Common frontend top

سینیٹر(ر)طارق چوہدری


منصوبے میں منصوبہ


بگلا پکڑنے والی کہانی تو آپ نے سن رکھی ہو گی؟ ایک دوست نے دوسرے دوست سے کہا‘ آئوبگلا پکڑتے ہیں وہ کیسے پکڑیں گے؟ جھاڑیوں کے پاس بگلا ایک ٹانگ پر کھڑا مچھلی پکڑنے کے لئے متوجہ ہے‘میں آپ کو تھوڑی سی موم دیتا ہوں‘ موم پکڑو جھاڑی کی اوٹ میں بگلے کی نظر سے بچ کے قریب چلے جائو‘ موم کی ڈلی بگلے کے سر پر چپکا کر واپس آ جائو‘ ہم یہاں انتظار کریں گے۔بگلا مچھلی پکڑنے کے بعد جونہی اڑے گا دھوپ اور گرمی سے موم پگھل کر اس کی آنکھوں میں پڑے گی وہ موم
پیر 15  اگست 2022ء مزید پڑھیے

عاقبت نااندیش (2)

اتوار 31 جولائی 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
منحصر مرنے پر ہو جس کی امید ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے آپ بھی یہ خبریں پڑھتے رہے ہونگے کہ پستول دکھا کر راہ گیروں کو لوٹ لیا۔پولیس نے بروقت کارروائی کر کے ڈاکوئوں کو دھر لیا‘ ڈاکوئوں کے پاس ’’مال مسروقہ‘‘ کے علاوہ ایک عدد ’’نقلی پستول‘‘ برآمد ہوا۔ ’’الیکشن کمشنر‘‘ کے ہاتھ میں ’’فارن فنڈنگ‘‘ کا ایک نقلی پستول ہے‘ جس سے وہ عمران خاں کو ڈراتے اور اپنے محسن سیاست دانوں کو بہلایا کرتے ہیں‘ یہ سیاست دان اپنے اتحادی پر دبائو ڈال رہے ہیں کہ گولی چلائو‘ وہ بے چارا جانتا ہے کہ اس پستول کی گولی صرف پٹاخہ
مزید پڑھیے


عاقبت نااندیش

جمعه 29 جولائی 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
17جولائی کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج اور پنجاب میں پرویز الٰہی کی سربراہی میں تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد ملک کی سیاسی صورت حال بڑی دلچسپ ہو گئی ہے‘ مرکزی حکومت کی مدت پوری کرنے کے دعوے دار یا خواہش مندوں کی حالت یہ ہے کہ سوئے تھے گلوں کی چھائوں میں جاگے ہیں قفس کے گوشے میں کب صحن چمن میں خاک اڑی کب آئی خزاں معلوم نہیں پنجاب کی حکومت ’’اتحادیوں‘‘ کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد فریقین کے پاس کیا کچھ آپشن یاترجیحات ہو سکتی
مزید پڑھیے


بائیکاٹ سے بائیکاٹ تک!

بدھ 27 جولائی 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
خالد بھائی سے عرض کیا: میرا خیال ہے یہ آنے والے الیکشن کا بائیکاٹ کریں گے‘ کون کرے گا؟ ان کا سوال تھا ۔مولانا فضل الرحمن حکمران اتحاد کو مجبور کریں گے کیونکہ جس صوبے میں امید ہے وہاں ان کے لیے کچھ باقی بچا ہی نہیں۔ بولے بائیکاٹ ان کے لیے بہتر ہے الیکشن میں وہ جیت نہیں سکتے۔ ہوسکتا ہے بائیکاٹ میں کوئی دو ایک قومی یا صوبائی اسمبلی کی نشستیں انہیں مل ہی جائیں‘ بائیکاٹ میں کیسے مل جائیں؟ حیرت کے ساتھ سوال کیا‘ بھائی ’’معجزہ‘‘۔ چھوٹے موٹے معجزے سے ان کا کام نہیں چل سکتا‘ الیکشن
مزید پڑھیے


انتخابات کی تیاری کریں

اتوار 24 جولائی 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
پاکستان کے نوجوانوں کو ہیجان میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں‘ ان کی جدوجہد عنقریب بارآور ہونے والی ہے۔تاریخ اسلام کے اہم اور فیصلہ کن دنوں میں ان کی قیادت بہترین ہاتھوں میں ہے‘ وہ انہیں آگ میں جھونکے اور ہلاکت میں ڈالے بغیر منزل کی طرف لئے جاتا ہے‘اشتعال اور کبھی انتہائے مایوسی کے لمحوں میں بھی اس نے صبر اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا ہے‘عمران خاں کی قوت برداشت ہی پاکستان کا استحکام ہے‘ انہوں نے اپنی مقبولیت اور نوجوانوں خصوصاً خواتین کی غیر مشروط اور بے پناہ حمایت اور طاقت کے ہوتے ہوئے
مزید پڑھیے



آنے والا آئے گا

جمعه 22 جولائی 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
تحریک انصاف کے رکن پنجاب اسمبلی چوہدری مسعود‘ رحیم یار خاں کی تحصیل لیاقت پور سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے وہ اس سے پہلے بھی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے ہیں‘ خوش پوش‘ خوش مزاج اور خوشحال آدمی ہیں گاہے وہ بزدار حکومت سے شاکی نظر آئے‘ اپریل میں سیاسی ہلچل کا دور شروع ہوا تو وہ اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہونا چاہتے تھے‘ تب میاں اسلم اقبال اور دیگر دوستوں کے سمجھانے پر انہوں نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا اور ان کے تحفظات دور کر دیے گئے۔گزشتہ چند ہفتوں سے انہیں دھمکانے ‘
مزید پڑھیے


فیصلہ تیرا‘ تیرے ہاتھوں میں ہے

اتوار 17 جولائی 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
کھیل خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے‘ رجیم چینج یعنی حکومت کی تبدیلی کے لئے جو کچھ مقامی کرداروں نے کیا‘ وہ لالچ میں آ کر کیا گیا‘ وقت مٹھی میں ریت کی طرح تیزی کے ساتھ ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے‘ جو لالچ میں شروع کیا گیا تھا وہ اب خوف کی سرحدوں میں داخل ہو گیا ہے‘ کتنے ہیں مارے خوف کے جن کی گھگی بندھ گئی ہے‘ آرٹیکل 6سے ڈرایا’’کپتان‘‘ کو جا رہا ہے‘ مگر مارے خوف کے رنگ کسی اور کا پھیکا پڑ گیا ہے‘ خوفزدہ کو مزید ڈرانے کی بجائے پچکارنے کی ضرورت
مزید پڑھیے


ٹروجن ہارس!

اتوار 10 جولائی 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
قدسیہ ممتاز کا سوال تھا‘ آپ آنے والے انتخابات کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ میرا مطلب الیکشن انجینئرنگ کے بارے میں ہے‘ وہ بھی اس صورت میں اگر انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکے؟ بات دراصل یہ نہیں کہ سوال پوچھنے والے کو اس کا جواب معلوم نہیں۔وہ خود غور و فکر کی عادی‘ وسیع المطالعہ اور حالات کو اچھی طرح جانتی اور سمجھتی ہیں۔یقینا ان کے پاس اس سوال کا جواب بھی موجود ہے‘ شاید وہ مزید تصدیق یا کسی متبادل نقطہ نظر کو دیکھنا چاہتی ہونگی۔ بہرحال یہ ایسا سوال ہے جو کثرت سے پوچھا جا رہا ہے‘
مزید پڑھیے


ایک شاہ ایران بھی تھا!

اتوار 03 جولائی 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
آج کے کالم کا محرک دراصل سوشل میڈیا پر ’’قدسیہ ممتاز‘‘ کی پوسٹ اور دوسرا ان کی طرف سے براہ راست پوچھا گیا ایک سوال۔ وہ اپنی پوسٹ میں لکھتی ہیں ’’اب تو بس ایک ہی خواہش رہ گئی ہے کہ مولانا محمد علی جوہر کی طرح وصیت کر جائوں کہ مجھے غلام زمین میں دفن مت کرنا‘‘ قدسیہ ممتاز پڑھی لکھی ‘ جواں ہمت صاحب الرائے خاتون ہیں‘ جو اظہار پر قدرت رکھتی اور لکھنے کے فن سے آگاہ بھی ہیں۔یہ پوسٹ مایوسی ہے ‘ غصہ یا بغاوت؟ کیونکہ ان کا عمومی رویہ مایوسی نہیں بلکہ بہادری کے ساتھ
مزید پڑھیے


خوئے بدرا بہانہ بسیار

پیر 27 جون 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
ہمارے سیاستدان خصوصاً اعلیٰ عہدوں تک پہنچ جانے والے سیاستدان اپنے اردگرد کے ماحول خصوصاً فوج اور اس ادارے کے طریقہ کار کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے‘ بے نظیر بھٹو جب دوسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہوئیں تو پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل فاروق لغاری ان کی طرف سے عہدہ صدارت کے لئے امیدوار تھے۔ان کے مقابلے میں چیئرمین سینٹ وسیم سجاد کو اتارا گیا۔ فاروق لغاری صدر منتخب ہو گئے‘ نیا دور حکمرانی شروع ہوئے چند ہی روز گزرے ہونگے ایک دن وسیم سجاد صاحب سے ملاقات ہو گئی‘ وہ اب بھی چیئرمین سینٹ تھے۔ کہنے
مزید پڑھیے








اہم خبریں