BN

عبدالرفع رسول


دہلی کا تاریخی اردو بازار، قصہ پارینہ


میر تقی میر سے منسوب شعر کا یہ مصرعہ ’’دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب‘‘ ایک تاریخی سچائی ہے کہ’’ شاہجہاں آباد ‘‘ تعمیر ہوا تو شاہجہاں نے عرب و ایران اور ایشیائی ممالک کے صاحب علم و ہنر کو دعوت دی کہ یہاں آکر آباد ہوںاورجویہاں آبادہونے کے لئے آئے گا انہیں دس ہزاری، بیس ہزاری کا اعزاز اور اکرم سے نوازا جائے گا۔دلی کی گلیوں، محلوں، حویلیوں، سیرگاہوں،قلعوںاور بازاروں کے نام یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ یہاں مدت تک مسلمان سلاطین کی حکومت قائم رہی ۔دلی کی جامع مسجد سے متصل
بدھ 25 نومبر 2020ء

کشمیر میں نسل کشی پر انتباہ

پیر 23 نومبر 2020ء
عبدالرفع رسول
اسلامیان جموںو کشمیرقابض بھارتی فوج کے حصاراوراس کے نرغے میں بدستوریرغمال ہیں اور پھڑپھڑارہے ہیں۔وہ ’’جائے ماندن نہ پائے رفتن‘‘ والی اضطراری کیفیت کے شکار ہیں۔ 73 برسوں سے وہ لگاتار اقوام متحدہ کی زنجیر ہلانے کی کوشش بسیارکررہے ہیں،لیکن یہ زنجیر ایسی جگہ پر آویزاں ہے جہاں ایسٹ تیموراورجنوبی سوڈان کے مسیحیوںکے ہاتھ پہنچ توجاتے ہیں مگرارض کشمیرکے فریادیوں کے رسائی اس تک ممکن نہیں ۔چندبرس قبل اقوام متحدہ کی یہ زنجیرہل گئی اورمشرقی تیمور جوانڈونیشیاکاباضابطہ طورحصہ تھاکو ریفرنڈم کے ذریعے مسلمان ملک انڈونیشیاسے کاٹ کر الگ کردیاگیا۔عین اسی طرح جنوبی سوڈان کومسلم مملکت سوڈان سے کاٹ دیاگیااوردونوں خطوں
مزید پڑھیے


مقبوضہ کشمیرمیںاردوادب کی تاریخ

هفته 21 نومبر 2020ء
عبدالرفع رسول
اردو ادب کی تاریخ وہ آئینہ ہے جس میں ہم زبان اور اس زبان کے بولنے اور لکھنے والوں کی اجتماعی وتہذیبی روح کا عکس دیکھ سکتے ہیں۔ادب میں سارے فکری ،تہذیبی ،سیاسی ،معاشرتی اور لسانی عوامل ایک دوسرے میں پیوست ہو کر ایک وحدت، ایک اکائی بناتے ہیں اور تاریخ ادب ان سارے اثرات ،روایات،اور محرکات اور خیالات و رحجانات کا آئینہ ہوتی ہے ۔ ادبی تاریخ لکھنے والوں پریہ ذمہ داری عائد ہے کہ وہ ادبی مظاہرکو سیاسی ،معاشی،سماجی ، اور فنی ماحول میں پیش کرنے کی کوشش کریں ۔جب ہم کسی خاص ادبی دور کا تجزیہ کریں
مزید پڑھیے


ہائبرڈ وار ہوتی کیاہے؟

منگل 17 نومبر 2020ء
عبدالرفع رسول
عصر حاضرمیں جنگوں کے میدان اور ہتھیار تبدیل ہوگئے ہیں،ظاہری اور روایتی فوجیں توپوں ، بموںاور بندوقوں پریقین رکھتے ہوئے اپنے زیر سایہ سوشل میڈیا والی ایک نادیدہ فوج جو اسمارٹ فونز اور لیب ٹاپ سے لیس ہوتی ہے کوترتیب دے کر میدان میں اتارتی ہے اوراس کارروائی کو ہائبرڈ وار کہا جاتا ہے۔ (HYBRID WAR) عصر حاضر کی جنگی اصطلاح ہے اورعسکری ماہرین میں بہت عام ہے ۔اگرچہ ابھی تک اس کی کوئی حتمی اور طے شدہ تعریف نہیں ہے ۔تاہم یہ ایک ہمہ گیرغیر روایتی ،بے قاعدہ،خفیہ ،غیر رسمی جنگ ہوتی ہے جوسائبروارکہلاتی ہے ۔یہ طریقہ جنگ
مزید پڑھیے


مودی ڈاکٹرائن اورکشمیرکی جنگ بندی لائن

پیر 16 نومبر 2020ء
عبدالرفع رسول
بھارت کشمیرکوجبری طورپرمنقسم کرنے والی جنگ بندی لائن کے اس طرف آزادکشمیرکے علاقوں پرآتشیں توپخانوں سے مسلسل شدیدگولہ باری کررہاہے۔ 13نومبر کو 740کلومیٹرپرمحیط ا جنگ بندی لائن قابض بھارتی افواج کی گولہ باری سے بیک وقت دھل اٹھی ۔ یہ دراصل مودی ڈاکٹرائن کاایک طے شدہ فارمولہ ہے جس پرعمل کیاجارہاہے اورجس کامقصددنیابالخصو ص امریکہ کی نئی قیادت کویہ بتلانا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالات نارمل ہیں اوراگر کوئی خرابی ہوسکتی ہے تووہ یہ ہے کہ آزادکشمیر کے مسلمان کہیں مقبوضہ کشمیرمیں داخل نہ ہوں تواسی لئے اس نے آزادکشمیرکی سول آبادی کواسی لئے نہایت شرمناکی کے
مزید پڑھیے



ایل او سی پر بھارتی جارحیت

اتوار 15 نومبر 2020ء
عبدالرفع رسول
کشمیرکی جنگ بندی لائن پر بھارتی فوج کی بھاری ہتھیاروں سے گولہ باری بھارت کے بدنما اور کریہہ مقاصد کوطشت از بام کرتی ہے ۔بھارت کا متعصب اورمکروہ چہرہ پوری طرح بے نقاب ہوچکاہے ۔مگرپاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں، بھارت کی طرف سے پیداکردہ مہیب حالات سے بے خبر ، حقائق سے بے گانہ، بھارتی زہرآلودہ ذہنیتسے ناواقف ہیں۔ یہ اگرکچھ جانتے ہیں توصرف یہ کہ کس طرح ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنی ہیںپاکستان کے رخ بہ خزاںسیاستدانوں کی اس طرف کوئی توجہ نہیں کہ سرزمین کشمیرپرکھینچی گئی لکیرپربھارت کن تباہ کن عزائم کے ساتھ افواج پاکستان کی جرات اوردلیری
مزید پڑھیے


کشمیر کی زمین ہڑپ کرنے کیلئے قانون

جمعه 13 نومبر 2020ء
عبدالرفع رسول
اپنے اشتعال اور انفعال کے دورسے گذررہابھارت بجوگ اوربدبختی کے انگاروں کو ہوائے وارفتہ سے سلگائے ہوئے ہے۔اکیسویں صدی کی پہلی خونین شفق نمودارہونے کے ساتھ ہی مودی اورآرایس ایس کی شکل میں بھارتی مکروہ چہر ہ بھی کھل کر سامنے آیا،جس نے نام نہاد بھارتی سیکولرازم کاپردہ چاک کردیااور مودی کی بربریت کے سامنے بھارت کے مسلمان خس و خاشاک ٹھرے۔ہرشب کی کوکھ سے بھارتی مسلمانوں کے لئے آفات وبلیات نکل کرچارسو چنگھاڑیں مارنے لگیں۔ یہ چنگھاڑیںاس قدرخوف ناک ہیںکہ اسلامیان بھارت کاسینہ چاک، چاک اوردامن تارتارہوچکاہے ۔دل اس قدرزخمی کہ ان دریدہ دلوںکی رفوگری کسی بھی طورممکن
مزید پڑھیے


اسیران کشمیرکےا غم واندوہ

جمعرات 12 نومبر 2020ء
عبدالرفع رسول
ہزاروںاسیران کشمیر کی جرات،انکی عزم وہمت اوران کے حوصلوں کوہزاروں سلام ۔سلام ان پرکہ انہوںنے رودادقفس رقم کرتے ہوئے امیدکے چراغ کی لو کومدہم ہونے اورٹمٹمانے نہیں دیا ۔کچھ سجھائی نہیں دیتاکہ دنیاوالوں میں سے کون اسیران کشمیرکا آشوب لکھے ،کیسے لکھے ،کیوں لکھے کیونکہ دنیاوالے تواپنے خرخشوں میں مست پڑے ہیں۔ لیکن یہ بات لکھنے سے کوئی نہیں رہ سکتاکہ دوروغائے قفس کے دھونس،دبائو اور دھمکیاں ان اسیران کے صبرکے قلعوں سے جب ٹکراتی ہیں تو شکست کھاجاتی ہیں۔اسلامیان کشمیرکی اجتماعی توقیر پر یورش کرنے والے قابض ،جابراورجارح بھارت سے آزادی کا خواب بلالحاظ عمروجنس سب کشمیری مسلمانوں
مزید پڑھیے


مسلمان حکمرانوںکیلئے ڈوب مرنے کامقام!!

منگل 10 نومبر 2020ء
عبدالرفع رسول
کتنابڑاالمیہ ہے کہ فرانس ڈنکے کی چوٹ پر اہانت رسولؐکامرتکب ہورہاہے لیکن اسلامی تنظیم اوآئی سی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔جب ایسے موقع پربھی یہ فورم اپناکرداراداکرنے سے قاصر رہے ، ایسے فورم سے پھرکونسی امیدوابستہ رکھی جاسکتی ہے ۔ آخرہمیں کیاہوگیاکہ ہم لتاڑھے جارہے ہیں اور ہمارے سینوں پرمونگ دلا جا رہا ہے ۔مٹھی بھر یہودیوں کے جذبات کے حوالے سے پوری دنیا حساس بن چکی ہے۔یہودی کہتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم میں جرمن فوجیوں نے تقریباً ’’ایک کروڑ‘‘گیس چیمبروں میں گھسا گھسا کر یہودیوں کو زندہ جلادیا تھا۔اور وہ اسے ہولو کاکہتے ہیں۔یعنی بقول ان کے
مزید پڑھیے


علامہ اقبالؒ اورکشمیر

پیر 09 نومبر 2020ء
عبدالرفع رسول
علامہ اقبا ل کے زمانہ میں مسلمانوں پر بے حسی طاری تھی۔ ہندوستانی 1857 کی جنگ آزادی میں شکست کھانے کے بعد ہمت ہار کر ہتھیار ڈال چکے تھے۔ مسلمانوں پر انگریز حاکموں نے بغاوت کا الزام لگا کر ان کی بری طرح سرکوبی کی تھی۔ اس لئے بظاہر ان میں ایک نئی زندگی کی کوئی رمق بھی باقی نہیں رہی تھی۔ ادھر دنیائے اسلام کا بھی کم و بیش یہی حال تھا۔ مسلمان حکمران فرانس ،انگلینڈاوردیگرغیر ملکیوں کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے ہوئے تھے اوراپنی رعایا کے لئے وہ نہایت جابر و قاہر تھے۔ وہ خود عیش
مزید پڑھیے