BN

شاہین صہبائی


سب کے پتے کھل گئے


پچھلے چند دنوں میں بڑی خاموشی اور سمجھداری کے ساتھ بڑے بڑے قومی کام ہو گئے اور سیاست اور ملکی سلامتی کے معاملات میں بڑی بڑی الجھی ہوئی گتھیاں سلجھ گئیں ۔ ویسے تو مثل مشہور ہے کے ہاتھی کے دانتکھانے کے اور دکھانے کے اور مگر ہمارے ملک کے ہاتھی اور انکے ساتھیوں کے دانت تو ایک جیسے ہی ہیں مگر آوازیں الگ الگ وقت اور الگ الگ جگہوں پر مختلف ہوتی ہیں ۔ باہر وہی شخص کچھ بول رہا ہوتا ہے اور دروازہ بند کر دیں تو آواز ,انداز اورالفاظ سب تبدیل ہو جاتے ہیں فورا سے پیشتر
جمعرات 24  ستمبر 2020ء

استعفیٰ کب دینا چاہیے۔۔۔

بدھ 16  ستمبر 2020ء
شاہین صہبائی
پاکستان میں سیاست اس طرح ہوتی ہے جیسے سب روز صبح دودھ میں نہاتے ہیں۔ سارے گناہ معاف کروا لیتے ہیں۔ ماضی کی سلیٹ کو صاف کر دیتے ہیں اور پھر میدان میں اتر کر بیان بازی شروع کر دیتے ہیں ۔ جو کچھ پہلے کیا اور کہا وہ ٹھیک تھا یا غلط تھا اس کو سب بھول جاتے ہیں اور دوسروں سے بھی کہتے ہیں کے بھول جائیں , آگے کی بات کریں اور ہر لیڈر کیونکہ سچ اور صرف سچ ہی بولتا ہے اسلئے وہ مطالبہ کرتا ہے کے اسکی بات فورا مان لی جائے ۔۔ ورنہ
مزید پڑھیے


پاکستان میں کوئی این آر او کا سوچ بھی نہیں سکتا

جمعه 04  ستمبر 2020ء
شاہین صہبائی
پاکستان کے ایک سینئر بیورو کریٹ جو حال ہی میں اہم عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں جب ان کو ایم ای آر کی رپورٹ دکھائی اور تبصرہ کرنے کو کہا تو ان کا کہنا تھا کہ قریب تھا رپورٹ پڑھنے کے بعد مجھے ہارٹ اٹیک آ جاتا۔ اس کا ہمیں پہلے علم کیوں نہ ہو سکا۔یہ رپورٹ 40سفارشات پر مبنی ہے اور ہر ایک میں 695پیرا گرافس میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ پاکستان نے ان پر کتنا عمل کیا ہے اور کن پر ابھی عمل ہونا باقی ہے ،کن پر عمل شروع ہوا ہے۔ ان 40سفارشات میں
مزید پڑھیے


پاکستان میں کوئی این آر او کا سوچ بھی نہیں سکتا

جمعرات 03  ستمبر 2020ء
شاہین صہبائی
پاکستان اور پاکستان سے باہر لوگ حیران ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کرپٹ سیاستدانوں کے بارے میں اس قدر غیر لچکدار موقف کیسے اختیار کئے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی حکومت جاتی ہے تو جائے مگر وہ کسی چور ڈاکو کو این آر او نہیں دیں گے۔ وزیر اعظم کا یہ موقف اس پختہ ارادے اور عزم پر مبنی ہے کہ یہ پاکستان کی بقا کا مسئلہ ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیر اعظم نے یہ پالیسی کیوں اپنائی ہے کہ اگر بلا امتیاز اور بے لاگ احتساب
مزید پڑھیے


نواز شریف کی واپسی

پیر 24  اگست 2020ء
شاہین صہبائی
ایک جانے پہچانے اینکر محمد مالک نے پچھلے ہفتے اپنا ٹاک شو اس جملے سے شروع کیا کہ آج میں نے اسلام آباد کے تین بڑے باورچیوں کو بلایا ہے جو اسلام آباد میں پکنے والی کھچڑیوں کا تجزیہ کرنے میں کافی تیز ہیں اور انہوں نے تین معروف اینکرز کو بٹھا کر اپنی قیمے آلو اور پیاز ٹماٹر کی سیاسی کھچڑی پکانا شروع کر دی - انکا موضوع بحث تھا نواز شریف کی پاکستان واپسی - سب نے بڑی بڑی خبریں اور بڑے بڑے تجزیے دینا شروع کر دیے اور زور سارا اس بات پر تھا کہ اسلام آباد
مزید پڑھیے



کراچی کا چیلنج

جمعه 14  اگست 2020ء
شاہین صہبائی
جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے سندھ کی حکومت کو کھری کھری سنا کر اپنا حکم جاری کیا کہ کراچی کے پانی اور بند نالوں کا علاج فوجی جنرل کے ماتحتNDMAکرے گی اور تجاوزات کو بھی وہی گرا ئیگی تو ایک بات تو سب کے سامنے واضح ہو گئی کے ہماری اعلیٰ عدلیہ ،فوج اور وفاقی حکومت کراچی اور سندھ کے معاملے میں نہ صرف ایک صفحے پر آ چکے ہیں بلکہ عدلیہ کے معزز جج سب سے زیادہ ناراض ہیں اور چاہتے ہیںکہ سندھ کی حکومت انکے الفاظ میں مزے کرنے کے علاوہ کچھ کام بھی کرے۔
مزید پڑھیے


Out of the box

منگل 11  اگست 2020ء
شاہین صہبائی
پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار آجکل میڈیا اور تجزیہ کاروں کی خاص توجہ کے مرکز ہیں ۔ کچھ اینکرز نے کافی محنت کرکے مواد جمع کیا ہے اور کئی پروگرام بھی کر دیے ہیں اور انکے مطابق بزدار صاحب بھی وہی کام اپنے علاقے میں کر رہے ہیں جو ان سے پہلے کے حکمران کیا کرتے تھے یعنی کچھ دوستوں رشتے داروں اور فرنٹ مین کے نام ٹھیکے لینا , افسروں کی تعیناتی اور ٹرانسفر کرنا , ناجائز قبضے کرانا اور اپنی کرسی کی طاقت استعمال کرکے مال بنانا ۔ بزدار صاحب ان سب الزامات کو
مزید پڑھیے


پستیاں ہی پستیاں

جمعه 31 جولائی 2020ء
شاہین صہبائی
میرا ارادہ تھا کے اس ہفتے کراچی کی زبوں حالی اور دردناک صورتحال پر لکھوں گا مگر نیب اورFATF کے حوالے سے قوانین میں تبدیلیاں اور حکومت اور حزب اختلاف کی جگت بازیاں اتنی تکلیف دہ نظر آئیں کے انکو نظر انداز کرنا مشکل تھا ۔ کیسا ظلم ہے کہ جن لوگوں کو وزیر اعظم عمران خان دوسرے ملکوں سے چن چن کر واپس لے کر آئے تھے کیونکہ وہ اپنے شعبے کے ماہر تھے اور واپس آ کر پاکستان کی خدمت کریںگے وہ مجبوراً اسلئے استعفے دے کر جا رہے ہیں کے انکے پاس یا تو دوہری شہریت
مزید پڑھیے


عدلیہ کے لئے ضروری کام

جمعه 24 جولائی 2020ء
شاہین صہبائی
وزیراعظم عمران خان نے بہت اچھا کیا کے اپنے ساتھ کام کرنے والے اہم عہدوں پر بیٹھے لوگوں سے کہا کے اپنے اثاثے اور شہریت کا اعلان کریں ۔ ایسا پہلے کبھی کسی سیاسی لیڈر نے نہیں کیا تھا ۔ جب سب لوگوں نے اپنے بارے میں سب کچھ بتا دیا تو بھائی لوگوں نے ایک نئی کہانی شروع کر دی اور اب جھگڑا دوہری شہریت کا ہے ۔ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور اسکے بارے میں آخری فیصلہ ہو جانا چاہیے ۔ شاید قانون تو واضح ہے لیکن لوگ ہر ایک پر شک کرنا ضروری سمجھتے ہیں ۔
مزید پڑھیے


اندر کے لوگ

هفته 18 جولائی 2020ء
شاہین صہبائی
جولائی کی 14 تاریخ کو امریکا میں ایک نئی کتاب مارکیٹ میں آئی اور پہلے ہی دن دس لاکھ کاپیاں بک گئیں اور سارے پرانے ریکارڈ ٹوٹ گئے ۔ یہ کتاب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی بھتیجی میری ٹرمپ نے لکھی ہے جو خود ایک دماغی امراض کی ڈاکٹر ہیں اور کئی برس سے صدر ٹرمپ سے اپنے حقوق لینے کے لئے لڑائی کر رہی ہیں۔ اس نے پہلے بھی کتاب لکھنے کے بارے میں سوچا مگر پھر ارادہ ملتوی کر دیا یہ سوچ کر کہ اس وقت امریکی لوگ ٹرمپ کا ہر گناہ معاف کرنے کو تیار ہیں اور
مزید پڑھیے