BN

عبداللہ طارق سہیل

ہرے بھرے قدم


پاکستان اور ایران ایک زمانے میں بہت زیادہ برادر ملک ہوا کرتے تھے۔ اب اگرچہ ’’برادریت‘‘ میں کمی آ گئی ہے لیکن یہ برقرار بدستور ہے اور رہے گی۔ ملاحظہ کیجیے دو خبریں‘ برادریت کے سارے اجزا ان میں مل جائیں گے۔ ایک خبر ایران سے ہے جہاں ایک تیرہ سال کے بچے کو 23سال کی عمر میں پھانسی دے دی گئی۔ سرعام اور دوسری خبر ہے پاکستان میں ایک گیارہ سالہ بچے کو 22سال کی عمر میں رہائی مل گئی۔ برادریت کے اجزا ایک خبر میں کچھ کم دوسری میں کچھ زیادہ ہیں لیکن اس سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ
بدھ 19  ستمبر 2018ء

اخبار اور اشتہار

منگل 18  ستمبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
ایک حکومتی وزیر نے خوشخبری سنائی ہے کہ وہ اخبارات کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ خدا کرے ایسا ہی ہو لیکن آثار تو ایسے نظر نہیں آتے۔ نئی حکومت نے سرکاری اشتہارات کم کردیئے ہیں اور باوثوق افواہوں کے مطابق آئندہ انہی اخبارات کو اشتہارات ملیں گے جو سٹیٹس کو کے حامی ہوں گے۔ حالانکہ سٹیٹس کو، ماشاء اللہ سے اتنا مضبوط ہے کہ سیسہ پلائی دیوار بن چکا ہے۔ اگر کوئی ناعاقبت اندیش اخبار اس کی مرضی پر نہیں چلتا یا اختلاف رائے رکھتا ہوتو بھی کیا نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اخبارات کے لیے سرکاری اشتہار بھی ریڑھ کی
مزید پڑھیے


ٹھوس اور سخت معاشی فیصلے

پیر 17  ستمبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
اچھی بات ہے کہ دگرگوں معاشی حالات سے نکلنے کے لیے حکومت نے سخت اور ٹھوس اقدامات کا فیصلہ کرلیا ہے، جیسے کہ وزیراعظم ہائوس میں رکھی گئی چھ بھینسوں کی نجکاری کا طے ہوا ہے۔ تحریک انصاف کے ایک رہنما نے بالکل بجا کہا کہ یہ بھینسیں قوم کے پیسے سے خریدی گئی تھیں ۔مناسب ہے کہ ساہیوال کے اس زمیندار کو بھی شامل تفتیش کیا جائے جس نے یہ بھینسیں ماضی کے وزیراعظم کو تحفے میں پیش کی تھیں۔ اس سے پوچھا جائے کہ اس نے یہ بھینسیں کیسے خریدیں، منی ٹریل مانگی جائے، نہ دے سکے تو
مزید پڑھیے


ایک وعدہ وہ پورا کر رہے ہیں

جمعه 14  ستمبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
شریف خاندان کے لیے غم کی گھڑی اور آزمائش کی گھڑیاں ہیں۔ گھڑی بیت جائے گی‘ آزمائش ٹلتے ٹلتے کچھ دیر لگے گی۔ جرم نہایت سنگین اور ناقابل معافی ہے‘ نرمی اور رعایت کے سارے دروازے مقفل ہیں۔ بہرحال یہ گھڑیاں اتنی طویل قطعی نہیں ہوں گی جتنی کہ صف مہرباناں نے خیال کر رکھا ہے۔ اگلے برس چشم فلک بہت سے مناظر کو پلکیں جھپک جھپک کر دیکھے گی۔ کلثوم نواز دنیا سے چلی گئیں اور تاریخ کا حصہ بن گئیں لیکن مزاحمت کا ایک باب بھی اپنے نام کر گئیں۔ انوکھی بات یہ ہے کہ ’’سٹیٹس کو‘‘ کے خلاف
مزید پڑھیے


کلثوم کی کہانی

جمعرات 13  ستمبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
سلسلہ روز و شب نقش گر ِحادثات۔ زندگی ایسے ہی چلتی ہے ‘ کبھی گردش ایام حادثات کو جنم دیتی ہے تو کبھی حادثات سلسلہ روز و شب کی نقش گری بھی کرتے ہیں۔ حالات کا بہائو حادثے کی طرف لے جاتا ہے اور حادثہ حالات کی شکل بدل کر نئی نقش گری کرتا ہے۔ بیگم کلثوم نواز اس ست رنگی سیڑھی کو عبور کر کے اس جگہ چلی گئیں جہاں سحاب ابدیت چھایا رہتا ہے۔ دھنک کی یہ سیڑھی ہر ایک کے لیے ’’ارجعی‘‘ کا عنوان نہیں بنتی۔ ان کی موت اچانک کے معنی میں حادثہ نہیں ہے۔ سال بھر کی
مزید پڑھیے


سی پیک، ارے سی پیک

بدھ 12  ستمبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
خدا کرے لوگ وزیراعظم کے مشیر رزاق دائود کی یہ وضاحت مان لیں کہ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے ان کی بات سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی۔ اخبار نے ان کاانٹرویو شائع کیا تھا جو سارے کا سارا سی پیک پر اعتراضات سے بھرا ہوا تھا، ہو سکتا ہے سارا انٹرویو ہی سیاق و سباق سے ہٹ کر ہو۔ خاص طور سے جو فقرہ ہلچل کا باعث بنا دیا تھا کہ مشیر صاحب نے سی پیک کو ایک سال کے لیے منجمد کرنے کا ارادہ ظاہر فرمایا۔ یہ فقرہ کوٹ ان کوٹ شائع ہوا تھا، اس میں
مزید پڑھیے


غلطی جو آپ سے ہوئی

منگل 11  ستمبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے عاطف نامی مشیر کی برطرفی پر احتجاج کیا ہے اور اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کہا ہے۔ کیسے؟ کمیشن بھائی، کسی سرکاری ملازم کو اس بنا پر نوکری سے نکالا ہوتا کہ وہ قادیانی ہے یا فلاں عقیدے سے ہے تو آپ کا احتجاج ٹھیک ہوتا۔ وہ سرکاری عہدے پر تھا جو وفاقی وزیر کے برابر ہوتا ہے۔ کسے وزیر رکھنا ہے اور کسے نکالنا ہے، اس کا انسانی یا شہری حقوق سے کوئی علاقہ نہیں ہے، یہیں نہیں، دنیا بھر میں کہیں بھی نہیں ہے۔ ویسے بھی یہ عام اقلیت کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ
مزید پڑھیے


طلسمی فارمولا

پیر 10  ستمبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
ملک میں تھا کوئی بادشاہ ہمارا تمہارا خدا بادشاہ یہ بادشاہ ابھی نیا نیا تخت پر بیٹھا تھا۔ بیٹھا کہاں تھا‘ بٹھایا گیا تھا۔ کوہ قاف کے اس ملک میں پہلے ایک اور بادشاہ تھا جسے کوہ قاف والوں نے ناراض ہو کر تخت سے اٹھا کر بندی خانے میں بند کر دیا تھا۔ وہ بادشاہ پوچھتا تھا‘ مجھے کس جرم میں بند کیا اس پر کوہ قاف والے اور بھی غصے میں آ جاتے اور اس کی سزا بڑھا دیتے۔ کوہ قاف کی ناراضی کی وجہ ایک الگ کہانی ہے۔ خاصی لمبی اور پراسرار‘ تاریخ کا چھاپہ خانہ اسے اپنے وقت
مزید پڑھیے


نو ڈومور

جمعه 07  ستمبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
کسی تقریر یا مضمون میں کون سی بات اہم‘ ذہین لوگ سن کر یا پڑھ کر جان لیتے ہیں۔ لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ سب سے اہم بات‘ سب سے اہم اور معنی خیز ’’اشارۃً وہ ہوتا ہے جو کیا ہی نہیں گیا ہوتا۔ جیسے وزیر اعظم نے اپنے پہلے خطابات میں بہت کچھ فرمایا اور اخباری ناقدین کے مطابق ان میں اہم بات کوئی بھی نہیں تھی حالانکہ تھی۔سب سے اہم یہ تھی کہ ان خطابات میں آئین یا جمہوریت کا کوئی ذکر ہی نہیں تھا۔ اور یہی ذکر نہ ہونا ہی نئے دور کی تمہید تھا
مزید پڑھیے


مرد حُر سے مردِ پھُر تک

جمعرات 06  ستمبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
بزرگ صحافی مجید نظامی نے ایک بار آصف زرداری کو ’’مرد حر‘‘ کا خطاب دیا تھا۔ ان دنوں مرحوم نواز شریف سے کچھ ناراض تھے۔ اس خطاب میں کچھ رنگ اس رنجش کا بھی رہا ہو گا۔ مرد حر ہونے کا مظاہرہ تو زرداری صاحب نے کم ہی کیا‘ اکثر مواقع پر وہ ’’مرد پھُر‘‘ ضرور نظر آئے۔ یعنی ادھر ضرورت پڑی یا موقع آیا‘ ادھر صاحب پُھر سے اڑ گئے۔ نواز دور‘ پھر مشرف دور میں طویل قید کاٹی لیکن جیل خانے میں بھی ‘ کچھ ہسپتال میں‘ زیادہ باہر‘ یوں کہا جا سکتا ہے کہ ہسپتال سے نکلے
مزید پڑھیے