عبداللہ طارق سہیل



انار کی کی دستک


تاجروں کی ملک گیر ہڑتال پر شہباز شریف کا تبصرہ حقیقت پسندانہ کیا جائے یا ستم ظریفانہ ؟ فرمایا‘ عمران خاں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ پورے ملک کا لاک ڈائون کریں گے اور آج انہوں نے یہ وعدہ پورا کر دکھایا۔ شاید ان کے اپنے اندازے سے بھی زیادہ۔ چلئے‘ شہبازشریف صاحب یہ تو مان گئے کہ خان نے ایک وعدہ تو پورا کر دیا۔ خاں صاحب نے پچھلے برسوںمیں کتنے وعدے اور دعوے کئے تھے؟ گنتی کرنا تو بہت مشکل ہے لیکن فرض کر لیجیے ایک ہزار وعدے کئے تھے۔ ان میں سے ایک پورا ہو گیا تو
پیر 15 جولائی 2019ء

سادھو سنت فقیرستان

جمعه 12 جولائی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
حماد اظہرکی وزارتی ترقی غالباً بلکہ تقریباً یقینا دنیا کی سب سے زیادہ مختصر المیعاد ترقی ثابت ہوئی شعلۂ مستعجل کی اصطلاح تو سنی تھی لیکن اس کی بہرحال عمر ہوتی ہے یعنی عرصہ حیات ۔اعلان ہوا کہ انہیں وزیر ریونیو بنا دیا گیا ہے۔ یہ محکمہ حفیظ شیخ کے پاس تھا۔ اب انہیں وزیر اکنامک افیئرز بنا دیا گیا ہے۔ ٭٭٭٭٭ حماد میاں کے معاملے سے میاں اظہر یاد آ گئے۔ موصوف کو پرویز مشرف ‘ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے وزیر اعظم بنانے کے وعدے پر مسلم لیگ ن سے توڑا۔ انہوں نے کچھ اور ارکان توڑے جن میں برادران گجرات
مزید پڑھیے


ویڈیو ۔معاملہ الجھ رہا ہے یا سلجھ رہا ہے؟

جمعرات 11 جولائی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
جج صاحب کی ویڈیو کا تنازعہ تو سمجھئے کہ سلجھ گیا لیکن اس سلجھن کے اندر سے جو الجھنیں پھوٹی ہیں وہ الجھتی ہی جا رہی ہیںاور ڈور کا سرا ڈور والوں کے ہاتھ میں نہیں رہا۔ وہی بات جو کبھی کسی کہنے والے نے کہی تھی کہ جنگ کرنے کا فیصلہ تو اختیاری ہے۔ لیکن جنگ شروع ہو جائے تو پھر بے اختیاری ہی بے اختیاری ہے۔ تنازعہ یوں سلجھا کہ خود حکومت نے سلجھا دیا۔ ایک روز اعلان کر کے کہ فرانزک کرائیں گے۔ اگلے روز یہ کہہ کر یوٹرن لے لیا کہ ہم تو فریق ہی نہیں۔ اگر
مزید پڑھیے


ڈرائونا خواب سیاق و سباق کے ساتھ

بدھ 10 جولائی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
امید اچھی بات کی اندیشہ غلط بات کا ہوا کرتا ہے لیکن کبھی کبھی دونوں اکٹھے بھی ہو جاتے ہیں جیسے کہ اب ہوئے۔ حسب امید اور حسب اندیشہ حکومت جج والی زیر تنازع ویڈیو کا فرانزک کرانے سے اگلے روز ہی مکر گئی یعنی حسب روایت یو ٹرن لے لیا۔ فرانزک کرنے کا وعدہ تو کر لیا تھا لیکن پھر کسی نے کہا کہ اونٹ پر جائو گے تو کوہان پر بیٹھنا پڑے گا۔ سو مکر گئی یا ڈر گئی۔ ڈرنے کی حالانکہ ضرورت نہیں تھی۔ فرانزک کے لیے جے آئی ٹی بنا دیتی اور واجد ضیاء کو اس
مزید پڑھیے


لیکن ہم نے کر دکھایا

منگل 09 جولائی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
مریم نواز نے جج کی ویڈیو چلا کر بہت کچھ ہلا کر رکھ دیا اور جو غدر مچایا لگتا ہے وہ ابھی اور مچے گا اور خوب مچے گا۔ حکومت نے ویڈیو کی فرانزک آڈٹ کرانے کا اعلان کیا ہے‘ اب شاید گمشدہ سیاق و سباق مل جائیں لیکن نہ ملے تو؟ سیاسی جماعتیں عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں لیکن سب سے زیادہ پرلطف مطالبہ حکمران جماعت کے رہنما احمد اویس نے کیا ہے۔ ٹی وی پروگرام پر فرمایا کہ ایجنسیاں حرکت میں آئیںاور مریم سے دوسری ویڈیوز کو تحویل میں لے لیں ورنہ یہ ویڈیوز بھی چل
مزید پڑھیے




تاریخ کا توشہ خانہ

پیر 08 جولائی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
حالات کس ننگ دھڑنگ موڑ کی طرف جا رہے ہیں ۔ ایک ویڈیو آ گئی‘ پھر اس کی تردید‘ ایک اور آئے گی‘ اس کی بھی تردید ہو گی۔ تاریخ کا توشہ خانہ نوادرات سے بھرتا جائے گا اور تاریخ کی سائنس یہ ہے کہ اس کے توشہ خانے پر ڈاکہ نہیں ڈالا جا سکتا۔ گزشتہ روز کراچی میں ایک منفرد تقریب ہوئی۔ مقررین نے ذوالفقار علی بھٹو کو خراج عقیدت پیش کیا اور ایک مقرر نے مطالبہ کیا کہ سزا سنانے والے منصفوں کی لاش قبروں سے نکال کر ان پر مقدمہ چلایا جائے۔ ایسا مقدمہ چلنے کا امکان
مزید پڑھیے


پیسے کیسے لیں گے؟

جمعه 05 جولائی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
مسلم لیگ کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے کوئی کرپشن نہیں کی اس لئے وہ حکومت کو ایک روپیہ بھی واپس نہیں دیں گے چاہے انہیں ساری عمر جیل میں رہنا پڑے۔ یہ بیان انہوں نے شاید وزیر اعظم کے خطاب کے جواب میں دیا۔ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ لوٹی ہوئی دولت واپس کریں اور جس ملک میں چاہیں‘ علاج کے لئے چلے جائیں۔ یعنی پلی بارگیننگ۔ یہ تو ایک قسم کا ڈیڈ لاک ہو گیا۔ حکومت پیسہ واپس لینا چاہتی ہے۔ وہ کہتے ہیں ہم نے کرپشن کی ہی نہیں۔ کاہے کا
مزید پڑھیے


اپوزیشن کے لیے ایمنسٹی

بدھ 03 جولائی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
جہاں پناہ نے دھمکی دی ہے کہ معیشت اوپر جائے گی۔ غیر ضروری دھمکی۔ اس لیے کہ معیشت تو پہلے ہی اوپر جا رہی ہے اور سب کے سامنے جا رہی ہے اور آج کل میں وہ دن آیا چاہتا ہے کہ پوچھنے والا پوچھے گا معیشت کہاں گئی، جواب ملے گا اوپر گئی۔الجزیرہ ٹی وی نے پاکستان کی صورت حال پر جو تبصرہ کیا ہے اس کا عنوان ’’خبر انگیز سوال‘‘ قسم کا ہے۔ عنوان ہے پاکستان کی معیشت کیوں ڈوب رہی ہے۔ مضمون میں لکھا ہے کہ حکومت سارا زور غریبوں پر ٹیکس لگانے کے لیے لگا رہی
مزید پڑھیے


اچھے حالات کی نشانیاں

منگل 02 جولائی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
قومی پریس ذمہ دار ہے اور محب وطن بھی؛ چنانچہ حب الوطنی کے منافی خبریں خود ہی سنسر کر دیتا ہے۔ کسی ایڈوائس کا انتظار نہیں کرتا۔ دو روز پہلے پشاور اور لاہور میں مہنگائی کیخلاف دو جلوس نکلے۔ پشاور میں شہریوں کا مظاہرہ تھا، لاہور میں پراپرٹی کا کاروبار کرنے والوں کا۔ جو کہہ رہے تھے کہ ان کا کاروبار خطرے میں ہے۔ محب وطن میڈیا نے دونوں خبروں کا بائیکاٹ کیا، مطلب بلیک آئوٹ کیا۔ کراچی، پشاور، پنڈی وغیرہ میں کسٹم حکام دکانوں کے دروازے توڑ کر اندر گھس جاتے ہیں اور سامان اٹھا لے جاتے ہیں۔ اس
مزید پڑھیے


اے پی سی کی ’’مسلّمہ‘‘ ناکامی

پیر 01 جولائی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
6جون کی رات چھ سات محب وطن اینکر حضرات کی زبانی پتہ چلا کہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس بری طرح ناکام ہو گئی ہے۔ بزمِ یار سے آنے والے ان سبھی کی اطلاع یہ بھی ایک تھی اور مضمون بھی ایک ،یہاں تک کہ ترتیب بھی وہی تھی۔صرف الفاظ کی نشست و برخاست میں فرق تھا۔ یہ جان کر بہت اطمینان ہوا کہ سبھی محب وطن ایک ہی طرح سوچتے ہیں۔ ایک ہی طرح کا نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔ شاعری میں خیال و لفظ کی اس یک جانی کا مشترکہ ہونا ’’توارد‘‘ کہلاتا ہے۔ کہتے ہیں یہ ایک سائنسی
مزید پڑھیے