BN

سہیل اقبال بھٹی


دیوار سے آگے کیا ہے؟


بحرانوں سے دوچار وفاقی حکومت کیلئے ہمالیہ جیسے مسائل ٹلنے کا نام نہیں لے رہے۔عجب اتفاق ہے کہ وزیراعظم جس شعبے میں بہتری کیلئے کوشش شروع کرتے ہیں ‘بحران سنگین اور معاملات بے قابو ہوجاتے ہیں۔کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں سسٹم میں کوتاہوں اور غلطیوں کو برداشت کرنے کی بریدنگ سپیس ختم ہوچکی ہے۔نیب مقدمات کا سامنا کرنے والی اپوزیشن ‘حکومت کے گرد گھیرا تنگ کرنے میں پیش قدمی کررہی ہے تو ایڈہاک ازم‘ـاقربا پروری اورغلط منصوبہ بندی کے باعث نئے بحران سراٹھار ہے ہیں۔ معاشی سست روی اور تنگدستی کا سامنا کرنے والے عوام کیلئے آنے
جمعرات 02 جولائی 2020ء

یہ راستہ کوئی اور ہے ؟

جمعرات 25 جون 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
طلاطم خیزدور‘ـسیاسی جنگ‘انقلابی نعروں اور وعدوں کے بعد بالآخر 25جولائی 2018ء کوتبدیلی کا سفر شروع ہوا۔ پاکستان تحریک انصاف نے مشکلات اور معاشی چیلنجز میں گھرے عوام کے مسائل حل کرنے کا فریضہ انجام دینا شروع کیا۔ اکتوبر 2018ء میں حکومتی کارکردگی اورگورننس پر سوال اٹھے تو وزیراعظم نے قوم کو 6ماہ تک صبر سے کام لینے کا مشورہ دیا۔ عمران خان نئی ٹیم کیساتھ میدان میں اترے تھے ‘ جنہیں ملکی معاملات کی سمت درست کرنے اور گڈ گورننس کیلئے یقینی طور پرکچھ ماہ درکار تھے۔6ماہ گزرے پھر ایک سال‘ڈیڑھ سال اور اب اقتدار کی مسند پر فائز ہوئے
مزید پڑھیے


گڈگورننس کی راہ میں رکاوٹ؟

جمعرات 18 جون 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
قومی اسمبلی کے اجلاس میںخواجہ آصف کے لب ولہجے اور گزشتہ ہفتے خلاف توقع ٹیلی فونک روابط نے اہم حکومتی شخصیات کو چوکنا کردیا ہے۔ وفاقی حکومت اپوزیشن کے خوف سے بے نیا ز ‘کورونا وائرس اورٹڈی دل کی تباہ کاریوں سے نمٹنے‘ـاحتسابی عمل اور نئے ریلیف پیکج کی تیاری میں مشغول تھی ۔ جہانگیر ترین کا پنجاب اور وفاق میں ممکنہ سیاسی حملے کا خطرہ ٹل چکا تھا۔وزیراعظم نے بجٹ سیشن میں ناراض عناصرکو رام کرنے کا بیڑاقابل اعتماد معاون خصوصی کو سونپ دیا تھا۔وزیراعظم اور انکی ٹیم یکسوئی کیساتھ ملک اور عوا م کو درپیش چیلنج سے نمٹنے
مزید پڑھیے


روک سکو تو روک لو!

جمعرات 11 جون 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
عجب معاملہ ہے کہ دوسال کے عرصے میں تمام تر حکومتی دعوؤں اورکاوشوں کے باوجود عوام مشکلات کی دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں۔ مختلف شعبوں میں موجود مافیا آئے روز نیا بحران پیداکرکے حکومتی رٹ کو چیلنج کررہا ہے۔ حکومت ایک شعبے میں مافیا پرہاتھ ڈالتی ہے تودوسرے شعبے میںموجود عناصر سرگرم ہوجاتے ہیں۔ایف آئی اے ‘ـ نیب اور دیگر اداروں کے خوف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مختلف کمپنیاں دھڑلے سے حکومت اور عوام کو بلیک میل کرکے لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ وزیراعظم عمران خان حکومت سنبھالنے سے قبل ایسے عناصر کی سرکوبی کا اعلان کیا کرتے تھے
مزید پڑھیے


منجدھار سے آگے کیا ہے؟

جمعرات 04 جون 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
کورونا وائرس اور ٹڈی دل کی تباہ کاریوں کیساتھ سیاسی اوراحتسابی جنگ عروج پکڑ رہی ہے۔وہیں کورونا وائرس نے کروڑوں افراد کو خط غربت سے نیچے دھکیلنے کیساتھ بے روزگاری سے بھی دوچارکردیا ہے۔ ہر گزرتے دن کیساتھ عام آدمی کی زندگی بے پناہ مشکلات سے دوچار ہورہی ہے۔کمپنیاں دیوالیہ ہوکر بندش کی جانب سے بڑھ رہی ہیں۔ان مشکل لمحات میں عوام کی نظریں حکومت پر لگی ہیں کہ وزیر اعظم اورانکی ٹیم اپنے وعدوں اوردعوؤں کو عملی جامہ پہنائیں جن کا مقصد ملکی معیشت کی بحالی اورعوام کے دکھوں کا مداوا ہے۔اسی تناظر میں حکومتی ٹیم نے عوام کو
مزید پڑھیے



مٹی پاؤ؟

جمعرات 21 مئی 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
کڑے احتساب کے منشور کی حامل تحریک انصاف کی حکومت کوروناوائرس کے سنگین چیلنج کے دوران بھی احتسابی عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔مہنگائی‘ـگورننس اور کمزور معیشت کے باعث جیسے ہی حکومتی ساکھ متاثرہوتی ہے‘وزیراعظم کڑے احتساب کا نعرہ بلند کردیتے ہیں۔ دل گرفتہ سیاسی ورکرز دوبارہ امید وابستہ کرلیتے ہیں کہ چلوکچھ دن مزید مشکلات جھیل لیتے ہیں۔اسی میں تحقیق کاروںکوایک اور اسکینڈل کے پیچھے لگادیا جاتا ہے۔آٹاـ‘ چینی اسکینڈل کی انکوائری کا حکم اور رپور ٹ پبلک کرنے سے وزیراعظم نے خوب پذیرائی حاصل کی۔ چینی اسکینڈل کا کلائمیکس آئند ہ چند روز بعد عوام کے ہوش اڑادے گا۔
مزید پڑھیے


تین وزارتیں…تین کہانیاں

جمعرات 14 مئی 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
ملک کو درپیش چیلنجز اور معاشی صورتحال کے باعث وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ 21ماہ کے دوران وفاقی کابینہ کے اجلاسوں میں 1ہزار630فیصلے کئے ۔قومی وعوامی مفاد کے امور سے متعلق کئی کابینہ اجلاس تین گھنٹوں سے بھی زائد طویل رہے۔ وزیراعظم اور ارکان سر جوڑ کر بیٹھے اور خلوص نیت سے فیصلے کئے مگر ان فیصلوں کے نتائج اسکینڈلز اورعوامی مشکلات میںبے پناہ اضافے کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔وزیراعظم نے اب وجوہات جاننے کیلئے وزارتوں اور افسران کی انکوائری اور بازپُر س شروع کردی ہے۔ جواب طلبی کے اس عمل کے دوران ایسے انکشافات ہوئے کہ
مزید پڑھیے


سسکتا احساس

جمعرات 07 مئی 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کے اثرات انسانوںاور ہرشعبے پر خوفناک انداز میں مرتب ہورہے ہیں ۔کورونا وائرس نے دیہاڑی دار طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ مختلف صنعتوں نے گھر بیٹھے ورکروں کو تنخواہ کی ادائیگی سے معذوری کا اظہار کیا تو وفاقی حکومت نے عوام کو درپیش مالی مشکلات کومدنظر رکھتے ہوئے24مارچ کو 1200ارب روپے کے کورونا ریلیف پیکج کا اعلان کیا ۔ ریلیف پیکج میں وزرات صنعت وپیداوار نے بے روزگار اور دووقت کی روٹی کو ترستے مزدوروں کیلئے200ارب روپے منظور کروائے۔ پیکج کے تحت بے روزگار ی سے دوچار افراد کو 12ہزار روپے کی امداد ملنا
مزید پڑھیے


کمپرومائز؟

جمعرات 30 اپریل 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
قومی خزانے کو اربوں روپے نقصان پہنچانے والے کیلئے معافی کا وقت گزر چکا۔وزیراعظم نے آٹا اور چینی اسکینڈل کی انکوائری رپورٹس پبلک کرکے نئی تاریخ رقم کردی۔ تحقیقات میں حکومتی شخصیات کے نام آنے کے باوجود وزیراعظم نے رپورٹ پبلک کروائیں ۔ ذمہ داروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی اوراربوں روپے کی وصولیاں ہوں گی۔وغیرہ وغیرہ! پی ٹی آئی ر ہنماؤں اورسوشل میڈیاپر موجود سپورٹرز نے حکومتی اقدام کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملادئیے۔اسی اثناء میں پاورسیکٹر اسکینڈل کی رپورٹ بھی وزیراعظم کو پیش کردی گئی جس میں قومی خزانے اور عوام کو 4ہزار802ارب روپے کا ناقابل تلافی
مزید پڑھیے


ہونا کجھ وی نئیں؟

جمعرات 23 اپریل 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
اکتوبر 2015ء میں سینیٹ اجلاس سے خلاف معمو ل جوش خطابت کی انتہاء پر پہنچے خواجہ آصف نے کہا تھاآئی پی پیز والے ’Robber Barons‘ہیں۔وفاقی وزیر پانی وبجلی خواجہ آصف کا حقیقت پرمبنی یہ بیان میڈیا سمیت آئی پی پیز مالکان کیلئے بم شیل تھا۔وجہ صاف ظاہر تھی کہ آئی پی پیز کے ایک بڑے مالک کی وزیراعظم نوازشریف کیساتھ انتہاء درجے کی قربت تھی۔ ایسی قربت کہ کوئی بھی وزیر اس شخصیت کے کاروباری مفاد کے خلاف ایک لفظ بھی عوام کے سامنے کہنے کا سوچ بھی نہ سکے۔تاہم خواجہ آصف کے’خطاب‘نے آئی پی پیز کے خلاف ’سیکنڈل‘کی بنیاد
مزید پڑھیے