BN

عبداللہ طارق سہیل



لنگر اور ابن سخی کے افسانے


مبارک باشد کہ قاسم سوری کی ڈپٹی سپیکری بحال ہو گئی۔ اس کالم میں نوید اطلاع پچھلے ہفتے ہی دے دی گئی تھی کہ اپوزیشن کو خوش ہونے کی ضرورت نہیں، یہ معطلی عارضی ہے۔ ڈپٹی سپیکر کی فارغ خطی کا نوٹیفکیشن جب آیا تھا تو قانوناً سپیکر کو اسی روز اس عہدے کا الیکشن کرانا تھا، وہ اس کے پابند تھے لیکن انہوں نے الیکشن نہیں کرایا اور یہ ٹھیک ہی کیا۔ آخر ہفتے دو ہفتے کے لیے کسی عہدے کا الیکشن کرانا کون سی دانشمندی ہے۔ انہیں بھی پتہ تھا اور اس کالم نویس کو بھی۔ اب اس
بدھ 09 اکتوبر 2019ء

اعجاز شاہ کی صدق بیانی

منگل 08 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
دھرنے کی دھول اڑاتی خبروں اور اس حوالے سے ہونے والے تجزیوں میں کچھ ننھی منی خبریں گم ہو کر رہ گئی ہیں۔ مثلاً پچھلے ہی ہفتے ‘دو دنوں کے دوران حکومت نے تین قسطوںمیں بجلی مہنگی کر دی۔ پہلے 55پیسے فی یونٹ‘ اگلے روز نیپرا کے ذریعے ایک روپے پچپن پیسے اور پھر اسی روز شام کو کابینہ کے ذریعے 30پیسے یونٹ مہنگی کی گئی۔ یعنی لگ بھگ اڑھائی روپے کا اضافہ ہوا۔ جب سے حکومت آئی ہے اتنے اضافے بجلی کی قیمت میں ہو چکے ہیں کہ کسی کو یاد بھی نہیں۔ نئے اضافوں کا مطلب یہ ہوا
مزید پڑھیے


بے مزہ ‘ بے کیف دھرنا

پیر 07 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
ان دنوں ہر جگہ مولانا کے آزادی مارچ کا چرچا ہے۔ کئی چینلز پر ہلچل مچی ہے۔ حکومتی ایوانوں میں بھی کچھ نہ کچھ مچا ہوا ہے۔ کیا مچا ہوا ہے ٹھیک سے پتہ نہیں۔ شیخ جی بتا سکتے ہیں لیکن وہ خود الجھے الجھے نظر آتے ہیں۔ ایک دن ایک سانس میں فرمایا کہ مولویوں سے معاملات طے ہو گئے ہیں‘ دھرنا نہیں ہو گا‘ پھر دوسری سانس میں فرمایا کہ مولانا دھرنا مت دیں‘ اسلام آباد پنڈی میں بہت ڈینگی ہے‘ انہیں کاٹ لے گا۔ یعنی اگر معاملات طے ہو چکے ہیں اور دھرنا نہیں ہو گا تو
مزید پڑھیے


مہنگائی کی ذمہ دار بیورو کریسی

جمعه 04 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
حکومت پر جہاں تنقید ہونی چاہیے وہاں اس کے اچھے کاموں بلکہ کارناموں کو سراہنا بھی ضروری ہے تو یہ چند سطریں درمدح حکومت بر تقاضائے انصاف سمجھیے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ اس سال سموگ بہت کم ہو گی ۔ یعنی ہو گی تو ضرور لیکن شدت نہیں ہو گی اور اس کا کریڈٹ موجودہ حکومت کو جاتا ہے۔ وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ سموگ کارخانوں کے دھوئیں سے اس وقت پیدا ہوتی ہے جب وہ فوگ سے مل جاتا ہے۔ آدھا دھواں بھارتی کارخانوں سے آتا ہے اور وہ تو آئے گا‘ آدھا جو پاکستانی کارخانوں کی
مزید پڑھیے


عارضی امیدیں

جمعرات 03 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
اپوزیشن کے کچھ بھولے ناتھ دو خبروں سے بہت خوش ہیں۔ ایک تو یہ کہ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نااہل ہو گئے۔ ان کے حلقے میں سنا ہے ‘62,61ہزار ووٹ جعلی پڑے تھے(شکر ہے ‘ 62‘63ہزار نہیں پڑے تھے) دوسرے یہ کہ الیکشن کمشن میں فارن فنڈنگ کیس کھل گیا ہے۔ اس کیس میں بہت سے راز ہیں۔ ایسے کہ سامنے آئے تو بھونچال کی سی فضا بن جائے گی۔ آنکھیں پھٹی کی پھٹی اور منہ کھلے کے کھلے رہ جائیں گے۔ چنانچہ بھولے ناتھ اپنی کشت امید ہری ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ کسی پر امید کو ناامید کرنا اچھی
مزید پڑھیے




تقریر پر چند سوالات

بدھ 02 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
حکمران جماعت کے بعض رہنما اس بات پر برہم ہیں کہ وزیر اعظم کی جنرل اسمبلی والی تقریر پر جسے وہ تاریخی اور تاریخ ساز قرار دے رہے ہیں، اپوزیشن کے کچھ لوگ تنقید کیوں کر رہے ہیں! تنقید کہاں ہے؟ ہاں کچھ قسم کے سوالات ہیں، وہ بھی چند ایک۔ اپوزیشن اور میڈیا کے بعض حلقے ان کا جواب مانگتے ہیں۔ حکمران جماعت اور دیگر محب وطن حلقے چاہیں تو جواب دے دیں چاہیں تو نہ دیں، برہمی اور پریشانی کی کچھ ایسی خاص ضرورت نہیں۔ یہی کہ وزیر اعظم نے خطاب میں اس متنازعہ اقدام کا سوال کیوں نہیں اٹھایا
مزید پڑھیے


غریب کی بھی چھپ گئی

منگل 01 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
مسلم لیگی لیڈر احسن اقبال نے کہا ہے کہ کشمیر پر سخت سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ بعض احباب کا خیال ہے کہ جنگ کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ پورا سچ یہ ہے کہ دونوں میں سے ایک آپشن ضروری ہے۔ جنگ کا آپشن ہماری حکومت کے مطابق خارج از امکان ہے۔ وہ اتنی زیادہ مرتبہ یہ کہہ چکی ہے کہ جنگ کوئی آپشن نہیں۔ ہم امن چاہتے ہیں کہ خود بھارت حیران ہے۔ بھارت نے ایک بار بھی یہ نہیں کہا کہ وہ جنگ نہیں چاہتا اور عام خیال یہی ہے کہ جنگ ہوگی بھی نہیں۔ بھارت آزاد
مزید پڑھیے


طالبان کو ایک اور مایوسی

پیر 30  ستمبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
افغانستان میں صدارتی انتخابات پرامن ماحول میں مکمل ہو گیا۔ طالبان کی طرف سے کوئی خاص جہادی سرگرمیاں دیکھنے میں نہیں آئیں۔اکا دکا واردات ہوئی لیکن سکور نہ ہونے کے برابر رہا۔ طالبان کا حتمی اعلان تھا کہ وہ کسی صورت یہ الیکشن نہیں ہونے دیں گے۔ ترجمان نے تو یہاں تک کہا تھا کہ ہماری ایک ایک ووٹر پر نظر ہو گی۔ نہ کوئی ووٹ ڈالے، نہ کوئی ایسی جگہ کے قریب جائے جہاں ووٹنگ ہو رہی ہو لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا جس کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ لوگوں نے ووٹ ڈالے اور قطاریں بنائیں۔ طالبان کے
مزید پڑھیے


امریکہ بھارت کا ہدف

جمعه 27  ستمبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
آٹھ دس ہفتے سے حکومتی وزیر مشیر اور حکومت نواز مبصر و تجزیہ کار یہ کہہ کہہ کر قوم کی ایمان افروزی کر رہے تھے کہ ہماری کامیاب سفارت کاری کے نتیجے میں ساری دنیا ہمارے پیچھے کھڑی ہو گئی ہے۔ مسئلہ کشمیر عالمی ایجنڈے پر سرفہرست آ گیا ہے اور بھارت کو تنہا کر دیا گیا ہے لیکن امریکہ اور یورپ سے تو کچھ اور ہی خبریں آئیں۔ حالات کی تصویر جو دکھائی گئی اصل میں کچھ دوسری ہی نکلی۔ اوروں کو توچھوڑیے‘ خود وزیر اعظم نے امریکہ میں جو خطاب فرمایا وہ یہ تھا کہ کشمیر پر عالمی
مزید پڑھیے


کرپشن نہیں‘ احباب دوستی

جمعرات 26  ستمبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
منگل کو جو زلزلہ آیا ‘ اس نے آدھے ملک کی زمین ہلا دی لیکن اصل ہدف میر پور کا علاقہ تھا جہاں بہت تباہی ہوئی۔ کتنی ہی قیمتی جانیں اس کی نذر ہوئیں اور انگنت مکانات تباہ ہو گئے۔ سڑکوں کی تباہی نے امدادی راستے بھی مسدود کر دیے۔ اللہ رحم کرے۔ اس زلزلے نے 2005ء کے زیادہ بڑے اور بہت ہی برباد کن زلزلے کی درد ناک یادیں تازہ کر دیں۔ اتفاق سے اس وقت بھی یہی بارات حکومت کر رہی تھی جو اب مسند پر براجمان ہے۔ دولہا میاں البتہ بدل گئے۔ تب کے دولہے میاں ستر سال
مزید پڑھیے