BN

سینیٹر(ر)طارق چوہدری


سنتا جا، شرماتا جا


گیارہ اکتوبر کے کالم پر اولین تبصرہ پروفیسر محی الدین اور راؤ خالد کی طرف سے آیا، حسن اتفاق کہ دونوں حضرات اخبارات کی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں، راؤ خالد اس زمانے میں اپنے اخبار کے لیے پارلیمنٹ کی سرگرمیوں پر رپورٹنگ کیا کرتے تھے۔آج کل روزنامہ 92کے ایڈیٹر ہیںاور بڑے جاندار کالم بھی لکھا کرتے ہیں۔راؤ صاحب سینیٹ کی پریس گیلری میں اس وقت موجود تھے جب نواز شریف کے ساتھ ایک جھڑپ کے بعد یہ کہانی سنائی تو نواز شریف کے ردّ عمل کا ذکر کرکے محظوظ ہوتے رہے۔ پروفیسر محی الدین ہفتہ روزہ رسائل کے لیے
اتوار 25 اکتوبر 2020ء

حکومت ہٹاؤ اتحاد

اتوار 11 اکتوبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
پاکستان میں حکومت مخالف سیاسی اتحا د اور تحریکوں کی طویل تاریخ ہے، ان میں صرف دو تحریکیں حکومت ہٹانے کی کوششوں میں کامیاب ہوئیں، لیکن ان کی کامیابی اس لحاظ سے نامکمل رہی کہ یہ اتحاد متبادل حکومت نہ بن سکے اور دونوں دفعہ تحریکوں کا نتیجہ طویل مارشل لاء کی صورت میں نکلا، دونوں تحریکوں کے لیے اتحاد بنانے کا سہرا نوابزادہ نصراللہ خان کے سر تھا، حکومت مخالف تحریک چلانے والی اجتماع قیادت کا ذاتی کردار اجلا اور شکوک وشبہات سے بالاتر تھا، ان تحاریک میں اگرچہ بہت ساری سیاسی مذہبی سوشلسٹ اور قوم پرست خیالات ونظریات
مزید پڑھیے


’’جس پر احسان کرو، اس کے شر سے بچو‘‘

اتوار 04 اکتوبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
میاں نواز شریف اور ان کا خاندان موجودہ قیادت عسکری ہو یا سیاسی ، اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، یہ بات پورے وثوق سے اس لیے کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کی اس قیادت نے میاں صاحب پر کوئی احسان نہیں کیا جو ان کا محسن نہیں اس کے لیے یہ بے ضرر ہیں، اس حوالے سے آنکھوں دیکھی ، کانوں سنی، نذرِ قارئین ہے، محمد خان جونیجو نئے نئے وزیراعظم بنے تھے ، میاں نواز شریف وزیراعلیٰ پنجاب۔ قومی اسمبلی کے ابتدائی اجلاس میں مارشل لاء کے خلاف حاجی سیف اللہ نے تحریک استحقاق پیش کردی، قومی اسمبلی
مزید پڑھیے


آپ کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں!

اتوار 27  ستمبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
فوجی امور کے ماہر امریکی مصنف نے لکھا آئی ایس آئی نام کی پاکستانی خفیہ ایجنسی کم از کم اخراجات کے ساتھ دنیا کی بہترین اور طاقتور ایجنسی ہے۔دنیا بھر میں اس کے دس ہزار کارندے کام کرتے ہیں۔ اجنبی سرزمین پر اس کا کوئی ایجنٹ کبھی نہیں پکڑا گیا۔القاعدہ کی گرفتاری اسی کا کارنامہ ہے۔1979ء سے 1989ء تک دس برس میں پاکستان اور افغانستان میں اس نے روسیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس کی ہوشیاری اور تیزی کا یہ عالم ہے کہ امریکیوں سے افغانستان میں روسیوں کے خلاف وسیع تعاون حاصل کرنے کے باوجود امریکی ایجنٹوں کو
مزید پڑھیے


شجاعت حسین ،پرویز الٰہی ’’مل بیٹھیں تو دو گیارہ‘‘

اتوار 20  ستمبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
یقینا پرویز الٰہی قومی سطح پر بڑے کردار کی تیاری کررہے ہیں، یہ سوتے میں آیا خواب ہے، نہ اچانک ابھرنے والا خیال، بھان متی کا کنبہ جو نواب زادہ نصراللہ خان ہر حکومت کے خلاف جمع کیا کرتے تھے، اب اس کا قرعہ چوہدری برادارن کے نام نکلاہے۔ الیکشن 2018ء سے چند دن پہلے ہارون رشید کے ہمراہ پرویز الٰہی شجاعت حسین کے گھر ہم چاروں کھانے پر تھے، تب ان سے عرض کیا کہ آپ کی قومی سیاست میں بڑے کردار کا آغاز ہونے والا ہے،یہ سن کر وہ تھوڑا جھجکے، شرمائے اور کہا، نہیں، ہم عمران خان کے
مزید پڑھیے



سیاسی خلاء

اتوار 13  ستمبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
زرداری صاحب کی حکومت تھی‘ جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا‘ ڈاکٹر صاحب کا پیغام ملا ، ان سے ملنے اسلام آباد پہنچے ،تو ان کی رہائش گاہ کو گھیرے‘ سکیورٹی اور انٹیلی جنس کے اہلکاروں کے خشک اور ڈرائونے طرز عمل سے گزر کر بروقت ان سے ملنے کی اجازت ہوئی۔ حاجی اسلم اور بڑے بھائی خالد ہمراہ تھے‘ گھر میں ان کے ملازم کے علاوہ ایک لنگڑا بندر نظر آیا، جو سوئمنگ پول میں تن تنہا تیراکی کی مشق کر رہا تھا۔ اس معذوری کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے شاید اسے گود
مزید پڑھیے