عبداللہ طارق سہیل


نیٹ پریکٹس کا آغاز


مانیں یا نہ مانیں‘ سچ یہ ہے کہ قبلہ شیخ جی نے اپنے اس اعلان‘ وعدے یا دعوے پر عمل شروع کر دیا ہے جو انہوں نے کچھ عرصہ پہلے کیا تھا۔ فرمایا تھا کہ آج سے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا ہے۔ یعنی آئندہ سے سچ بولا کریں گے۔ تو وہ ’’آئندہ ‘‘ آ گیا اور انہوں نے سچ بولنے کی نیٹ پریکٹس شروع کر دی ہے۔ ایک بیان میں فرمایا بہت اچھا ہوا کہ آئی ایم ایف وغیرہ نے قرضوں کی وصولی ملتوی کر دی ورنہ ہم تو ’’آلموسٹ‘‘ دیوالیہ ہو چکے تھے۔ابھی یہ ان کا پریکٹس کا مرحلہ
پیر 20 اپریل 2020ء

جانوروں کا جہنم

منگل 14 اپریل 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
اچھی بات ہے کہ مسلم لیگ ن نے اپنے اعلان کے مطابق مستحقین کی مدد شروع کر دی ہے۔ فی الوقت یہ کام محدود نظر آ رہا ہے۔ شاید آنے والے دنوں میں اس کا دائرہ وسیع ہو جائے۔ جماعت اسلامی پہلے ہی یہ کام کر رہی ہے اور بہت بڑے پیمانے پر۔ سندھ حکومت بھی متاثرین کی مدد کر رہی ہے۔ ایدھی ٹرسٹ والے بھی سرگرم ہیں اور کوئی ادارہ یا حکومت نظر نہیں آ رہی۔ پنجاب حکومت بھی سرگرم ہے لیکن تصویریں کھنچوانے اور کورونا کا فضائی جائزہ لینے میں۔ کورونا ہوائی مرض ہے۔ہوائی جائزہ لینا بھی بنتا
مزید پڑھیے


دوری بڑھے گی یا کم ہو گی؟

پیر 13 اپریل 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
احساس پروگرام کے تحت غریبوں میں امداد کی تقسیم جاری ہے اور حزب اختلاف کے قائد شہباز شریف نے ڈرتے ڈرتے امدادی تقسیم کے اس ’’افراتفرانہ‘‘ انداز پر تنقید کی ہے۔ امداد کی ’’سرعام‘‘ تقسیم کے مناظر ٹی وی پر کم اور سوشل میڈیا پر سارے پاکستان بلکہ کل جہان نے دیکھے۔ احساس پروگرام بے نظیر سپورٹ فنڈ کا دوسرا نام ہے۔ انداز بھی مشرف بہ تبدیلی ہوا۔ پہلے چپ چاپ متاثرین کے گھروں میں رقم پہنچ جاتی تھی، اب متاثرین سے کہا گیا ہے کہ وہ ہجوم بنا کر تشریف لائیں، پولیس کی لاٹھیاں کھائیں، آپس میں دھینگا مشتی بھی
مزید پڑھیے


دکھی حیوانیت

منگل 07 اپریل 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
ایوان انصاف سے یہ ریمارکس سامنے آئے ہیں کہ عوام کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایک معاصر کے صفحہ اول پر تین کالمی سرخی کے ساتھ یہ خبر چھپی ہے کہ سڑکوں پر فاقہ زدہ چہروں کے ڈیرے، امداد ملی نہ کام۔ راشن لینے کے لئے لوگ مارے مارے پھر رہے ہیں‘ حکومت کا ریلیف پیکیج مستحق افراد کی پہنچ سے دور۔ اور پھر یہ خبر ملاحظہ فرمائیے کہ پنجاب حکومت نے دوسرے اداروں کی طرف سے امدادی کاموں پر اجازت لینے کی شرط لگا دی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اسے پابندی کہا جا
مزید پڑھیے


آہ فلک پر جائے تو کیسے؟

پیر 06 اپریل 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
خیر سے چینی بحران کی رپورٹ جاری ہو گئی ہے۔ ٹوئٹر پر بحث جاری ہے کہ رپورٹ کس نے جاری کروائی۔ حکومت نے یا الحکومت نے۔ دونوں الگ الگ خبریں ہیں اگرچہ ایک معنے میں‘ فی الحال ایک ہی ہیں۔ بے کار بحث ہے۔ جس نے بھی جاری کی رپورٹ تو بہرحال آ گئی اگرچہ اس میں خاص رعایت سے کام لیا گیا ہے۔ رپورٹ کہتی ہے‘ چینی کی مد میں قصور خود حکمران جماعت والوں کا ہے۔ پنجاب حکومت نے کسی کے دبائو میں سبسڈی دی۔رعایت یہ کی گئی ہے کہ اس کا نام نہیں دیا جس نے دبائو
مزید پڑھیے



امداد کا اعلان اور وہ سنجیدہ ہو گئے

منگل 31 مارچ 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
کرونا متاثرین کی مدد کے لئے مختلف شہروں سے گمنام افراد سرگرم ہیں۔ یہ لوگ چہرہ نہیں دکھاتے‘ نام نہیں بتاتے سیلفی بنا کر تصویر بھی اپ لوڈ نہیں کرتے۔ بس خاموشی سے مستحق افراد کو راشن اور دوسری چیزیں دے کر یا ان کے گھروں کے باہر رکھ کر چلے جاتے ہیں۔اس سے بڑا تجربہ ترکی میں ہو رہا ہے۔ مالدار افراد راشن کے تھیلے سڑکوں کے کنارے رکھ جاتے ہیں۔ بہت سی شاہراہیں سامان کے ان تھیلوں سے اٹی پڑی ہیں۔ پاکستانی بطور قوم خیرات صدقات اور رفاہ کے لئے رقم دینے میں بہت پیچھے ہے۔عالمی انڈکس کے
مزید پڑھیے


کرونااور سمجھدار میڈیا

پیر 30 مارچ 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
عشرے بیت گئے یا پھر صدیاں گزر گئیں‘ یا شاید ابھی کل ہی کی بات ہے۔ بہرحال سکول کے دن تھے کہ خبر آئی اسرائیل سے جنگ میں مصر کے جزیرہ نما سینائی پر یہودیوں کا قبضہ ہو گیا۔ جنگ کراچی میں اس سانحے پر نظم چھپی جس کا بس ایک ہی مصرع یاد رہ گیا ہے ع آج سینائی کی مسجدیں بے اذاں جس نے پڑھی‘ رو دیا۔شاعر نے اپنا دکھ ظاہر کیا تھا ورنہ حقیقت میں سینائی(سویز) کی کوئی مسجد بے اذان نہیں ہوئی تھی۔ بدستور نمازیوں سے آباد تھی۔ لیکن آج زمانے نے وہ ناقابل یقین
مزید پڑھیے


کرونا کی آڑ میں اسلام پر حملے

منگل 24 مارچ 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
کرونا کی آڑ میں سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے باقاعدہ اسلام پر حملے شروع کر دیے ہیں۔ کچھ افراد نے لکھا تم تو کہتے تھے‘ کعبہ کا طواف جس دن رکا، زمین آسمان کی گردش رک جائے گی۔ کچھ بھی نہیں ہوا۔ یہ بھی ایک طریقہ واردات ہے کہ ’’دشمن‘‘ کی طرف ایک ایسا کمزور اور مضحکہ خیز دعویٰ منسوب کر دو جو اس نے کیا ہی نہیں‘ پھر اس دعوے کے پرخچے اڑا دو ۔ طواف کعبہ رکنے سے زمین و آسمان کی گردش رکنے یا قیامت آ جانے کا کوئی دعویٰ اسلام نے کیا ہی نہیں۔ یہ
مزید پڑھیے


کرونا سے کرونا تک

پیر 23 مارچ 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
مشکل گھڑی ہے اور مشکل بڑھتی جا رہی ہے۔ لوگ ڈرے ہوئے ہیں اور ڈر پھیلتا جا رہا ہے۔ تفتان کے راستے آنے والے کرونا وائرس کے جھکڑ اب طوفان بنتے جا رہے ہیں۔حکومت نے اس عذاب با آفت سے نمٹنے کے لئے اور عوام کے بچائو کے لئے کئی ٹھوس اور گراں قدر فیصلے کئے ہیں جن کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہو گی۔ خلاصہ ان اقدامات کا یہ ہے کہ گرمیوں کا انتظار کیا جائے۔ کرونا خود ہی ختم یا کمزور ہو جائے گا۔ دیکھا جائے تو یہ نہایت معقول اور دولتمندانہ پالیسی ہے اور اس کا تجربہ
مزید پڑھیے


کرونا اور گئو ماتا

منگل 17 مارچ 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
کرونا کے مظہر دنیا بھر میں دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ یورپ کے بعض ملکوں میں تو قیامت کا خوف ہے ‘امریکہ میں افراتفری۔ ہر ملک کرونا سے نمٹنے کے لئے کچھ نہ کچھ بلکہ بہت کچھ کر رہا ہے۔ سوائے پاکستان کے یہاں ’’عالمی چندے‘‘ سے حصہ لینے کے لئے لاک ڈائون کا کھڑاک تو خوب کیا گیا لیکن بندوبست ذرا برابر بھی نہیں۔ وفاق بے پروا ہے‘ پنجاب برابر مست‘ کسی ہسپتال جا کر دیکھ لیجیے‘ چار میں سے محض سندھ ایک صوبہ ہے جس نے آئسولیشن کیمپ بنائے۔ وفاق نے تو حد کر دی۔ ایئر پورٹس سے
مزید پڑھیے