BN

سنڈے اسپیشل



کامیاب زندگی ناکامی کے بطن سے جنم لیتی ہے

اتوار 18  اگست 2019ء

ہمیشہ یہ سوچنا چاہیے کہ مسلسل ناکامی، مستقل کامیابی میں بدلی جا سکتی ہے

اپنی ناکامی تسلیم کرنا،تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھاتا، بڑی کامیابیوں سے ہمکنار کر تا ہے

ناکامی کا خوف نہ پیدائشی چیزہے،نہ ہی یہ انسانی جبلت کا حصہ ہے 

بہت چھوٹے بچوں میں ناکامی کا کوئی خوف نہیں ہوتا، اس لیے وہ تیزی سے سیکھتے ہیں

شبیر سومرو

جیسے کہتے ہیں کہ خاموشی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے، اسی طرح کہا جاسکتا ہے کہ انسان کی ہر ناکامی، اس کی آنے والی کامیابی کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ ہیری پوٹر جیسے مقبول ترین ناول سیریز کی مصنفہ جے کے رولنگ کہتی ہیں
مزید پڑھیے


کیا انسانی ذہانت کا زوال شروع ہوچکا؟

اتوار 18  اگست 2019ء

آئی کیو کے بڑھتے ہوئے اسکور کے باوجود دماغی صلاحیتوں میں کیا خامیاں پیدا ہورہی ہیں

 ٹیکنالوجی کی ترقی کے باوجود تخلیقی و انتقادی طرز فکر کی صلاحیت میں غیر معمولی اضافہ نہیں ہورہا،تفصیلی رپورٹ

 

رانا محمد آصف 

 

انٹیلی جینس یا ذہانت جانچنے کے ٹیسٹ تقریباً 100برس قبل ایجاد ہوئے اور اسے آئی کیو کا نام دیا گیا۔ جس وقت یہ پیمانہ تشکیل پایا ہے، اس کے مطابق انسانوں  کی ذہانت میں  اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ماہرین یہاں تک دعویٰ کرتے ہیں کہ آج ایک اوسط شخص کی ذہانت کا مقابلہ آج سے سو برس قبل کے ذہین ترین افراد سے کیا جاسکتا
مزید پڑھیے


ذات برادریوں میں خونی تنازعات خطرناک ہو گئے

اتوار 27 جنوری 2019ء

شبیر سومرو

2018 ء کے آخری دو ماہ میںخون ریزی کے 71 واقعات ہوئے 

شکارپور ماضی میںسندھ کا ’پیرس‘کہلاتا تھاکہ یہاں کے لوگ پڑھے لکھے، ذہین ،خدمت خلق کرنے کے رسیااور سیر و سیاحت کے دلدادہ تھے۔اس شہر اور ضلع میں بسنے وانے تاجروں کا دنیا بھر کے دیگر شہروں سے کاروباری تعلق ہوتا تھا۔ شکارپور کے تاجروں اور ہنرمندوں کو یورپ میں سندھ ورکی (Sindh Workie) کہاجاتا تھا۔ یہ بہت باصلاحیت اور سمجھدار لوگ مانے جاتے تھے۔آج وہی شکارپور ہے، جو سندھ بھر میں خون ریزی اور قبائلی تنازعات کے لیے بدنام ہے۔ نہ صرف یہ ضلع بلکہ اس کے بداثرات
مزید پڑھیے


چٹھی نہ کوئی سندیس!

پیر 21 جنوری 2019ء

شبیر سومرو

 

موبائل فون نے ’’آدھی ملاقات‘‘ کا پورا لطف غارت کردیا

بہت سارے لوگ روزانہ خط کی امید میں ڈاکیے کا انتظار کرتے تھے 

خط لکھنے لکھانے اور چٹھیاں بھجوانے کا روایتی سلسلہ تقریباً ختم ہوگیا 

 اب روایتی خط کی جگہ ای میل کو قابلِ اعتماد ذریعہ سمجھاجانے لگا ہے

ڈاک خانے اب آن لائن کاروبار میں مدد دینے کے ساتھ مالیاتی خدمات فراہم کرنے لگے ہیں

 

شبیر سومرو

 

خطوط نویس نثاراحمد بھی گذشتہ ماہ مرگیا۔اس سے پہلے کراچی صدر کے جی پی او کے سامنے اَن پڑھ افراد کے لیے، خطوط لکھنے کا کام کرنے والے محمد شریف ، اعظم بھٹی، اکرم قریشی اور دوسرے
مزید پڑھیے


خط تو اب بھی لکھے اوربھیجے جاتے ہیں

پیر 21 جنوری 2019ء

اشرف-علی

روایتی خطوط نویسی کی تازہ صورتحال سے متعلق مزید معلومات کے لیے میں صدر ڈاکخانے میں اندر چلاگیا، جہاں محکمہ میںسینئر پوسٹ ماسٹر کے طورپر کام کرنے والے اشرف علی سے ملاقات ہوئی۔انھوں نے اس بات کی تردید کی کہ اب خط لکھے اور بھیجے نہیں جاتے۔ان کا کہنا تھا:

’’اب پہلے کے مقابلے میں خط لکھنے اور بھیجنے کا سلسلہ بہت کم ہوگیا ہے مگر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ روایت ختم ہوچکی ہے۔ پہلے کی بہ نسبت اب چالیس فیصد کم خط لکھے اور بھجوائے جا رہے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں لٹریسی ریٹ
مزید پڑھیے




پہلا خط چار ہزار برس قبل چین میں لکھا گیا 

پیر 21 جنوری 2019ء

خط لکھنے کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے، جتنی خود تحریر کی تاریخ۔ بعض مورخین کا کہنا ہے کہ چار ہزار برس قبل چین میں پہلا خط لکھا گیا لیکن اس کا کوئی ثبوت میسرنہیں ہے۔ البتہ 1887 ء میں عراق کے ایک مقام Tel Alsamarna میں ماہرین آثار قدیمہ نے کھدائی کی تو اس مقام پر 300 کے قریب مٹی کی تختیاں دریافت ہوئیں۔ ان تحریروں کو کافی تحقیق کے بعد ماہرین نے خطوط قرار دیا جو فراعنہِ مصر کے نام لکھے گئے تھے۔ ان خطوط کا زمانہِ تحریر تین ہزار سال قبل کا ہے  اور یہ خطوط سریانی
مزید پڑھیے


قلمی دوستی اور ہم دیہاتی 

پیر 21 جنوری 2019ء

میں1970 ء کے عشرے کے وسطی برسوںمیں سندھ کے قصبے سیتاروڈکے پرائمری اسکول میں پڑھتا تھا۔ اس زمانے میںوالد صاحب کے پاس پانچ اخبار آیاکرتے تھے۔جن میں چار اردو کے اور ایک سندھی کا ہوتا تھا۔ اردو اخبار کے کلاسیفائیڈ صفحات پر ’’غیر ملکی لڑکیوں سے قلمی دوستی کیجیے‘‘ٹائپ اشتہارات روزانہ بنیادوں پر چھپا کرتے تھے۔جن میں ایک کتاب کا ٹائٹل ہوتا تھا اور بتایا جاتا تھا کہ اس کتاب میں ہزاروں لڑکیوں کی تصویریں اور نام پتے درج ہیں۔ کتاب کے ٹائٹل پر منتخب حسینائوں کی ننھی ننھی دھندلی تصویریں بھی ہوتی تھیں۔یہ وہ دن تھے، جب تارڑ صاحب
مزید پڑھیے


خطوط نویسی بچوں اور نوجوانوں میں مثبت سوچ پیدا کرتی ہے

پیر 21 جنوری 2019ء

  برطانیہ میں ہونے والے ایک سروے میں بتایا گیاہے کہ وہاںنوجوان نسل روایتی خطوط نویسی کے فن کو بھول چکی ہے۔ اور اب قلم سے خط لکھنے والوں کی تعداد صرف ہزار میں سے ایک رہ گئی ہے۔

برطانیہ کے ادارہ نیشنل لٹریسی ٹرسٹ کے ڈائریکٹر جوناتھن ڈگلس کہتے ہیں کہ نوجوانوں میں کلاس سے باہر خطوط نویسی کا رجحان معدوم ہوچکاہے۔ انھیں اب اس کی ضرورت ہی نہیں رہی ہے۔اب تو نصاب میںاگر ایسا کوئی سبق ہوتا ہے کہ اپنے دوست کو خط لکھیے، جس میں اسے اپنی حالیہ پکنک کا احوال دیجیے تو کلاس میں موجود طلباء ہنسنے لگتے
مزید پڑھیے


مکتوب نگاری ادبی صنف ہے ؟

پیر 21 جنوری 2019ء

 خطوط نویسی یا مکتوب نگاری قدیم صنف تو ہے

مگر کیایہ ادبی مقام و مرتبہ بھی رکھتی ہے یا نہیں؟اس بارے میں مختلف مشاہیر کی مختلف آراء ہیں۔

مولوی عبدالحق لکھتے ہیں: ’’ خط دلی خیالات و جذبات کا روزنامچہ اور اسرارِ حیات کا صحیفہ ہے‘‘۔

 ڈاکٹر سید عبداللہ کہتے ہیں: ’’خطوط نگاری خود ادب نہیں مگر جب اس کو خاص ماحول ،خاص مزاج، خاص استعداد ،ایک خاص گھڑی اور خاص ساعت میسر آجائے تو یہ ادب بن سکتی ہے‘‘۔

عام خیال یہ ہے کہ اردو زبان و ادب میں خطوط نویسی کی روایت اتنی قدیم اور مضبوط ہے کہ یہ ایک ادبی صنف
مزید پڑھیے


بہار کے مسافر رُل گئے

جمعرات 10 جنوری 2019ء

افغانستان کے کوچی، ایران کے بختیاری اور تھر کے کبوترے خانہ بدوشی ترک کرنے پر مجبور

 سرحدوں کی بندش،جنگی حالات اور سبزہ زاروں کے سوکھنے سے، بہار کا تعاقب کرنے والے جپسیوں کے پائوں زمین میں جمنے لگے

بہار کے مسافروں کے راستے روک دیے گئے ہیں،اس لیے اب انھیںخزاں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے

شبیر سومرو

ؓایران کا بختیاری خانہ بدوش قبیلہ، شکار اور دستکاریوں کے ہنر سے زندگی کرتا ہے۔ وہ ہرنوں،پہاڑی بکروں، نیل گائے اور دیگر حلال جانوروں، پرندوں، پھلوںپودوں اور جڑی بوٹیوںکی تلاش میں سارا سال برصغیر اور مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں سفر کرتا رہتا ہے۔ افغانستان کے کوچی
مزید پڑھیے