BN

عبدالرفع رسول


کشمیری یخ بستہ قید میں


جمعہ22نومبر کوبھارت کے سابق وزیرخارجہ یشونت سنہا کی قیادت میں سول سوسائٹی کا ایک وفد کشمیر پہنچا ۔اس سے قبل کئی مرتبہ سول سوسائٹی اور سیاسی نمائندوں کو کشمیر آنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔کشمیر کی تازہ کشیدگی کا براہ راست جائزہ لینے کے لیے کئی مرتبہ بھارتی سیاستدانوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے کشمیر آنے کی کوشش کی تاہم انہیں ہوائی اڈے سے ہی واپس بھیج دیا گیا۔ان میں کانگریس کے رہنما راہول گاندھی اور غلام نبی آزاد بھی شامل تھے۔بعد میں بھارتی سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد کمیونسٹ پارٹی کے رہنما اور غلام نبی
اتوار 24 نومبر 2019ء

درندہ صفت بھارتی جنرل کے شرمناک خیالات

جمعرات 21 نومبر 2019ء
عبدالرفع رسول
بھارتی فوج کاایک درندہ صفت اورخونخواربھیڑیا جنرل ایس پی سنہاخم ٹھونک کرنہایت بے شرمی کے ساتھ کشمیریوں کی عزت وعصمت پرہاتھ ڈالنے کی شرمناک ابلیسیت ، اور درندگی کی حمایت کرتے ہوئے اپنے ،بھارتی فوج اوربھارتی حکمرانوں کے چہرے پررسوائی مل کرپوری دنیاکواپنی روسیاہی سے متعارف کروا دیا ہے آہ !وہ بھی کیا زمانہ تھااوروہ بھی مسلمان حکمران ہی تھے کہ جنہوں نے ایک مسلمان خاتون کی پکارپرراجہ داہر کی اینٹ سے اینٹ بجادی ۔یہ توہمارے ہی اسلاف تھے کہ جواپنے مسلمان بھائیوں کی مددکے لئے بالفعل سمندروں کے سینے چیرتے رہے، فلک بوس پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا،باد صرصراورآندھیوں
مزید پڑھیے


ارض کشمیرسے سرزمین فلسطین تک

منگل 19 نومبر 2019ء
عبدالرفع رسول
کشمیرسے فلسطین تک کشتگان ستم کے فگار دلوں پر بھارت اوراسرائیل مونگ دل رہے ہیںلیکن بین الاقوامی افق پرکوئی طوفان نہیں اٹھ رہا۔ایسالگ رہاہے کہ جیسے چاردانگ عالم ایک سکوت مرگ طاری ہے ۔ 13نومبر2019بدھ سے اسرائیل کی تازہ بربریت کے دوران کم ازکم40 فلسطینی نوجوان شہیدجبکہ 100سے زائدزخمی ہوئے جس پرکوئی نہیں بولا۔واضح رہے کہ چپ رہنا بھی ظلم کی تائید میں شامل ہے اوراسے تائیدسکوتی کہاجاتاہے ۔ اغیارتواغیار تھے ہی لیکن اپنے بھی اپنوں کواب بھول رہے ہیں۔اسلام کایہ طرۂ امتیاز ہے کہ اس نے رنگ ونسل اورقوم ووطن عربی اورعجمی کے خودتراشیدہ تمام بتان کو بیک قلم
مزید پڑھیے


بھارت سانپ ہے اپنے ہی بچے نگل رہاہے

اتوار 17 نومبر 2019ء
عبدالرفع رسول
29 اکتوبر 2019ء کوجنوبی کشمیرکے ضلع کولگام کے کاترس گائوںمیں پانچ بہاری مسلمان مزدوروںکوقابض بھارتی فوج نے ہلاک کردیا، اس سے چندیوم قبل شوپیان میں دوٹرک ڈرائیورہلاک کردیئے گئے ۔ جس سے ثابت ہورہاہے کہ بھارت سانپ ہے اپنے ہی بچے نگل رہاہے۔ان مزدوروں کوایسے موقع پرگولیوں سے بھون ڈالاگیا جب ایک نام نہاد یورپی پارلیمانی وفد سری نگرمیں موجودتھا۔کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد اگست میں کشمیرکی ظالم پولیس نے ایک ایڈوائزری جاری کی تھی کے غیر کشمیری مزدور اور سیاح کشمیر چھوڑ کر چلے جائیں۔لیکن اب یہ ایڈوائزری ہٹا لی گئی ہے۔چونکہ
مزید پڑھیے


کشمیر۔۔۔محاصرے کے 100دن

بدھ 13 نومبر 2019ء
عبدالرفع رسول
زمانے کوپھرسے ظلمت کدوں اورظالم خو حکمرانوںکاسامناہے۔ پھر وہی دورجہالت کی داستانیں دہرائی جارہی ہیں ، انسانیت دم توڑرہی ہے اور عالم انسانی کی فضائیںمسموم ومکدرہیں۔ظلم، ضمیرانسانی کی اجتماعی بیخ کنی کا نام ہے۔ بھارت عشروں سے وادی کشمیر میں ریاستی استبداد کے جوابواب لکھ رہا ہے۔انہیںپڑھ کربھی عالمی سطح پرکشمیریوں کی طرف کوئی توجہ نہیں۔عالمی چوہدری مسئلہ کشمیرکوخالصتاََمسلمانوں کامسئلہ سمجھتے ہوئے ایساعقدہ لایخل قراردے رہے ہیں کہ جس کی انکی لغت فہم کے مطابق گرہ کشائی ممکن نہیں۔کشمیرکی سسکتی بلکتی انسانیت پرکوئی توجہ نہیں کیونکہ دنیاکادل پتھراوراس کی فکریں بالیدگی کی شکارہیں ۔ جب انسانیت کی کتاب دستور بے توقیر
مزید پڑھیے



کشمیری نوجوان کا بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع

بدھ 06 نومبر 2019ء
عبدالرفع رسول
5اگست سے آج تک کشمیرسخت محاصرے میں ہے کشمیریوں کوباہرجانے اورنہ ہی کسی کشمیری کو کشمیر میں داخل ہونے کی اجازت ہے ۔جنوبی کشمیرکے ضلع اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے علیم سیداپنے گھرسے باہربھارت میں بسلسلہ تعلیم وروزگارمقیم ہیں۔تمام کشمیریوں کی طرح ان کی بھی اپنے گھر والوں سے کوئی بات نہیں ہوپارہی ۔ایک ایسا شخص جو ہر روز اپنے خاندان والوں سے فون پر باتیں کرتا تھا اب کئی ماہ سے ان سے رابطے میں نہیں۔علیم سید کشمیر جانے کے خواہشمند ہیں تاکہ وہ اپنے خاندان والوں کی موجودہ صورتحال کے بارے میں جان سکیں مگر پابندیوں
مزید پڑھیے


مسئلہ کشمیریا آئن سٹائن اور نیوٹن کا فلسفہ

منگل 05 نومبر 2019ء
عبدالرفع رسول
مسئلہ کشمیرکی حیثیت آئنسٹائن اور نیوٹن کے فلسفے کے جیسی ہے کہ ایک نقطہ تلاش کر لیاگیا تو سارا مسئلہ حل ہوجائے گا، لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی اورظالم دنیاکے بڑے بڑے چوہدیوں اورمسلم حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی نے اس مسئلے کی پرت اور اس کی تہہ اس قدر دبیز بنادی کہ اجمالی نظرڈالنے سے عام ذہن اس مسئلے کوپیچیدہ ترسمجھ رہاہے۔ کشمیرسے فلسطین اورافغانستان تک پوری ملت اسلامیہ کے ارد گرد اغیار کا ایک محاصرہ ہے، جواپنی پائیداری پرنازاں ہیں اوراسے ہمیشگی سمجھتے ہیں۔منشا و مرضی کے وہی مالک بنے بیٹھے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ انہی کے پاس
مزید پڑھیے


کشمیرمحاصرے کے 3ماہ

پیر 04 نومبر 2019ء
عبدالرفع رسول
کشمیرمحاصرے کے پورے 3ماہ بیت چکے ہیں۔کوئی نہیں نظرآرہاکہ جوکشمیریوں کواس کڑے محاصرے سے نکال باہرلانے کی سعی کرے اورعزم باندھے۔اگرچہ بنیادی طورپر انسان ایک معاشرتی زندگی بسر کرتا ہے،مظلومین پررحم کھانا اس کی سرشت ہے ۔لیکن اکیسویں صدی کی بادصرصرنے سب ختم کردیا،ظلم وجبرکادوردورہ ہے اورانسانیت دم توڑتی نظر آتی ہے ۔ پوری دنیاکثیرالنوع سانحات کی لپیٹ میں آچکی ہے۔ عصرحاضرمیںانسانوں کے جمگھٹے میں انسانیت تلاش کرنااورظلم کی اس اندھیرنگری میں انصاف طلب کرنا گویا نمک کی کان سے مٹھاس تلاش کرنے کے مترادف ہے، کشمیرسے فلسطین تک نظردوڑایئے تولگ پتاجاتاہے کہ یہ دنیااب انسانیت سے خالی، غمگساری
مزید پڑھیے


سلیکٹیڈ یورپی وفد کادورہ سری نگر

اتوار 03 نومبر 2019ء
عبدالرفع رسول
پوری دنیاکابھارت پر دبائو ہے کہ مقبوضہ کشمیرکی اصل صورتحال کوجاننے کے لئے عالمی سطح کے سیاسی وفودکومقبوضہ کشمیرجانے دیاجائے مگرمودی اپنے جرائم کوچھپانے کے لئے آئیں ،بائیں ،شائیں کر کے معاملے کوٹال رہاہے ۔ایسے میں مودی اوراسکے وزیرداخلہ اور قومی سلامتی امورکے مشیراجیت ڈول کوسوجھی کہ کیوں نہ اس پریشرسے نکلاجائے اورعالمی رائے عامہ کودھوکے میں مبتلاکرکے ایک ڈرامہ رچایاجائے تواس بات پرتینوں متفق ہوئے کہ دنیاکی آنکھوں دھول جھونکاجائے اوراسلام اورمسلم دشمن سلیکٹیڈ یورپی وفد کادورہ سری نگرکرایاجائے۔چنانچہ سلیکٹیڈ اور چنیدہ یورپی ممبران پارلیمان کو کشمیر لانے کامنصوبہ بنانے کے لئے امیت شاہ اوراجیت ڈول نے مل
مزید پڑھیے


مقبوضہ کشمیرکا72واں یوم سیاہ

پیر 28 اکتوبر 2019ء
عبدالرفع رسول
مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کے لگائے ہوئے کرفیو کو 87 دن ہو گئے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں72 سال سے کوئی نہ کوئی خوفناک سانحہ اوررونگٹے کھڑاکرنے والا حادثہ رونماہوتارہتاہے۔ ان سانحات اورحادثات کاآغاز 27اکتوبر 1947ء کواس وقت شروع ہواکہ جب بھارتی فوج کا پہلا دستہ سرینگر کے ائیر پورٹ پر اترا اورکشمیرکی تاریخ کا تیرہ بخت باب قلمبند ہونا شروع ہوا۔یہ ایک المناک داستان ہے اور تاریخ انسانی کا سیاہ باب بھی کہ بھارت نے برطانوی غلامی سے رہائی اور آزادی پانے کے بعد فورا کشمیریوں کاحق خودارادیت چھین لیا۔ حالانکہ انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ کشمیر پر تقسیم برصغیر
مزید پڑھیے