BN

عبداللہ طارق سہیل



ذرا سا نقصان


اسحاق ڈار کا نام’’منکرین‘‘ کی فہرست میں سرفہرست تو نہیں ہے البتہ شاید ایک نمبر نیچے ہے۔ کلاسیفائیڈ دستاویزات میں ان کے ’’جرم‘‘ کی نوعیت اگرچہ کچھ مخفی سی ہے لیکن آن دی ریکارڈ جرائم یہ بتائے جاتے ہیں کہ انہوں نے چار سال تک افراط زر پر ’’مصنوعی‘‘ قابو پائے رکھا اور اتنا ہی عرصہ ڈالر کی قیمت مصنوعی اقدامات کر کے بڑھنے نہیں دی۔ ایسے مصنوعی اقدامات کئے کہ گروتھ ریٹ بڑھنے لگا اور خطرہ پیدا ہو گیا کہ کہیں پاکستان بنگلہ دیش کے برابر نہ آ جائے۔ چنانچہ شکر ہے کہ راست اقدام کے لئے کی جانے
جمعه 18 اکتوبر 2019ء

ایران سعودی عرب مصالحت اور زمینی حقائق

جمعرات 17 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
اچھی بات ہے کہ پاکستان نے فی سبیل اللہ سعودی عرب اور ایران میں مصالحت کا مشن شروع کیا ہے۔اگرچہ اس میں کئی چیزیں سامنے آئی ہیں۔ مشن شروع کرنے سے پہلے حکومتی سیانوں نے اعلان کیا کہ دونوں ملکوں کی درخواست پر ہم نے ثالثی کا فیصلہ کیا ہے۔ سعودی عرب نے فوراً تردید کی اور کہا کہ ہم نے کسی کو ثالثی کا نہیں کہا۔ اس پر دفتر خارجہ پاکستان کو وضاحت کرنی پڑی کہ یہ ثالثی نہیں‘ مصالحت کا مشن ہے جو ہم از خود کر رہے ہیں۔ ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے جب یہ خبر
مزید پڑھیے


سولہواں طبق؟

بدھ 16 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
عالمی بنک نے پاکستانی معیشت کی مایوس کن تصویر پیش کی ہے، ایک ’’اطلاع‘‘ ایسی ہے کہ حکومت چاہے تو اسے بھی اپنی ’’سفارتی کامیابیوں‘‘ میں شامل کر لے۔ بتایا ہے کہ 2001ء کے بعد پہلی بار پاکستان کا غربت مٹائو پروگرام پیشرفت سے محروم ہو جائے گا۔ یہ اطلاع اپنی جگہ ’’تاریخی‘‘ سہی لیکن عالمی بنک کو اطلاع ذرا اوپر سے ملی اور ادھوری ملی۔یہ پیش رفت نہ ہونا تو اب معنے نہیں رکھتا، یہاں تو غربت بڑھائو پیشرفت برق رفتاری سے ہو رہی ہے۔ چند دن پہلے ایک تجزئیے میں انکشاف یا دعویٰ کیا گیا تھا کہ خط
مزید پڑھیے


مسئلہ کشمیر کی صاف تصویر

منگل 15 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں دو ہی ہفتے رہ گئے۔بہت تھوڑا وقت ہے لیکن اس تھوڑے وقت میں بھی کئی واقعات ہو سکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ گرفتاریاں ہو جائیں۔ دوسرا یہ کہ مزید گرفتاریاں ہو جائیں۔ تیسرا یہ کہ مزید دو مزید گرفتاریاں کی جائیں۔ چوتھے واقعے کا بھی امکان ہے لیکن اس کا علم نہیں۔ ریلوے کے وزیر نے مولانا کے ایک آدھ ساتھی کی جلد پکڑے جانے کی اطلاع تو دے ہی دی ہے۔دیگر ذرائع سے خبر چھپی ہے کہ خود مولانا کو بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ یار لوگوں کو خدا نے ذہن
مزید پڑھیے


ترکی کا بفرزون ایڈونچر

پیر 14 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
غالباً آٹھ نو ماہ پہلے اس کالم میں لکھا گیا تھا کہ امریکہ شام میں کرد علاقے سے جانے کا سوچ رہا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو ترک فوج اس علاقے میں گھس آئے گی اور اب جبکہ امریکی دستے کرد علاقے سے نکلے‘ ترک فوج داخل ہو گئی اور دو تین روز کی فوجی کارروائی کے بعد اس نے اپنی سرحد کے ساتھ ساتھ پوری لمبائی میں 30کلو میٹر چوڑی پٹی پر قبضہ کر لیا ہے‘ ترکی کا اعلان تو یہ ہے کہ وہ اس علاقے میں ان 35,30لاکھ شامی باشندوں کو بسائے گا جو چھ سات سال کی
مزید پڑھیے




دھیرے دھیرے، رازداری کے ساتھ

جمعه 11 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
ایک اخبار میں جماعت اسلامی کے رہنما امیر العظیم کا یہ بیان نظر سے گزرا کہ مدارس کے بنک اکائونٹ منجمد کرنا تشویش ناک ہے۔ کوشش کے باوجود کسی اور اخبار میں یہ بیان نہیں مل سکا، شایداسی اکیلے اخبار نے چھاپا۔ البتہ اس دوران وفاق المدارس کی تنظیموں کے بیانات میں یہ نکتہ بھی شامل تھا جسے سرخی میں تو نہیں، متن میں جگہ ملی۔ بیان کے اگلے روز ایک اخبار کے تجزیہ نگار نے اپنے کالم میں اس کی تفصیل بیان کی اور بتایا کہ کم و بیش ڈیڑھ سو بڑے مدارس کے بنک اکائونٹ منجمد ہو چکے
مزید پڑھیے


ایک اور پرمغز‘ تاریخِ ’’ناز‘‘ خطاب

جمعرات 10 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
وزیر اعظم نے ایک اور تاریخی خطاب فرما دیا۔ اس بار اعزاز چین کے حصے میں آیا کہ خطاب سازی کی تاریخ کا ایک سنہرا باب اس کی سرزمین پر لکھا گیا۔ وہی چین جس کے سربراہ کو 2014ء میں کسی نے پاکستان کا دورہ کرنے سے روک دیا تھا۔ تاریخی خطاب کی تاریخی بات یہ تاریخی خواہش تھی کہ کاش میں پانچ سو کرپٹ لوگوں کو گرفتار کر سکتا۔ خواہش بہت ہی مبارک اور نیک مطلوب ہے۔ افسوس کہ یہ گنتی پوری نہیں ہو سکتی ۔ اس لئے کہ لے دے کے شریف خاندان کے قابل گرفتار افراد پندرہ بیس
مزید پڑھیے


لنگر اور ابن سخی کے افسانے

بدھ 09 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
مبارک باشد کہ قاسم سوری کی ڈپٹی سپیکری بحال ہو گئی۔ اس کالم میں نوید اطلاع پچھلے ہفتے ہی دے دی گئی تھی کہ اپوزیشن کو خوش ہونے کی ضرورت نہیں، یہ معطلی عارضی ہے۔ ڈپٹی سپیکر کی فارغ خطی کا نوٹیفکیشن جب آیا تھا تو قانوناً سپیکر کو اسی روز اس عہدے کا الیکشن کرانا تھا، وہ اس کے پابند تھے لیکن انہوں نے الیکشن نہیں کرایا اور یہ ٹھیک ہی کیا۔ آخر ہفتے دو ہفتے کے لیے کسی عہدے کا الیکشن کرانا کون سی دانشمندی ہے۔ انہیں بھی پتہ تھا اور اس کالم نویس کو بھی۔ اب اس
مزید پڑھیے


اعجاز شاہ کی صدق بیانی

منگل 08 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
دھرنے کی دھول اڑاتی خبروں اور اس حوالے سے ہونے والے تجزیوں میں کچھ ننھی منی خبریں گم ہو کر رہ گئی ہیں۔ مثلاً پچھلے ہی ہفتے ‘دو دنوں کے دوران حکومت نے تین قسطوںمیں بجلی مہنگی کر دی۔ پہلے 55پیسے فی یونٹ‘ اگلے روز نیپرا کے ذریعے ایک روپے پچپن پیسے اور پھر اسی روز شام کو کابینہ کے ذریعے 30پیسے یونٹ مہنگی کی گئی۔ یعنی لگ بھگ اڑھائی روپے کا اضافہ ہوا۔ جب سے حکومت آئی ہے اتنے اضافے بجلی کی قیمت میں ہو چکے ہیں کہ کسی کو یاد بھی نہیں۔ نئے اضافوں کا مطلب یہ ہوا
مزید پڑھیے


بے مزہ ‘ بے کیف دھرنا

پیر 07 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
ان دنوں ہر جگہ مولانا کے آزادی مارچ کا چرچا ہے۔ کئی چینلز پر ہلچل مچی ہے۔ حکومتی ایوانوں میں بھی کچھ نہ کچھ مچا ہوا ہے۔ کیا مچا ہوا ہے ٹھیک سے پتہ نہیں۔ شیخ جی بتا سکتے ہیں لیکن وہ خود الجھے الجھے نظر آتے ہیں۔ ایک دن ایک سانس میں فرمایا کہ مولویوں سے معاملات طے ہو گئے ہیں‘ دھرنا نہیں ہو گا‘ پھر دوسری سانس میں فرمایا کہ مولانا دھرنا مت دیں‘ اسلام آباد پنڈی میں بہت ڈینگی ہے‘ انہیں کاٹ لے گا۔ یعنی اگر معاملات طے ہو چکے ہیں اور دھرنا نہیں ہو گا تو
مزید پڑھیے