BN

سینیٹر(ر)طارق چوہدری


رئوف طاہر


4جنوری پیر کے دن مشتاق صاحب کا فون آیا۔ سلام دعا کئے بغیر کہا‘ ایک افسوسناک خبر ہے۔ کیا ہوا؟ رئوف طاہر انتقال کر گئے۔ ایک دھچکا زور دار بدن سے روح تک، پورے وجود میں درد کی لہر اٹھی۔ مرد حضرات میں ایک بڑی خرابی ہے‘ شریک حیات پہلے رخصت ہو جائے تو جنرل حمید گل اجلال حیدر زیدی اور رئوف طاہر کی طرح اس کی جدائی زیادہ دن سہہ نہیں پاتے۔ جبکہ بیویاں شوہر کے بعد اپنے بچوں‘ پوتے‘ پوتیوں‘ نواسے ‘ نواسیوں کے سہارے ‘ برسوں بعض اوقات عشروں جئے جاتی ہیں، ویسے بھی جو سن وسال
اتوار 10 جنوری 2021ء

یہاں سے وہاں تک

اتوار 03 جنوری 2021ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
بچپن تیزی سے گزرا ، سکول ، کالج ، یونیورسٹی سے ہوتے ہوئے پارلیمنٹ میں آپہنچے، نئے لوگوں سے ملاقاتیں ، تعلقات ، دوستیاں ۔ فخر امام قومی اسمبلی کے اسپیکر بنے ، ان کی طرف سے برطانوی پارلیمانی روایات کی پیروی اور قانون پر عملداری پر اصرار ، جونیجو حکومت کو زیادہ پسند نہ آیا اور انہیں اسپیکر کے عہدہ سے ہٹانے کے لیے تحریکِ عدم اعتماد پیش کردی گئی۔ اس تحریک کو ناکام بنانے کی ناکام کوشش کے لیے ممبران اسمبلی کے گھروں میں جانے کا قصد ہوا۔ بیگم عابدہ حسین ، جاوید ہاشمی اور دیگر ممبران پارلیمنٹ
مزید پڑھیے


تاریخ کی گواہی

اتوار 27 دسمبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
قوم پرست سیاست دان‘ فوجی ماہرین، دفاعی تجزیہ کار، اخبارات کے کالم نویس ،ٹیلی ویژن کے میزبان، جنگ میں فتح یابی کے لئے تین چیزوں کا بکثرت حوالہ دیتے ہیں۔ ایک معاشی خوشحالی جس میں جنگ جاری رکھنے کی سکت ہو۔ دوسرے فوج کی تعداد اور تربیت۔ تیسرے اسلحہ کی مقدار اور جدت ۔ان نام نہاد ماہرین کے تبصروں میں جنگ کی حکمت عملی میدان میں لڑنے والے جوانوں کے عزم اور قوم کے اٹل ارادوں کا کوئی ذکر ہے نہ تاریخ کا مستند حوالہ۔ دیو مالائی داستانوں ‘ عقیدت مندوں کی مبالغہ آمیزیوں سے جدید تاریخ کے تحقیق شدہ حقائق
مزید پڑھیے


’’ اچکزئی نے سچ کہا ‘‘

اتوار 20 دسمبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
محمود خان اچکزئی کی اقبال پارک لاہور میں مینار پاکستان کے زیرِ سایہ کی گئی تقریر غیر متعلق نہیں تھی، اچکزئی صاحب نے ہنستے مسکراتے ہوئے طنز کرنے اور طعنہ زنی میں بڑے طاق ہیں، وہ جلسہ گاہ میں ہوں یا پارلیمنٹ کی ایوان میں، یہ ان کا مخصوص انداز ہے، برسوں پہلے جماعت اسلامی نے اسلام آباد میں سیاسی جماعتوں کی کانفرنس طلب کی تھی، لیاقت بلوچ نئے نئے جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے تھے وہاں انہوں نے یوں ہی مسکراتے ہوئے انہیں آئی ایس آئی انتخاب قرار دے دیا تھا، تب سارے شرکاء زہر یلی مسکراہٹ
مزید پڑھیے


’’ کس کا دباؤ؟ ‘‘

اتوار 13 دسمبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
مار ڈالے گی مجھے عافیتِ کنج چمن جوشِ پرواز کہاں جب کوئی صیاد نہ ہو گزشتہ دنوں نامعلوم اور فرضی دباؤ کا سہارا لے کر پھر ایک مرتبہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے مہم چلائی گئی، لطف کی بات یہ ہے کہ مہم کے سرغنہ اور کارندے وہی لوگ ہیں جو عوامی رائے اور جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹا کرتے ہیں، لیکن غیر ملکی آقاؤں کے اشارے اور ذاتی مفاد کیلئے ایسے شوشے چھوڑنے سے باز نہیں رہتے اور حکومت کو ان فیصلوں کی ترغیب دینے کیلئے دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عام لوگوں کی رائے 99 فیصد اسرائیل کو تسلیم کرنے
مزید پڑھیے



’’ آزمائش ‘‘

اتوار 06 دسمبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
جہاں ہم ہیں وہاں دار ورسن کی آزمائش ہے عظیم الشان مرزا غالب کا یہ مصرعہ کالج کے زمانے سے طالب علم کو حیران اور مسحور رکھتا ہے، چھوٹے سے اس مصرعے میں خیال ،معانی اور فکر وفلسفہ کی لامحدود دنیا آباد ہے۔ اسلامی تصوف کے دورِ اول میں صوفیوں کے قافلے کے تین رہنما بیک وقت ،ایک شہر ایک جگہ اکٹھے ہوگئے ، دل کے رازوں کو جاننے ، خیالات کو پڑھنے اور باطن میں جھانکنے والے ایک دوسرے کی نیت اور مقدر پر نظر ڈالتے ہوئے یوں ٹکرائے جو بجلی کے گرڈ اسٹیشن سے نکلی ہوئی موٹی اور
مزید پڑھیے


’’جنگ ناگزیر ہے‘‘

اتوار 29 نومبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
جنگ ہی مسئلوں کا حل نہیں مگر جنگ بھی مسئلے کا حل ہے۔ کوئی جنگ دوسروں پر ظلم ڈھانے اور ان کے ملک ومال ہتھیانے کے لیے لڑی جاتی، کسی کے لیے یہ اپنے دفاع اور حفاظت کا ناگزیر مسئلہ ہے، کبھی یہ اپنی عزت ووقار اور ناموس کی حفاظت کے لیے فرض ہوجاتی ہے، کبھی پرانی شکست کا بدلہ چکانے کے بعد قوم کے لیے فخر اور تسکین کا باعث بنتی ہے، وطن کے ایک حصے کو دشمن کے قبضے سے چھڑانے ، مقبوضہ خطے کے بہن ، بھائیوں کی عزت وناموس آزادی اور پاکستان کے دفاع کے تقاضے
مزید پڑھیے


’’پاکستان ، امریکہ یا روس‘‘

اتوار 22 نومبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
بین الاقوامی تعلقات میں دفاع یا دشمن سر زمینوں پر قبضے کی خواہش پہلا مقصد ہے ، تجارت اورمعاشی فوائد بعد کی باتیں بعد میں ہیں، پاکستان کو مشرق میں بھارت اور مغرب میں روس سے خطرہ در پیش تھا، اس خطرے نے 1970ء میں عملی شکل اختیار کرلی ، جب اندرا گاندھی کے دورۂ ماسکو میں دفاعی معاہدہ طے پایا، یہ دفاعی معاہدہ امریکہ کے خلاف تھا نہ چین کے، بلکہ یہ پاکستان کے حصے بخرے کرنے کی دستاویز تھی، ان خطرات کی پیش بینی کرتے ہوئے ہماری قیادت نے امریکہ کا اتحادی بننا قبول کیا، اولاً امریکہ اپنے
مزید پڑھیے


’’پاکستان،امریکہ یاروس‘‘

اتوار 15 نومبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
قیام پاکستان کے وقت برطانوی ہندوستان میں صنعتی ترقی اور اقتصادی،معاشی،تجارتی محور کے علاقے بھارت کے حصے میں آئے،مسلمانوں کے اکثریت والے علاقے جو پاکستان کے حصے میں آئے وہ صنعت، تجارت،زراعت،ہنر کے اعتبار سے سو سالہ برطانوی اقتدار میں بہت پیچھے رہ گئے تھے،برطانیہ نے مسلمانوں سے اقتدار چھینا تھا،قدرتی طور پر وہ انہیں اپنا حریف خیال کرتا تھا اور مسلمان بھی ان سے خار کھاتے اور ان کے طور اطوار قبول کرنے کو تیار نہ تھے، مسلمانوں کے مقابلے میں ہندو اکثریت کی غیر مشروط حمایت انگریزوں کو حاصل تھی،چنانچہ ہندو اکثریت والے خطوں کی تعمیر وترقی،تعلیم وہنر
مزید پڑھیے


’’توہین رسالت گوارا نہیں‘‘

اتوار 08 نومبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
توہین مذہب و رسالت مسلمانوں کے نزدیک صرف شرارت نہیں ہے‘ یہ ایسی شرانگیزی اور فساد فی الارض ہے جو کرہ ارض کو خون میں نہلا اور جلا کر راکھ کر دے گا۔ فرانس کے صدر نے توہین آمیز خاکوں کے بارے تعصب کا اظہار کر کے پوری امت مسلمہ کو افسردہ اور اس کے نوجوانوں کو مشتعل کر دیا ہے‘ عبداللہ کی شہادت رائیگاں ہے نہ عمران خان‘ طیب اردگان اور مہاتیر محمد کی آواز صدا بصحرا۔ ان کی آواز دور تک اور غور سے سنی جا رہی ہے اور دوسری طرف سے بڑا حوصلہ افزا جواب آیا ہے
مزید پڑھیے