BN

عبداللہ طارق سہیل



دکھی حیوانیت


ایوان انصاف سے یہ ریمارکس سامنے آئے ہیں کہ عوام کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایک معاصر کے صفحہ اول پر تین کالمی سرخی کے ساتھ یہ خبر چھپی ہے کہ سڑکوں پر فاقہ زدہ چہروں کے ڈیرے، امداد ملی نہ کام۔ راشن لینے کے لئے لوگ مارے مارے پھر رہے ہیں‘ حکومت کا ریلیف پیکیج مستحق افراد کی پہنچ سے دور۔ اور پھر یہ خبر ملاحظہ فرمائیے کہ پنجاب حکومت نے دوسرے اداروں کی طرف سے امدادی کاموں پر اجازت لینے کی شرط لگا دی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اسے پابندی کہا جا
منگل 07 اپریل 2020ء

آہ فلک پر جائے تو کیسے؟

پیر 06 اپریل 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
خیر سے چینی بحران کی رپورٹ جاری ہو گئی ہے۔ ٹوئٹر پر بحث جاری ہے کہ رپورٹ کس نے جاری کروائی۔ حکومت نے یا الحکومت نے۔ دونوں الگ الگ خبریں ہیں اگرچہ ایک معنے میں‘ فی الحال ایک ہی ہیں۔ بے کار بحث ہے۔ جس نے بھی جاری کی رپورٹ تو بہرحال آ گئی اگرچہ اس میں خاص رعایت سے کام لیا گیا ہے۔ رپورٹ کہتی ہے‘ چینی کی مد میں قصور خود حکمران جماعت والوں کا ہے۔ پنجاب حکومت نے کسی کے دبائو میں سبسڈی دی۔رعایت یہ کی گئی ہے کہ اس کا نام نہیں دیا جس نے دبائو
مزید پڑھیے


امداد کا اعلان اور وہ سنجیدہ ہو گئے

منگل 31 مارچ 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
کرونا متاثرین کی مدد کے لئے مختلف شہروں سے گمنام افراد سرگرم ہیں۔ یہ لوگ چہرہ نہیں دکھاتے‘ نام نہیں بتاتے سیلفی بنا کر تصویر بھی اپ لوڈ نہیں کرتے۔ بس خاموشی سے مستحق افراد کو راشن اور دوسری چیزیں دے کر یا ان کے گھروں کے باہر رکھ کر چلے جاتے ہیں۔اس سے بڑا تجربہ ترکی میں ہو رہا ہے۔ مالدار افراد راشن کے تھیلے سڑکوں کے کنارے رکھ جاتے ہیں۔ بہت سی شاہراہیں سامان کے ان تھیلوں سے اٹی پڑی ہیں۔ پاکستانی بطور قوم خیرات صدقات اور رفاہ کے لئے رقم دینے میں بہت پیچھے ہے۔عالمی انڈکس کے
مزید پڑھیے


کرونااور سمجھدار میڈیا

پیر 30 مارچ 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
عشرے بیت گئے یا پھر صدیاں گزر گئیں‘ یا شاید ابھی کل ہی کی بات ہے۔ بہرحال سکول کے دن تھے کہ خبر آئی اسرائیل سے جنگ میں مصر کے جزیرہ نما سینائی پر یہودیوں کا قبضہ ہو گیا۔ جنگ کراچی میں اس سانحے پر نظم چھپی جس کا بس ایک ہی مصرع یاد رہ گیا ہے ع آج سینائی کی مسجدیں بے اذاں جس نے پڑھی‘ رو دیا۔شاعر نے اپنا دکھ ظاہر کیا تھا ورنہ حقیقت میں سینائی(سویز) کی کوئی مسجد بے اذان نہیں ہوئی تھی۔ بدستور نمازیوں سے آباد تھی۔ لیکن آج زمانے نے وہ ناقابل یقین
مزید پڑھیے


کرونا کی آڑ میں اسلام پر حملے

منگل 24 مارچ 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
کرونا کی آڑ میں سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے باقاعدہ اسلام پر حملے شروع کر دیے ہیں۔ کچھ افراد نے لکھا تم تو کہتے تھے‘ کعبہ کا طواف جس دن رکا، زمین آسمان کی گردش رک جائے گی۔ کچھ بھی نہیں ہوا۔ یہ بھی ایک طریقہ واردات ہے کہ ’’دشمن‘‘ کی طرف ایک ایسا کمزور اور مضحکہ خیز دعویٰ منسوب کر دو جو اس نے کیا ہی نہیں‘ پھر اس دعوے کے پرخچے اڑا دو ۔ طواف کعبہ رکنے سے زمین و آسمان کی گردش رکنے یا قیامت آ جانے کا کوئی دعویٰ اسلام نے کیا ہی نہیں۔ یہ
مزید پڑھیے




کرونا سے کرونا تک

پیر 23 مارچ 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
مشکل گھڑی ہے اور مشکل بڑھتی جا رہی ہے۔ لوگ ڈرے ہوئے ہیں اور ڈر پھیلتا جا رہا ہے۔ تفتان کے راستے آنے والے کرونا وائرس کے جھکڑ اب طوفان بنتے جا رہے ہیں۔حکومت نے اس عذاب با آفت سے نمٹنے کے لئے اور عوام کے بچائو کے لئے کئی ٹھوس اور گراں قدر فیصلے کئے ہیں جن کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہو گی۔ خلاصہ ان اقدامات کا یہ ہے کہ گرمیوں کا انتظار کیا جائے۔ کرونا خود ہی ختم یا کمزور ہو جائے گا۔ دیکھا جائے تو یہ نہایت معقول اور دولتمندانہ پالیسی ہے اور اس کا تجربہ
مزید پڑھیے


کرونا اور گئو ماتا

منگل 17 مارچ 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
کرونا کے مظہر دنیا بھر میں دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ یورپ کے بعض ملکوں میں تو قیامت کا خوف ہے ‘امریکہ میں افراتفری۔ ہر ملک کرونا سے نمٹنے کے لئے کچھ نہ کچھ بلکہ بہت کچھ کر رہا ہے۔ سوائے پاکستان کے یہاں ’’عالمی چندے‘‘ سے حصہ لینے کے لئے لاک ڈائون کا کھڑاک تو خوب کیا گیا لیکن بندوبست ذرا برابر بھی نہیں۔ وفاق بے پروا ہے‘ پنجاب برابر مست‘ کسی ہسپتال جا کر دیکھ لیجیے‘ چار میں سے محض سندھ ایک صوبہ ہے جس نے آئسولیشن کیمپ بنائے۔ وفاق نے تو حد کر دی۔ ایئر پورٹس سے
مزید پڑھیے


اس کا شکر ادا کر بھائی

پیر 16 مارچ 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
مسلم لیگ ن کے رہنمائوں نے فرمایا کہ اپوزیشن کو کمر توڑ مہنگائی کا پورا احساس ہے۔ پریس کانفرنس میں ایک صحافی نے سوال کیا تھا کہ کمر توڑ مہنگائی نے عوام کا بھرکس نکال دیا ہے۔ اپوزیشن کیوں مل کر آواز نہیں اٹھا رہی۔ اس کے جواب میں یہ ارشاد فرمایا۔ یعنی فی الحال کرنا کرانا کیا ہے‘ یہی احساس ہو جانا ہی کافی ہے‘ ایسا ہی ایک سوال ثانوی درجے کے ایک اپوزیشن لیڈر سے ہم نے بھی انہی دنوں کیا تھا۔ پوچھا سرکار آپ مہنگائی کے خلاف جلسے جلوس کیوں نہیں کرتے۔ بولے‘ نیب کا ڈر ہے‘ پکڑ
مزید پڑھیے


حیا مارچ بمقابلہ عورت مارچ

منگل 10 مارچ 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
عورتوں کے عالمی دن پر مذہبی جماعتوں نے بھی جلوس نکالے اور انہیں ’’حیا مارچ‘‘ کا نام دیا۔ ان حیا مارچوں میں بہت اچھے نعرے لگائے گئے لیکن عورتوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف کچھ کہنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ ایک تاثر جھوٹا یا سچا یہ بنا کہ مقصد عورتوں کے حق میں آواز اٹھانا نہیں تھا، محض مغرب زدہ خواتین کو کائونٹر کرنا تھا۔ اچھی بات ہے، مغرب زدہ ایجنڈے کو ناکام ہونا ہی چاہئے لیکن اسلامی جماعتیں اگر عورتوں کے مسائل حل کرانے کے لیے آگے بڑھیں تو مغربی ایجنڈا خود ہی ناکام ہو جاتا۔
مزید پڑھیے


عورت مارچ کا کفر

پیر 09 مارچ 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
افغان صورتحال ایک بڑا مسئلہ ہے ‘ کرونا وائرس اس سے بھی بڑا اور مہنگائی اس سے بھی زیادہ خطرناک۔لیکن ان سب سے بڑا بحران وہ ہے جو ’’عورت مارچ‘‘ کے حوالے سے پیدا ہوا۔عورتوں کی بعض تنظیمیں اپنے لئے حقوق مانگ رہی ہیں جو ملک پر برسر اقتدار جاگیردار اشرافیہ کو قبول نہیں۔ اس مارچ کو رکوانے کے لئے ایک رٹ عدالت میں دائر کی گئی لیکن عدالت نے یہ رٹا خارج کر دی اور کہا کہ ان خواتین کے مطالبات وہی حقوق ہیں جو اسلام نے انہیں دیے ہیں۔بے شک ‘ اسلام نے انہیں دیے ہیں لیکن اسلامی
مزید پڑھیے