BN

سہیل دانش


مشکل وقت دستک دے رہا ہے


ہماری تہتر سالہ تاریخ ملک و قوم کو ایسے مقام پر لے آئی ہے،جہاں اب مزید دیر کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ بات اب تنقید اور تو تکار سے آگے نکل کر غداری کے الزامات لگانے تک پہنچ چکی ہے۔ تین مرتبہ ملک کے وزیر اعظم رہنے والی شخصیت اور ملک کی چھوٹی اور بڑی جماعتوں کی اکثریت جس طرح کا بیانیہ لیکر سامنے آ گئی ہیں وہ درپیش خطرات کا واضح اشارہ ہے۔ جب وزیر اعظم ٹھوری پر ہاتھ پھیر کر اپوزیشن کو وارننگ دے رہے ہوں، جب وزراء روز باری باری اپنے دل کی بھڑاس نکال رہے ہوں
جمعه 23 اکتوبر 2020ء

فیصلہ کن مرحلہ ۔ ہم کہاں کھڑے ہیں

جمعه 16 اکتوبر 2020ء
سہیل دانش
وہ مرحلہ آن پہنچا ہے ، میدان سجنے والا ہے اور لہو گرمانے والے اکھاڑے تیار کھڑے ہیں ۔ دونوں طرف سے بلند بانگ دعوئوں اور وعدوں کا شور ہے ۔دونوں طرف سے بے رحمانہ الزامات کی بوچھاڑ ہے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی زور آزمائی ہے۔ لگتا ہے حکومت اپوزیشن کی تحریک کو کچلنے کیلئے بڑے کریک ڈائون اور طاقت کا استعمال نہ کرنے کا آپشن استعمال کر رہی ہے۔ آ ل پارٹیز کانفرنس میں نواز شریف کی تقریر احتجاجی اور جارحانہ انداز اختیار کرنے کا واضح اشارہ تھا ۔ اس کے جواب میں حکومتی وزراء اور
مزید پڑھیے


خدارا اپنا رویہ بدلیں

جمعه 09 اکتوبر 2020ء
سہیل دانش
مجھے لگتا ہے جیسے ہم سب جھوٹ کے بیوپاری ہیں ۔ یقین کریں میں غصے ، بے چارگی اور بے بسی سے عام لوگوں کی یہ باتیں اور چہ مگوئیاں سنتا رہتا ہوں کہ میڈیا نہ جانے کیوں سچ چھپانے کی کوشش کرتا ہے، جھوٹ چھاپتا رہتا ہے ، جھوٹ بولتا رہتا ہے، سچ کو آف دی ریکارڈ کہہ کر چھپاتا ہے اور جھوٹ کو آن دی ریکارڈ کر دیتا ہے۔ یہ عام سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ سب ہمیں اندھا اور بہرہ سمجھتے ہیں ۔ در حقیقت تحقیق و تصدیق اور موزوں الفاظ سے کیا جانے والے تجزیوں
مزید پڑھیے


ہم بحران کی زد میں ہیں

جمعه 02 اکتوبر 2020ء
سہیل دانش
آخر سوچیں تو سہی کہ کوئی ایسا ادارہ نہیں جس پر اعتماد کیا جا سکے۔ کوئی ایسا شخص نہیں جس کی بات اندھیرے میں کرن کی طرح چمکے ۔کوئی ایسا لیڈر نہیں جس سے ہاتھ ملا کر اطمینان اور سرور کی لہریں وجود میں دوڑتی محسوس ہوں۔ یہ کیا ہوا یہ زمین اتنی بانجھ کیوں ہو گئی؟ اچھے، اعلیٰ ظرف اور ذہین لوگ اچانک ختم کیوں ہو گئے ؟ ذرا اندازہ کیجئے کہ ہم کتنے بد قسمت قوم ہیں کہ وقت کے اس تنہا، اداس اور ویران سفر میں ہمارے لئے کوئی ایسا لیڈر نہیں جو اس ہجوم کو قوم
مزید پڑھیے


تاریخ صرف آپکے کارنامے دیکھتی ہے

جمعه 25  ستمبر 2020ء
سہیل دانش
مشاہدہ تو یہی کہتا ہے کہ ہر نئے حکمران کے لئے پرانے حکمران چور ،ڈاکو، ٹھگ اور کرپٹ ہوتے ہیں ۔ کبھی کسی نے اپنے سے پہلے حکمران کے لئے تعریف کے دو بول نہیں بولے۔ یہاں قائد اعظم ؒ تھے بات انگریزی میں کرتے اور سننے والے اردو تک سے نا بلد تھے لیکن ایک ایک شخص اٹھ کر گواہی دیتا یہ شخص جو کچھ کہہ رہا ہے وہ دنیا کا سب سے بڑا سچ ہے۔ لیاقت علی خان تھے جب شہید ہوئے تو جیب میں چند روپے اور اچکن کے نیچے پھٹی ہوئی بنیان تھی ۔ غلام محمد
مزید پڑھیے



ایسا مجرم کسی رحم کا مستحق نہیں !

جمعه 18  ستمبر 2020ء
سہیل دانش
کتنے دکھ کی بات ہے کہ اس قوم کو پوری گھن گرج سے نئے پاکستان میں لے جانے کا خواب دکھانے والے حکمران اس سنگین بحران کی آہٹ تک نہیں سن رہے ۔ جو ان کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ موٹر وے پر خاتون کے ساتھ ہونیوالی ذیادتی پر ایسا لگتا ہے کہ متعلقہ انتظامیہ اور حکومت گہری نیند سے ہڑ بڑا کر بیدار ہوئی ہے۔ یہ واقعہ بھی ہمارے معاشرے میں ہونے والے پے در پے روح فرسا اور دردناک واقعات کا ایک تسلسل ہے اور اس کے بعد ہم نہ جانے کس دروازے پر پہنچ گئے
مزید پڑھیے


ذراسوچئے ۔ آپ کی منزل کیاہے؟

جمعه 11  ستمبر 2020ء
سہیل دانش
کبھی آپ نے سوچا کہ ہم اتنے تھکے ہوئے ، چڑ چڑے ، بیزار اور مردہ دل کیوں ہو گئے ہیں۔ پھر اس سوال کا جواب یہی ملتا ہے کہ ہم غیر مطمئن اور مایوس لوگ ہیں۔ جی ہاں۔ زندگی میں اپنے ارد گرد دیکھیں توآپ پر واضح ہو گا کہ ایسے حالات میں مضبوط سے مضبوط لوگوں کے نظریات بھی سماجی اور معاشی مسائل کے طوفان میں خس و خاشاک کی طرح بہہ جاتے ہیں۔ حقیقت تو یہی ہے کہ سماجی اور معاشی مسائل کے مقابلے میں نظریات کی کیا اہمیت ہے۔ اس سوال کا جواب آپ پندرہ
مزید پڑھیے


بارش نے سسٹم کا پول کھول دیا

جمعه 04  ستمبر 2020ء
سہیل دانش
میں سمجھتا ہوں کہ قدرت نے بارش کے ایک جھٹکے میں ہمارے تمام اداروں کی کارکردگی اور سسٹم کاپول کھول کر رکھ ددیاہے۔ بارش کے بعد آپ جو ماتمی اداکاری کے جوہر دیکھ رہے ہیں۔ شہر کا میئر آنکھوں میں آنسو سجائے اختیار نہ ہونے کا رونا روتے اور صوبائی حکومتوں کو بد دعائیں دیتے، اپنے چار سال مکمل کر بیٹھے ہیں۔ اخبارات کی شہہ سرخیاں اور ٹی وی چینلز کی چیخ و پکار اور صاحب اقتدار اور اختیار کی بھرم بازیاں سب کچھ ایک اسکرپٹ جیسا لگتا ہے، بس سالانہ ایک نیا تڑکا لگا دیا جاتا ہے۔ سندھ خصوصاً
مزید پڑھیے


کراچی کا المیہ اور سندھ کا مسئلہ

هفته 29  اگست 2020ء
سہیل دانش
حالیہ بارشوں نے کراچی کیلئے نئے خطرات پیدا کردیئے ہیں۔ انفراسٹرکچر تباہ ہوا سو ہوا، درجنوں جاں بحق ہوئے، لاکھوں کو یہ فکر کہ پانی اتر بھی گیا تو نئی مشکلات سے کیسے نمٹیں گے۔ کراچی کی شاہراہوں ، علاقوں، محلوں اور گلیوں میں آپ کو ایک سایہ چلتا ہوا نظر آتا ہے ، جس کی پیشانی پر لکیر در لکیر سوالات درج ہیں وہاں سند ھ کے طول و عرض کے پورے چہرے پر آپکو غربت ، بے روزگاری، مفلسی اور جہالت کے اتنے زخم نظر آئیں گے جن کا شمار نہیں کیا جا سکتا۔ چند دنوں
مزید پڑھیے