BN

عدنان عادل



شام کی عبرت ناک تباہی


شورش اوربغاوت کو ہوا دے کرکس طرح مغربی سامراج مسلمان ملکوں کو تباہ و برباد کرتا ہے اِس کی ایک بڑی مثال بحیرۂ روم کے مشرق اور عرب کے انتہائی شمال میں واقع ملک شام ہے۔سوا دو کروڑ آبادی کے اس ہنستے بستے ملک کو امریکہ اور یورپ نے جس بے دردی سے ملیا میٹ کیا‘ یہاں کے لوگوں کو خانماں برباد کیا وہ ایک عبرت ناک داستان ہے۔ آٹھ سالہ خانہ جنگی میں پانچ لاکھ سے زیادہ شامی جان کی بازی ہار چکے ‘ شام کی نصف سے زیادہ آبادی بے گھرہوچکی ہے۔ ساٹھ لاکھ سے زیادہ لوگ ملک
اتوار 26 جنوری 2020ء

اصل وِلن اشرافیہ ہے

بدھ 22 جنوری 2020ء
عدنان عادل
پاکستان کی سیاست طعنے مارنے کی سیاست ہے اور اِس کی معیشت قرضوں کے اسٹیرائڈز پر چلتی ہے۔نہ سیاست میں کوئی سنجیدگی ‘ دُور اندیشی اور بُردباری ہے نہ معیشت میں منصوبہ بندی کے تحت اِسے مضبوط و مستحکم بنانے کی کوشش۔ بحیثیت قوم ہماری دُور کی نظر خراب ہے۔ ساری کوشش یہ رہتی ہے کہ آج کا دن گزرجائے۔ ان دنوں اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم عمران خان کی حکومت پر طعنہ زن ہیں کہ انہوں نے ملک پر قرضوںکا بوجھ ڈال دیا۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ ملک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا گیا ہے جس
مزید پڑھیے


لیبیا کی خانہ جنگی

اتوار 19 جنوری 2020ء
عدنان عادل
لیبیا میں صدرمعمر قذافی کی حکومت ختم ہوئے آٹھ برس ہوگئے لیکن یہ ملک آج تک بدامنی‘ خانہ جنگی کا شکار ہے ۔داخلی جنگ و جدل میں اب تک دو ہزار افراد ہلاک ‘ لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔ یہ ملک انسانی اسمگلنگ کا مرکز بن چکا ہے۔بعض علاقوں میں عورتیں بازاروں میں فروخت کی جاتی ہیں۔یہ وہ تحفہ ہے جو امریکہ اور یورپ نے آمریت سے نجات اور جمہوریت کے قیا م کے نام پرلیبیا کی عوام کودیا ۔صدر قذافی نے شمالی افریقہ میں واقع اس ملک کے مختلف قبائل کو اپنے ایک مخصوص نیم آمرانہ نظام حکومت
مزید پڑھیے


سیاسی ہلچل

بدھ 15 جنوری 2020ء
عدنان عادل
وطن عزیز کی بدقسمتی ہے کہ اسے آج تک سیاسی استحکام نصیب نہیں ہوسکا‘حکومتیں گرانا اور بنانا ایک مشغلہ ‘ ایک مذاق بن چکا ہے۔ آج ایک بار پھر سازشیں شروع ہوچکی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی حکومت گرا کر ایک نئی حکومت بنانے کے لیے پس ِپردہ جوڑ توڑ کیا جارہا ہے۔ حکومت بنے ابھی مشکل سے ڈیڑھ سال گزرا ہے لیکن اسے پاکستان کی تمام ناکامیوں‘ خرابیوں کا ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے۔ تحریک ِانصاف کی اتحادی جماعتوں کو حکومت سے علیٰحدہ ہونے کی ترغیب دی جارہی ہے۔مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی ماضی میں ایک دوسرے کی
مزید پڑھیے


دہشت گردی کی نئی لہر

اتوار 12 جنوری 2020ء
عدنان عادل
گزشتہ ہفتہ سے بلوچستان میںدہشت گردی کی ایک نئی لہر آئی ہے۔ کابل انتظامیہ اور بھارت کی خفیہ ایجنسیاںایک بار پھر ہم پر حملہ آور ہوئی ہیں۔ جمعہ کے روز ایک مسجد میں دھماکہ سے پندرہ افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس سے پہلے کوئٹہ ہی میں فرنٹئیر کور کی ایک گاڑی کوموٹرسائیکل میں نصب کیے گئے بارودی مواد سے نشانہ بنایا گیا جس میںدو افراد جاں بحق اور چودہ زخمی ہوئے۔ داعش نے مسجد کے واقعہ کی ذمہ داری قبول کی اورخُود کش حملہ آور کی تصویر بھی جاری کی۔فرنٹئیر کور پر حملہ کی ذمہ داری
مزید پڑھیے




احتساب کا خاتمہ

جمعرات 09 جنوری 2020ء
عدنان عادل
پاکستان میں کرپشن کے خلاف مہم اور احتساب کے عمل پر فاتحہ پڑھ لینی چاہیے۔ وزیراعظم عمران خان اور انکی جماعت تحریک انصاف کی سیاست کا محور و مرکز کرپشن ختم کرنے کا نعرہ تھا لیکن اقتدار میں سوا سال گزارنے کے بعد عمران خان کو کرپٹ طبقہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑگئے‘نیب قانون میں ترمیم کرکے کرپشن کے خلاف ادارہ کو بے اثر‘ بے اختیار کرنا پڑ گیا۔عمران خان کرپشن کے خلاف لمبی چوڑی تقریریں کیا کرتے تھے‘ اعداد وشمار کی مددسے لوگوں کو بتایا کرتے تھے کہ سیاستدانوں کا ایک طبقہ ملک لُوٹ کر کھا گیا‘ اس نے
مزید پڑھیے


مشرق وسطیٰ میں بھونچال

اتوار 05 جنوری 2020ء
عدنان عادل
اسرائیلی یہودی لابی ایک بار پھر امریکہ کی خارجہ پالیسی پر غالب آگئی۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو مار کر مشرقِ وسطیٰ میں ایک نیا جنگی محاذ کھو ل دیا ہے۔مستقبل قریب میں امریکہ اور ایران میں بھرپور جنگ نہ بھی ہو لیکن آثار یہی ہیں کہ جھڑپیںہوتی رہیں گی۔خطّہ میں مسلسل کشیدگی اور تناو ٔ رہے گا۔اس لڑائی کے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور دفاع پربھی اثرات پڑیں گے۔ مشرق ِوسطیٰ کی بھونچالی کیفیت میں امریکہ کو پاکستان کا تعاون درکار ہوگا۔ ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے‘ عرب ملکوں سے ہمارے گہرے معاشی تعلقات ہیں۔اس
مزید پڑھیے


معیشت کا استحکام

بدھ 01 جنوری 2020ء
عدنان عادل
پاکستان کی معیشت جن سنگین مسائل سے دوچار ہے ان کوحل کرنے کے لیے کم سے کم دس بارہ سال درکار ہیں‘ وہ بھی اگر آج حکومت اور سرمایہ کار مل کر دُرست سمت میں کام کا آغاز کریں اور عوام کڑوی گولی کھائیں‘ ہمارا دولت مند اور متوسط طبقہ شاہ خرچیاں کم کرے ۔ بصورت دیگر ہماری ناتواںمعیشت یونہی ہچکولے کھاتے ‘ گرتی پڑتی چلتی رہے گی۔ ہر حکومت عوام کو طفل تسلیاں دیتی رہے گی۔ ذرا دیر کونواز شریف کے گزشتہ دور میں چلتے ہیں۔ ملک کے برآمدات بیس ارب ڈالر تھیں‘ بیرن ملک سے پاکستانی اٹھارہ ارب
مزید پڑھیے


قانون کی حکمرانی

اتوار 29 دسمبر 2019ء
عدنان عادل
حال ہی میںچند ایسے و اقعات پیش آئے ہیں جن سے یہ تاثر پختہ ہوا کہ پاکستان میںعملی طور پر امیر‘ بااثر لوگوں کے لیے الگ قانون ہے جبکہ غریب‘ سفید پوشوں کے لیے الگ۔کاغذوں میں توملک میں ایک ہی قاعدہ قانون ہے لیکن اس کا اطلاق دونوں طبقوں کے لیے یکساں نہیں۔ دولت مندوں اور اثرو رسوخ رکھنے والوں کے لئے یہ قانو ن موم کی ناک ہے‘ جس طرف چاہے موڑ لو۔ آرمی چیف کے تقرر اوران کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملہ پر عدالت عظمیٰ کے فیصلہ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سترہویں صدی کے
مزید پڑھیے


موثر احتساب کے لوازمات

بدھ 25 دسمبر 2019ء
عدنان عادل
وطن عزیز میں مالی بدعنوانی کے حمام میں سب عریاں ہیں۔یُوں لگتا ہے کہ بددیانتی ہمارا لائف اسٹائل بن گئی ہے۔کرپشن تو دنیا کے اور ملکوں میں بھی ہے لیکن پاکستان میں یہ لُوٹ مار کی حد کو پہنچ چکی ہے۔ پاکستان کے ابتدائی ایام میںرشوت خوری کُل سرکاری فنڈز کے دو تین فیصد کے برابر ہوا کرتی تھی‘ لیکن گزشتہ تین دہائیوں میں پچیس سے پچاس فیصد سرکاری فنڈز ہڑپ کیے جانے لگے۔ سب سے بڑا ظلم یہ ہُوا کہ ملکی وسائل بیرون ملک منتقل کردیے گئے۔ ان حالات میںدنیا کے کسی ملک کی معیشت مستحکم نہیں ہوسکتی۔ تحریک
مزید پڑھیے