شاہین صہبائی


سیاسی نیب اور جے آئی ٹیز


آخر کار ہماری بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ نے احتساب کے بڑے کارخانے یعنی نیب کی کارکردگی اور معاملات کا نوٹس لے ہی لیا اور چیف جسٹس صاحب نے ایک ایسا حکم دے دیا جو ملک کے نظام احتساب میں انقلاب لا سکتا ہے ، میں نے نیب کو ایک کارخانہ اس لئے کہا کے یہ وہ فیکٹری بن گئی ہے جہاں بے شمار خام مال اور کل پرزے روزانہ ڈھالے جاتے ہیں مگر آج تک کوئی چیز چھوٹی یا بڑی تیار ہو کر باہرنہیں آئی ہر کام لٹکتا ہی رہتا ہے مگر اب بڑی عدالت کا حکم ہے
اتوار 12 جولائی 2020ء

سیاسی جمہورے

منگل 07 جولائی 2020ء
شاہین صہبائی
ہمارے بڑے وکیل جناب فاروق نائیک جولائی کی پہلی تاریخ کو 73 سال کے ہو گئے یعنی پاکستان کی عمر کے برابر ۔ وہ ہر مشہور کرپشن کے ملزم کے مقدمے میں وکیل صفائی ضرور ہوتے ہیں ۔ مگر 30 جون کو ایک احتساب عدالت میں سابق صدر آصف علی زرداری کا دفاع کرتے ہوے انہوں نے توشہ خانہ کیس میں ایک بہت ہی عجیب دلیل دی انکا کہنا تھا کہ زرداری عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ AGE ADVANCED کے یعنی ضعیف ہو گئے ہیں اور اگر وہ عدالت آے تو خطرہ ہے کے انکو کورونا
مزید پڑھیے


ہم کہاں کھڑے ہیں

بدھ 01 جولائی 2020ء
شاہین صہبائی
سب سے پہلے کئی ہفتے کالم نہ لکھنے کی معذرت ۔ دو وجوہات تھیں ۔ ایک وہ 70 سال پہلے 1950 میں شروع کی گئی آپ بیتی جو میرے والد صاحب نے اپنے دوست سعادت حسن منٹو کے کہنے پرلاہور میں شروع کی اور 1973 میں مکمّل کی اور پھر ہاتھ سے لکھی ہوئی مضبوط جلد کو محفوظ جگہ رکھ دیا اور کسی کو کچھ نہیں بتایا ۔ 42 سال وہ کتاب کہیں موجود رہی مگر گمشدہ رہی اور پھر ایک دن 2015 میں وہ مجھے ملی ۔ پڑھ کر ہوش سے اڑ گئے۔ پھر آہستہ آہستہ اس پر کام
مزید پڑھیے


ایچ بلاک ماڈل ٹائون لاہور

بدھ 29 اپریل 2020ء
شاہین صہبائی
مستقبل کا مورخ جب پاکستان کی تاریخ لکھے گا، اسے ایچ بلاک(ماڈل ٹائون لاہور) پر ایک علیحدہ باب(Chapter)لکھنا پڑے گا۔ اس باب کے کئی عنوان ہو سکتے ہیں، مثلاً ایچ بلاک۔ ماضی اور حال کے آئینے میں۔ ایچ بلاک کی تاریخی اہمیت، ایچ بلاک جہاں قوم کی تقدیر کے فیصلے ہوئے تھے۔ ایچ بلاک کا عروج و زوال، ایچ بلاک۔ تاریخی عمارتیں اور شخصیتیں، ایچ بلاک دورِ شریفی میںپاکستان اور پنجاب کا مشترکہ دارالخلافہ۔ ایچ بلاک جس کی پیشانی کو آسمان بھی جھک کر چومتا تھا، عبرت کا نشان کیسے بنا وغیرہ وغیرہ۔ ماڈل ٹائون لاہور کا نقشہ 1884ء کے لگ
مزید پڑھیے


قدرت کا خاموش انتقام

بدھ 29 اپریل 2020ء
شاہین صہبائی
دوست احمد فراز کے فرزند شبلی فراز کے وفاقی وزیر کا حلف اٹھانے پر نہایت خوشی بھی ہوئی اور ان کے والد کی شدت سے یاد آئی۔ معلوم نہیں فراز زندہ ہوتے تو خوش ہوتے یا بیزار کیونکہ وہ ایک عوامی اور عظیم شاعر تھے ہی مگر ایک حساس اور عام انسان اور اچھے دوست بھی تھے مگر سچی بات کرتے ہوئے گھبراتے نہ تھے اور اس کی سزا بھی کافی بھگتی۔ میرا احمد فراز کے ساتھ پشاور میں بہت جلنا تھا کیونکہ اکثر ہم لوگ ہر اہم جگہ پر موجود ہوتے تھے۔میں پشاور میں خبر رساں ایجنسی پی پی
مزید پڑھیے



کورونا اور قومی سیاست

پیر 20 اپریل 2020ء
شاہین صہبائی
کورونا کی وبا ملک کے 20کروڑ عوام کے لئے تو ایک عذاب ہے ہی مگر پاکستان کی سیاست اور حکومت کے لئے کورونا کئی خطرناک اور جان لیوا زخموں کے لئے ایک مرہم کا کام بھی کر رہا ہے۔ بڑے بڑے ایسے مسئلے خودبخود حل ہوتے جا رہے ہیں جن کی کسی کو دو مہینے پہلے تک کوئی امید ہی نہیں تھی۔ مگر سب سے بڑا مسئلہ ملک کی سیاسی پارٹیوں اور حکومت سے باہر لیڈروں کے لئے کھڑا ہو گیا ہے۔ جو لیڈر کرپشن اور اپنی حکومتوں کی لوٹ مار میں پھنسے ہوئے ہیں وہ تو بھگت ہی رہے
مزید پڑھیے


کیا یہ سب خواب ہی ہے

جمعه 10 اپریل 2020ء
شاہین صہبائی
پاکستان کی سیاست میں یا وزیر اعظم عمران خان کی سوچ میں یقینا ایک بنیادی اور اہم تبدیلی آ گئی ہے۔ یہ وہ تبدیلی تو نہیں جس کی بنیاد پر خان صاحب نے الیکشن جیتا تھا یا حکومت بنائی تھی مگر اشارے یہی مل رہے ہیں کہ اصل تے سُچی تبدیلی جو خان صاحب کے بنی گالہ کے گھر میں یا ان کی پارٹی کے پرانے اور وفادار لوگوں کی خواہشات میں گم ہو گئی تھی اس کا سراغ اب مل گیا ہے اور خان صاحب نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب اس جادو کی چھڑی کو مضبوطی سے
مزید پڑھیے


کچھ انقلاب‘ بہت اضطراب

جمعه 03 اپریل 2020ء
شاہین صہبائی
امریکہ9/11کے دن بدل گیا تھا اور ساری دنیا نے دیکھا کہ کیا کیا ہوا۔ لاکھوں لوگ جنگوں میں مارے گئے اور آج تک لوگ بھگت رہے ہیں۔ کورونا نے پچھلے 6سے 8ہفتوں میں ساری دنیا کو بدل دیا ہے۔ اب وہ پرانی دنیا اور اس کے طور طریقے دوبارہ شاید مشکل ہی سے نظر آئیں۔ غالب نے کہا تھا ’’حیران ہوں دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو میں‘‘ ایک لسٹ بنانا شروع کی تو خود حیران رہ گیا۔ جو کام لوگ برسوں سے کرنے کی کوشش کر رہے تھے وہ اچانک خود بخود ہی ہو گئے۔ شاید ہر ایک
مزید پڑھیے


کرونا نے خان کو تحمل سکھا دیا

جمعه 27 مارچ 2020ء
شاہین صہبائی
وزیر اعظم عمران خان نے 24مارچ کو میڈیا کے کچھ اینکرز کو بلا کر اپنی حکومت اور خود کو ان کے سامنے پیش کیا اور سارے کڑوے تیکھے اور بدبودار سوالوں اور تبصروں کا جواب دیا۔ اس طرح کی میڈیا بریفنگ امریکہ کے صدر ٹرمپ بھی تقریباً روزانہ ہی کرتے ہیں مگر ایک فرق صاف نظر آتا ہے۔ ٹرمپ صاحب کو کچھ مہینے بعد الیکشن کا سامنا ہے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح وہ کرونا کی تباہ کاریوں کو کم کر کے بتائیں‘ لوگوں کو امید دلائیں۔ جو ان کی چار سالہ معاشی کامیابیاں تھیں ان
مزید پڑھیے


شریف خاندان اور تنکوں کا سہارا

جمعه 13 مارچ 2020ء
شاہین صہبائی
پاکستانی سیاست دائروں میں گھومتی ہے۔ میں اپنے پرانے اخباروں اور مضمونوں کے ڈبے کو ڈھونڈ رہا تھا تو ایک مضمون کی کاپی مل گئی جو میں نے 16اکتوبر 1995ء کو روزنامہ ڈان میں لکھا تھا۔ میں اس وقت ڈان کا واشنگٹن میں بیورو چیف تھا اور مجھے امریکہ آئے ہوئے کوئی 7مہینے ہی ہوئے تھے۔ کیونکہ میں پاکستان میں سیاسی رپورٹنگ ہی کرتا تھا تو پاکستانی سیاست ہی میرا شوق تھا۔ اکتوبر 95ء میں بے نظیر کی حکومت تھی اور میاں نواز شریف حزب اختلاف کے قائد تھے۔ بی بی اور زرداری کا پورا زور تھا اور میاں صاحبان
مزید پڑھیے