BN

سمیع ابراہیم


جی ٹی روڈ سے معاہدے تک


تا دم تحریر جی ٹی روڈ گزشتہ کئی دنوں سے بند ہے۔کالعدم تحریک لبیک کے کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے سے روکنے کے لیے جگہ جگہ خندقیں کھودی گئیں۔ ہزاروں پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات ہیں۔ عام شہری پریشان ہے۔ ایک تو ناموس رسالت کا معاملہ اتنا حساس اور سنجیدہ ہے کہ ہر دل میں ہیجان ہے، ایک بے قراری ہے اور دوسری جانب ٹریفک میں رکاوٹوں نے زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ بچے سکول نہیں جا سکتے، کاروبار بند ہیں، زندگی معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ ٹی وی لگائیں تو متضاد بیانات نہ صرف کنفیوژن پھیلا رہے ہیں،
پیر 01 نومبر 2021ء مزید پڑھیے

عمران خان اورجمن فقیر

پیر 25 اکتوبر 2021ء
سمیع ابراہیم
ویسے تووطن عزیز میں حالات ہر وقت غیر معمولی رہتے ہیں لیکن گزشتہ دو تین ہفتوں سے معاملات ڈرامائی انداز میں پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔وزیراعظم عمران خان ایک کے بعد دوسرے معاملے میں الجھتے جا رہے ہیں۔بعض لوگوں کا خیال ہے،عمران خان اس صورت حال کی وجہ سے سیاسی شہید بننے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ کوئی ایسا کام ہو سکتا ہے جس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ عمران خان نے مافیا کے خلاف بھرپور جنگ کی لیکن سسٹم نے کامیاب نہیں ہونے دیا۔مجھے کوئی شک نہیں کہ عمران خان ذاتی طور پر کسی
مزید پڑھیے


کیا لبیک سے بھی مذاکرات ہوں گے؟

پیر 04 اکتوبر 2021ء
سمیع ابراہیم
وزیراعظم عمران خان کے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے بیان پر خاصی لے دے ہو رہی ہے۔ کچھ لوگ حکومت کے اس اقدام کی حمایت کر رہے ہیں، تو بہت سے نقاد بھی سا منے آئے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ آپریشن ضرب عضب سے قبل بھی مذاکرات ہوئے تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے بطور چیئرمین تحریک انصاف اس وقت بھی مذاکرات کی حمایت کی تھی۔لیکن پھر جب جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر حملہ ہوا اور مذاکرات ناکام ہوئے تو ریاست نے باقاعدہ آ پریشن ضرب عضب کا اعلان
مزید پڑھیے


طالبان، امریکہ اور عمران خان

پیر 20  ستمبر 2021ء
سمیع ابراہیم
وزیراعظم عمران خان نے سی این این کو دئیے گئے انٹرویو میں نہایت جذباتی انداز میں کہا کہ امریکہ کا افغانستان پر حملہ اور طالبان حکومت ختم کرنے کا فیصلہ غلط تھا۔ ماضی کی پاکستانی حکومتوں کو اس حوا لے سے امریکہ کا ساتھ نہیں دینا چاہئیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں اس وقت پاکستان کا حکمرا ن ہوتا تو کبھی بھی اس حملے کی حمایت نہ کرتا۔ وزیراعظم عمران خان امریکہ کی افغان پالیسی کے بارے میں کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں اور افغانستان میں ناکامی کا ذمہ دار امریکی حکمرانوں کے گھمنڈ
مزید پڑھیے


کابل میں ایک تعارفی نشست

پیر 13  ستمبر 2021ء
سمیع ابراہیم
کابل سیکرٹریٹ میں خاصی چہل پہل تھی۔طالبان قیادت سیکرٹریٹ کی بلڈنگ میں موجود ایک کانفرنس روم میں جمع ہو رہی تھی،جہاں کچھ عرصہ قبل امریکی آشیر باد سے قائم حکومت کے ارکان بیٹھتے تھے۔مغربی لباس زیب تن کیے لوگ آج کانفرنس روم میں موجود نہیں تھے۔بلکہ ان کی جگہ داڑھی والے بیٹھے ہوئے تھے،جن میں سے کچھ کی داڑھیاں سفید اور کچھ کی کالی تھیں۔اجلاس شروع ہونے سے قبل طالبان رہنماؤں کی آپس میں ہلکی پھلکی گفتگو بھی جاری تھی۔طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ شیخ الحدیث مولوی عبدالحکیم حقانی،نئے چیف آف آرمی سٹاف قاری فصیح الدین،افغانستان کے مشرقی
مزید پڑھیے



کیا مریم اورنگزیب اعتماد کھو چکی ہیں؟

پیر 06  ستمبر 2021ء
سمیع ابراہیم
مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے ملک احمد خان کو اپنا ترجمان مقرر کر دیا، بظاہر یہ ایک عام سی خبر ہے، سیاستدان اپنا ترجمان لگاتے، بدلتے رہتے ہیں۔ لیکن موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں شہباز شریف کا یہ فیصلہ نہایت اہم ہے۔ اس فیصلے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے، مثلاً ایک سوال تو یہ ہے کہ کیا ن لیگ کی موجودہ سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب اپنا کام درست انداز میں نہیں کر پارہیں؟ کیا شہبازشریف کو ان پر اعتماد نہیں رہا، یا وہ اہم معاملات پر پارٹی کی رائے اسکی روح
مزید پڑھیے


طالبان ضیاء الحق کی قبر پہ۔۔۔

پیر 30  اگست 2021ء
سمیع ابراہیم
آج کل موجودہ دنیا میں حکومتوں اور ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کو مفادات کے تابع قرار دیا جاتا ہے۔ اسے بہترین سفارت کاری سے منصوب کیا جاتاہے۔ سفارت کاری اور دوستی کے یہ اصول ہم نے مغربی تعلیمات اور ثقافت سے مستعار لیے ہیں۔ اور ہمارے ہاں بھی دانشور ، صحافی اور سیاست دان یہی تبلیغ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ جدید دور میں قوموں کے درمیان دوستی اور تعاون ماضی کے تعلقات کی بنیاد پر نہیں بلکہ مستقبل میں ممکنہ تعاون اور ضرورت کی بنیاد پر ہیں۔صرف مشترکہ مفادات ہی دوستی کی ضمانت ہیں۔ لیکن ہماری ثقافت
مزید پڑھیے


طالبان کیسے جیتے۔۔۔بائیڈن افسوس کریں گے

پیر 23  اگست 2021ء
سمیع ابراہیم
طالبان کی جیت کی سب کو توقع تھی لیکن وہ چند دنوں میں کابل پر اپنا قبضہ جما لیں گے،یہ کسی تجزیئے میں شامل نہیں تھا۔ یہ سب کیسے ہوا؟ اس کا تجزیہ زور و شور سے جاری ہے۔میڈیا پر تجزیہ کاروں کا ایک بہت بڑا گروہ جس کی ڈوریں مغربی مفادات سے بندھی ہیں، یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان کو زیادہ خوش نہیں ہونا چاہیے۔طالبان کی اس برق رفتار فتح کے پیچھے نجانے کیا کچھ ہے، انتہا پسندی پاکستان آجائے گی اور طالبان کی اس کامیابی میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں وغیرہ وغیرہ۔دوسری جانب
مزید پڑھیے


شہباز شریف کی نئی ذمہ داری۔۔۔ حمزہ قربانی کیلئے تیار

پیر 16  اگست 2021ء
سمیع ابراہیم
جب دنیا نظریاتی گروہوں میں تقسیم تھی تو ایک ایسا وقت بھی آیا کہ سیاست کو پیشہ پیغمبری سے تشبیہ دی جانے لگی۔ نظریات اور انتخابی منشور کی وجہ سے سیاسی اتحاد بنتے اور ٹوٹتے تھے۔وقت گزرتا رہا، سوویت یونین کی کمیونسٹ ریاست کے خاتمے کے بعد سیاست کا رخ ہی بدل گیا۔ نظریہ اور اصول کی جگہ پیسہ اور اثرورسوخ نے لے لی۔ عوامی خدمت اوربہبود پر توجہ نہ ہونے کے برابر رہ گئی، جس کا اثر حکومتوں کی کارکردگی پر ہوا۔ وطن عزیز پر اس تبدیلی کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔گزشتہ دو دہائیوں میں بننے والی
مزید پڑھیے








اہم خبریں