BN

عبداللہ طارق سہیل



جانوروںسے محبت اور چڑیا گھر


ایک قومی اخبار کے ادارتی صفحے پر دو کالم ساتھ ساتھ شائع ہوئے ہیں۔ ایک میں اس بات پر افسوس ظاہر کیا گیا ہے کہ اردو شاعری جو فارسی تراکیب سے مملو ہے۔ سمجھنے والے کم ہو گئے ہیں اور ٹی وی پر بیٹھے اینکروں کا شین قاف ہی نہیں‘ اور بہت کچھ بھی غائب ہو گیا ہے۔ ساتھ کے کالم میں کالم نگار نے اپنی امریکہ یاترا کا ذکر کیا ہے۔ اور یہ فقرہ لکھا ہے کہ میں نے تفریح کے لئے ریاست فلوریڈا کے ایک نایاب ساحل کا انتخاب کیا۔نایاب ساحل یعنی ایسا ساحل چنا جو موجود ہی
جمعه 18 جنوری 2019ء

اپوزیشن الائنس‘بطرز نو

جمعرات 17 جنوری 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
اپوزیشن کا نیم متوقع اور نیم غیر متوقع اتحاد اچانک ہی بن گیا۔ نیم متوقع اس لئے کہ توقع تو موجود تھی اور غیر متوقع اس لئے کہ اکثر کے خیال میں اسے چھ مہینے سے پہلے نہیں بننا تھا۔ زیادہ تر کا خیال یہی تھا کہ دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان شکوے بھی ہیں اور غلط فہمیاں بھی۔ دور ہوتے ہوتے وقت بھی لگے گا اور محنت بھی۔ اتحاد کے داعی مولانا فضل الرحمن نے بھی چند روز پہلے یہ بیان دیا تھا کہ وہ کچھ مہینوں میں یہ اتحاد بنوا لیں گے لیکن قومی اسمبلی میں اچانک ایک
مزید پڑھیے


الٹے گائوں والے

بدھ 16 جنوری 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
کہتے ہیں ایک گائوں الٹا پور نام کا تھا۔ یہاں کے لوگ تو ویسے ہی تھے جیسے اور جگہ کے ہوتے ہیں لیکن لفظ ہر ایک الٹا بولتے یعنی ان کی اپنی ہی شبدائولیvacubalaryتھی۔ جیسے کہ بارات آ رہی ہو تو کہتے کس کی ارتھی آ رہی ہے۔ جنازے کو دیکھ کو پوچھتے‘ دولہا میاں کون ہیں۔ آم کو ہاتھی کہتے‘ ہاتھی کو بلی۔ چتا جلنے کو پھلجڑی چھوٹنے کا نام دیتے۔ حجلہ عروسی کو شاید تہاڑ جیل کہتے ہوں گے۔ الٹا پور کی اس بھولی بسری کہانی کی یاد وزیر خزانہ نے تازہ کر دی۔ فرمایا‘ہم نے غریبوں کے
مزید پڑھیے


قسطوں میں نجات

منگل 15 جنوری 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
خواجہ آصف نے فرمایا ہے‘ ہم حکومت گرانا نہیں چاہتے۔ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ اسے لانے والے اپنا شوق پورا کر لیں۔ شوق کتنے عرصے میں پورا ہو جایا کرتا ہے ‘ اس بارے میں کوئی باقاعدہ سے اصول تو نہیں ہے لیکن بعض اشارے ایسے ضرور مل جاتے ہیں جن سے اندازہ لگانے والے اندازہ لگا لیا کرتے ہیں کہ شوق پورا ہو گیا ہے یا پورا ہونے والا ہے۔ حسن اتفاق سے انہی دنوں شاہی دربار کے دو مستقل اور جید قصیدہ نگاروں کی کچھ ایسی نوحہ خوانی سامنے آئی ہے جس سے شوق پورا ہونے کے مدھم
مزید پڑھیے


عبوری دور

پیر 14 جنوری 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
پیپلزپارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری کا کوٹری میں خطاب خاصا سخت تھا۔ فرمایا عمرانی حکومت سندھ سے دشمنی کر رہی ہیں، ہم نے اسلام آباد پرچڑھائی کی تو جعلی حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائے گا۔ عرض ہے کہ دشمنی مناسب لفظ نہیں، مثبت رپورٹنگ کے خلاف ہے۔ مثبت رپورٹنگ کا تقاضا ہے کہ اس لفظ کو دوستی سے تبدیل کردیا جائے۔ یوں کہا جائے کہ عمرانی حکومت سندھ سے ’’دوستی‘‘ کر رہی ہے۔ فقرہ مثبت ہو جائے گا لیکن مبنی بر حقیقت پھر بھی نہیں ہوگا، اس لیے کہ عمرانی حکومت صرف سندھ سے نہیں، سارے ملک سے دوستی
مزید پڑھیے




جو کر سکتے تھے کر کے دکھا دیا

جمعه 11 جنوری 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
صدر مملکت جناب عارف علوی صاحب قہقہہ بار اور قہقہہ آور شخصیت ہیں۔ سلیس زبان میں طنز فرمانا بھی جانتے ہیں۔ اتفاق کچھ ایسا ہے کہ لوگ ان کے طنز کو اکثر مزاح سمجھ لیتے ہیں اور مزاح کو طنز۔ گزشتہ روز فرمایا‘ صحت کا شعبہ ہماری حکومت کی پہلی ترجیح ہے۔ ہر ترجیح بظاہر پنجاب پر ہی نافذ ہوگی۔ اس لئے کہ پختونخواہ میں تو پہلے ہی نافذ ہو چکی اور سندھ کا صوبہ ان کے دائرہ حکومت سے باہر ہے۔ پنجاب میں اب کیا ہو گا بلکہ کیا ہو رہا ہے‘ کچھ زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں۔ ان کی پہلی
مزید پڑھیے


قرضے اور کرائے کی بندوق

جمعرات 10 جنوری 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
وزیر اعظم نے بجا طور پر یہ سربستہ راز منکشف فرمایا کہ قرضے مفت نہیں ملتے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ قرضوں کی بڑی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ کچھ فقروں کے وقفے کے بعد وزیر اعظم نے یہ دو ٹوک عزم بھی ظاہر کیا کہ ہم کسی کے لئے کرائے کی بندوق نہیں بنیں گے۔ قرضے مفت نہیں ملتے کا سادہ سا مطلب ہے‘ ان کے عوض کرائے کی بندوق بننا پڑتا ہے جو ہم بنے۔1999میں تو ہم کرائے کا توپ خانہ بنے رہے اور آٹھ سال یہ توپ چلتی رہی۔ قرضوں کے عوض بندوق بننا چاہیے نہ
مزید پڑھیے


مشکل سوال

بدھ 09 جنوری 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
قبلہ آصف علی زرداری ایک بار پھر سب پر بھاری نکلے، ذرا سی جنبش کی اور دام نو سے بچ نکلے، بھلے عارضی طور سے لیکن فی الحال تو بچ نکلے۔ اب وہ ہیں اور خان صاحب کی تصویر پر نگاہیں اور لب پر یہ گنگناہٹ کہ ع جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے خدا جانے کیا معاملات طے ہوئے ہیں لیکن کچھ تو طے ہوا ہوگا۔ سنجرانی ماڈل کا اضافی حاشیہ ہی سہی۔ زرداری صاحب کچھ عرصہ تو ضرور ہی اچھے بچے بن کر رہیں گے۔ بعد کی بعد میں دیکھ لیں گے، اوپر والے بھی اور زرداری
مزید پڑھیے


کھلاڑی شکاری بھی ہے

منگل 08 جنوری 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
خیر سے ہم وہ ہو گئے ہیں جن سے یہ مقولۂ زریں منسوب ہے کہ ہم آپ کے ہاں آئیں گے آپ ہمیں کیا دیں گے اور اگر ہم آپ کو بلائیں تو آپ ہمارے لئے کیا لائیں گے۔ سارے جگ میں شہرت ہو گئی اور ابھی تھمی کہاں ہے‘ ہوئے جا رہی ہے۔ خیر ‘ یہ تو جملہ تمہید یہ تھا‘ آمدم برسر مطلب کہ خبر یہ ہے کہ اس ہفتے زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید دو ارب ڈالر کی کمی ہو گئی ہے۔ ایک معاصر کی اطلاع ہے کہ سعودیہ نے جتنی رقم دی تھی‘ وہ اس انتباہ
مزید پڑھیے


صدارتی نظام؟۔ ناممکن

پیر 07 جنوری 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
سرما کی ہلکی پھلکی بارشیں شروع ہیں اور لوڈشیڈنگ بدستور۔ دورانیہ چودہ گھنٹے کا ہوگیا۔ کہتے ہیں دھند میں بجلی کی حدنظر دھندلا گئی تھی، اب بارش سے بجلی گیلی ہوگئی ہے، تردامنی کے باعث گھروں میں آنے، منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی، بی بجلی نہ ہوئی، بجلی بائی ہو گئی۔ چند ہفتوں بعد بہاراں ہے، تعطیل بہاراں پر چلی جائے گی۔ پھرگرمیاں آئیں گی، لو کے تھپیڑے بجلی کو کہاں چین لینے دیں گے۔ یعنی لوڈشیڈنگ یونہی رہے گی، بس دورانیہ گھٹتا بڑھتا رہے گا، کبھی چودہ تو کبھی پندرہ گھنٹے۔ فی الحال تو عمران حکومت کو اس
مزید پڑھیے