BN

عبدالرفع رسول



بھارت میں مسلمانوں کے لاحقے مٹائے جارہے ہیں


چارصدیوں سے زائدعرصہ بیت چکاہے کہ جب یوپی کے ایک شہرکوالہ آبادکے نام سے موسوم کیا گیا تھا الٰہ آباد کا نام مغل بادشاہ اکبر نے رکھا تھا، یہ شہرمغل سلطنت کی فوج، ثقافت اور انتظامیہ کا مرکز تھا۔ سولہویں اور سترہویں صدی میں یہیں سے حکومتی فیصلے لیے جاتے تھے۔انگریزکے خلاف آزادی کی لڑائی میں الہ آبادکا اہم کردار رہا ہے۔برطانوی نوآبادیاتی نظام کے دوران اور 1947ء میں بھارت کے آزاد ہونے کے بعد بھی اس شہر کا رتبہ برقرار رہا۔ برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد شروع کی چند دہائیوں میں الہ آباد شہر ایک بڑے ثقافتی
منگل 13 نومبر 2018ء

تحریک آزادی کشمیر!علامہ اقبال کی رہین منت

هفته 10 نومبر 2018ء
عبدالرفع رسول
کاش !حکیم الامت حضرت علامہ اقبال آج زندہ ہوتے کشمیریوں کاعزم آزادی اوربیش بہاقربانیوں سے عبارت انکی عظیم ترین جدوجہدکودیکھتے توکوئی شک نہیں کہ پکاراٹھتے کہ میری اس قوم میں حصول آزادی کے لئے بہ کمال وتمام اور بدرجہ اتمام وہ سب خصائل موجودہیں جوایک بہادراوردلیرقوم میں موجزن ہوتے ہیں،وہ کشمیرکے بوڑھے ،ضعیف القویٰ اورخمیدہ کمر والدین کے کندھوں پرانکے جوان بیٹوں کی لاشیں دیکھ کرانکی ہمت کو داددیئے بغیر نہیں رہتے۔وہ ان کشمیری مائوں کودیکھ کرحضرت اسماء اورحضرت خنساکویادکرتے کہ جواپنے جوان بیٹوں کی لاشوں پردولہے کی طرح پھول ،مٹھائیاں اوربادام نچھاورکرتی ہیں۔حضرت علامہ وادی کشمیر میں تاحدنظرپھیلے
مزید پڑھیے


وادیٔ کشمیر میں برفباری سے شدیدتباہی

منگل 06 نومبر 2018ء
عبدالرفع رسول
مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بالعموم دسمبر کے وسط سے برفباری شروع ہوجاتی ہے جو مارچ کے مہینے تک رہتی ہے لیکن بدقسمتی سے اس بارمقبوضہ کشمیرمیں 3نومبرکوہی بھاری برفباری ہوگئی جس نے مقبوضہ کشمیرمیں ہرطرف تباہی مچادی ہے ۔موسم کی قہر سامانیوں کی وجہ سے لوگوں کو ایک بار پھر زبردست مالی نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔اس غیر متوقع برفباری نے وادی کے لوگوں کو بڑی مصیبت میں ڈال دیا اورمقبوضہ کشمیرکاسارانظام زندگی پوری طرح درہم برہم ہوکر رہ گیا۔ موسم سرما کی روایتی شروعات سے پہلے ہی غیر متوقع طور پر شدید برفباری نے وادی کے طول و عرض اور خطہ
مزید پڑھیے


جموں!جب زمین و آسمان چیخ اٹھے

پیر 05 نومبر 2018ء
عبدالرفع رسول
6نومبرتاریخ کشمیرکاایک سیاہ ترین باب ہے۔ اس دن جموں کے غدر کاجگر چیر دینے والاایسا وحشت انگیزسانحہ پیش آیاکہ جس کا تذکرہ لکھتے ہوئے قلم بھی آنسو بہانے پر مجبور ہے انسان کی تو بات ہی نہیں اس کا رنگ فق ، چہرہ متغیر ، لہجہ لرزاں اور دل اس غدر عظیم کا تذکرہ کرتے ہوئے خون کے آنسو روتا ہے۔ ہلاکو اور چنگیز جیسے قاتلان انسانیت کے پیروکار وں نے جموں میںبڑے پیمانے پر مسلمانانِ جموں کا قتل عام کیا۔یہ جرم رہتی دنیا تک راشٹریہ سیوک سنگھ اور اس کی تمام شکلوں کے ماتھے پر دور سے نظر آتا
مزید پڑھیے


کاش کشمیرکاسیب دہلی نہیں راولپنڈی پہنچ جاتا…

اتوار 28 اکتوبر 2018ء
عبدالرفع رسول
کشمیر پربھارتی جبری قبضے کے ساتھ منسلک قہر سامانیاںکشمیرکے مکینوں کے ساتھ ساتھ یہاںکے قدرتی وسائل پر اثر انداز ہوتے ہیںاورکشمیرکی سیب صنعت بھی بھارتی جبری قبضے سے سخت متاثرہوئی ۔ قابض بھارتی فوجیوں کے جبرقہراورتشدد سے کشمیرکی سیب صنعت کوجونقصان پہنچااسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ سیب کے باغات میں بنائی گئیں قابض بھارتی فوج کی بڑی بڑی چھائونیوں اور پھر فوجیوں کے ہاتھوں سیب درختوںکوجڑسے اکھاڑ دینے کی خون رلادینے والی انگنت داستانیںنظروں کے سامنے بکھری پڑی ہیں۔ کشمیرکا سیب اپنی قدرتی رنگت ، رس اورمٹھاس اوراپنے ذائقے اور خوشبو کے اعتبار سے مشہور ہے۔ کشمیرکا سیب براہ
مزید پڑھیے




کشمیر پر بھارتی جارحیت

اتوار 28 اکتوبر 2018ء
عبدالرفع رسول
27اکتوبر 1947ء کو جب بھارتی فوج کا پہلا دستہ سرینگر کے ایئر پورٹ پر اترا تو کشمیرکی تاریخ کا تیرہ بخت باب قلمبند ہونا شروع ہوا۔یہ ایک المناک داستان ہے اور تاریخ انسانی کا سیاہ باب بھی کہ بھارت نے برطانوی غلامی سے رہائی اور آزادی پانے کے بعد فوراً کشمیریوں کاحق خودارادیت چھین لیا حالانکہ انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ کشمیر پر تقسیم برصغیر کا فارمولہ نا فذ العمل کیا جاتالیکن ہواکچھ اور۔ 27 اکتوبرکوتاریخ جموں وکشمیرکاسیاہ ترین دن ہے اور بھارتی فوج کشی عصرحاضر کی جمہورپسند دنیاکیلئے ایک بڑالمحہ فکریہ ہے۔ یہ اقوام متحدہ اورسلامتی کونسل کے
مزید پڑھیے


کولگام کاجگرسوزسانحہ

جمعرات 25 اکتوبر 2018ء
عبدالرفع رسول
جنوبی کشمیر کے لاروکولگام اتوار21اکتوبرکی صبح اس وقت قیامت صغریٰ آن پڑی کہ جب یہاں 14عام شہری شہید ہوئے جبکہ ملحقہ علاقوں میں فوجی بربریت کے نتیجے میں60سے زائد افراد بری طرح زخمی ہوگئے ہیں جنہیں کولگام، اسلام آباد، پلوامہ اور سرینگر کے مختلف ہسپتالوں میں علاج و معالجے کی خاطر داخل کرایا گیا۔ کشمیرمیںبربریت کی تازہ لہرکے نتیجے میں وادی کے طول عرض میں ایک بار پھر غم اندوہ کی لہر دوڑ گئی۔ عوامی احتجاج سے نمٹنے کے لیے گورنرانتظامیہ نے علاقے میںفوج کی بھاری نفری کو تعینات کردیا ہے جبکہ موبائل انٹرنیٹ سروس اور ٹرین سروس بھی معطل
مزید پڑھیے


کشمیریوں نے بھارتی الیکشن ڈھونگ مسترد کردیا

پیر 22 اکتوبر 2018ء
عبدالرفع رسول
زمین کی پشت پر خلق خداایک بہت بڑی طاقت ہے اور کوئی ذی ہوش اس طاقت سے آنکھیں چرانہیں سکتا ۔ یہ الگ بات ہے کہ چاردانگ عالم اقتداری ٹولے نے عوام پر سواری گانٹھ رکھی ہے جس کے ذریعے عوام کی طاقت وقتی طور پر کمزور دکھائی دیتی رہی اوروہ اس قدر بوجھ تلے دبی نظرآتی رہی ہے کہ لمحہ بھربندہ یہ سوچتا کہ شائد کبھی یہ طاقت اٹھ نہ سکے گی لیکن جب یہ اپنے وجدمیں آکر ایک بار اٹھ جاتی ہے اورعوام کاسیلابستان رواں ہوجاتاہے توپھرچشم فلک دیکھتی ہے کہ یہ اپنالوہا منواکرہی دم لیتی ہے
مزید پڑھیے


سری نگرکی صحافت زیر عتاب

هفته 20 اکتوبر 2018ء
عبدالرفع رسول
تاریخ انسانی شاہد ہے کہ ہر دور میں پاسبان حرمت قلم زہر کھا کر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر کے اور دار پر چڑھ کر ظلم کو ظلم اور سچ کو سچ کہہ کر لازوال تاریخ رقم کرتے رہے ہیں۔ صحافیانہ صلاحیتوں کو بروئے کارلاکرجابر حاکم کے سامنے کلمہ حق کہنے کے لئے ایک صحافی قلمی یااشاعتی محاذ پرکھڑا رہے حقیقت میںیہی صحافتی خدمات کا مطلب ہوتاہے ۔صداقت پسندی ،دیانتداری ،جرات و بے باکی کے ساتھ ایک شخص کھڑارہے اور جابر حکمرانوں کے کرتوت اورانکے اخلاقیات بد کی نشاندہی کرتے ہوئے اپنے عوام ،اہل وطن کوباخبررکھے یہی صحافت
مزید پڑھیے


منان وانی سے بھارت خوفزدہ کیوں تھا؟

اتوار 14 اکتوبر 2018ء
عبدالرفع رسول
کشمیری اسکالرمنان وانی شہیدکون تھااوربھارتی جاسوس ایجنسیاں اس سے خوفزدہ کیوں تھیں؟مقبوضہ کشمیرکاخوبصورت ترین علاقہ وادی لولاب کے فلک بوس پہاڑیوں کے دامن میں واقع ٹکی پورہ گائوں میں معروف علمی گھرانے بشیر احمد وانی کے گھر میں 1990 کو منان پیدا ہوا۔ گھر میں تعلیمی ماحول ہونے کی وجہ سے منان نے ابتدائی تعلیم مقامی پرائمری اسکول ٹکی پورہ سے حاصل کی جس کے بعد انہوں نے دسویں جماعت کا امتحان جواہر نودودھیا ودھالیہ پتو شاہ لولاب جبکہ بارہویں جماعت سینک اسکول مانسبل سے پاس کیا۔ تعلیمی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے گریجویشن سرینگر کے امرسنگھ کالج
مزید پڑھیے