BN

شازیہ ذیشان


تین پارٹیاں ، تین کہانیاں


تین عورتیں تین کہانیاں تو آپ نے پڑھی یا سنی ہوں گی۔ آج آپ کو تین پارٹیوں اور ان کی تین کہانیوں کے بارے میں بتانا چاہتی ہوں۔آپ سمجھ تو گئے ہوں گے کہ یہ تین پارٹیاں،پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتیں پی ٹی آئی، ن لیگ اور پیپلز پارٹی ہیں،ان کے علاوہ ایک اور پارٹی بھی ہے، جو ابھی تک نہ توتین میں شمار ہوتی ہے، نہ تیرہ میں اور اس کے بارے میں بھی آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے، مگر پھر بھی اس کا یہاں ذکر کیا جا رہا ہے اور وہ پارٹی ہے ،جے یو
بدھ 27 جنوری 2021ء

اپنا سچ اپنا جھوٹ

بدھ 20 جنوری 2021ء
شازیہ ذیشان
جنوری کی شدید سرد ی میں سیاست میں ایسی گرما گرمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جو اس سے قبل پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نہیں دیکھی گئی ۔ فارن فنڈنگ کیس ہو یا براڈ شیٹ کا معاملہ،حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سرد جنگ کا سلسلہ جاری ہے۔گزشتہ روز پی ڈی ایم نے پی ٹی آئی کے خلاف الیکشن کمیشن کے باہر 6 سال سے زیر التوا فارن فنڈنگ کیس کو مدعا بناتے ہوئے بھرپور احتجاج ریکارڈ کروایا۔یوں پی ٹی آئی پر بیرونی ممالک سے حاصل ہونے والی رقم(فارن فنڈنگ ) کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث آ
مزید پڑھیے


واٹس ایپ بھی دھوکہ دے گیا!

بدھ 13 جنوری 2021ء
شازیہ ذیشان
ارے اس کال پر بات نہ کرو۔۔۔بند کرو۔۔۔بند کرو۔۔۔واٹس ایپ پر آئو۔۔۔واٹس ایپ زیادہ محفوظ ہے۔جی ہاں! ہم سب ہی یہ کرتے ہیں۔یہ ہم سب کی نارمل کی روٹین ہے۔پوری دنیا میں لوگ واٹس ایپ کو محفوظ تصور کرتے تھے، لیکن اب یہ بھی محفوظ نہیں رہا، کیونکہ گزشتہ چنددنوں سے واٹس ایپ کی طرف پرائیویسی کی ایک نئی پالیسی کا پیغام دنیا میں موجود اس کے لاکھوں صارفین کو موصول ہورہا ہے، جس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ واٹس ایپ کی جانب سیاپنیصارفین کو پرائیویسی پالیسی کے حوالے سے ایک پیغام ارسال کیا جا رہا
مزید پڑھیے


2020 ایک تلخ حقیقت

بدھ 06 جنوری 2021ء
شازیہ ذیشان
بہت مشکل ہے کہ 2020 کی تلخ یادوں کو دماغ کی گیلری سےDelete کرنا۔ ہر کسی کے لیے 2020 کا سال کچھ ایسے گہرے زخم چھوڑ کر گیا ہے، جس کا بھرنا ابھی تو نا ممکن سی بات لگتی ہے۔ میرے لیے 2020 اس کالی رات کی طرح ہے، جو روشنی کی طرف جانے ہی نہیں دیتی۔میری امی کا انتقال 25 اپریل 2020 کو ہوا۔ وہ کورونا سے اتنا ڈرتی تھیں؛ اپنا اور گھر میں سب کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ کورونا سے تو وہ بچ گئیں، لیکن اچانک برین ہیمبرج کے اٹیک سے وہ اس دنیا سے
مزید پڑھیے


پاکستانی سیاست کے رنگ

بدھ 30 دسمبر 2020ء
شازیہ ذیشان
گڑھی خدا بخش میں بے نظیر بھٹو کی 13 ویں بر سی کی تقریب، پی ڈی ایم کے جلسے میں تبدیل ہو گئی۔بظاہر پی ڈی ایم کی قیادت نے لاڑکانہ کے اسٹیج پر کھڑے ہو کر حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا، مگر پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جلسے میں عدم شرکت اور آصف علی زرداری کی معنی خیز تقریر نے پی ڈی ایم میں اختلافات کی شدت کو واضح کر دیا۔آصف علی زرداری کا پرویز مشرف کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہنا کہ میں نے ایک جنرل کو صدر ہوتے ہوئے مکھی کی
مزید پڑھیے



ہاتھ سے کیا نکلا جا رہا ہے؟

بدھ 23 دسمبر 2020ء
شازیہ ذیشان
ملکی سیاست میں سینیٹ انتخابات انتہائی اہمیت اختیار کرچکے ہیں۔حکومت نے آئندہ سال میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات قبل از وقت اور شو آف ہینڈز کے ذریعے کروا نے کا ارادہ ظاہر کرکے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے ۔سینیٹ کے انتخابات 10 فروری سے لیکر مارچ کے ابتدائی ہفتے تک کسی بھی وقت الیکشن کمیشن کے اعلان کر دہ شیڈول کے مطابق ہو ں گے ،جس میں حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے نامزدہ 52 افراد اپنی قسمت آزمائیں گے، کیونکہ52 موجودہ ارکان نے اپنی آئینی مدت پوری کر کے ریٹائر ہونا ہے اور ان کی
مزید پڑھیے


اوراب لانگ مارچ کا وقت ہوا چاہتا ہے!

بدھ 16 دسمبر 2020ء
شازیہ ذیشان
حقیقت تو یہ ہے کہ جلسے بڑے ہوں یا چھوٹے، ان جلسوں سے حکومتیں نہ گھر جایا کرتی ہیں، نہ استعفے دیا کرتی ہیں۔ اور یہ تو ماننا پڑے گا کہ بڑے جلسے کرنے میں عمران خان کا کوئی ثانی نہیں۔ تحریک انصاف ،مینار پاکستان کی اسی جگہ پر چار جلسے کر چکی اور وہ چاروں بڑے جلسے تھے۔اس لیے جلسوں کے کھیل میں گیارہ جماعتیں، عمران خان سے ہار چکی ہیں۔ اب ذرا غور کرتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان سمیت گیارہ جماعتوں کے اس مطالبے کا کہ حکومت 31 جنوری تک مستعفی ہو جائے، ورنہ یکم فروری کو اجلاس
مزید پڑھیے


ہے کوئی ، جو اس طرف بھی دھیان دے؟

بدھ 09 دسمبر 2020ء
شازیہ ذیشان
ہفتے کی شام ایک ویڈیو نے مجھے جھنجوڑ کر رکھ دیا۔کیا دیکھا کہ ایک کم سن بچی کو ایک مرد تھپڑ رسید کر رہا ہے، اس کے ساتھ ایک عورت بھی اس کم عمر بچی پر تابڑ توڑ تھپڑ برسا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پروائرل اس ویڈیو میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ کم عمربچی کو ایک سوٹڈ بوٹڈ شخص اور اس کی بیوی انتہائی بے رحمی سے تھپڑ مار رہے ہیں اور اس بچی کو جو گھریلو ملازمہ دکھائی دے رہی ہے، کو بالوں سے پکڑ کر کھینچ رہے ہیں اور دھکے دے رہے ہیں۔ معصوم بچی
مزید پڑھیے


پی ڈی ایم اور ماضی کی سیاسی تحریکیں

بدھ 02 دسمبر 2020ء
شازیہ ذیشان
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کئی سیاسی تحریکیں ابھریں ، جن میں سے کچھ کامیابی سے ہمکنار ہوئیں ، تو کچھ ناکامی کا شکار ہوئیں۔ پاکستان میں ابھرنے والی ان سیاسی تحریکوں کا جائزہ لیا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ اپوزیشن(حزب ِ اختلاف )نے اپنے اپنے دور کی حکومتوں کے خلاف متعدد اتحاد تشکیل دے کر تحریکیں شروع کیں،جن میں 1967 میں ایوب خان کے خلاف شروع ہونے والی تحریک خاص اہمیت کی حامل ہے۔ 30 اپریل 1967 کو نواب زادہ نصر اللہ خان نے پانچ پارٹیوں پر مبنی پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے
مزید پڑھیے


کیا کورونا بھی نظریہ ضرورت بن چکا!

بدھ 25 نومبر 2020ء
شازیہ ذیشان
کورونا نے جہاں عالمی معیشت کو تباہ کر کے رکھ دیا، وہیں اس وائرس نے دنیا بھر میں تعلیم کے شعبے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔وطن ِ عزیز میں بھی فروری کے مہینے میں پہلا کورونا کیس منظر عام پر آنے کے بعد مارچ میں کورونا کے پھیلائو روکنے کے لیے ملک بھر کے تعلیمی ادارے بند کر دئیے گئے اور کورونا کے ڈر سے تعلیمی ادارے تقریباً چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک بندش کا شکار رہے۔ اس دوران بعض تعلیمی اداروں نے آن لائن تعلیم دینے کی اپنی کوشش کی،لیکن یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ
مزید پڑھیے