Common frontend top

سہیل دانش


وقت ہے ہم سنبھل جائیں!


اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ نگران حکومتوں میں وہ سب لوگ شامل ہوتے ہیں جن کے حقیقی حکمرانوں کے ہمیشہ تعلقات رہتے ہیں جو سیٹ اپ کے لئے کبھی اجنبی نہیں ہوتے۔ لیکن جب حکمرانوں کو حالات کا ادراک نہیں ہوتا تو وہ ہر سوال میں اپنے مطلب کا جواب ڈھونڈتے ہیں اس لئے ان کا وہ جواب نہیں ہوتا جو سوال کرنے والا تلاش کر رہا ہوتا ہے۔ پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں نواز شریف کی واپسی اور اڈیالہ جیل میں موجود عمران کے مستقبل کے امکانات سب سے نمایاں موضوعات ہیں۔ نواز شریف
جمعه 06 اکتوبر 2023ء مزید پڑھیے

کہیں سب کے خواب ہی نہ بکھر جائیں

جمعه 29  ستمبر 2023ء
سہیل دانش
جب لوگوں کے خواب بکھرنے لگیں، ان کے وجود پر مایوسی کے سائے طاری ہونے لگیں ،جب تاریخ لمبی لمبی سانسیں لینے لگے۔ میں سوچتا ہوں کہ ہمارے سیاستدان بھی کیا ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر اپنا موقف بدل لیتے ہے، نئے لباد اوڑھ لیتے ہیں یا بیانیے بناتے ہیں، جن کے پیچھے نہ دلیل ہوتی ہے نہ سچائی۔ ان کی سمجھ میں یہ بات کیوں نہیں آتی کہ اگر آپ لوگ اقتدار کے لئے جنگ کر رہے ہیں، تو سمجھ لیں کہ آپ ناکام لوگ ہیں، اگر آپ جھونپڑیوں کچے گھروں میں رہنے والوں، ریڑھیاں، رکشے اور ٹریکٹر چلانے
مزید پڑھیے


سیاسی جماعتیں ہوش کے ناخن لیں

منگل 26  ستمبر 2023ء
سہیل دانش
میرے لئے کبھی یہ بات اہم نہیں رہی کہ الیکشن کب ہوں گے اور اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔کیونکہ جس عمل کے ذریعے کروڑوں افراد کی تقدیر کا فیصلہ کیا جاتا ہے،اسے قابل اعتبار بنانے سے پہلے نسخہ کیمیا کیونکر قرار دیا جا سکتا ہے،یہی وجہ ہے کہ آج تمام سیاسی قیادتوں کو امور مملکت چلانے کے لئے نااہل قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ہماری جمہوریت بھی 1947ء کی آزادی کی طرح داغ داغ اجالا ہے۔ شب گزیدہ سحر ہے، حالات مسلسل خراب ہیں، امن و امان کی صورتحال اطمینان بخش نہیں، معاشی بحران ہے کہ پیچیدہ ہوتا
مزید پڑھیے


ہم کسی معجزے کے منتظر ہیں؟

جمعه 22  ستمبر 2023ء
سہیل دانش
ایسا لگتا کہ ہم اس نہج پر آن پہنچے ہیں کہ سب ہی ایک ایسے معجزے کا انتظار کر رہے ہیں جس سے ملک اس غیر یقینی اور مشکل دور سے نکل جائے۔ اسی وجہ سے یہ بحث لاحاصل لگتی ہے کہ حالات پہلے سے زیادہ گھمبیر اور پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ ہم اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ جب عوام کے منتخب ایوان میں بیٹھے لوگ اپنی سیاسی چالوں اور ذاتی مفادات کے کھیل میں قومی مفادات کو نظر انداز کرتے جائیں، انصاف جب جرم اور سزا کے درمیان تفریق نہ کی جائے ، جب مساوات پر
مزید پڑھیے


لوگوں کو صرف ریلیف چاہیے

منگل 19  ستمبر 2023ء
سہیل دانش
ماضی کی حکومتوں کی شاہ خرچیوں کے آفٹر شاکس کا سلسلسہ جاری ہے ۔آخر کوئی بتائے کہ بجلی کے بلوں میں اضافے کی تہلکہ خیزی کب تک جاری رہے گی؟ کوئی ہے جو یہ بتائے کہ یہ مفلوک الحال قوم کب تک پٹرولیم مصنوعات میں مسلسل ہر ایک کو چکرا دینے والے اضافے پر حکومت کی دیدہ دلیری پر داد دیتی رہے گی؟ کیا یہ فارمولا طے کر لیا گیا ہے کہ بجٹ خسارے کے سارے پیسے ساری رقم عوام کی جیبوں سے وصول کئے جائیں گے۔ مجھے علم ہے کہ بجلی کے کارخانے لگانے والے انویسٹرز کے ساتھ حکومت
مزید پڑھیے



صدر مملکت کی معصومانہ خواہش

جمعه 15  ستمبر 2023ء
سہیل دانش
یہ محض ایک ایکٹوٹی ہے اپنا دل بہلانے اور کچھ اپنے لوگوں کو دلاسہ دینے کے لئے، لیکن الیکشن 6نومبر کو نہیں ہوں گے۔اگر ریاست کے سربراہ نے ایک پریم پتر کے ذریعے چیف الیکشن کمشنر سے اپنی معصوم خواہش کا اظہار کیا ہے تو اس میں حیران ہونا چاہیے نہ پریشان۔ اگر یہ مشق کسی باہم انڈر اسٹیڈنگ یا فیس سیونگ کے لئے اپنائی گئی ہے تو پھر اسے چلا ہوا کارتوس سمجھ لیں۔ اگر آپ مرشد کے حکم پر اسے کسی جرأت کا مظاہرہ سمجھ رہے ہیں تو یہ محض غلط فہمی ہے کیونکہ پسلی اتنی مضبوط نہیں
مزید پڑھیے


خدارا !عوام کی آواز تو سنیں

بدھ 13  ستمبر 2023ء
سہیل دانش
اگر ہم زندہ ہیں تو یہ ہمارے لیے خدا کی طرف سے کھلا اور واضح پیغام ہے کہ ہم زندگی کے ہل سے اس کیاری میں اپنی پسند کے پھول اگانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ بس اس کے لیے ذرا سی مشقت‘ کمٹ منٹ‘ ایمانداری اور مقصد سے سچائی درکار ہے۔ جی ہاں! قوموں کی زندگی میں اس سے برے وقت بھی گزرے ہیں۔ ہمارا بحران تاریخ کے بحرانوں میں کوئی معافی نہیں رکھتا۔ آپ امریکہ کی مثال لیں غلاموں کی جتنی بڑی تجارت اس ملک نے کی ، کسی نے نہیں کی لیکن آج انسانی حقوق کا تحفظ
مزید پڑھیے


امید اور توقعات کا سفر

جمعه 08  ستمبر 2023ء
سہیل دانش
ہم کتنے بدقسمت ہیں کہ وقت کے اس تنہا سفر میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں جو ہماری ہمت بندھا سکے۔ رہبری کرسکے ،جو بتا سکے کہ ہم اس سیاسی اخلاقی اور معاشی بحران سے کیسے نکلیں ۔ وہ کون سی آفت ، کون سا بانچھ پن تھا جو 24کروڑ لوگوں کے ریوڑ پر اترا اور ہم نے ایسے لوگوں کو میر کارواں بنا لیا۔ ورنہ اس خطے میں کیا کمی تھی یہاں قائد اعظم تھے، بات انگریزی میں کرتے اور سننے والے اردو تک سے نابلد تھے لیکن ایک ایک شخص اٹھ کر گواہی دیتا کہ یہ
مزید پڑھیے


یہ وطن ہم سب کا ہے

منگل 05  ستمبر 2023ء
سہیل دانش
لاوا پک نہیں رہا، ابل رہا ہے۔ بہت دنوں کے بعد احتجاجی ہڑتالوں کے مناظر ضمیروں کو جھنجھوڑنے کا سامان پیدا کر رہے ہیں کہ ہم کہاں پہنچ چکے ہیں اور کس منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ عام پاکستانی کے وجود سے اٹھنے والی اذیت اور کرب کی وہ آواز ہے اب بات ان کے مسائل کی نہیں ان کے بقا کی ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ ہمارا حماقتوں مفاد پرستانہ انداز اور ناانصافی پر مبنی نظام شکست کے دھانے پر کھڑا ہے۔ لگتا ہے کہ کوئی نہیں جو علم ‘تجربے ‘ فراست اور باریکی سے مسئلے
مزید پڑھیے


ہم اس حال پر کیسے پہنچ گئے

جمعه 01  ستمبر 2023ء
سہیل دانش
یہ حقیقت ہے کہ تاریخ عالم میں بہت سے بگڑے ہوئے معاشرے سدھرے اور بہت سے سدھرے ہوئے بگڑ گئے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی معاشرے کو ترتیب دیے بغیر کوئی بھی نظام پنپ نہیں سکتا۔صاف نظر آ رہا ہے کہ ہمارا ریاستی نظام مکمل طور پر بے لگام ہو چکا ہے۔جب صدر مملکت کے ٹویٹر پیغام کی دُھائی ساری دنیا کو یہ پیغام دے رہی ہو کہ پاکستان کے صدر کو ان کے اسٹاف نے دھوکہ دیا ہے توکوئی اور ہم پر کیوں اعتبار کرے گا۔ 25کروڑ آبادی والی ایٹمی مملکت کا سربراہ جو افواج کا سپریم
مزید پڑھیے








اہم خبریں