شاہین صہبائی


کیا یہ سب خواب ہی ہے


پاکستان کی سیاست میں یا وزیر اعظم عمران خان کی سوچ میں یقینا ایک بنیادی اور اہم تبدیلی آ گئی ہے۔ یہ وہ تبدیلی تو نہیں جس کی بنیاد پر خان صاحب نے الیکشن جیتا تھا یا حکومت بنائی تھی مگر اشارے یہی مل رہے ہیں کہ اصل تے سُچی تبدیلی جو خان صاحب کے بنی گالہ کے گھر میں یا ان کی پارٹی کے پرانے اور وفادار لوگوں کی خواہشات میں گم ہو گئی تھی اس کا سراغ اب مل گیا ہے اور خان صاحب نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب اس جادو کی چھڑی کو مضبوطی سے
جمعه 10 اپریل 2020ء

کچھ انقلاب‘ بہت اضطراب

جمعه 03 اپریل 2020ء
شاہین صہبائی
امریکہ9/11کے دن بدل گیا تھا اور ساری دنیا نے دیکھا کہ کیا کیا ہوا۔ لاکھوں لوگ جنگوں میں مارے گئے اور آج تک لوگ بھگت رہے ہیں۔ کورونا نے پچھلے 6سے 8ہفتوں میں ساری دنیا کو بدل دیا ہے۔ اب وہ پرانی دنیا اور اس کے طور طریقے دوبارہ شاید مشکل ہی سے نظر آئیں۔ غالب نے کہا تھا ’’حیران ہوں دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو میں‘‘ ایک لسٹ بنانا شروع کی تو خود حیران رہ گیا۔ جو کام لوگ برسوں سے کرنے کی کوشش کر رہے تھے وہ اچانک خود بخود ہی ہو گئے۔ شاید ہر ایک
مزید پڑھیے


کرونا نے خان کو تحمل سکھا دیا

جمعه 27 مارچ 2020ء
شاہین صہبائی
وزیر اعظم عمران خان نے 24مارچ کو میڈیا کے کچھ اینکرز کو بلا کر اپنی حکومت اور خود کو ان کے سامنے پیش کیا اور سارے کڑوے تیکھے اور بدبودار سوالوں اور تبصروں کا جواب دیا۔ اس طرح کی میڈیا بریفنگ امریکہ کے صدر ٹرمپ بھی تقریباً روزانہ ہی کرتے ہیں مگر ایک فرق صاف نظر آتا ہے۔ ٹرمپ صاحب کو کچھ مہینے بعد الیکشن کا سامنا ہے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح وہ کرونا کی تباہ کاریوں کو کم کر کے بتائیں‘ لوگوں کو امید دلائیں۔ جو ان کی چار سالہ معاشی کامیابیاں تھیں ان
مزید پڑھیے


شریف خاندان اور تنکوں کا سہارا

جمعه 13 مارچ 2020ء
شاہین صہبائی
پاکستانی سیاست دائروں میں گھومتی ہے۔ میں اپنے پرانے اخباروں اور مضمونوں کے ڈبے کو ڈھونڈ رہا تھا تو ایک مضمون کی کاپی مل گئی جو میں نے 16اکتوبر 1995ء کو روزنامہ ڈان میں لکھا تھا۔ میں اس وقت ڈان کا واشنگٹن میں بیورو چیف تھا اور مجھے امریکہ آئے ہوئے کوئی 7مہینے ہی ہوئے تھے۔ کیونکہ میں پاکستان میں سیاسی رپورٹنگ ہی کرتا تھا تو پاکستانی سیاست ہی میرا شوق تھا۔ اکتوبر 95ء میں بے نظیر کی حکومت تھی اور میاں نواز شریف حزب اختلاف کے قائد تھے۔ بی بی اور زرداری کا پورا زور تھا اور میاں صاحبان
مزید پڑھیے


طالبان اور لیز ڈوسیٹ

جمعه 06 مارچ 2020ء
شاہین صہبائی
بی بی سی کی مشہور زمانہ رپورٹر لیز ڈوسیٹ پاکستان میں ایک جانا پہچانا نام ہیں اور ان خوش قسمت لوگوں میں ہیں جنہوں نے افغانستان میں روس کا جنازہ نکلتے دیکھا۔ 1992ء میں اور ابھی 29فروری کو دوحا میں امریکہ اور طالبان کو ہاتھ ملاتے اور آنکھیں چراتے دیکھا۔ دونوں موقع تاریخی تھے۔ ایک تو میں نے خود دیکھا اور اس پر رپورٹنگ کی۔ لیز اسلام آباد میں بی بی سی کی رپورٹر تھیں اور میں اسلام آباد میں ڈان کے اسلام آباد بیورو کا چیف تھا۔ اکثر ملاقات ہوتی تھی، انتہائی نفیس اور شریف ہر ایک سے بہت
مزید پڑھیے



بڑے منظر نامے کے مزید رُخ

جمعه 28 فروری 2020ء
شاہین صہبائی
آج کل جب کسی دوست سے بات ہوتی ہے چند سکینڈ کے بعد ایک سوال بار بار سامنے آتا ہے کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے اور حالات کدھر جا رہے ہیں۔ کیا عمران خان ان حالات پر قابو پا لیں گے اور آگے کا منظر نامہ کیا ہو گا۔ اخبار اور ٹی وی چینل صرف روز کی خبروں پر زور دیتے ہیں مثلاً فلاں کی ضمانت منظور ہو گئی اور فلاں کی نامنظور، یا کون آ رہا ہے یا ملک سے باہر جا رہا ہے۔ہر میڈیا گروپ اپنے پسند کی خبروں کو اہمیت دیتا ہے اور حکومت کی
مزید پڑھیے


مولانا فضل الرحمن کی آسان سیاست

جمعه 21 فروری 2020ء
شاہین صہبائی
جب 1970ء میں جنرل یحییٰ خان نے الیکشن کا اعلان کیا تو تقریباً پورے سال ہی خود سے الیکشن کمپین جاری رہی۔ ان دنوں میں پشاور میں خبر رساں ایجنسی PPIکا نمائندہ تھا اور میرا دفتر خیبر بازار کے شروع میں حبیب ہوٹل کے سامنے بلڈنگ میں پہلی منزل پر تھا اور برابر والا دفتر نوائے وقت اخبار کا تھا۔ اس الیکشن مہم میں ایک 16سال کا نوجوان جس کے چہرے پر ابھی پوری داڑھی بھی نہیں آئی تھی اکثر اپنے والد کا سیاسی بیان یا کسی تقریر کا متن لے کر میرے دفتر آتا تھا اور خاموشی سے کھڑا
مزید پڑھیے


کیا واقعی خطرہ بڑھ گیا ہے

جمعه 14 فروری 2020ء
شاہین صہبائی
دوست زاہد حسین ایک منجھے ہوئے اور معاملات کو سمجھنے والے صحافی ہیں۔ اپنے بدھ کے مضمون جو ڈان میں چھپا حکومت اور ملک کی موجودہ صورتحال کو ’’خطرے کی گھنٹیاں‘‘ کے عنوان سے بیان کرتے ہیں۔ بڑی جامع تصویر کشی کی ہے اور اکثر باتیں بالکل ٹھیک ہیں مثلاً وہ کہتے ہیں کہ آج کل کا بحران نااہلی اور تکبر کا ایک مجموعہ ہے مگر یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ صرف بری حکومت ہی نہیں یہ بوسیدگی اور سڑن ہر طرف پھیلی ہوئی ہے فرماتے ہیں حکومت ایک ایسے سمندری جہاز کی طرح ہے جو قابو سے باہر
مزید پڑھیے


نیب کے لئے آخری دعائے خیر

جمعه 31 جنوری 2020ء
شاہین صہبائی
ایک ادارہ تو اپنے منطقی انجام کو تقریباً پہنچ ہی گیا جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب گلزار احمد اور دیگر جج صاحبان نے جنوری 28کو نیب کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا اور واضح الفاظ میں کچھ یوں نیب کی تعریف کی’’نیب استحصالی ادارہ بن چکا جس مقصد کے لئے ادارہ بنا تھا وہ ختم ہو گیا۔ نیب کو جو کردار ادا کرنا چاہیے تھا وہ ادا نہیں ہو رہا۔ آپ کے اندر کام کرنے کی صلاحیت ہی نہیں آپ پر تو اربوں روپے کا جرمانہ ہونا چاہیے‘‘ ان کلمات الزامات یا احکامات کے بعد اب
مزید پڑھیے


کچھ کرنے کا موسم آ گیا

جمعه 24 جنوری 2020ء
شاہین صہبائی
تقریباً سب لوگ ہی کہہ رہے ہیں کہ سازشوں کا موسم پورے عروج پر ہے اور ہر طرح کا حربہ اور ہتھیار استعمال ہو رہا ہے اور ہو گا۔ بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ خود وزیر اعظم کے وسیم اکرم پلس اپنا گروپ بنا کر اپنے ہی وزیر اعظم سے تقریباً دھمکی آمیز انداز میں مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں اختیارات دیے جائیں اور گورنر پنجاب نے تو کھلے عام کہہ دیا کہ وزیر اعظم کے نامزد چیف سیکرٹری اور پولیس کے آئی جی کسی کی بات نہیں سن رہے اور منتخب شدہ لوگوں کو ایک طرح
مزید پڑھیے