BN

عبداللہ طارق سہیل



تشریحات رشید اور اصل کہانی


شیخ رشید نے دو تین اہم خبریں بریک کی ہیں۔ فرمایا ہے کہ آصف زرداری کے ساتھی رقم واپس کرنے پر تیار ہو گئے ہیں اور اگر نواز شریف یا ان کے ساتھی بھی رقم دینے پر آمادہ ہو جائیں تو ان کی بات بھی بن سکتی ہے۔ ان کی بات بھی بن سکتی ہے۔ یعنی آصف زرداری کی بات بن گئی ہے یا بننے والی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ کیسی رقم ؟‘ کسی رقم کی واپسی کا وعد ہ نہیں کیا گیا۔ ویسے بات رقم واپس کئے بغیر بھی
منگل 03  ستمبر 2019ء

جنگ آپشن نہیں۔ پھر یہ ہنگامہ ؟

پیر 02  ستمبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
یمن کی جنگ میں غضب کا موڑ آیا ہے۔ صدر ہادی کی حکومت دوسری مرتبہ بے دخل ہو گئی۔ پہلے حوثیوں نے صنعا سے نکالا۔ اب ’’اسلامی فوج‘‘ نے بندر گاہی شہر عدن سے نکالا دیا۔ جی اسلامی فوج دھڑے بند ہو گئی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے پورے عدن پر قبضہ کر کے سعودی اتحادیوں کو صدر ھادی سمیت نکال باہر کیا ہے اور یہ کوئی کل کی خبر نہیں۔ اسلامی فوج کے دو دھڑوں میں گھمسان کی جنگ مہینہ بھر پہلے شروع ہوئی۔ اماراتی دھڑے نے عدن کے کچھ حصوں پر قبضہ کیا‘ بہت سے سعودی اتحادی مارے گئے
مزید پڑھیے


جنگ نہیں‘ دھرنا

جمعه 30  اگست 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
شیخ رشید نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں پاک بھارت جنگ دیکھ رہے ہیں، تشبیہ اور استعارے کی زبان ہے۔ دراصل وہ نومبر میں مولانا فضل الرحمن کا مارچ اور دھرنا دیکھ رہے ہیں۔ وہ اور ان کی حکومت خود کو پاکستان اور اپوزیشن کو بالخصوص مولانا کو بھارت سمجھتی ہے اور بھارت کو پھر کیا سمجھتی ہے؟ وہی جو امریکہ نے سمجھنے کو کہا ہے۔ شیخ جی کو پتہ ہے کہ پاک بھارت جنگ کا ایک فیصد امکان بھی نہیں۔ جنگ نہ ہونے کا ضامن امریکہ ہے۔ وہی امریکہ جس نے کشمیر کے معاملے کو حتمی شکل دلوائی۔ لیکن
مزید پڑھیے


ہمارے ارتقاء کی کہانی

جمعرات 29  اگست 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
یہ خبر ہمارے ارتقا کی کہانی کا عنوان ہے۔ خبر یہ ہے کہ ایف بی آر حکام نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ پانامہ لیکس میں جو 444کیس سامنے آئے تھے‘ ان میں سے 150کا سراغ ہی نہیں ملا جبکہ باقی میں سے 242زائد المعیاد ہوچکے اس لئے کارروائی نہیں ہو سکتی۔ 46پھر بھی باقی رہ گئے ان کے خلاف کارروائی کا ارادہ نہیں یا ضروری نہیں‘ حکام نے اس پر کچھ نہیں بتایا۔ کل ملا کے کہانی کا خلاصہ یہ نکلا کہ 444ناموں میں سے ایک کے خلاف بھی کارروائی نہیں ہوئی حالانکہ غل یہی مچا
مزید پڑھیے


مسئلہ کشمیر پر حکومت کا راست اقدام

بدھ 28  اگست 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
وزیر اعظم نے قوم سے بہت ہی اہم خطاب فرمایا۔ اقتدار کے پہلے سال ان کا قوم سے غالباً یہ تین سو اٹھترواں خطاب تھا۔ سال میں بہت دن ایسے گزرے جب انہوں نے ایک ہی دن کئی کئی بار قوم سے خطاب فرمایا۔ تازہ خطاب بہت ہی اہم تھا۔ انہوں نے فرمایا کشمیر کے لیے ہم آخری حد تک جائیں گے اور پھر انہوں نے آخری حد کے راست اقدام کا اعلان بھی فرمایا۔ فرمایا، قوم جمعے کے جمعے آدھے گھنٹے کے لیے جہاں ہو، کھڑی ہو جائے۔ یہ گویا مختصر حکم تھا۔ تفصیلی حکم آنے پر پتہ چلے
مزید پڑھیے




ایک اور بلی کی برآمدگی

منگل 27  اگست 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
جماعت اسلامی نے پشاور میں بہت بڑی ریلی نکالی۔ بہت لوگ آئے جو پرجوش بھی تھے۔ ریلی کا نام سمجھ نہیں آیا: کشمیر بچائو ریلی۔ اس سے کیا مراد ہے؟ کیا آزاد کشمیر بچانے کی بات ہو رہی ہے۔ ایسا ہے تو بے فکر رہیے۔ آزاد کشمیر بچا بچایا ہے(کم از کم فی الحال)۔ شیخ رشید کا خطاب سنا ہو گا۔ فرماتے ہیں بھارت نے آزاد کشمیر پر حملہ کیا تو پھر بھارت میں گھاس اگے گی نہ گھنٹیاں بجیں گی۔ اس خبرداری کے بعد بھارت کے آزاد کشمیر پر حملے کا کوئی خدشہ باقی نہیں رہا اور اس سے
مزید پڑھیے


انڈونیشیا ۔ ایک اور مشرقی تیمور کا خطرہ

پیر 26  اگست 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
انڈونیشیا میں ایک اور مشرقی تیمور بنائے جانے کی راہ ہموار ہو رہی ہے یا کی جا رہی ہے۔ مشرقی تیمور تو پھر بھی ایک بہت چھوٹا سا علاقہ ہے جسے نقشے پر ڈھونڈنا بھی مشکل ہو جاتاہے۔ چار پانچ ہزار مربع میل رقبہ اور آٹھ دس لاکھ آبادی والا ایک ننھا منا سا علاقہ لیکن ممکنہ طور پر اس بار جس علاقے سے انڈونیشیا کو محروم ہونا پڑ سکتا ہے‘ وہ بہت بڑا ہے۔ لگ بھگ پونے پانچ لاکھ مربع کلو میٹر (پاکستان سے کچھ چھوٹا) رقبے اور بے پناہ قدرتی وسائل ‘ معدنیات اور جنگلی حیات سے مالا
مزید پڑھیے


کراچی کا اجڑا دیار

جمعه 23  اگست 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
پانی‘ کیچڑ،کچرے اور غلاظتوں کے سونامی میں ڈوبے ہوئے کراچی کے بارے میں یہ کہا جائے کہ وہاں کا منظر نامہ دلچسپ ہے تو یہ سنگدلی ہو گی لیکن کیا کیجیے‘ منظر دلچسپ ہو تو اسے دلچسپ ہی کہیں گے‘ کچھ اور کہنے کی مغالطہ آرائی تو نہیں کریں گے۔ دنیا بھر میں بھی اور پاکستان میں بھی سرعام تشدد کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اکثر میں پٹنے والے کی جان چلی جاتی ہے۔ یہ مناظر دیکھنے کے لئے سینکڑوں لوگ جمع ہو جاتے ہیں اور منظر کی دلچسپی کی وجہ سے وہ جس مہم پر گھر سے نکلے
مزید پڑھیے


تبدیلی کی قربان گاہ پر

جمعرات 22  اگست 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
مولانا فضل الرحمن سے پریس کانفرنس میں کشمیر کے حوالے سے سوال کیا گیا تو فرمایا‘ جب تک میں کشمیر کمیٹی کا چیئرمین تھا‘ کسی کو کشمیر کا سودا کرنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ میرے جاتے ہی سودا ہو گیا۔ اخبار نویس جواب سن کر مسکرا دیے۔ حالانکہ معاملہ مسکراہٹ کا سزاوار نہیں تھا۔ مولانا کا چہرہ بھی سنجیدہ تھا اور لہجہ بھی‘ پھر بھی کچھ اخبار نویسوں نے اسے ازراہ تفنن والا جواب سمجھا۔ یہ بات پیپلز پارٹی اور اے این پی کے لیڈروں نے بھی کی ہے۔ پیپلز پارٹی کا بیان ہے کہ بھینسوں کے بعد کشمیر بھی بیچ
مزید پڑھیے


بھارت سے بھارت تک

بدھ 21  اگست 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
امریکی جریدے فارن پالیسی نے لکھا ہے کہ بھارت کی طرف سے جموں میں ہندوئوں کو آباد کر نے سے کشمیری مسلمانوں کے ووٹ کم ہو جائیں گے جریدے کے مطابق بھارت مقبوضہ کشمیر کا آبادی کا تناسب بدلنا چاہتا ہے۔یہ تو سب تفصیل سے آ چکا ہے۔ بھارت نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں ہندوئوں کی آبادی کا منصوبہ رکھتا ہے بلکہ وہاں سے کشمیریوں کی ایک قابل ذکر تعداد کو پاکستانی علاقے کی طرف دھکیلنا چاہتا ہے اور وہ جو کچھ مقبوضہ کشمیر میں کرنا چاہتا ہے، وہی شمال مشرق کے صوبے آسام میں بھی کر رہا ہے۔ مقبوضہ
مزید پڑھیے