BN

سہیل اقبال بھٹی


نیا زمانہ


ماسکو کاپچاس سال پرانا خواب حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔شمالی وزیرستان کے علاقے غلام خان کی مرکزی شاہراہ کے کنارے پرسائن بورڈ نصب کیا گیا ہے ،جس پر انگریزی ‘ریشین اور فارسی زبان میں درج ہے کہ یہاں سے ماسکو چار ہزار سات سو اٹھانوے کلومیٹر دور ہے۔ خاکسار نے 26 نومبر 2016 کوصحافتی کیرئیر کو خطرے میں ڈالتے ہوئے ،ایکٹی وی پر بڑی سٹوری بریک کی تھی۔سولہ دن کی شبانہ روزانتھک محنت‘ مختلف اداروں اور وزارتوں سے تصدیق اور موقف حاصل کیا۔خبر کے مطابق 14سال بعد روسی انٹیلی جنس فیڈرل سیکورٹی سروسز سابق’ کے جی بی ‘ کے چیف
جمعرات 25 فروری 2021ء

دھوبی پٹکا

جمعرات 18 فروری 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
سینیٹ الیکشن کی بدولت شہر اقتدار میں سیاسی گہماگہمی اور ممکنہ نتائج کی چہ میگوئیاں عروج پر ہیں۔اپوزیشن جماعتیں سینیٹ الیکشن میں حکومت کو دھوبی پٹکا لگا کر دھڑن تختہ کرنے کیلئے بیتاب ہیں تو حکومتی ارکان وزیراعظم کی طے شدہ حکمت عملی کے ذریعے اپوزیشن کو چاروں شانے چت کرنے کے درپے۔مطلوبہ نتائج کے حصول کیلئے ملک بھر میں سیاستدانوں سمیت بااثر افراد اور بزنس مین دن رات متحرک ہیں مگر ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کا خوف سبھی پرطاری ہے۔اہم حکومتی شخصیت کی جانب سے ریلیز کی گئی، ویڈیو کے بعدخریدوفروخت کے ماہرین یقینافول پروف انتظامات کرچکے ہوں گے
مزید پڑھیے


ذرا سنبھل کے

جمعرات 11 فروری 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
2018ء میں سینیٹ الیکشن کے دوران ’’ضمیرفروشی ‘‘کی ویڈیو نے تہلکہ مچا دیا ہے۔2منٹ گیارہ سیکنڈ زدورانئے پر مشتمل ویڈیو میں عوامی نمائندوں کے سامنے نوٹوں کا ڈھیر لگا ہواہے۔بھاؤ طے ہونے کے بعد نوٹ بیگ میں ڈالنے کے مناظر بھی ویڈیوکلپ میں دکھائے گئے ہیں۔ضمیر فروشی کی یہ واردات بروز منگل وفاقی کابینہ کے سامنے بھی تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی۔ وزیراعظم نے نوٹوں کی چمک کے سامنے ضمیرفروشی کی واردات میں ملوث ہونے پر صوبائی وزیر قانون سلطان محمد خان کو عہدے سے ہٹانے کا حکم صادر فرمادیا۔اسی ضمیر فروشی کے تدارک کیلئے وزیراعظم نے شوآف ہینڈز
مزید پڑھیے


مٹی پاؤ

جمعرات 28 جنوری 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
میڈیا اور عوامی شعور کے باعث رفتہ رفتہ جواب دہی کا رحجان بڑھا تو عوام‘حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے مابین تلخیاں عروج پرپہنچیں۔اختلافات نے ایسی شدت اختیا رکی کہ کئی جمہوری حکومتیں آئینی مدت پوری کئے بغیرہی رخصت کردی گئیں۔ انہی تلخ سیاسی لمحات اور کھینچاتانی کے دوران سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے ایک دن ’مٹی پاؤ‘کا نعرہ لگادیا جس کا مقصد سیاسی اختلافات اوررنجشوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے آگے بڑھنا تھا۔اسی حکمت عملی کے تحت نیب کے دوغیرملکیوں کمپنیوں براڈشیٹ اور انٹرنیشنل ایسٹ ریکوری لمیٹڈ کیساتھ معاہدے پر قومی مفاد اور وقار پر سمجھوتا کرتے ہوئے
مزید پڑھیے


رانگ وے

جمعرات 21 جنوری 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
خاتون خانہ موٹر وے پر گاڑی ڈرائیو کررہی تھی کہ موبائل پر شوہرنامدار کی کال آئی۔ بیگم !ریڈیو پر خبر چل رہی ہے کہ موٹر وے پر سفر کرنے والے احتیاط سے ڈرائیو کریں کیونکہ ایک گاڑی تیزی سے رانگ وے پر آ رہی ہے۔ بیگم صاحبہ نے جواب دیا کہ ریڈیو غلط خبر چلا رہا ہے‘ یہاں تو سبھی گاڑیاں رانگ وے سے آ رہی ہیں۔قارئین یہ لطیفہ حکومتی ’کارگزاری‘پر ذہن میں آ گیا۔تحریک انصاف نے عوام کی زندگیاں بدلنے کیلئے تبدیلی کے سفر کا آغاز کیا،توابتداسے ہی مسائل اور چیلنجز کی شاہراہ پر رائٹ وے کی بجائے
مزید پڑھیے



غیرمحفوظ ڈیٹا اور ڈ س انفولیب

جمعرات 14 جنوری 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
مسائل اور چیلنجز کے گرداب میں پھنسے عوام کی مشکلات کم کرنے کیلئے نوٹسزکی بھرمار ہے۔ وزیراعظم عمران خان عوامی وقومی اہمیت کے مسائل پر ہر ہفتے نوٹس لینے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں ۔ وفاقی وزارتوں اور متعلقہ اداروں کی جانب سے روایتی سستی اور پرانی روش برقرار رکھنے کے باعث نوٹسز کی راہ ہموار ہورہی ہے۔ بعض ادارے اور افسران وزیراعظم کے نوٹس لینے کے باوجود اپنی روش ترک کرنے پر تیار نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ہرمسئلے کو حل کرنے کیلئے وزیراعظم کانوٹس لینا کیوں ناگزیر ہے۔ وزرائ‘بیوروکریسی اور اداروں کے سربراہان قومی اہمیت کے معاملات
مزید پڑھیے


کیونکہ اُمید ’’قرنطینہ‘‘ نہیں ہو سکتی…!!

جمعه 01 جنوری 2021ء
سعدیہ قریشی
2020ء دکھوں سے بوجھل اور خوف سے چھلکتا ہوا سال تھا۔ جو اب سال گزشتہ میں ڈھل گیا۔ اس برس کی دلخراش یادیں‘ ہمارے ذہنوں سے محو نہیں ہو سکیں گی۔ زندگی تاحال وبا کے شکنجوں میں ہے۔ خوف اور بے یقینی کی فضا میں ابھی کمی نہیں آئی۔ مگر نئے سال کی یہ نئی صبح ہے۔ جنوری 2021ء کا آج پہلا دن ہے تو کیوں نہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائیں اور دلوں میں اُمید کی فصل بوئیں۔ وبا اور بے یقینی کے اس تسلسل کے باوجود‘ مجھے نئے برس کی یہ صبح تروتازہ اور نئی نکور لگ رہی ہے۔ بے
مزید پڑھیے


ہائیرایجوکیشن کا انقلاب؟

جمعرات 31 دسمبر 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
وزیراعظم خان کواحتساب کا سامنا کرنے والی سیاسی جماعتوں سے بڑاشکو ہ ہے کہ ماضی میں تعلیم اور صحت کو نظرانداز کرکے انفراسٹرکچر پر اربوں ڈالر اڑائے گئے۔ اعلیٰ تعلیم کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی کی منازل طے نہیں کرسکتا۔ قوم پرامید تھی تحریک انصاف کے دورمیں اعلیٰ تعلیم کو فروغ ملے گا۔حکومت ایچ ای سی کے بجٹ میں اضافہ اور کارکردگی بہتر بنانے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے گی ۔ عالمی اداروں کی جانب سے بھی کروڑوں ڈالر کی کریڈٹ فیزیبلیٹی بھی ہائیرایجوکیشن کے میدان میں تعطل کے شکار انقلاب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوگی۔ حکومت
مزید پڑھیے


رکاوٹ ریس؟

جمعرات 24 دسمبر 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
وزیراعظم سیکرٹریٹ میں متعلقہ حکام سے ملاقات اور نمل یونیورسٹی میانوالی کا دورہ ہوچکا۔ پورا پلان وزیراعظم کی ٹیم کے حوالے کردیا۔ اب پاکستان کو بیرونی قرضوں سے نجات اور ترقی کی منازل طے کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ وفاقی حکومت کا ایک پیسہ اس پلان پر خرچ نہیں ہوگا۔ صرف پرائیویٹ کمپنیوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرکے نوجوانوں کو پلیٹ فارم مہیا کرنا ہوگا۔ پاکستان ٹیکسٹائل وسرجیکل آلات سمیت روایتی شعبوںکے بجائے صرف ایک شعبے کے ذریعے سالانہ50ارب ڈالر زرمبادلہ حاصل کرے گا۔ آئی ٹی ایکسپورٹس پاکستان کو غیرملکی قرضوں اور امداد کے چنگل سے
مزید پڑھیے


پانچواں بحران ‘نیا حکومتی امتحان

جمعه 18 دسمبر 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
پی ڈی ایم کے جلسوں‘لانگ مارچ اور دھرنے سے نمٹنے میں مصرو ف وفاقی حکومت کیلئے پٹرول بحران پر ایف آئی اے انکوائری کمیشن کی رپورٹ نے نیاچیلنج کھڑا کردیا ہے۔ کورونا وائرس کے باعث دنیابھر میں معاشی سرگرمیاں معطل ہوئیں تو پٹرولیم مصنوعات کی منڈی بھی کریش کرگئی۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ناقابل یقین حد تک گرگئیں ۔ دنیا سمیت پڑوسی ممالک نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات زیرزمین ‘آن شور اور آف شور مقامات پر ذخیرہ کر لیں مگر پاکستان میں وزیراعظم کی ’سپرٹیم ‘ نے مبینہ ملی بھگت اور نااہلی سے آئل مافیا کا سہارا
مزید پڑھیے