BN

شاہین صہبائی



مولانا فضل الرحمن کی آسان سیاست


جب 1970ء میں جنرل یحییٰ خان نے الیکشن کا اعلان کیا تو تقریباً پورے سال ہی خود سے الیکشن کمپین جاری رہی۔ ان دنوں میں پشاور میں خبر رساں ایجنسی PPIکا نمائندہ تھا اور میرا دفتر خیبر بازار کے شروع میں حبیب ہوٹل کے سامنے بلڈنگ میں پہلی منزل پر تھا اور برابر والا دفتر نوائے وقت اخبار کا تھا۔ اس الیکشن مہم میں ایک 16سال کا نوجوان جس کے چہرے پر ابھی پوری داڑھی بھی نہیں آئی تھی اکثر اپنے والد کا سیاسی بیان یا کسی تقریر کا متن لے کر میرے دفتر آتا تھا اور خاموشی سے کھڑا
جمعه 21 فروری 2020ء

کیا واقعی خطرہ بڑھ گیا ہے

جمعه 14 فروری 2020ء
شاہین صہبائی
دوست زاہد حسین ایک منجھے ہوئے اور معاملات کو سمجھنے والے صحافی ہیں۔ اپنے بدھ کے مضمون جو ڈان میں چھپا حکومت اور ملک کی موجودہ صورتحال کو ’’خطرے کی گھنٹیاں‘‘ کے عنوان سے بیان کرتے ہیں۔ بڑی جامع تصویر کشی کی ہے اور اکثر باتیں بالکل ٹھیک ہیں مثلاً وہ کہتے ہیں کہ آج کل کا بحران نااہلی اور تکبر کا ایک مجموعہ ہے مگر یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ صرف بری حکومت ہی نہیں یہ بوسیدگی اور سڑن ہر طرف پھیلی ہوئی ہے فرماتے ہیں حکومت ایک ایسے سمندری جہاز کی طرح ہے جو قابو سے باہر
مزید پڑھیے


نیب کے لئے آخری دعائے خیر

جمعه 31 جنوری 2020ء
شاہین صہبائی
ایک ادارہ تو اپنے منطقی انجام کو تقریباً پہنچ ہی گیا جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب گلزار احمد اور دیگر جج صاحبان نے جنوری 28کو نیب کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا اور واضح الفاظ میں کچھ یوں نیب کی تعریف کی’’نیب استحصالی ادارہ بن چکا جس مقصد کے لئے ادارہ بنا تھا وہ ختم ہو گیا۔ نیب کو جو کردار ادا کرنا چاہیے تھا وہ ادا نہیں ہو رہا۔ آپ کے اندر کام کرنے کی صلاحیت ہی نہیں آپ پر تو اربوں روپے کا جرمانہ ہونا چاہیے‘‘ ان کلمات الزامات یا احکامات کے بعد اب
مزید پڑھیے


کچھ کرنے کا موسم آ گیا

جمعه 24 جنوری 2020ء
شاہین صہبائی
تقریباً سب لوگ ہی کہہ رہے ہیں کہ سازشوں کا موسم پورے عروج پر ہے اور ہر طرح کا حربہ اور ہتھیار استعمال ہو رہا ہے اور ہو گا۔ بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ خود وزیر اعظم کے وسیم اکرم پلس اپنا گروپ بنا کر اپنے ہی وزیر اعظم سے تقریباً دھمکی آمیز انداز میں مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں اختیارات دیے جائیں اور گورنر پنجاب نے تو کھلے عام کہہ دیا کہ وزیر اعظم کے نامزد چیف سیکرٹری اور پولیس کے آئی جی کسی کی بات نہیں سن رہے اور منتخب شدہ لوگوں کو ایک طرح
مزید پڑھیے


سیاسی منظر کی بڑی تصویر

جمعه 17 جنوری 2020ء
شاہین صہبائی
اپنے ٹی وی چینل دیکھ کر لگتا ہے کہ اب اصل تبدیلی یعنی سیاسی حکومت کی تبدیلی کا وقت آ گیا ہے۔ کبھی ایک حکومتی حلیف ناراض ہو جاتا ہے اور کبھی دوسرا۔ ٹی وی نہ دیکھیں اور صرف بڑی خبریں سنیں تو بالکل دوسری تصویر نظر آتی ہے اور آج دو تین ہفتے کے بعد میںاس بڑی تصویر جو دور سے ذرا زیادہ صاف نظر آتی ہے، اس کی بات کروں گا۔ شروع کر ہی رہا تھا تو سوچا اونچے ایوانوں میں کسی سے ایک صورت حال کی تازہ ترین اپ ڈیٹ ہی لے لوں۔ پوچھا کہ آپ لوگ
مزید پڑھیے




خان کا انقلاب کس راستے پر

پیر 30 دسمبر 2019ء
شاہین صہبائی
کئی مبصرین اور تجزیہ نگاروں کو عمران خان کا انقلابی ایجنڈا دھندلا ہوتا نظر آ رہا ہے اور وہ ہر روز مزید شدت کے ساتھ مطالبات کر رہے ہیں کہ عمران خان کو ہٹایا جائے اور ایک ایسی حکومت لائی جائے جو معاملات کو سمجھ سکے، سنبھال سکے اور عوام کے لئے کچھ کر سکے۔ عوام کے لئے ریلیف دینا حکومت کو سنبھالنا اور سمجھنا تو بہت ضروری کام ہیں مگر جو پہلی بات ہے کہ ایک نئی حکومت لائی جائے وہ ایک ٹیڑھی کھیر ہے۔ میڈیا پر ہر روز شام سات بجے سے 11بجے تک کوئی 60ٹاک شوز
مزید پڑھیے


نیب اور ناکام ریاست

جمعه 13 دسمبر 2019ء
شاہین صہبائی
احتساب کا معاملہ کافی گھمبیر سا ہو گیا ہے اور اس عمل کے سب سے بڑے ایوان یعنی نیب کے بارے میں آج کل بہت تنقید بھی کی جا رہی ہے اور صفائیاں بھی پیش کی جا رہی ہیں۔ حکومت کی پالیسی تو بڑی واضح ہے کہ کسی چور کو نہیں چھوڑنا ہے مگر چوروں کو پکڑنے والے اور جیل بھیجنے والے جب خود چوروں کو چھوڑنا شروع کر دیں تو حکومت صرف آنسو بہاتی ہی رہ جاتی ہے۔ لیکن خود نیب کا کیا احوال ہے اس پر بھی غور ضروری ہے۔ نیب کے کرتا دھرتا جناب جاوید اقبال بھی
مزید پڑھیے


کیا ہم جمہوریت کے قابل ہیں!

جمعه 06 دسمبر 2019ء
شاہین صہبائی
پاکستان میں سیاست کا معیار اور تنزلی دیکھ کر اکثر یہ سوال ذہن میں آتے ہیں کہ کیا ہماری قوم اور ملک جمہوری سیاست کے قابل ہے؟ کیا یہاں آزادی اظہار ہونا چاہیے؟ کیا ہم کبھی اپنی ذاتی انا اور ذاتی فائدے کی تگ و دو سے باہر نکل سکیں گے؟ کیا ہم اس قابل ہیں کہ ہم ایک فرد ایک ووٹ کا اصول استعمال کرتے ہوئے اپنی حکومتیں اور اپنے لیڈر چنیں؟ کیا ہم واقعی ایک قوم ہیں یا کچھ قومیتوں اور افراد کا مجموعہ ہیں جو دنیا کا ہر اچھا اصول اور طریقہ تو اپنے لئے مانگتے ہیں
مزید پڑھیے


ایک جھٹکا ایک وارننگ

هفته 30 نومبر 2019ء
شاہین صہبائی
پاکستان میں ایک عدالتی طوفان آیا اور امریکہ کے موسمی Hurricanes کی طرح آیا اور چلا گیا۔ کچھ گھنٹے یا ایک دو دن گہرے بادل اور گھٹائیں چھائی رہیں مگر جیسے ہی آندھی گزری اپنے ساتھ کئی کچرے کے ڈھیر صاف کر گئی۔ حکومت میں جو نااہل حضرات کا ڈیرہ ہے وہ بے جامہ اور بے نقاب ہو گیا۔ قوانین میں سوراخ در سوراخ نظر آتے گئے اور کئی قوانین تو معلوم ہوا وجود ہی نہیں رکھتے مگر سالہا سال سے کام اسی تنخواہ پر جاری ہے۔ اب معلوم ہوا عمارت کی بنیاد ہی نہیں تھی اور کئی دور گزر
مزید پڑھیے


کیاMinus-1ہو سکتا ہے

جمعه 22 نومبر 2019ء
شاہین صہبائی
اسلام آباد کی صورت تیزی سے بدل رہی ہے۔ مولانا کا دھرنا پُھر ہو گیا اور پھر عمران خان کے بڑے حریف میاں نواز شریف بھی پُھر سے اڑ گئے۔ بیماریاں تو ان کو بہت ہیں اور کئی برسوں سے ہیں مگر جس طرح وہ ہشاش بشاش ایک شاہانہ ایئر ایمبولینس میں سوار ہوئے اور ایک عام صحت مند مسافر کی طرح جہاز پر سوار ہوئے، اپنی گاڑی میں تشریف لائے تو کسی طرح کوئی ایمرجنسی کی شکل نظر نہیں آئی۔ مگر یہ سب اب تاریخ کاحصہ ہے۔ ان کے ملک سے جانے کے بعد سیاسی صورتحال کچھ بدلی بدلی
مزید پڑھیے