Common frontend top

BN

سینیٹر(ر)طارق چوہدری


انجام بھی دیکھو گے


آغاز سے واقف ہو‘انجام بھی دیکھو گے جس مرض کی آپ صحیح تشخیص نہ کر سکیں، اس کا علاج تجویز کرنا ممکن ہی نہیں‘ ایسا ہی کچھ مسئلہ ہمارے قومی امراض اور مسائل کا ہے‘یہی امر مانع لکھنے لکھانے میں ہے‘ ایک مشکل یہ بھی ہے کہ مریض یا اس کے لواحقین معالج یا مسیحا کو مریض کی اصل کیفیت اور وجہ بتانے سے ڈرتے ہیں کہ معالج تند خو ہے مرض کے بڑھ جانے اور لاعلاج ہونے کی وجہ معالج خود بھی ہے جس نے ابتداء میں معمولی مرض کا بھونڈے اور غلط طریقے سے علاج کیا۔ نامناسب ادویا‘
اتوار 05 فروری 2023ء مزید پڑھیے

فواد چوہدری‘پورے اترے

جمعه 03 فروری 2023ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
اگر فواد چودھری وزیر اعلیٰ ہوتے؟ جن دنوں پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لئے گھمسان کا رن تھا‘ انہی دنوں اس عنوان کے ساتھ کالم لکھنے کا ارادہ تھا لیکن ارادہ تکمیل تک نہ پہنچا۔2018ء انتخابات کے وقت حالات غیر معمولی غور و فکر کا تقاضا کرتے تھے‘ عمران خاں کو مرکز اور پنجاب میں اگرچہ اپنے مخالفین پر برتری حاصل تھی لیکن حکومت سازی کے لئے مطلوب اکثریت نہیں تھی اس لئے انہیں بعض چھوٹے گروپوں اور آزاد ممبران اسمبلی کو ساتھ ملا کر مخلوط حکومت بنانا پڑی، اس طرح کی کمزور حکومت کے ساتھ کوئی قابل قدر کارنامہ
مزید پڑھیے


خان کی زندگی ناگزیر ہے!

اتوار 29 جنوری 2023ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
عمران خاں نہیں پاکستان خطرے میں ہے‘ عمران خاں کی جان اور ذات کو جو بھی خطرات لاحق ہیں،وہ اس لئے کہ وہ خاں پاکستان کے جانے ان جانے بدخواہوں کی راہ میں مضبوط اور فیصلہ کن مزاحمت کا نام ہے‘ اس مزاحمت کو راہ سے ہٹائے بغیر دشمنوں کے لئے مذموم مقاصد میں کامیابی ممکن نہیں‘ جب کہا جائے کہ پاکستان خطرے میں ہے‘ تو کتنے ہی قلمکار جو ہر کسی کے لئے ہمہ وقت کرائے پر دستیاب رہتے ہیں، قلم کی تلوار سونت کر میدان میں اتر آتے ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ پون صدی سے ہم یہی
مزید پڑھیے


کون ہارا؟

اتوار 15 جنوری 2023ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
یار لوگ کہتے ہیں 13 رکنی اتحاد اور چودھویں چوہدری شجاعت حسین، سب ہار گئے۔ مگر 2013ء سے 2022ء تک یہ جیتے کب تھے جو اب ہار گئے؟ 2013ء کے انتخابات میں بھی انہیں عبرتناک شکست ہوئی تھی‘ عمران خاں کی تحریک انصاف کے مقابلے میں بری طرح ہار گئے تھے مگر ریفری کی بددیانتی کی وجہ سے اعلان فتح ہارے ہوئوں کے حصے میں آیا‘ اس میدان میں تھرڈ امپائر کا کوئی وجود نہیں چنانچہ سب اپیلیں رائیگاں گئیں اور عمران خاں کو پارلیمنٹ بنچوں پر بھی چھوٹے حصے دار کے طور پر مانا گیا۔اسٹیبلشمنٹ کی پراکسی پانچ برس
مزید پڑھیے


مجاہد کے قلم سے

اتوار 08 جنوری 2023ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
ہم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ امت اسلامیہ کی موجودہ وضع اس شکست کا نتیجہ ہے‘ جس میں اسلامی خلافت کی بیخ کنی کی گئی اور مغربی طاقتوں نے اسلامی دنیا کو آپس میں بانٹ لیا اور ہر حصے پر علیحدہ علیحدہ طاقت مسلط ہو گئی‘ اس کے بعد کتنے ماہ و سال بیت گئے کہ مسلمان ذلت‘ غلامی اور محکومیت میں زندگی بسر کر رہے ہیں‘ آزادی اور خود مختاری سے محروم ہیں‘ سیاسی‘ اقتصادی اور فکری لحاظ سے استعماری طاقتوں کے غلام ہیں‘ انہوں نے اپنی کٹھ پتلی حکومتیں ان پر مسلط کی ہوئی ہیں‘ ایسے جبر اور
مزید پڑھیے



پراکسی پالیٹکس

اتوار 01 جنوری 2023ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
بچوں کی کہانیوں میں ’’گڈریا اور شیر) کی کہانی تقریباً ہر پاکستانی نے اپنے پرائمری سکول کے زمانے میں پڑھ رکھی ہے‘ گڈریئے کو گائوں کے باہر اپنی بھیڑوں کو چراتے ہوئے ایک دن شرارت سوجھتی ہے اور وہ گائوں والوں کو اپنی طرف چلا چلا کر پکارتا ہے شیر آیا‘ شیر آیا‘ گائوں کے لوگ لاٹھی‘ کلہاڑی برچھی جو کچھ ہاتھ لگا اٹھائے گڈریے کی طرف بھاگ کھڑے ہوتے ہیں کہ اسے شیر کا شکار ہونے سے بچائیں لوگ جو اسے شیر سے بچانے آئے تھے جب اس کے نزدیک پہنچتے ہیں تو گڈریا ہنس دیتا ہے اور
مزید پڑھیے


کھیل باقی ہے!

اتوار 25 دسمبر 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
وزیراعلیٰ اگر جی دار ہو تو خصوصاً پنجاب کا تو وزیراعظم پر بھاری پڑ سکتا ہے۔ غلام اسحاق خان‘ صدر پاکستان تھے‘ وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ ان کے تعلقات سرد مہری کے بعد کھلے تصادم کی طرف بڑھ رہے تھے‘ پنجاب میں بھی ان کی حکومت تھی‘ سندھ میں جام صادق وزیراعلیٰ تھے‘ جام صادق بڑھے بہادر‘ فیاض اور سیاست کے رمز شناس‘ دوستوں کے دوست‘ نوازشریف کا جارحانہ رویہ دیکھ کر وہ اس کی راہ روکنے کے تمنائی تھے‘ اگرچہ مرکزی حکومت اور پنجاب حکومت کی مجموعی سیاسی طاقت اور اہمیت کے مقابل جام کی سندھ حکومت معمولی نظر
مزید پڑھیے


پرویز الٰہی‘ مونس اور…

اتوار 18 دسمبر 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
انتخابات آج ہوں یا کل ‘ رمضان المبارک کے بعد یا آئینی مدت پوری ہونے پر‘ نتائج پر زیادہ اثر ہونے والا نہیں ہے۔صف بندی ہو چکی‘ ہر ایک نے اپنا ٹھکانہ ڈھونڈھ لیا‘ اپنا رشتہ پہچان کے اپنی منزل طے کر لی‘ نہ ہی سیاسی جماعتوں کے پاس زیادہ آپشن ہیں نہ ہی ووٹر کو سوچ بچار کرنے کی ضرورت‘ ایک طرف عمران خاں ہے‘ دوسری طرف ملک بھر کی سیاسی جماعتوں کا اتحاد‘ ووٹر کے پاس تیسرا رستہ ہے نہ فی الوقت اسٹیبلشمنٹ کے ہاں ان دو کے علاوہ کچھ ہے ‘ انہی میں سے کسی ایک کو
مزید پڑھیے


عذرِ گناہ

اتوار 11 دسمبر 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
جنگیں خطرناک ہوتی ہیں‘لہو کے دریا بہتے ہیں‘ قومیں تباہ ملک برباد آبادیاں ویران ہو جاتی ہیں‘ عورتوں کی عصمت بچوں کی زندگیاں نگل جاتی ہیں مگر کون سی جنگ سیاست سے زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے؟ ساری جنگیں مگر سیاست ہی کا شاخسانہ ہیں‘پاکستان چھوٹا ملک ہونے کے باوجود اپنے مقابلے میں بہت بڑے اور بھاری دشمنوں سے کوئی جنگ نہیں ہارا لیکن’’پاکستان میں بہادر جنگ جوئوں کی سیاست نے آدھا پاکستان ہار دیا‘‘جنگ جو اس شکست کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں، یہ انکار ایسے وقت کیا جا رہا ہے، جب باقی پاکستان بھی انہی کے ہاتھوں ایک
مزید پڑھیے


تبدیلی آ رہی ہے!

اتوار 04 دسمبر 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
پاکستان میں برپا سیاسی بحران اتنا پیچیدہ نہیں جتنی وہ طوالت اختیار کر گیا‘اگر سیاسی بحران دو سیاسی جماعتوں یا گروہوں کے درمیان ہوتا تو اب تک اس کا حل نکل آتا‘ اگر سیاسی گروہ خود حل نہ کر پاتے تو اسٹیبلشمنٹ بخوبی ثالث کا کردار ادا کر سکتی تھی، بدقسمتی سے موجودہ سیاسی بحران میں متحارب فریق دونوں سیاسی نہیں تھے‘ حکومت جس کی سربراہی عمران خان کر رہے تھے وہ فریق سیاسی تھا اور اس کے مقابلے میں بننے والا سیاسی جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم پوری طرح ناکام ہو چکا تھا تب غیر ملکی مداخلت اور
مزید پڑھیے








اہم خبریں