BN

شاہین صہبائی


خان کا انقلاب کس راستے پر


کئی مبصرین اور تجزیہ نگاروں کو عمران خان کا انقلابی ایجنڈا دھندلا ہوتا نظر آ رہا ہے اور وہ ہر روز مزید شدت کے ساتھ مطالبات کر رہے ہیں کہ عمران خان کو ہٹایا جائے اور ایک ایسی حکومت لائی جائے جو معاملات کو سمجھ سکے، سنبھال سکے اور عوام کے لئے کچھ کر سکے۔ عوام کے لئے ریلیف دینا حکومت کو سنبھالنا اور سمجھنا تو بہت ضروری کام ہیں مگر جو پہلی بات ہے کہ ایک نئی حکومت لائی جائے وہ ایک ٹیڑھی کھیر ہے۔ میڈیا پر ہر روز شام سات بجے سے 11بجے تک کوئی 60ٹاک شوز
پیر 30 دسمبر 2019ء

نیب اور ناکام ریاست

جمعه 13 دسمبر 2019ء
شاہین صہبائی
احتساب کا معاملہ کافی گھمبیر سا ہو گیا ہے اور اس عمل کے سب سے بڑے ایوان یعنی نیب کے بارے میں آج کل بہت تنقید بھی کی جا رہی ہے اور صفائیاں بھی پیش کی جا رہی ہیں۔ حکومت کی پالیسی تو بڑی واضح ہے کہ کسی چور کو نہیں چھوڑنا ہے مگر چوروں کو پکڑنے والے اور جیل بھیجنے والے جب خود چوروں کو چھوڑنا شروع کر دیں تو حکومت صرف آنسو بہاتی ہی رہ جاتی ہے۔ لیکن خود نیب کا کیا احوال ہے اس پر بھی غور ضروری ہے۔ نیب کے کرتا دھرتا جناب جاوید اقبال بھی
مزید پڑھیے


کیا ہم جمہوریت کے قابل ہیں!

جمعه 06 دسمبر 2019ء
شاہین صہبائی
پاکستان میں سیاست کا معیار اور تنزلی دیکھ کر اکثر یہ سوال ذہن میں آتے ہیں کہ کیا ہماری قوم اور ملک جمہوری سیاست کے قابل ہے؟ کیا یہاں آزادی اظہار ہونا چاہیے؟ کیا ہم کبھی اپنی ذاتی انا اور ذاتی فائدے کی تگ و دو سے باہر نکل سکیں گے؟ کیا ہم اس قابل ہیں کہ ہم ایک فرد ایک ووٹ کا اصول استعمال کرتے ہوئے اپنی حکومتیں اور اپنے لیڈر چنیں؟ کیا ہم واقعی ایک قوم ہیں یا کچھ قومیتوں اور افراد کا مجموعہ ہیں جو دنیا کا ہر اچھا اصول اور طریقہ تو اپنے لئے مانگتے ہیں
مزید پڑھیے


ایک جھٹکا ایک وارننگ

هفته 30 نومبر 2019ء
شاہین صہبائی
پاکستان میں ایک عدالتی طوفان آیا اور امریکہ کے موسمی Hurricanes کی طرح آیا اور چلا گیا۔ کچھ گھنٹے یا ایک دو دن گہرے بادل اور گھٹائیں چھائی رہیں مگر جیسے ہی آندھی گزری اپنے ساتھ کئی کچرے کے ڈھیر صاف کر گئی۔ حکومت میں جو نااہل حضرات کا ڈیرہ ہے وہ بے جامہ اور بے نقاب ہو گیا۔ قوانین میں سوراخ در سوراخ نظر آتے گئے اور کئی قوانین تو معلوم ہوا وجود ہی نہیں رکھتے مگر سالہا سال سے کام اسی تنخواہ پر جاری ہے۔ اب معلوم ہوا عمارت کی بنیاد ہی نہیں تھی اور کئی دور گزر
مزید پڑھیے


کیاMinus-1ہو سکتا ہے

جمعه 22 نومبر 2019ء
شاہین صہبائی
اسلام آباد کی صورت تیزی سے بدل رہی ہے۔ مولانا کا دھرنا پُھر ہو گیا اور پھر عمران خان کے بڑے حریف میاں نواز شریف بھی پُھر سے اڑ گئے۔ بیماریاں تو ان کو بہت ہیں اور کئی برسوں سے ہیں مگر جس طرح وہ ہشاش بشاش ایک شاہانہ ایئر ایمبولینس میں سوار ہوئے اور ایک عام صحت مند مسافر کی طرح جہاز پر سوار ہوئے، اپنی گاڑی میں تشریف لائے تو کسی طرح کوئی ایمرجنسی کی شکل نظر نہیں آئی۔ مگر یہ سب اب تاریخ کاحصہ ہے۔ ان کے ملک سے جانے کے بعد سیاسی صورتحال کچھ بدلی بدلی
مزید پڑھیے



مولانا کے لئے ایک امید کا چراغ

جمعه 08 نومبر 2019ء
شاہین صہبائی
دھرنا ہونا تھا اوردھرنا ہو گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ ختم کس طرح کیا جائے۔ جو بھی درمیانی راستہ نکالا جائے گا یا فیس سیونگ دی جائے گی اس میں کچھ چیزیں تو یقینا شامل نہیں ہونگی: 1۔وزیر اعظم کا استعفیٰ نہیں ہو گا۔ 2۔ نئے انتخاب فوری طور پر نہیں ہو نگے۔3۔ دھرنے والوں کو داخلی انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔4۔ فوج یا کوئی اور عسکری ادارہ اس سیاسی سرکس میں شامل نہیں ہو گا۔5۔ دھرنے کی وجہ سے فوج یا کسی عسکری دفاعی ادارے میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے اور یہ بات سراسر
مزید پڑھیے


آزادی مگر کس کے لئے

جمعه 01 نومبر 2019ء
شاہین صہبائی
میڈیا کے ایک انتہائی قابل عزت بزرگ نے کل ایک واٹس ایپ بھیجا جس میں کچھ نمبر اور ہندسے اور ضرب تقسیم کی تفصیل تھی جس کے مطابق جمعیت کا اسلام آباد مارچ جو آج جی 9-کے میدان میں لنگر انداز ہو رہا ہے کن روز مرہ کی انسانی ضروریات سے دو دو ہاتھ کر رہا ہو گا اور کیا مشکلات ان کے سامنے ہوں گی۔ مثلاً یہ بات سامنے آئی کہ مارچ والوں نے حکومت سے 600ٹوائلٹ لگانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ شرکا اپنے ہاضمے کے نظام کو کنٹرول میں رکھ سکیں۔ تو کہا گیا کہ 600ٹوائلٹ اگر
مزید پڑھیے


احتیاط۔احتیاط۔ احتیاط

جمعه 25 اکتوبر 2019ء
شاہین صہبائی
اسلام آباد آزادی مارچ کا انتظار کر رہا ہے، جب وزیر اعظم نے اجازت بھی دے دی تو اب وردی والے ڈنڈا بردار لے کر آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ کہیں مارپیٹ اور لڑائی بھی ہو تاکہ فضل الرحمن صاحب کو دو چار زخمی یا ایک آدھ شہید مل جائے تاکہ وہ زیادہ زور و شور سے اپنے لوگوں کا لہو گرم کر سکیں۔ یہ سب آزادی کے نام پر ہو گا مگر یہ نہیں معلوم آزادی صرف عمران خان سے چاہیے یا ان کے پیچھے جو لوگ ایک پیج پر کھڑے ہیں ان سے بھی۔ نظر تو
مزید پڑھیے


ہیں کواکب کچھ‘ مگر کیا؟

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
شاہین صہبائی
ملک کی صورتحال کچھ ایسی الجھی ہوئی اور گھمبیر سی لگ رہی ہے کہ اکثر وہ لوگ جو خود کو صورتحال سے واقف اور معلومات کا منبع سمجھتے ہیں، سوالات کرتے نظر آ رہے ہیں اور ان سے اگر کوئی سوال کیا جائے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ اس طرح کی صورتحال کو غیر یقینی کہنا شاید چھوٹی بات لگے کیونکہ کچھ حکومتی اور ادارتی پالیسیوں میں تو غیر یقینی کا عنصر شامل ہو سکتا ہے لیکن پورا ملک اور جس طرف دیکھیں اگر یہی شکل نظر آئے تو شاید گڑ بڑ کچھ زیادہ ہی ہو گی۔
مزید پڑھیے


بلیک میل، بلیک میل اور بلیک میل

جمعه 11 اکتوبر 2019ء
شاہین صہبائی
وزیر اعظم عمران خان تو چین کے کامیاب دورے کے بعد واپس آ گئے ہیں اور اب وہ شاید ایران اور سعودی عرب کے درمیان مصالحت کے لیے نکل کھڑے ہوں۔ خارجی سطح پر تو ان کو کامیابیاں مل ہی رہی ہیں لیکن داخلی محاذ پر ان کو بڑے مسئلوں کا سامنا ہے اور وہ ہیں بلیک میل، بلیک میل اور مزید بلیک میل۔ سیاسی پارٹیاں پہلے تو اداروں کو بلیک میل کر رہی تھیں جیسے ن لیگ نے عدلیہ کو یا کیوں نکالا مارچ میں انتظامیہ اور فوج کو، یا پی پی کا سندھ میں کچھ نہ کر کے
مزید پڑھیے