BN

ضیا بانڈے


بیوپار میں غریب کی ڈیجیٹل شمولیت


نومبر 2017 میں تین انڈونیشی نوجوانوں نے جکارتہ میں ایک مائیکرو ریٹیل ٹیکنالوجی کمپنی کی بنیاد رکھی۔ اس نئے اسٹارٹ اپ کا نام ’ورونگ پنتار‘ تھا، جس کا انڈونیشی زبان میں مطلب اسمارٹ کھوکھا ہے۔ ورونگ پنتار کی ٹارگٹ مارکیٹ انڈونیشیابھر میں موجود 30 لاکھ سے زائد وہ کھوکھا اور ریڑھی والے تھے، جو اکیسویں صدی میں بھی پرانے طرز میں کاروباری لین دین اور نچلے درجے پر پرچون کا کام کررہے تھے۔ کمپنی کے بانیان کا وژن یہ تھا کہ انڈونیشی کھوکھے والوں کی ڈیجیٹل شمولیت اس درجے تک پہنچا دے، جہاں ان کی ساری سپلائی کی سرگرمیاں ڈیجیٹل
منگل 30  اگست 2022ء مزید پڑھیے

ریڑھی بان بمقابلہ دکاندار

اتوار 21  اگست 2022ء
ضیا بانڈے
راقم کچھ سالوں سے پاکستان میں ریڑھی بانوں کے حالات اور اس میں بہتری کے لیے تحقیق اور فعالیت پسندی پر مبنی کام کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں ملک کے مختلف شہروں میں جہاں ریڑھی بانوں سے زمینی حقائق سے آگاہی کے لیے ملاقاتیں ہوتی رہی، وہاں پر بازاروں میں دکانداروں سے ریڑھی بانوں کی موجودگی کے بارے میں بھی تبادلہ خیال ہوا۔ یہ دکانداروں سے بات چیت اس لیے بھی اہم ہے، کیونکہ پاکستان کے شہروں میں ریڑھی بانوں کی بڑی اکثریت انہی دکانداروں کی دکانوں کے آگے اپنی ریڑھی یا اسٹال لگا کر کام کرتے ہیں۔ اب
مزید پڑھیے


انجمن ِ ریڑھی بان۔ ایک نئی شروعات

منگل 16  اگست 2022ء
ضیا بانڈے
نومبر 2002 میں جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں اسٹریٹ نیٹ کے نام سے ریڑھی بانوں کے لیے ایک نئی عالمی تنظیم کی بنیاد رکھی گئی۔ اس اساس کے پیچھے دنیا کے مختلف ممالک میں ریڑھی بانوں کی مقامی تنظیموں کے درمیان مسلسل تعاون اور اشتراک پر مبنی کئی سالوں کی جدوجہد تھی۔ دنیا بھر کے ریڑھی بانوں کی مشترکہ تکالیف میں پولیس کی ہراسگی، آئے دن کی بیدخلیاں اور حکومتوں کی طرف سے ان کی حیثیت کو تسلیم نہ کرنا شامل ہیں۔ اسٹریٹ نیٹ کے بانیان نے ریڑھی بانوں کے روزگار کے سلسلے کے اس عدم تحفظ کے تسلسل
مزید پڑھیے


ترقی پسند بیانیہ اور غربت

منگل 02  اگست 2022ء
ضیا بانڈے
اس کالم کے لیے ہم نے نو ایسی ترقی پزیر معیشتوں کا جائزہ لیا، جن کی معیشت کا معدنی وسائل پر بڑا دارومدار نہ ہو، جن کی آبادی پانچ کروڑ سے زیادہ ہو اور جہاں مسابقتی جمہوریت رائج ہو۔ان چیدہ معیشتوں میں برازیل، ترکی، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، فلپائن، ہندوستان، بنگلہ دیش، کینیا اور پاکستان شامل ہیں۔آئی ایم ایف کے ڈیٹا کے مطابق ان ممالک کی اوسطََ سالانہ فی کس مجموعی قومی پیداوار4577 ڈالر ہے، برازیل 8570 ڈالر کے ساتھ ان معیشتوں میں سرفہرست ہے اور پاکستان رینکنگ میں1562 ڈالر کے ساتھ سب سے نیچے ہے۔ان نو ممالک کا ورلڈ بینک
مزید پڑھیے


شہروں کے ماسٹر پلان اور ریڑھی بان

هفته 30 جولائی 2022ء
ضیا بانڈے
ساڑھے سولہ لاکھ کی آبادی کے ساتھ سیمارنگ انڈونیشیا کا نواں بڑا شہر ہے۔ یہ شہر انڈونیشیا کے اہم تجارتی اور سیاحتی مراکز میں شما رکیا جاتا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا کی علاقائی تنظیم آسیان نے سیمارنگ کو 2020 میں خطے کے سب سے صاف سیاحتی شہر کا اعزاز دیا تھا۔ سیمارنگ کی سالانہ مجموعی قومی پیداوار 14.4ارب ڈالر ہے، جو کہ فی کس بنیاد پر 8665 ڈالر بنتی ہے۔ شہر کی بلدیہ کے اعداد و شمار کے مطابق سیمارنگ میں ریڑھی بانوں کی تعداد چودہ ہزار کے لگ بھگ ہے، جن میں سے تقریباََ دس ہزار ریڑھی بانوں کے
مزید پڑھیے



خواتین کی ریڑھی معیشت میں شرکت

هفته 16 جولائی 2022ء
ضیا بانڈے
حال ہی میں ورلڈ اکنامک فورم نے اپنی بین الاقوامی صنفی مساوات انڈیکس پر رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان اپنی خواتین کو مساوات مہیا کرنے کی درجہ بندی پر 146 ممالک میں 145 نمبر پر ہے۔ اس فہرست میں صرف افغانستان ہم سے نیچے درجہ پر ہے، جس کے موجودہ حالات دیکھتے ہوئے یہ لگتا تو نہیں ہے کہ وہ ہمیں صنفی مساوات میں پچھاڑ سکے۔مگرپاکستان کو اس میدان میں آگے جانے کے لییافریقی اور دیگر کم آمدنی والے مسلم ممالک سے سخت مسابقت کا سامنا رہے گا۔ ورلڈ اکنامک فورم نے اس انڈیکس کو چار
مزید پڑھیے


بینکرو !غریب کو عزت دو

بدھ 06 جولائی 2022ء
ضیا بانڈے
ورلڈ بینک کے مالی شمولیت کے اعدادوشمار کے مطابق سال 2021 میں پاکستان کے مالی اداروں نے ملک کی %40 غریب ترین آبادی کے محض %3.3 افراد کو کوئی مالی قرضہ دیا۔ جبکہ یہی شرح چین میں %38.9، ترکی میں %24.4، بنگلہ دیش میں %16.8، انڈونیشیا میں %16.7، ہندوستان میں %10.5 اور کم درمیانی آمدنی والے ممالک میں %11.9 ہیں۔ اگر ہم ملکوں کی %40 غریب ترین آبادی کے دیگر مالی شمولیت کے اشارات کا جائزہ لے، جیسے کہ بینک اکائونٹ، ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ، موبائل منی اکائونٹ، بینکوں سے رقومات کی ترسیل یا بینکوں میں بچتیں جمع کرنے
مزید پڑھیے


غیر رسمی معیشت اور غریب کا بیوپار

بدھ 29 جون 2022ء
ضیا بانڈے
نجی شعبہ سرمایہ دارانہ نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ملکی معیشت کی اٹھان میں سرکاری شعبے کے مقابلے میں نجی شعبہ عمومی طور پر سرمایہ کاری کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں زیادہ موثررہتا ہے۔ پاکستان کی مجموعی داخلی پیداوار میں نجی شعبے کا حصہ 60 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ سالانہ معاشی جائزے کے اعدادوشمار کے مطابق سال 2021 میں پاکستان کے 9 کھرب روپے کے مجموعی تشکیل سرمائے میں تین چوتھائی حصہ نجی شعبے کا ہے اور مجموعی کھپت میںیہ حصہ 80 فیصد تک چلا جاتا ہے۔ اب یہ حقیقت تو واضح
مزید پڑھیے


اسٹریٹجک پالیسیاں اور غریب کا روزگار

هفته 18 جون 2022ء
ضیا بانڈے
سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کے مطابق ہمارے تارکین وطن کی تعداد 90 لاکھ کے قریب ہے۔ اگر ان تارکین وطن کو پاکستان کی آبادی کا حصہ بنایا جائے،تو ملک کی کل آبادی کا 4 فیصد بنتا ہے۔اور ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے حساب سے پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ 112 ممالک میں 109 نمبر پر ہے۔ہم سے نیچے شام،عراق اور افغانستان ہیں، جبکہ جنگ سے متاثر صومالیہ اور یمن کے پاسپورٹوں کی رینکنگ ہم سے بہتر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کی مقامی 96 فیصد آبادی کے لیے بیرون ملک قانونی طور پر روزگار کے مواقعوں میں کمی
مزید پڑھیے


ریڑھی معیشت پر ایک نظر

پیر 13 جون 2022ء
ضیا بانڈے

بائیس کروڑ آبادی کے ساتھ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا اور کم آمدنی والا ملک ہے۔ اس کی۴۲فیصد بالغ آبادی  نا خواندہ  ہے۔ اور اگر اس تعداد کو کم پڑھے لکھے اور ہنر مند افراد کے ساتھ ملائے جائے، تو ملک پر روزگار کی فراہمی کے دباؤ کی خوفناک تصویر ابھرتی ہے۔  اس صورت
مزید پڑھیے








اہم خبریں