BN

عبداللہ طارق سہیل



جماعت اسلامی تحریک نہ چلائے۔ نیب سے ڈرے


جماعت اسلامی نے ’’منفرد‘‘ اعلان کیا ہے۔ کہا ہے کہ وہ مہنگائی کے خلاف تحریک چلائے گی۔ لاریب۔ اس کے پاس منظم اور مستعد کارکنوں کی کھیپ ہے۔ تحریک چلا سکتی ہے لیکن چلے گی نہیں۔ منفرد اعلان اس لئے کہ مہنگائی کے خلاف یوں تو ہر جماعت بول رہی ہے لیکن تحریک چلانے کی بات کسی نے نہیں کی‘ صرف جماعت اسلامی نے یہ تفردکیا۔ تحریک چلے گی، اس لئے نہیں کہ موجودہ حکومت نے نیب کو آگے کر دینا ہے۔ سراج الحق کو ڈرنا چاہیے اس دن سے جب نیب ان کا دبئی میں’’ٹاور‘دریافت کر لے گا اور پھر
منگل 21 جنوری 2020ء

کپتان کے گُن نادان کیا جانیں

پیر 20 جنوری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
حکومت نے کہا ہے کہ آٹے کا بحران جلد ختم ہو جائے گا۔ آپریشن کا حکم دے دیا گیاہے۔ ٹھیک ہے۔ بحران پیدا کرنے کا مقصد تو حاصل ہو گیا جیسا کہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے ’’دوستوں‘‘ کو نوازنے کے لئے بحران خود پیدا کیا۔ سنا ہے‘ بعض مقدس ’’اے ٹی ایم‘‘ کے ذخائر وفور زر سے چھلک اٹھے ہیں اور کیوں نہ چھلک اٹھتے ۔گندم کی حالیہ فصل پر خریداری کا سرکاری ریٹ 11سو روپے من تھا۔ یہی گندم حکومت نے 28سو روپے من بیچی۔1700روپے فی من کا جائز منافع آخر کہیں تو پہنچا
مزید پڑھیے


میدان جنگ عراق میں

منگل 14 جنوری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
جنرل قاسم سلیمانی کی موت کا بدلہ چکانے کے لئے ایران نے امریکی اڈوں کی طرف اپنے میزائل بھیجے۔ ایک میزائل نے یوکرائن ایئر لائنز کا جہاز اڑا دیا۔ پونے دو سو مسافر مارے گئے جن کی اکثریت ایرانی تھی۔ کچھ ایران کے شہری اور کچھ ایرانی تارکین وطن۔ اس جہاز کی تباہی اب ایران کے لئے حادثہ بن گئی ہے۔ ملک کے اندر باہر اس کے لئے مسئلے پیدا ہو گئے ہیں۔ ایران میں بڑے بڑے جلوس حکومت کے خلاف نکل رہے ہیں جن میں رہبر خامنائی کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہاہے۔ مظاہرین خامنائی اور صدر روحانی
مزید پڑھیے


تاریخی ڈیل اور احتساب

پیر 13 جنوری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
کچھ لوگ بہت دور کی جوڑتے ہیں جیسے کسی نے جرمنی جاپان کے بارڈر جوڑ دیئے۔ کل سابق افغان صدر حامد کرزئی لندن میں نواز شریف سے ملے تو کسی نے یہ دور کی ہانکی کہ کرزئی چونکہ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے کارندے ہیں لہٰذا ملاقات اسی ’’ڈیل‘‘ کے ضمن میں ہوئی جو حال ہی میں ہوئی ہے اور اسی کے تحت پاکستان کے ’’ایوان خوفزدگان‘‘ نے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی قانون سازی کی۔ دیکھیے کہاں کا ناتا کہاں سے جوڑ دیا۔ خیر، یہ جوڑ اپنی جگہ، تاریخ کی سب سے بڑی قانون سازی اپنی جگہ۔ یار لوگوں نے
مزید پڑھیے


مستوں کا دور

منگل 07 جنوری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
ایسے میں جب ہر گھرانے کو داخلی معاشی بحران کا سامنا ہے‘ مثبت اشاریوں پر توجہ دینے کا دماغ ہی کہاں رہا۔ چنانچہ ایسا ہی ایک مثبت اشاریہ خبر کی صورت شائع ہوا لیکن محروم توجہ رہا۔ خبر یہ تھی کہ ملک میں نشئیوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کو وزیر نے بتایا کہ یہ تعداد بڑھ کر اب ستر لاکھ ہو گئی ہے جو دنیا کے 42(چھوٹے) ممالک کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے، یہ بات اگرچہ سمجھ میں نہیں آئی کہ نشیئوں کی تعداد بڑھنے کی یہ رپورٹ سائنس اور
مزید پڑھیے




ایران کے محدود ہوتے آپشن

پیر 06 جنوری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
خلیج میں نئی جنگ کے خدوخال بڑی حد تک ابھر چکے۔ اگرچہ بہت بڑی لڑائی کا ہونا یقینی نہیں۔ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد واقعات کی رفتاربڑھ گئی ہے۔ امریکی سفارت خانے اور شمالی عراق میں امریکی اڈے پر راکٹ حملوں کے بعد امریکہ نے حشب الشجی کے دو قاتلوں کو نشانہ بنایا جن میں دس بارہ جنگجو مارے گئے۔ تین ہزار مزید امریکی فوجیوں کی خلیج تعیناتی کے اعلان کے اگلے ہی روز کئی ہزار میرنیز مشرق وسطیٰ کے لئے روانہ کر دیے گئے۔ خلیج میں امریکی موجودگی پہلے ہی غیر معمولی
مزید پڑھیے


بھارت میں کچھ نئی باتیں

منگل 31 دسمبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
بھارت میں کئی مظاہر کا ظہور پہلی بار ہوا ہے جو انوکھی بات ہے۔ مسلمانوں کی شہریت کے خلاف قانون تو اپنی جگہ نادر بات ہے ہی لیکن اس کے بعد جو احتجاج ہوا اور پولیس نے جو کہا‘ اس کی بھارتی تاریخ میں کوئی مثال نہیں۔ ماضی میں مسلمانوں کا قتل اور ان کی املاک تباہ کرنے کی ذمہ داری سنگ پریوار کی ہوا کرتی تھی۔ پولیس زیادہ تر ان کی خاموش مددگار رہتی تھی۔ لیکن پہلی بار یہ ہوا کہ سنگ پریوار کے لوگ خاموش تماشائی ہیں‘ ان کی ذمہ داری پولیس ادا کر رہی ہے۔ جامعہ ملیہ
مزید پڑھیے


وزیر اعظم کا خیال خاطر احباب

پیر 30 دسمبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
احباب کو مبارک ہو کہ محرومیوں‘ تلخیوں‘ پریشانیوں اور مصیبتوں سے بھرا سال ختم ہونے میں صرف ایک دن رہ گیا اور احباب کو سنائونی ہو کہ اس سے بھی بڑھ کر اور زیادہ ’’بھرپور‘‘ سال طلوع ہونے میں بھی کچھ زیادہ وقت نہیں رہا۔ صرف ایک دن اور ان دیکھی بلائوں سے بھرا سال سر پر ہو گا۔جی ہاں‘ اسے نئے سال کی پیشگی مبارکباد کہہ لیں جس کے بارے میں ماہرین بتا رہے ہیں کہ اس میں کوئی مزید 80لاکھ پاکستانی شہری خط غربت سے نیچے جا پڑیں گے اور مزید دس لاکھ کے بے روزگار ہونے کی
مزید پڑھیے


کشمیر کاز پر جماعت اسلامی کے جلسے

منگل 24 دسمبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
جماعت اسلامی کی اسلام آباد میں کشمیر ریلی حاضری کے اعتبار سے لاجواب تھی۔ اتنے بڑے جلسے کی توقع شاید خود جماعت کو بھی نہیں تھی۔ حکومت نے ایک دن پہلے سارے اسلام آباد سے اس ریلی کے بینر اور بورڈ اتار کر نہ جانے کس کی روح کو ایصال ثواب کیا۔ اسے کشمیر ریلی سے ڈر تھا یا الرجی‘ خدا ہی جانے کشمیر کے لئے پاکستان میں اکیلی جماعت اسلامی جلوس نکال رہی ہے اور پاکستان سے باہر ترکی کے صدر اردگان ۔ وہی اردگان جس کی بلائی کانفرنس میں صنم جی وعدہ کر کے بھی نہ گئے۔ سنا
مزید پڑھیے


سنگ اٹھایا تھا کہ…

پیر 23 دسمبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
سلسلہ عباسیہ کے جملہ بادشاہ ظالم اور خونخوار تھے(ماسوائے ہارون الرشید کے اور آدھے پونے کسی اور کے) خوب جنگیں کرتے‘ اپنے ہی شہروں کو بعداز خراج ختم کرتے اور لاشوں کے ڈھیر لگا دیتے۔ اوسطاً پرخلیفے نے لاکھوں مارے اور یہ ماجرا کئی صدیاں چلا۔ ایک لحاظ سے تو انہوں نے اچھا ہی کیا۔ دیکھئے۔ آج دنیا بھر میں ڈیڑھ پونے دو ارب مسلمان ہیں اور سب کے سب غلام(ماشاء اللہ ‘ کیا تاریخی اعزاز ہے)۔ عباسی ایسا قتل عام نہ کرتے تو آج ان غلاموں کی تعداد تین ساڑھے تین ارب سے بھی زیادہ ہوتی۔ کیا اچھا لگتا
مزید پڑھیے