک کے دوسرے مرحلے کی پلاننگ جاری ہے۔ دوسرے مرحلے کی پلاننگ کا عمل پشاور سے بنی گالہ منتقل ہوچکا ہے۔ اگرچہ 26مئی کو 6دن بعد دوبارہ لانگ مارچ کے اعلان نے شہر اقتدار میں انتہائی پریشان کُن صورتحال پیدا کردی تھی تاہم جون کا پہلا ہفتہ عافیت سے گزرنے کے بعد غیریقینی کے بادل قدرے چھٹ گئے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کے عوام بھی مہنگی توانائی کے باعث مہنگائی کی تپش سے متاثر ہونے لگے ہیں۔پاکستان میں معاملہ سیاسی مخالفت اور بدانتظامی کے الزامات سے بہت آگے نکل چکا ہے۔
مزید پڑھیے


آ ج گئی ۔۔۔کل گئی

جمعرات 02 جون 2022ء
سہیل اقبال بھٹی
ملک کو سری لنکا جیسی صورتحال سے بچانے کیلئے آئی ایم ایف پروگرام ناگزیر ہوچکا ہے۔ آئی ایم ایف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بغیر ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھے گا۔اگرچہ عوام کی وفاقی حکومت سے توقعات اور پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ سخت فیصلے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے مگر اس کا ایک حل موجود ہے۔وزارت پیٹرولیم کا تجربہ رکھنے والے اوراکنامک ایڈوائزری کونسل کے رکن کی جانب سے حل کا اشارہ دینے پر وزیراعظم شہباز شریف چونک گئے۔وزیراعظم ہاؤس میں جاری اس ملاقات میں وزراء بھی موجود تھے۔ اکنامک ایڈوائزری کونسل
مزید پڑھیے


دعووں سے کام نہیں چلے گا

جمعرات 19 مئی 2022ء
سہیل اقبال بھٹی
ڈیڑھ ماہ گذرنے کے بعد بالآخر مخلوط وفاقی حکومت نے غیریقینی کی چادر اُتار پھینکی ہے۔تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد حکومتی ارکان کی جانب سے حکومت کی مدت اور الیکشن سے متعلق بیانات نے ہر جانب کنفیوژن پید اکردیا۔ چند دن پہلے تو72گھنٹوں میں قومی اسمبلی تحلیل اور نگران حکومت کے قیام کی خبر بھی اُڑاتے ہوئے ہمایوں اختر خان کا نام بطور نگران وزیراعظم گردش کرنے لگا۔ یہ سب قیاس آرائیاں او ر افواہیں تھیں ان افواہوں نے ڈالر کی قدر میں15روپے اضافہ کرکے ملکی معیشت کو مزید دلدل میں دھکیل دیا۔پنجاب میں آئینی
مزید پڑھیے



قومی یکجہتی اور ہم آہنگی

جمعرات 12 مئی 2022ء
سہیل اقبال بھٹی
ہم میں کتنے ہی لوگ ہیں جودن رات انسانوں کی بہتری اور فلاح کیلئے کوشاں ہیں مگر عام آدمی کی زندگی مشکلوں اور مسائل کے گرداب میں اُلجھتی جارہی ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے ریاست مدینہ اور فلاحی ریاست کے قیام کیلئے عوام کو اُمید دلائی تھی مگرساڑھے تین سال گذرنے کے باوجود یہ خواب حقیقت کا روپ دھارنے کی بجائے ایک ڈارؤنے خواب کی شکل اختیار کرتا چلا گیا۔معیشت سکڑتی اور بے روزگاری بڑھتی رہی۔مہنگائی اور بدانتظامی کے باعث اپوزیشن کو یکجا کردیا جس کے نتیجے میں تحریک عدم اعتمادپیش ہوئی اور نتیجتاًکپتان کو پویلین واپس لوٹنا پڑا۔مخلوط
مزید پڑھیے


حکمت عملی پر نظرثانی کی ضرورت؟

جمعرات 21 اپریل 2022ء
سہیل اقبال بھٹی
دُشنام طرازی ‘ہیجان انگیزی اور بلند وبانگ دعووں کی گُونج کے بعد بالاخر مرکز میں مخلوط حکومت قائم ہوچکی ۔ اتحادی جماعتوں کے مطالبات اور تحفظات کے بعد 34رکنی کابینہ کی تشکیل بھی ہوچکی۔ مخلوط حکومت اور اپوزیشن کے مابین کرپشن الزامات کی جنگ تو تھمنے کا نام نہیں لے رہی ۔وزیراعظم سمیت بیشترکابینہ ارکان عدالتوں سے ضمانت پرہیں تو سابق وزیراعظم عمران خان توشہ خانہ اسکینڈل کی زد میں۔ ملکی تاریخ میںسیاستدانوں پر کرپشن کے الزامات اور مقدمات کا سلسلہ کبھی نہیں تھما۔کرپشن الزامات اور پولیٹیکل پولرائزیشن کی خوفناک فضا کے دوران معاشی چیلنجز کا ادراک شاید بہت کم
مزید پڑھیے


ذرا کچھ تو سوچیے

جمعرات 14 اپریل 2022ء
سہیل اقبال بھٹی
سابق وزیراعظم عمران خان اگرچہ متحدہ اپوزیشن کی حکمت عملی گذشتہ سال ہی جان چکے تھے مگررواں سال فروری میں اُنہیں کامل یقین ہوگیا تھاکہ اقتدار کا سورج غروب ہونے کے نزدیک ہے۔ عمران خان نے آخری گیند تک لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے 15فروری سے اپنی توجہ حکومت بچانے پر مرکوزکردی جس کے نتیجے میں وفاقی کابینہ کے اجلاس منسوخ کردئیے گئے ۔عمران خان اقتدار کسی صورت چھوڑنے پر تیارنہیں تھے۔ اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے آخری حربہ آزمانے کا فیصلہ کیا گیا مگر سپریم کورٹ آف پاکستان نے تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کے فیصلے
مزید پڑھیے


میں نہ مانوں

جمعرات 07 اپریل 2022ء
سہیل اقبال بھٹی
وزیراعظم عمران خان نے اقتدار کی مسند پر فائز ہونے سے قبل ملکی نظام میں اصلاحات اور معاشی خوشحالی کے ہزاروں اعلانات کئے ۔ امیر اور غریب کیلئے ایک قانون نافذکرنے کاسینکڑوں مرتبہ وعدہ بھی کیا گیا۔اقتدار سنبھالنے کے بعدتو وعدوں اور نعروں نے مزید شدت اختیار کرلی ۔عمران خان نے بطور وزیراعظم ہر خطاب میں آئین وقانون کی پاسدار ی اور انصاف کی فراہمی کا بھرپور ذکر کیا۔ وزیراعظم نے پوری قوم کو باورکروایا کہ وہ قومیں تباہ ہوگئیں جنہوں نے امیر اور غریب کیلئے الگ قانون بنارکھے تھے ۔ احتساب اور تبدیلی کا عمل حکومت بننے کے پہلے
مزید پڑھیے


بغیر تصویر کے جواب کون دے گا؟

جمعرات 24 مارچ 2022ء
سہیل اقبال بھٹی
اگست 2019 ء میں وزیراعظم عمران خا ن نے پاکستان تحریک انصاف اور آزاد ارکان پارلیمنٹ کو ملاقات کیلئے مدعو کیا۔ اس ملاقات کا مقصد حکومتی پالیسیوں ‘ملکی معاشی صورتحال پر فیڈ بیک اور اپوزیشن ارکان کے خلاف جاری احتسابی مشن کو عوام میں مزید موثر انداز میں پیش کرنا تھا۔ اگست 2019ء تک ڈالر کی اونچی اُڑان کے باعث ملک میں معاشی سرگرمیاں محدود اور مہنگائی کا خوفناک سلسلہ شروع ہوچکا تھا مگر ارکان پارلیمنٹ اپنی دل کی بات وزیراعظم کے سامنے کہنے سے ہچکچا رہے تھے۔ کوئی بھی ایسی صورتحال میں وزیراعظم کی ناراضی مول لینے پر تیار
مزید پڑھیے








اہم خبریں