BN

عبداللہ طارق سہیل

مجبور قومی موومنٹ

منگل 07  اگست 2018ء
تحریک انصاف کراچی کے صدر نے کہا ہے کہ متحدہ پر جو الزامات لگائے تھے ان پر قائم ہوں‘ اس کے ساتھ اتحاد مجبوری میں کیا‘ ہمیں اپنے نمبر پورے کرنے تھے۔مجبوری بڑی جابر شے ہے۔ کسی کو بھی اپنا جدّ امجد ماننا پڑتا ہے حساب کتاب میں تھوڑی کسر رہ گئی۔ مطلب یہ کہ 25کی رات دس بجے کے بعد جو سونامی چلی‘ وہ کہیں ایک آدھ گھنٹہ پہلے چل جاتی تو یہ مجبوری نہ ہوتی‘ نمبر اپنے طور پر ہی پورے ہو جاتے۔ گلہ بنتا ہے لیکن آپ کریں گے نہیں۔ ویسے یہ مجبوری متحدہ والوں کی بھی ہے۔
مزید پڑھیے


بے اتحادا اتحاد

پیر 06  اگست 2018ء
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے فرمایا ہے کہ اپوزیشن کا مضبوط اتحاد بننا جمہوریت کے لیے نیک شگون ہے۔ گویا محترم نے یہ سوچ لیا ہے کہ مضبوط اتحاد بن گیا۔ حالانکہ مضبوط تو بعد کی بات ہے ابھی تک اتحاد بھی نہیں بنا۔ اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے دونوں سربراہوں میں سے ایک بھی اتحاد کی سربراہی اور تاسیسی کانفرنس میں شریک نہیں ہوا۔ چلئے زرداری اور بلاول نہیں آئے‘ فریال تالپور ہی آ جاتیں ۔ اس کے بعد بھی اسے ’’اتحاد‘‘ہی نہیں مضبوط بھی سمجھنا اظہار حقیقت سے زیادہ اظہار امید لگتا ہے۔ زرداری صاحب شاید
مزید پڑھیے


پرواز برائے پردہ داری

جمعه 03  اگست 2018ء
پنجاب میں کون پارٹی حکومت بنائے گی یہ سوال پوچھنے والا ہی نہیں۔ نمبر گیم 26جولائی کو ہی پی ٹی آئی کے حق میں ہو چکی تھی۔ پھر بھی ٹی وی چینل اس سوال پر ٹاک شو کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ بیکار مباش ٹاک شو کیاکر والا معاملہ ہے۔ ایسے سوالوں پر ٹاک شو نہ کریں تو کس پر کریں۔ ظاہر ہے ٹی وی مالکان سیانے ہیں اپنے چینل بند کرانے کی خودکشی کیوں کریں گے۔ چوکنّے بیل کو دعوت دینا کسی سمجھدار آدمی کا کام نہیں ہو سکتا۔ اچھا‘مزے کی بات ہے کہ نمبر گیم پوری ہونے کا
مزید پڑھیے


دو مسئلے حل ہوئے

جمعرات 02  اگست 2018ء
تاریخ کیا ہے اور روایت کسے کہتے ہیں‘ اہل علم جانیں لیکن عامیوں کو اتنا پتہ ہے کہ روایتیں اکٹھی ہو کر ہی تاریخ بن جاتی ہیں تو ایک ایسی ہی روایت پیش ہے جو ہر خاص تو نہیں لیکن ہر عام کی زبان زد ہے۔ روایت میں کتنی صداقت ہے یا کتنی کذابت‘ یہ فیصلہ تاریخ کرے گی یعنی جب کئی روایتیں جڑ جائیں گی تب! روایت یوں ہے کہ چھ بجے گنتی شروع ہوئی اور نتیجے قومی مفاد کے برخلاف آنے لگے ایک دو گھنٹے تو یونہی چلتا رہا پھر ’’ھالٹ‘‘ہو گیا۔ روایت کہاں کی ہے اسے چھوڑیے۔ کوئی بھی
مزید پڑھیے


دس کا پھیر

بدھ 01  اگست 2018ء
پنجاب میں آزاد امیدوار تحریک انصاف کی طرف آ رہے ہیں۔ مسلم لیگ کے رہنما احسن اقبال نے عجیب بیان دیا ہے۔ کہا ہے آزاد امیدواروں کا تحریک انصاف کی طرف جانا غیر فطری ہو گا۔ غیر فطری؟ فطرت اپنی تمام حشر سامانیوں کے ساتھ تحریک انصاف کو آغوش میں لے ہوئے ہے اور آزاد امیدواروں سے بڑھ کر فطرت اور حسن فطرت کا قدردان کون ہو سکتاہے اس لیے وہ وہیں جائیں گے جہاں فطرت نے ڈیرے لگا رکھے ہیں فطرت ہی ہر شے کو ڈھالتی اور ہر عمل کا پہیہ چلاتی ہے اور تحریک انصاف تو خیر سے
مزید پڑھیے


ذلتوں کی ماری مخلوق

منگل 31 جولائی 2018ء
بنوں کا وہ ویڈیو کلپ جس میں ایک کتے کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے، بہت سے لوگوں نے دیکھی ہے لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جن کی نظر سے یہ نہیں گزری اور اچھا ہی ہے، ایک خواہ مخواہ کی اذیت سے بچ گئے۔ ویڈیو میں ایک کتے کو تحریک انصاف کا پرچم اوڑھا کر ایک درخت سے باندھا ہوا دکھایا گیا ہے۔ وہ سہما ہوا نظر آ رہا ہے۔ کتا ذہین جانور ہے۔ قاتلوں کے تیور سے بھانپ گیا ہو گا کہ اس کا برا وقت آ پہنچا۔ قاتل کسی قومی وطن پارٹی کے
مزید پڑھیے


شفافیت کا در کھلا

پیر 30 جولائی 2018ء
چودھری نثار اور متعدد دیگر ارباب قدسی صفت کی طرح جناب مصطفی کمال بھی ایک ہی صف کے محمود و ایاز میں شامل ہیں جو آج کل اس فریاد کا نقش بنے ہوئے ہیں کہ ع تیرے نی قراراں مینوں پٹیا دس میں کی پیار وچوں کھٹیا (تیرے وعدوں نے برباد کردیا، بتائو، پیار کی اس بازی سے مجھے کیا ملا)۔ یہ تو ریت رہی ہے ہمارے ہاں کی کہ وعدہ کئی سے، نبھایا ایک سے ہی کرتے ہیں۔ مصطفی کمال نے چند برس بہت دھوم دھڑکے سے ایک لانڈری کھولی تھی جو ایک بار تو خوب چلی او رجب بہت سے
مزید پڑھیے


بند ڈبوں سے بند کمروں تک

جمعه 27 جولائی 2018ء

حفیظ ہوتے تو کیا کہتے‘ یہی کہ بڑے زوروں سے جتوایا گیا ہوں۔ شفاف ترین الیکشن میں تحریک انصاف نے وہ کامیابی حاصل کی ہے کہ ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ شفافیت کا عالم بے پناہ تھا۔ رچر سکیل پر شفافیت کی شدت گیارہ تھی۔9درجے پر سونامی آ جایا کرتا ہے یہاں سونامی پلس ان ٹو پلس کی شدت تھی۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا ہے کہ کوئی بھی جماعت چاہے تو چار کے بجائے آٹھ ڈبے کھلوالے۔ کھلے میدان کی فتح کا مزہ بھی خوب ہوتا ہے لیکن بند کمروں سے برآمد ہونے والی فتح کا تو جواب ہی
مزید پڑھیے


عوامی لیفٹ فرنٹ

جمعرات 26 جولائی 2018ء
ہر روز سیاسی واقعات کے ہجوم میں کچھ غیر روایتی واقعات بھی ہوئے ہیں اگرچہ نوعیت ان کی بھی سیاسی ہے لیکن وہ عوامی توجہ نہ پا سکے۔ پچھلے ہفتے لاہور میں دس بارہ ایسی تنظیموں اور انجمنوں نے اپنا اجلاس کیا جو خود کو بائیں بازو کا کہتی ہیں۔ اجلاس میں ان تنظیموں نے باہم متحد ہو کر عوامی لیفٹ فرنٹ قائم کیا۔ یہ ایک دلچسپ وقوعہ تھا، اس لیے کہ عشرے ہو گئے’’لیفٹ‘‘ لفظ سننے میں نہیں آیا۔ چند ماہ پہلے پیپلز پارٹی کے بعض رہنمائوں نے بائیں بازو کے اوجھل ہونے اور دائیں بازو کے عروج پکڑنے پر
مزید پڑھیے


سمت ملنے کو ہے

بدھ 25 جولائی 2018ء
ٹی وی چینل پر نجومی حضرات و خواتین کا پروگرام دلچسپ تھا لیکن کوئی نادر انکشاف سامنے نہیں آیا۔ چار نفر کا سیشن تھا اور اتفاق اس بات پر تھا کہ حالات اچھے نظر نہیں آ رہے۔ حالات خراب ہوتے جائیں گے۔ لیکن اس انکشاف میں نجومیات کا کیا کمال ہے۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔ یہ تو جملہ عوام کو نظر آ رہا کہ حالات بہت ہی خراب قسم کی خرابی کی طرف بڑھ رہے ہیں اور جملہ عوام علم نجوم کے بغیر ہی یہ بات جانتی ہے۔ ایک عامیانہ سی فلم کا سین یاد آیا۔ ایک صاحب
مزید پڑھیے