BN

شاہین صہبائی



مولانا کے لئے ایک امید کا چراغ


دھرنا ہونا تھا اوردھرنا ہو گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ ختم کس طرح کیا جائے۔ جو بھی درمیانی راستہ نکالا جائے گا یا فیس سیونگ دی جائے گی اس میں کچھ چیزیں تو یقینا شامل نہیں ہونگی: 1۔وزیر اعظم کا استعفیٰ نہیں ہو گا۔ 2۔ نئے انتخاب فوری طور پر نہیں ہو نگے۔3۔ دھرنے والوں کو داخلی انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔4۔ فوج یا کوئی اور عسکری ادارہ اس سیاسی سرکس میں شامل نہیں ہو گا۔5۔ دھرنے کی وجہ سے فوج یا کسی عسکری دفاعی ادارے میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے اور یہ بات سراسر
جمعه 08 نومبر 2019ء

آزادی مگر کس کے لئے

جمعه 01 نومبر 2019ء
شاہین صہبائی
میڈیا کے ایک انتہائی قابل عزت بزرگ نے کل ایک واٹس ایپ بھیجا جس میں کچھ نمبر اور ہندسے اور ضرب تقسیم کی تفصیل تھی جس کے مطابق جمعیت کا اسلام آباد مارچ جو آج جی 9-کے میدان میں لنگر انداز ہو رہا ہے کن روز مرہ کی انسانی ضروریات سے دو دو ہاتھ کر رہا ہو گا اور کیا مشکلات ان کے سامنے ہوں گی۔ مثلاً یہ بات سامنے آئی کہ مارچ والوں نے حکومت سے 600ٹوائلٹ لگانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ شرکا اپنے ہاضمے کے نظام کو کنٹرول میں رکھ سکیں۔ تو کہا گیا کہ 600ٹوائلٹ اگر
مزید پڑھیے


احتیاط۔احتیاط۔ احتیاط

جمعه 25 اکتوبر 2019ء
شاہین صہبائی
اسلام آباد آزادی مارچ کا انتظار کر رہا ہے، جب وزیر اعظم نے اجازت بھی دے دی تو اب وردی والے ڈنڈا بردار لے کر آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ کہیں مارپیٹ اور لڑائی بھی ہو تاکہ فضل الرحمن صاحب کو دو چار زخمی یا ایک آدھ شہید مل جائے تاکہ وہ زیادہ زور و شور سے اپنے لوگوں کا لہو گرم کر سکیں۔ یہ سب آزادی کے نام پر ہو گا مگر یہ نہیں معلوم آزادی صرف عمران خان سے چاہیے یا ان کے پیچھے جو لوگ ایک پیج پر کھڑے ہیں ان سے بھی۔ نظر تو
مزید پڑھیے


ہیں کواکب کچھ‘ مگر کیا؟

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
شاہین صہبائی
ملک کی صورتحال کچھ ایسی الجھی ہوئی اور گھمبیر سی لگ رہی ہے کہ اکثر وہ لوگ جو خود کو صورتحال سے واقف اور معلومات کا منبع سمجھتے ہیں، سوالات کرتے نظر آ رہے ہیں اور ان سے اگر کوئی سوال کیا جائے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ اس طرح کی صورتحال کو غیر یقینی کہنا شاید چھوٹی بات لگے کیونکہ کچھ حکومتی اور ادارتی پالیسیوں میں تو غیر یقینی کا عنصر شامل ہو سکتا ہے لیکن پورا ملک اور جس طرف دیکھیں اگر یہی شکل نظر آئے تو شاید گڑ بڑ کچھ زیادہ ہی ہو گی۔
مزید پڑھیے


بلیک میل، بلیک میل اور بلیک میل

جمعه 11 اکتوبر 2019ء
شاہین صہبائی
وزیر اعظم عمران خان تو چین کے کامیاب دورے کے بعد واپس آ گئے ہیں اور اب وہ شاید ایران اور سعودی عرب کے درمیان مصالحت کے لیے نکل کھڑے ہوں۔ خارجی سطح پر تو ان کو کامیابیاں مل ہی رہی ہیں لیکن داخلی محاذ پر ان کو بڑے مسئلوں کا سامنا ہے اور وہ ہیں بلیک میل، بلیک میل اور مزید بلیک میل۔ سیاسی پارٹیاں پہلے تو اداروں کو بلیک میل کر رہی تھیں جیسے ن لیگ نے عدلیہ کو یا کیوں نکالا مارچ میں انتظامیہ اور فوج کو، یا پی پی کا سندھ میں کچھ نہ کر کے
مزید پڑھیے




تبدیلی کا ہنی مون

جمعه 04 اکتوبر 2019ء
شاہین صہبائی
ہر سیاسی لیڈر بڑے کام کرنے کے لئے اپنی دانست میں سب سے بہترین وقت کا انتخاب کرتا ہے اور ہر سیاسی فیصلے کی ٹائمنگ سب سے اہم ہوتی ہے۔ عمران خان نے جنرل اسمبلی میں ایک دبنگ خطاب کرکے جو کشمیر کے مسئلے پر اثر ڈالا وہ تو اپنی جگہ مگر داخلی ملکی سیاست میں انہوںنے اپنے لئے ایک ایسا موقع پیدا کر لیا ہے جس کی مثال اسی طرح ہے جیسے کوئی لیڈر الیکشن جیت کر جب آتا ہے تو کچھ مہینے اس کے پاس ہوتے ہیں کہ مشکل اور کڑوے فیصلے کرے جسے عام لفظوں میں ہنی
مزید پڑھیے


کشمیر کی اصل کہانی

جمعه 27  ستمبر 2019ء
شاہین صہبائی
آج وزیر اعظم عمران خان دنیا بھر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال سے بتائیں گے کہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے اور اگر بھارت کی دیوانگی کو روکا نہ گیا تو پھر دنیا کا ہر بڑا ملک ذمہ دار ہو گا۔ خان صاحب اپنی تقریر کے اہم نکات کئی دفعہ بتا چکے ہیں اور اپنی بے شمار ملاقاتوں میں دنیا کے لیڈروں کو اچھی طرح سمجھا بھی دیا ہے مگر کشمیر کے اندر کیا ہورہا ہے اور وہاں کیا لاوا پک رہا ہے کسی قابل بھروسہ میڈیا کے ذریعے سے ابھی تک سامنے نہیں آیا تھا
مزید پڑھیے


خان بمقابلہ میڈیا

جمعه 20  ستمبر 2019ء
شاہین صہبائی
اخبارات میں جب یہ خبر پڑھی کہ حکومت میڈیا کے لئے خصوصی عدالتیں بنانے جا رہی ہے تو مجھے عمران خان کا جولائی کا دورہ یاد آیا۔23 جولائی کو انہوں نے تھنک ٹینک USIPمیں نینسی لینڈ برگ کے سوال کے جواب میں تفصیل سے کہا کہ پاکستان کا میڈیا نہ صرف آزاد ہے بلکہ بعض اوقات تو کنٹرول سے باہر یعنی آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کئی مثالیں دیں، جیسے کہ ایک اینکر کی ان کی طلاق کے بارے میں خبر۔ ایسی باتیں تو نہ برطانیہ اور نہ ہی امریکہ کے میڈیا میں کہی جا سکتی ہیں۔
مزید پڑھیے


کہانیوں کا موسم

جمعه 13  ستمبر 2019ء
شاہین صہبائی
آج کل میڈیا میں پھر ہر طرح کی کہانیاں سنائی جا رہی ہیں۔ محترم ہارون رشید نے لکھا کہ وزیر اعظم نے دفتر میں وقت دینا کم کر دیا ہے اور دیر سے آتے ہیں اور جلدی چلے جاتے ہیں۔ کئی ٹی وی اینکر کبھی Minus-1اور کبھی minus Allکے منظر پیش کر رہے ہیں۔ خبریں یہ بھی ہیں کہ کابینہ میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں اور پنجاب میں بزدار صاحب کے بارے میں تو ایسی مہم چلی کہ وزیر اعظم کو کہنا پڑا کہ بزدار اس وقت تک رہیں گے جب تک وہ خود وزیر اعظم رہیں گے۔ میں
مزید پڑھیے