BN

عبداللہ طارق سہیل


ماجرا کیا ہے!


اپوزیشن رہنمائوں میں سے جو مائیک پکڑتا ہے، یہی بے تکا سوال اٹھاتا ہے کہ حکومت بتائے، کورونا پر اس کی پالیسی ہے کیا، حالانکہ حکومت روز اوّل سے واضح پالیسی دے چکی ہے اور آئے روز اس کا آعادہ بھی کرتی ہے اور واضح پالیسی یہ ہے کہ روکو مت، آنے دوآنے بھی دو اور کھیلنے بھی دو۔ کل رہبر ترقی و کمال کے ایک نائب اسد عمر نے پھر بتایا کہ کورونا پھیل کر رہے گا، ڈر ڈر کر جینے کا فائدہ کیا۔ بہر حال اس نصیحت کا مطلب یہ نہیں کہ روز روز کا ڈرنا اچھا
پیر 18 مئی 2020ء

تیسرا عذاب

منگل 12 مئی 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
وطن عزیز ‘اللہ رحم کرے‘ تیسرے عذاب کی یلغار میں ہے۔ یعنی ٹڈی دل کا عذاب۔ دوسرا عذاب کورونا کئی ماہ سے جاری ہے اور دن بدن چوگنی ترقی کر رہا ہے اگرچہ وزیر اعظم نے یہ تسلی آفرین بیان جاری فرمایا ہے کہ کورونا کا گراف گر رہا ہے۔ پہلا عذاب بتانے کی ضرورت نہیں۔ آپ سب جانتے ہیں اور دو سال سے بھگت رہے ہیں۔ تاریخ میں اس سے پہلے حضرت موسیٰؑ کے دور میں مصری قوم پر اسی طرح سے پے درپے سات عذاب آئے تھے۔ ہم چونکہ مصری قوم نہیں ہیں اس لئے امید ہے گنتی
مزید پڑھیے


سخنور کا سہرا

پیر 11 مئی 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
وزیر اعظم نے گزشتہ روز حکومتی اجلاس میں ایک بار پھر حکم جاری فرمایا ہے کہ عوام کو ریلیف یقینی بنایا جائے۔ مطلب اس فرمان شاہی کا یہ ہے کہ عوام مہنگائی کی ایک اور قیامت خیز لہر کے لئے تیار رہیں۔ ویسے تو مہنگائی جب سے یہ انصاف سرکار آئی‘ کبھی تھمی ہی نہیں‘ چیزوں کے بھائو روزانہ اور ہفتہ روزہ بنیادوں پر بڑھ رہے ہیں لیکن مہنگائی کی لہر اس سے الگ۔ آتی ہے اور جب بھی آتی ہے‘ ایک دو روز پہلے وزیر اعظم اس کا بگل عوام کو ریلیف دو کا نعرہ لگا کر بجاتے ہیں۔ مہنگائی‘
مزید پڑھیے


شیخ جی کی عرفانیات

منگل 05 مئی 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
گزشتہ روز پاکستان میں بھی آزادی صحافت کا عالمی دن منایا گیا۔ اب کی بار جو صورتحال ہے‘ اس پر افغانستان والا لطیفہ یاد آتا ہے کہ وہاں کسی کو ریلوے کا وزیر بنا دیا گیا تو کسی نے طنز کیا‘ آپ کے وہاں ریلوے ہے ہی کب کہ وزیر بنا دیا۔ جواب میں کہا گیا کہ آپ کے ہاں بھی تو قانون اور انصاف کی وزارت ہے۔ خیر‘ اب افغانستان کو یہ طعنہ دینا ممکن نہیں رہے گا کہ وہاں ریل کی پٹڑی کچھ بچھ گئی ہے ‘ کچھ بچھ رہی ہے اور جلد ہی ایک اچھا خاصا نیٹ
مزید پڑھیے


منگلا ڈیم میں شاہد خاقان عباسی کی میگا کرپشن

پیر 04 مئی 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد ملٹی پل ہو کر بڑھ رہی ہے‘ مرض کا دائرہ بھی خود کو پھیلائے چلا جا رہا ہے لیکن وزیر اعظم فرماتے ہیں کہ معاملہ بہت کم ہے۔ اللہ اس قوم پر رحمت کرے تو کرے‘ اور کچھ تعجب بھی نہیں ہے‘ اس لئے کہ ہمارا ملک واحد ملک ہے جہاں کورونا آیا نہیں لایا گیا۔ بے شک تاریخ انکی خدمات اس ضمن میں سنہرے حروف ہی سے لکھے گی۔ چند روز پہلے وزیر اعظم نے پہلے لاک ڈائون کی مخالفت کی۔ یہاں بھی گویا ہمارے ملک کی دنیا بھر میں انفرادیت برقرار رکھی۔ وزیر
مزید پڑھیے



بھٹو اور اجڑا چمن

پیر 27 اپریل 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
لاک ڈائون میں 9مئی تک توسیع کر دی گئی ہے۔ حضور اس تکلف کی کیا ضرورت تھی۔ لاک ڈائون جیسا ہوا، اس سے تو نہ ہی کیا ہوتا۔ سوائے عوام کی پریشانیوں کو بڑھانے کے اور کیا فائدہ ہوا۔ سب کچھ کھلا ہے، صرف دفاتر اور ٹرانسپورٹ بند ہے اور اب اس پر توسیع کر دی گئی ہے۔ لاک ڈائون سچ مچ کا ہوا ہوتا تو مرض کے پھیلائو میں کمی لازم تھی لیکن ظل الٰہی تو پہلے ہی دن سے اس کے مخالف تھے۔ دل کی بات کئی بار زبان پر آئی اور اس ہفتے تو ذرا کھل کر۔
مزید پڑھیے


اضافی مبارکباد

اتوار 26 اپریل 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
قارئین! رمضان المبارک کی اضافی مباکباد قبول فرمائیے‘ اضافی یعنی بقدر پچاس فیصد۔ یعنی یہ کہ جو شے پہلے ہی بے حساب مہنگی ہو کر سو روپے کی مل رہی تھی‘ وہ رمضان سے ایک دن پہلے ڈیڑھ سو روپے کی ہو گئی۔ چنانچہ اس حساب سے مبارکباد میں بھی پچاس فیصد اضافہ کرنا ضروری ہے۔ ادھر یوٹیلیٹی سٹورز پر خالی پڑے شیلف الگ سے ریلیف کے ڈنکے بجا رہے ہیں اور کیا کہیے بس اتنا کہ ؎ کوئی پوچھے تو بی حکومت سے زندہ رہنے کی کوئی صورت ہے؟ کورونا سے بچ نکلیں گے‘ انشاء اللہ‘ البتہ ریلیف
مزید پڑھیے


بھگا رہے ہیں کہ بلا رہے ہیں؟

منگل 21 اپریل 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
جنگل میں شیر کی دھاڑ ہمیں ہمیشہ ایک جیسی لگتی ہے حالانکہ وہ ایک جیسی نہیں ہوتی۔ الگ الگ موقع کے لئے الگ الگ دھاڑ اور اس کا علم ماہرین کو ہوتا ہے یا پھر مطلوبہ(مخاطب) کو۔ ایک دھاڑ تب اس کے منہ سے نکلتی ہے جب اسے علاقے میں کسی اجنبی شیر کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ اس دھاڑ کی للکار سن کر مداخلت کار شیر یا تو علاقہ چھوڑ دیتا ہے یا للکار کا جواب للکار سے دیتا ہے۔ پھر دونوں آمنے سامنے آ جاتے ہیں اور جم کر لڑائی ہوتی ہے۔قہر و غضب سے بھری دھاڑ اس
مزید پڑھیے


نیٹ پریکٹس کا آغاز

پیر 20 اپریل 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
مانیں یا نہ مانیں‘ سچ یہ ہے کہ قبلہ شیخ جی نے اپنے اس اعلان‘ وعدے یا دعوے پر عمل شروع کر دیا ہے جو انہوں نے کچھ عرصہ پہلے کیا تھا۔ فرمایا تھا کہ آج سے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا ہے۔ یعنی آئندہ سے سچ بولا کریں گے۔ تو وہ ’’آئندہ ‘‘ آ گیا اور انہوں نے سچ بولنے کی نیٹ پریکٹس شروع کر دی ہے۔ ایک بیان میں فرمایا بہت اچھا ہوا کہ آئی ایم ایف وغیرہ نے قرضوں کی وصولی ملتوی کر دی ورنہ ہم تو ’’آلموسٹ‘‘ دیوالیہ ہو چکے تھے۔ابھی یہ ان کا پریکٹس کا مرحلہ
مزید پڑھیے


جانوروں کا جہنم

منگل 14 اپریل 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
اچھی بات ہے کہ مسلم لیگ ن نے اپنے اعلان کے مطابق مستحقین کی مدد شروع کر دی ہے۔ فی الوقت یہ کام محدود نظر آ رہا ہے۔ شاید آنے والے دنوں میں اس کا دائرہ وسیع ہو جائے۔ جماعت اسلامی پہلے ہی یہ کام کر رہی ہے اور بہت بڑے پیمانے پر۔ سندھ حکومت بھی متاثرین کی مدد کر رہی ہے۔ ایدھی ٹرسٹ والے بھی سرگرم ہیں اور کوئی ادارہ یا حکومت نظر نہیں آ رہی۔ پنجاب حکومت بھی سرگرم ہے لیکن تصویریں کھنچوانے اور کورونا کا فضائی جائزہ لینے میں۔ کورونا ہوائی مرض ہے۔ہوائی جائزہ لینا بھی بنتا
مزید پڑھیے