Common frontend top

BN

سینیٹر(ر)طارق چوہدری


تین استعفے، ایک الیکشن


پاکستان میں گزشتہ چونتیس سال کی مختصر مدت میں تیسری دفعہ امریکی سازش سے ’’Regime change‘‘یعنی حکومت کی تبدیلی کا آپریشن کیا گیا ہے،تینوں آپریشن کے بعد انہیں کٹھ پتلیوں کو حکومت سونپی گئی جنہیں نو اپریل 2022ء کو سونپی گئی ہے ، حکومت تبدیلی کے تینوں منصوبوں میں امریکا کو اگرچہ کامیابی حاصل ہوئی لیکن وہ بہت چھوٹے اور ضمنی فوائد حاصل کرسکا مگر اس کا اصل اور بڑا مقصد کبھی پور انہیں ہوا۔ وہ بڑا مقصد تھا پاکستان کے ’’ایٹمی پروگرام ‘‘کی بساط لپیٹ دینا۔ پاکستان کا یہ پروگرام ایک پیچیدہ اور تہہ در تہہ نظام تحفظ میں
اتوار 01 مئی 2022ء مزید پڑھیے

اسے سیاست نہیں آتی؟

اتوار 24 اپریل 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
9اپریل قومی اسمبلی میں جبری ووٹنگ سے 21اپریل لاہور میں عمران خاں کے احتجاجی جلسے تک ایک طرف بہت تشویشناک صورت حال دکھائی دیتی ہے۔تو دوسری طرف اتنے ہی حوصلہ افزا اشارے بھی ہیں ۔ٹھیک پینتالیس(45) سال پہلے 9اپریل 1977ء بھی کم خوفناک نہیں تھا۔اس دن مال روڈ پر کسی کی ناجائز حکمرانی قائم رکھنے کے لئے خون بہایا گیا تھا۔پرامن اور نہتے شہریوں کا خون اسی دن اس بازار سے کرایہ پر لائی گئی اخلاق باختہ کسبیوں کو پولیس کی وردیاں پہنا کر پردہ دار خواتین پر چھوڑ دیا گیا، جو فاطمہ جناح روڈ پر احتجاج کے لئے جمع
مزید پڑھیے


اب کیا ہوگا؟

اتوار 10 اپریل 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
دلبر محمد کا کہنا ہے کہ وہی ہوگا جو تقدیر میں لکھا ہے، ہاں مگر وہ ہرگز نہیں ہو گا جو اکثر لوگ سوچ رہے تھے، تحریک عدمِ اعتماد اور اس سے جڑے سارے کردار بشمول امریکا ،پٹے ہوئے مہرے اور بے ڈھب کی کٹھ پتلیاں ہیں، عوام کی اکثریت اور نوجوانوں کی بھاری اکثریت عمران خان کی پشت پر آن کھڑی ہے، تیسری درجے کے اداکاروں کی ٹولی اپنے تماشائی بھی ہمراہ لے کر نوٹنگی کرنے نکلی تھی جس گاؤں سے چلے ، قصبے سے گزرے ، شہر میں آئے، عام لوگوں نے ان کا تماشا مفت میں بھی
مزید پڑھیے


کپتان‘ امریکہ اور الیکٹ ایبل

اتوار 03 اپریل 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
فیصل آباد میں ایک رہائشی کالونی ہے‘ اس کا نام ریاض الجنہ‘ ہے یہ فیصل آباد سمال انڈسٹریز کے بغل میں چک نمبر سات کے بالکل سامنے واقع ہے۔ یہ سرگودھا روڈ کے دائیں طرف تقریباً آج کلو میٹر کے فاصلے پر اس کے برابر چلی جاتی ہے۔شروع میں اس سڑک کا نام پانچ پلی روڈ ہوا کرتا تھا۔پانچ چھوٹے چھوٹے نالے اسے کراس کرتے تھے جس کی وجہ سے اس کا نام پانچ پلی سڑک مشہور ہو گیا۔بیس پچیس سال پہلے اس سڑک پر تبلیغی جماعت کے عمائدین نے ایک قطعہ زمین خرید کر تبلیغی مرکز اور مسجد اسماعیل
مزید پڑھیے


کاش عدمِ اعتماد کامیاب رہے

اتوار 27 مارچ 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
8؍مارچ کو لکھے گئے کالم کا عنوان تھا ’’کاش عدمِ اعتماد ہوجائے‘‘۔کالم کمپوز ہونے کے بعد جب روزنامہ 92کو بھیجا جارہا تھا تو سامنے ٹی وی پر نظر پڑی، سکرین پر ’’تحریک عدمِ اعتماد جمع کروادی گئی‘‘ کی خبر دکھائی جارہی تھی، یہ دعا اتنی جلدی قبول ہوجائے گی اس کا تو ہرگز سوچا بھی نہ تھا، یہ دیکھنے کے بعدکالم میں ذیل کی سطروں کا اضافہ کیا۔ ’’عدم اعتما د کی تحریک آنے کے بعد عمران خان کے پاس کم از کم تین آپشن موجود ہیں۔ نمبر1: سمجھوتہ کرکے اپنی حکومت جاری رکھیں اور مناسب وقت کا انتظار کریں، نمبر2:
مزید پڑھیے



ہو رہے گا کچھ نہ کچھ

اتوار 20 مارچ 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
عوام کا رخ ایک طرف اور پارلیمنٹ کا مخالف سمت میں ہے‘ اگر سیاسی مسائل کو جلد ہی حل نہ کر لیا گیا تو جاری ہنگامہ آرائی کی شدت کو ’’رمضان المبارک‘‘ بھی کم نہیں کر سکے گا۔اس کی شدت میں اضافے سے خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ سیاسی کھیل کی معطلی کا ’’دس سالہ ‘‘ وقفہ شروع نہ ہو جائے‘ اس میدان میں کھلاڑیوں اور تماشائیوں کے مقابلے میں ’’ریفری‘‘ کا کردار زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔اب ریفری کی نیت پر نظر رکھنا ضروری ہے‘ تب ہی آپ جاری کھیل کے مستقبل بارے کوئی پیش گوئی کر سکتے
مزید پڑھیے


بزدار بچ نکلے گا

اتوار 13 مارچ 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
گزشتہ کالم ’’کاش عدمِ اعتماد ہوجائے‘‘ یہ خواہش اس قدر شتابی سے پوری ہوجائے گی، اس کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔ فیصل آباد کے شہری اور اخبارات کی دنیا کے لوگ روزنامہ ’’عوام‘‘ کے مالک اور ایڈیٹر خلیق قریشی سے خوب واقف ہیں۔ ذہین ، مرنجا ں مرنج ، بے تکلف اور فقرے باز۔کوہ نور ٹیکسٹائل کے مالک رفیق سہگل کا شمار اس زمانے کے تین چار چوٹی کے کاروباری اور دولت مند سرمایہ داروں میں ہوتا تھا، دولت کی بہتات اور شہرت کی تمنا انہیں سیاست اور صحافت کی طرف کھینچ لائی۔ انہوں نے قومی اسمبلی کا انتخاب
مزید پڑھیے


کاش عدمِ اعتماد ہوجائے

بدھ 09 مارچ 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
پارلیمنٹ کے اندر اور سیاست کے میدانوں میں عوام کا موڈ بالکل متضاد سمت میں صاف نظر آتا ہے، نام نہاد تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عمران خان کے آپشن کم ہوتے جارہے ہیں لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن اور حکومت کے اتحادی اور ناراض ارکان کی ملی بھگت کے امکان کو دیکھتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ شاید عمران خان کو اقتدار سے الگ کیا جاسکتا ہے مگر ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔ منڈی بہاؤالدین کے بعد میلسی کا جلسہ اور جلسے میں دوڑ دوڑ کے آتے ہوئے نوجوان اورعمران خان کی تقریر
مزید پڑھیے


کیا یہ جنگ ہے؟

اتوار 06 مارچ 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
گندم کے سرسبز وشاداب کھیتوں میں چہکتے ،اڑتے،جگتے تیتر کا شکار ہے جس کے لیے دو شکاری گھرسے نکلے، ایک کے کندھے پر جال ہے اور دوسرے کے ہاتھ میں بندوق ۔ جال والے نے جال بچھایا ، اس سے پہلے کہ شکار جال میں پھنس جائے ،بندوق والے نے اسے کھیت کی منڈیر پر جال کی طرف جاتے ہوئے دیکھ کر اپنی گولی کا نشانہ بناڈالا۔ انصاف ، اصول ، عالمی قوانین، دوسری قوموں کی آزادی کا احترام یہ سارے خیالات قابل قدر ہونے کے باوجود یہ بات ہر کسی کو یاد رکھنا ضروری ہے کہ قوت وطاقت کے اپنے
مزید پڑھیے


کیا یہ جنگ ہے…؟

اتوار 27 فروری 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
کیا یہ جنگ ہے؟جو یوکرین میں لڑی جانے والی ہے؟نہیں یہ بعض توآموز اور کچے شکاریوں کی ایک پارٹی ہے جو تیتر‘بٹیر‘ مچھلی کا شکار کھیلتے کھیلتے‘شیر کے شکار کے لئے نکل کھڑی ہوئی۔یہ ہمارے ہائی سکول میں تعلیم کا زمانہ تھا ‘جب مقبول اور مشہور اردو ڈائجسٹ میں مقبول جہانگیر شکاریات کے عنوان سے کہانی لکھا کرتے تھے‘جو ہم لوگ بڑے شوق اور تسلسل سے پڑھا کرتے‘مشرقی پاکستان میں ’’سندر بن‘‘ کے گھنے جنگلات میں خطرناک اور قد آور ٹائیگر کی خبر پا کر جوش جوانی میں ایک انگریز افسر اس شیر کو شکار کر کے اپنی محبوبہ پر
مزید پڑھیے








اہم خبریں