Common frontend top

سہیل دانش


سنجے لیلا بھنسالی کی’’ ہیرا منڈی‘‘


ہیرا منڈی سنجے لیلا بھنسالی کی ایسی کاوش ہے جس کی ہر طرف سے تنقید کے تیر چل رہے ہیں زبان کی کی غلطیوں اور لوکیشن کی کی خامیوں کی نشاندہی کرنے والے یہ بھول گئے لیلا بھنسالی خود ایک پروڈیوسر و ڈائریکٹر سے زیادہ اپنے آپ کو اور ہی کچھ دکھانا چاہتاہو۔ اگر وہ آپ کو وہ دکھانا چاہتا ہے جو آپ دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر ان کی پیشکش ہیرا منڈی فلاپ نہ ہوئی ۔ بھنسالی کا سنیما کے متعلق اپنا طرز فکر اور اسلوب ہے۔ تاریخ سے نام اٹھاتا ہے ۔ تاریخی واقعات پڑھتا ہے مگر لکھی
بدھ 15 مئی 2024ء مزید پڑھیے

ڈاکٹر مبین اختر۔۔۔۔ کراچی کے قابل فخر فرزند !

منگل 07 مئی 2024ء
سہیل دانش
اْن کی 91 برس کی زندگی گواہی دے رہی ہے کہ وہ بڑے انسان تھے۔ وہ نیوٹن اور آئن اسٹائن کی طرح سائنسدان تو نہیں تھے۔ لیکن یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ انسان کی نفسیات کے بعض دلچسپ اور غیر معمولی زاویہ نگاہ کے موجدضرور تھے۔ اِس اعتبار سے ڈاکٹر صاحب کی داستان حیات بڑی دلچسپ ہے ۔ وہ ایک طبیب تھے، کم وسیلہ یتیم اور معذور بچوں کا سہارا، دانشور و محقق، انسانی نفسیات کے ماہر، سیاسی میدان کے شہسوار، اْردو زبان کے محسن۔ سچ پوچھیں تو میں جب بھی اْن سے ملا اِس کھوج میں
مزید پڑھیے


ایسا تو ہونا ہی ہے!

جمعه 03 مئی 2024ء
سہیل دانش
اگر آپ مستقبل میں جھانکنا چاہتے ہیں تو ماضی کی تاریخ کو الٹ پلٹ کر دیکھ لیں انسانی نفسیات کا ادراک کر لیں۔ آپ کو زندگی میں بہت سی ایسی چیزیں نظر آئیں گی جو بڑی بے وفا ہوتی ہیں۔ میں نے زندگی میں خود ارب پتی لوگوں کو پیسے پیسے کا محتاج ہوتے دیکھا ہے ۔ خوبصورت گھر ہیں۔ مارکیٹیں ہیں سڑکیں ہیں پارک ہیں لیکن چالیس پچاس سال قبل یہاں گائوں ہوں گے میدان ہوں گے سناٹا ہو گا جن چودھریوں اور فیوڈلز کی یہ زمینیں تھیں وہ کہاں ہیں ان کا دبدبہ ان کی کی
مزید پڑھیے


محبوب علی خان کی یادیں

جمعرات 02 مئی 2024ء
سہیل دانش
برادرم فرحت شیر خان کی پوسٹ سے آگاہی ہوئی کہ جناب محبوب علی خان ہم میں نہیں ہیں وہ دنیاوی جھمیلوں سے نجات پاکر خالقِ حتیقی کے حضور پیش ہوگئے ۔اِس خبر سے ایک دم یادوں کا بھولا ہوا زمانہ فلم کی طرح چلنے لگا۔ اْن کے جانے پر مجھے نوائے وقت میں گزارے ہوئے سالہا سال کے خوبصورت دِن یاد آگئے۔ پھر وہ دوست جن کے ساتھ بیتے دنوں کی بے شمار باتیں اور یادیں آج بھی زندگی کا انمول سرمایہ محسوس ہوتی ہیں وہ زمانہ جن کے ساتھ تہذیبی سماجی اور صحافتی رشتے تھے۔ ابلاغ کی دنیا بہت
مزید پڑھیے


روئیداد خان مرحوم

هفته 27 اپریل 2024ء
سہیل دانش
کاش مجھ میں اتنی ہمت آجائے کہ جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور دیکھ رہا ہوں اور جو کچھ سنا۔ اور سْن رہا ہوں اْسے کہہ سکوں اْسے لکھ سکوں۔ اْن کی آواز میں درد تھا۔ اْن کے کھردرے چہرے پر کرب کی لکیریں اْبھر آئی تھیں۔ میری یہ ملاقات اسلام آباد میں متعین ایک بیوروکریٹ نے کرائی جو روئیداد خان کے بڑے چہیتے اور پسندیدہ رہے۔ دو دہائی قبل اِس پہلی ملاقات میں پاکستان کی تاریخ کے اِس غیرمعمولی بیوروکریٹ کی شخصیت کو پہچاننے میں زیادہ دْشواری پیش نہیں آئی ۔دنیا کے عمومی طور پر ہر بڑے انسان
مزید پڑھیے



پہلے اپنی مدد خود کیجئے!

هفته 20 اپریل 2024ء
سہیل دانش
وزیرخزانہ جناب اورنگ زیب کو ذمہ داریاں سنبھالتے ہی چیلنجوں کی ایک یلغار کا سامنا ہے۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے بینک کے سربراہ رہ چکے ہیں، اقتصادی اور معاشی صورت کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں ہمیں یہ بھی معلوم ہے کے چند اہداف کے ساتھ انہیں فری ہینڈ دیا گیا ہے کہ ملکی معیشت کی ڈوبتی ہوئی ناؤ کو بھنور سے نکالیں۔ آج کل وہ امریکہ میں آئی ایم ایف کے سرکردہ شخصیات کو یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان اْن کی کڑی شرائط پر کس حد تک عمل کرسکتا ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ
مزید پڑھیے


ہمارے اصل دشمن ہم خود ہیں!

بدھ 03 اپریل 2024ء
سہیل دانش
اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6عزت مآب ججوں کی جانب سے لکھے جانے والا خط اندھی نفرت اور عقیدت میں تقسیم ہوتے ہوئے پاکستان میں باہم تفریق کو نمایاں کرنے کی ایک اور مثال ہے۔ تیرے، میرے کے شور میں بٹے ایک ایسے معاشرے میں جہاں ججوں، جرنیلوں، بیوروکریٹس اور صحافیوں میں تقسیم در تقسیم کی لکیریں زیادہ نمایاں ہونے کے ساتھ یہ آوازیں زیادہ توانا ہوتی جا رہی ہیں کہ فوج، سیاست، عدلیہ اور صحافت میں مداخلت کر رہی ہے۔ سیاست دان فوج اور عدلیہ سے اپنی بات منوانے کے لیے کمربستہ ہیں اور عدلیہ سیاست میں غلط طور
مزید پڑھیے


اللہ پاک ہم سے ناراض تو نہیں؟

پیر 01 اپریل 2024ء
سہیل دانش
آخر کوئی تو وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر اپنا رزق تنگ کر دیا ہے جس سے ملو وہ بے سکون بدحال غیر مطمئن اور ٹینشن میں دکھائی دیتا ہے۔اگر ہم اس احساس اور منطق کو مان لیں کہ اللہ پاک ہم سے ناراض ہیاس لئے اس نے ہم پر ان نعمتوں کو سکیڑ دیا۔ جس کے سبب ملک کی اکثریت پریشانیوں‘ مصائب و الم اور آنسوئوں میں ڈوبتی جا رہی ہے۔ میںسوچ رہا ہوں کہ کہیں عوام کے یہ دکھ‘ آنسو اور آہیں اس ملک کے تمام مسائل کی بنیاد تو نہیں۔
مزید پڑھیے


ہم بھنور میں کیوں پھنس گئے؟

اتوار 24 مارچ 2024ء
سہیل دانش
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کوئی گڑھی ہوئی کہانی نہیں ہے کہ 1947 سے پہلے پاکستان اور بھارت میں منقسم سرزمین نہیں تھی یہ علاقہ یونائیٹڈ انڈیا کہلاتا تھا۔ پاکستان کی پہلی اسمبلی کے 53 ارکان تھے ان میں 13 غیر مسلم تھے یہ لوگ شرح میں 25 فیصد بنتے تھے گویا پاکستان کے بنانے والوں نے 25 فیصد غیر مسلموں کو مملکتِ خداداد کا حصہ تسلیم کیا تھا۔ 1951ء تک پاکستان کی کل آبادی کا 24 فیصد غیرمسلموں پر مشتمل تھا۔ ہم مسلمان 7 دھائیوں سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد آج 3 کروڑ سے بڑھ کر 24 کروڑ
مزید پڑھیے


اللہ اکبر۔۔۔۔ خدارا اب بھی سنبھل جائیں

پیر 18 مارچ 2024ء
سہیل دانش
اِس بار بھی رمضان المبارک میں لوگ جوق در جوق عمرہ کی ادائیگی کے لئے حجاز مقدس روانہ ہورہے ہیں ،یہ منظر ہم کیونکر فراموش کرسکتے ہیں جب ہر سال دربار الٰہی میں لاکھوں طلبگار اپنے خالقِ اور مالک سے دْعائیں اور التجائیں کرتے ہیں ،عشق کی آنکھ سے قطرے بہتے ہیں کوئی کیا مانگ رہا ہوتا ہے کسی کو ہوش نہیں ہوتا کانپتے ہونٹوں پر ان گنت فسانے ادھورے رہ جاتے ہیں۔ کیا روح پرور منظر۔ سبحان اللہ جب پوری فضا پرنور کی چادر تنی ہوئی ہوتی ہے، پھر وہ سفر اور وہ لمحہ جب ندامت اور شرمساری کے
مزید پڑھیے








اہم خبریں