Common frontend top

سینیٹر(ر)طارق چوہدری


منفرد مثال


یونیورسٹی کے زمانے سے ہمارے دوست طارق پیرزادہ نے سٹوڈنٹس یونین کی بحالی سے متعلق بڑے انگریزی روزنامے کا تراشہ اور بعض دوسری دستاویزات ارسال کی تھیں، آج اپنے تجربات کی روشنی میں اس موضو ع پر لکھنے کا ارادہ تھا مگر وزیراعظم کے دورۂ چین کے تناظر میں بروقت لکھنا بھی ضروری تھا، اس لیے سٹوڈنٹس یونین کے مسئلے کو آئندہ کالم تک اٹھائے رکھتے ہیں۔ 1987ء میں چیئرمین سینیٹ غلام اسحق کی قیادت میں سینیٹ کا ایک وفد چین کے دس روزہ دورے پر ’’بیجنگ ‘‘ پہنچا تو ہماری آمد ورفت کے لیے شاندار کاروں کا پورا فلیٹ،
اتوار 13 فروری 2022ء مزید پڑھیے

جانے نہ جانے

اتوار 30 جنوری 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
ایوان صدر میں جاسوسی آلات لگانا کافی مشکل ہے۔اس کی باقاعدہ جانچ پڑتال ہوتی ہے پھر بھی ہر وزیر اعظم سن گن لینے کے لئے خصوصی انتظام کر ہی لیتے ہیں‘خواہ صدر ان کا اپنا بااعتماد ساتھی ہی کیوں نہ ہو۔میاں نواز شریف نے صدر غلام اسحق خاں اور ایوان صدر کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لئے انہی کے ملٹری سیکرٹری عجائب خاں سے تال میل بنا رکھا تھا‘ایک دن جناب صدر سے ان کے ملٹری سیکرٹری کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کیا تو کہنے لگے‘چند دن پہلے فوج کے سربراہ آصف نواز جنجوعہ اس بارے میں
مزید پڑھیے


بدترین جمہوریت

اتوار 16 جنوری 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
گزشتہ کالم ’’سیاست میں وفاداری‘‘ میں فاروق لغاری کے ’’صدر‘‘ منتخب ہونے کے ضمن میں ووٹوں کی خریداری کا بھی ذکر تھا، ایم کیو ایم کے علاوہ کوئی دو درجن ووٹ خریدے گئے، یہاں صرف تین سینیٹرز کا ذکر ہے جنہوں نے اپنے ووٹ کا سودا کیا، ان میں دو کا تعلق بلوچستان اور ایک صوبہ سرحد سے تھے۔ بلوچستان کے سینیٹر ’’لونی‘‘ کی کہانی ان کی زبانی ، وزیر اعظم کے شوہر آصف زرداری نے ہم تین سینیٹرز کے ساتھ پچاس پچاس لاکھ روپے کے عوض ووٹ کا سودا طے کیا ، اگلے دن ہمیں وزیراعظم ہاؤس طلب کیا
مزید پڑھیے


سیاست میں وفاداری

اتوار 09 جنوری 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
پچھلے ہفتے رؤف کلاسرا شادی میں شرکت کے لیے لاہور آئے ہوئے تھے، کمالِ مہربانی وہ تھوڑی فرصت پاکر تشریف لائے، ان کے ساتھ ساتھ انہی کی وساطت سے عامر خاکوانی صاحب سے بھی ملاقات ہوگئی، مختلف موضوعات زیر بحث رہے ، سیاست ، صحافت، کتابیں اور پتہ نہیںکیا کیاکچھ۔ کسی بات کے جواب میں ایک مختصرکہانی کہنا شروع کی مگر بات بیچ میں رہ گئی، بوقتِ رخصت عرض کیا، کہانی ادھوری رہ گئی مگر کوئی بات نہیں، آئندہ ہفتے کے کالم میں لکھ دوں گا۔ آپ کی وجہ سے قارئین بھی پڑھ لیں گے۔ وسیم سجاد سینیٹ کے چیئرمین تھے، صدر
مزید پڑھیے


غیرتِ سادات بھی گئی

اتوار 26 دسمبر 2021ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
غیرتِ سادات بھی گئی،کے عنوان سے لکھے گزشتہ ہفتے کے کالم پر پہلا زبانی تبصرہ حسب معمول اسلام آباد سے پروفیسر محی الدین صاحب کا تھا‘ہمارے بستر چھوڑنے سے بہت پہلے پروفیسر صاحب۔اخبارات کھنگال کر کالم پڑھ چکے ہوتے ہیں‘عزتِ سادات بھی گئی‘ کا عنوان پڑھ کر گویا ہوئے کہ آپ کس راہ پر نکل کھڑے ہوئے ہو؟اب دونوں میں سے کسی ایک کی خبر لینا ہو گی‘اس طرح کسی ایک کے ساتھ ضروری تعلقات خراب کر بیٹھو گے!خاموشی ہمیشہ اور ہر ایک کے لئے اعلیٰ صفت مانی گئی ہے‘ خاموشی جاہل کے لئے پردہ ہے‘ عالم کے لئے زیور‘صوفی
مزید پڑھیے



عزت سادات بھی گئی

اتوار 19 دسمبر 2021ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
شبیر حسین ڈوگر نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا ہے کہ عمران خان نے جسٹس وجیہہ الدین صاحب سے انصاف نہیں کیا تھا۔ان کی سفارشات تسلیم کئے جانے کے لائق تھیں اور آج وجیہہ الدین صاحب عمران خان سے انصاف نہیں کر رہے۔یہ بڑے لوگ توازن کیوں کھو دیتے ہیں؟شاید ابھی تک پورے بڑے ہوئے نہیں ہوتے۔شبیر حسین آج کل وکیل ہوتے ہیں۔لڑکپن سے سیاست کا چسکا بھی ہے اور دانشوری کا تڑکا بھی۔ان کے سوالات ہمیشہ گہرے غور و فکر کا نتیجہ ہوتے ہیں۔انہیں بات کرنے کا سلیقہ بھی کہنے کا قرینہ بھی ۔ابتدائے جوانی میں اپنے علاقے
مزید پڑھیے


کہیں دیر نہ ہوجائے

اتوار 12 دسمبر 2021ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
افغانوں کو گزشتہ چار دہائیوں سے کڑی آزمائشوں سے گزارا جارہا ہے، صرف اس لیے کہ وہ عالمی طاقتوں کے سامنے نہ جھکنے اور اپنی آزادی کو ہر قیمت برقرار رکھنے پر اصرار کرتے ہیں۔ افغانوں نے اپنی آزادی کو تازہ اور جوان خون دے کر برقرار رکھا ہے، انہوں نے دو عالمی طاقتوں اور درجنوں حامی قوموں کو عبرتناک شکست سے دوچار کیاہے، ان عالمی طاقتوں کے حملوں کی وجہ سے افغانستان کی آدھی آبادی ترک وطن پر مجبور ہوئی۔ تقریباً تیس لاکھ افغانی شہری شہید اور اس سے دو گنا زخمی ہوکر معذوری کا شکار ہیں۔ یورپ کو
مزید پڑھیے


آخری معرکہ

اتوار 05 دسمبر 2021ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
فی الوقت سیاست میں دو اتحاد سرگرم ہیں، ایک عمران خان کی قیادت میں حکمران اتحاد‘دوسرا مولانا فضل الرحمن کی صدارت میں پی ڈی ایم نامی اتحاد‘دونوں اتحاد چھوٹی پارٹیوں کی شرائط بلکہ بلیک میل کے سہارے قائم ہیں‘جوں جوں انتخابات قریب آ رہے ہیں ‘چھوٹی جماعتوں کے دلوں کی دھڑکن تیز ہوتی جائے گی‘اس لئے کہ انتخابات میں اتحادی جماعتیں بڑی پارٹیوں کی قیادت کی خوشنودی کی محتاج ہوں گی‘عمران خان کو اپوزیشن سے زیادہ اتحادیوں نے تگنی کا ناچ نچوایا‘خصوصاً پنجاب میں مسلم لیگ (ق) نے ہر آڑے وقت پنجاب اور مرکز کی حکومتوں کا ناطقہ بند کئے
مزید پڑھیے


آخری معرکہ

اتوار 28 نومبر 2021ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
پاکستان کی سیاست پر سوشل میڈیا کی اس پوسٹ سے بہتر تبصرہ شاید ہی کیا جا سکتا ہو‘عنوان تو ہے کہ ’’پراپیگنڈہ کیا ہوتا ہے‘ہم جانتے ہیں کہ ابھینندن (بھارتی پائلٹ) نے ایف 16جہاز نہیں گرایا۔امریکہ اور بھارت بھی جانتا ہے کہ ابھینندن نے ایف سولہ نہیں گرایا۔ابھنندن بھی جانتا ہے کہ اس نے ایف سولہ نہیں گرایا۔وہ ایف سولہ جو نہیں گرایا گیا۔ابھینندن کو اس سنہری کارنامے پر بھارت کا تیسرا بڑا ایوارڈ(تمغہ) ویر چکر۔دے دیا گیا۔(ویر چکر جس کا پنجابی ترجمہ بھائی پھیرو بھی کیا جا سکتا ہے)چکر کیا ہے؟مختصر الفاظ میں اس کو میڈیا وار اور پروپیگنڈہ
مزید پڑھیے


سمندر پار پاکستانی

اتوار 21 نومبر 2021ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
الٹے بانس بریلی کو ، پاکستانی برٹش نیشنل جو پاکستان میں کاروبار کررہا ہے، اُن کے خاندان کا بڑا حصہ برطانیہ میں اور وہ خود پاکستان میںٹیکسٹائل کے کاروبار سے منسلک ہیںاور برطانیہ کے ساتھ رشتہ استوار رکھنے کے لیے ’’یوکے‘‘نامی ہوزری بنارکھی ہے ، اس کی مصنوعات برطانیہ برآمد کی جاتی ہیں، انہی کے دفتر میں بیٹھ کر اکثر کالم لکھا کرتا ہوں، ان کا نام نامی ’’محمد اسلم ‘‘ ہے ۔ سمندری روڈ فیصل آباد پر اسلم ٹیکسٹائل اور یوکے ہوزری کے دفاتر ہیں ، ابھی ابھی یہاں پہنچ کر علیک سلیک ہوئی تو پوچھنے لگے،آج کیا موضوع
مزید پڑھیے








اہم خبریں