BN

عبداللہ طارق سہیل

دوھتڑی تھپڑ

پیر 23 جولائی 2018ء
لوگ حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا اہم واقعہ قرار دے رہے ہیں لیکن عوامی حوالے سے ایک زیادہ اہم وقوعہ اسی روز دن کے وقت پیش آیا جب عمران خان صاحب نے بنوں میں اپنے ہی امیدوار کوتھپڑ جڑ دیا۔ پورا نام تھپڑ رسیدہ کا یاد نہیں آ رہا‘ کوئی خٹک صاحب تھے۔ سنا ہے تھپڑ کھانے کے بعد انہیں خود بھی اپنا نام یاد نہیں آ رہا۔ خیر یہ تاریخی وقوعہ مردان کی جلسہ گاہ میں سٹیج کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے پیش آیا۔ تھپڑ رسیدہ امیدوار سیڑھیوں پر خان صاحب کے برابر چلنے کی کوشش کر رہے
مزید پڑھیے


جنگِ انسداد نون

جمعه 20 جولائی 2018ء
بات آئی جے آئی پر کرنا تھی لیکن ایک اخباری سرخی پر نظر ٹک گئی بلکہ اٹک گئی۔ لکھا ہے خان کے غبارے میں ہوا تو خوب بھری گئی لیکن وہ پھربھی الیکشن ہار رہا ہے۔ سوچنا پڑے گا قصور کس کا ہے۔ غبارے کی ساخت میں کوئی کمی رہ گئی کہ ہوا کو روکے نہ رکھ سکا یا پمپنگ میں کوئی فنی خرابی آڑے آ گئی۔ شاید ان دنوں ان کے جلسے جس طرح پے درپے عمل سکڑائو کا شکار ہوتے جا رہے ہیں‘ اسی کا اثر ہے کہ خود نتھیا گلی والی کارنر میٹنگ میں خان صاحب کے منہ
مزید پڑھیے


ہنگامہ ہے کیوں برپا؟

جمعرات 19 جولائی 2018ء
گزشتہ روز علی پور چٹھہ کے جلسے میں شہباز شریف نے نام لے کر ایک مخالف سیاستدان پر تنقید کی۔ انتخابی مہم میں اس طرح سے سرعام کچھ چیزوں کا تذکرہ غالباً پہلی بار ہوا ہے اگرچہ عوامی سطح پر یہ بات عرصے سے زیر تذکرہ و تبصرہ ہے۔ ریحام خان کی کتاب میں بھی اس حوالے سے پرلطف انکشافات کئے گئے ہیں۔ ماضی میں جائیں تو 1970ء کی انتخابی مہم میں بھٹو کی شراب کا تذکرہ ہوتا تھا۔ ’’چٹان‘‘ میں آغا شورش کاشمیری مرحوم نے اس حوالے سے کئی طنزیہ نظمیں اور کارٹون بھی شائع کئے۔ بھٹو صاحب نے اس
مزید پڑھیے


ملفوظات عمرانی کی سنہری تعلیمات

بدھ 18 جولائی 2018ء
’’ملفوظات عمرانی‘‘ کی ایک سنہری تعلیم یوں ہے کہ انہیں ایسا پھینٹا لگائو کہ عمر بھر یاد رکھیں ’’انہیں‘‘ سے مراد مخالفین ہیں۔ مریدین گاہے بہ گاہے اس سنہری تعلیم پر عمل کرتے رہتے ہیں لیکن گزشتہ روز کراچی میں ایک گدھا بھی اس عملدرآمد کی لپیٹ میں آ گیا۔ مریدین نے اس گدھے کو پکڑ کر اس پر نواز شریف کا نام لکھا اور پھر پھینٹا لگانا شروع کر دیا۔ ڈنڈوں سے اتنا مارا کہ اس کا خون بہہ نکلا۔ آنکھ زخمی ہو گئی مریدین نے اس بے زبان کی دونوں ٹانگیں توڑ دیں۔ قریب تھا کہ وہ ملک
مزید پڑھیے


قصر سلطانی میں بسیرے کی پیشکش

منگل 17 جولائی 2018ء
مجلس عمل کے رہنمائوں نے پنڈی کے جلسے میں کہا ہے کہ جو سیاستدان 70 سال سے حکومت کرتے آ رہے ہیں‘ انہوں نے عوام کے مسائل حل نہیں کئے‘ انہیں حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں۔ سچ کہا جی! لیکن یہ کون سے سیاستدان ہیں جو ستر سال سے حکومت کرتے آ رہے ہیں‘ اس کی وضاحت ہو جاتی تو اچھا تھا۔ اس لیے کہ مختصر سی تاریخ پاکستان میں ایسے ستر برس تو کبھی آئے ہی نہیں جن میں سیاستدانوں نے حکومت کی ہو۔ پہلے دوسرے سال تو ایسے تھے جن میں ملک پر قائداعظم اور لیاقت علی خان
مزید پڑھیے


غیر مسلم گدھے

پیر 16 جولائی 2018ء
بلوچ رہنما لشکر رئیسانی نے مطالبہ کیا ہے کہ سانحہ مستونگ پر سچائی کمشن بنایا جائے جو ضیاء الحق دور سے لے کر آج تک کی پالیسیوں کا جائزہ لے۔ سانحہ مستونگ پر ہر شہری دکھی ہے لیکن ان سب کا دکھ ان لوگوں کے دکھ جیسا کبھی نہیں ہو سکتا جن کے پیارے اس قتل عام میں مارے گئے۔ دوسو کے لگ بھگ تو شہید ہوئے اور اتنے ہی زخمی جن میں سے کئی تو باقی عمر کے لیے معذور ہو گئے۔ لشکری رئیسانی کا بھائی سراج رئیسانی بھی شہدا میں شامل ہے جس کے انتخابی جلسے پر بم حملہ
مزید پڑھیے


زرداری جی کے پاس ہے ہر تالے کی چابی

جمعه 13 جولائی 2018ء
کئی دنوں سے ہر روز ایسا ہو رہا ہے کہ راتوں رات مسلم لیگ کے بینر اور پینا فلیکس وغیرہ غائب ہو جاتے ہیں۔ کس برمودا ٹرائنگل میں چلے جاتے ہیں‘ کچھ پتہ نہیں گزشتہ روز سابق وزیر اعظم اور لیگ کے رہنما شاہد خاقان عباسی اس پر بول اٹھے۔ کہا پتہ نہیں، ہمارے بینر اور فلیکس وغیرہ کیوں اتارے جا رہے ہیں، کون اتار رہا ہے۔ تحریک انصاف کے بینر اور فلیکس چونکہ ماحول دوست اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ہیں وہ بدستور لگے رہتے ہیں۔ لیگ کے بینرز ’’عوام‘‘ کے لیے مضر صحت ہیں چنانچہ حفظان صحت
مزید پڑھیے


خود لکھی تقدیر

جمعرات 12 جولائی 2018ء
پشاور دھماکہ پھر ایک بڑا سانحہ ہے‘ سخت افسوسناک اور دوگونہ تشویش کا باعث بھی۔ ایک تو یہ کہ دہشت گرد ابھی ختم نہیں ہوئے۔ جیسے کے تیسے طاقتور ہیں بس لگتا ہے کہ ریموٹ کنٹرول سے کنٹرول ہوتے ہیں‘ اب وقفہ کرنا ہے، اب پھر شروع ہو جانا ہے۔ دوسرا کہ یہ دھماکہ کہیں انتخابات ملتوی کرانے کے منصوبے کا حصہ تو نہیں۔ یہ بات بہت سے لوگ پوچھ رہے ہیں۔ یہ غلط فہمی تو خیر کبھی باخبر لوگوں کو رہی ہی نہیں کہ دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، کچھ فسانے بنائے جاتے ہیں کچھ سنائے جاتے ہیں‘
مزید پڑھیے


زرداری صاحب اور ولی حضرات

بدھ 11 جولائی 2018ء
مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم پر پابندی لگنے والی ہے اور کیا پتہ، یہ سطریں چھپتے چھپتے لگ بھی چکی ہو۔ وجہ اس یقین کی یہ ہے کہ اس کا مطالبہ خان صاحب نے کیا ہے اور پچھلے کئی برسوں کا ریکارڈ بالعموم، سال گزشتہ کا بالخصوص اور چند ماہ کا بہت ہی بالخصوص یہ بتلاتا ہے کہ خان صاحب کا کوئی مطالبہ نامنظور نہیں ہوتا۔ باب الحوائج میں ان کی مقبولیت بے مثال ہے، ادھر مطالبہ دائر فرماتے ہیں ادھر منظور فرما لیا جاتا ہے۔ سو پابندی تو لگ کر رہے گی۔ خان صاحب کا کہنا ہے کہ مسلم
مزید پڑھیے


زرداری کی آزمائش۔ ایک فرمائش

منگل 10 جولائی 2018ء

ہر طرف ان خبروں کی دھوم ہے کہ زرداری کا گھیرا پھر تنگ ہو رہا ہے۔ معروف کاروباری شخصیت حسین لوائی اور دیگر زرنوازوں کی گرفتاری کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔ ایک ٹی وی پر کہا جا رہا تھا ‘ حسین لوائی فر فر بولے گا۔ راز کھولے گا یہ تو پہلے بھی سنا تھا جب ڈاکٹر عاصم کو پکڑا تھا۔ سال بھر ٹی وی والے خوشخبریاں سناتے رہے کہ بڑے بڑے راز کھول دیے ہیں‘ سینکڑوں خزانوں کا پتہ بتا دیا ہے اب کوئی نہیں بچے گا۔ قومی خزانے میں کھربوں آنے والے ہیں۔ پھر پتہ نہیں کیا
مزید پڑھیے