BN

عبدالرفع رسول



بھارتی قبضہ سے قبل کا جموں و کشمیر


بھارتی جبری قبضے سے قبل کا جموں شہر گمٹ کے دروازے سے پنج تیرتھی تک ڈھلوان پر آباد تھا جس میں اگر چہ ہندوئوں کی اکثریت غالب تھی لیکن مسلمانوں کی بڑی آبادی بھی وہاں رہتی تھی۔ جموںشہر میں مسلمانوں کی چھوٹی بڑی 25مساجد تھیں۔ اس دور میں تعلیمی اور اقتصادی طور پر بھی مسلمانوں کی حالت جموی ہندئووں کے مقابلے میں کافی بہتر تھی ،اگر چہ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہی روا رکھا جاتا تھا تاہم اپنی ذاتی کوششوں اور تگ و دو کے باعث اکثر جموی مسلمان خوش حال اور کھاتے پیتے تھے۔ لاہورکی
جمعه 18 جنوری 2019ء

جبری تقسیم کی لکیرایک بارپھرشعلہ بار

پیر 14 جنوری 2019ء
عبدالرفع رسول
ایک بارپھرکشمیرکوجبری تقسیم کرنے والی منحوس لکیرگولہ بار ی سے شعلہ بارہے ۔یہ المیہ ہے کہ گذشتہ تین عشروں کی مسلسل گن گرج سے دامن کشمیرتارتارہے ۔اس بندہ ناچیزنے تاریخ کے پشتارے کھولے، فلسفے کے دفاتر کھنگالے، سیاسی لغات اور شاہان ِ ہند وپاک کے دائر المعارف کے لفظ ٹٹولے مگر ریاست جموںوکشمیرکوجبری طورپرمنقسم کرنے والی لکیرپرہونے والی گولہ باری کامطلب سمجھ سکااورنہ کچھ سبق پلے پڑا۔ دیکھایہ گیاہے کہ مقبوضہ کشمیرمیںبلٹ، پیلٹ، بندوق ، توڑ پھوڑ، بندشوں اوربھارت کی قابض اورسفاک فوج کے نہتے کشمیریوں کے من دانم کے جواب کے زیرو بم میں کچھ ٹھہرائوآجاتاہے توریاست جموںوکشمیرکوجبری طورپرمنقسم
مزید پڑھیے


مقبوضہ کشمیر:سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی معافی

جمعرات 10 جنوری 2019ء
عبدالرفع رسول
جس طرح ہرقوم میں غدارپائے جاتے ہیں توکشمیرمیں بھی غداروں کاایک ٹولہ موجودہے جواپنی گردن میں ہمیشہ کے لئے بھارت کاطوق غلامی رکھناچاہتا ہے۔انہی غداروں میں سے ایک غدارمحبوبہ مفتی ہے۔ اقتدارکے مزے چھن جانے کے رنج سے نڈھال مقبوضہ کشمیرکی سابق خاتون کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے 7دسمبر سوموارکو اپنے والد کی تیسری برسی کے موقع پر بہانہ تراشتے ہوئے رو روکر ماتمی اجلاس بلایا، محفل جمائی، اپنے والدکا نوحہ پڑھا اور کشمیرکی صورتحال پرخوب ٹسوے بہائے، خوب سینہ سینہ کوبی کی، ماتھا پیٹا، اوروالدکی لوحِ مزار پکڑ کراپنے دل کے چھالے دکھائے۔ابھی یہ ڈرامہ جاری ہی
مزید پڑھیے


5جنوری : کشمیریوں کایوم حق خودارادیت

پیر 07 جنوری 2019ء
عبدالرفع رسول
اکیسویں صدی کوبعض لوگ انصاف کی صدی قراردے کربڑی امیدیں باندھ چکے تھے ۔ اس صدی کاسترواں برس بھی داخل ہوچکاہے مگرظلمات کے سائے بدستورگہرارنگ جمائے بیٹھے ہیں۔کون ساانصاف، کہاں کاانصاف ،کون کرے انصاف۔کیاامریکہ انصاف کرے گاکہ جس نے کرہ ارض پر اکیسویں صدی کے آغاز پرہی اتناظلم ڈھایاکہ چنگیزاورہلاکوبھی شرمسارہیں۔کیاعالمی فورم اقوام متحدہ انصاف کرے گاکہ جومظلومین عالم کے لئے ناتواںمگرظالموں کے شانہ بشانہ کھڑاہوکران کے کارہائے ظلم پرتالیاں بجارہاہے۔ کشمیرکی رداخون سے تربترہوئی لیکن یہ فورم خاموش تماشائی بنارہا۔حالانکہ اسی عالمی فورم نے انکاپیدائشی حق’’ حق خود ارادیت‘‘ دلانے کاوعدہ کیاتھا۔ ایک طویل وقت سے کشمیری اپنے
مزید پڑھیے


2018ء بھی کشمیرکے لئے خونریزہی ثابت ہوا

جمعه 04 جنوری 2019ء
عبدالرفع رسول
مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی مقامی تنظیم جموں اینڈ کشمیر کولیشن سول سوسائٹی نے سری نگرمیںاپنی سالانہ رپورٹ کو شائع کیا۔ اپنی رپورٹ میں کولیشن نے سال2018ء کو گزشتہ ایک دہائی کا سب سے خونی سال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں قابض بھارتی فوجی اہلکاروں کی کھلی سفاکیت سے 160عام شہری،267مجاہدین شہیدجبکہ اس دوران قابض بھارتی فوج کے 159اہلکار واصل جہنم ہوگئے۔سری نگرمیںجموں اینڈ کشمیر کولیشن سول سوسائٹی نے 31دسمبر2018ء کواپنی سالانہ رپورٹ شائع کردی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال رفتہ میں فورسز اور پولیس کے ساتھ خونین معرکہ
مزید پڑھیے




مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی خون آشامیاں

پیر 31 دسمبر 2018ء
عبدالرفع رسول
مقبوضہ کشمیر میں امسال قابض بھارتی فوج کے ظلم وستم اوراسکی کھلی سفاکیت کے نتیجے میں اعدادوشمارکے مطابق نومبر2018ئتک زائد از347 کشمیری نوجوان شہیدہوئے ہیں اس طرح سال2017ء کے برعکس2018ء میں کشمیریوں کی شہادتوںمیں اضافہ ہوا۔اس دوران مختلف معرکوں کے دوران کشمیری مجاہدین کے ہاتھوں 81 بھارتی فوجی بھی واصل جہنم ہوئے جبکہ اس دوران 56باراہل کشمیرنے بھارتی بربریت کے خلاف فقیدالمثال ہڑتالیں کیں ان ہڑتالوں کامقصدبین الاقوامی رائے عامہ کی توجہ کشمیریوں کی مظلومیت کی طرف کراناتھا۔جو کشمیری نوجوان رواں سال جنوری سے نومبرتک شہیدہوئے اسکی کچھ تفصیل یوں ہے۔ 9جنوری کو لارنو کوکر ناگ ضلع اسلام آباد میں خالد
مزید پڑھیے


افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء پربھارت کا واویلا

جمعرات 27 دسمبر 2018ء
عبدالرفع رسول
افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء پربھارت کی چیخیں نکل رہی ہیں جس کی تازہ مثال مقبوضہ کشمیرکی پولیس کے سابق ڈائریکٹر جنرل کے راجندرا کمارکی ہے۔ راجندراکمارکا افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا ء پر کہناہے کہ افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء سے ریاست جموں وکشمیر کے حالات پر نمایاں اثرات مرتب ہونے کے علاوہ اس سے کشمیری مجاہدین کے حوصلے بلند ہوں گے۔ان کاکہناتھا کہ وادی میں سرگرم مسلح نوجوانوں کو مائل کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کیا جارہا ہے لیکن بھارتی فورسزکے پاس اس کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی میکانزم موجود نہیں ہے۔ کے راجندرا
مزید پڑھیے


ہندوبنیئے کا کشمیریوں کی ثقافت پروار

پیر 24 دسمبر 2018ء
عبدالرفع رسول
بھارت کشمیری مسلمانوں سے ہروہ چیز چھیننے کی کوشش کررہاہے جوبھارتیوں کے رنگ وبوسے یکسرمختلف ہواورجس سے ان کی مسلمانیت جھلکتی ہو۔کشمیریوں کالباس بھارتی شہریوں سے کوئی میل نہیں کھاتابلکہ ان کاعام لباس قمیص وشلوارہے جسے کشمیری ’’خان ڈریس ‘‘کے نام سے پکارتے ہیں اورجوپاکستانی شہریوں کے لباس سے مکمل طورپرہم آہنگ ہے ۔قمیص وشلوارکے اوپراہل کشمیر جھاڑے اورسردیوں کے موسم میں ایک اورلباس پہنتے ہیں جسے کشمیری زبان میں ’’پھیرن ‘‘کہتے ہیں جوگلے سے لیکرقدموں سے سردی سے انہیں بچاتا ہے۔ کشمیریوں کاپھیرن عربیوں کے ’’ثوب ‘‘کے مماثل ہے اورشرعی سترکے لئے کافی موافی ہوتا ہے۔ کشمیریوں کے
مزید پڑھیے


بھارتی آرمی چیف کی سفاکانہ دھمکی

بدھ 19 دسمبر 2018ء
عبدالرفع رسول
کھارپورہ سرنوگائوں کے اس سانحہ عظیم کے بعدبھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویومیں کہاکہ ہم پتھراوربندوق کوایک ہی چیزسمجھتے ہیں اور ہم نے فوج کوہدایات دیں کہ جوان پرپتھرمارے اسے وہ گولی ماردیں۔بھارتی آرمی چیف کے اس جارحانہ بیان اورکھارپورہ سرنومیں پیش آئے سانحے اور اس ننگی بربریت پر سپریم کورٹ آف انڈیاکے سابق چیف جسٹس اورمعروف قانون دان ودانشورریٹائرڈجسٹس مارکانڈے کاٹجونے اس سانحے کو جلیانوالا باغ قتل عام سے تعبیرکرتے ہوئے بھارتی آرمی چیف بپن راوت کاموازنہ بدنام زمانہ انگریز’’جنرل ڈائر‘‘اورویتنام میں خون کی ہولی کھیلنے والے ’’لیفٹیننٹ کیلی‘‘سے کیا۔ سپریم کورٹ کے
مزید پڑھیے


کشمیریوں پرقیامت صغریٰ

پیر 17 دسمبر 2018ء
عبدالرفع رسول
اندھا دھند بلٹ اور پیلٹ کے ذریعے کشمیری مسلمانوں کو بے دردی سے شہیدکرنے کی کارروائیوںسے کشمیریوں کو اس عظیم نصب العین سے دورنہیں کیاجاسکتا جس بلند نصب العین کے حصول کیلئے وہ پون صدی سے بالعموم اورگزشتہ تین دہائیوں سے بالخصوص جان و مال اورہرطرح کی قربانیاں دے رہے ہیںاوران عظیم قربانیوں کو کسی بھی قیمت پر نہ تو فراموش کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان قربانیوں کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے ۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ یہ قربانیاں ملت اسلامیہ کشمیرکی تحریک آزادی کیلئے انمول اثاثہ کی حیثیت رکھتی ہیں ۔قابض بھارتی فوجی درندے
مزید پڑھیے