BN

سہیل اقبال بھٹی


نیا منصوبہ


2017ء میں اپوزیشن کے اصرار پرکینیا میں دوسری مرتبہ الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کے ذریعے الیکشن منعقد ہوئے۔ الیکشن کا وقت ختم ہونے کے بعد کمپیوٹرز ہیک کرلئے گئے۔ اپوزیشن اور حکومتی شخصیات نے دھاندلی کا شورمچانا شروع کردیا۔معاملہ سپریم کورٹ تک جاپہنچا اور ایک ماہ بعد سپریم کورٹ نے ڈیجیٹل الیکشن کے نتائج کو کالعدم قراردیدیا۔ کینیا میں اس سے قبل 2013ء میں بھی تمام تر تحفظات کے باوجود الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کے ذریعے الیکشن منعقد ہوئے ۔ یہی نہیں بلکہ گھانا میں 2010ء میں الیکٹرانک ووٹنگ کا سلسلہ شروع کیا گیا۔گھانا کے الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ ہیک کرکے
جمعرات 06 مئی 2021ء

اُصولوں کا نشہ

جمعه 30 اپریل 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
ڈاکٹر عشرت حسین نے 2006سے پاکستان کی بیوروکریسی سدھارنے کاعمل شروع کیاتھا۔حکومت وقت اور غیرملکی مالیاتی اداروں کی سپورٹ کے باوجود ان کی کاوش حقیقت کا روپ نہ دھار سکی ۔ مافیا کی سرکوبی اور وفاقی حکومت میں اصلاحاتی انقلاب کیلئے کوشاں وزیراعظم عمران خان نے ڈاکٹرعشرت حسین کو مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات تعینات کرکے 2006میں اُدھورے رہ جانے والے ٹاسک کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ذمہ داری سونپ دی۔ڈاکٹر عشرت حسین نے اس مرتبہ رپورٹ برائے رپور ٹ کے بجائے سرپرائز دینے کا فیصلہ کیا۔ سول بیوروکریسی میں متعارف کروائی گئی انکی حالیہ اصلاحات کی بدولت دو
مزید پڑھیے


امیر شہر نے سچ کر دیا کہا اپنا؟

جمعرات 22 اپریل 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
کورونا وائرس کی تباہ کاریوں سے پریشان وزیراعظم عمران خان نے 4مارچ 2020کو وفاقی سیکرٹری صحت ڈاکٹر اللہ بخش کو اچانک عہدے سے ہٹادیا۔وزیراعظم آفس کورونا وائرس کی پہلی لہر سے نمٹنے کیلئے وزارت قومی صحت میں بہترین سیکرٹری تعینات کرنے کا خواہش مند تھا۔ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے سوچ وبچار اور مشاورت کے بعد ڈاکٹر سید توقیرحسین شاہ کا نام تجویزکیا۔ ڈاکٹر سید توقیر حسین شاہ کئی ماہ سے او ایس ڈی تھے۔وزیراعظم کی منظوری ملنے کے بعد بالآخرڈاکٹر سید توقیر حسین شاہ کو انچارج ایڈیشنل سیکرٹری وزارت قومی صحت تعینات کردیا گیا۔کورونا وائرس کی پہلی
مزید پڑھیے


بے بسی کی دُھند

جمعرات 15 اپریل 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
وزیراعظم عمران خان اڑھائی دہائیوںسے کرپشن اور اقربا پروری کے خلاف برسر پیکار ہیں۔کالجز‘یونیورسٹیز ‘عالمی فورمزاور عوامی اجتماع اور قوم سے ہر خطاب میں کرپشن اور اقرباپروری کی بیخ کنی کو ہمیشہ مرکزیت حاصل رہی۔ کرپشن اور اقرباپروری کے خلاف انکے بیانات نوجوان نسل کے ذہنوں پر نقش ہوچکے ہیں۔ یہی وہ انقلابی بیانات تھے جن کے باعث اقتدار کی راہ ہموار ہوئی مگر مسند اقتدار کیساتھ اصل امتحان بھی شروع ہوگیا۔وزیراعظم نے سرکاری اداروں اور کمپنیوں میں کرپشن کے خاتمے کیلئے دوسال قبل ایکشن لیا۔ وزیراعظم کواحساس ہوچکا تھا سرکاری کمپنیوں میں سالانہ 500ارب روپے سے زائد نقصان کی
مزید پڑھیے


اپنی پارٹی ہے

جمعرات 08 اپریل 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
پاک سیکرٹریٹ کے اے بلاک کی نیم روشن راہ داری سے گزرتے ہوئے میں تھرڈ فلو ر پر پہنچ چکاتھا۔ ملک کے دیگر شہروں کیساتھ وفاقی دارالحکومت بھی بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی زد میں تھا۔ طے شدہ ٹائم کے مطابق میں صوفے پر براجمان تھا۔ وفاقی سیکرٹری اور دیگر افسران کیساتھ انکی مختلف امور پر مشاور ت جاری تھی۔ اچانک بجلی آئی اور کمرے میں پہلے سے آن ٹی وی پر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا بیان نیوز ہیڈ لائن کی زینت تھا۔ حسب معمول صدرمملکت آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کے خلاف کرپشن اور
مزید پڑھیے



سپر اوور؟

جمعرات 01 اپریل 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
3مارچ کو سینیٹ الیکشن میں حکومتی امیدوارحفیظ شیخ کی شکست اور اپوزیشن کے امیدوار یوسف رضاگیلانی کے فتح نے اقتدارکے ایوانوں میں بھونچال برپاکررکھا ہے۔وزیراعظم نے ’ڈواورڈائی‘کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ کابینہ ارکان ہوں یا افسر شاہی سبھی کو قبلہ درست کرنے کیلئے آخری وارننگ دی جاچکی۔ اب ٹال مٹو ل اور آنکھوں میں دھول جھونکنے کاحربہ کارگر نہیں ہوگا ۔ وزیراعظم کو ادراک ہوچکا وقت کم اور مقابلہ انتہائی سخت ہے۔وزیراعظم نے قوم کیساتھ کئے وعدوں کی پاسداری کیلئے فائنل راؤنڈ کاآغازکر دیاہے‘کرکٹ کی اصطلاح میں اسے سپر اوور بھی کہہ سکتے ہیں تاہم کامیابی کا واحد حل یہی
مزید پڑھیے


ٹریک پر واپسی؟

جمعرات 25 مارچ 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
وزیراعظم عمران خان کا قانون کی پاسداری ‘مافیا کی سرکوبی ‘طاقتوراور غریب کے ساتھ یکساں سلوک کا مشن تو ویسے اڑھائی دہائیوں پر محیط ہے مگرقدرت نے اس مشن کو عملی جامہ پہنانے کا موقع2018میں عنایت کیا۔شاید ہی کوئی دن ہوجب وزیراعظم نے اپنے اس مشن پر کاربند رہنے سے متعلق احساس نہ دلا یا ہو ۔ یہی وجہ تھی عوام نے عمران خان کو ایوان اقتدار تک پہنچانے کیلئے ہرممکن مدد کی۔ 26جنوری کو وزارت صحت کی سمری پر وفاقی کابینہ نے نجی کمپنیوں کو کورونا ویکسین کی من پسند قیمت مقرر کرنے کی منظوری دی۔ وزارت صحت نے کابینہ
مزید پڑھیے


افسر شاہی کا قبلہ؟

جمعرات 18 مارچ 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
ہلکی بوندا باری سے موسم خوشگوار تھا۔ٹریل فائیو سے مارگلہ ہلز کا نظارہ مسحور کن تھا۔ میں بڑے بڑے قدم بھرتا محو واک تھا کہ ایک باریش شخص نے مجھے نام سے پکارا اور کہنے لگے’مجھے انصاف نہ ملا تو میں اپنی جان لے لوں گا‘۔میں اس نا گہانی کیفیت سے گھبرا گیا‘تاہم قریب ہی لکڑی کے بینچ پر انہیں بٹھایا۔ پانی کی بند بوتل اتفاقاً میرے پاس تھی انہیں پینے کو دی پھر ماجرا پوچھا؟ معلوم ہوا کہ ایک بڑے بیوروکریٹ نے ان کے پلاٹ پر قبضہ کر رکھا ہے‘ جعلی کاغذات بھی بنوا لئے ہیں۔تمام ثبوتوں کے باوجود
مزید پڑھیے


ابھی وقت نہیں؟

جمعرات 11 مارچ 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
بلند وبانگ دعوؤں ‘جوڑ توڑاورسٹنگ ویڈیوآپریشن کے بعد بالآخر3مارچ کو سینیٹ الیکشن منعقد ہوا۔ پی ڈی ایم کے امیدواریوسف رضا گیلانی نے میدان ما ر کر مسند اقتدار کو ہلا کررکھ دیا۔6مارچ کواعتماد کا ووٹ ملنے کے بعد بظاہر بھونچال تھم چکا مگر پالیسی اور فیصلہ سازی میں بدستور لرزہ طاری ہے۔حکمران جماعت اگرچہ افسرشاہی پہ ہے مگرروایتی نا اہلی اورسیاسی افق پر چھائی دھند نے قومی منصوبوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ پاکستان ریلوے کاسی پیک کے تحت6ارب80کروڑ ڈالر کا ایم ایل ون منصوبہ پاکستان کا سب سے بڑا انفراسٹرکچر منصوبہ ہے ۔ 5اگست2020کو ایکنک کی جانب سے
مزید پڑھیے


قومی اثاثوں کا دکھ

جمعرات 04 مارچ 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
مشہورچینی کہاوت ہے ’آپ گھر کی چیزیں بیچ کر‘ گھر کے حالات ٹھیک نہیں کر سکتے، یہ کہاوت ہے تو اُن دنوں کی ہے جب پورا چین نشے کی لت کا شکار تھا اور لوگ روز مرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے گھر کی چیزیں بیچ رہے تھے۔ تاہم اس کہاوت کی یاد اِن دنوں آئی جب بر سراقتدار حکومت بنا نشے کے گھر کی چیزیں بیچنے کا سوچ چکی ہے۔ آپ درست سمجھے میرا اشارہ ’روز ویلـٹ ‘ہوٹل ہی ہے۔اِس قومی اثاثے کا دکھ سنانے سے قبل صاحب اختیارعمران خان صاحب سے اپیل کروں گا اس حوالے سے
مزید پڑھیے








اہم خبریں