Common frontend top

سینیٹر(ر)طارق چوہدری


ہارن کھیڈ فقیرا


ایک شخص وہ ایک مبارک گھڑی میں نہیں معلوم کیسا مقدر لے کر پیدا ہوا اس کے خلاف طوفان اٹھے‘ آندھیاں چلیں‘ زلزلے آئے‘ بادوباراں نے گھیرا‘ اک زمانہ‘ زمانے کے سارے شاعر‘ طاقتور ‘ مقتدر اسے حرف غلط کی طرح مٹا دینے کے جتن کرتے رہے لیکن وہ ہر رات ماہ کامل اور ہر دن بیچ دوپہر بن بادل کے آسمان پر سورج کی طرح چمکتا رہا‘ چمکتا ہی رہا‘ تاریخ کی ورق گردانی ہمارا بچپن سے شغل رہا ہے‘ سماجیات پر بھی نظر ڈالی، سیاسیات میں ماسٹر کر کے دیکھ لیا‘ مشاہیر کی آب بیتیاں پڑھیں‘ مشہور فاتحین‘
اتوار 19 مئی 2024ء مزید پڑھیے

عروج ہے زوال کا

اتوار 10 مارچ 2024ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
آج کل مشرقی قوال اور مغربی گلوکار ایک ہی راگ الاپ رہے ہیں‘ وہ ہے مفاہمت‘ حکومت ‘مفاہمت اسٹیبلشمنٹ کے فیصلوں پر مفاہمت، الیکشن کمیشن کی دھاندلی پر مفاہمت‘ انصاف کے قتل پر مفاہمت‘ پولیس کی بربریت پر مفاہمت‘ تحریک انصاف کے معصوم اور پرامن مقتولین کے خون پر مفاہمت‘ جبر ‘ تشدد‘ زور ‘ زبردستی سے ٹھونسی گئی جرائم پیشہ سیاستدانوں سے مفاہمت‘ امانتوں کی لوٹ پر مفاہمت‘ پوری کی پوری پچیس کروڑ لوگوں کی امیدوں اور آرزوئوں کی پامالی پر مفاہمت‘ سیاسی بحران پیدا کرنے والے‘ معاشی بدحالی اور تباہی کے ذمہ داروں سے مفاہمت‘ مفاہمت‘ مفاہمت ۔آخر
مزید پڑھیے


حیرت سے تک رہا ہے جہانِ وفا مجھے

اتوار 18 فروری 2024ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
آج جب یہ کالم لکھنا شروع کرنے والا تھا ‘ تین ٹیلی فون کالیں سنیں پہلی جواں سال دوست میاں اویس کی تھی‘ دوسری دیرینہ دوست ہر موسم ہر حالت کے جانے پہچانے جمیل احسن گِل کی اور تیسری پشاور سے خالد بھائی کے دوست جمال شاہ صاحب کی جو خالد بھائی سے ہوتے ہوئے گویا ہمارے گھرانے کا حصہ ہیں‘ یہ کالم ان تینوں سے ہونے والی بات چیت کا اختصاریہ سمجھئے۔ساری باتیں قیدی نمبر 804کے گرد گھوم رہی تھیں‘ عمران خان نے بھی کیا قسمت پائی ہے، جو بھی اس کے ساتھ جڑ گیا، وہ عارضی ہو یا
مزید پڑھیے


تحریک انصاف یا پیپلز پارٹی

منگل 13 فروری 2024ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
الیکشن سے ایک دن پہلے یعنی سات فروری بروز بدھ دو مقامی اخبارات کے دفتر میں جانا ہوا‘ دونوں کے مالکان سے ملاقات رہی دونوں جگہوں پر ایک سے سوال تھے تو ظاہر ہے کہ جواب بھی ایک سے رہے ہونگے۔غازی عبدالرشید صاحب کا اخبار ’’ڈیلی بزنس رپورٹ‘‘ غازی صاحب کے بعد ان کے جواں سال نواسے ’’ہمایوں طارق‘‘ کی نگرانی میں شائع ہوتا ہے اس اخبار کو فیصل آباد کا سب سے بااثر اور اشاعت میں نمبر ایک مانا جاتا ہے ۔دوسرا ’’ڈیلی یارن‘‘ حاجی اسلم صاحب شائع کرتے ہیں‘ جو دو ٹیکسٹائل ملوں کے مالک بھی ہیں۔حاجی صاحب
مزید پڑھیے


توشب آفریدی‘ چراغ آفریدم

اتوار 11 فروری 2024ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
قرآن کریم سورہ سبا میں اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت سلیمان علیہ السلام کی موت کا واقعہ بیان فرمایا ہے کہ جس وقت حضرت سلیمانؑ کی وفات ہوئی وہ اپنے مسخر جنوں کے کام کی نگرانی کر رہے تھے لیکن جنات کو ان کی موت کی خبر نہیں ہوئی‘ وہ بدستور حضرت کو نگران دیکھ کر اپنی بیگار میں جتے رہے۔ حضرت سلیمانؑ اپنے اہم کاموں کی نگرانی‘ خصوصاً جو جنات کے ہاتھوں انجام پاتے‘ بنفسِ نفیس کیا کرتے تھے۔ چنانچہ وہ اپنے عصا کی ٹیک لگائے ہوئے کسی تعمیری کام کی نگرانی کر رہے تھے کہ اسی اثناء میں
مزید پڑھیے



اک بہادر آدمی

اتوار 04 فروری 2024ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
افسوس صد افسوس داستان کہنا سیکھا نہ کہانی لکھنا آئی‘ اگر اس فن میں طاق ہوتا تو پہلے پہل ’’اک بہادر آدمی‘‘ کی داستان سناتا۔ قبیلوں‘ قوموں کے کروڑوں افراد کی ہزاروں برس کی زندگی اور کوہ در کوہ پھیلی سرزمینوں میں کوئی ایک خوش بخت نکل کے آتا ہے جسے اس کی قوم بے ساختہ ’’خاص لقب یا صفت‘‘ سے منسوب کرتی ہے جو سینکڑوں برس تک اسی ایک شخصیت کے لئے مخصوص ہو کے رہ جاتی ہے‘ ایسے چنیدہ اور خوش قسمت لوگوں میں ایک نام ‘‘جاوید ہاشمی‘‘ کا ہے‘ جسے اٹھتی جوانی اور ڈھلتی عمر کے دونوں
مزید پڑھیے


اک چھِکے‘ اک چھڈی جاوے

بدھ 24 جنوری 2024ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
جو ازل سے دوست ہمسائے اور رشتہ دار بھی ہیں، اگر ان کے مابین کشیدگی پیدا ہو کر بات دھینگا مشتی تک آ جائے تو یہ مخلص احباب کے لئے تشویش اور فکر مندی کی بات ہے نہ کہ جلتی پر تیل ڈالنے کا موقع‘ ایران اور پاکستان صرف ہمسایہ ہی نہیں صدیوں سے گہرے رشتوں میں بندھے دکھ سکھ کے دوست ہیں ہم پاکستانی بڑی حد تک ایران کے زیر احسان بھی ہیں‘ پاکستان‘ بھارت کے درمیان دونوں بڑی جنگوں کے دوران ایران ہمارے لئے ’’تزویراتی گہرائی‘‘ بھی تھا خصوصاً 1971ء کی جنگ جب پاکستان کے مدہوش حکمران جو
مزید پڑھیے


لائل پور

اتوار 10 دسمبر 2023ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
ازمنہ قدیم سے ہجرت کر کے آنے والے قافلوں نے کنارِ دریا ڈیرے ڈالے کہ پانی ’’آب حیات‘‘ ہے، انیسویں صدی کے اواخر میں مغربی پنجاب میں لاکھوں ایکڑ زیر کاشت لانے کی تشکیل ہوئی۔ جس کے خالق بلا شبہ نابغۂ روزگار تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ روئے زمین پر کم خطے وادیٔ سندھ ایسے بار آور ہونگے جہاں معاون دریائوں کا مہتمم بالشان جال بچھا ہو اور ان دریائوں پر بیراج بنانا‘ پشتے باندھنا یا ان کا رخ بدلنا ممکن ہو۔ راوی اور چناب کا درمیانی علاقہ رچنا دوآب کہلایا،جس کے زیریںِ حصے میں لائل پور اور متصل اضلاع
مزید پڑھیے


گاہے، گاہے باز خواں، ایں قصۂ پارینہ را

پیر 27 نومبر 2023ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
آزادی ملنے کے دس بارہ برس کے بعد ایک ہندوستانی انجینئر نے ستلج ویلی پروجیکٹ کی انہار پر ایک کتاب لکھی۔ اس میں ضمناً ذکر تھا کہ بٹوارے کے وقت ضلع فیروز پور کے غیر مسلم ڈپٹی کمشنر کو تبادلے کا حکم مل چکا تھا۔ فیروز پور اور زیرہ کی تحصیلوں میں مسلمان اکثریت میں تھے۔ اس بنا پر یہ علاقہ پاکستان کا حصہ ہوتا تھا۔ مہاراجہ بیکایز کو یہ خبر ملی تو اس نے پنڈت نہرو کو متنبہ کیا کہ اس صورت میں لامحالہ ریاست کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہو گا کہ ریاست کا نظام آبپاشی ستلج ہیڈورکس
مزید پڑھیے


مشکل ترین لوگ!

اتوار 05 نومبر 2023ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
شیخو پورہ سے تعلق رکھنے والے شاعر’’امین گیلانی‘‘ نے کہا تھا: روتے ہیں بہت حادثہ کرب و بلا پر ہو حشر اگر اب بھی بپا‘ ساتھ نہ دیں گے! غزہ میں محبوس فلسطینی مسلمانوں کے بچے قاش بہ قاش کٹ کٹ کر گر رہے ہیں۔ پاک باز عصمتیں خون میں نہائی رزقِ خاک ہوئی جاتی ہیں‘ کہنے کو 57مسلمان ریاستیں ہیں۔ جہاں قبرستان کی سی خاموشی ہے کوئی آہ و بکا کرنے والا بھی نہیں ہے‘ ہاں اگر کہیں معصوموں کی بے بسی پر چیخ و پکار اٹھی‘ سینہ کوبی کی گئی وہ بھی قاتلوں کے خاندانوں کے اندر سے باضمیروں کی آواز
مزید پڑھیے








اہم خبریں