BN

سینیٹر(ر)طارق چوہدری


عمران خان انتظار تھوڑا اور…


نظر کی کوتاہی‘ ذہن کا افلاس کہ زاغ و زغن(کوّے ‘ چیلیں) جنہیں شاہین و عقاب دکھتے ہیں اوروں کو بھی باور کروایا لیکن تیز نظر نوجوان ان کی بوڑھی ادائوں اور سال خوردہ غمزے پر ہنستے اور ٹھٹھ کرتے رہے، نئی نئی حکومت کا پہلا پہلا دن تھا کہ اک حادثہ ہوا۔ڈالر ٹھہر گیا‘ سٹاک مارکیٹ کا رجحان مثبت رہا تو وہ پکار اٹھے جوش میں ہوش گنوا کے ’’پالیا‘ پالیا‘‘ گویا انہوں نے بھی مایہ ناز سائنس دان کی طرح کشش ثقل کی نئی جہت دریافت کر لی ہو۔ آں جناب نے مصیبت کو خود دعوت دی‘ سفارشی پروگرام‘
اتوار 19 جون 2022ء مزید پڑھیے

چار آدمی

اتوار 12 جون 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
فائونٹین ہائوس کی یہ قدیم عمارت دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے‘ ہر سُو جیسے ایک سرگوشی سنائی دیتی ہے کہ نیکی کبھی ختم نہیں ہوتی۔گنگا رام ‘ رشید چوہدری اور معراج خالد‘ تینوں معمولی کسانوں کے بیٹے تھے۔ لائل پور‘ ہوشیار پور اور لاہور وہ ماجھے کے نواحی علاقے میں پلے بڑھے نام پیدا کیا۔محنت‘ دیانت‘ انکسار کی خوبیاں پرور دگار نے انہیں بخشی تھیں۔لیکن کسے خبر تھی کہ قدرت نے کیسے کیسے کیا کیا کام ان سے لینے ہیں۔ایک انجینئر‘ ایک ڈاکٹر اور ایک سیاستدان بیوہ عورتوں کا آشرم جو گنگا رام نے بنایا اور ایک نیک دل
مزید پڑھیے


آئو آرٹیکل 6لگائو

اتوار 05 جون 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
عمران خاں نے جو کچھ بونیر کے جلسہ عام میں سرعام کہا پہلے پہل متعلقہ معتبر حلقوں کو سامنے بٹھا کر سمجھانے کی کوشش کی‘ کسی نے اس پر کان نہیں دھرے تو اس نے خواص سے مایوس ہو کر عوام میں آنے اور ان سے تعاون حاصل کرنے کا ارادہ کیا ۔ جو دل میں تھا وہ زبان پر لے آیا۔پہلے آج سے پندرہ سال پہلے پی ٹی وی پر نشر ہونے والے پرویز مشرف کے انٹرویو کا مختصر حصہ نقل کرنا چاہوں گا‘ چیف ایگزیکٹو ‘ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر‘ صدر پاکستان جو فوج کے سپہ سالار بھی تھے،
مزید پڑھیے


یہ کس نے کیا ہے؟

اتوار 29 مئی 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
غلطی کرنے والا جس غلطی کو ٹھیک نہ کر سکے اس کی سزا ناگزیر ہے لیکن پاکستان میں عدم اعتماد کے نام پر جو کچھ کیا گیا وہ غلطی نہیں بلکہ بڑی طویل منصوبہ بندی اور احتیاط سے کی گئی سازش ہے ۔ سازش کے تانے بانے پاکستان سے باہر بُنے گئے۔ اس سازش پر عمل درآمد ملک کے اندر سہولت کاروں کی مدد اور تعاون سے کیا گیا۔ پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کا منصوبہ‘ افغانستان میں حکومت کی تبدیلی یعنی رجیم چینج سے مماثل بھی ہے اور قدرے مختلف بھی۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور پی ڈی
مزید پڑھیے


کچھ بدلنا ہو گا

منگل 24 مئی 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
سابق اپوزیشن جو آج کل حکومت ہے وہ عمران خاں کی حکومت کو ’’سلیکٹڈ‘‘ کہتے رہے‘ سابق حکومت جو آج حزب اختلاف ہے موجودہ حکومت ’’امپورٹڈ‘‘ کہہ رہے ہیں‘ موجودہ حکومت صرف ساٹھ دن پہلے تک عمران خاں کی حکومت سے صاف‘ شفاف اور فوری انتخاب کا مطالبہ کر رہی تھی‘ اپنے مطالبات کو بزور منوانے کے لئے انہوں نے اسلام آباد کی طرف پانچ مرتبہ لانگ مارچ کیا‘ عمران حکومت نے ان کے احتجاج‘ اسلام آباد کی طرف مارچ اور دھرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی‘ہر دفعہ ان کا احتجاج عوام کی طرف سے خاطر خواہ پذیرائی نہ ملنے
مزید پڑھیے



NEUTRAL ARE NEUTRALIZE

اتوار 15 مئی 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
چکوال کے لوگ عام پاکستانیوں کے مقابلے قدو قامت میں خاصے لمبے ہیں، جن ملک صاحب کا ذکر کر رہا ہوں وہ کچھ زیادہ ہی طویل تھے‘ سات فٹ قد‘ دبلے پتلے‘ ایک دن ڈرے گھبرائے اپنے دوست پروفیسر غنی جاوید کے ٹیوشن سنٹر داخل ہوئے‘ چہرے پر ہوائیاں اڑتی دیکھ کر پروفیسر نے پوچھا‘کیا ہوا ملک صاحب؟ پروفیسر یار‘ اللہ نے جان بخش دی‘ مجھ پر بجلی گر پڑی تھی‘ ملک صاحب آپ کہاں تھے؟ میں اونٹ پر تھا اور اونٹ کہاں تھا؟ سامنے کی پہاڑی پر‘ ملک صاحب یہ بجلی آپ پر گری ہے یا آپ بجلی کی
مزید پڑھیے


SETS ONLY TO RISE AGAIN

اتوار 08 مئی 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
سورج صرف طلوع ہونے کے لئے ہی ڈوبا ہے‘سائوتھ ایشیا میگزین نے سرورق پر عمران خاں کی تصویر کے ساتھ لکھا ہے‘ سورج طلوع ہونے کے لئے ہی ڈوبا ہے۔عمران خاں کی سربراہی میں بننے والی حکومت کو عدم اعتماد کر کے ہٹا دیا گیا ہے، اس کے بعد شہباز شریف نے حکومت بنائی ہے لیکن صاف نظر آتا ہے کہ پاکستان کے عوام آج بھی عمران خاں کے ساتھ ہیں‘ عوام کے پرجوش جلسے اور جلوس اس پر گواہی دیتے ہیں، سائوتھ ایشیا میگزین کے علاوہ ایک امریکہ دانشور کے تبصرے نے بڑی شہرت پائی ہے وہ لکھتے ہیں
مزید پڑھیے


تین استعفے، ایک الیکشن

اتوار 01 مئی 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
پاکستان میں گزشتہ چونتیس سال کی مختصر مدت میں تیسری دفعہ امریکی سازش سے ’’Regime change‘‘یعنی حکومت کی تبدیلی کا آپریشن کیا گیا ہے،تینوں آپریشن کے بعد انہیں کٹھ پتلیوں کو حکومت سونپی گئی جنہیں نو اپریل 2022ء کو سونپی گئی ہے ، حکومت تبدیلی کے تینوں منصوبوں میں امریکا کو اگرچہ کامیابی حاصل ہوئی لیکن وہ بہت چھوٹے اور ضمنی فوائد حاصل کرسکا مگر اس کا اصل اور بڑا مقصد کبھی پور انہیں ہوا۔ وہ بڑا مقصد تھا پاکستان کے ’’ایٹمی پروگرام ‘‘کی بساط لپیٹ دینا۔ پاکستان کا یہ پروگرام ایک پیچیدہ اور تہہ در تہہ نظام تحفظ میں
مزید پڑھیے


اسے سیاست نہیں آتی؟

اتوار 24 اپریل 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
9اپریل قومی اسمبلی میں جبری ووٹنگ سے 21اپریل لاہور میں عمران خاں کے احتجاجی جلسے تک ایک طرف بہت تشویشناک صورت حال دکھائی دیتی ہے۔تو دوسری طرف اتنے ہی حوصلہ افزا اشارے بھی ہیں ۔ٹھیک پینتالیس(45) سال پہلے 9اپریل 1977ء بھی کم خوفناک نہیں تھا۔اس دن مال روڈ پر کسی کی ناجائز حکمرانی قائم رکھنے کے لئے خون بہایا گیا تھا۔پرامن اور نہتے شہریوں کا خون اسی دن اس بازار سے کرایہ پر لائی گئی اخلاق باختہ کسبیوں کو پولیس کی وردیاں پہنا کر پردہ دار خواتین پر چھوڑ دیا گیا، جو فاطمہ جناح روڈ پر احتجاج کے لئے جمع
مزید پڑھیے


اب کیا ہوگا؟

اتوار 10 اپریل 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
دلبر محمد کا کہنا ہے کہ وہی ہوگا جو تقدیر میں لکھا ہے، ہاں مگر وہ ہرگز نہیں ہو گا جو اکثر لوگ سوچ رہے تھے، تحریک عدمِ اعتماد اور اس سے جڑے سارے کردار بشمول امریکا ،پٹے ہوئے مہرے اور بے ڈھب کی کٹھ پتلیاں ہیں، عوام کی اکثریت اور نوجوانوں کی بھاری اکثریت عمران خان کی پشت پر آن کھڑی ہے، تیسری درجے کے اداکاروں کی ٹولی اپنے تماشائی بھی ہمراہ لے کر نوٹنگی کرنے نکلی تھی جس گاؤں سے چلے ، قصبے سے گزرے ، شہر میں آئے، عام لوگوں نے ان کا تماشا مفت میں بھی
مزید پڑھیے








اہم خبریں