Common frontend top

ضیا بانڈے


چینی کمیونسٹ سوچ اور تخفیف غربت


ورلڈ بنک کے اعداد وشمار کے مظابق 1978 میں پاکستان اور چین کی فی کس مجموعی قومی آمدنی یکساں 230 ڈالر تھی۔ یہ وہی سال تھا جب چین نے ڈینگ ثیاوپنگ کے زیرقیادت اپنی معیشت کو کھولنے کے لیے کثیرالجہتی اصلاحات کا پروگرام شروع کیا تھا۔ 44 سال کے عرصے میں چین نے اپنی فی کس مجموعی قومی آمدنی میں 56 گنا اضافہ کیا جو 2022 میں بڑھ کر 12,850 ڈالر ہوگئی۔ جب کہ اس اثنا میں پاکستان کی فی کس مجموعی قومی آمدنی میں محض 7 گنا کی بڑھوتی ہوئی، جو 2022 میں 1,560 ڈالر پر پہنچی۔ دنیا چین
هفته 22 جون 2024ء مزید پڑھیے

بجلی کے مگرمچھ اور عوامی ریلیف

اتوار 03  ستمبر 2023ء
ضیا بانڈے
دہلی ہندوستان کی راجدھانی اور انتظامی طور پر ایک یونین علاقہ ہے، جس کی آبادی ایک کروڑ اڑسٹھ لاکھ ہے۔ اس کی اپنی منتخب اسمبلی اور وزیراعلٰی ہوتا ہے۔ 2015 ء سے دہلی پر عام آدمی پارٹی کی حکومت ہے۔ شہر میں بجلی کا نظام پانچ کمپنیوں پر مشتمل ہے۔ جن میں سے دو سرکاری کمپنیاں ہیں، جو بجلی پیدا کرنے اور ترسیل کے شعبوں سے منسلک ہیں، جبکہ تین نجی بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں ہیں۔ سرکاری بجلی پیدا کرنے والی کمپنی تو بنیادی طور پر زیادہ تر کوئلہ اور کچھ گیس سے چلنے والے پلانٹس سے بجلی فراہم
مزید پڑھیے


بجلی کے بل اور معاشی انصاف کی تحریک

جمعرات 31  اگست 2023ء
ضیا بانڈے
پاکستان کے مستقل نگرانوں نے شاید کبھی سوچا نہ ہونگا کہ عوام بجلی کے ذرا سے بھاری بلوں پر اس قدربھڑک جائیں گے کہ شہر شہر میں مقامی سطح پر منظم ہوکر مظاہرے شروع کردینگے۔ اپنی طرف سے تو انہوں نے ساری پلاننگ کرلی تھی۔ پچھلی حکومت کی ساری آنیاں جانیاں اور بیان بازیوں کے باوجود انہوں نے اپنی مرضی کی نگران حکومت بھی بنوا لی۔ اس سے پہلے اپنی بی ٹیم سے مرضی کی ساری قانون سازی بھی کروالی اور ملک میں فساد کی مرتکب جماعت کی مشکیں بھی خوب کس لیں۔ الیکشن کے انعقاد کی تاریخ کو
مزید پڑھیے


انتخابی نعرے: کرپشن کا خاتمہ اور معاشی مساوات

منگل 29  اگست 2023ء
ضیا بانڈے
مہنگائی اور بے روز گاری کے ستائے پاکستانی پٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کے بعد بجلی بلوں جی وجہ سے سراپا احتجاج ہیں ملک بھر میں لوگ اجتماعی طور پر بجلی کے بل جلا کر سول نافرمانی کا اعلان کر رہے ہیں۔ ملکی تاریخ میں یہ بھی شائد پہلی بار ہوا کے کہ خواتین اور بچے بھی احتجاجاً سڑکوں پر نکل رہے ہیں اور حکومت سے ظالمانہ اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بظاہر ان مظاہروں کے پیچھے کوئی ملکی سطح کی جماعت اور تنظیم تو نظر نہیں آرہی ہے، بلکہ یہ مقامی طور
مزید پڑھیے


سگریٹ نوشی چھوڑنے کے لئے حوصلہ شکن ماحول

جمعه 07 جولائی 2023ء
ضیا بانڈے
سال 1964 میں امریکی حکومت کے سرجن جنرل کی سالانہ رپورٹ میں پہلی دفعہ تمباکو نوشی کو سائنسی طور پر مضرصحت قرار دیا گیا۔ اس کے بعد عوامی صحت عامہ کے اداروں اور تمباکو انڈسٹری کے درمیان تمباکو کے پبلک استعمال کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ایک طویل کشمکش کا آغاز ہوا، جو تاحال جاری ہے۔ صنعتی بنیاد پر تمباکو کی پیداوار اور فروخت کا آغاز تین سوسال پہلے ہوا تھا۔ ان تین صدیوں میں تمباکو انڈسٹری نے دنیا بھر کی قومی معیشتوں میں سرمایہ کاری اور ٹیکسوں کے مد میں اہم حیثیت حاصل کرلی ہے۔ سال 2022 میں ایک
مزید پڑھیے



غیرسیاسی سوچ کا المیہ

پیر 26  ستمبر 2022ء
ضیا بانڈے
آج کے کالم کا آغاز جدید چین کے بانی ماوزے تنگ کے مشہور قول سے کرتے ہیں، جو کچھ اس طرح ہے کہ ’’سیاست خون خرابے کے بغیر کی جنگ ہے، جبکہ جنگ خون خرابے کے ساتھ کی سیاست ہے۔‘‘ کیا سیاسی حکمرانی واقعی جنگ کے مترادف ہوتی ہے؟ اس سوال کے جواب کی اس کالم میں کھوج کی کوشش کرے گے۔ مجھ ناسمجھ کے فہم میں سیاست طاقت کے حصول کے لیے انفرادی یا اجتماعی طور پر کاوش ہے۔اور اگر ملکی، صوبائی یا مقامی سطح کی پاکستان یا دوسرے ممالک کی سیاسیات پرعوامی ردعمل کا جائزہ
مزید پڑھیے


بیوپار میں غریب کی ڈیجیٹل شمولیت

منگل 30  اگست 2022ء
ضیا بانڈے
نومبر 2017 میں تین انڈونیشی نوجوانوں نے جکارتہ میں ایک مائیکرو ریٹیل ٹیکنالوجی کمپنی کی بنیاد رکھی۔ اس نئے اسٹارٹ اپ کا نام ’ورونگ پنتار‘ تھا، جس کا انڈونیشی زبان میں مطلب اسمارٹ کھوکھا ہے۔ ورونگ پنتار کی ٹارگٹ مارکیٹ انڈونیشیابھر میں موجود 30 لاکھ سے زائد وہ کھوکھا اور ریڑھی والے تھے، جو اکیسویں صدی میں بھی پرانے طرز میں کاروباری لین دین اور نچلے درجے پر پرچون کا کام کررہے تھے۔ کمپنی کے بانیان کا وژن یہ تھا کہ انڈونیشی کھوکھے والوں کی ڈیجیٹل شمولیت اس درجے تک پہنچا دے، جہاں ان کی ساری سپلائی کی سرگرمیاں ڈیجیٹل
مزید پڑھیے


ریڑھی بان بمقابلہ دکاندار

اتوار 21  اگست 2022ء
ضیا بانڈے
راقم کچھ سالوں سے پاکستان میں ریڑھی بانوں کے حالات اور اس میں بہتری کے لیے تحقیق اور فعالیت پسندی پر مبنی کام کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں ملک کے مختلف شہروں میں جہاں ریڑھی بانوں سے زمینی حقائق سے آگاہی کے لیے ملاقاتیں ہوتی رہی، وہاں پر بازاروں میں دکانداروں سے ریڑھی بانوں کی موجودگی کے بارے میں بھی تبادلہ خیال ہوا۔ یہ دکانداروں سے بات چیت اس لیے بھی اہم ہے، کیونکہ پاکستان کے شہروں میں ریڑھی بانوں کی بڑی اکثریت انہی دکانداروں کی دکانوں کے آگے اپنی ریڑھی یا اسٹال لگا کر کام کرتے ہیں۔ اب
مزید پڑھیے


انجمن ِ ریڑھی بان۔ ایک نئی شروعات

منگل 16  اگست 2022ء
ضیا بانڈے
نومبر 2002 میں جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں اسٹریٹ نیٹ کے نام سے ریڑھی بانوں کے لیے ایک نئی عالمی تنظیم کی بنیاد رکھی گئی۔ اس اساس کے پیچھے دنیا کے مختلف ممالک میں ریڑھی بانوں کی مقامی تنظیموں کے درمیان مسلسل تعاون اور اشتراک پر مبنی کئی سالوں کی جدوجہد تھی۔ دنیا بھر کے ریڑھی بانوں کی مشترکہ تکالیف میں پولیس کی ہراسگی، آئے دن کی بیدخلیاں اور حکومتوں کی طرف سے ان کی حیثیت کو تسلیم نہ کرنا شامل ہیں۔ اسٹریٹ نیٹ کے بانیان نے ریڑھی بانوں کے روزگار کے سلسلے کے اس عدم تحفظ کے تسلسل
مزید پڑھیے


ترقی پسند بیانیہ اور غربت

منگل 02  اگست 2022ء
ضیا بانڈے
اس کالم کے لیے ہم نے نو ایسی ترقی پزیر معیشتوں کا جائزہ لیا، جن کی معیشت کا معدنی وسائل پر بڑا دارومدار نہ ہو، جن کی آبادی پانچ کروڑ سے زیادہ ہو اور جہاں مسابقتی جمہوریت رائج ہو۔ان چیدہ معیشتوں میں برازیل، ترکی، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، فلپائن، ہندوستان، بنگلہ دیش، کینیا اور پاکستان شامل ہیں۔آئی ایم ایف کے ڈیٹا کے مطابق ان ممالک کی اوسطََ سالانہ فی کس مجموعی قومی پیداوار4577 ڈالر ہے، برازیل 8570 ڈالر کے ساتھ ان معیشتوں میں سرفہرست ہے اور پاکستان رینکنگ میں1562 ڈالر کے ساتھ سب سے نیچے ہے۔ان نو ممالک کا ورلڈ بینک
مزید پڑھیے








اہم خبریں