BN

عبداللہ طارق سہیل



ترکی کا بفرزون ایڈونچر


غالباً آٹھ نو ماہ پہلے اس کالم میں لکھا گیا تھا کہ امریکہ شام میں کرد علاقے سے جانے کا سوچ رہا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو ترک فوج اس علاقے میں گھس آئے گی اور اب جبکہ امریکی دستے کرد علاقے سے نکلے‘ ترک فوج داخل ہو گئی اور دو تین روز کی فوجی کارروائی کے بعد اس نے اپنی سرحد کے ساتھ ساتھ پوری لمبائی میں 30کلو میٹر چوڑی پٹی پر قبضہ کر لیا ہے‘ ترکی کا اعلان تو یہ ہے کہ وہ اس علاقے میں ان 35,30لاکھ شامی باشندوں کو بسائے گا جو چھ سات سال کی
پیر 14 اکتوبر 2019ء

دھیرے دھیرے، رازداری کے ساتھ

جمعه 11 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
ایک اخبار میں جماعت اسلامی کے رہنما امیر العظیم کا یہ بیان نظر سے گزرا کہ مدارس کے بنک اکائونٹ منجمد کرنا تشویش ناک ہے۔ کوشش کے باوجود کسی اور اخبار میں یہ بیان نہیں مل سکا، شایداسی اکیلے اخبار نے چھاپا۔ البتہ اس دوران وفاق المدارس کی تنظیموں کے بیانات میں یہ نکتہ بھی شامل تھا جسے سرخی میں تو نہیں، متن میں جگہ ملی۔ بیان کے اگلے روز ایک اخبار کے تجزیہ نگار نے اپنے کالم میں اس کی تفصیل بیان کی اور بتایا کہ کم و بیش ڈیڑھ سو بڑے مدارس کے بنک اکائونٹ منجمد ہو چکے
مزید پڑھیے


ایک اور پرمغز‘ تاریخِ ’’ناز‘‘ خطاب

جمعرات 10 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
وزیر اعظم نے ایک اور تاریخی خطاب فرما دیا۔ اس بار اعزاز چین کے حصے میں آیا کہ خطاب سازی کی تاریخ کا ایک سنہرا باب اس کی سرزمین پر لکھا گیا۔ وہی چین جس کے سربراہ کو 2014ء میں کسی نے پاکستان کا دورہ کرنے سے روک دیا تھا۔ تاریخی خطاب کی تاریخی بات یہ تاریخی خواہش تھی کہ کاش میں پانچ سو کرپٹ لوگوں کو گرفتار کر سکتا۔ خواہش بہت ہی مبارک اور نیک مطلوب ہے۔ افسوس کہ یہ گنتی پوری نہیں ہو سکتی ۔ اس لئے کہ لے دے کے شریف خاندان کے قابل گرفتار افراد پندرہ بیس
مزید پڑھیے


لنگر اور ابن سخی کے افسانے

بدھ 09 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
مبارک باشد کہ قاسم سوری کی ڈپٹی سپیکری بحال ہو گئی۔ اس کالم میں نوید اطلاع پچھلے ہفتے ہی دے دی گئی تھی کہ اپوزیشن کو خوش ہونے کی ضرورت نہیں، یہ معطلی عارضی ہے۔ ڈپٹی سپیکر کی فارغ خطی کا نوٹیفکیشن جب آیا تھا تو قانوناً سپیکر کو اسی روز اس عہدے کا الیکشن کرانا تھا، وہ اس کے پابند تھے لیکن انہوں نے الیکشن نہیں کرایا اور یہ ٹھیک ہی کیا۔ آخر ہفتے دو ہفتے کے لیے کسی عہدے کا الیکشن کرانا کون سی دانشمندی ہے۔ انہیں بھی پتہ تھا اور اس کالم نویس کو بھی۔ اب اس
مزید پڑھیے


اعجاز شاہ کی صدق بیانی

منگل 08 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
دھرنے کی دھول اڑاتی خبروں اور اس حوالے سے ہونے والے تجزیوں میں کچھ ننھی منی خبریں گم ہو کر رہ گئی ہیں۔ مثلاً پچھلے ہی ہفتے ‘دو دنوں کے دوران حکومت نے تین قسطوںمیں بجلی مہنگی کر دی۔ پہلے 55پیسے فی یونٹ‘ اگلے روز نیپرا کے ذریعے ایک روپے پچپن پیسے اور پھر اسی روز شام کو کابینہ کے ذریعے 30پیسے یونٹ مہنگی کی گئی۔ یعنی لگ بھگ اڑھائی روپے کا اضافہ ہوا۔ جب سے حکومت آئی ہے اتنے اضافے بجلی کی قیمت میں ہو چکے ہیں کہ کسی کو یاد بھی نہیں۔ نئے اضافوں کا مطلب یہ ہوا
مزید پڑھیے




بے مزہ ‘ بے کیف دھرنا

پیر 07 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
ان دنوں ہر جگہ مولانا کے آزادی مارچ کا چرچا ہے۔ کئی چینلز پر ہلچل مچی ہے۔ حکومتی ایوانوں میں بھی کچھ نہ کچھ مچا ہوا ہے۔ کیا مچا ہوا ہے ٹھیک سے پتہ نہیں۔ شیخ جی بتا سکتے ہیں لیکن وہ خود الجھے الجھے نظر آتے ہیں۔ ایک دن ایک سانس میں فرمایا کہ مولویوں سے معاملات طے ہو گئے ہیں‘ دھرنا نہیں ہو گا‘ پھر دوسری سانس میں فرمایا کہ مولانا دھرنا مت دیں‘ اسلام آباد پنڈی میں بہت ڈینگی ہے‘ انہیں کاٹ لے گا۔ یعنی اگر معاملات طے ہو چکے ہیں اور دھرنا نہیں ہو گا تو
مزید پڑھیے


مہنگائی کی ذمہ دار بیورو کریسی

جمعه 04 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
حکومت پر جہاں تنقید ہونی چاہیے وہاں اس کے اچھے کاموں بلکہ کارناموں کو سراہنا بھی ضروری ہے تو یہ چند سطریں درمدح حکومت بر تقاضائے انصاف سمجھیے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ اس سال سموگ بہت کم ہو گی ۔ یعنی ہو گی تو ضرور لیکن شدت نہیں ہو گی اور اس کا کریڈٹ موجودہ حکومت کو جاتا ہے۔ وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ سموگ کارخانوں کے دھوئیں سے اس وقت پیدا ہوتی ہے جب وہ فوگ سے مل جاتا ہے۔ آدھا دھواں بھارتی کارخانوں سے آتا ہے اور وہ تو آئے گا‘ آدھا جو پاکستانی کارخانوں کی
مزید پڑھیے


عارضی امیدیں

جمعرات 03 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
اپوزیشن کے کچھ بھولے ناتھ دو خبروں سے بہت خوش ہیں۔ ایک تو یہ کہ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نااہل ہو گئے۔ ان کے حلقے میں سنا ہے ‘62,61ہزار ووٹ جعلی پڑے تھے(شکر ہے ‘ 62‘63ہزار نہیں پڑے تھے) دوسرے یہ کہ الیکشن کمشن میں فارن فنڈنگ کیس کھل گیا ہے۔ اس کیس میں بہت سے راز ہیں۔ ایسے کہ سامنے آئے تو بھونچال کی سی فضا بن جائے گی۔ آنکھیں پھٹی کی پھٹی اور منہ کھلے کے کھلے رہ جائیں گے۔ چنانچہ بھولے ناتھ اپنی کشت امید ہری ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ کسی پر امید کو ناامید کرنا اچھی
مزید پڑھیے


تقریر پر چند سوالات

بدھ 02 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
حکمران جماعت کے بعض رہنما اس بات پر برہم ہیں کہ وزیر اعظم کی جنرل اسمبلی والی تقریر پر جسے وہ تاریخی اور تاریخ ساز قرار دے رہے ہیں، اپوزیشن کے کچھ لوگ تنقید کیوں کر رہے ہیں! تنقید کہاں ہے؟ ہاں کچھ قسم کے سوالات ہیں، وہ بھی چند ایک۔ اپوزیشن اور میڈیا کے بعض حلقے ان کا جواب مانگتے ہیں۔ حکمران جماعت اور دیگر محب وطن حلقے چاہیں تو جواب دے دیں چاہیں تو نہ دیں، برہمی اور پریشانی کی کچھ ایسی خاص ضرورت نہیں۔ یہی کہ وزیر اعظم نے خطاب میں اس متنازعہ اقدام کا سوال کیوں نہیں اٹھایا
مزید پڑھیے


غریب کی بھی چھپ گئی

منگل 01 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
مسلم لیگی لیڈر احسن اقبال نے کہا ہے کہ کشمیر پر سخت سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ بعض احباب کا خیال ہے کہ جنگ کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ پورا سچ یہ ہے کہ دونوں میں سے ایک آپشن ضروری ہے۔ جنگ کا آپشن ہماری حکومت کے مطابق خارج از امکان ہے۔ وہ اتنی زیادہ مرتبہ یہ کہہ چکی ہے کہ جنگ کوئی آپشن نہیں۔ ہم امن چاہتے ہیں کہ خود بھارت حیران ہے۔ بھارت نے ایک بار بھی یہ نہیں کہا کہ وہ جنگ نہیں چاہتا اور عام خیال یہی ہے کہ جنگ ہوگی بھی نہیں۔ بھارت آزاد
مزید پڑھیے