Common frontend top

سینیٹر(ر)طارق چوہدری


مجاہد کے قلم سے


ہم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ امت اسلامیہ کی موجودہ وضع اس شکست کا نتیجہ ہے‘ جس میں اسلامی خلافت کی بیخ کنی کی گئی اور مغربی طاقتوں نے اسلامی دنیا کو آپس میں بانٹ لیا اور ہر حصے پر علیحدہ علیحدہ طاقت مسلط ہو گئی‘ اس کے بعد کتنے ماہ و سال بیت گئے کہ مسلمان ذلت‘ غلامی اور محکومیت میں زندگی بسر کر رہے ہیں‘ آزادی اور خود مختاری سے محروم ہیں‘ سیاسی‘ اقتصادی اور فکری لحاظ سے استعماری طاقتوں کے غلام ہیں‘ انہوں نے اپنی کٹھ پتلی حکومتیں ان پر مسلط کی ہوئی ہیں‘ ایسے جبر اور
اتوار 08 جنوری 2023ء مزید پڑھیے

پراکسی پالیٹکس

اتوار 01 جنوری 2023ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
بچوں کی کہانیوں میں ’’گڈریا اور شیر) کی کہانی تقریباً ہر پاکستانی نے اپنے پرائمری سکول کے زمانے میں پڑھ رکھی ہے‘ گڈریئے کو گائوں کے باہر اپنی بھیڑوں کو چراتے ہوئے ایک دن شرارت سوجھتی ہے اور وہ گائوں والوں کو اپنی طرف چلا چلا کر پکارتا ہے شیر آیا‘ شیر آیا‘ گائوں کے لوگ لاٹھی‘ کلہاڑی برچھی جو کچھ ہاتھ لگا اٹھائے گڈریے کی طرف بھاگ کھڑے ہوتے ہیں کہ اسے شیر کا شکار ہونے سے بچائیں لوگ جو اسے شیر سے بچانے آئے تھے جب اس کے نزدیک پہنچتے ہیں تو گڈریا ہنس دیتا ہے اور
مزید پڑھیے


کھیل باقی ہے!

اتوار 25 دسمبر 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
وزیراعلیٰ اگر جی دار ہو تو خصوصاً پنجاب کا تو وزیراعظم پر بھاری پڑ سکتا ہے۔ غلام اسحاق خان‘ صدر پاکستان تھے‘ وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ ان کے تعلقات سرد مہری کے بعد کھلے تصادم کی طرف بڑھ رہے تھے‘ پنجاب میں بھی ان کی حکومت تھی‘ سندھ میں جام صادق وزیراعلیٰ تھے‘ جام صادق بڑھے بہادر‘ فیاض اور سیاست کے رمز شناس‘ دوستوں کے دوست‘ نوازشریف کا جارحانہ رویہ دیکھ کر وہ اس کی راہ روکنے کے تمنائی تھے‘ اگرچہ مرکزی حکومت اور پنجاب حکومت کی مجموعی سیاسی طاقت اور اہمیت کے مقابل جام کی سندھ حکومت معمولی نظر
مزید پڑھیے


پرویز الٰہی‘ مونس اور…

اتوار 18 دسمبر 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
انتخابات آج ہوں یا کل ‘ رمضان المبارک کے بعد یا آئینی مدت پوری ہونے پر‘ نتائج پر زیادہ اثر ہونے والا نہیں ہے۔صف بندی ہو چکی‘ ہر ایک نے اپنا ٹھکانہ ڈھونڈھ لیا‘ اپنا رشتہ پہچان کے اپنی منزل طے کر لی‘ نہ ہی سیاسی جماعتوں کے پاس زیادہ آپشن ہیں نہ ہی ووٹر کو سوچ بچار کرنے کی ضرورت‘ ایک طرف عمران خاں ہے‘ دوسری طرف ملک بھر کی سیاسی جماعتوں کا اتحاد‘ ووٹر کے پاس تیسرا رستہ ہے نہ فی الوقت اسٹیبلشمنٹ کے ہاں ان دو کے علاوہ کچھ ہے ‘ انہی میں سے کسی ایک کو
مزید پڑھیے


عذرِ گناہ

اتوار 11 دسمبر 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
جنگیں خطرناک ہوتی ہیں‘لہو کے دریا بہتے ہیں‘ قومیں تباہ ملک برباد آبادیاں ویران ہو جاتی ہیں‘ عورتوں کی عصمت بچوں کی زندگیاں نگل جاتی ہیں مگر کون سی جنگ سیاست سے زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے؟ ساری جنگیں مگر سیاست ہی کا شاخسانہ ہیں‘پاکستان چھوٹا ملک ہونے کے باوجود اپنے مقابلے میں بہت بڑے اور بھاری دشمنوں سے کوئی جنگ نہیں ہارا لیکن’’پاکستان میں بہادر جنگ جوئوں کی سیاست نے آدھا پاکستان ہار دیا‘‘جنگ جو اس شکست کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں، یہ انکار ایسے وقت کیا جا رہا ہے، جب باقی پاکستان بھی انہی کے ہاتھوں ایک
مزید پڑھیے



تبدیلی آ رہی ہے!

اتوار 04 دسمبر 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
پاکستان میں برپا سیاسی بحران اتنا پیچیدہ نہیں جتنی وہ طوالت اختیار کر گیا‘اگر سیاسی بحران دو سیاسی جماعتوں یا گروہوں کے درمیان ہوتا تو اب تک اس کا حل نکل آتا‘ اگر سیاسی گروہ خود حل نہ کر پاتے تو اسٹیبلشمنٹ بخوبی ثالث کا کردار ادا کر سکتی تھی، بدقسمتی سے موجودہ سیاسی بحران میں متحارب فریق دونوں سیاسی نہیں تھے‘ حکومت جس کی سربراہی عمران خان کر رہے تھے وہ فریق سیاسی تھا اور اس کے مقابلے میں بننے والا سیاسی جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم پوری طرح ناکام ہو چکا تھا تب غیر ملکی مداخلت اور
مزید پڑھیے


حق‘ بحق دار رسید

اتوار 27 نومبر 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
خلاف توقع یہ بہت ہی اچھا فیصلہ ہے جس کی تعریف اور تحسین کی جانا چاہیے۔ پاکستان کی عسکری تاریخ میں غالباً یہ تیسرا واقعہ ہے، جب بری فوج کے سربراہ کا انتخاب خالصتاً سنیارٹی اور اہلیت کی بنیاد پر کیا گیا ہے‘ بری فوج کی سربراہی کا فیصلہ اکثر اوقات پسند ناپسند‘ کبھی مصلحت اور کبھی دبائو کبھی سیاسی مصالح کے پیش نظر کئے جاتے رہے ہیں‘ اکثر اوقات ایسے فیصلوں کو خمیازہ قوم سے پہلے فیصلہ ساز کو بھگتنا پڑا‘ ایوب خاں کی مدت ملازمت میں توسیع دی گئی اور اس کا صلہ طویل مارشل لاء کی صورت
مزید پڑھیے


انتخاب آنے کو ہے

اتوار 20 نومبر 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
نئے سپہ سالار کی تقرری پر سیاسی بھونچال آیا ہوا ہے‘ سیاسی ہلچل کا سبب وہ عہدہ بنا ہوا ہے‘ قانوناً جسے سیاست سے کوئی علاقہ نہیں حتیٰ کہ سیاست میں مداخلت نہ کرنے کا عہد اس کے حلف میں شامل ہے۔ ہر لیفٹیننٹ جنرل خواہ کوئی بھی ہو جان جوکھم میں ڈال کر‘ ہزارہا دشوار گزار راستوں سے گزر‘ مشکلات کے پہاڑ چیر کر ‘ قوت برداشت‘ صبر و ثبات کی بھٹی سے گزر کر‘ جسمانی اور ذہنی تربیت ، ہزاروں ساتھیوں سے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا اظہار کرتا ہے ۔ سکینڈ لیفٹیننٹ کے ابتدائی مرحلے کے
مزید پڑھیے


انقلاب آنے کو ہے!

اتوار 13 نومبر 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
جو چپ رہے گی زبانِ خنجر لہو پکارے گا آستیں کا زبان خنجر چپ رہی چپ رہے گی مگر لہو آستیں کا آخر آخر پکارنے لگا ہے‘ لیاقت علی خاں‘ محترمہ فاطمہ جناح ‘ حسین شہید سہروردی‘ مشرقی پاکستان شہید‘ ضیاء الحق ‘ آصف نواز جنجوعہ‘ بے نظیر بھٹو‘ پاکستان کو دولخت کیا، بانیان پاکستان ناحق قتل(شہید) کئے گئے۔مقبول سیاسی قائدین کا خون بہایا ‘ یہیں پر بس نہیں ہوا، دو بری فوج کے سربراہ‘ نصف درجن اہم فوجی عہدیدار‘ ایک ایئر مارشل‘ سب اسرار کے پردے میں پڑے رہے۔ عام سیاسی کارکن اخبار نویس کسی شمار قطارمیں تھے ہی نہیں‘ خون
مزید پڑھیے


خطرہ کب نہیں تھا؟

اتوار 06 نومبر 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
عمران خاں خطرے کو خاطر میں لاتے کب ہیں؟ لیکن خطرہ تو موجود تھا اور ہے‘ خصوصاً1996ء کے بعد جب انہوں نے عملی سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کیا، تو وہ بہت سے اہم اور بااثر لوگوں کے لئے خطرہ بن کر آئے تھے، وہ سب جن کے لئے یہ محض سیاست میں مقابلہ بازی کا کھیل نہیں تھا بلکہ یہ ان کا کاروبار بھی تھا‘ خاندانی کاروبار میں جس پر دو خاندانوں کی اجارہ داری تھی‘ سیاست کے میدان میں نئے حریف کی شرکت تو قبول ہو سکتی تھی اور کاروبار میں بھی شاید ایک شمولیت ممکن بنائی
مزید پڑھیے








اہم خبریں